کیا خدمت دین کے لیے اجتماعی جدوجہد لازمی  ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ

میرے ذہن میں ایک سوال آ رہا تھا۔ کیا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے کے لیے کسی گروہ میں شمولیت ضروری ہے یا آخرت کے نقطہ نظر سے انفرادی جدوجہد بھی کافی رہے گی؟ قرآن وحدیث کی بنیاد پر جواب دیجیے۔

ذیشان قریشی

کراچی، پاکستان

ڈئیر ذیشان صاحب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

دینی خدمت کے لیے اجتماعی یا انفرادی کسی بھی سطح پر جدوجہد کی جا سکتی ہے اور دونوں صورتوں میں انسان کو اللہ تعالی کے ہاں اجر ملے گا۔ اس کا انحصار ہر شخص کی صلاحیت پر ہے۔ بعض لوگوں میں یہ صلاحیت اور ذوق ہوتا ہے کہ وہ گروہی کام کو پسند کرتے ہیں  جبکہ بعض لوگ اس میں خود کو فٹ محسوس نہیں کرتے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے انداز میں دعوت دین اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام کر سکتا ہے اور انہیں اپنے اپنے خلوص اور کوشش کے مطابق اجر ملے گا۔

بعض حضرات البتہ یہ نقطہ نظر پیش کرتے ہیں کہ دینی خدمت کے لیے لازماً انسان کو کوئی جماعت بنانی چاہیے یا پھر کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے۔ وہ بطور دلیل یہ حدیث پیش کرتے ہیں۔

حدثنا حسن بن الربيع. حدثنا حماد بن زيد عن الجعد، أبي عثمان، عن أبي رجاء، عن ابن عباس، يرويه. قال:  قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من رأى من أميره شيئا يكرهه، فليصبر. فإنه من فارق الجماعة شبرا، فمات، فميتة جاهلية۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کو اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ بات محسوس ہو تو اسے صبر کرنا چاہیے کیونکہ جو شخص بھی جماعت سے ذرہ برابر الگ ہوا، تو وہ جاہلیت کے موت مرے گا۔ (مسلم،کتاب الامارہ، حدیث 1849)

اس حدیث کی بنیاد پر ان حضرات کا نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی جماعت میں شامل ہونا بہت ضروری ہے اور اگر انسان نے ایسا نہ کیا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ لیکن یہ نقطہ نظر درست نہیں ہے کیونکہ یہاں جماعت سے مراد کوئی تنظیم یا گروہ نہیں ہے بلکہ حکومت ہے۔ اس بات کی وضاحت صحیح مسلم میں اگلی حدیث  سے ہو جاتی ہے۔

وحدثنا شيبان بن فروخ. حدثنا عبدالوارث. حدثنا الجعد. حدثنا أبو رجاء العطاردي عن ابن عباس، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال (من كره من أميره شيئا فليصبر عليه. فإنه ليس أحد من الناس خرج من السلطان شبرا، فمات عليه، إلا مات ميتة جاهلية)

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کو اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ بات محسوس ہو تو اسے صبر کرنا چاہیے کیونکہ جو شخص بھی حکومت کی اتھارٹی (سلطان) سے ذرہ برابر الگ ہوا، تو وہ جاہلیت کے موت مرے گا۔ (مسلم،کتاب الامارہ، حدیث 1849)

اگر ہم مسلم تاریخ کا جائزہ لیں تو عہد صحابہ سے لے کر آج تک کے مصلحین نے تنہائی جدوجہد کی ہے۔ اگر انہیں کچھ ساتھی ملے ہیں تو ان کی حیثیت امیر و مامور کی نہیں بلکہ دوستوں اور بھائیوں کی تھی۔ باہمی مشورے سے یہ حضرات کام کرتے رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر، فقہائے تابعین، اور بعد کے ادوار میں غزالی، ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

آرگنائزیشن کا تصور میرے خیال میں ہمارے ہاں اہل مغرب کی جانب سے آیا ہے۔ اس میں ویسے حرج بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی تنظیم بنا کر کام کرنا چاہے تو ضرور کرے لیکن اسے دین کا حکم اور تقاضا قرار دینا غلط ہو گا۔ کوئی خلوص کے ساتھ انفرادی جدوجہد کرے یا اجتماعی، اللہ تعالی کے ہاں اس کا اجر یقیناً محفوظ ہے۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

Don’t hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I’ll reply as soon as possible if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com.

تعمیر شخصیت لیکچرز

کیا خدمت دین کے لیے اجتماعی جدوجہد لازمی  ہے؟
Scroll to top