دین کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟

سوال:  السلام علیکم سر، کیسے ہیں آپ؟ امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ سر ایک بات بتائیں، کیا آپ کچھ اسٹوڈنٹ بھی ہیں جو آپ سے سیکھتے ہوں، اخلاقی تعلیم  وغیرہ۔ اگر آپ کے اسٹوڈنٹ ہیں تو کیا آپ مجھے بھی شامل کر سکتے ہیں اپنے اسٹوڈنٹس  میں؟ میرے والد کہتے ہیں کہ شاگرد استاد کا پرتو ہوتا ہے۔  دعاؤں کا طالب

عبد القدیر، ریاض، سعودی عرب

جون ۲۰۱۰

ڈئیر عبدالقدیر صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کا جذبہ قابل قدر ہے۔ استادی شاگردی کی بجائے میں دوستی کو ترجیح دیتا ہوں۔ جو کچھ میں جانتا ہوں، اسے اپنے بھائیوں سے شیئر کرنے میں مجھے خوشی ہوتی ہے۔ اور جو نہیں جانتا اسے دوسروں سے بھی سیکھتا رہتا ہوں۔ میں بھی انشاء اللہ آپ سے بہت کچھ سیکھوں گا۔

آپ اپنے انٹرسٹ کے بارے میں بتائیے کہ کس فیلڈ میں آپ کا انٹرسٹ ہے اور اس میں آپ کیا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کی موجودہ تعلیم کیا ہے؟ کتنا وقت دینی تعلیم میں صرف کر سکتے ہیں؟

والسلام

محمد مبشر نذیر

السلام علیکم! سر میری عمر ۲۵ سال ہے۔ میں انٹرمیڈیٹ تک پڑھا ہوں لیکن ٹیکنیکل ڈپلوما بہت ہیں مثلاً آٹو کیڈ، مکینکل اور  سروے، آٹو مکینکس، کمپیوٹر ہارڈ وئیر وغیرہ۔ میں ہر موضوع جیسے سوشل لائف، مذہب، سائنس، سیاست وغیرہ ہر موضوع پر پڑھتا ہوں لیکن مجھے تصوراتی موضوع جیسے عمران سیریز ہے ویسے ٹاپکس پر کتابیں ذرا پسند نہیں ہیں۔ سیاست اور نئی ایجادات میں تھوڑی سی کشش لگتی ہے۔ اور سر میرا مطالعہ کچھ زیادہ نہیں ہے کیونکہ آج تک اتنا ٹائم نہیں  ملا کہ پڑھوں۔ بس جب  پڑھا اور میں نے آج تک آپ جیسا کوئی رائٹر نہیں پایا، سو اب آپ ملے تو آپ سے سیکھنے کو دل کیا۔

جہاں تک  دین کا تعلق ہے تو پہلے دین آتا ہے پھر باقی کا وقت دوسرے کاموں میں۔ لیکن میں ان ملا حضرات سے بھی اتفاق نہیں کرتا جو کہتے ہیں کہ کیا رکھا ہے ان دنیاوی ملازمتوں میں، بس مدرسہ میں بھرتی ہو جاؤ اور دنیا داری کو بھول  جاؤ کہ یہ فساد  ہے اور یہ ہے وہ ہے  وغیرہ۔ حالانکہ اللہ نے اپنے انبیاء اسی دنیا میں اتارے، دنیا کو راستہ دکھانے کے لئے اور انہوں نے دین کے ساتھ دنیا بھی نبھائی۔  سو ترک دنیا کا بھی قائل نہیں ہوں۔ البتہ نماز روزہ کا پکا پابند ہوں۔ حرام سے نفرت کرتا ہوں۔ سب کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں کیونکہ یہ اسلام میں بہت اہم ہے۔ اسلام نے سب کے حقوق واضح کیے ہیں۔ بات بہت لمبی ہو گئی ہے، باقی باتیں انشاء اللہ پھر کبھی کریں گے۔ اللہ حافظ۔

عبدالقدیر، ریاض، سعودی عرب۔

ڈئیر عبدالقدیر صاحب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

اللہ تعالی آپ کے شوق اور دینی جذبے میں اضافہ فرمائے۔ مجھے آپ کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ انسان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں ہی کی فکر ہونی چاہیے۔ معاش انسان کے ساتھ ہے۔ دین اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے حقوق پورے کرنے کا نام ہے۔

اگر آپ اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ باقاعدہ دین کا علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس معاملے میں میں آپ کو دو تین چیزیں سجسٹ کرتا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔ سب سے پہلے تو عربی زبان سیکھیے۔ عربی سے مراد یہاں بولی جانے والی عربی نہیں ہے بلکہ تحریری اور ادبی عربی ہے جس میں چودہ صدیوں سے کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ میں نے اس کے لئے ایک کورس ڈیزائن کیا ہے۔ اس کے پانچ لیول ہیں۔ آپ اس لنک سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔ قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنا شروع کر دیجیے۔ کوئی بھی اردو تفسیر دیکھ لیجیے جیسے تفہیم القرآن، معارف القرآن، تدبر قرآن وغیرہ۔

۔۔۔۔۔۔ یہ دونوں کام مکمل کر لیجیے تو پھر حدیث کا مطالعہ کیجیے۔ اس کی تفصیل آپ کو بعد میں بھیجوں گا انشاء اللہ۔

https://drive.google.com/drive/u/0/folders/18hhlDGGPiFyTcyWlS_jJ9tWDlrFLg1wE

اگر کوئی سوال پیدا ہو تو بلاتکلف لکھ بھیجیے۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

Don’t hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I’ll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com.

تعمیر شخصیت لیکچرز

دین کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟
Scroll to top