بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Islamic Studies Program

Knowing is not enough, we must apply!

علوم اسلامیہ پروگرام

علم کافی نہیں ہے، اسے استعمال کرنا ضروری ہے

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

New articles and books are added this website on 1st of each month.

Home

تقابلی مطالعہ پروگرام

تفصیلی تعارف

تعارف کو PDF فارمیٹ میں ڈاؤن لوڈ کر کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

تفصیلی مضامین کی فہرست کے لیےیہاں کلک کیجیے۔

اس پروگرام سے متعلق عام پوچھے جانے والے سوالات کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

رجسٹریشنفارم ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اس پروگرام کا مقصد کیا ہے اور یہ کس کے لیے ہے؟

اس کورس کا مقصد یہ ہے کہ امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں، ان کا ایک غیر جانبدارانہ (Impartial)مطالعہ کیا جائے اور ان کے نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ بھی لیا جائے۔

اس پروگرام میں ہم نےیہ کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو، جیسا کہ وہیں ہیں، بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دیے جائیں۔ ہم نے کسی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہیں کیا اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا ہے کہ کون سا نقطہ نظر درست اور کون سا غلط ہے۔ یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے۔

یہ پروگرام ان لوگوں کے لیے ہے جو:

       وسیع النظر ہوں

       مثبت انداز میں مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنا چاہتے ہوں

       منفی اور تردیدی ذہنیت کی رو سے مطالعہ نہ کرتے ہوں

       دلیل کی بنیاد پر نظریات بناتے ہوں نہ کہ جذبات کی بنیاد پر

       اپنے سے مختلف نظریہ کو کھلے ذہن پڑھ سکتے ہوں اور اس میں کوئی تنگی اپنے سینے میں محسوس نہ کرتے ہوں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہآپ میں یہ خصوصیات موجود ہیں، تو آپ کا تعلق خواہ کسی بھی مکتب فکر سے ہو، آپ اس پروگرام میں شامل کتب کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ خصوصیات آپ میں موجود نہیں ہیں، تو پھر یہ سلسلہ ہائے کتب آپ کے لیے نہیں ہے۔


تعارف

ایک جدید ذہن جب دین کی طرف مائل ہوتا ہے تو اسے اپنے سامنےدین کے نام پر ڈھیروں اختلافاتنظر آتے ہیں۔ اس موقع پر وہ اس کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے کہ کون سا راستہ درست ہے اور کون سا غلط اور میں کس کی بات مانوں اور کسے غلط قرار دوں؟ ہر فرقہ و مسلک اپنے نقطہ نظر کی تائید میں قرآن و سنت سے ہی دلائل پیش کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو شخص دین کی طرف مائل ہوا ہے، اسے جس فرقہ و مسلک کے لوگوں سے پہلے واسطہ پڑ جائے، وہ اسی مسلک کے دلائل کو پڑھتا ہے اور پھر اسے اپنا لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ انہی دلائل کی روشنی میں دوسروں کو دیکھتا ہے۔اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہخوش قسمتی سے تم درست جگہ آ گئے ہو، اب کسی اور جانب مت دیکھنا ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔اگر تمہیں دوسرے مسلک کا مطالعہ کرنا بھی ہے تو اپنے ہی علماء کی کتابوں کے ذریعے کرو جو اس فرقے کے رد میں لکھی گئی ہیں۔ اس طریقے سے وہ شخص تعصب اور تحزب کا شکار ہو جاتا ہے۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اگر سبز شیشوں والی عینک پہن لے تو پھر اسے ہر چیز سبزی مائل نظر آئے گی، اگر شیشوں کا رنگ گلابی ہو تو ہر چیز اسی طرح نظر آئے گی اور اگر شیشوں کے اندر کچھ مسئلہ ہو تو پھر ہر چیز ٹیڑھی میڑھی نظر آئے گی۔ چنانچہ وہ شخص دوسرے فرقوں کو اپنے فرقے کی عینک سے دیکھتا ہے اور جیسا اس کے اپنے فرقے کے راہنما دوسروں کو دکھانا چاہتے ہیں، وہ انہیں ویسا ہی دیکھتا ہے۔ اپنے ذہن کو استعمال کرنے کی بجائے وہ دوسروں کے ذہن سے معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

اب سے پچیس برس پہلے مجھ میں یہ شوق پیداہوا کہ حق کی تلاش کی جائے۔ اس ربع صدی میں میں نے میں مسلمانوں کے مختلف مسالک اور فرقوں کے نہ صرف لٹریچر کا تقابلی مطالعہ کیا بلکہ ان کے اجتماعات میں شرکت کی، ان کے لوگوں سے ملا، ان کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کی، ان کے دلائل کا جائزہ لیا۔ یہ جاننے کی کوشش کی کہہر مسلک اور فرقے کے لوگ دوسروں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ انہیں کیا سمجھتے ہیں؟ ان کے دلائل کو کیسے دیکھتے ہیں؟

اس مطالعے کے دوران مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ہمارے ہاں ایسا لٹریچر نہ ہونے کے برابر ہے جس میں مسلمانوں کے تمام قابل ذکر مسالک اور فرقوں کے ان مسائل کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا گیا ہو جن میں وہ اتفاق یا اختلاف رکھتے ہیں۔عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ "ہم" اور "اُن" کو ذہن میں رکھتے ہوئے کتاب لکھی جاتی ہے جس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ قاری "ان" کے گروہ سے باہر نکل آئے اور "ہم" میں شامل ہو جائے ۔یہ مقصد شاید ہی کبھی حاصل ہوتا ہو کیونکہ دوسری جانب بھی ذہنیت "ہم" اور "ان" کے خانوں میں بٹی ہوتی ہے۔دوسرے مسلک کے لوگ بھی بس اپنی کتابیں ہی پڑھتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی کسی اور کی کتابیں دیکھتا بھی ہے تو صرف تردید کے نقطہ نظر سے، حق کی تلاش کسی کے پیش نظر نہیں ہوتی۔ پہلے سے یہ بات طے کر لی جاتی ہے کہ "ہم" حق پر ہیں اور "وہ" غلط ہیں اور باطل کے علمبردار ہیں۔ اس کے بعد جو تقریر وتحریر ہوتی ہے، اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ "اپنے" مسلک کی ہر ممکن طریقے سے تائید کی جائے اور "ان" کے مسلک کی تردید۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر انسان اپنے اپنے مذہب، فرقے، مسلک اور مکتب فکر کے راہنماؤں کا فکری غلام بن کر رہ جاتا ہے۔

یہ 2008 کی گرمیوں کی بات ہے جب میں اپنی کتاب "مسلم دنیا میں ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی" لکھ رہا تھا۔ کتاب کا آخری باب اس نفسیاتی غلامی کے انسداد سے متعلق تھا۔ اس سے متعلق جو تجاویز ذہن میں آئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ لوگوں میں تقابلی مطالعہ کی عادت پیدا کی جائے۔یہ کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

جس طرح ہم نے کوئی بھی قیمتی چیزجیسے فریج، کار وغیرہ خریدنا ہو تو ہم ایسا نہیں کرتے کہ جو دکان پہلے نظر آئی، اس کے سیلز مین کی شکل پر موجود بظاہر خلوص بھری مسکراہٹ کو دیکھ کر آنکھیں بند کر کے وہاں سے چیز خرید لی۔ اس کی بجائے ہمکئی دکانوں پر جاتے ہیں، چیز کی کوالٹی کے بارے میں ڈھیروں سوال کرتے ہیں، قیمتوں کا تقابل کرتے ہیں، مال کو ٹھونک بجا کر دیکھتے ہیں، پھر جا کر جو چیز پسند آئے، اسے خریدتے ہیں۔ اس عمل سے ہم بڑی حد تک غلطی سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی غلطی ہو جائے تو اس کا نہ صرف ازالہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں بلکہ اس سے سبق سیکھ کر آئندہمزید محتاط ہو جاتے ہیں۔

افسوس کہ دین، جو اس سے کہیں قیمتی متاع ہے، کے معاملے میں ہمیہ احتیاط بالکل نہیں کرتے۔جس فرقے کی مسجد ہمارے گھر کے پاس واقع ہو، جسمسلک کے لوگوں سے ہماری پہلے ملاقات ہوجائے، جس فرقے کو اپنانے پر ہمارا خاندان اور ماحول ہمیںمجبور کر دے، ہم اسے اپنا لیتے ہیں اور اتنے کٹر پن سے ایسا کرتے ہیں کہ بقول شاعر††††††† ؎

حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے

ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم اس معاملے میں بھی احتیاط کا وہی رویہ اختیار کریں جو ہم کسی بھی قیمتی چیز کو خریدتے وقت کرتے ہیں۔ ہم مختلف مذاہب، مسالک، فرقوں اور مکاتب فکر کا مطالعہ کریں، ان کے دلائل کا موازنہ کریں، قرآن اور سنت کے ساتھ ان کا تقابل کریں، اپنی عقل کو استعمال کریں اور پھر جو بات درست معلوم ہو،اسے اختیار کر لیں۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی ہم اس کے لئے تیار رہیں کہ اگر اس عمل میں ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہو اور کل کوئی اور بہتر بات ہمارے علم میں آ جائے تو اپنی غلطی مان کر ہم اس کا ازالہ کر لیں۔

انسان اللہ تعالی کی ایسی مخلوق ہے جو ذہن اور عقل رکھتی ہے۔جیسے ہر شخص کی شکل، قد، لہجہ اور انداز گفتگو دوسرے سے مختلف ہے، ویسے ہی ہر ایک کا زاویہ نظر اور سوچنے و سمجھنے کا انداز دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔دنیاوی معاملات میں ان اختلافات سے عام طور پر بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا کیونکہ لوگ ایک دوسرے سے بات کر کے، دلائل اور فکر کا تبادلہ کر کےاور کچھ کمپرومائز کر کے اتفاق رائے پر پہنچ جاتے ہیں اور مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ اگر وہ اس اتفاق رائے پر نہ بھی پہنچیں تو اپنے اختلافات کو مختلف دائروں میں ایڈجسٹ کر لیتے ہیں۔

دین اور مذہب کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ یہ ایسا معاملہ ہے کہ اس میں انسانعام طور پر بہت جذباتی ہوا کرتا ہے۔ جیسےہی اسے اپنے سے کوئی مختلف بات نظر آتی ہے تو اس کا عام رد عمل یہ ہوتا ہے کہیہ گمراہی، بدعت، شرک، گستاخی، کفر، ارتداد اور نجانے کیا کیا ہے۔†† بعض حضرات فوری طور پر اس میں اغیار کی کوئی سازش تلاش کرتے ہیں اور بغیر کسی تحقیق کے فریق مخالف کو دشمن کا ایجنٹ قرار دے دیتے ہیں۔ اس کے لیے یہی دلیل کافی ہوتی ہے کہ فلاں نے ہم سے اختلاف کر کے دین میں رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہفریق مخالف کی جانب سے ہی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ رویہ رکھنے کے بعد پھر دلائل کا تبادلہ کرنے اور مسئلے کو حل کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔

درست طرز عمل یہ ہے کہ جذباتیت کو ایک جانب رکھ کر عقل سے سوچا جائے۔ دوسروں کی تردید کو زندگی کا مقصد بنانے کی بجائے انہیں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ باہمی رابطہ کے لئے پل تعمیر کیے جائیں۔ سوچوں کا تبادلہ کیا جائے اور یہ سب مثبت اور ہمدردانہ رویے کے ساتھ ہو نہ کہ نظریہ سازش کے تحت۔

ہمیں اس حقیقت کو ماننا ہو گاکہ ہر اختلاف برا نہیں ہوتا۔ اختلاف رائے بھی انسان کی شکل و صورت کے اختلاف کی طرح ہے جس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ اگر دوسرا شخص ہم سے مختلف زاویہ نظر رکھتا ہے تو یہ برائی نہیں بلکہ ہمارے لئے ایک موقع ہے کہ اس کی روشنی میں ہم اپنی سوچ پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں ،اور اس سوچ سے اگر ہماری غلطی واضح ہو جائے تو ہم اپنی غلطی کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ یہی جذبہ اگر دوسری جانب ہو تووہ بھی اپنی اصلاح کر سکتا ہے۔جیسے آئن اسٹائن اگر نیوٹن سے اختلاف نہ کرتا تو طبیعات کے میدان میں جو غیر معمولی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، وہ کبھی نہ ہوتیں۔ لیکن ہمارے ہاں اس کے برعکس رویہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی نہیں بلکہ دوسرےکی اصلاح کرنا ہے۔ یہیں سے اصلاح کی بجائے فساد کا آغاز ہوتا ہے جو فرقہ واریت کی صورت میں امت کےو جود کو گھلا کر رکھ دیتا ہے۔

جو لوگ تلاش حق کی اس راہ کے مسافر بننا چاہیں۔۔۔۔ اور میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ ایسے لوگ اب کم نہیں رہے۔۔۔۔کی خدمت کے لئے یہ کتاب لکھنے کا میں نے ارادہ کیا۔ اس کتاب کو "علوم اسلامیہ پروگرام" کی ایک ٹیکسٹ بک کے طور پر لکھنے کا ارادہ تو 2008 ہی میں بن گیا تھا مگر اپنے منصوبے کی ترتیب میں اس کتاب کا نمبر میں نے کافی بعد میں رکھا تھا۔ محترم بھائی ریحان احمد اور پروفیسر محمد عقیل نے اصرار کیا کہ اس پراجیکٹ کو پہلے مکمل کیا جائے تاکہ جو لوگ طالب حق ہیں، ان کی کچھ خدمت ہو سکے اور راہ حق کی تلاش میں یہ کتاب ان کے لئے ممد و معاون ثابت ہو سکے۔

یہ کتاب عام اسلوب سے ہٹ کر ہے۔ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ اختلافی مسائل پر لکھی گئی کسی بھی کتاب کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنے مسلک اور نقطہ نظر کا دفاعکیا جائے اور مخالفین کی تردید کی جائے۔ مخالفین کے دلائل میں خامیاں تلاش کر کے انہیں اجاگر کیا جائے اور اپنے دلائل کی برتری کو ہر صورت واضح کیا جائے۔ اس کتاب کا ایسا کوئی مقصد نہیں ہے۔یہ کتاب کسی مخصوص مسلک نقطہ نظر کو ثابت کرنے یا کسی مخصوص مسلک کی تردید میں نہیں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ مسلم دنیا میں پائے جانے والے مختلف گروہوں، فرقوں اور مسالک اور ان کے دلائل کا ایک تفصیلی جائزہ قارئین کے سامنے مکمل غیر جانبداری سے پیش کر دیا جائے۔ ان کے نقطہ نظر کو، جیسا کہ وہ ہے، بیان کر دیا جائے اور ان کے دلائل کو پوری دیانت داری سے پیش کر دیا جائے۔ اس کے بعد فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ ان دلائل پر غور کر کے جس راہ کو درست سمجھتے ہیں، اپنا لیں۔ اس کتاب کی مثال ایک ایسے کمرہ عدالت کی سی ہے جس میں سب فریق اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں، مگر یہ کمرہ عدالت جج سے خالی ہے کیونکہ یہ جج آپ خود ہیں۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اپنا نقطہ نظر پیش کر کے آپ کے ذہن پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہ کروں۔ آپاپنے ذہن سے سوچیے، دلائل کو پرکھیے اور پھر جس مسئلے میں جو نقطہ نظر حق کے قریب معلوم ہو، اسے اختیار کر لیجیے۔

ہر ہر مسئلے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں اس کتاب کو مکمل طور پر غیر جانبدارانہ رکھنا چاہتا ہوں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ اس کتاب کے قاری آزادانہ طریقے پر غور و فکر کر کے درست نتائج تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ ان کی اس کوششپر میں اثر انداز ہو کر انہیں کسی کی فکری غلامی میں دھکیلنا نہیں چاہتا۔ میری خواہش ہے کہ قارئین کو اپنا ذہن استعمال کرنے کی عادت پڑے اور دوسروں پر ان کے انحصار کو کم سے کم کیا جائے۔

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہمیں خود کسی معاملے میں کوئی رائے نہیں رکھتا۔اس کتاب میں جن جن اختلافی مسائل سے میں نے تعرض کیا ہے، ان سب میں میری اپنی بھی ایک رائے ہے لیکن میں نے اپنی طرف سے یہ پوری کوشش کی ہے کہ اپنی اس رائے کو کتاب کی غیر جانبداری پر اثر انداز نہ ہونے دوں تاکہ اس کتاب کی افادیت برقرار رہے۔مجھے اعتراف ہے کہ جس مذہبی ماحول میں میری تربیت ہوئی ہے، اس میں یہ ایک مشکل کام تھا۔ اس وجہ سے تمام مسالک کے قارئین سے میری یہ درخواست ہے کہ وہ اگر کہیں یہ محسوس کریں کہ کسی مقام پر اپنے کسی تعصب کے باعثمیں ان کے نقطہ نظر کو صحیح طور پربیان نہیں کر سکا یا ان کے دلائل کو درست طریقے پر پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تو وہ بلاتکلف اس سے آگاہ کریں تاکہ اس کی اصلاح کی جا سکے۔یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی کم علمی کے باعث میں کسی فریق کے دلائل سے بخوبی واقف نہ ہو سکا ہوں جس کے باعث انہیں بیان نہ کر سکا ہوں۔ اگر ایسا ہو تو مجھے ضرور آگاہ کر دیجیے تاکہ ان دلائل کو اس کتاب کا حصہ بنایا جا سکے۔

مختلف فریقوں کے نقطہ ہائے نظر کو بیان کرتے کرتے ہر ہر مسئلے میں جہاں پر میں نے بحث کو ختم کیا ہے، وہاں ایسا اس وجہ سے کیا ہے کہ مجھے اس ضمن میں کسی فریق کی کوئی مزید دلیل نہیں مل سکی ہے۔ تاہم اگر کسی مسلک کے پیروکار یہ سمجھتے ہوں کہ ان کے پاس مزید کہنے کے لیے کچھ ہے، تو وہ اپنی بات مجھے لکھ بھیجیں، میں اسے اس کتاب میں شامل کرنے کو تیار ہوں بشرطیکہ اس میں پہلے سے بیان کردہ دلیل کو دوہرایا نہ گیا ہو بلکہ کوئی ایسی بات کہی گئی ہو، جو اس کتاب میں موجود نہیں ہے۔ میرا یہ دعوی نہیں ہے کہ اس کتاب میں ہر مسلک کے تمام دلائل اکٹھے کر دیے گئے ہیں مگرمیری کوشش یہ رہی ہے کہ ہر مسلک اور گروہ کے کم از کم بنیادی دلائل درج کر دوں۔

اس موضوع پر بلا مبالغہ ہزاروں کتب لکھی جا چکی ہیں جن میں ہر ہر فریق نے اپنے نقطہ نظر کو ثابت اور دوسرے کے نقطہ نظر کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کتابوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا اسلوب بیان ہے۔ جب کوئی مصنف اپنے مسلک کی حمایت میں کتاب لکھتا ہے تو اس کی کوششہوتی ہے کہ وہ اپنے مسلک کی ہر صورت اور ہر حالت میں حمایت کرے اور دوسرے کو ہر قیمت پر غلط ثابت کرے۔ فریق مخالف کے جن دلائل کا اس کے پاس جواب نہیں ہوتا، وہ انہیں خاموشی سے نظر انداز کر دیتا ہے اور جن باتوں کا اس کے پاس جواب ہوتا ہے، انہیں بڑھ چڑھ کر بیان کرتا ہے۔ کتاب میں فریق مخالف پر طنز، استہزا اور بسا اوقات گالی گلوچ تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ میں نے کوشش یہ کی ہے کہ اس اسلوب سے بچ کر خالصتاً دلائل کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ کسی بھی گروہ پر طنزو تشنیع کا ہلکا سا شائبہ بھی محسوس نہ ہو۔ اگر قارئین کو کہیں محسوس ہو کہ میں نے اس اصول کی خلاف ورزی کی ہے تو وہ مجھے مطلع کر کےشکریہ کا موقع دے سکتے ہیں۔

اپنی دیگر کتب میں میرا اسلوب یہ ہے کہ میں ان میں شخصیات کا ذکر بہت کم کرتا ہوں، بس نیوٹرل سے انداز میں حوالہ پیش کر دیتا ہوںکیونکہ عام طور پر شخصیات کو بیان کرنے سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔اس سلسلہ کتب کی نوعیت ایسی تھی کہ بہت سی شخصیات اور ان کا کام اس میں زیر بحث آیا ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ ہر گروہ اور مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے نامبیان کرتے ہوئے ان کے پورے پورے احترام کا خیال رکھا جائے اور ان کا ذکر اس انداز میں کیا جائے جو ایک جانب عقیدت مندی اور دوسری طرف عدم احترام دونوں سے پاک ہو۔کسی شخصیت کے نظریات سے خواہمجھے اختلاف ہو یا اتفاق، اس کا نام لیتے ہوئے میں نے نہ تو عقیدتمندی کا مظاہرہ کیا ہے اور نہ ہی عدم احترام کا۔

شخصیات اور گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے اور ان کے نظریات بیان کرتے ہوئے میں نےاس بات کی پوری کوشش کی ہےکہ صرف اور صرف حقائق کو بیان کیا جائے اور ادنی درجے میں بھی کسی کے نظریات یا افعال پر محاکمہ (Judgment) نہ کیا جائے بلکہ جو بات جیسی ہے، اسے ویسا ہی بیان کیا جائے اور اس کے بعد صحیح یا غلط کا فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ میں اس کتاب کو مکمل طور پر غیر جانبدار رکھنا چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ قارئین اپنے ذہن سے خود فیصلہ کریں اور میری کوئی بات ان کے اس فیصلے پر اثر انداز نہ ہو۔ اگر قارئین یہ محسوس کریں کہ کسی بھی مقام پر میں اس اصول کا خیال نہیں رکھ سکا ہوں تو وہ نشاندہی ضرور فرمائیں تاکہ اصلاح کی جا سکے۔

آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب آپ خود رائے رکھتے ہیں تو پھر عین ممکن ہے کہ پوری کوشش کے باوجود لاشعوری طور پر آپ کا جھکاؤ اس موقف کی جانب ہو گیا ہو، جس پر آپ قائل ہیں۔ اس امکان کو میں تسلیم کرتا ہوں اور پوری دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ یہ رسک اس کتاب میں موجود ہے۔ تاہم اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس پہلو کو بھی کم سے کم کرنے کی پوری شعوری کوشش کی ہے اور اس کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ جس نقطہ نظر پر میں قائل نہیں ہوں، تھوڑی دیر کے لیے اس پر قائل ہو کر اسے پورے زورکے ساتھبیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دوسری کتب میں یہ کوشش بھی آپ کو نہ مل سکے۔ پھر بھی میں انسان ہوں اور غلطی کر سکتا ہوں۔ اس وجہ سے آپ سے گزارشہے کہ جہاں آ پ ہی محسوس کریں کہ میں نے کسی نقطہ نظر یا اس کے دلائل کو بیان کرنےمیں کوتاہی کی ہے، ضرور مطلع فرمائیے تاکہ اس کی اصلاح کی جا سکے۔

میں نے کوشش یہ کی ہے کہ جس کتاب کا کوئی اقتباس نقل کروں، اس کے پورے سیاق و سباق کے ساتھ کروں تاکہ کسی بات کو اس کے سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنے سے معنی میں جو تبدیلی ہو جایا کرتی ہے، اس سے محفوظ رہا جا سکے۔ اس کے علاوہ کتاب کے آخر میں ببلیو گرافی فراہم کر دی گئی ہے تاکہ اگر کوئی صاحب تحقیق کرنا چاہیں تو ان کتبکا براہ راست مطالعہ کر کے ان میں سے متعلقہ اقتباسات کو پورے سیاق و سباق میں پڑھ سکتے ہیں۔ میں نے یہ بھی کوشش کی ہے کہ ہر مسلک کے نقطہ نظر کو اس کے اپنے بزرگوں کی کتب سے اخذ کیا جائے نہ کہ اس کے مخالفین کی۔ جہاں کسی فرقے کی کتب تک رسائی ممکن نہ ہو سکی، وہاں یہ کوشش کی ہے کہ غیر جانبدار ذرائع سے معلومات حاصل کی جائیں۔

میں نے یہ کوشش بھی کی ہے کہ کتاب کو تفصیلی اور ٹیکنیکل بحثوں سے ممکنہ حد تک بچاتے ہوئے سادہ ترین اسلوب میں مختلف فریقوں کے دلائل پیش کیے جائیں تاکہ قاری اطمینان سے ان دلائل کو سمجھ کر ان کا موازنہ کر سکے۔جہاں کوئی ٹیکنیکل بحث کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے، وہاں میں نے کوشش کی ہے کہ اسے جس قدر سادہ انداز میں بیان کرنا ممکن ہو، کر دیا جائے۔

یہ کتاب مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں موجود صرف اختلافات کے ذکر پر ہی مشتمل نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان جن معاملات میں اتفاق رائے ہے، اس کو بھی بیان کیا گیا ہے تاکہ ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں دور ہوں اور یہ اتفاقی امور امت کے مختلف گروہوںمیں پل کا کام کر سکیں۔غلط فہمیوں کو دور کرنا، امت کے مختلف گروہوں کو قریب لانا، ایک دوسرے کے بارے میں منفی سوچ کو ختم کرنا، اور شدت پسندی اور تعصب سے اجتنابکی دعوت دینا ایسے امور ہیں جن کی ضرورت ہر دور میں تھی اور موجودہ دور میں کہیں زیادہ ہو سکی ہے۔ اختلافات سے ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ دین کی بنیادی باتوں میں امت کی غالب اکثریت متفق ہے اور محض گنتی کے چند مسائل ہی پر اختلاف ہے جو اتفاق کی نسبت کہیں کم ہے۔ دیگر مذاہب کی نسبت مسلمانوں کے فرقوں کی تعداد بھی بہت ہی کم ہے۔

مطالعہ کے دوران یہ بات ضرور پیش نظر رکھیے گا کہ علم کی دنیا میں اصل حیثیت دلیل کو حاصل ہوتی ہے۔ علم کی دنیا میں یہ نہیں دیکھا جاتا ہے کہ کسی نقطہ نظر کے ماننے والے اگر اکثریت میں ہیں تو وہ لازماً صحیح ہو گا اور اگر اس کے ماننے والے کم ہیں تو وہ غلط ہو۔ انسانیت کی تاریخ گواہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے پیروکار ان کے مخالفین سے کم رہے ہیں۔ علم کی دنیا میں کسی بات کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ دلیل پر ہوتا ہے۔ اگر کسی نقطہ نظر کو مثلاً 99 افراد بیان کر رہے ہوں اور اس کے مخالف نقطہ نظر کا صرف ایک آدمی قائل ہو، تو تب بھی دونوں فریقوں کے دلائل کا موازنہ کر کے ہی اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ ان 99 حضرات کی بات صحیح ہے یا اس ایک شخص کی۔ اپنے اپنے دلائل پیش کرنے کا دونوں کو یکساں حق حاصل ہو گا۔ اکثریت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ محض عددی اکثریت کی بنیاد پر اقلیت کو اپنی دلیل پیش کرنے کا حق دینے سے انکار کر دے۔

اس سیریزمیں آپ کو جنوبی ایشیا پر کچھ فوکس نظر آئے گا اور کچھ ایسا محسوس ہو گا کہ یہ جنوبی ایشیا کے تناظر میں لکھی گئی ہے۔میں نے کوشش تو کی ہے کہ دنیا کے دیگر خطوں میں موجود مختلف گروہوں اور فرقوں کے نظریات بیان کیے جائیں تاہم مجھے اعتراف ہے کہ ان کے بارے میں اس درجے کی معلومات ہمیں دستیاب نہیں ہیں ۔ پھر بھی کوشش کی ہے کہ جس حد تک ہو سکے،دنیا کے دیگر خطوں کے گروہوں سے متعلق معلومات اکٹھی کر کے سیریز کی اس خامی کو دور کیا جائے۔

اس سیریزپر آپ کے تاثرات کا انتظار رہے گا۔آپ کے ذہن میں کوئی سوال اگر پیدا ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو۔

محمد مبشر نذیر

دسمبر 2011

mubashirnazir100@gmail.com


امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور فرقوں کا تعارف

جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں انسان اللہ تعالی کی ایسی مخلوق ہے جو ذہن اور عقل رکھتی ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی اس صلاحیت کی وجہ سے اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔جب مخصوص نقطہ نظر رکھنے والے لوگ اپنے ہم خیال لوگوں سے ملتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ایکحلقہ یا گروہ تشکیل پاتا ہے۔ اس گروہ کو اگر کوئی اچھا لیڈر مل جائے جو اس گروہ کے خیالات اور تصورات کو منظم اور مربوط انداز میں پیش کر دے تو یہ غیر منظم گروہ "مکتب فکر" کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو بعض امتیازی مسائل کی وجہ سے دوسرے مکاتب فکر سے مختلف ہوتا ہے۔ مختلف مسائل کی مزید تحقیق و تنقیح کے نتیجے میں مکتب فکر، مسلک کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اگر اس مسلک کے لوگ دوسروں کے ساتھ اختلاف میں شدت برتیں تو بالآخر اس مسلک کے بطن سے فرقہ جنم لیتا ہے۔اگر کسی فرقے یا مسلک میں شدت پائی جائے تو رد عمل کی نفسیات کے تحت دوسرے فرقے کے لوگوں میں بھی شدت پیدا ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ باہمی نفرتیں جنم لیتی ہیں۔

مسلم فرقوں کی مختصر تاریخ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فوراً بعد روم اور ایران کی سلطنتیں اسلام کی قوت کے سامنے ٹھہر نہ سکیں اور خلفاء راشدین کے زمانے میں ہی اسلامی حکومت موجودہ بلوچستان سے لے کر مراکش تک پھیل گئی۔یہ سارا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد صرف پندرہ سے بیس سال کے عرصے میں مکمل ہو گیا۔

مسلمانوں کی تلواروں نے روم و ایران کی فوجوں کی قوت توڑ دی مگر ظاہر ہے کہ تلوار سے ان علاقوں کے بسنے والے انسانوں کے دل فتح نہ کیے جا سکتے تھے۔ اس کی وجہ خود قرآن مجید کا یہ حکم تھا کہ لَاۤ اِكْرَاهَ فِى الدِّيْنِ یعنی "دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں" (البقرۃ 2:256) اہل عرب کی تقریباً سو فیصد آبادی نےاسلام قبول کر لیا مگر دیگر علاقوں کی ایک بہت بڑی آبادی نے اتنی جلدی اسلام قبول نہ کیا۔ ظاہر ہے کہ ان علاقوں کے رہنے والے صدیوں سے جن مذاہب کو مانتے تھے، وہ اپنے مذہب کو آسانی سے نہ چھوڑ سکتے تھے اور مسلمان بھی انہیں زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کر سکتے تھے۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، وہ اپنے سابقہ مذاہب کے بہت سے تصورات ساتھ لائے جس کے نتیجے میں عہد صحابہ ہی میں مختلف زاویہ ہائے نظر سامنے آنے لگے اور فرقے بننے کا عمل شروع ہو گیا۔ ابتدا میں یہ عمل سیاسی نوعیت کا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ مذہبی فرقے بننے کا عمل شروع ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ خوارج، کرامیہ، مرجئہ، مجسمہ، قدریہ، جبریہ اور نجانے کتنے گروہ بنے اور تاریخ کے عمل میں منظر عام سے غائب ہو گئے۔

اس دور کے تینفرقے اب بھی باقی ہیں۔ ان میں سے ایک شیعہ یا اہل تشیع کا گروہ ہے جو مسلمانوں کی کل آبادی کے تقریباً 10 فیصد افراد پر مشتمل ہے اور دوسراگروہ مسلمانوں کا سواد اعظم یا مین اسٹریم مسلمان جو خود کو اہل السنۃ والجماعۃ یا اردو میں اہل سنت و جماعت کہتے ہیں۔ یہ مسلمانوںکی کم و بیش 90 فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔ان دونوں کے علاوہ خوارج کے گروہ سے الگ ہونے والا ایک چھوٹا سا فرقہ بھی اب تک موجود ہے جو کہ "اباضی" کہلاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان سبھی فرقوں کے اندر مزید ذیلی فرقے بنتے چلے گئے۔ خوارج کے اندر یہ عمل بہت زیادہ ہو، اہل تشیع کے اندر اس سے کچھ کم جبکہ اہل سنت میں سب سے کم جن کے ذیلی فرقے نسبتاً مقامی رہے۔

ان فرقوں کی تاریخ کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ عہد بنو امیہ اور بنو عباس میں یونانی کتب کے تراجم عربی میں ہوئے۔ ان کتب میں جہاں یونان کی سائنس اور سماجی علوم شامل تھے، وہاں مذہب اور الہیات کے میدان میں انہوں نے جو کچھ سوچا اور لکھا تھا، وہبھی عربی میں منتقل ہو گیا۔اس کے نتیجے میں نئی افکار پیدا ہوئیں اور نئے انداز میں سوچا جانے لگا جس کے نتیجے میں مختلف فرقے معتزلہ، اشاعرہ، ماتریدیہ پیدا ہوئے۔وقت گزرنے کے ساتھ جب ان کے وہ مسائلہی زندہ نہ رہے جن میں یہ اختلاف کیا کرتے تھے تو پھر ان مسالک کی اپنی افادیت ہی ختم ہو گئی اور ان کی بحثیں ان کتابوں میں دفن ہو گئیں جن کا مطالعہ اب صرف چند ہی لوگ کیا کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے فرقے پیدا ہوئے اور ختم ہوتے چلے گئے۔

اب سے دو سو برس پہلے جب مسلم دنیا سیاسی طور پر زوال پذیر ہوئی اور ان کے علاقے کے بڑے حصے پر مغربی طاقتوں نے قبضہ کر لیا توانہوں نے Divide and Rule کی پالیسی اختیار کی۔ دوسری طرف زوال کے نتیجے میں مسلمانوں کے ہاں اخلاقی انحطاط پیدا ہوا۔ اس کے نتیجے میں بہت سے فرقے اور گروہ پیدا ہوئے جو اب بھی باقی ہیں۔ مغربی طاقتوں کے غلبے کے نتیجے میں رد عمل کی بہت سی سیاسی، عسکری، دعوتی اور علمی و فکری تحریکیں پیدا ہوئیں جن کے نتیجے میں بہت سے گروہ پیدا ہوئے۔ انہیںفرقہ کہنا تو غلط ہو گا مگر چونکہ یہ منظم گروہوں کی شکل اختیار کر گئے، اس وجہ سے انہیں امت کے اندر "امتیازی گروہ" کی حیثیت سے شناخت کیا جا سکتا ہے۔

اس کتاب میں ہم موجودہ مسلم دنیا میں موجودہ دور کےزندہ فرقوں کے عقائد و تصورات اور دلائل تک ہی خود کو محدود رکھیں گے۔

مسلم فرقوں، مسالک اور گروہوں کی تقسیم کی بنیادیں

وہ لوگ جو خود کو "مسلم" کہتے ہیں، ان کے مختلف گروہوں کو مختلف مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ان بنیادوں میں مذہبی عقائد، امتیازی مذہبی اعمال، مذہبی تحریک اور فقہی مسلک شامل ہیں۔

مذہبی عقائد اور اعمال کی بنیاد پر تقسیم

مذہبی عقائد اور مخصوص اعمال کی بنیاد پر امت مسلمہ کے بنیادی فرقے دو ہیں: اہل سنت اور اہل تشیع۔ اس کے بعد ان میں سے ہر ایک کے ذیلی فرقے اور گروہ ہیں۔

1.  اہل سنت: انہیں بنیادی طور پر تین طریقے سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

1.1.               سلفی اور غیر سلفی گروہ: برصغیر میں یہ تقسیم بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث کی شکل میں نظر آتی ہے اور بقیہ عالم اسلام میں یہ سلفی اور غیر سلفی گروہوں کی صورت میں موجود ہے

1.2.               صوفی اور غیر صوفی گروہ: صوفی گروہوں میں ان کے مختلف سلسلے شامل ہیں، ان کے علاوہ ایک گروہ وہ بھی ہے جو مروجہ تصوف کواسلام کے ساتھ ہم آہنگ نہیں سمجھتا ہے

1.3.               روایت پرست اور جدت پسند گروہ: اس میں متعدد گروہ پائےجاتے ہیں۔

2.  اہل تشیع: ان کے متعدد گروہ ہیں۔

2.1.                اثنا عشری

2.2.                اسماعیلی یا آغا خانی

2.3.                زیدی

2.4.                علوی، دروز اور دیگر فرقے

3.  اباضی: یہ اہل سنت اور اہل تشیع دونوں سے ہٹ کر ہیں۔

4.  منکرین سنت و حدیث

5.  دیگر مذہبی گروہ جو خود کو مسلمان سمجھتے ہیں مگر مسلمان انہیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں جیسے احمدی، بہائی وغیرہ۔

مذہبی تحریکوں کی بنیاد پر بننے والے گروہ

امت مسلمہ کی تاریخ اصلاحی تحریکوں سے بھری پڑی ہے۔ان میں سے بہت سی تحریکیں مختلف ادوار میں پیدا ہوئیں اور تاریخ میں اپنا کردار ادا کر کے ختم ہو گئیں۔ پچھلے دو سو برس میں مسلم دنیاکے زوال کے نتیجے میں ان میں زبردست رد عمل پیدا ہوا جس نے جلد ہی تحریکوں کی شکل اختیار کر لی۔ اس کتاب میں امت مسلمہ کی تاریخ کی تمام تحریکوں کا احاطہ کرنا مقصود نہیں ہے۔ یہاں ہم صرف موجودہ دور میں موجود تحریکوں کا جائزہ پیش کریں گے۔اس وقت مسلم دنیا میں موجود تحریکوں کواس طریقےسے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

1.  احیائے اسلام کی تحریکیں اور جماعتیں

1.1.               انقلابی تحریکیں جیسے انقلاب ایران کی تحریک، قدیم اخوان المسلمون، حزب التحریروغیرہ

1.2.               موجود نظام کے اندر رہ کر کام کرنے والی سیاسی تحریکیں جیسے مصر اور لیوانٹ (شام، اردن، فلسطین اور لبنان) کی جدید اخوان المسلمون،برصغیر کی جماعت اسلامی ، ترکی کی اسلامی تحریک، انڈونیشیا کی محمدی تحریکوغیرہ

1.3.               مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والی عسکری تحریکیں جیسے افغانستان و پاکستان کے طالبان، انڈونیشیا اور فلپائن کے مسلح گروہ، چیچنیا کی تحریکوغیرہ

2.  تبلیغی و دعوتی تحریکیں جیسے برصغیر کی تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی وغیرہ

3.  علمی ، فکری اور تعلیمی تحریکیں جیسے برصغیر میں تحریک علی گڑھ، ندوۃ العلماء، مدرسۃ الاصلاح وغیرہ

فقہی مسالک کی بنیاد پر بننے والے گروہ

انہیں فرقہ کہنا مناسب نہ ہو گا البتہ یہ مختلف مکاتب فکر ہیں جو تاریخ کے مختلف ادوار میں فرقہ کی شکل اختیار کر گئے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اکٹھے رہنا سیکھ لیا۔آج کل یہ فرقہ کی حیثیت سے نہیں بلکہمحض مکتب فکر کی حیثیت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کے اختلافات میں بہت زیادہ شدت نہیں ہے۔ ابتدائی صدیوں میں بہتسےفقہی مسالک پیدا ہوئے اور ختم ہو گئے۔ موجودہ دور میں یہ فقہی مکاتب فکر ہیں جو اپنے اپنے علاقے میں موجود ہیں۔ ان میں سے پہلے پانچ کا تعلق اہل سنت سے ہے جبکہ بقیہ اہل تشیع اور اباضی گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

1.  حنفی

2.  مالکی

3.  شافعی

4.  حنبلی

5.  ظاہری

6.  جعفری

7.  زیدی

8.  اباضی

انہی گروہوں کی بنیاد پر ہم نے اس پروگرام کے مختلف ماڈیولز کو ترتیب دیا ہے۔ ان گروہوں کے اختلافی امور پر یہ بحثیں ویسے تو بلا مبالغہ ہزاروں بلکہ شاید لاکھوں صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔ انہیں ایک کتاب میں سمونا ایک مشکل کام تھا، جس سے اس کتاب کے غیر معمولیطور پر طویل ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ اس وجہ سے اس کتاب کو ہم نے مختلف ماڈیولز میں تقسیم کر دیا تاکہ جو صاحب جس ماڈیول میں دلچسپی رکھتے ہوں، وہ اسی کا مطالعہ کر لیں۔ ماڈیولز کی تقسیم کچھ اس طرح ہے:

       ماڈیول CS01: اہل سنت، اہل تشیع اور اباضی مسلک

       ماڈیول CS02: سلفی (اہل حدیث) اور غیر سلفی (جیسے سنی بریلوی اور سنی دیوبندی)

       ماڈیول CS03: اسلام کا دعوی کرنے والے مخصوص اقلیتی مذہبی گروہ

       ماڈیول CS04: فقہی مکاتب فکر

       ماڈیول CS05: اہل تصوف اور ان کے ناقدین

       ماڈیول CS06: مسلم دنیا میں سیاسی ، عسکری، دعوتی اور علمی و فکری تحریکیں

       ماڈیول CS07: روایت پسندی، جدت پسندی اور معتدل جدیدیت ۔۔۔ فکری، ثقافتی،معاشی، قانونیاور سماجی مسائل

اوپر بیان کردہ تمام گروہوں میں سے ہر ایک کے اندر اعتدال پسند اور انتہا پسند دونوں اقسام کے لوگ پائے جاتے ہیں۔انتہا پسند اپنے نقطہ نظر کو شدت سے پیش کرتے ہیں اور اس سے اختلاف کو برداشت نہیں کرتے جبکہ اعتدال پسند اپنے نقطہ نظر پر قائم رہتے ہوئے دوسرے نقطہ ہائے نظر کے وجود کو برداشت کر لیتے ہیں اور دوسرے گروہوں سے مکالمہ جاری رکھتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک ہی گروہ کے اعتدال پسند اور انتہا پسند آپس میں ایک دوسرے کی تنقید کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔

اس کتاب میں ہم مختلف مذہبی گروہوں اور فرقوں کے عقائد، امتیازی اعمال ، طرز فکر اور دلائل کا تقابلی مطالعہ کریں گے اور ان کے باہمی تعلقات کا جائزہ لیں گےلیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ ہم علم الکلام سے متعلق چند اساسی مباحث کا مطالعہ کریں۔

علم الکلام یا تقابلی مطالعہ کا تعارف

امت مسلمہ کے تقریباً تمام فرقوں، مسالک اور مکاتب فکر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دین اسلام کا ماخذ صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی ذات والا صفات ہے۔ آپ سے یہ دین ہمیں دو صورتوں میں ملا ہے، ایک قرآن مجید اور دوسری آپ کی قائم کردہ مثال جسے سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔کم از کم قرآن مجید پر سبھی فرقوں کا اتفاق ہے۔ سنت کی تفہیم اور تحقیق سے متعلق ان کے ہاں کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس سے ہٹ کر بعض فرقے دین کے کچھ اور مآخذ بھی مانتے ہیں جن کی وجہ سے ان کی راہیں مین اسٹریم مسلمانوں سے جدا ہو جاتی ہیں۔ انہی مذہبی فرقوں کے عقائد و نظریات اور دلائل کے مطالعےکے علم کو علم الکلام کہا جاتا ہے۔

علم الکلام وہ علم ہے جس میں مختلف گروہوں کے مذہبی عقائد اور ان کے دلائل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔قرون وسطی میں اس علم کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اپنے سے مختلف گروہوں کے نظریات اور ان کے دلائل کا جائزہ لیا جائے، پھر ان کی تردید کر کے اپنے نقطہ نظر کو ثابت کیا جائے۔علامہ سعد الدین تفتازانی (722-792/1322-1390) لکھتے ہیں:

هو العلم بالعقائد الدينية عن الأدلة اليقينية.

"یہ یقینی دلائل سے دینی عقائد کا علم ہے۔ " (تہذیب الکلام)

مشہور ماہر عمرانیات و بشریات، ابن خلدون (732-808/1332-1406) اپنے مشہور زمانہ "مقدمہ" میں لکھتے ہیں:

هو علم يتضمن الحجاج عن العقائد الإيمانية بالأدلة العقلية و الرد على المبتدعة المنحرفين في الاعتقادات عن مذاهب السلف و أهل السنة.

"(علم الکلام) وہ علم ہے جو عقائد ایمانیہ کو عقلی دلائل کے ساتھ ثابت کرنے والی حجتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں اسلاف اور اہل سنت کے نقطہ نظر کے اعتقادات سے منحرف ہونے والے بدعتی فرقوں پر رد بھی شامل ہوتا ہے۔"

چونکہ اپنے عقائد کو ثابت کرنے کے لئے بحث و مناظرہ کیا جاتا تھا، جس میں بہت زیادہ گفتگو ہوتی تھی، اس وجہ سے اس علم کا نام ہی "علم الکلام" پڑ گیا۔اس کے برعکس انگریزی میں اسے Theology کہا گیا جس کا ترجمہ اردو اور فارسی میں "الہیات" کے نام سے کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور اس سے متعلق امور سے متعلق بحث ہے۔واضح رہے کہ مسلمانوں کے ہاں تھیالوجی یا الہیات اب علم الکلام کا محض ایک حصہ ہے ورنہ اس میں اور بھی بہت سے مضامین شامل ہو گئے ہیں۔

علم الکلام کے دائرے میں آنے والے مباحث

علم الکلام میں جو مسائل زیر بحث آتے ہیں، وہ بنیادی طور پر دو اقسام کے ہیں:

       مختلف مذاہب اور فلسفوں کے درمیان پیش آنے والے اختلافی مسائل: جیسے کیا اس کائنات کا کوئی خدا موجود ہے؟ کیا آخرت کا وجود ہے؟ کیا ہماری موت کے بعد کوئی اور زندگی ہے؟ کیا نبوت و رسالت برحق ہے؟ کون سچا نبی ہے اور کون جھوٹا؟کیا نبوت ختم ہو چکی ہے یا اب بھی جاری ہے؟ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟مذہب ضروری ہے یا نہیں؟ اس موضوع پر تفصیلی مطالعہتو اصلاً مذاہب کے تقابلی مطالعہ کے تحت آنا تھا مگر چونکہ مسلمانوں کے اندر بھی ایک طبقہ ان سوالات پرغور کرتا ہے، اس وجہ سے ہم نے ان مسائل کو ماڈیول CS07 میں بیان کیا ہے۔

       ایک ہی مذہب مثلاً اسلام کے مختلف فرقوںکے مابین اختلافات: جیسے مسلمانوں کے مابین یہ سوالات کہ کیا قرآن اور سنت ہی دین کا ماخذ ہیں یا ان کے علاوہ کوئی اور ماخذ بھی ہے؟ کیا اللہ کے سوا کسی اور سے مافوق الفطرت طریقے سے مد دمانگی جا سکتی ہے؟ کیا اللہ تعالی کے نیک بندوں کو بعد از وفات کوئی اختیارات حاصل ہوتے ہیں؟†† صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کا باہمی تعلق کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ان سوالات کا مطالعہ ہم ماڈیول CS01 اور CS02 میں کریں گے۔

       مآخذ دین کی بنیاد پر اختلافات: بعض گروہوں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ سنت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اسی طرح بعض گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور شخصیت کو بھی نبی مانتے ہیں۔ ان کے نقطہ نظر کا اسلام سے تقابل ہم ماڈٰیول CS03 میں کریں گے۔

       فقہی اور فروعی اختلافات: یہ زیادہ فقہی امور ہوتے ہیں جیسے نماز میں رفع یدین کیا جائے یا نہیں؟ قیاس اور استحسان کا استعمال درست ہے یا نہیں؟ ان کا تفصیلی مطالعہ ہم ماڈیول CS04 میں کریں گے۔

       روحانی امور سے متعلق اختلافات: جیسے کیا انسان کا روحانی رابطہ براہ راست اللہ تعالی کے ساتھ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ شریعت اور طریقت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ان امور کا مطالعہ ہم ماڈیول CS05 میں کریں گے۔

       دینی تحریکیں: دین کی روشنی میں ایک معاشرہ تشکیل دینے کے لیے جدوجہد کیسے کی جائے؟ بعض مفکرین کا خیال تھا کہ اس کے لیے سیاسی جدوجہد کرنا اہم ہے۔ بعض کے نزدیک عسکری، بعض کے نزدیک دعوتی اور بعض کے خیال میں فکری و علمی جدوجہد زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔ان کا تفصیلی مطالعہ ہم ماڈیول CS06 میں کریں گے۔

       روایت و جدیدیت کی بنیاد پر اختلافات: دور جدید کو اسلام سے کس طرح ہم آہنگ کیا جائے؟ اس سوال کے جواب میں مختلف مکاتب فکر بنے، جن کا تفصیلی مطالعہ ہم ماڈیول CS07 میں کریں گے۔

مسلمانوں کے مختلف گروہوں اور فرقوں کےمابین مختلف دینی مسائل میں اختلافات کے نتیجے میںمسلمانوں کا اندرونی علم الکلام وجود میں آیا۔ یہی معاملہ عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں، بدھوں اور دیگر مذاہب کے اندرونی فرقوں کا ہے۔ ان سب کا اپنا اپنا علم الکلام ہے جو ان کے مذہبی نصاب کا حصہ ہے۔ اس سیریز میں ہم مسلمانوں کے اندرونی اختلافات کا مطالعہ کریں گے جبکہ بین المذہبی علم الکلام کا مطالعہ انشاء اللہ ہم ایڈوانسڈ لیول پر کریں گے۔

جدید اور قدیم علم الکلام میں فرق

جدید اور قدیم علم الکلام میں جوہری نوعیت کا فرق پیدا ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرون وسطی میں علم الکلام کے مسائل کچھ اور تھے، اب یہ بڑی حد تک تبدیل ہو چکے ہیں۔مثال کے طور پر قرون وسطی میں قدیم (یعنی ازلی اور ہمیشہ سے موجود رہنے والا) اور حادث (بعد میں کسی وقت وقوع پذیر ہونے والا) سے متعلق مسائل بڑی اہمیت رکھتے تھے۔ محدثیناور معتزلہ کے درمیان جب یہ اختلاف درپیش ہوا کہ قرآن قدیم ہے یا حادث تو ان میں بڑے معرکے برپا ہوئے۔ بادشاہ وقت مامون الرشید (reign 197-217/813-833) معتزلہ کے نقطہ نظر کا حامی تھا۔ اس نےمحدثین جن کے سرخیل امام احمد بن حنبل (164-241/780-855) تھے، کو کوڑوں سے پٹوایا اور قرآن کے حادث ہونے کو ماننے پر انہیں زبردستیمجبور کیا۔ بعد میں معتزلہ ہی میں سے امام ابو الحسن اشعری (260-324/874-936)پیدا ہوئے جنہوں نے معتزلہ کے عقائد سے تائب ہو کر ان کی اپنی زباناور اصطلاحات میں ان کی تردید کی۔

دور جدید میں یہ مسائل زندہ نہیں رہے اور ان مسائل کی وجہ سے جو فرقے ظہور پذیر ہوئے، وہ بھی باقی نہ رہے۔ اس دور میں جو فرقے زندہ ہیں ، علم الکلام کا انحصار بھی انہی کے گرد گھومتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں ہم نے قرون وسطی کے علم الکلام کی بجائے جدید علم الکلام سے بحث کی ہے۔ہمارے دینی مدارس میں عامطور پر قرون وسطی کے علم الکلام کی کتب جیسے شرح عقائد نسفی وغیرہ پڑھائی جاتی ہیں۔ اس سے طلباء اس دور کے مسائل اور ان کے دلائل سے واقف تو ہو جاتے ہیں مگر جب وہ عالم دین بن کر میدان عمل میں اترتے ہیں تو لوگ ان سے بالکل ہی مختلف سوالات کرتے ہیں جن کے جواب دینے کے لئے انہیں پوری تیاری نہیں کروائی گئی ہوتی۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ اس سیریز کے ذریعے یہ کمی پوری کر دی جائے۔


تقابلی مطالعہ کا طریق کار

ہمارے ہاں عام طور پر تقابلی مطالعہ کے طریق کار کی تربیت نہیں دی جاتی ہے۔ اگر یہ تربیت فراہم کر دی جائے تو اس کے نتیجے میں تقابلی مطالعہ سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہاں ہم کچھ تجاویز پیش کر رہے ہیں جن سے آپ کو تقابلی مطالعہ میں مد دمل سکے گی۔

       جب آپ کسی فرقہ کے نقطہ نظر کا مطالعہ کر رہے ہوں تو کچھ دیر کے لیے خود کو اسی میں شامل سمجھ لیجیے۔ خود کو اس فرقہ کے لوگوں کی جگہ رکھ کر سوچیے۔ ضروری نہیں کہ آپ ہمیشہ کے لئے اس مسلک کو مان لیں مگر اس طریقے سے آپ کو ان کے استدلال (دلائل پیش کرنا) سے صحیح آگاہی حاصل ہو سکے گی۔

       اس کے بعد جب آپ مختلف رائے رکھنے والے دوسرے فرقے کا مطالعہ کریں تو اس میں بھی یہی طریقہ اختیار کیجیے کہ آپ ان میں شامل ہیں۔

       فریقین کا اس طریقے سے مطالعہ کرنے کے بعد اب خود کو غیر جانبدار کر لیجیے۔ غور کیجیے کہ پہلے فریق نے کیا دلائل پیش کیے اور دوسرے فریق نے ان کا جواب کیا دیا۔ پھر اس پر غور کیجیے کہ دوسرے فریق کے دلائل کیا تھے اور پہلا فریق ان کا کیا جواب پیش کرتا ہے۔

       فریقین کے دلائل میں مضبوط اور کمزور نکات نوٹ کر لیجیے۔

       آخر میں جس فریق کے دلائل مضبوط نظر آئیں، اس کے نقطہ نظر کو اختیار کر لیجیے۔

       کوئی نقطہ نظر اختیار کر لینے کے بعد بھی اپنا ذہن کھلا رکھیے اور اس بات کے لیے تیار رہیے کہ اگر مستقبل میں آپ کے سامنے درست بات واضح ہو گئی تو آپ اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنے میں دیر نہ لگائیں گے۔ اپنی وابستگی حق کے ساتھ رکھیے نہ کہ کسی مخصوص فرقہ کے ساتھ۔

       اگر دونوں فریقوں کے دلائل آپ کو مضبوط نہ لگیں تو اس ضمن میں توقف کیجیے اور کسی تیسرے نقطہ نظر کی تلاش کیجیے۔

پروگرام میں استعمال ہونے والے رموز و علامات

قرآن و حدیث کے حوالہ جات

اس سلسلہ ہائے کتب میں قرآن مجید کی آیات کو گہرے نیلے رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے اور آیات کا حوالہ"البقرۃ 2:124" کے فارمیٹ میں دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے سورۃ نمبر 2 کی آیت نمبر 124۔

احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے ہم نے†† ٹیکسٹ "مکتبہ مشکاۃ الاسلامیہ" کا استعمال کیا ہے اور اس کی درستگی کی ذمہ داری انہی کی ہے۔ ہم نے متعلقہ کتاب، اس کے اندر متعلقہ کتاب (جیسے کتاب الایمان وغیرہ) اور حدیث نمبر کا حوالہ دیا ہے۔ یہ نمبر مکتبہ مشکاۃ کی نمبرنگ کے مطابق ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو ورڈ فارمیٹ میں کتب حدیث خود بھی یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس سے آپ کو متعلقہ احادیث کی تلاش میں آسانی ہو گی: http://www.almeshkat.net/books

تواریخ کے فارمیٹ

اس کتاب میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ جن اہل علم کا ذکر ہو ، ان کےسن پیدائش اور سن وفات کو بھی بیان کر دیا جائے تاکہ ان کے زمانہ کا اندازہ ہو سکے۔اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص کو اس کے زمانے کے ماحول (Ethos) کے پس منظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے ہم نے یہ فارمیٹ استعمال کیے ہیں:

       عام طور پر اہل علم اور دیگر شخصیات کے سامنے مثلاً (40-150/660-750) کے اسلوب میں تاریخیں لکھیں ہیں جو متعلقہ شخصیت کے سن پیدائش اور سن وفات کو بیان کرتی ہیں۔ ان میں بائیں جانب والی تواریخ ہجری کیلنڈر کی ہیں اور دائیں جانب والی تواریخ عیسوی کیلنڈر کی۔ اس مثال میں دی گئی شخصیت 40 ہجری میں پیدا ہوئی اور 150 ہجری میں فوت ہوئی۔ اگر عیسوی کیلنڈر کا اعتبار کیا جائے تو وہ شخصیت 660 عیسوی میں پیدا ہو کر 750 عیسوی میں فوت ہوئی۔

       اگر کسی شخص کی تاریخ پیدائش نہیں مل سکی تو محض تاریخ وفات بیان کرنے کے لیے (d. 380/990) کا فارمیٹ استعمال کیا ہے۔ اسی طرح زندہ شخصیات کے لیے (b. 1950) کا فارمیٹ استعمال کیا ہے جو ان کے سن پیدائش کو ظاہر کرتا ہے۔

       اگر کسی کتاب کا سن طباعت بیان کیا ہے تو اسے (p. 1986) کے فارمیٹ میں بیان کیا ہے۔

       اگر کسی حکمران کا دور بیان کیا تو اسے (reign 13-23/635-645) کے فارمیٹ میں بیان کیا ہے۔

       ان تمام تواریخ میں ہجری اور گریگورین کیلنڈر معلوم کرتے وقت ایک سال کی غلطی کی گنجائش موجود ہے۔

       اگر کوئی تاریخ صحیح تعین کے ساتھ موجود نہیں تھی اور اندازہ موجود تھا تو (c. 380/990) کا فارمیٹ اختیار کیا گیا ہے۔

       اگر کوئی تاریخ ہجری کیلنڈر کے آغاز سے پہلے کی ہے، تو اسے بیان نہیں کیا گیا۔ خاص کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تاریخ پیدائش میں یہ معاملہ رہا ہے۔ ایسی صورت میں ہم نے (599-661/40H) کا فارمیٹ اختیار کیا ہے۔ اس میں بائیں جانب کی تواریخ عیسوی کیلنڈر کی ہیں اور دائیں جانب ہجری کیلنڈر کی۔

       ماضی قریب کی تواریخ میں طوالت سے بچنے کے لیے ہجری کیلنڈر کا اہتمام نہیںکیا گیا اور مثلاً (1950-2010) کے فارمیٹ میں سن پیدائش اور سن وفات بیان کیے گئے ہیں۔ تاہم جو لوگ ہجری کیلنڈر کی تواریخ جاننا چاہیں، وہ بآسانی اس لنک سے ان تواریخ کو ہجری کیلنڈر میں تبدیل کر سکتے ہیں: http://www.islamicfinder.org/dateConversion.php

اہم نوٹ: ان تمام تواریخ کا ماخذ مختلف ویب سائٹس خاص کر "وکی پیڈیا" ہے جس کی صحت کے بارے میں گارنٹی دینا مشکل ہے۔ اگر قارئین ان میں کوئی غلطی دیکھیں تو برائے کرم اصلاح فرما دیں۔

کوٹیشن کا فارمیٹ

اس کتاب میں جہاں ہم نے کسی اور کتاب کی کوٹیشن دی ہے، تو اسے چھوٹے فانٹ میں لکھا ہے اور دائیں بائیں سے کچھ جگہ (Indent) چھوڑ دی ہے۔ اس کوٹیشن کے اندر اگر ہم نے کوئی وضاحتی الفاظ یا جملے لکھے ہیں توبڑی بریکٹ [†† ] استعمال کی ہیں تاکہمتعلقہ مصنف کی بات میں وہ شامل نہ سمجھی جائے۔اس کوٹیشن میں اگر کہیں چھوٹی بریکٹ () میں الفاظ ہیں ، وہ متعلقہ مصنفین کے اپنے ہیں۔

ہم نے کوشش کی ہے کہ حوالہ دیتے وقت "شکاگو مینوئل آف اسٹائل"، جو کہ دنیا بھر کی تحقیقی تحریروں میںرائج ہے، کے مجوزہ فارمیٹ کو اختیار کریں لیکن بہت سے مقامات پر ایڈیشن، ناشر وغیرہ سے متعلق معلومات نہ ہونے کے سبب آپ کو اس کی مکمل پابندی نہ مل سکے گی۔ یہی معاملہ ہر کتاب کے آخر میں دی گئی ببلیو گرافی کا ہے۔

 

ایڈمیشن کی شرائط اور کورس کا طریقہ کار

اس کورس کا مقصد آپ کو ذاتی سطح پر (Personalized) تعلیمی خدمت فراہم کرنا ہے۔ایڈمیشن کا طریقہ کار بالکل سادہ ہے۔ نیچے دیے ہوئے لنک سے رجسٹریشن فارم ڈاؤن لوڈ کر کے mubashirnazir100@gmail.com پر بھیج دیجیے۔ آپ کو کورس بکس اور متعلقہ استاذ کا ای میل ایڈریس فراہم کر دیا جائے گا۔ روزانہ بنیادوں پر آپ کو ایک سبق کا از خود مطالعہ کرنا ہو گا اور اس ضمن میں جو سوالات پیدا ہوں، انہیں بذریعہ ای میل اپنے استاذ کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔اگر ضرورت محسوس ہوئی تو آپ بذریعہ Skype یا Gmail آن لائن رابطہ کر کے بھی اپنے سوالات ڈسکس کر سکیں گے۔ آپ کا استاذ سے ون ٹو ون تعلق اس کورس میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ہو گا۔

ہر ہفتے، آپ کو ایک پراگریس رپورٹ بھیجنا ہو گی جس میں اس ہفتے میں کیے گئے مطالعے کی تفاصیل فراہم کرنا ہوں گی۔ جیسے ہی آپ ایک ماڈیول ختم کریں گے، ایک مختصر سا امتحان لیا جائے گا جس کے بعد آپ اگلے ماڈیول کا آغاز کریں گے۔

پروگرام کی فیس

اس پروگرام میں شرکت کی فیس یہ ہے کہ آپ جو رقم ہر ماہ آسانی سے نکال سکیں، وہ آپ اپنے قریب کسی ایسے ضرورت مند شخص کو ادا کریں گے، جو کہ پیشہ ور بھکاری نہ ہو بلکہ محنت و مشقت کرتا ہو مگر اس کے اخراجات پورے نہ ہو پاتے ہوں۔ اپنی پراگریس رپورٹ میں ہر ماہ آپ یہ کنفرمیشن دیں گےکہ آپ نے فیس ادا کر دی ہے۔ اگر آپ فیس ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں توکوئی مسئلہ نہیں ہے۔

پروگرام سے متعلق عام پوچھے جانے والے سوالات (Frequently Asked Questions)

اس پروگرام سے متعلق عام پوچھے جانے والے سوالات کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

 

 

اس تعارف کو PDF فارمیٹ میں ڈاؤن لوڈ کر کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

تفصیلی مضامین کی فہرست کے لیےیہاں کلک کیجیے۔

رجسٹریشنفارم ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

 

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام/علوم القرآن پروگرام /قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں /علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle /Empirical Evidence of Godís Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: customizable counter