بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Islamic Studies Program

Knowing is not enough, we must apply!

علوم اسلامیہ پروگرام

علم کافی نہیں ہے، اسے استعمال کرنا ضروری ہے

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

New articles and books are added this website on 1st of each month.

Home

علوم القرآن پروگرام

عام پوچھے جانے والے سوالات

 

Click here for the English Version

 

رجسٹریشن فارم ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

پروگرام کے تعارف کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

قارئین اور طلباء عام طور پر جو سوالات پوچھتے ہیں، ان کے جواب یہاں درج کیے جا رہے ہیں۔جو طلباء و طالبات ایڈمیشن لے چکے ہیں، ان کے پوچھے جانے والے سوالات کے جواب بھی ہم یہاں درج کر رہے ہیں۔

ایڈمیشن سے پہلے کے سوالات

جن احباب نے اس پروگرام کے صرف تعارف کا مطالعہ کیا ہے، وہ عام طور پر یہ سوالات پوچھتے ہیں:

سوال: علوم القرآن پروگرام کا مقصد کیا ہے؟

جواب: اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ جو طالب علم قرآنی علوم کا گہرائی میں جا کر مطالعہ کرنا چاہیں، انہیں ایک منظم (Systematic) انداز میں مطالعہ کے وسائل اور طریق کار فراہم کر دیا جائے اور ان کے ذہنوں میں جو سوالات پیدا ہوں، ان کا بروقت جواب دے دیا جائے۔

 

سوال: یہ پروگرام کن لوگوں کے لیے ہے اور اس میں داخلے کی شرائط کیا ہیں؟

جواب: یہ پروگرام ان لوگوں کے لیے ہے، جو قرآن کریم کے معانی اور اس سے متعلقہ علوم کا گہرائی میں مطالعہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ آپ خواہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم، یا آپ کا تعلق مسلمانوں کے کسی بھی مسلک اور فرقے سے ہے، آپ اس پروگرام میں بلا تکلف شریک ہو سکتے ہیں۔ ہماری کوشش ہو گی کہ آپ کے نقطہ نظر کا پورا احترام کیا جائے اور کوئی ایسی بات نہ کہی جائے جس سے آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔

اس پروگراممیں داخلے کی شرط ایک ہی ہے۔ رجسٹریشنفارم پر کر کے اس ای میل پر بھیج دیجیے:

mubashirnazir100@gmail.com

آپ کو متعلقہ کتب اور ریڈنگ میٹریل فراہم کر دیا جائے گا۔

 

سوال: یہ پروگرام کن لوگوں کے لیے نہیں ہے؟

جواب: یہ پروگرام ان لوگوں کے لیے نہیں ہےجو قرآن مجید سے متعلق علوم کے تفصیلی مطالعے میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں یا مطالعے کا ذوق نہ رکھتے ہوں۔

چونکہ اس پروگرام میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کی تفاسیر کا تقابلی مطالعہکیا جا رہا ہے، اس وجہ سے ضروری ہے کہ آپ اپنے سے مختلف رائے کو کھلے ذہن سے پڑھنے پر آمادہ ہوں۔ اگر اپنےسے مختلف رائے کو پڑھتے ہوئے آپ کو مشکل ہوتی ہےیا آپ غصہ محسوس کرتے ہیں تو یہ پروگرام آپ کے لیے نہیں ہے۔

اس پروگرام میں آپ کا کافی مطالعہ کرنا پڑے گا۔ اگر آپ کو مطالعے کی عادت نہیں ہے اور موٹی موٹی کتب آپ کو خوفزدہ کر دیتی ہیں، تب بھی یہ پروگرام آپ کے لیے نہیں ہے۔

 

سوال: اس پروگرام کی فیس کیا ہے؟

جواب: اس پروگرام کی کوئی فیس ہم وصول نہیں کرتے البتہ طلباء میں کمٹمنٹ پیدا کرنے کے لیے کچھ فیس رکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ جتنی رقم ہر ماہ با آسانی سے اد اکر سکتے ہیں، وہ اپنے قریب کسی بھی ضرورت مند،جو پیشہ ور بھکاری نہ ہو،کو نہایت ہی عزت و احترام کے ساتھ ادا کر دیجیے اور اپنی پراگریس رپورٹ میں یہ بتا دیجیے کہ آپ نے فیس ادا کر دی ہے۔

 

سوال: کم از کم کتنی فیس ادا کرنا ضروری ہے؟

جواب: اس کا انحصار آپ کی آمدنی پر ہے۔ جو رقم آپ آسانی سے ہر ماہ نکال سکیں، فیس کی مد میں کسی ضرورت مند کو ادا کر دیجیے۔

 

سوال: آپ نے اس پروگرام میں شریک ہونے کی فیس کیوں رکھی ہے؟ جو لوگ فیس ادا نہیں کر سکتے، وہ کیا کریں؟

جواب: فیس رکھنے کے دو مقاصدہیں: ایک تو یہ کہ طلباء و طالبات میں اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت پیدا کی جائے۔ہم اس بات کی عادت اس پروگرام کے شرکاء میں پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی آمدنی میں اپنے ان بہن بھائیوں کو بھی شریک کریں، جو کسی وجہ سے معاش کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔یوں سمجھ لیجیے کہ آپ اس فیس کو اپنے آخرت کے بینک میں ڈپازٹ کر رہے ہیں جہاں آپ کوآپ کی نیت کے مطابق ہزاروںلاکھوں گنا منافع کے ساتھ اس کا بدلہ ملے گا۔

دوسری وجہ یہہے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہفیس ادا کرنے سے طالب علم عام طور پر اپنی پڑھائی میں ریگولر ہو جاتے ہیں اور ذمہ داری سے مطالعہ کرتے ہیں۔

جو طلباء و طالبات فیس ادا کرنے سے قاصر ہیں، ہم اس پر ان سے اصرار نہیں کرتے۔ تاہم اگر وہ بالکل ہی معمولی سی رقم جیسے دس بیس روپے بھی ادا کر سکیں تو اس سے انفاق فی سبیل اللہ کی عادت پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

 

سوال: اس پروگرام کو کون لوگ چلا رہے ہیں اور ان کا مسلک کیا ہے؟

جواب: اس پروگرام کو چلانے والے کسی مخصوص مسلک سے وابستہ نہیں ہیں اور خود کو صرف اسلام سے وابستہ سمجھتے ہیں۔ان میں یہ لوگ شامل ہیں:

پروفیسر محمد عقیل: عقیل کراچی کے ایک کالج میںپڑھاتے ہیں اور اپنا اضافی وقت دینی سرگرمیوں میں بسر کرتے ہیں۔ ان کے تفصیلی تعارف کے لیے ان کی ویب سائٹ وزٹ کی جا سکتی ہے۔

http://aqilkhans.wordpress.com/

محمد مبشر نذیر: مبشر کا تعلق جہلم، پاکستان سے ہے اور وہ ان دنوں جدہ میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کا تفصیلی تعارف اس لنک پر موجود ہے:

http://www.mubashirnazir.org/Mubashir%20Nazir.htm

یہ سب حضرات خود کو استاذ نہیںبلکہ طالب علم ہی سمجھتے ہیں اور دیگر طلباء و طالبات کے ساتھ اپنی معلومات شیئر کرنے کو ان کی خدمتقرار دیتے ہیں۔

 

سوال: اس پروگرام میں اب تک شریک ہونے والے طلباءو طالبات کس بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتے ہیں؟

جواب: اس پروگرام میں اب تک جو طلباء و طالبات ایڈمیشن لے چکے ہیں، وہ مختلفبیک گراؤنڈز سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں دینی مدارس اور جدید یونیورسٹیوںکے طلباء ، سول سرونٹ،پروفیشنلز اور عام ملازمت یا کاروبار کرنے والے احباب شامل ہیں۔ ان سب کی مشترک خصوصیت بس یہی ہے کہ یہ سب کھلا ذہن رکھتے ہیں اور انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔

 

سوال: اس پروگرام کی فائنانسنگ کیسے کی جا رہی ہے؟

جواب: اس پروگرام کے لیے کسی فائنانسنگ کی ضرورت نہیں ہے۔ تمام تفاسیر انٹرنیٹ پر پہلےسے ہی دستیاب ہیں۔ شرکاء نے اپنے فارغ وقت میں اسے ایک کورس کی شکل دے دی ہے۔یہ سب حضرات ملازمت پیشہ ہیں اور اس کورس کے لیے کوئی معاوضہ نہیں لیتے ہیں اور اپنا اضافی وقت اس کام کے لیے صرف کرتے ہیں۔

 

سوال: کیا یہ پروگرام کسی خاص مذہب یا مسلک کے لوگوں کے لیے ہے؟

جواب: جی نہیں۔ اس پروگرام سبھی مسالک سے تعلق رکھنے والے کھلے ذہن کے قارئین کے لیے ہے۔ اس میں ہم نے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مفسرین کی تفاسیر شامل کی ہیں تاکہ ان سب کا کھلے ذہن کے ساتھ تقابلی مطالعہ کیا جائے۔†† کسی معاملے میں ہم آپ سے اتفاق رکھتے ہوں یا اختلاف، ہماری کوشش یہ ہو گی کہ تمام کتب اور ای میل رابطے میں آپ کے نقطہ نظر کا پورا احترام کیا جائےاور کوئی ایسی بات نہ کہی جائے جس سے آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔

 

سوال: اس پروگرام میں ایڈمیشن کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: رجسٹریشن فارمڈاؤن لوڈ کر کے پر کیجیے اور mubashirnazir100@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ انشاء اللہ جلد سے جلد آپ کو کورس میٹریل فراہم کر دیا جائے گا۔ یا پھر اس لنک پر جا کر رجسٹریشن کروا لیجیے:

http://www.islamic-studies.info/?page_id=1209

 

سوال: جب تما م تفاسیر آن لائن دستیاب ہیں تو اس پروگرام کے لیے ایڈمیشن کی ضرورت کیوں ہے؟

جواب: ایڈمیشن کے چند فوائد ہیں:

      ورک بکس کی دستیابی، جن کی مدد سے آپ تفاسیر کے مطالعے کو منظم کر سکتے ہیں۔

      آن لائن استاذ کی دستیابی، جس سے آپ اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب فوری طور پر حاصل کر سکتے ہیں۔

      طلباء و طالبات کے ایک آن لائن گروپ میں شمولیت، جن سے آپ اپنے تجربات شیئر کر سکتے ہیں اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اگر ان فوائد کی آپ کو ضرورت نہیں ہے تو پھر آپ ایڈمیشنلیے بغیر ہی مطالعہ کر سکتے ہیں۔

 

سوال: آپ نے صرف مولانا صلاح الدین یوسف،سید ابو الاعلی مودودی،مفتی محمد شفیع عثمانی، پیر محمد کرم شاہ الازہری اور آیت اللہ مکارم شیرازی کی تفاسیر کا انتخاب کیوں کیا ہے؟

جواب: ان تفاسیر کا انتخاب کرتے ہوئے ہم نے ان اصولوں کو مدنظر رکھا ہے:

      تفسیر بہت زیادہ ایڈوانسڈ سطح کی نہ ہو بلکہ ایک عام پڑھا لکھا شخص اسے سمجھ سکتا ہو۔

      تفسیر آن لائن دستیاب ہو۔

      ہر مکتب فکر کی ایک ایک نمائندہ تفسیر کا انتخابکیا گیا ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ مختلف نقطہ ہائے نظر رکھنے والے افراد قرآن مجید کا مطالعہ کس نظر سے کرتے ہیں؟ یوسف صاحب کی تفسیر اہل حدیث مکتب فکر کی نمائندہ ہے جبکہعثمانی صاحب کی تفسیر دیوبندی ، پیر صاحب کی تفسیر بریلوی اور شیرازی صاحب کی تفسیر شیعہ مکتب فکر کی نمائندہ ہے۔مودودی صاحب کی تفسیر ان لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے جو کسی مخصوص مسلک سے وابستہ نہیں ہیں۔

      ایسی تفاسیر کا انتخاب کیا گیا ہے، جو نہ تو بہت طویل ہوں اور نہ ہی بہت مختصر۔

      ان تفاسیر کو اس کورس میں شامل کیا گیا ہے، جن میں دور جدید کےزندہ مسائل زیر بحث لائے گئے ہوں۔ قدیم طرز پر لکھی گئی تفاسیر سے اجتناب کیا گیا ہے۔

      ایسی تفاسیر کا انتخاب کیا گیا ہے، جن میں دوسرے نقطہ ہائے نظر سے اختلاف رائے کرتے ہوئے مہذب زبان استعمال کی گئی ہو اور طعن و تشنیع اور شدت پسندی سے پرہیز کیا گیا ہو۔ مصنفین نے اپنی آراء کو نہایت ہی مہذب اور دل نشیں انداز میں بیان کیا ہو۔

      ان تفاسیر کی زبان سادہ اور سلیس ہو اور ایک خاص ادبی معیار پر پورا اترتی ہو۔

 

سوال: اردو میں اور بھی تفاسیر جیسے علامہ ابن کثیر،مولانا محمد حنیف ندوی ، مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا عبدالقیوم حقانی، مولانا نعیم الدین مراد آبادی ، مفتی احمد یار خان نعیمی، علامہ غلام رسول سعیدی،مولانا وحید الدین خان ، علامہ جاوید احمد غامدی، ڈاکٹر محمد فاروق خان وغیرہم کی تفاسیر موجود ہیں۔ آپ نے ان میں سے کسی کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟ کیا آپ ان کے بارے میں متعصب ہیں؟

جواب: الحمد للہ ہم کسی مصنف یا ان کے مسلک کے بارے میں متعصب نہیں ہیں۔ان حضرات کی تفاسیر کو شامل نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہتفاسیر کا تقابلی مطالعہ کرتے وقت، پانچ سے زائد تفاسیر کو شامل کرنا ایک مشکل کام تھا۔ طلباء و طالبات کے لیے پانچ تفاسیر کا بوجھ ہی کافی زیادہ تھا۔اس کے علاوہ اوپر بیان کردہ تفاسیر کو شامل نہ کرنے کی مخصوص وجوہات بھی تھیں جو کہیہ ہیں:

      ابن کثیر (d. 774H/1372CE) کی تفسیر اب سے سات سو برس پہلے لکھی گئی جس کی وجہ سے یہ ان مسائل سے خالی ہے، جو موجودہ دور میں بہت اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ بہت ہی مفصل اور بڑی تفسیر ہے۔

      مولانا محمد حنیف ندوی کی تفسیر بہت مختصر ہے۔

      مولانا آزاد کی تفسیر آن لائن دستیاب نہیں ہو سکی اور دوسرے یہ کہ اس کی زبان بہت پیچیدہ اور مشکل ہے۔

      علامہ شبیر احمد عثمانی کی تفسیر بہت مختصر ہے اور اس کے مشمولات زیادہ تر مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنی تفسیر میں شامل کر دیے ہیں۔

      مولانا عبدالقیوم حقانی کی تفسیر بہت مفصل اور طویل ہے اور انٹرنیٹ پر مکمل طور پر دستیاب بھی نہیں ہے۔

      مولانا نعیم الدین مراد آبادی کی تفسیر بہت مختصر ہے اور اس کا بڑا حصہ ان کے شاگرد پیر کرم شاہ صاحب نے اپنی تفسیر میں شامل کر دیا ہے۔

      مفتی احمد یار خان نعیمی کی تفسیر مکمل نہیں ہے اور بہت طویل ہے۔

      علامہ غلام رسول سعیدی کی تفسیر بھی بہت مفصل ہے اور ابھی مکمل نہیں ہے۔

      مولانا وحید الدین خان کی تفسیر بہت مختصر ہے۔

      علامہ جاوید احمد غامدی کیتفسیر بہت ہی مختصر ہے اور ابھی مکمل نہیں ہے۔

      ڈاکٹر محمد فاروق خان کی تفسیر بھی بہت ہی مختصر ہے۔

ان کے علاوہ جن تفاسیر کو ہم شامل نہیں کر سکے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں ان کا علم نہیں ہے۔

 

سوال: میں تفسیر کا مطالعہ کیوں کروں؟ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے کیا کسی تفسیر کا مطالعہ ضروری ہے؟

جواب: اگر تو آپ قرآن مجید کا مطالعہ عام سطح پر کرنا چاہیں تو پھر آپ کو تفسیر کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی بھی اچھے سے ترجمے کے ذریعے قرآن کا مطالعہ کر لیجیے اور اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہو تو تفسیر دیکھ لیجیے۔ اگر اس سے یہ سوال حل نہ ہو تو دوسری تفسیر دیکھ لیجیے یا پھر علماء سے رجوع کر لیجیے۔

اگر آپ علمی سطح پر قرآن مجید کا مطالعہ کرنا چاہیں تو پھر آپ کے لیے کم از کم ان تفاسیر کا مطالعہ بہت ضروری ہے جو دور جدید کے زندہ مسائل پر گفتگو کرتی ہیں۔ تفسیر کی ضرورت ان وجوہات کی بنیاد پر پیش آتی ہے:

      قرآن مجید کی سورتوں اور آیات سے متعلق تاریخی معلومات اور بیک گراؤنڈ انفارمیشن تفسیر کے ذریعے دستیاب ہوتی ہے۔

      قاری کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات تفسیر میں ملتے ہیں۔

      قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے اضافی معلومات تفسیر کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں۔ جیسے قرآن میں بیان کردہ مقامات کا جغرافیہ، اس میں مذکور قوموں کی تاریخ وغیرہ کی معلومات تفاسیر میں دستیاب ہوتی ہیں۔

      کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قرآن مجید کا مطالعہ کرتے وقت آیت قرآنی کے کسی خاص پہلو کی طرف توجہ نہیں جاتی۔ مفسر اس جانب اشارہ کر دیتے ہیں، جس سے وہ پہلو واضح ہو جاتا ہے۔

 

سوال: کیا ہر مفسر کی ہر بات درست ہوتی ہے؟

جواب: جی نہیں۔ کسی بھی مفسر نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ ان کی بیان کردہ ہر بات درست ہے۔ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے مفسرین ، تفسیر کو اپنی تصنیف کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں اور اسے اللہ تعالی کے کلام سے بالکل الگ رکھتے ہیں۔ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ تفسیر ان کی ذاتی تحقیق کا نتیجہ ہے۔مفسر بھی ایک عام انسان ہوتا ہے، کوئی نبی یا رسول نہیں ہوتا۔ وہ بھی غلط فہمی کا شکار بھی ہو سکتا ہے، وہ کسی بات کو بھول بھی سکتا ہے اور نظر انداز بھی کر سکتا ہے، اس کے جذبات بھی اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور وہ کسی تعصب میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ اس وجہ سے ہر تفسیر میں غلطیاں شامل ہوتی ہیں ۔

 

سوال: اس صورت میں پھر ہم مفسرین کی غلطیوں سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ کیا غلطیوں سے پاک کوئی مستند تفسیر نہیں ہے؟

جواب:ان غلطیوں سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں ہےکہ ہم کوئی غلطی سے پاک تفسیر تلاش کریں بلکہ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ تفاسیر کا تقابلی مطالعہ کیا جائے۔ اس طرحہم غلطیوں سے بچ سکتے ہیں۔ کوئی تفسیر بھی غلطیوں سے پاک نہیں ہے کیونکہ یہ انسانی کام ہے ، خدائی کام نہیں ہے۔

 

سوال: کیاآپ کا یہ پروگرام غلطیوں سے پاکاور مستند ہے؟

جواب: جی نہیں۔ہم کونسا کوئی اللہ کے پیغمبر ہیں جو غلطی نہیں کریں گے۔ ہم بھی عام انسان ہی ہیں اور انسانوں کے تمام کاموں کی طرح ہمارے کام میں بھی بہت سی غلطیاں اور کوتاہیاں ہوں گی۔ اللہ تعالی اس کے لیے ہمیں معاف کرے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اگر ہماری کوئی غلطی آپ کے سامنے آئے تو ہمیں اس سے ضرور ضرور مطلع فرمائیں تاکہ اس کی اصلاح کی جا سکے۔ اس بات کی بہرحال ہم نے کوشش کی ہے کہ کہ انسانی صلاحیت کی حد تک اس پروگرام کو غلطیوں سے پاک رکھا جائے۔ جب ہمیں ہماری کسی غلطی کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ جلد سے جلد اس کا ازالہ کر لیں۔

 

سوال: کیا قرآن کی سبھی تفاسیر میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے؟

جواب: جی نہیں۔ قرآن مجید کے 98% الفاظ اور جملوں کے معانی کے بارے میں امت کے علماء میں کوئی بڑا اور سنگین اختلاف نہیں پایا جاتا ہے۔چند مقامات ایسے ہیں جہاں مفسرین کی آراء مختلف ہو جاتی ہیں اور وہ اپنےاپنے دلائل بھی پیش کرتے ہیں۔ ایسے مواقع پر تقابلی مطالعہ کے ذریعے درست رائے کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔

مفسر کے مزاج، علمی سطح اور رجحانات کی وجہ سے تفاسیر کے مشمولات (Contents) کچھ مختلف ہو جاتے ہیں۔ ایک مفسر مثلاً اگر تاریخ کا بڑا عالم ہے تو وہ تاریخی معلومات زیادہ گہرائی میں فراہم کرے گا۔ اگر وہ عربی زبان کا بڑا عالم ہے تو عربی زبان کی صرف، نحو اور بلاغت کے نکات کو بہت تفصیل اور گہرائی میں بیان کرے گا۔ اسی طرح اگر وہ نیچرل اور سوشل سائنسز جیسے طبیعات، معاشیات، نفسیات، عمرانیات اور سیاسیاتوغیرہ سے اچھی طرح واقف ہے تو قرآن مجید کے ان پہلوؤں پر تفصیلی بحث کرے گا۔اس وجہ سے ہر تفسیر کی ایک خاص ویلیو ہوتی ہے جو اسے دوسریتفاسیر سے ممتاز کرتی ہے۔

 

سوال: کیا مجھے یہ پانچوں تفاسیر پڑھنا پڑیں گی؟

جواب: جی نہیں۔ آپ کو ان میں سے صرف ایک تفسیر کو کور سے کور تک پڑھنا ہوگا۔ تفسیر کا انتخاب آپ کی اپنی مرضی پر ہو گا۔ بقیہ تفاسیر کی طرف آپ کو اس وقت رجوع کرنا ہو گا، جب ورک بک میں آپ کو ایسا کرنے کے لیے کہا جائے۔ ہم نے کوشش یہ کی ہے کہ ہر مفسر نے جس مقام پرجس پہلو کو غیر معمولی طور پر پیش کیا ہے، کم از کم ، اس اس مقام کا آپ مطالعہ کر سکیں۔

اگر آپ سبھی تفاسیر کا کور ٹو کور مطالعہ کرنے کی خواہش رکھتے ہوں اور آپ کے پاس وقت بھی ہو، تو ضرور ایسا کیجیے۔

 

سوال: آپ کا یہ پروگرام مشکل، طویلاور بور کیوں محسوس ہوتا ہے؟

جواب: ہم نے کوشش تو کی ہے کہ اسے زیادہ طویل نہ ہونے دیا جائے اور طلباء و طالبات کو بوریت سے بچایا جائے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ ایک سبق دو گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ روزانہ ایک گھنٹہ مطالعے پر صرف کر رہے ہیں تو دو دن میں آپایک سبق مکمل کر سکتے ہیں۔ ایک ماڈیول اوسطاً بیس اسباق پر مشتمل ہے۔ اس طرح آپ ڈیڑھ مہینے میں ایک ماڈیول مکمل کر سکتے ہیں۔

یہ پروگرام مشکل بالکل نہیں ہے۔ ایک مرتبہ آپ ورک بک کا اسٹرکچر سمجھ جائیں تو پھر یہ نہایت ہی آسان ہے اور اس میں شامل کردہ تفاسیر بھی بہت سادہ اور سلیس زبان میں لکھی گئی ہیں۔

ہم نے کوشش یہ کی ہے کہ اسائنمنٹس ایسی تیار کی جائیں، جو تمام تفاسیر کے دلچسپ پہلوؤں پر محیط ہوں ۔اگر پھر بھی آپ کو بوریت محسوس ہو، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مطالعے اور علمی معاملات کا زیادہ ذوق نہیں رکھتے۔یہ کوئی خامی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی نے ہر انسان کو ہر کام کے لیے نہیں بنایا ہے۔ اس صورت میں آپکے لیے یہی مناسب ہے کہ قرآن مجیدکا سادہ ترجمہ تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھتے رہیے۔ اگر مطالعے کا ذوق نہ ہو تو یہ ترجمہ آڈیو فارمیٹ میں بہت سی ویب سائٹس پر دستیاب ہے۔ اسے ڈاؤن لوڈ کر کے اس کی سی ڈیز بنا لیجیے، یا پھر MP4 وغیرہ میں کاپی کر لیجیےاوردفتر یا دکان پر آتے جاتے اسے سنتے رہیے۔ اس صورت میں اس پروگرام کا مطالعہ کرنے کی آپ کو ضرورت نہیں ہے۔

پروگرام کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے آپ کی تجاویز کے ہم منتظر رہیں گے۔

 

سوال: میں بالکل ابتدائی درجے کا طالب علم ہوں اور میں نے قرآن مجید کا ترجمہ نہیں پڑھا۔ مجھے کہاں سے شروع کرنا چاہیے؟

جواب: اس صورت میں آپ کو ماڈیول QS01 سے آغاز کرنا چاہیے۔

 

سوال: میں ایک مرتبہ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ چکا ہوں۔ مجھے کہاں سے شروع کرنا چاہیے؟

جواب: اس صورت میں مناسب ہے کہ آپ ابتدا کے تین ماڈیولز کو دیکھ لیجیے۔ اگر ان میں آپ کو کوئی نئی چیز نظر نہ آئے تو پھر QT01 سے آغاز کرلیجیے۔

 

سوال: میں ایک پروفیشنل ڈاکٹر / انجینئر / اکاؤنٹنٹ/ ہاؤس وائف/ بزنس پرسن ہوں۔مجھے اس پروگرام میں شرکت سے کیا فائدہ ہو گا؟

جواب: آپ کے لیے اس پروگرام کا فائدہ یہ ہو گا کہانشاء اللہ آپ قرآن مجید کو بہت گہرائی میں سمجھ سکیں گے۔ اس بات کا دارومدار آپ کے علمی ذوق پر ہے کہ آپ قرآن مجید کا مطالعہ کس سطح پر کرنا چاہتے ہیں۔ اگر تو آپ زیادہ علمی ذوق نہیں رکھتے ،اور یہ کوئی خامی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی نے ہر شخص کو ہر کام کے لیے نہیں بنایا،تو قرآن مجید کا سادہ ترجمہ پڑھیے یا سنیے اور اپنی شخصیت کو اس کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کیجیے، جب موقع ملے دینی کتب پڑھیے اور اہل علم کی تقاریر سنیے اور اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کیجیے ۔انشاء اللہ، آخرت میںآپ اسی سے کامیاب ہو جائیں گے۔

اس کے برعکس اگر آپ علمی ذوق رکھتے ہیں لیکن اپنی پروفیشنل یا دیگر مصروفیات کی وجہ سے دینی مدارس یا جدید یونیورسٹیوںمیںفل ٹائم تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تو پھر یہ پروگرام خاص طور پر آپہی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور آپ ہی اس پروگرام کے اصل مخاطب ہیں۔ اس میں آپ اپنے وقت کے حساب سے سیلف اسٹڈی کے ذریعے کچھ ہی عرصے میں دین کا گہرائی میں جا کر مطالعہ کر سکتے ہیں اور اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب کے لیے آپ کو اساتذہ کی خدمات بھی حاصل ہوں گی۔

 

سوال: میں ایک دینی مدرسے میں درس نظامی کا طالب علم ہوں۔ مجھے اس پروگراممیں شرکت سے کیا فائدہ ہو گا؟

جواب: دینی مدارس کے نصاب میں عام طور پر تفسیر جلالین پڑھائی جاتی ہے جس کے ایک مصنف علامہ جلال الدین سیوطی (d. 911H/1505CE) ہیں۔ یہ تفسیر بالکل مختصر ہے اور اب سے پانچ سو برس پہلے لکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بعض مدارس میں تفسیر بیضاوی(d. 691H/1292CE) کا صرف سورۃ البقرۃ کا احکام سے مخصوص حصہ پڑھایا جاتا ہے۔یہ تفسیر بھی تقریباًساڑھے سات سو برس قدیم ہے۔

ان تفاسیر کی اپنی ایک اہمیت ہے لیکن اس طریقے سے دیکھا جائے تو دینی مدارس کے طلباء تفاسیر کا بہت زیادہ گہرائی میں مطالعہ نہیں کرتے ہیں۔ اصول تفسیر میں بھی زیادہ سے زیادہ شاہ ولی اللہ (d. 1175H/1762CE) کی "الفوز الکبیر" پڑھا دی جاتی ہے جو کہ بہت ہی مفید مگر نہایت ہی مختصر رسالہ ہے۔اگر کسی مدرسے میں اس سے زائد علم تفسیر کی تعلیم جاتی ہو تو بہت اچھی بات ہے، تاہم ہم اس سے واقف نہیں ہیں۔

اس پروگرام میں بعض ایسے پہلو ہیں، جو دینی مدارس کے طلباء کے لیے خاص فوائد کے حامل ہیں۔

      مدارس کے طلباء چونکہ دور جدید کے زندہ کلامی، فقہی ، سیاسی، معاشیاور سماجی مسائل سے بہت زیادہ آگاہ نہیں ہوتے، اس وجہ سےجب وہ منبر و محراب سنبھالتے ہیں تو اپنے جدید تعلیم یافتہ مقتدیوں کے سوالات کے جواب نہیں دے سکتے۔ جدید تفاسیر کا تقابلی مطالعہ اس پہلو کوکور کر دے گا۔

      دور جدید میں تفسیر کا اسلوب، قرون وسطی (Middle Ages)کی تفاسیر کی نسبت یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے مدارس کے طلباء کے لیے ان میں ایک نیا پہلو موجود ہے۔ وہ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ قرون اولی (Early Ages)، وسطی اور جدید میںتفسیری اسلوب میں کیا کیا فرق نمایاں ہو چکے ہیں۔

      ماڈیول QS07 میں ہم علوم القرآن کا انشاء اللہ بہت اعلی سطح پر مطالعہ کریں گے۔ اس میں دینی مدارس کے طلباء کے لیے بھی بہت سے پہلو ایسے ہوں گے جن کا انہوں نے اپنے نصاب میں مطالعہ نہ کیا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں علوم القرآن کے بڑے ماہرین جیسے علامہ زرکشی (d. 794H / 1391CE)، سیوطی اور شاہ ولی اللہکی کتب میں موجود تمام اہم مباحث کا خلاصہبھی انشاء اللہ اسی ماڈیول میں آ جائے گا۔

      دینی مدارس میں ذریعہ تعلیم عربی ہوتا ہے جبکہ طلباء کی مادری زبان اس سے مختلف ہوتی ہے۔ اس وجہ سے بہت مرتبہ طلباءبہت سے علمی نکات اور تصورات کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتے۔ اگر طلباء کو ان کی اپنی زبان میں تعلیم دی جائے، تو وہ کہیں بہترطریقے سے ان امور کو سمجھ سکتے ہیں۔

یہاں ہم یہ دعوی نہیں کر رہے ہیں کہ قرآنی اسٹڈیز پروگرام کا نصاب، دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے تفسیری نصاب کا متبادل ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ اس پروگرام میں ہم یہ حقیر سی کوشش کر رہے ہیں کہمدارس کے طلباء اپنے نصاب کے ساتھ ملا کر اس پروگرام کا مطالعہ کر لیں تو انشاء اللہ، علوم القرآن میںوہ بہت اعلی درجے کی مہارت حاصل کر سکیں گے۔

اگر آّپ یہ محسوس کریں کہ آپ کے مدرسے میں جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے، وہ قرآنی اسٹڈیز پروگرام کیے نصاب کی نسبت زیادہ ایڈوانسڈ ہے تو ہمیں اپنی تجاویز دیجیے تاکہ ہم اس پروگرام کو مزید بہتر بنا سکیں۔

 

سوال: میں ایک یونیورسٹی میں ایم اے اسلامیات کا طالب علم ہوں۔ مجھے اس پروگرام سے کیا فائدہ ہو گا؟

جواب: یونیورسٹیوں میں ایم اے اسلامیات کا نصاب خاصا جدید اور جامع ہے تاہم اس میں بھی تفاسیر کا تقابلی مطالعہ اس گہرائی میں نہیں کروایا جاتا ہے، جو اس قرآنی اسٹڈیز پروگرام کے تحتکیا جا رہا ہے۔اسی طرح ایڈوانسڈ ماڈیول QS07 میں ایسی بہت سی علمی بحثیں موجود ہیں جو ایم اے اسلامیات کے نصاب میں بالعموم نہیں ہوتیں۔ہماری اس حقیر سی کوشش کے بعد اگر یونیورسٹیوں میں اسلامک اسٹڈیز کے طلباء اپنے نصاب کے ساتھ ملا کر اس پروگرام کا مطالعہ کر لیں تو انشاء اللہ، علوم القرآن میںوہبھی بہت اعلی درجے کی مہارت حاصل کر سکیں گے۔

اگر آّپ یہ محسوس کریں کہ آپ کی یونیورسٹی میں جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے، وہ قرآنی اسٹڈیز پروگرام کیے نصاب کی نسبت زیادہ ایڈوانسڈ ہے تو ہمیں اپنی تجاویز دیجیے تاکہ ہم اس پروگرام کو مزید بہتر بنا سکیں۔

 

سوال: مجھے زیادہ وقت نہیں مل پاتا۔ کیا میں اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکتا ہوں؟

جواب: جی ہاں۔ اگر آپ کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے تو جو سبق، دیگر طالب علممثلاً ایک دن میں مکمل کر لیتے ہیں، آپ چار دن میں مکمل کر لیجیے۔ اس طرح جو ماڈیول ایک عام طالب علم ڈیڑھ ماہ میں مکمل کرے گا، آپ چھ ماہ میں کر لیں گے۔ کچھ نہ ہونے سے، کچھ ہونا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ اس طریقے سے انشاء اللہ چند ہی سال میں آپ بہت گہرائی میں دینی علوم کا مطالعہ کر لیں گے۔

حالات بھی وقت کے ساتھ بدلتے ہیں۔ اگر آپ آج اپنے مطالعے کو مثلاً آدھ گھنٹہ روزانہ دے پا رہے ہیں، تو کوئی مشکل نہیں کہ آپ کچھ عرصے بعد ایک گھنٹہ دے سکیں۔ اس طرح آپ کسی نہ کسی صورت میں اپنے مطالعے کو جاری رکھ سکتے ہیں۔

 

زیر تعلیم طلباء و طالبات کے سوالات

جو طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں، وہ عام طور پر یہ سوالات پوچھتے ہیں:

سوال: میں اس پروگرام کا طالب علم ہوں۔ آپ نے جو ڈاؤن لوڈ لنک فراہم کیے ہیں، وہ کام نہیں کر رہے؟

جواب: ہر تفسیر کے دو دو ڈاؤن لوڈ لنک فراہمکیے گئے ہیں۔ اگر یہ دونوں کام نہیں کر رہے تو آپ یہ کام کر سکتے ہیں:

      کچھ دیر کے بعد دوبارہ کوشش کیجیے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سرور ڈاؤن ہونے کی وجہ سے کوئیکتاب ڈاؤن لوڈ نہیں ہو سکتی۔

      گوگل پر اس تفسیر کا نام، انگریزی یا اردو میں تلاش کیجیے۔ آپ کو اس کے مزید ڈاؤن لوڈ لنک بھی مل جائیں گے۔

      اس میں بھی اگرناکامی ہو تو ہم سے رابطہ کیجیے۔ انشاء اللہ ہم کوشش کریں گے کہ آپ کو مطلوبہ تفسیر فراہم کر دی جائے۔

 

سوال: میں نے تفسیر ڈاؤن لوڈ کی تھی مگر اس کی ایک فائل کھل نہیں رہی؟

جواب: شاید یہ فائل پوری ڈاؤن لوڈ نہیں ہو سکی ہے۔ ہر ویب سائٹ پر فائلوں کا سائز دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ فائل کا سائز چیک کر لیجیے اور اگر دونوں میں فرق ہے تو اس فائل کو دوبارہ ڈاؤن لوڈکر لیجیے۔

 

سوال: میں اس پروگرام میں ایڈمیشن لے چکا ہوں۔ کیا میں آپ کی تجویز کردہ پانچ تفاسیر کے علاوہ کسی اور تفسیر کا مطالعہ بھی کر سکتا ہوں؟

جواب: اگر آپ کے پاس اضافی وقت ہے تو ضرور کیجیے لیکن نصاب میں شامل تفاسیر کا مطالعہ لازمی ہے۔ اگر آپ اس بات کا ذوق رکھتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ علم حاصل کیا جائے ، تو یہ بہت ہی اچھی بات ہے۔ اس بات کا ہم آپ کو ضرور مشورہ دیں گے کہ نصاب میں شامل تفاسیر پر دیگر تفاسیر کو ترجیح نہ دیجیے بلکہ پہلے ان کا مطالعہ کرنے کے بعد دیگر تفاسیر کو دیکھیے۔ اس کی وجہ وہی ہے جو ہم تفاسیر کے انتخاب کے سلسلے اوپر بیان کر چکے ہیں۔

 

سوال: میرے ذہن میں دوران مطالعہ جو سوالات پیدا ہوں، ان کے بارے میں ، میں کیا کروں؟

جواب: بلاتکلف mubashirnazir100@gmail.com پر ای میل کیجیے۔برائے کرم کوشش کیجیے کہ ایک ای میل میں ایک ہی سوال درج کیجیے اور میل کے subject میں اس کا کوئی مناسب عنوان لکھ دیجیے تاکہ ہمیں انہیں ترتیب دینے اور جواب لکھنے میں آسانی ہو۔

 

سوال: مجھے کتنی دیر میں اپنے سوالات کا جواب ملے گا؟

جواب: ہماری کوشش ہے کہ آپ کو 24 گھنٹے میں جواب مل جائے۔ تاہم بیماری، سفر،دفتری مصروفیت، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی یا کسی اور مجبوری کے باعث اگر تاخیر ہو جائے تو اس کے لیے ہم پیشگی معذرت خواہ ہیں۔

 

سوال: آپ دینی موضوعات پر تحریریں لکھنے اور سوالات کا جواب دینے کے لیے اتنا وقت کیسے نکال لیتے ہیں؟

جواب: اصل میں میریجاب کی نوعیت یہ ہے کہ کام پراجیکٹس کی صورت میں آتا ہے۔ اس میں بھی بہت سا وقت دوسروں سے فالو اپ میں گزرتا ہے۔ اس وجہ سے مجھے یہ موقع مل جاتا ہے کہ درمیانی وقفوں میں ، میں اپنا کوئی کام کر سکتا ہوں۔آج کل صبح فجر کے بعد دو گھنٹے اس کام کے لیے مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دفتر آنے اور جانے کے دوران بھی یہی کام کرتا ہوں۔ ہفتے میں دو دن چھٹی ہوتی ہے تو مزید وقت مل جاتا ہے۔

اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ میں غیر متوازن (Imbalanced) زندگی گزار رہا ہوں۔اپنی کمپنی سے میں چونکہ تنخواہ وصول کرتا ہوں، اس وجہ سے اپنے رزق کو حلال کرنے کے پہلی ترجیح دفتری مصروفیات ہیں۔میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے کسی پراجیکٹ کی ڈیڈ لائن کبھی مس نہ ہو اور اس کا معیار بھی پروفیشنل اسٹینڈرڈز کے مطابق ہو۔ روزانہ شام کو اور ویک اینڈز پر فیملی کو بھی بھرپور وقت دیتا ہوں۔ ہفتے میں تینیا چار دن اسکواش یا ٹینس بھی کھیلتا ہوں اور رات کو آٹھ گھنٹے کی بھرپور نیند بھی لیتا ہوں تاکہ اگلے دن کام کی کوالٹی بہتر ہو اور صحت بھی اچھی رہے۔شام کو یہ سب وقت اس وجہ سے مل جاتا ہے کہ میں ٹی وی نہیں دیکھتا۔ بس یوں کہیے کہ اللہ تعالی نے ٹائم مینجمنٹ کا تھوڑا سا شعور دیا ہے جس کی وجہ سے یہ سب کام احسن انداز میں ہو ہی جاتے ہیں۔

 

سوال: مجھے مطالعے کا وقت نہیں مل پا رہاِ؟ اس کا کوئی حل بتائیے۔

جواب: اس کا حل ٹائم مینجمنٹ ہے۔ ان کا بھرپور استعمال کر لیجیے تو وقت ہی وقت ہوتا ہے۔ اس ضمن میں بعض ٹپس یہ ہیں:

      پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم وقت کی اہمیت کو سمجھیں۔ اللہ تعالی نے روزانہ ہمیں 86400 سونے کے ذرات دیے ہیں کیونکہ ہر سیکنڈ سونے کے ایک ذرے کے برابر ہے۔اب ہماری مرضی ہے کہ ہم ان ذروں سے دنیا یا آخرت کا کوئی فائدہ خرید لیں یا انہیں کچرے کے ڈھیر پھینک دیں۔وقت کو ضائع کرنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے سونے کے ذرات کے کچرے میں پھینک دیا جائے۔

      اپنی ترجیحات متعین کیجیے۔ ہفتے بھر میں جو کام آپ کرتے ہیں، اس کی ایکفہرست تیار کیجیے اور پھر انہیں ضروری اور غیر ضروری میں تقسیم کر لیجیے۔ آپ کو بہت حیرت ہو گی کہ ہمارے وقت کا زیادہ تر حصہ ان امور میں صرف ہوتا ہے، جو غیر ضروری ہوتے ہیں اور ان کا نہ تو دنیا میں کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ آخرت میں۔ مثلاً ٹی ویپر الٹے سیدھے پروگرام دیکھنا،ہر وقت منفی خبریں سن سن کر اپنا بلڈ پریشر ہائی کرنا،†† اخبار پڑھنے پر بہت زیادہ وقت صرف کرنا، سیاست پر بحث کرنا،فضول گپیں ہانکنا، فضول ویب سائٹس براؤز کرنا ، چیٹنگ کرنااور ایسے دینی پروگرامز میں شرکت جن میں ہم کچھ سیکھ کر نہ اٹھیں۔یہ سب وہ امور ہیں جن میں استعمال ہونے والے وقت کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

      ہمیں اپنی زندگیوں میں وقت کے بہت سے ایسے وقفے ملتے ہیں، جنہیں ہم لوگ بالکلضائع کر دیتے ہیں۔ جیسے دفتر یا دکان پر آنے جانے کا وقت آپ استعمال میں لا سکتے ہیں۔ اگر آپ بس میں سفر کر رہے ہیں یا کار خود ڈرائیو نہیں کر رہے تو مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ڈرائیو کر رہے ہوں تو کیسٹ یا سی ڈی پر کوئی علمی گفتگو سن سکتے ہیں۔ اسی طرح†† دفتر میں وہ وقت، جب آپ کسی کامیا ڈاکومنٹس وغیرہ کاانتظار کر رہے ہوں ، کو انٹرنیٹ براؤزنگ یا چیٹنگ میں صرف کرنے کی بجائے کسی منظم استعمال میں لا سکتے ہیں۔ دکان پر اگرگاہکوں کا رش نہ ہو، تو اس وقت کو مطالعے میں صرف کر سکتے ہیں۔ غور کیجیے تو شاید ہفتے میں ہمارے وقت کا نصف حصہ اسی طرح ضائع ہو جاتا ہے۔

      ایسے کام، جو آپ کسی اور سے کروا سکتے ہیں، کو ان کے حوالے کر دیجیے۔ مثلاً اگر آپ صاحب حیثیت ہیں تو گھر میں اس کام کے لیے ایک ملازم رکھ لیجیے۔ اس سے آپ کا بوجھ بھی ہلکا ہو گا اور ایک شخص کو روزگار بھی مل جائے گا۔ اگر آپ صاحب حیثیت نہیں ہیں تو یہ دیکھیے کہ کون سے ایسے کام ہیں جو آپ کے اہل و عیال یا ماتحت خوشی خوشی کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ مثلاً خواتین کو خرید و فروخت کا بہت شوق ہوتا ہے۔ اگر اس کام کی ذمہ داری آپ اپنی اہلیہ ہی پر ڈال دیں تو آپ کو کافی فراغت مل جائے گی۔ بچے بعض کام بڑے شوق سے کرتے ہیں، وہ ان سے کروا لیجیے۔

 

سوال: میں اس پروگرام کا ایک طالب علم ہوں اور تفاسیر ڈاؤن لوڈ کر چکا ہوں۔ میں کنفیوز ہوں کہ کہاں سے شروع کروں؟

جواب: آپ کو کنفیوز ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ جس ماڈیول کا مطالعہ کر رہے ہیں، اس کی ورک بک سے آغاز کیجیے۔بقیہ کتب کی طرف اس وقت رجوع کیجیے جب آپ سے ورک بک میں اس کے لیے درخواست کی جائے۔

 

سوال: اس پروگرام میں آپ کس طرحدرجہ بدرجہ علوم القرآن کا مطالعہ کروائیں گے؟

جواب: اس پروگرام کے تین لیولز ہیں: ابتدائی، متوسط اور اعلی۔ بنیادی لیول پر صرف ایک ہی ماڈیول QS01 ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ہم قرآن مجید سے تعارف پیدا کریں۔ متوسط سطح پر پانچ ماڈیولز(QS02 to QS06) ہیں جن میں قرآنی تفاسیر کا تقابلی مطالعہ کریں گے۔ اعلی سطح پر صرف ایک ہی ماڈیول QS07 ہے۔ انشاء اللہ اسمیں بہت ایڈوانسڈ سطح پر علوم القرآن کے مضامین زیر بحث آئیں گے۔

 

سوال: اس پروگرام میں آپ کیا کیا ریڈنگ میٹریل فراہم کریں گے؟

جواب: جو ریڈنگ میٹریل تیار کرنے کی خدمت ہم نے سرانجام دینے کی حقیر سی کوشش کی ہے، وہ یہ ہیں:

      تمام ماڈیولزکی ورک بکس

      وہ تفاسیر جن کا مطالعہ ہم QT01-QT05کے دوران کر رہے ہیں۔

 

سوال: اگر ان میں سے کوئی تفسیر میرے پاس پرنٹڈ شکل میں موجود ہو تو کیا پھر بھی ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت ہے؟

جواب: جی نہیں۔ مطبوعہ شکل میں پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔

 

سوال: آن لائن مطالعہ سے میری آنکھوں میں درد ہو جاتا ہے۔ اس کا کیا حل ہے؟

جواب: اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ یا تو آپ کی نظر کمزور ہو رہی ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ کسی آئی اسپیشلسٹ سے نظر کا معائنہ کروائیے اور اگر یہ کمزور ہے تو Anti-Reflection Glasses لگوائیے۔ اس سے انشاء اللہ سر کا درد ختم ہو جائے گا۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جہاں آپ کا کمپیوٹر ہے، وہاں روشنی کی مقدار مناسب نہیں ہے۔ اس میں اضافہ کیجیے، تو انشاء اللہ یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔آپ تحریر کے فانٹ کو بڑا بھی کر سکتے ہیں اور بیک گراؤنڈ کو بھی تبدیل کر کے دیکھ سکتے ہیں۔

اگر پھر بھی یہ مسئلہ برقرار رہے تو آئی اسپیشلسٹ سے رجوع کیجیے اور ان کی رائے لیجیے۔ ایسی صورت میں بہتر ہو گا کہ آپ کمپیوٹر پر مطالعہ نہ کریں بلکہ میٹریلکو تھوڑا تھوڑا کر کے پرنٹ کرکے مطالعہ کیجیے۔ جو تفاسیر آیڈیو فارمیٹ میں دستیاب ہیں، انہیں آپ پڑھنے کی بجائے سن سکتے ہیں۔

 

سوال: تفاسیر کی اتنی بڑی فائلیں ڈاؤن لوڈ کرنا مشکل ہے۔ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟

جواب: اگر آپ کے پاس انٹرنیٹ کا ڈی ایس ایلکنکشن نہیں ہے تو پھر زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ کسی اچھے انٹرنیٹ کیفے میں جا کران فائلوں کو ڈاؤن لوڈ کر لیجیے اور کسی سی ڈی یا فلیش ڈرائیو میں کاپی کر کے لے آئیے۔اگر اس سے بھی مسئلہ حل نہ ہو تو مزید مشورے کے لیے ای میل کیجیے۔

 

سوال: پاکستان اور انڈیا میں لوڈ شیڈنگ کی وجہسے تفاسیر ڈاؤن لوڈکرنے میں مشکل ہو رہی ہے، کیا کیا جائے؟

جواب: مسئلے کا حل تو یو پی ایس ہے یا پھر بیٹری والے لیپ ٹاپ کمپیوٹر کا استعمال ہے۔ اگر آپ اسے افورڈ نہیں کر سکتے تو پھر ڈاؤن لوڈ کے لیے Mozila Firefox براؤزر استعمال کیجیے، یہ انٹرنیٹ پر مفت دستیاب ہے۔ اس میں یہ فیچر ہے کہ جہاں تک ڈاؤن لوڈہوا ہو، وہ کمپیوٹر میں محفوظ رہتا ہے۔ پھر جب آپ دوبارہ ڈاؤن لوڈ شروعکریں گے تو یہ وہیں سے شروع کرے گا جہاں ڈاؤن لوڈ کا سلسلہ منقطع ہوا تھا۔

 

سوال: پچھلے دنوں میں خاصا مصروف رہا ہوں، جس کی وجہ سے مطالعہ نہیں کر سکا۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

جواب: مصروفیت کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ مصروفیت کے دنوں میں بھی چند منٹ مطالعے میں ضرور گزاریے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ آپ کی اسٹڈیز کا جو momentum بنا ہو گا، وہ برقرار رہے گا۔

 

سوال: مطالعے کے دوران اگر میں بوریت محسوس کرنے لگوں تو کیا کروں؟

جواب: مطالعہ فوراٍ چھوڑ کر وہ کام کیجیے، جس کے لیے آپ کا دل چاہ رہا ہو۔ بوریت کے ساتھ مطالعہ، تعلیم کے لیے آپ کی دلچسپی اور motivation کو ختم کردے گا۔

 

سوال: ایک ماڈیول کو کتنے عرصے میں مکمل کرنا ضروری ہے؟

جواب: اس کا انحصار آپ کو دستیاب وقت پر ہے۔ اگر آپ روزانہ ایک گھنٹہ مطالعے کو دے رہے ہیں تو پھر ایک ماڈیول آپ کو ایک سے ڈیڑھ مہینے میں مکمل کر لینا چاہیے۔ زیادہ وقت دے رہے ہیں تو اسی تناسب سے جلدی مکمل ہو جائے گا۔

 

سوال: گھر میں بچے وغیرہ دوران مطالعہ بہت ڈسٹرب کرتے ہیں؟ اس کا حل کیا ہے؟

جواب: اس کا فوری حل تو یہ ہے کہ آپ فی الحال کسی لائبریری یا مسجد میں بیٹھ کر مطالعہ کیجیے یا آفس آورز کے بعد ایک گھنٹہ وہیں بیٹھ کر مطالعہ کر لیجیے۔اس کے علاوہ آہستہ آہستہ بچوں میں مطالعہ کی عادتپیدا کیجیے اور انہیں ان کی دلچسپی کی کتب لا کر دیجیے۔اس سے انہیں اندازہ ہو گا کہ مطالعہ کس قدر دلچسپ چیز ہے۔ گھر کے اندر علمی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کیجیے تو اس سے سب کے لیے علم میں دلچسپیپیدا ہو گی۔

 

سوال: مجھے میرے سوال کا جواب اوپر دیے گئے سوال جواب میں نہیں مل سکا؟

جواب: mubashirnazir100@gmail.com پر ای میل کیجیے۔ ہم کوشش کریں گے کہ آپ کو جلد از جلد جواب مل سکے۔

 

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

Description: Description: Description: Description: Description: customizable counter