بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

سفرکی منصوبہ بندی

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 20MB)

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے بغیر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

بل کھاتے ہوئے کچے راستے پر نئے ماڈل کی چھوٹی سی فی ایٹ کار دوڑتی جا رہی تھی۔ گھنے سبزے میں ڈھکے ہوئے پہاڑ، جن کا سبزہ ہمارے شمالی علاقہ جات کے پہاڑوں کے سبزے سے کچھ زیادہ ہی گھنا تھا، دونوں جانب سے راستے کو گھیرے ہوئے تھے۔ ایک طرف یہ سڑک پہاڑ کے دامن کو مس کر رہی تھی اور دوسری جانب ایک سینکڑوں فٹ گہری کھائی اس سڑک کو پہاڑ سے جدا کر رہی تھی۔

گاڑی کا اسٹیرنگ اس وقت میرے ناتواں ہاتھوں میں تھا۔اگر یہ گول پہیہ میرےہاتھ سے ذرا سا بھی پھسل جاتا تو کار رول ہوتی ہوئی کھائی کے اندر گرتی چلی جاتی۔دور نیچے گہرائی میں مخروطی سرخ چھتوں والے مکانات نظر آ رہے تھے۔ عجیب بات یہ تھی کہ کچی سڑک پر کاریں جیپوں کی طرح دوڑ رہی تھیں۔ اچانک ایک دوراہا سامنے آ گیا۔ کوئی بورڈ موجود نہیں تھا۔ دونوں طرف ایک جیسی چوڑی سڑک جا رہی تھی۔ "کس طرف چلا جائے؟" میرے ذہن میں سوال گونجا۔

اچانک ایک جانب سے جدید طرز کا ٹریکٹر نمودار ہوا جس کی اکلوتی سیٹ پر دھوتی کرتہ اور پگڑی میں ملبوس گھنی مونچھوں والے کسان کی بجائے پینٹ کوٹ پہنے ایک کلین شیو سرخ و سفیدبینک آفیسر ٹائپ شخص بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنی طرف کا شیشہنیچے اتار کر رکنے کا اشارہ کیا۔ کمال خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان صاحب نے بریک پیڈل پر پاؤں رکھ دیا۔

"سیون لیکس، دس سائیڈ؟" میں نے ایک جانب اشارہ کیا۔

جواب میں نامعلوم زبان میں ایک تقریر کر دی گئی۔ ہاتھوں کے اشارے سے بہرحال سمت کا تعین ہو گیا۔ "تھینک یو ویری مچ" اور اس کے ساتھ میں نے شکریہ کے تاثرات اپنی شکل پر پیدا کرنے کی کوشش کی اور ہاتھ سے بھی اشارہ کیا کیونکہ یہ معلوم نہیں تھا کہ زبان کا شکریہ اپنی منزل مراد تک پہنچا یا نہیں۔

تھوڑی دور جا کر کھائی تنگ ہونے لگی۔ پہاڑ ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔ سبزہ گہرا اور گھنا ہونے لگا۔ بل کھاتی ہوئی سڑک پہاڑ کی چوٹی سے نیچے اترنے لگی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہم کسی گہرے کنویں کی تہہ میں اترتے چلے جا رہے ہیں۔سڑک کے دونوں جانب موجود درخت اوپر جا کر ایک دوسرے سے مل رہے تھے اور ان کے درمیان راستہ کسی سرنگ کی شکل اختیار کر رہا تھا۔

تھوڑی دور جا کر ایک چیک پوسٹ سامنے آئی جس میں کوئی شخص موجود نہیں تھا۔ ایک لمبے سے بانس پر مشتمل بیریئر اوپر اٹھا ہوا تھا۔ ایک جانب ایک بورڈ پر "ییدی گولر نیشنل پارک" لکھا ہوا تھا۔ تھوڑی دور جا کر پانی کے گرنے کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز ایک نہایت ہی دلکش فطری نغمہ تشکیل دے رہی تھی جس کے لئے انسان کے بنائے ہوئے کسی ساز کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نغمے کے سرتال اعصاب کو سکون بخش رہے تھے۔ سبز رنگ کی ایک جھیل ہمارے سامنے تھی جس کا پانی ایک آبشار کی صورت میں بہتا ہوا دوسری جھیل میں گر رہا تھا۔

ییدی گولر کا مطلب ہے "سات جھیلیں"۔ یہ ترکی کا مشہور نیشنل پارک تھا جو گھنے سبزے سے بھرے ہوئے پہاڑوں اور ان کے درمیان موجود سات جھیلوں پر مشتمل تھا۔

ترکی ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ایک ایسا ملک ہے جہاں دو براعظموں کا محض جغرافیہ ہی نہیں ملتا بلکہ ان دونوں عظیم خطوں کی تاریخ، ثقافت، افکار اور نظریات ہر دور میں ایک دوسرے سے ملتے چلے آئے ہیں۔ اب سے سو برس پہلے تک ترکی عالم اسلام کا مرکز تھا۔ یہی ترک تھے جو ایک ہزار برس تک مسلمانوں کا عسکری بازو بنے رہے ۔ترکی کی اسی تاریخی ، ثقافتی اور جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ہمنے ترکی کے سفر کا ارادہ اس وقت کیا جب ہم اردن اور مصر کے سفر سے واپس آ رہے تھے ۔ اس سفر کی تفصیل آپ میرے سفرنامے "قرآن و بائبل کے دیس میں" میں پڑھ چکے ہیں۔

ویزا پراسیسنگ

ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ترکی کا سفر سعودی عرب سے بذریعہ کار کیا جائے۔ درمیان میں شام اور اردن کے ممالک پڑتے ہیں۔ ان کا ویزا لینا ضروری تھا مگر اس سب سے پہلے ترکی کا ویزا حاصل کرنا لازم تھا۔ ترکی ایک ٹورسٹ ڈیسٹی نیشن ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کے لئے اس کا قانون یہ ہے کہ آپ اطمینان سے ترکی تشریف لائیے اور ایئر پورٹ یا بارڈر سے ویزا حاصل کر لیجیے۔ مگر چند ممالک جن میں ہمارا ملک پاکستان بھی شامل ہے، کے لئے یہ قانون ہے کہ اپنے ملک میں ترکی کے سفارت خانے سے ویزا حاصل کر کے آئیے۔

میں جدہ کے ڈسٹرکٹ اندلس میں واقع ترکی کے سفارت خانے میں پہنچا اور ویزا کے حصول کے طریق کار سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ سکیورٹی کم انفارمیشن ڈیسک پر موجود صاحب کہنے لگے: "یہ فارم لے جائیے۔ اس کے ساتھ اپنے پاسپورٹ، اقامہ اور بینک اسٹیٹمنٹ کی کاپی، دو تصاویر اور اپنی کمپنی سے ایک لیٹر لکھوا لائیے جسے چیمبر آف کامرس سے تصدیق شدہ ہونا چاہیے۔ میں آپ کو اندر بھیج دوں گا۔ ویسے پاکستانیوں کو ویزا مشکل سے ملتا ہے۔" یہ کہہ کر انہوں نے ہمدردانہ مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا۔

چند دن بعد یہ سب دستاویزات لے کر میں پھر سفارت خانے میں پہنچا۔ ان صاحب نے مجھ سے موبائل فون طلب کیا اور اس کے بدلے ایک کارڈ ایشو کر کے مجھے اندر بھیج دیا۔ ویزا آفس ایک کمرے میں قائم تھا جہاں دو نہایت ہی نستعلیق قسم کے افراد میز کرسی رکھے براجمان تھے۔ ایک سفید بالوں والے بزرگ تھے اور دوسرے نوجوان۔ ایک ایک سعودی نوجوان ویزے کے لئے ان دونوں کے سامنے بیٹھے تھے۔ میں انتظار کرنے کے لئے وہیں موجود صوفے پر بیٹھ گیا۔

بزرگ پہلے فارغ ہوئے اور مجھے اپنے ڈیسک پر آنے کا اشارہ کیا۔میں نے انگریزی میں گفتگو کا آغاز کیا جس کا جواب عربی میں وصول ہوا۔ میں نے اپنے اور اپنی فیملی کے کاغذات پیش کیے۔ انہوں نے بغور مطالعہ کیا۔ ان کی شکل پر قائل ہو جانے کے تاثرات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد جب انہوں نے سبز پاسپورٹ دیکھے تو قائل ہو جانے کے تاثرات غائب ہو گئے۔ کہنے لگے، "آپ تشریف رکھیے، مجھے قونصل جنرل سے پوچھنا پڑے گا۔" یہ کہہ کر وہ باہر چلے گئے۔

تھوڑی دیر بعد آ کر کہنے لگے، "قونصل صاحب اس وقت تو موجود نہیں ہیں۔ آپ اپنے کاغذات میرے پاس چھوڑ دیجیے۔ اپنا موبائل نمبر دے دیجیے۔ میں ہفتے یا اتوار تک آپ کو خود کال کر دوں گا۔" میں نے عرض کیا، "اس کی رسید وغیرہ۔" کہنے لگے، "میں ان سے پوچھے بغیر رسید جاری نہیں کر سکتا۔"

میرا خیال تھا کہ انہوں نے مجھے محض ٹالا ہی ہے۔ کس کے پاس اتنا وقت ہو گا کہ مجھے کال کرتا پھرے۔ بہرحال میں نے رسک لینے کا فیصلہ کر لیا۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہفتے والے دن میرے موبائل پر ترکی سفارت خانے سے کال وصول ہوئی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ کو ویزا دینے کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔ آئیے اور اپنے پاسپورٹ لے جائیے۔" میں جیسے ہی وہاں پہنچا تو ان بزرگ کے پاس رش لگا ہوا تھا۔ میری شکل دور سے دیکھتے ہی چلائے: "تعال تعال" یعنی آئیے، آئیے۔ میں آگے بڑھا۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ، چھوٹتے ہی بغیر کسی مروت کے فرمانے لگے، " پانچ سو دس ریال نکالیے۔"میں نے رقم ان کے حوالے کی۔ انہوں نے مجھے رسید دے دی اور کہنے لگے، "کل تین بجے پاسپورٹ لے لیجیےگا۔"

اگلے دن تین بجے وہاں پہنچا تو کاؤنٹر پر ایک بنگالی صاحب موجود تھے۔ رسید دیکھ کر کہنے لگے، "یہ تو کل کی ہے۔ کم از کم وقت 48 گھنٹے کا ہے۔" میں نے کہا، "مجھے خود آپ کے آفیسر نے آج کا وقت دیا ہے۔ آپ چیک کر لیں۔" چیک کیا تو واقعی پاسپورٹ موجود تھے جن پر ترکی کا ویزا لگا ہوا تھا جس پر وہ صاحب کافی شرمندہ ہوئے۔ انسان اگر بات کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ سمجھ لے تو پھر شرمندگی سے بچ جاتا ہے۔ پاسپورٹ کے ساتھ انہوں نے مجھے ترکی کی سیاحت سے متعلق کچھ بروشر بھی دے دیے جن کی مدد سے مجھے اپنے سفر کی منصوبہ بندی میں بہت مدد ملی۔

اگلے دن شام کے سفارت خانے میں گیا۔ ترکی کے مقابلے میں شام کا سفارت خانہ مچھلیبازار لگ رہا تھا۔ ٹوٹے پھوٹے کاؤنٹر اور تنگ و تاریک ماحول۔ لائن تو طویل نہیں تھی البتہ بیورو کریٹک انداز میں کام کی وجہ سے ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا۔ یہ بیوروکریسی کا خاص طریقہ کار ہوا کرتا ہے جس سے ہم اپنے ملک میں عموماً گزرتے رہتے ہیں۔ چند منٹ کے کام کو اتنا پیچیدہ اور مشکل بنا دیا جاتا ہے کہ سیدھے طریقے سے کام کروانے میں طویل وقت، انتظار اور محنت صرف ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ کا رابطہ کسی ایجنٹ وغیرہ سے ہے تو وہی کام فوراً ہو جاتا ہے۔ کام کو جلد کرنے کی قیمت آپ کو بہرحال ادا کرنا پڑتی ہے۔

جب کاؤنٹر پر پہنچا تو سبز پاسپورٹ دیکھتے ہی وہی رد عمل سامنے آیا جو ترکی والوں کا تھا۔ "پاسپورٹ چھوڑ جائیے۔ ہمیں قونصل جنرل سے پوچھنا پڑے گا۔" اگلے دن گیا تو تھوڑی سی دیر میں ویزا لگا کر انہوں نے پاسپورٹ میرے حوالے کر دیے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ انہوں نے ملٹی پل انٹری ٹرانزٹ ویزا جاری کیا تھا۔

اب اردن کے سفارت خانے کی باری تھی۔ یہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت سے ترک اور شامی حضرات موجود تھے جو بذریعہ سڑک اپنے ملکوں میں چھٹیاں گزارنے کے لئے جانا چاہتے تھے۔ ایک ترک جو انطاکیہ سے تعلق رکھتے تھے، مجھے کہنے لگے، "آپ کو عربی لکھنا آتی ہے۔ برائے مہربانی میرا فارم پر کر دیجیے۔" میں نے ان کا اور ان کی فیملی کا فارم پر کیا۔ وہ صاحب مدینہ سے آئے تھے اور وہاں بطور مکینک کام کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ان کی شادی ایک پاکستانی خاتون سے ہوئی تھی۔

جب میری باری آئی تو ایک نئی بات سامنے آئی اور وہ یہ تھی کہ اہل پاکستان کے لئے انہوں نے یہ قانون بنا رکھا تھا کہ ان کے ویزا کی درخواست پہلے اردن جائے گی۔ وہاں سے وزارت خارجہ نے اگر اس کی منظوری دے دی تو پھر ویزا ایشو ہو گا ورنہ نہیں۔ میں نے انہیں بہت کہا کہ میں پہلے اردن جا چکا ہوں۔ کہنے لگے، "ہم کیا کر سکتے ہیں جب قانون یہی ہے۔" اگر یہ بات میرے علم میں پہلے ہوتی تو میں پہلے ہی درخواست دے دیتا۔ خیر اب درخواست جمع کر دی۔ کہنے لگے، "دس دن بعد معلوم کیجیے۔" دس دن کے بعد گیا تو انہوں نے مزید ایک ہفتے کا کہہ دیا۔ یہ سلسلہ جب تین ہفتے سے زیادہ دراز ہوا تو مجھے یقین ہو گیا کہ اہل اردن ہم پاکستانیوں کو ویزا ایشو نہیں کرنا چاہتے۔

ہمارے "نظریہ سازش" کے علمبرداروں کی طرح میرے دل میں بھی خیال آیا کہ اس کے پیچھے ضرور کوئی گہری سازش ہو گی۔ غالباً امریکی اور یہودی ایجنٹوں کو ہمارے اس سفر کی بھنک پڑ گئی ہو گی۔ انہوں نے ہمیں اس سفر سے روکنے کے لئے اردن کے سفارت خانے میں موجود اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہمارا ویزا رکوا دیا ہے۔ یہ اسی قسم کا خیال تھا جیسے ایک صاحب کی اپنی بیگم سے شدید لڑائی ہو گئی اور برتن چلنے کی نوبت آئی۔ مار کھانے کے بعد اپنی ہڈیوں کو سینکتے ہوئے گھر سے باہر آئے تو کہنے لگے، "یہ ہمارے گھر میں جو کچھ ہو رہا ہے، امریکہ کروا رہا ہے۔"

اصلاح کا دروازہ کھلنا

اہل اردن پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں۔ ان کی جنگوں میں ہم نے ان کی مدد کی۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک اردن اور شام میں پاکستانیوں کی بہت عزت کی جاتی تھی۔ پچھلے سفر میں اردنیوں نے ہم سے بہت محبت کا سلوک کیا تھا۔ مگر محض دو سال میں صورت حال تبدیل ہو چکی تھی۔ ہم ان کے ملک کی سیاحت کا ویزا نہیں مانگ رہے تھے۔ مجھے صرف ٹرانزٹ ویزا درکار تھا جس کے تحت میں ان کے ملک سے محض گزرنا چاہتا تھا لیکن نہ تو وہ ویزا دینا چاہ رہے تھے اور نہ ہی صاف انکار کر رہے تھے۔

ترکی ، شام اور اردن ، پاکستان سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک نہیں ہیں۔ خاص طور پر شام اور اردن کی فی کس آمدنی تو پاکستان کے آس پاس ہی ہے۔ یہ مشہور ہے کہ اپنے سے زیادہ امیر ملک کا ویزا حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ غریب ملک کا ویزا حاصل کرنا آسان ہوتا ہے۔ سری لنکا اور نیپال جیسے ممالک تو آمد پر ہی ویزا جاری کر دیتے ہیں۔ یہاں معاملہ الٹ ہو رہا تھا۔ میں سعودی عرب میں کام کرتا تھا ۔اپنی فیملی کے ساتھ اپنی گاڑی پر سفر کرنا چاہتا تھااور اس بات کو کوئی امکان نہیں تھا کہ ان کے ملک میں جاکر غائب ہو جاتا ۔ لیکن ان سب نے ویزا دینے میں محض اس وجہ سے پس و پیش کیا کہ میں اس ملک کا شہری تھا جس کے ساتھ کچھ ایسے مسائل ہیں جو دنیا میں اور بھی ملکوں کے ساتھ ہوں گے۔

یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کا تجزیہ کرنا اہل پاکستان کے لئے بہت ضروری ہے۔ ایک سطحی سوچ رکھنے والا تو یہی کرے گا کہ ان ممالک کو کوسنا شروع کر دے گا۔ ان کی حکومتوں کو برا بھلا کہے گا کیونکہ یہ ممالک پاکستان کے ساتھ تعصب رکھتے ہیں۔ ہم اسلام کا قلعہ اور واحد نیوکلیئر طاقت ہیں جس کی وجہ سے یہ ہم سے حسد کرتے ہیں۔ ایک اور سطحی تجزیہ "نظریہ سازش" کے نقطہ نظر سے کیا جا سکتا ہے۔ اس نظریے کے حاملین خود کو دنیا کا مرکز سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں پوری دنیا کو اس کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے کہ وہ بس ان کے خلاف سازش کرتی رہےاور انہیں نقصان پہنچانے کی فکر میں لگی رہے۔ یہ ہر معاملے میں چند عالمی طاقتوں کی سازش دریافت کر لیتے ہیں۔ چنانچہ اس نقطہ نظر کے حاملین یہ کہہ سکتے ہیں کہ کچھ ملکوں نے پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف لابنگ کی ہے۔ ان کی حکومتوں کو پاکستان کے خلاف کر دیا ہے جس کی وجہ سے یہ ہمیں ویزا دینے کو تیار نہیں ہیں۔ یاد رکھیے کہ دنیا میں کسی کے خلاف سازش تبھی کامیاب ہوتی ہے جب اس شخص میں کوئی کمزوری موجود ہو۔

صحیح اور درست طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کا تجزیہ کریں۔ ہم کسی کو بھی سازش کرنے سے نہیں روک سکتے مگر کم از کم اپنی خامیوں کو دور کر سکتے ہیں تاکہ ہر قسم کی سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔ ہمیں دنیا کی دیگر اقوام کے سامنے اپنا امپریشن بہتر بنانے پر کام کرنا چاہیے۔ہمیں چاہیے کہ دنیا کے جس ملک میں بھی جائیں، وہاں کے قوانین اور سماجی ضوابط کا احترام کریں، لڑائی جھگڑے سے پرہیز کریں، احتجاجی سیاست اور انداز سے دور رہیں، دھوکے بازی اور فریب سے پرہیز کریں۔اگر کوئی ہم سے زیادتی بھی کرے تو کبھی قانون شکنی پر نہ اتریں بلکہمتعلقہ ممالک کے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی کچھ کریں۔

ہمارے ساتھ یہ المیہ ہو چکا ہے کہ پچھلے دو سو برس سے بعض لوگ ہمارے ہاں جعل سازی، دھوکہ دہی، منفی ذہنیت اور احتجاجی رویوں کو فروغ دے رہے ہیں ۔ اس کے نتیجے میں ہوتا یہ ہے کہ ہمارے چند لوگ کسی ملک میں جا کر ایسی حرکتیں کرتے ہیں اور اس کا خمیازہ پوری پاکستانی قوم کو بھگتنا پڑتا ہے جس میں فی الحقیقت بہت سے نیک لوگ بھی ہیں۔ منشیات سے لے کر دہشت گردی اور جعلی دستاویزات تیار کرنے سے لے کر انسانوں کی اسمگلنگ جیسے جرائم میں جب ایک پاکستانی کا نام بھی آتا ہے تو نام سب کا بدنام ہوتا ہے۔ پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آہستہ آہستہ کرپٹ ذہنیت پھیل رہی ہے۔ آپ کو بارہا یہ تجربہ ہوا ہو گا کہ کوئی عام شخصآپ کو یہ کہے، "آپ اپنے ہیں اس لئے آپ کے ساتھ تو ایسا معاملہ نہیں کر سکتا۔" اس کا مطلب یہی ہے کہ غیروں کے ساتھ دھوکہ دہی کو وہ شخص جائز اور درست سمجھتا ہے۔

یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں امیر و غریب کے فرق اور حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ نے کرپشن کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے مگر عام آدمی کے رویے کے لئے یہ کوئی معقول بنیاد نہیں ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہم لوگ کردار سازی کا آغاز دوسروں سے کرنا چاہتے ہیں حالانکہ شخصیت و کردار کی تعمیر کا آغاز ہمیشہ اپنی ذات سے ہوا کرتا ہے۔ہر شخص دوسروں پر تنقید تو کرتا ہے مگر اپنی ذات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دوسرے ٹھیک ہو جائیں تو معاملہ درست ہو جائے گا۔ معاملہ اس وقت تک درست نہیں ہو گا جب تک ہم خود ٹھیک نہ ہو جائیں۔

خیر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ الحمد للہ ہمارے ہاں اپنے کردار کی کمزوریکا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ انسان ایسی مخلوق ہے کہ اس میں جب احساس پیدا ہو جائےتو پھر یہ مسئلے کا حل بھی نکال لیتا ہے۔ اہل پاکستان کے بارے میں میرا مشاہدہ ہے کہ خود احتسابی کا عمل ہمارے ہاں بڑھ رہا ہے۔ لوگ اگر دوسروں پر تنقید کرتے ہیں تو ساتھ خود کو بھی شامل کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود احتسابی کو اپنی عادت بنائے رکھیں ۔ اسی سے اصلاح کے دروازے کھلیں گے۔

ہمیں اردن کا ویزا نہ ملنے کی تکلیف تو ہوئی مگر اس سے اپنے ان بھائیوں کی تکلیف یاد آ گئی جو مزدوری کی تلاش میں صبح گھر سے باہر آتے ہیں مگر انہیں کام نہیں ملتا۔ اپنے ایسے بھائیوں کی مدد ہمارا دینی فریضہ ہے۔ مگر ہم لوگ ایسے محنت کشوں کی مدد کی بجائے پروفیشنل بھکاریوں کو بھیک دینا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

اس ناکامی میں ہمارے لئے ایک اور بھی بڑا سبق تھا۔ آج تو محض اتنا ہی کہا گیا تھا کہ "تم اردن میں داخل نہیں ہو سکتے۔"اگر کل یہ کہہ دیا گیا کہ "تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے" تو پھر ہمارا کیا حال ہو گا۔ یہ تصور کر کے انسان کی روح لرز اٹھتی ہے۔

جان، مال اور آبرو خطرے میں

اردن کا ویزا نہ مل سکنے کے بعد ہم نے دوسرے متبادل طریقوں پر غور کیا۔ ایک متبادل راستہ یہ تھا کہ ہم عراق کے راستے شام میں داخل ہو جاتے۔ میں نے عراق کے سفارت خانے سے رجوع کیا تو انہوں نے پاسپورٹ دیکھنے کے بعد بخوشی ویزا دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ سعودی عرب کا عراق کے ساتھ زمینی رابطہ صرف ایک ہے۔ سعودی عرب کے شمالی شہر "عرعر" سے ایک سڑک عراق کے شہر "نخیب "میں داخل ہوتی ہے۔ یہ سڑک آگے چل کر کربلا اور بابل سے ہوتی ہوئی بغداد پہنچتی ہے۔ یہاں سے ہم دریائے دجلہ کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے "سمارا" اور "تکریت" سے گزرتے ہوئے "موصل" جا پہنچتے جہاں سے محض ایک ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ترکی کی سرحد تھی۔

دوسرا راستہ یہ تھا کہ ہم پورے عراق کو چھوڑتے ہوئے نخیب سے شام کی جانب مڑ جاتے اور "طولیاحہ" اور "ربطہ" سے ہوتے ہوئے تین چار گھنٹے میں شام میں داخل ہو جاتے۔

ان دنوں عراق کی جنگ ختم ہو چکی تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہاں کا سفر محفوظ نہ تھا۔کسی بھی مستحکم معاشرے میں انتشار پھیلا کر انارکی پیدا کرنا مشکل کام نہیں ہے لیکن اس کے بعد اس انتشار کو ختم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انارکی کو ظالم سے ظالم حکومت سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ظالم حکومت کا ظلم چند افراد تک محدود ہوتا ہے مگر جب حکومت کی رٹ ختم ہو جائے تو پھر یہ ظلم ہر گھر تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد ہر وہ شخص جس کے پاس کچھ اسلحہ یا طاقت ہے، دوسرے کی جان، مال اور آبرو کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی وجہ سے حکمران کے ظلم پر صبر کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور مسلح بغاوت کے ذریعے انتشار پھیلانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں معاشرے کی جڑیں جب ہلتی ہیں تو پھر کسی بھی شخص کی جان ، مال اور آبرو محفوظ نہیں رہا کرتی۔وہ ظلم جو چند افراد تک محدود ہوتا ہے، اس کی لپیٹ میں ہر بوڑھا، بچہ، خاتون اور معذور فرد آ جاتا ہے۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے:

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، "یا نبی اللہ! اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہوں جو ہم سے تو اپنا حق طلب کریں مگر ہمیں ہمارا حق نہ دیں تو آپ کیا فرماتے ہیں؟" آپ نے ان کی بات کو نظر انداز کر دیا ۔ انہوں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ نے پھر نظر انداز کر دیا۔ جب انہوں نے دوسری یا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا تو اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے انہیں پکڑ کر کھینچا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو۔ ان پر ان کے اعمال کی ذمہ داری ہے اور تم پر تمہارے اعمال کی۔" (مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث نمبر 4782-83)

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو میری راہ پر نہیں چلیں گے۔ میری سنت پر عمل نہیں کریں گےاور ان میں سے ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل شیطان کے اور جسم انسان کے سے ہوں گے ۔ " میں نے عرض کیا، "یا رسول اللہ! اس وقت میں کیا کروں؟" فرمایا، "اگر تم ایسے زمانے میں ہو تو حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ اگرچہ وہ تمہاری پیٹھ پر (کوڑوں کی ) ضرب لگائےاور تم سے تمہارا مال بھی لے لے، تب بھی اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔" (مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث نمبر 4785)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص حکومت کی اطاعت سے باہر ہو جائے اور جماعت (نظم اجتماعی) کا ساتھ چھوڑ دےاور مر جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت کی طرح ہو گی۔اسی طرح جو شخص اندھے جھنڈے کے نیچے (کسی نامعلوم مقصد کے لئے) لڑے ۔ اپنی قومی عصبیت کے لئے اس میں غصہ ہو، اپنی قومی عصبیت کی طرف لوگوں کو بلاتا ہو، اپنی قوم کی مدد کرتا ہو اور اس میں مارا جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔ جو شخص میری امت کے خلاف بغاوت کرے اور ان کے اچھوں اور بروں کو قتل کرے، اہل ایمان کو بھی نہ چھوڑے، اور جس سے معاہدہہوا ہو، اس کی بھی پرواہ نہ کرےتو نہ اس کا مجھ سے کوئی تعلق ہے اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث نمبر 4786)

موجودہ دور کی تمام جنگیں اور بغاوتیںسو فیصد اسی معیار پر پورا اترتی ہیں جس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے۔ یقینی طور پر عراق میں امریکی افواج غاصبانہ طور پر داخل ہوئی ہیں۔ ان کو اپنی سرزمین سے نکالنے کی جدوجہد عراقی عوام کا حق ہے۔ اگر کوئی بدمعاش ہمارے گھر میں آ گھسے تو کیا ہمیں اپنے گھر کو آگ لگا دینی چاہیے؟ اس کی بجائے ہمیں اپنے گھر کو ممکن حد تک بچاتے ہوئے غاصبوں کو باہر نکالنے کی کوشش کرنا چاہیے۔موجودہ دور میں اس کی مثال برصغیر پاک و ہند اور جنوبی افریقہ کی تحریک آزادی کی شکل میں موجود ہے۔

اہل عراق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان ارشادات کو بری طرح نظر انداز کیا اور امریکی افواج کو نکالنے کے لئے اپنا گھر جلانا شروع کر دیا اور اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی۔ اگر وہ اپنے حکمرانوں سے مطمئن نہ تھے تو انہیں بلٹ کی بجائے بیلٹ کی طاقت سے انہیں تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس انہوں نے اپنے پورے معاشرے کو تباہی کے راستے پر ڈال دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عراق غیر ملکیوں کے سفر کے لئے تو کیا، خود ان کے اپنے لئے بھی محفوظ نہ رہا تھا۔جنگ ختم ہو چکی تھی مگر انارکی ابھی باقی تھی۔ دشمن افواج کو چھوڑ کر اہل عراق اب فرقہ وارانہ بنیادوں پر ایک دوسرے کے قتل میں مشغول تھے۔

ہمارے لئے پہلے راستے میں کشش یہ تھی کہ اس طرح کربلا،نجف،بابل، بغداد، نینوا اور موصل کے تاریخی مقامات دیکھنے کو مل جاتے مگر اس میں جان، مال اور آبرو خطرے میں نظر آ رہی تھی۔ دوسرا راستہ نسبتاً محفوظ تھا ۔ میرے ایک کولیگ اطہر کے کچھ رشتے دار "عرعر" میں رہتے تھے۔ میں نے اطہر کے ذریعے ان سے رابطہ کیا اور عرعر بارڈر کے متعلق معلومات حاصل کیں۔ معلوم ہوا کہ عرعر کا بارڈر صرف رمضان اور حج سیزن میں عراق کے حاجیوں کے لئے کھولا جاتا ہے۔ عام طور پر محض ٹرک وغیرہ سامان لے کر آتے جاتے ہیں۔ کاروں کے ذریعے بارڈر کراس کرنے کا یہاں رواج نہیں ہے۔

اب ایک نئی مصیبت پیدا ہو گئی کہ عراق میں داخل ہونے کے لئے کویت کا ویزا بھی حاصل کرنا پڑتا ۔ "سالمی" بارڈر سے ہم کویت میں داخل ہوتے اور محض 100کلومیٹر کا سفر کر کے "عبدلی" بارڈر سے عراق جا پہنچتے۔ میں اب سفارت خانوں کے چکر کاٹ کر تنگ آ چکا تھا اور معاملہ شیطان کی آنت سے زیادہ طویل ہو چکا تھا۔ ویسے یہ میں نے محض محاورتاً کہا ہے ورنہ کبھی شیطان کی آنت کی پیمائش کا اب تک مجھے اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔

اب ہمارے پاس ایک ہی راستہ باقی بچا تھا اور وہ یہ تھا کہ ہوا میں طویل چھلانگ لگا کر اردن کو عبور کر تے ہوئے شام میں داخل ہوں۔جدید سائنسی ترقی نے یہ چھلانگ ممکن بنا دی تھی۔ جدہ سے دمشق اور حلب کے لئے براہ راست فلائٹس چلتی ہیں۔ میں نے مختلف ٹریول ایجنٹس سے معلوم کیا تو علم ہوا کہ اگلے دو ماہ تک کوئی سیٹ دستیاب نہیں ہے البتہ ترکی کی فلائٹس میں چند سیٹیں بمشکل دستیاب تھیں۔ اب اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا کہ شام کے سفر کو ملتوی کرتے ہوئے صرف ترکی ہی پر گزارہ کر لیا جائے چنانچہ ہم نے یہی کیا۔

میرے ایک جاننے والے فلپائنی ٹریول ایجنٹ ڈینی نے جوڑ توڑ کر کے سستی ترین سیٹوں کا انتظام کیا اور ہم روانہ ہونے کے لئے تیار ہو گئے۔میں نے جدہ کے "بلد" میں واقع ایک منی ایکس چینج سے ترکی لیرا اور امریکی ڈالر حاصل کیے۔ میری اہلیہ نے سامان پیک کیا۔ ہمارے ساتھ ہماری چھوٹی بیٹی ماریہ بھی جا رہی تھی۔

معلومات کا حصول

سفر کی تیاری کے لئے میں ساتھ ساتھ معلومات حاصل کرتا جا رہا تھا۔شام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے میں نے اپنے ایک شامی شاگرد امین کرید سے رابطہ کیا۔ یہ سن کر کہ میں شام جا رہا ہوں، وہ مجھ سے بھی زیادہ پرجوش ہو گئے۔ انہوں نے ایک ہی دن میں شام میں ہماری رہائش سے لے کرسیر و تفریح کے تمام انتظامات مکمل کر دیے۔ جب ہمیں مجبوراً شام کا سفر ڈراپ کرنا پڑا تو مجھ سے زیادہ مایوسی امین کو ہوئی۔ ان کے والد شام کے شہر "ادلب" میں میرے منتظر تھے۔ میں ان سے معذرت ہی کر سکتا تھا۔

میں نے اپنے ایک اور شاگردمحمد صوفی سے رابطہ کیا جن کا تعلق ترکی کے شہر انقرہ سے تھا۔ انہوں نے مجھے بہت سی معلومات فراہم کیں اور اس کے ساتھ ساتھ ترکی زبان کے چند ایسے حروف سکھا دیے جو انگریزی میں استعمال نہیں ہوتے۔ ان کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ میں ترکی میں سائن بورڈز وغیرہ پڑھ سکوں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ترکی حرف«'چ' کی، Ğ 'غ' کی، اورŞ 'ش' کی آواز دیتا ہے۔ اس کے علاوہH بسا اوقات 'خ' کے طور پر ، T کو 'د' اور C کو 'ج' کے طور پر استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

اگر انسان کسی ملک میں داخل ہونے سے پہلے اس کا سفرنامہ پڑھ لے تو اس سے بہت آسانی ہو جاتی ہے۔ میں نے ترکی کے تین سفرنامے پڑھے، پہلا مستنصر حسین تارڑ صاحب کا "نکلے تیری تلاش میں"۔ انہوں نے غالباً 1960 کے عشرے میں بذریعہ سڑک پاکستان سے یورپ کا سفر کیا تھا جس میں ترکی بھی شامل تھا۔دوسرا سفر نامہ دنیا بھر کے سیاحوں کے روحانی مرشد ابن بطوطہ کا "تحفۃ النظار فی غرائب الأمصار و عجائب الأسفار"تھا۔ ابن بطوطہ نے 1330-31ء میں ترکی کا سفر کیا تھا ۔ یہ وہ دور تھا جب نہ تو ہوائی جہاز تھے اور نہ ہی پکی سڑکیں۔ ان کی ہمت کو داد دینا پڑتی ہے۔ تیسرا سفرنامہ ایک امریکی مصنف مارک آر لیپر کا تھا جنہوں نے 1998ء میں ترکی کا سفر کیا تھا۔اس طرح تین مختلف زبانوں اور ادوار کے افراد کا تجربہ مجھے حاصل ہو چکا تھا۔

اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر ترکی سے متعلق بہت سا مواد موجود تھا۔ www.turkeytravelplanner.com اور www.allaboutturkey.comسے مجھے بہت سی قیمتی معلومات حاصل ہوئیں۔ اب سے بیس برس پہلے تک بڑی مشکل سے چند بروشر اور نقشے ملا کرتے تھے مگر اب میں اپنے کمپیوٹر پر بیٹھ کر ترکی کی ایک ایک سڑک کا جائزہ لے سکتا تھا۔ یہ انفارمیشن ایج کا کمال ہے۔ اس دور نے ہمارے لئے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ ہم اپنے دین کی حقیقی دعوت کو دنیا کے سامنے پہنچا دیں۔ خوش قسمتی سے اس معاملے میں ہم غافل نہیں ہیں اور ہمارے بھائی اس کام میں دن رات محنت کر رہے ہیں۔

 

اگلا باب †††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

 

 

مصنف کی دیگر تحریریں

اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا سدباب/سفرنامہ ترکی/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں ††††/†† علوم الحدیث: ایک مطالعہ/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص ††/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟†† /مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت †††/Quranic Concept of Human Life Cycle ††††/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

customisable counter