منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟

حج مسلمانوں کی عظیم ترین عبادات میں سے ایک ہے۔ ہر عاقل و بالغ اور صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک دفعہ حج کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ہر سال بہت بڑی تعداد میں مسلمان حج کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ اس سال بھی دنیا کے 180 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 25 لاکھ حاجی یہ سعادت حاصل کرنے حرم پاک آئے۔

    حج کے مناسک میں سے ایک اہم رکن رمی جمرات ہے ۔ یعنی حاجی منی میں قیام کے دوران میں ان تین ستونوں کو کنکریاں مارتے ہیں جو علامتی طور پر شیطان کی نمائندگی کرتی ہیں۔اکثر و بیشتر اس موقع پر حادثے پیش آتے رہتے ہیں۔ اس سال بھی منیٰ میں قیام کے آخری دن رمی کے موقع پر بھگدڑ مچی جس میں 410 حاجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد تقریباً 1000 ہے۔ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر اسی قسم کے واقعات میں ہزاروں حاجی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اس حادثے کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اس کے مطابق یہ حادثہ ان حاجیوں کی وجہ سے پیش آیا جو اپنا سامان ساتھ لے کر رمی کے لیے آگئے تھے۔ بھیڑ میں یہ سامان گرگیا جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی۔

کوئی مخلوق خالق سے بڑھ کر صبر کرنے والی نہیں ہے۔ لوگ (اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہوئے) اس کے لئے اولاد قرار دیتے ہیں اور وہ انہیں تندرستی اور رزق عطا کرتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

سعودی حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے کافی انتظامات کرتی رہتی ہے۔ اس دفعہ بھی لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے 60 ہزار پولیس والے تعینات تھے۔ جمرات تک جانے والے راستے کو مزید 80 میٹر وسیع کیا گیا تھا۔مگریہ ساری کوششیں اس سانحے کو نہیں روک سکیں جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔

    دراصل جن لوگوں نے رمی کا منظر نہیں دیکھا وہ اندازہ نہیں کرسکتے کہ رمی کے وقت کیا صورتحال ہوتی ہے۔ ہزاروں افراد ایک جگہ کھڑے ہوکر ستونوں کو کنکریاں مارتے ہیں اور لاکھوں افراد اس سمت میں بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد گروپوں کی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ لوگ راہ میں آنے والے ہر شخص سے بے پرواہ آگے بڑھتے ہیں۔اس موقع پر اگر کوئی شخص ہجوم میں گھرجائے تو اس کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر بچے اور بوڑھے بے حد خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ایسے میں کوئی معمولی سا واقعہ بھی پیش آجائے تو لوگ خوفزدہ ہوکر بھاگنا شروع کردیتے ہیں۔

دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار
یہ تحریر دعوت دین کی اہمیت، دین کا کام کرنے والوں کی شخصیت، دعوت دین کی منصوبہ بندی اور دعوتی پیغام کی تیاری کے عملی طریق ہائے کار کی وضاحت کرتی ہے۔ ان افراد کے لئے مفید جو کہ دعوت دین میں دلچسپی رکھتے ہوں۔

    ایک دفعہ جب بھگدڑ شروع ہوجاتی ہے تو پھر اس کا رکنا ممکن نہیں رہتا۔ رمی کے دوران میں ہونے والے ان واقعات پر جب غور کیا جاتا ہے تو اس کا ایک ہی سبب سامنے آتا ہے۔ یعنی حجاج کو ان کے ملکوں سے یہ سکھاکر بھیجا جاتا ہے کہ فلاں وقت پر رمی کرلینا افضل ہے اور فلاں وقت پر رمی کرنا مکروہ ہے۔ جس کے نتیجے میں ایک جگہ پر لاکھوں لوگوں ہجوم اکھٹا ہوجاتا ہے جو آخر کار حادثات کا سبب بن جاتا ہے۔ حادثات نہ بھی ہوں تب بھی اس دوران میں لوگوں کو کافی تکلیف دہ حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔لوگ بظاہر ایک مکروہ چیز سے بچتے ہیں، مگر اس کے لیے انسانی جان کی حرمت پامال کردیتے ہیں۔

    رمی کے دوران میں بار بار ہونے والی ان ہلاکتوں کا ایک پہلو تو انسانی جانوں کے نقصان کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ مگر اس سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ ہم مسلمان ساری دنیا کو کیا پیغام دیتے ہیں۔حج دنیا بھر کے سامنے وحدتِ الہ اور وحدتِ آدم کا ایک ماڈل قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے سے دنیا کو یہ بتایا جاسکتا ہے کہ اسلام کی نظر میں تمام انسان برابرہیں۔ کیونکہ رنگ و نسل، تہذیب و ثقافت اور زبان و جغرافیہ کے ہر اختلاف کے باوجودانسان ایک ماں باپ کی اولاد اور ایک رب کے بندے ہیں۔دور حاضر میں میڈیا کی ترقی کے بعد حج کا یہ منظر پوری دنیا میں دکھایا جاتا ہے اور اس طرح اسلام کی تبلیغ کا ایک بہترین ذریعہ بن جاتا ہے۔

    مگر اس قسم کے حادثات مسلمانوں کی ایک بالکل مختلف تصویر دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔ جس میں مسلمان ہر قسم کے نظم و ضبط سے عاری ایک ایسے گروہ کی شکل میں سامنے آتے ہیں جن کے نزدیک انسانی جان کی کوئی وقعت نہیں۔ اس طرح حج کی یہ عظیم عبادت دنیا کو ایک مثبت پیغام کے بجائے منفی پیغام دینے کا سبب بن جاتی ہے۔

    اس صورتحال میں اصلاح کا طریقہ یہی ہے کہ مسلمانوں کی تربیت میں اخلاقی اقدارکو بنیادی مسئلہ بنایا جائے۔ انسانی جان، مال اور آبرو کے تحفظ سے متعلق قرآن واحادیث کے احکام کو ان کے سامنے بار بار پیش کیا جائے۔ عبادات اور دیگر ظاہری اعمال میں پوشیدہ اسپرٹ کولوگوں پر پوری طرح واضح کیا جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ دین میں انسان کی جان کی حرمت ہر شے سے بڑی ہے۔ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ حج شیطان کے خلاف جنگ کا نام ہے، جس میں کوئی ایسا عمل جو دوسرے مسلمان کی جان، مال اور آبروکو نقصان پہنچائے شیطان کی اطاعت کے برابر ہے۔تربیت کا یہ راستہ اگر اختیار نہیں کیا گیا تو ہر سال حاجیوں اور زائرینِ عمرہ کی تعداد بڑھتی رہے گی ،مگر ایسے سانحات پیش آتے رہیں گے۔ایسے زائرین، حج سے واپسی پر حاجی تو ضرور کہلائیں گے، مگر لوگوں کی جان، مال اور آبرو کو ان سے تحفظ نہیں ملے گا۔ (مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔  
mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے

۔۔۔۔۔۔ بھگدڑ کی بنیادی وجہ انسان کی کون سی نفسیاتی کمزوری ہے؟

۔۔۔۔۔۔ پچھلے چند سال سے منی میں بھگدڑ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے تجویز کیجیے کہ کس طرح ہم اپنی قوم کو ایک باشعور اور منظم قوم بنا سکتے ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

علوم القرآن کے ذریعے تعمیر شخصیت لیکچرز

منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟
Scroll to top