بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Islamic Studies Program - علوم اسلامیہ پروگرام

Knowing is not enough, we must apply!

علم کافی نہیں ہے، اسے استعمال کرنا ضروری ہے

Home | Religion & Ethics | Personality Development |Islamic Studies | Quranic Arabic Learning | Adventure & Tourism

Risk Management | Your Questions & Comments | Urdu & Arabic Setup | About the Founder

ماڈیول QT01-05 کا تعارف
یہ پانچ ماڈیولز علوم القرآن پروگرام کا حصہ ہیں۔ ان ماڈیولز میں ہم قرآن مجید کے مکمل متن اور اہم تفاسیر کا مطالعہ کریں گے۔  طلبا کی سہولت کے لیے انہیں پانچ ماڈیولز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
ماڈیول QT01-05کے مقاصد
ان ماڈیولز کے مقاصد یہ ہیں:

  • قرآن مجید کے مضامین کا تفصیلی مطالعہ
  • مختلف قرآنی تفاسیر کا تقابلی مطالعہ
  • اپنی شخصیت اور کردار کو قرآن کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش
  • قرآنی تعلیمات سے متعلق  اہم علمی، عقلی اور عملی مسائل کا تعارف
  • قرآنی اسالیب سے واقفیت
  • قرآن مجید کی آیات کے پس منظر سے واقفیت
  • اس بات کا فہم کہ مختلف نفسیاتی، دینی، فقہی اور مسلکی پس منظر سے تعلق رکھنے والے مفسرین  (تفسیر لکھنے والے) قرآن کو کیسے سمجھتے ہیں

مطالعے کا طریق کار
ان ماڈیولز میں ہم قرآن مجید کی پانچ تفاسیر کا تقابلی مطالعہ کریں گے تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ مختلف پس منظر اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد قرآن کو کس طریقے سے سمجھتے ہیں۔ ان تفاسیر اور ان کے مصنفین  کا تعارف  تفسیر کے نام کے حروف تہجی کی ترتیب سے یہاں پیش کیا جا رہا ہے:

  • تفہیم القرآن:  اس کے مصنف سید ابو الاعلی مودودی (1903-1979)ہیں جن کا تعلق ہندوستان کے دارالحکومت دہلی سے تھا۔  انہوں نے 1940ء میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی جس کا مقصد روئے زمین پر ایک اسلامی حکومت کا قیام تھا۔ تقسیم ہند کے بعد سید صاحب پاکستان آ گئے اور انہوں نے عملی سیاست میں حصہ لیا۔  بیسویں صدی میں "اسلام کی سیاسی تعبیر" کی علمی و عقلی بنیادیں انہوں نے ہی پیش کیں۔ ان کی تحریروں کا دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ مصر کی اخوان المسلمون سے لے کر عالم اسلام کی دیگر سیاسی اسلامی تحریکوں نے اپنے نظریات کی آبیاری انہی کی تحریروں سے کی۔  اخوان کے مشہور راہنما سید قطب (d. 1966 ) مودودی صاحب سے بہت متاثر تھے جس کی جھلک  ان کی مشہور تفسیر "فی ظلال القرآن" میں نظر آتی ہے۔  روایتی علماء نے ان کی بہت مخالفت کی مگر بہت سے معاملات میں ان کا اثر بھی قبول کیا۔  اس تفسیر کو ہم نے اس کورس میں "اسلام کی سیاسی تعبیر (Political Islam )" کی نمائندہ کتاب کی حیثیت سے شامل کیا ہے۔ اس تفسیر کی فراہمی کے لئے ہم www.quranurdu.com کے مشکور ہیں۔ اس کورس میں ہم ان کا ذکر مختصراً  "مودودی صاحب" کے نام سے  کریں گے۔
  • تیسیر القرآن: اس تفسیر کے مصنف عبد الرحمن کیلانی (d. 1995 ) ہیں جن کا تعلق لاہور سے تھا۔ دینی اور فلسفیانہ علوم پر گہری نظر رکھتے تھے اور بہت سی کتب کے مصنف تھے۔ ان کی تفسیر کو ہم نے اہل حدیث مکتب فکر کی نمائندہ تفسیر کے طور پر شامل کیا ہے اور اس کے لیے ہم www.kitabosunnat.com کے مشکور ہیں۔  اس کورس میں ہم انہیں مختصرا کیلانی صاحب کہیں گے۔
  • ضیاء القرآن: اس تفسیر کے مصنف پیر محمد کرم شاہ الازہری (1918-1998) کا تعلق ایک صوفی خانوادے سے تھا مگر ان کے ہاں علم دین کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ وہ بھیرہ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نے  انہیں اعلی دینی تعلیم کے جامعۃ الازہر  بھیجا۔  آپ انگریزی زبان اور جدید  فلسفہ پر بھی عبور رکھتے تھے۔ واپسی پر انہوں نے بھیرہ میں ایک بڑا دارالعلوم قائم کیا۔  ان کی تفسیر کا نام "ضیا ء القرآن" ہے۔  اس تفسیر کو ہم نے بریلوی مکتب فکر اور اہل تصوف کی نمائندہ تفسیر کے طور پر شامل کیا ہے۔ اس تفسیر کے لئے ہم www.nafseislam.com کے شکر گزار ہیں۔ اس کورس میں ہم انہیں مختصراً "پیر صاحب" کے  نام سے یاد کریں گے۔
  • معارف القرآن: یہ تفسیر مفتی محمد شفیع عثمانی (d. 1976 )کی تصنیف ہے جو علمائے دیوبند  میں اعلی مقام کے حامل ہیں۔ ان کی تعلیم بالعموم روایتی دینی طریقے پر ہوئی مگر انہیں جدید علوم سے بھی شغف حاصل تھا۔ تقسیم ہند کے بعد آپ پاکستان  آ گئے اور کراچی میں ایک بہت بڑے دارالعلوم کی بنیاد رکھی۔ یہ تفسیر دیوبندی مکتب فکر کی نمائندہ تفسیر کے طور پر اس کورس کا حصہ بنائی گئی ہے۔ یہ تفسیر ہم نے ان کی آفیشل ویب سائٹ  www.maarifulquran.net سے لی ہے جس کے لئے ہم ان کا بہت بہت شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس کورس میں ہم انہیں مختصراً "عثمانی صاحب" کہیں گے۔
  • تفسیر نمونہ: یہ اہل تشیع کی نمائندہ تفسیر ہے جو ایران کے سات اہل علم نے آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی  صاحب (1924–Present ) کی قیادت میں اصلاً فارسی زبان میں لکھی تھی۔ اس کا اردو ترجمہ مولانا سید صفدر حسین نجفی صاحب نے کیا ہے۔  اس تفسیر میں بہت سے علمی اور فلسفیانہ مسائل سے بحث کی گئی ہے۔ اس تفسیر کی فراہمی کے لئے ہم www.shiamultimedia.com کے شکر گزار ہیں۔ ہمیں اس تفسیر کا جو نسخہ مل سکا ہے، اس میں سورۃ الانفال سے لے کر سورۃ بنی اسرائیل تک کی سورتیں شامل نہیں ہیں۔  اس کورس میں ہم مختصراً انہیں "شیرازی صاحب"کے نام سے یاد کریں گے۔

ان سبھی  تفاسیر کے ساتھ ساتھ ہماری ورک بکس اضافی ہو گی جن میں سے ایک اس وقت آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کورس میں ہم قرآن مجید کا ایک منظم (Systematic ) انداز میں مطالعہ کریں گے اور ہماری ورک بکس آپ کو سبھی تفاسیر کا منظم انداز میں مطالعہ کرنے میں مدد دے گی۔  ان میں قرآن مجید کے مختلف حصوں کو ان کے اندرونی نظم (Structure ) کی بنیاد پر ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر باب کے شروع میں کچھ تعارف ہے اور اس کے ساتھ اسائن منٹس دی گئی ہیں۔  آپ سے گزارش ہے کہ آپ انہی ورک بکس سے آغاز  کیجیے۔ پھر اس میں جہاں جہاں آپ کو جس جس تفسیر کے جس جس حصے کا مطالعہ کرنے کا کہا جائے، ان کا مطالعہ کیجیے۔ ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ ہر تفسیر میں ان مفسرین نے جہاں جہاں غیر معمولی نوعیت کی علمی بحثیں کی ہیں، ان سے متعلق اسائن منٹس دی جائیں تاکہ طالب علم ان بحثوں کو سمجھ سکے۔
اس کورس میں متعدد مکاتب فکر کی تفاسیر شامل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم قرآن کا مطالعہ کھلے ذہن سے کریں اور یہ دیکھیں کہ مختلف پس منظر اور مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد قرآن کو کیسے سمجھتے ہیں۔   ہمارے ہاں مختلف فرقوں کے لوگوں میں ایک دوسرے سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں  جس کی بنیادی وجہ ایک دوسرے کی کتابوں کو نہ پڑھنا ہے۔ اس روایت کو توڑتے ہوئے ہم اس کورس میں یہ کوشش کریں گے  کہ مثبت، غیر جانبدار اور کھلے ذہن کے ساتھ سبھی مکاتب فکر کی تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے ۔  آپ کو ان سبھی تفاسیر کے ہر ہر صفحے کا مطالعہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی بجائے اسائن منٹس کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ان تفاسیر کے اہم اور منتخب حصوں کا مطالعہ آپ خود بخود کر لیں گے۔
اس بات کو یاد رکھیے کہ  ترجمہ و تفسیر ایک انسانی کام ہے۔ اس میں غلطی کا امکان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو اپنا ذہن کھلا رکھ کر تنقیدی انداز میں ان تمام تفاسیر کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم بالکل غیر جانبدار ہو کر ان تمام تفاسیر کا مطالعہ کریں اور صرف اور صرف دلیل ہی کی بنیاد پر کسی کی بات کو قبول کریں اور دلیل ہی کی بنیاد پر کسی کی بات  کو رد کریں۔ اس ضمن میں شخصیت پرستی اور فرقہ وارانہ تعصب  سے ہمیں مکمل طور پر پرہیز کرنا ہو گا۔ اگر ہم پہلے سے ہی ایک بات مان کر قرآن کو اس کے مطابق توڑنے مروڑنے کی کوشش کریں گے تو ہم اللہ کی کتاب کے ساتھ ایک جرم عظیم کا ارتکاب کر رہے ہوں گے۔ ایسی صورت میں ہم کبھی اس کتاب سے ہدایت حاصل نہ کر سکیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی پسند ناپسند اور تعصبات کو اللہ کی کتاب کے آگے قربان کر دیں۔
یہ تمام تفاسیر  ہم نے متعلقہ ویب سائٹس سے حاصل کی ہیں۔ تفاسیر کے متن کی درستگی انہی کی ذمہ داری ہے۔ مناسب ہو گا اگر آپ ہر ہر تفسیر کے اسلوب سے واقفیت حاصل کر لیں تا کہ اس کا مطالعہ کرتے ہوئے آپ کو دقت نہ ہو۔ تفاسیر کے اسلوب کی کچھ تفصیل یہ ہے:

  • پیر کرم شاہ صاحب نے تفسیر میں ہر سورۃ کو ایک الگ باب میں بیان کیا ہے۔  تفسیر کے شروع میں ایک مقدمہ دیا گیا ہے جس میں نہایت ہی اہم مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ ہر سورۃ کے آغاز میں اس کا تعارف موجود ہے۔ ہر صفحے پر مصنف عربی متن اور اس کے عین نیچے اس کا ترجمہ دیتے ہیں۔ پیر صاحب کے ترجمے کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ بیک وقت لفظی اور بامحاورہ ترجمہ ہے۔  ترجمے میں تفسیری نوٹس کے نمبر دیے ہوتے ہیں جس سے متعلق نوٹ نیچے دیا ہوتا ہے۔
  • مودودی صاحب کا اسلوب وہی ہے جو پیر صاحب نے بھی اختیار کیا ہے۔ ہر سورۃ کے آغاز میں وہ اس کا تعارف پیش کرتے ہیں جس کی خاص بات  یہ ہے کہ وہ اس میں سورۃ کا تاریخی پس منظر  بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد سورۃ کے مضامین اور ان کا باہمی ربط بیان کر دیتے ہیں۔ تفسیر کے اندر وہ ہر صفحے کے اوپری حصے میں قرآن کا عربی متن،  درمیان میں ترجمہ اور نچلے حصے میں تفسیر بیان کرتے ہیں۔  ترجمے اور تفسیر کو مربوط کرنے کے لئے انہوں نے فٹ نوٹس کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ مودودی صاحب اور پیر صاحب کے ترجموں میں فرق یہ ہے کہ مودودی صاحب نے بامحاورہ ترجمہ کے ذریعے قرآن کی ترجمانی  کی ہے جبکہ پیر صاحب نے لفظی اور بامحاورہ اسالیب کو اکٹھا کیا ہے۔ عثمانی صاحب  نے بھی دونوں اسالیب کو یکجا کرنے کا اسلوب اختیار کیا ہے۔
  • کیلانی صاحب نے بھی یہی اسلوب اختیار کیا ہے۔ البتہ وہ سورۃ کا الگ سے تعارف دینے کی بجائے اسے براہ راست سورت کی تفسیر میں درج کر دیتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ عموماً شان نزول، فضائل سورت سے بحث کرتے ہیں۔
  • مکارم شیرازی صاحب نے بھی اپنی تفسیر کو سورتوں کے اعتبار سے ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ ہر سورۃ کے آغاز میں وہ اس کا تعارف پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد چند آیات اور ان کا ترجمہ دیتے ہیں اور پھر ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہیں۔  اس طرح سے ایک سیکشن مکمل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد پھر چند آیات،ان کا ترجمہ اور پھر تفسیر بیان کرتے ہیں۔  اردو ترجمہ صفدر حسین نجفی صاحب نے کیا ہے جو کہ بامحاورہ ہے۔
  • مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب کا طریقہ بھی یہی ہے۔ ہر سورۃ کے آغاز میں اس کا تعارف، پھر چند آیات اور ان کا ترجمہ، اس کے بعد ان آیات کی تشریح و تفسیر۔ انہوں نے بھی ترجمے میں لفظی اور بامحاورہ اسالیب کو اکٹھا کیا ہے۔ تفسیر میں وہ پہلے خلاصہ تفسیر بیان کرتے ہیں، پھر "حل لغات" کے عنوان سے قرآن کے انفرادی الفاظ کا معنی بیان کرتے ہیں، پھر "معارف و مسائل" کے عنوان کے تحت متعلقہ آیات میں ایک ایک مسئلہ لے کر اس کی توضیح کرتے ہیں۔
  • اصلاحی صاحب کا طریقہ بھی یہی ہے کہ وہ چند آیات کو لے کر ان کا ترجمہ بیان کرتے ہیں۔ پھر ایک ایک آیت کو لے کر اس کی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ سورت کے آغاز میں وہ اس کا مرکزی خیال، جسے وہ عمود کہتے ہیں، بیان کرتے ہیں اور پھر پوری سورت کا اس عمود سے ربط بیان کرتے ہیں۔ قرآن مجید کا نظم (Coherence ) ان کی تفسیر کی ایک منفرد خصوصیت ہے جو دیگر مفسرین کے ہاں نظر نہیں آتی ہے۔

قرآنی تفاسیر کو کہاں سے حاصل کیا جائے؟
یہ سب تفاسیر انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔  متعلقہ ویب سائٹس کے دو دو لنک ہم یہاں فراہم کر رہے ہیں۔
http://www.mubashirnazir.org/Courses/Quran/QS001-04-Downloads.htm
قرآنی تفاسیر کا تقابلی مطالعہ کیسے کیا جائے؟
قرآنی تفاسیر کے تقابلی مطالعہ کے لئے ان نکات پر عمل کیجیے:

  • سبھی تفاسیر کو ڈاؤن لوڈ کر لیجیے۔ ان کے مختلف صفحات پلٹ کر دیکھیے اور جس تفسیر کا اسلوب  آپ کو اچھا لگے، اس کا انتخاب کر لیجیے۔ اس تفسیر کا آپ نے مکمل مطالعہ کرنا ہو گا۔ بقیہ تفاسیر کے مکمل مطالعے کی ضرورت نہیں ہو گی البتہ ہر باب میں آپ کو جو اسائن منٹس دی جائیں گی، انہیں مکمل کرنے کے لئے آپ کو تمام تفاسیر سے ہی رجوع کرنا ہو گا۔ اس طریقے سے آپ خود بخود تقابلی مطالعہ کا کام مکمل کر لیں گے۔
  • ہر باب کے آغاز میں کچھ تعارفی نوٹس دیے گئے ہیں۔ ان کا مطالعہ کیجیے اور اس باب  سے متعلقہ اسائن منٹس کو بھی پڑھ لیجیے۔
  • باب میں زیر مطالعہ آیات کی تلاوت کیجیے اور اپنی پسندیدہ تفسیر میں ان کا ترجمہ بھی پڑھ لیجیے۔
  • ترجمہ پڑھتے ہوئے جو سوالات آپ کے ذہن میں پیدا ہوں، انہیں نوٹ کرتے جائیے اور اپنے پسندیدہ مصنف کی تفسیر میں ان کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کیجیے۔   اس کے بعد اسی جواب کو دوسری تفاسیر میں بھی تلاش کیجیے۔
  • تفسیر کا مطالعہ کرتے ہوئے قرآن مجید کے عربی متن اور ترجمہ کو  ایک الگ ونڈو میں کھولے رکھیے اور ترجمہ و تفسیر پڑھتے ہوئے بار بار اسے عربی متن سے لنک کیجیے۔اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ آپ قرآن مجید کی زبان اور اسالیب سے واقف ہوتے چلے جائیں گے۔
  • ہر باب میں دی گئی اسائن منٹس کو حل کیجیے۔ ان اسائن منٹس کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہر تفسیر میں شامل اہم ترین مباحث  خود بخود آپ کے مطالعے میں آتے چلے جائیں گے۔ اس طریقے سے آپ کو تفاسیر کو بہت زیادہ  کھنگالنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
  • اپنے جوابات کے لئے ایک اسائنمنٹ بک تیار کیجیے۔  بہتر ہو گا کہ آپ یہ سب کسی ورڈ فائل میں لکھیے۔ بصورت دیگر آپ ہارڈ کاپی کی صورت میں بھی اپنے جوابات لکھ سکتے ہیں۔ بعض ایسی اسائن منٹس بھی ہیں جو آپ کئی ابواب میں تیار کریں گے۔
  • اپنی اسائمنٹس کو  mubashirnazir100@gmail.com پر بھیجیے تاکہ  ان پر تبصرہ کیا جا سکے۔
  • اگر آپ کو تمام تفاسیر میں کسی سوال کا جواب نہ ملے تو بلا تکلف مصنف کو ای میل کیجیے۔

باب 1 میں علوم القرآن سے متعلق اہم تفصیلات ہیں۔ اس وجہ سے اس میں آپ کے لئے کافی ریڈنگ میٹریل ہے۔ بقیہ ابواب میں صرف ملٹی پل چوائس سوالات اور اسائن منٹس ہیں اور چند ضروری تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے لئے ریڈنگ میٹریل تفاسیر میں  موجود ہے۔ آپ نے اسے پڑھ کر ان سوالات اور اسائن منٹس کو حل کرنا ہے۔
ایڈمیشن کی شرائط اور کورس کا طریقہ کار
اس کورس کا مقصد آپ کو ذاتی سطح پر  (Personalized)  تعلیمی خدمت فراہم کرنا ہے۔  ایڈمیشن کا طریقہ کار بالکل سادہ ہے۔ نیچے دیے ہوئے لنک سے رجسٹریشن فارم ڈاؤن لوڈ کر کے mubashirnazir100@gmail.com  پر بھیج دیجیے۔ آپ کو کورس بکس اور متعلقہ استاذ کا ای میل ایڈریس فراہم کر دیا جائے گا۔ روزانہ بنیادوں پر آپ کو ایک سبق کا از خود مطالعہ کرنا ہو گا اور اس ضمن میں جو سوالات پیدا ہوں، انہیں بذریعہ ای میل اپنے استاذ کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔  اگر ضرورت محسوس ہوئی تو آپ بذریعہ Skype  یا Gmail  آن لائن رابطہ کر کے بھی اپنے سوالات ڈسکس کر سکیں گے۔ آپ کا استاذ سے ون ٹو ون تعلق اس کورس میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ہو گا۔
ہر ہفتے، آپ کو ایک پراگریس رپورٹ بھیجنا ہو گی جس میں اس ہفتے میں کیے گئے مطالعے کی تفاصیل فراہم کرنا ہوں گی۔ جیسے ہی آپ ایک ماڈیول ختم کریں گے، ایک مختصر سا امتحان لیا جائے گا جس کے بعد آپ اگلے ماڈیول کا آغاز کریں گے۔
پروگرام کی فیس
اس پروگرام میں شرکت کی فیس یہ ہے کہ آپ جو رقم ہر ماہ آسانی سے نکال سکیں، وہ آپ اپنے قریب کسی ایسے ضرورت مند شخص کو ادا کریں گے، جو کہ پیشہ ور بھکاری نہ ہو بلکہ محنت و مشقت کرتا ہو مگر اس کے اخراجات پورے نہ ہو پاتے ہوں۔ اپنی پراگریس رپورٹ میں ہر ماہ آپ یہ کنفرمیشن دیں گے  کہ آپ نے فیس ادا کر دی ہے۔  اگر آپ فیس ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
پروگرام سے متعلق عام پوچھے جانے والے سوالات  (Frequently Asked Questions)
اس کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

اللہ تعالی ہم سب کو قرآن مجید کا صحیح فہم  عطا فرمائے  اور قرآن کی تعلیمات کو ہماری شخصیت کا حصہ بنائے۔

محمد مبشر نذیر /عبداللہ ابو یاسر 
ربیع الثانی  1435 / فروری  2014
 رجسٹریشن فارم ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

 

مصنف کی دیگر تحریریں

تقابلی مطالعہ پروگرام  /  علوم القرآن پروگرام  /  قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن    اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  / اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ      /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات     /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle   /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 


 

Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: Description: free counter statistics