رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت نبوی اور خلافت میں سوالات

سوالات: السلام علیکم

فقہ اور تاریخ کی کتابیں کونسی ہیں جس کا مطالعہ کروں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کیسے گزری تھی اور ان تمام بیٹیاں سید تھیں؟

رسول اللہ کے پھوپھیوں میں حضرت صفیہ کے علاوہ عاتکہ اور امیمہ بھی ایمان لائے تھے کیا نہیں؟

 ایک سوال رسول اللہ کی کفالت کس نے کی تھی آپ کے تایا زبیر نے یا آپ کے چچا ابوطالب نے اس حدیث میں جو مندرجہ ذیل ہے۔ میرے بعد بارہ خلفاء ہونگے اور وہ سب قریش سے ہونگے، بارہ خلفا ء سے کون کون مراد ہیں؟

 میرے بعد تیس سال خلافت رہے گی۔ حدیث سفینہ کیا صحیح روایت ہے؟

حدیث کساء کیا ہے موضوع ہے ضعیف ہےیا صحیح ہے؟

کیا حضرت حسن بصری حضرت علی کے خلیفہ تھے کیا حضرت حسن کا حضرت علی سے سماع ثابت ہے؟

تصوف میں اے بات متفق علیہ ہے کہ حسن بصری حضرت علی کے خلیفہ ہیں؟

 کیا حضرت امام اعظم ابوحنیفہ حضرت جعفر صادق کے شاگرد تھےکیا وہ انکی صحبت میں دو سال رہے تھے؟ ان سے اے روایت بیان کی جاتی ہے کہ اگر جعفر صادق کی صحبت کے دو سال مجھے نہ ملتے تو میں ہلاک ہوجاتا کیا۔ اے بات صحیح ہے؟

اے جو کہا جاتا ہے کہ ولایت نبوت سے افضل ہے اور ولایت کی تعلیم رسول اللہ نے صرف حضرت علی کو دی تھی کیا اے صحیح ہےتمام سوالوں کے جوابات ترتیب وار دیں؟

جزاک اللہ خیرا

محمد جعفر، کرناٹک، انڈیا

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جعفر بھائی

آپ کی ای میل مجھ تک پہنچ رہی ہے۔ علوم الفقہ کی کتابیں الگ ہیں اور تاریخ کی کتابیں الگآپ کیا ہے؟ آپ سے وٹس ایپ ہی میں رابطہ ہوا ہے۔ اس میں لکھنا ذرا مشکل لگتا ہے اور میرے پاس ہر وقت اوپن بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ ای میل ہر وقت اوپن ہوتی ہے۔ آپ سنائیے کہ آپ کا کیرئیر  کیسا جا رہا ہے؟ گوکک کے حالات کیسے ہیں؟ فقہ اور تاریخ  کے ہمارے کورسز کی اسٹڈیز کی پراگریس ضرور بتا دیا کریں اور  اپنے سوالات روزانہ ہی ای میل کر دیا کریں کہ یہ پورا دن میرے سامنے اوپن ہوتی ہے۔  ہیں۔ آپ ان لنکس سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ 

Fiqh

https://drive.google.com/drive/folders/0B5mRw5mEUHv9VEFnQV94aFpLR0k

Lectures

History

Detailed Books: https://drive.google.com/drive/folders/0B5mRw5mEUHv9VmxEQVZwOEV0WEE

Lectures:

آپ کے سوالات کا جواب حاضر خدمت ہے۔

سوال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کیسے گزری تھی اور ان تمام بیٹیاں سید تھیں؟

جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار بیٹیاں تھیں اور چاروں ہی سیدہ تھیں۔ لفظ سید بعد میں انسانوں نے ٹائٹل رکھا جبکہ قرآن مجید میں اہل بیت کا ذکر ہے جو سورۃ الاحزاب میں موضوع ہے۔ اہل بیت کا معنی ہے کہ گھر والے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام بیگم خواتین کو امہات المومنین قرآن مجید میں اللہ تعالی نے کہہ دیا۔ آپ کے بیٹیاں بھی اسی گھر کی ہوئیں تو یہ تمام خواتین اہل بیت اور سیدہ ہیں۔

آپ کا سوال سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سے ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی تھیں اور نبوت کے اعلان پر ہی وہ ایمان لائی تھیں۔ اپنی فیملی میں ان کی شادی تو عتبہ بن ابو لہب سے ہو چکی تھی کہ وہ بھی کزن ہی تھا۔ ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ نبوت کے اعلان پر ابو لہب نے بیٹے کو حکم دیا کہ وہ طلاق دے دیں۔ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا پر طلاق ہو گئی۔

اس وقت عرب میں ایسا بڑا ایشو نہیں تھا کہ علیحدگی یا بیوہ خاتون کے لیے شادی بہت آسانی سے ہو جاتی تھی۔ اگلا رشتہ عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوا اور ان کے ساتھ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی شادی ہوئی۔ ان کے ہاں عبداللہ پیدا ہوئے لیکن وہ بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا اور عثمان رضی اللہ عنہ کا تعلق رہا لیکن جوانی ہی میں سیدہ کا انتقال ہو گیا۔ جب وہ مدینہ منورہ ہجرت کر کے چلے گئے تھے تو وہاں سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بیمار تھیں۔ دو سال کی صورتحال رہی اور جنگ بدر میں عثمان رضی اللہ عنہ نہیں جا سکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں روک دیا تھا۔ اس دوران سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا۔ 

بیٹے عبداللہ کا حوالہ تاریخی روایات کو ابن سعد نے  الطبقات الکبری میں  اکٹھا کر لیا ہے۔ حوالہ یہ حاضر ہے اور اس میں کوئی اعتراض بھی نہیں ہے کہ اس میں کوئی غلطی ہوئی ہو۔  اگلے عرصے بعد بھی ابن عبدالبر اسکالر نے بھی اپنی کتاب میں لکھا ہے اور اس میں کوئی اختلاف بھی نہیں ہے۔  ابن سعد  کا انتقال تو 230 ہجری میں ہوا۔ ان کی کتاب حدیث کی کتابوں جیسی کوالٹی پر نہیں ہے کہ انہوں نے روایات کو اکٹھا کر دیا تھا۔ اس میں اختلاف بھی ہوتا رہا ہے لیکن اس روایت یہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ 

ابن سعد، الطبقات الکبری، 1418ق، ج8، ص35؛ ابن عبدالبر،الاستیعاب، 1412ق، ج‏4، ص‌1840 و ج3، ص1037

سوال: رسول اللہ کے پھوپھیوں میں حضرت صفیہ کے علاوہ عاتکہ اور امیمہ بھی ایمان لائے تھے کیا نہیں۔

جواب: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایات میں موجود ہے کہ سیدہ ایمان لائیں اور انہی کے بیٹے زبیر رضی اللہ عنہ تھے۔ دیگر پھوپھیوں کی تفصیل موجود نہیں ہے۔ سیدہ اروی رضی اللہ عنہا کے بارے میں بیان ہے کہ وہ ایمان لائیں۔ دیگر پھوپھیوں کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہیے کہ وہ ایمان لائیں لیکن تاریخی انفارمیشن موجود نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں اس کا علم نہیں ہے۔ 

 سوال: ایک سوال رسول اللہ کی کفالت کس نے کی تھی آپ کے تایا زبیر نے یا آپ کے چچا ابوطالب نے اس حدیث میں جو مندرجہ ذیل ہے۔

جواب: اس زمانے میں جوائنٹ فیملی کا سلسلہ تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا عبدالمطلب صاحب فوت ہوئے، تو پھر بڑے بیٹے زبیر صاحب ہی فیملی کے ہیڈ بن گئے۔ انہی پر ذمہ داری تھی کہ وہ تمام بھائیوں بہنوں، بھانجوں بھتیجوں کو سنبھالیں۔ یہ عرض کر دوں کہ ایک ہی نام اسی فیملی میں ہوتے تھے جو عربوں کا کلچر تھا۔ زبیر صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بڑے چچا تھے اور اعلان نبوت سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔ پھر انہی زبیر صاحب کے بھانجے زبیر رضی اللہ عنہ تھے جو صحابی ہیں۔

ظاہر ہے کہ جن کے والدین زندہ ہیں تو وہی کفالت کرتے اور اگر والدین فوت ہوتے تو فیملی کے  ہیڈ پر ذمہ داری تھی۔ اس لیے شروع میں زبیر صاحب فیملی کے ہیڈ بنے۔ ان کی وفات کے بعد ابو طالب صاحب ہیڈ بن گئے اور  انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کروائی۔ ان کی وفات کے بعد پھر فیملی کے ہیڈ ابولہب بن گیا اور اسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دشمنی کرتا رہا جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔

سوال: میرے بعد بارہ خلفاء ہونگے اور وہ سب قریش سے ہونگے۔ بارہ خلفا ء سے کون کون مراد ہیں؟ یہ روایت آپ نے کس کتاب سے سنی ہے؟ اس کا حوالہ کیا ہے کہ حدیث یا قدیم تاریخی روایات میں ہے؟ کیا ان بارہ خلفاء پر کوئی تبصرہ ہے یا نہیں؟ 

جواب: ویسے حکمرانوں کے نام دیکھیں تو چھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں اور پھر اگلی نسل میں بنو امیہ کے مشہور حکمران گزرے ہیں۔ لسٹ آپ یہ دیکھ لیجیے۔ کسی روایت میں کسی شخص نے 12 کہہ دیے ورنہ پوری ایک صدی میں 13 حکمران گزرے اور انہیں خلیفہ کہا جاتا ہے۔ لفظ خلیفہ محض ٹائٹل ہی تھا جو ہر حکمران کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ بعد میں یہی لفظ 1924 تک یہی ٹائٹل جاری رہا جس میں سینکڑوں حکمران گزرے۔

خلیفہ 1: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

خلیفہ 2: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

خلیفہ 3: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

خلیفہ 4: علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ

خلیفہ 5: حسن بن علی رضی اللہ عنہما

خلیفہ 6: معاویہ رضی اللہ عنہ

یہاں پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حکومت ختم ہو گئی۔ اگلی جنریشن کو تابعین کہا جاتا ہے۔

خلیفہ 7: یزید بن معاویہ

خلیفہ 8: معاویہ بن یزید

خلیفہ 9: مروان بن حکم

خلیفہ 10: عبدالملک بن مروان

خلیفہ 11: ولید بن عبدالملک

خلیفہ 12: سلیمان بن عبد المک جن کی حکومت 99 ہجری میں ختم ہوئی۔

خلیفہ 13: عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ

https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%DB%81%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%D8%A7%D9%85%D9%88%DB%8C_%D8%AE%D9%84%D9%81%D8%A7%D8%A1

 سوال: میرے بعد تیس سال خلافت رہینگی حدیث سفینہ کیا صحیح روایت ہے۔

جواب: پلیز اس کے سورس کو دیکھ لیجیے۔ اسی بنیاد پر پھر ہم علم الحدیث کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ قابل اعتماد حدیث ہے یا محض کسی شخص نے کہانی ایجاد کر لی ہے۔ اسے آپ خود چیک کر سکتے ہیں، اور اس کا طریقہ کار آپ کو ان لیکچرز میں مل جائے گا۔

 سوال: حدیث کساء کیا ہے موضوع ہے ضعیف ہےیا صحیح ہے۔

جواب: اسے صرف شیعہ حضرات کی کتابوں میں ہے۔  انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فیملی کے بارے میں بہت سی کہانیاں ایجاد کی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اس میں کوئی بات درست بھی ہو لیکن اس کےسورسز قابل اعتماد نہیں ہیں کیونکہ اس کے راویوں پر یقین نہیں ہے۔ 

سوال: کیا حضرت حسن بصری، حضرت علی کے خلیفہ تھے کیا حضرت حسن کا حضرت علی سے سماع ثابت ہے؟

جواب: اس میں یہ معلوم ہے کہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نیک انسان تھے اور عبادت کرتے تھے۔ عین ممکن ہے کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے بھی سیکھا ہو اور دیگر صحابہ کرام سے بھی۔ 

سوال: تصوف میں اے بات متفق علیہ ہے کہ حسن بصری حضرت علی کے خلیفہ ہیں۔

جواب: حکومت تو حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کو نہیں ملی ہے۔ تصوف کے خیال میں وہ خلیفہ کو حکمران کی بجائے نیک لوگ کے طور پر بھی خلیفہ سمجھ لیتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہونے کی بنیاد پر کہا ہو۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے آج آپ کسی عالم کے شاگرد کو اس کا خلیفہ کہہ دیں۔ لفظی معنی خلیفہ کا  یہ ہے کہ امبیسیڈر۔ 

 سوال: کیا حضرت امام اعظم ابوحنیفہ حضرت جعفر صادق کے شاگرد تھےکیا وہ انکی صحبت میں دو سال رہے تھے؟

جواب: اس زمانے میں ایک شاگرد کسی ایک استاذ تک نہیں رہتے تھے بلکہ دیگر اساتذہ سے بھی سیکھتے رہتے تھے۔ پھر یہ بھی ہوتا کہ ایک  طالب علم اپنے کلاس فیلو یا اپنے چھوٹے لڑکے سے بھی سیکھ لیتے تھے۔ ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی اہل علم سے سیکھتے تھے جس میں انہوں نے جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ سے کوئی علم سیکھا۔ اسی طرح جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ بھی ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے سیکھ لیتے تھے۔ اس میں دینی اور دنیاوی سارے علوم ہی تھے جو ہر ماہر سے سیکھ لیتے تھے۔ ان دونوں حضرات کی  ٹائم لائن بھی تقریباً برابر ہے، اس لیے انہیں کلاس فیلو ہی کہہ سکتے ہیں۔ ان کی آپ ٹائم لائن دیکھ سکتے ہیں۔

جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال 148 ہجری میں ہوا۔

ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال 150 ہجری میں ہوا۔

اس سے آپ خود ہی اندازہ کر سکتے ہیں کہ دونوں حضرات ایک دوسرے سے علم سیکھتے رہے ہوں گے جیسا کہ ایک عمر کے لوگ ایک دوسرے سے کوئی پوائنٹ سیکھتے ہیں۔  

سوال: ان سے اے روایت بیان کی جاتی ہے کہ اگر جعفر صادق کی صحبت کے دو سال مجھے نہ ملتے تو میں ہلاک ہوجاتا کیا اے بات صحیح ہے۔

جواب: اس نامعقول سی روایت ہے۔ جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ کو بھی دینی علم وہی تھا جو ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کو  معلوم تھا۔ دین میں تو کوئی چیز خفیہ نہیں تھی کہ انسان ہلاک ہو جاتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دین سکھایا اور پھر انہوں نے اگلی نسل میں لاکھوں لوگوں کو سکھایا۔  ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی انسان گمراہی میں چلا جائے، پھر اسے ایسا کوئی دوست یا  استاذ یا کلاس فیلو اسے سمجھا دے۔ انسان پھر اس گمراہی سے نکل جائے تو پھر وہ کہہ سکتا ہے کہ میں ہلاک ہو جاتا۔ ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ تو بچپن سے ہی دین سیکھ رہے تھے اور ان کی کسی گمراہی کا علم بھی نہیں ہے۔ 

سوال: جو کہا جاتا ہے کہ ولایت نبوت سے افضل ہے اور ولایت کی تعلیم رسول اللہ نے صرف حضرت علی کو دی تھی کیا اے صحیح ہےتمام سوالوں کے جوابات ترتیب وار دیں

جواب: اس زمانے میں سیاسی اور مذہبی بنیاد پر بہت سی خفیہ کہانیاں ایجاد کیں ۔ دین میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے تمام اہل ایمان کو سکھائیں۔ یہ ممکن ہی نہیں ہو سکتا کہ وہ صرف علی رضی اللہ عنہ کو سکھائیں اور باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو علم نہ ہو۔ اس لیے  یہ کہانیاں جعلی ہی ہیں۔

اوپر مزید جو مثالیں آپ نے بیان کی ہیں، اس کے لیے بہت عمدہ کام محدثین نے کیا کہ وہ جانچ پڑتال کر کے چیک کرنے لگے کہ یہ جعلی کہانی ہے یا پھر سچ مچ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔ اس میں یہ  مشورہ کرتا ہوں کہ آپ محدثین کے کام کو پوری تفصیل سے پڑھ لیں۔ اس کے بعد آپ خود ہی اسی طریقے سے ریسرچ کر کے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ جعلی ہے یا قابل اعتماد۔ اس کی تفصیل میں ان لیکچرز میں کر دی ہے۔  اس میں آپ HS09-23 تک کے لیکچرز سن لیجیے۔ 

 اسلامی کتب کے مطالعے اور دینی کورسز کے لئے وزٹ کیجئے اور جو سوالات ہوں تو بلاتکلف ای میل کر دیجیے گا۔

www.mubashirnazir.org and mubashirnazir100@gmail.com

تعلیمی و تربیتی کورسز کے ویب لنکس

 اسلامک اسٹڈیز کی کتابیں اور لیکچرز

Islamic Studies – English

Quranic Studies – English Books

علوم القرآن ۔ کتابیں

علوم القرآن اردو لیکچرز

Quranic Studies – English Lectures

Quranic Arabic Language 

Quranic Arabic Language Lectures

Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice English

Methodology of Hadith Research English

علوم الحدیث سے متعلق کتابیں

قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات

علوم الحدیث اردو لیکچرز

علوم الفقہ پروگرام

Islamic Jurisprudence علم الفقہ

مسلم تاریخ ۔ سیاسی، تہذیبی، علمی، فکری اور دعوتی تاریخ

امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ لیکچرز

اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ

عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات

تعمیر شخصیت کتابیں، آرٹیکلز اور لیکچرز

تعمیر شخصیت کا طریقہ کار

Personality Development

Books https://drive.google.com/drive/u/0/folders/1ntT5apJmrVq89xvZa7Euy0P8H7yGUHKN

علوم الحدیث: ایک تعارف

مذاہب عالم  پروگرام

Impartial Research امت مسلمہ کے گروہوں کے نقطہ ہائے نظر کا غیر جانب درانہ تقابلی مطالعہ

تقابلی مطالعہ پروگرام کی تفصیلی مضامین کی فہرست

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

Quranic Studies – English Lectures

Islamic Studies – Al-Fatihah 1st Verse & Al-Baqarah 2nd Verse
Islamic Studies – Al-Imran – 3rd Verse
Islamic Studies – Al-Nisaa – 4rd Verse
Islamic Studies – Al-Maidah – 5th Verse Quran – Covenant – Agreement between Allah & Us
Islamic Studies – The Solution of Crisis in Madinah during Prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم – Quran Verses 24 & 33
Islamic Studies – The Forecast of Victory of Prophet Muhammad – Quran 47-114
Islamic Studies – Al-Anfaal – 8 Quranic Verse – Policies of War
Islamic Studies – Al-Taubah – 9 Quran Verse – The Result of Victory
Quranic Studies
Comments on “Quranic Studies Program”
Quranic Arabic Program – Lectures

علوم القرآن اردو لیکچرز

علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرۃ 1-2
علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ آل عمران ۔۔۔ قدیم امت مسلمہ اہل کتاب عیسائی امت  کی اصلاح اور نئی امت مسلمہ کا تزکیہ نفس 3
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ النساء ۔۔۔تعمیر شخصیت کے لیے شریعت سے متعلق احکامات اور سوالات کا جواب 4 
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ المائدہ ۔۔۔ امت مسلمہ کا اللہ تعالی سے  آخری معاہدہ  5
علوم القرآن کا مطالعہ ۔   مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور عہد رسالت میں جزا و سزا کا پریکٹیکل تجربہ   6-9
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب   10-24
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب 25-33
علوم القرآن کا مطالعہ ۔  مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی پیش گوئی   34-49
علوم القرآن کا مطالعہ ۔   مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت  اور  تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین   کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب 50-66
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت  اور  تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین   کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب  + رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی بشارت 67-114

Hadith Research English Lectures

Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice
Methodology of Hadith Research

علوم الحدیث اردو لیکچرز

قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات
اصول الحدیث لیکچرز
علوم الحدیث: ایک تعارف

Personality Development

تعمیر شخصیت لیکچرز

تعمیر  شخصیت  کا  طریقہ  کار  ۔۔۔  مثبت  شخصیت  کی  وابستگی
تعمیر  شخصیت  کا  طریقہ  کار  ۔۔۔  منفی  شخصیت  سے  نجات
اللہ  تعالی  اور  اس  کے  رسول  کے  ساتھ  تعلق اور انسانوں  کے  ساتھ  رویہ
Leadership, Decision Making & Management Skills لیڈرشپ، فیصلے کرنا اور مینجمنٹ کی صلاحیتیں
اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟
قرآن اور بائبل کے دیس میں
 ۔۔۔۔۔۔ قرآن اور بائبل کے دیس میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخصوص علاقے سعودی عرب، اردن، فلسطین اور مصر
سفرنامہ ترکی
اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں
Strategic Planning in Religious Research حکمت عملی سے متعلق دینی احکامات
Social Sciences سماجی علوم
مذہبی برین واشنگ اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ

دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب لیکچرز

قرآن مجید اور سنت نبوی میں عبادت سے متعلق عملی احکامات
Economics & Finance دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب  ۔۔۔ اکنامکس اور فائنانس
Finance & Social Sciences دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب  ۔۔۔ معاشرت اور سوشل سائنسز 
 (Political Science) دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب  ۔۔۔ سیاست 
(Schools of Thought) علم الفقہ کی تاریخ اور فقہی مکاتب فکر

امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ

BC 250,000 to 610CE نبوت محمدی سے پہلے کا دور ۔۔۔ حضرت آدم سے لے کر محمد رسول اللہ کی نبوت تک
571CE-632CE عہد رسالت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مذہبی، علمی، دعوتی، سیاسی  اور تہذیبی تاریخ
عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات
عہد صحابہ اور تابعین کی سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 632-750
 امت مسلمہ کی تہذیبی عروج کا دور : سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ750-1258
 تہذیبی جمود اور زوال کا دور اور پھر  ریکوری: سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1258-1924
 امت مسلمہ  کی  ریکوری  کا دور  ۔۔۔  سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1924سے آج تک
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
مسلم دنیا اور ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی
نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟
Comments on “The History of Abolition of Physical & Intellectual Slavery in Islam”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت نبوی اور خلافت میں سوالات
Scroll to top