بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

روانگی برائے ترکی

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 20MB)

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے بغیر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

جولائی کے آخری ایام تھے۔ جدہ میں گرمی اپنے عروج پر تھی۔ میری گاڑی کا تھرما میٹر روزانہ 40-45 سینٹی گریڈ کی خبر سنایا کرتا تھا۔ فلائٹ صبح دس بجے تھی اس وجہ سے ساڑھے چھ بجے ایئر پورٹ پہنچنا ضروری تھا۔ اطہر نے اپنے جاننے والے ایک ٹیکسی والے کو کہہ دیا۔ یہ صاحب صبح چھ بجے آ پہنچے۔ راستے میں بتانے لگے کہ وہ تیس سال سے جدہ میں مقیم ہیں۔ پہلے وہ ٹرک چلاتے تھے مگر اس میں مسئلہ یہ تھا کہ ریاض اور دمام کے طویل سفر کرنا پڑتے تھے جبکہ وہ ایسا کام چاہتے تھے کہ جس میں روزانہ شام کو گھر آ سکوں اور اگر کام کا دل نہ چاہے تو نہ جاؤں۔ چنانچہ انہوں نے ٹیکسی چلانا شروع کر دی۔

زندگی میں لچک کی اہمیت

حقیقت یہ ہے کہ کام ہو یا زندگی کا کوئی اور معاملہ، اس میں لچک (Flexibility) کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک کی اچھی کمپنیوں میں اب Flexible Hours کی سہولت دی جاتی ہے۔ دفتر میں تین سے چار گھنٹے ایسے ہوتے ہیں جس میں سب موجود ہوں۔ اس کے علاوہ اگر آپ صبح کے وقت زیادہ اچھے طریقے سے کام کر سکتے ہیں تو صبح چھ بجے کام شروع کیجیے اور دو بجے دوپہر گھر چلے جائیے۔ اگر آپ شام میں بہتر کام کر سکتے ہیں تو 11 بجے دفتر آ جائیے اور 7 بجے شام گھر چلے جائیے۔

کمپنیاں یہ سہولت ملازمین کے فائدے کے لئے نہیں دیتیں بلکہ اس میں ان کا اپنا مفاد ہے کہ انہیں اس طریقے سے توانائی اور تخلیقی صلاحیت سے بھرپور کارکن میسر آ جاتے ہیں۔ ہمارے بیورو کریٹک معاشروںمیں کام سے زیادہ نام نہاد ڈسپلن کو اہمیت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ملازم جسمانی طور پر تو دفتر میں ٹھیک وقت پر نظر آ رہا ہوتا ہے مگر اس کا دماغ کام کی بجائے آرام میں مصروف ہوتا ہے۔اسی طرح شام میں لیٹ سٹنگ کارکنوں کی ذہنی، تخلیقی اور جسمانی صلاحیتوں کو زنگ لگا دیتی ہے۔ کارکن کمپنی کو وقت تو زیادہ دیتا ہے مگر اس کی پیداواری صلاحیت (Productivity) بہت ہی کم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کارکن کی صحت اور خاندانی زندگی جس طریقے سےبرباد ہوتی ہے، وہ اس کی پیداواری صلاحیت کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگ جلد بوڑھے ہو جاتے ہیں۔

ایئر پورٹ پہنچ کرسامان بک کروانے اور امیگریشن کے معاملات سے فارغ ہو کر ہم لاؤنج میں آ بیٹھے۔ سعودی عرب سے باہر جانے والوں کا سامان چیک نہیں کیا جاتا۔ صرف "ہینڈ کیری "میں جو سامان ہو اسے مشینوں کی مدد سے چیک کیا جاتا ہے۔

انسانوں سے محبت

جدہ کا ایئر پورٹ تقریباً تیس سال پرانا ہے۔ اس وجہ سے یہاں سہولیات اس درجے کی نہیں ہیں جیسی عرب ممالک کے دیگر ایئر پورٹس پر نظر آتی ہیں۔ حال ہی میں اس ایئر پورٹ کی تزئین نو کی گئی ہے۔ اس وقت بھی کام چل رہا تھا۔ پائپوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ان پر تختے رکھے گئے تھے جن پر کھڑے کاریگر کام کر رہے تھے۔ ایک طویل سیڑھی بھی موجود تھی جس پر کھڑے ہو کر چھت کی تزئین کی جا رہی تھی۔ ہم کام والی جگہ سے تھوڑی دور آ کر بیٹھے تھے۔ اچانک مجھے عین اپنے سر کے اوپر آواز سنائی دی، "اودروں پھڑیں"۔کام والی سیڑھی میرے پیچھے آ چکی تھی اور اس پر سوار کاریگر ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے تھے۔ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ یہ صاحب کہیں کوئی چیز میرے سر پر نہ گرا دیں۔

یہ ہمارے کاریگر تھے جو اپنے کام کے معیار کے لئے پورے عالم عرب میں مشہور تھے۔ کمپنیاں مشکل کاموں کے لئے پاکستانی یا ہندوستانی کاریگروں کا انتخاب کرتی ہیں۔ اللہ تعالی نے ہماری قوم کو بہت سی تخلیقی اور جسمانی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اگر ہم لوگ اخلاقی اعتبار سے خود کو درست کر لیں تو یقیناً عالمی برادری میں بہت بلند مقام حاصل کرنے کی صلاحیت اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی ہوئی ہے۔

جدہ کا ایئر پورٹ کافی جدید ہو چکا تھا۔ میں کام کرنے والوں کا مشاہدہ کرنے لگا۔ میری آنکھیں اس چمک دمک کے پیچھے محنت کرنے والے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھیں۔ کہیں ہنر مند پنجابی نظر آ رہے تھے جو پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلے کو چند منٹ میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ کہیں محنت کش پٹھان نظر آ رہے تھے جو جدید مشینوں کی مدد کے بغیر زمین کا سینہ چیرنے کی صلاحیت سے مالا مال تھے۔ ادھر کیرالہ کے مالا باری تھے جو محنت اور لگن کے ساتھ اپنا کام کرنے کے لئے مشہور تھے۔ ادھر بنگال کے محنتی کارکنان نظر آ رہے تھے جن پر عرب دنیا کے چھوٹے کاروبار کی معیشت کھڑی ہوئی تھی۔ میری نظر اس سے دور فلپائن اور انڈونیشیا کے کارکنوں کو دیکھ رہی تھی جو اپنے ننھے منے وجود سے بڑے بڑے کام کر رہے تھے۔ مصر، سوڈان، شام، اردن ، لبنان اور ترکی کے محنت کش بھی تھے جو اپنی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کو یہاں لگا رہے تھے۔ ان سب کے علاوہ خود عربوں کے باصلاحیت افرادبھی تھے جو ہنر کو درست جگہ استعمال کرنے کا فن جانتے تھے۔

ان تمام افراد میں ایک خصوصیت مشترک نظر آ رہی تھی اور وہ تھی انسانیت۔ یہ سب ایک باپ کی اولاد ہیں۔ حالات نے کسی کو ایک مقام پر رکھا ہے اور کسی کو دوسرے پر۔ ہمارے ہاں لوگ اختلافات کو زیادہ نوٹ کرتے ہیں۔ اس کی بجائے میں ہمیشہ مشترک پہلوؤں پر توجہ زیادہ دیا کرتا ہوں۔اس سے محبت جنم لیتی ہے۔ دولت، نسب، رنگ، نسل اور علاقے کے مصنوعی فرق کو لوگوں نے بڑھا چڑھا کر بھاری بھرکم دیواروں میں تبدیل کر کے انسانیت کو تقسیم کر دیا ہے۔ کسی کو مصنوعی طور پر بہتر سمجھا جانے لگا ہے اور کسی کو کمتر۔ اگر انسان اپنے وجود ہی کا جائزہ لے لے تو وہ اس حقیقت کو جان سکتا ہے کہ دوسرے تمام انسان اس کے بھائی اور بہن ہی ہیں اور ان میں موجود فرق محض مصنوعی ہے۔

سعودی عرب ایک ملٹی کلچرل معاشرہ ہے۔ یہاں بہت سی قومیتوں کے افراد اپنے اپنے کلچر کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔میں جبسعودی عرب آ رہا تھا، اس وقت بعض دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ فلاں فلاں علاقے کے لوگوں سے بچ کر رہنا۔ یہ ہمارے بارے میں شدید تعصب میں مبتلا ہیں۔ میں نے ان کی نصیحت کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیا۔ اس کے بعد مجھے اس کے بالکل برعکس تجربہ ہوا۔ انہی علاقوں کے لوگ مجھ سے محبت کرنے لگے۔ میں انہیں کچھ دے نہیں سکتا۔ میری کوشش یہ ہوا کرتی ہے کہ ہر شخص کے بارے میں ذہن میں مثبت رویہ رکھوں ۔ ان کے جذبات و احساسات کا خیال رکھوں اور ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آؤں۔ دفتر میں صفائی کرنے والے سے لے کر ڈائریکٹر تک ہر فرد کا میں یکساں احترام کرتا ہوں۔

اگر میں پہلے سے ہی اپنے ذہن میں ان اقوام کے بارے میں تعصب پیدا کر لیتا تو یقینی طور پر یہی بات میرے طرز عمل میں چھلکتی اور میرا تجربہ بھی وہی ہوتا جس کی طرف میرے دوستوں نے اشارہ کیا تھا۔ نفرت اور تعصب سے جواب میں بھی نفرت ہی ملتی ہے جبکہ محبت اور احترام کا جواب بھی محبت ہی میں ملا کرتا ہے۔ چند متعصب افراد ہر قوم میں ہوا کرتے ہیں۔ ان کے طرز عمل کی بنیاد پر پوری قوم کے بارے میں کوئی رائے قائم کر لینا بالکل ہی غلط ہے۔ ایسے افراد کا حل یہی ہوا کرتا ہے کہ انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جائے۔

اس سے پہلے یہی تجربہ مجھے کراچی میں حاصل ہو چکا ہے۔ یہاں مختلف لسانی گروہوں کے افراد موجود ہیں جن میں بعض ایک دوسرے کے لئے انتہا پسندی کی حد تک متعصب ہیں۔ میں نے ہر ایک سے متعلق مثبت رویہ اختیار کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اردو اسپیکنگ، سندھی، پٹھان ، بلوچ اور پنجابی کمیونیٹیز سب میں مجھے مخلص دوست نصیب ہوئے۔

طائرانہ نظر یا برڈ ویو

سوا نو بجے فلائٹ کا اعلان ہوا۔ جدہ ایئر پورٹ پر ابھی ٹنل کی سہولت دستیاب نہیں ہو سکی تھی۔ ہم سب کو ایک بس میں لاد کر جہاز کی طرف لے چلے۔ یہ اسپیشل فلائٹ تھی۔ جہاں عام طور پر جہاز کھڑے ہوتے تھے ، ہمارا جہاز وہاں موجود نہ تھا۔ اب ہم جدہ ایئر پورٹ کے فارن ٹرمینل کی جانب جا رہے تھے۔ جن احباب کو حج و عمرہ کے لئے سعودی عرب آنے کا اتفاق ہوا ہو وہ یہ بات جانتے ہیں کہ یہاں تین ٹرمینل ہیں۔ ایک سعودی ایئر لائنز کے لئے، دوسرا فارن ایئر لائنز کے لئے اور تیسرا حج کی اسپیشل فلائٹس کے لئے۔ ہم سعودی ایئر لائنز کے ٹرمینل سے آئے تھے مگر ہمارا جہاز اسپیشل فلائٹس والے ٹرمینل پر لگا ہوا تھا۔ اس ٹرمینل کی عمارت نہیں ہے بلکہ بڑی بڑی چھتریاں لگا کر اسے خاص حاجیوں کے لئے بنایا گیا ہے۔

ٹھیک وقت پر جہاز حرکت میں آیا۔ٹیک آف کے وقت ماریہ کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھی تھی اور فضا میں بلند ہونے کے منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔ بلندی پر پہنچ کر اس کے لئے اندر یا باہر کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ چنانچہ میں نے اس سے سیٹ کا تبادلہ کر لیا۔میرا خیال یہ تھا کہ جہاز صحرا کے اوپر پرواز کرتا ہوا اردن اور شام سے گزر کر ترکی میں داخل ہو گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ جہاز مسلسل سعودی عرب کے ساحل کے ساتھ پرواز کرنے لگا۔ اب میں ایک طائرانہ نظر سے زمین کو دیکھ رہا تھا۔

میری نگاہوں کے سامنے بحیرہ احمر کا نیلا پانی تھا۔ نجانے اس سمندر کو سرخ سمندر کا نام کیوں دیا گیا ہے۔ سمندر کا پانی عرب کے گولڈن صحرا سے ٹکرا رہا تھا۔ حد نگاہ تک سنہری ریت پھیلی ہوئی تھی۔ نیلے اور سنہرے رنگ کا امتزاج آنکھوں کو اچھا لگ رہا تھا۔ پانی اور خشکی کا ملاپ قابل دید تھا۔ یہ ایک سیدھی لکیر کی شکل میں نہیں تھا۔ کہیں خشکی پانی کے اندر داخل ہو کر "جزیرہ نما"بنا رہی تھی اور کہیں پانی خشکی کے اندر داخل ہو کر "کریک" تشکیل دے رہا تھا۔ کبھی ساحل سے کچھ اندر پانی خشکی کے اندر نمودار ہو کر "جھیل " کی صورت اختیار کر رہا تھا اور کبھی خشکی پانی کے بیچ میں سے ظاہر ہو کر "جزیرہ" بنا رہی تھی۔ سمندر میں چھوٹے چھوٹے جزیرے پھیلے نظر آ رہے تھے۔ ایک جزیرہ تو بالکل مچھلی کی شکل کا تھا۔

یہ اللہ تعالی کی تخلیقی قوت کا اظہار تھا ۔ میرا دلاللہ تعالی کی طاقت کے احساس سے بھر گیا۔ اس قوت کے چند ذرے اس نے اپنی مخلوقات میں سے صرف انسان کو عطا کیے ہیں جس کی بدولت ہمیں یہ سب سائنسی ترقی نظر آتی ہے۔انسان کو اس نعمت کا شکر کرنا چاہیے نہ کہ اسی محدود سی قوت کے بل بوتے پر خدا کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑا ہو جانا چاہیے۔

اس منظر کا ایک عجیب پہلو یہ تھا کہ خشکی اور پانی ایک دوسرے کے متضاد ہیں لیکن یہ ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ یہی اس دنیا کا معاملہ ہے۔ اس دنیا میں بسا اوقات بالکل ہی متضاد مزاج کے انسانوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اگر یہی انسان اپنے اختلافات کے باوجود ساتھ چلنے پر آمادہ ہو جائیں تو پھر انسانیت اجتماعی طور پر ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔ جیسے پانی اور خشکی میں تصادم ہو جائے تو پھر طوفان آ جاتا ہے، بالکل اسی طرح اگر انسان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر تل جائے تو پھر انسانیت کی ترقی کا سفر معکوس سمت میں چل پڑتا ہے اور تباہی و بربادی اس کا مقدر بنتی ہے۔

جس طرح پانی اور خشکی ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں، بالکل اسی طرح نیکی اور بدی اس دنیا میں ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو موجود ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سے ہے جب سے یہ دنیا بنی ہے اور اس وقت تک رہے گا جب تک یہ دنیا رہے گی۔ ہمارے بعض جذباتی نیک افراد دنیا سے برائی کو ختم کر دینا چاہتے ہیں اور اس میں ناکامی کے بعد مایوس ہو کر نیکی سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس دنیا سے برائی کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ دنیا انسان کے امتحان کے لئے بنی ہے۔ نیکی اور بدی کا وجود اس امتحان کے لئے ضروری ہے۔ انسان کی حقیقی زندگی میں برائی کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا جسے دین میں "جنت" کے نام سے تعبیر کہا گیا ہے۔

تیل کی دولت

دور افق اب دھندلا نظر آ رہا تھا۔ بحیرہ احمر سے نکالی ہوئی درۃ العروس کی خوبصورت مصنوعی جھیلیں نظر آ رہی تھیں۔ یہ جدہ کے قریب ایک تفریحی ریزارٹ ہے۔ اس کے کچھ دیر بعد ینبوع کا شہر نظر آیا جو کہ بحیرہ احمر پر موجود تیل کی بندرگاہ ہے۔ مشرقی صوبے سے تیل بذریعہ پائپ لائن یہاں لایا جاتا ہے اور پھر یہیں سے اسے مغربی ممالک کی طرف بڑے بڑے بحری ٹینکروں پر لاد کر ایکسپورٹ کر دیا جاتا ہے۔ نیچے سمندر میں تیل کے جہاز نظر آ رہے تھے اور ساحل پر تیل کے گول ٹینک بھی دکھائی دے رہے تھے۔

اللہ تعالی نے مسلمانوں کو تیل کی دولت کے ذریعے دنیا میں سرفرازی کے حصول کا موقع فراہم کیا تھا مگر انہوں نے اسے ضائع کر دیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس دولت سے ہم اپنی غربت اور جہالت ختم کرتے مگر ہم نے اسے عیاشیوں میں برباد کر دیا۔ ایک طرف ہمارے ہاں بڑے بڑے سلم ایریاز ہیں جہاں کثیر تعداد میں انسان غلاظت اور گندگی میں پیدا ہوتے ہیں اور اسی حالت میں زندگی گزار کر مر جاتے ہیں۔ دوسری جانب ہمارے امیر ترین افراد اونچی اونچی عمارتوں اور محلات میں اپنی دولت لگا رہے ہیں۔

اب دنیا میں اس کے آثار نظر آ رہے ہیں کہ ہم سے یہ موقع چھین لیا جائے گا۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع جیسے ہائیڈروجن، شمسی توانائی، اور ہوا کی توانائی کو فروغ دیا جائے اور تیل پر انحصار کم سے کم کیا جائے۔ اس کے بعد یہی ہو گا کہ ہمارے تیل کی دنیا میں کوئی وقعت نہ رہے گی اور ہم اسی حالت میں آ پہنچیں گے جس میں تیل کی دریافت سے پہلے ہوا کرتے تھے۔ عرب حکومتوں کو اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے اور وہ متبادل صنعتوں کے قیام کی کوشش کر رہی ہیں۔

بلی کو چھیچھڑوں کے خواب

جہاز کا عملہ اب ہمارے لئے کھانے کا اہتمام کر رہا تھا۔ بھنی ہوئی شملہ مرچوں کی خوشبو جہاز میں پھیل رہی تھی۔ ہم سب کو بھی بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے کہا، "امید ہے شملہ مرچ اور بھنا ہوا گوشت لایا جا رہا ہے۔" میری اہلیہ کہنے لگیں، "بلی کو چھیچھڑوں کے خواب۔ صرف مرچیں ہی آئیں گی۔" اتنے میں ایک اسٹیورڈ بچوں کے لئے خاص کھانے کی ٹرے ماریہ کو دے گیا۔

ماریہ نے کھانے کو دیکھ کر برا سا منہ بنایا کیونکہ اس کی پسند کی کوئی چیز یہاں موجود نہ تھی۔ فرائیڈ گوشت نما کوئی چیز پلاسٹک کے برتن میں پڑی ہوئی تھی۔ میں نے ایک ٹکڑا اٹھا کر منہ میں رکھا تو میرا منہ کچھ ایسا ہو گیا جیسے اچانک منہ میں کڑوا بادام آ گیا ہو۔ یہ گوشت نہیں تھا بلکہ کوئی اور چیز تھی اور تیل سے بھری ہوئی تھی۔ یہی کچھ ماریہ کے ساتھ ہوا۔ منہ کا ذائقہ کچھ ایسا ہو رہا تھا کہ ابکائی لینے کو جی چاہتا تھا۔ اسٹیورڈ صاحب کہنے لگے، "سوری، ہمارے پاس ناشتہ ہے، دوپہر کا کھانا نہیں۔" ناشتے میں چٹنی نما انڈا ، ایک چھوٹا سا بن اور مکھن کا ایک پیس تھا۔ اسے کھا کر منہ کا ذائقہ ٹھیک کیا۔ یہ ابھی مسئلے کی ابتدا تھی کیونکہ ترکی کے سفر میں ہمیں اپنی مرضی کا کھاناکم ہی نصیب ہوا۔

اسٹیورڈ اور ایئر ہوسٹس اب چائے اور کافی سرو کرنے لگے۔ ہم سے کچھ ہٹ کر دو طویل ریش ترک بیٹھے ہوئے تھے۔ اگلی سیٹ پر کچھ بوڑھی ترک دیہاتی خواتین تھیں جو عمرہ کی ادائیگی کے بعد واپس جا رہی تھیں۔ اپنے اسٹائل سے یہ بالکل پنجاب کی بڑی بوڑھیوں جیسی لگ رہی تھیں۔ ایک اماں نے کافی کے کپ میں جوس پی لیا تھا اور اب اسے اس خطرے کے پیش نظر اس کپ کو جھٹک کر صاف کر رہی تھیں کہ بچا ہوا جوس اور کافی مل کر نجانے کیا ذائقہ بنے۔

آتش فشانی میدان

میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو زمین اچانک سیاہ رنگ اختیار کر گئی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے بہت سا تارکول اس پر گرا دیا ہو۔ ندی نالوں کے بل کھاتے راستے اس تارکول کے بیچ میں سے نظر آ رہے تھے۔ درمیان میں کچھ سفید قطعات بھی تھے جس سے مجموعی طور پر زمین چتکبری نظر آ رہی تھی۔ بعض مقامات پر گول کھیت نظر آ رہے تھے۔ ایک آتش فشاں پہاڑ بھی نظر آ رہا تھا جو نیچے سے تو ایک پہاڑ تھا مگر اوپر سے ایک پیالے کی شکل اختیار کر گیا تھا۔

آتش فشاں جب پھٹتا ہے تو بڑی تباہی پھیلاتا ہے لیکن اس کے بعد یہ تباہی انسان کے لئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ زمین کی تہوں سے زرخیز مٹی اوپر کی سطح پر پھیل جاتی ہے جو طویل عرصے کے لئے کھیتی باڑی کا کام دیتی ہے۔ یہی معاملہ انسان کی زندگی کا ہے۔ انسان پر کبھی بہت بڑی مصیبت آ جاتی ہے جس میں انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی زندگی اب ختم ہوئی کہ ہوئی۔ لیکن جب مصیبت کا یہ دور گزرتا ہے تو پھر اسے آسانی اس کا مقدر بنتی ہے۔ مصیبت میں حاصل کیے گئے تجربات انسان کے لئے آسانی کے دور میں مفید ہوتے ہیں۔ مصیبت و آسانی کیا ہے؟ محض انسان کے لئے صبر و شکر کے امتحانات ہیں۔ جس نے مصیبت میں صبر اور آسانی میں شکر کا دامن تھامے رکھا، وہ حقیقی زندگی میں کامیاب ہو گیا۔

ساحل کے ساتھ ساتھ ایک سیدھی لکیر مسلسل چلے جا رہی تھی۔ یہ جزیرہ نما عرب کی ساحلی سڑک تھی جو جنوب میں یمن کی بندرگاہ عدن سے شروع ہو کر ساحل کے ساتھ ساتھ شمال میں اردن کی بندرگاہ عقبہ تک جاتی ہے۔ یہاں سے یہ شام کے دارالحکومت دمشق تک چلتی ہے۔ دور جاہلیت میں قریش مکہ اسی راستے سے گرمیوں او رسردیوں میں تجارتی سفر کیا کرتے تھے جس کا ذکر سورہ قریش میں موجود ہے۔

سمندر کی تقسیم

میں نے اپنی سیٹوں کے درمیان موجود ہتھی کو اوپر اٹھا دیا اور اب کھلے ڈلے انداز میں آلتی پالتی مارے سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ زیادہ تھکن نہیں ہوتی۔ اچانک میری نگاہوں کے سامنے ایک عجیب منظر آ گیا۔ سمندر میں سے ایک بہت بڑی نہر نکل کر دائیں جانب جا رہی تھی۔ یہ نہر نہیں تھی بلکہ اس مقام پر بحیرہ احمر دو حصوں میں تقسیم ہو رہا تھا۔ ایک حصہ خلیج عقبہ کہلاتا ہے اور دوسرا خلیج سویز۔ اس منظر کو میں پہلے گوگل ارتھ پر دیکھ چکا تھا لیکن اپنی آنکھ سے اسے دیکھنے کا لطف ہی کچھ اور تھا۔ خشکی پانی کے درمیان آگے بڑھ کر تکون سی بنا رہی تھی۔ اس مقام کو "راس محمود"کہا جاتا ہے۔ اب ہم سعودی عرب کی حدود سے نکل کر مصر کی حدود میں داخل ہو رہے تھے۔یہاں ساحل کے پاس سمندر کا رنگ ہلکا نیلا تھا جو کورل ریف کی وجہ سے تھا۔ اسے دیکھنے کے لئے بہت سے لوگ غوطہ خوری کیا کرتے ہیں۔

نیچے "جزیرہ نما سینا" نظر آ رہا تھا جس کے جنوبی کونے میں "شرم الشیخ" کا شہر نظر آ رہا تھا۔ یہ ایسا شہر تھا جسے شرم چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔ یہاں اہل مغرب اور بے حیائی میں ان کے پیروکار اہل مشرق ساحلوں پر بے ہودگی کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔ اپنے پچھلے سفر میں ہم غلطی سے یہاں آ گئے تھے مگر اس کے ماحول نے ہمیں الٹے قدموں واپس مڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ شرم الشیخ سے کچھ فاصلے پر جزیرہ نما سینا کا جنوبی کونہ نظر آ رہا تھا جو "راس محمد" کہلاتا ہے۔ مفسرین کا اندازہ ہے کہ سیدنا موسی و خضر علیہما الصلوۃ والسلام کی ملاقات یہیں ہوئی تھی۔ قرآن مجید میں اس مقام کو "مجمع البحرین" یعنی دو سمندروں کے سنگم سے تعبیر کیا گیا ہے۔

جزیرہ نما سینا کا منظر

تھوڑی دور جا کر ایسا محسوس ہوا کہ جہاز زمین کے قریب آ رہا ہو۔ ایسا نہیں تھا بلکہ زمین اٹھ کر جہاز کے قریب آ رہی تھی۔ ہم اس وقت مصر کے بلند ترین مقام سے گزر رہے تھے۔ یہ کوہ طور کا علاقہ تھا جہاں اللہ تعالی سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے ہم کلام ہوئے تھے۔ بنی اسرائیل جو کئی سو سال کی غلامی کے باعث نہایت ہی پست اور غلامانہ ذہنیت کے حامل ہو چکے تھے ، اللہ تعالی نے حکم سے اس صحرا میں قید کر دیے گئے۔ اس صحرا میں ان کی غلامانہ ذہنیت والیپوری کی پوری نسل فوت ہو گئی اور نئی نسل صحرا کے کھلے ماحول میں پل کر جوان ہوئی۔اس نسل میں سیدنا یوشع اور کالب علیہما الصلوۃ والسلام جیسی جلیل القدرہستیاں تھیں جنہوں نے فلسطین میں خالصتاً خلافت راشدہ قائم کی۔اس کی تفصیل آپ میرے پچھلے سفر نامے "قرآن اور بائبل کے دیس میں " کے باب "جزیرہ نما سینا" میں دیکھ سکتے ہیں۔

رومن تھیٹر

کوہ طور کے علاقے سے گزر کر ہم اب حمامات فرعون کے علاقے میں داخل ہو رہے تھے۔ یہ وہ مقام تھا جہاں فرعون کے غرق ہونے کی بعد اس کی لاش تیرتی ہوئی ملی تھی۔یہاں چٹانیں اسٹیڈیم کی سیڑھیوں کی شکل میں موجود تھیں جو مل کر ایک رومن تھیٹر کی صورت بنا رہی تھیں۔ میری نگاہوں کے سامنے رومی دور کے کھیلوں کے مقابلے گردش کرنے لگے جب ظلم و ستم کے شکار غلاموں کو بھوکے شیروں سے لڑایا جاتا تھا۔ اگر خوش قسمتی سے غلام شیر کو ہلاک کر دیتا، جو کہ شاید ہی کبھی ہوا ہو، تو اسے آزادی نصیب ہو جاتی ورنہ وہ شیر کے ہاتھوں ہلاک ہو کر آزادی پا لیتا۔

یہ وہی دور تھا جب اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلاموں کو آزاد کر کے انہیں معاشرے میں باعزت مقام دینے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ جدید دور کے امریکہ میں غلامی کے خاتمے کے ڈیڑھ سو سال بعد سیاہ فام اس قابل ہو سکے ہیں کہ ان کی نسل سے تعلق رکھنے والا ایک شخص امریکہ کے صدر کے عہدے پر فائز ہوتا ہے۔ اس کے برعکس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غلامی کو اس طریقے سے ذہنوں سے کھرچ دیا کہ آپ کے دوسرے خلیفہ راشد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے بعد ایک سابق غلام سالم رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کرنا چاہتے تھے۔غلامی کے خاتمے کے لئے اسلام کے اقدامات کی تفصیل آپ میری کتاب "اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کےانسداد کی تاریخ" میں دیکھ سکتے ہیں۔

دریائے نیل کا ڈیلٹا

سینا سے گزر کر ہم خلیج سویز کے اوپر پرواز کر رہے تھے۔ نیچے سویز شہر تھا جس سے نہر سویز نکل رہی تھی۔ یہی نہر آگے چل کر ایک بڑی جھیل میں مل رہی تھی جس سے نہر دوبارہ نکل کر بحیرہ روم کی طرف جا رہی تھی۔ تھوڑی دور جا کر صحرا ختم ہونے لگا۔ اب گولڈن صحرا سبز کھیتوں کے ساتھ مل رہا تھا۔ کچھ ایسا ہی منظر میں نے سندھ کے اوپر پرواز کرتے ہوئے دیکھا تھا جہاں دریائے سندھ کی وادی تھرپارکر کے صحرا سے ملتی ہے۔ یہاں دریائے سندھ کی بجائے دریائے نیل تھا۔ کچھ جیالوں نے صحرا کے اندر تک پانی پہنچا کر کھیتی باڑی کی ہوئی تھی۔

کھڑکی سے نیچے بالکل وہی منظر تھا جو پنجاب کے اوپر پرواز کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ چوکور کھیت اور ان کے درمیان پھیلے ہوئے دیہات۔ پنجاب میں تو ایک وقت میں چھ ساتھ گاؤں نظر آتے ہیں مگر یہاں بیک وقت دس بارہ گاؤں نگاہوں کے سامنے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصر کی آبادی کا بڑا حصہ دریائے نیل کے ڈیلٹا میں رہتا ہے اور باقی حصہ بہت بڑے صحرا پر مشتمل ہے۔

اچانک ہمارے سامنے دریائے نیل کی مشرقی شاخ آ گئی۔ ڈیلٹا میں پہنچ کر دریائے نیل کئی شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جن کے درمیان کی زمین پر کھیتی باڑی ہوتی ہے۔ سامنے بحیرہ روم تھا جس میں دریائے نیل شامل ہو رہا تھا۔ ہم اب اسکندریہ اور پورٹ سعید کے درمیان سے گزر کر بحیرہ روم کے اوپر پرواز کر رہے تھے۔

غزہ کی پٹی

بحیرہ روم کا ساحل نصف دائرے کی شکل میں پھیلا ہوا تھا۔ یہاں مصر کی حدود ختم ہو کر فلسطین کی حدود شروع ہو رہی تھیں۔ جدید فلسطینی ریاستدو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک حصہ دریائے اردن کا مغربی کنارہ ہے اور دوسرا حصہ غزہ کی پٹی ہے جو بحیرہ روم کے کنارے واقع ہے۔ ان دونوں حصوں کے درمیان اسرائیل کا علاقہ ہے۔ یہاں پچھلے سال اسرائیلی افواج نے فلسطینی گوریلوں کے خلاف کاروائی کے دوران بہت سی خواتین، بوڑھوں اور بچوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان کے اس ظلم پر پوری مسلم دنیا سوائے احتجاج اور قنوت نازلہ پڑھنے کے اور کچھ نہ کر سکی تھی جس کا کچھ نتیجہ برآمد نہ ہوا تھا۔

میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا احتجاج اور دعائیں بے اثر کیوں ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہم مظلوم ہیں۔ اگر ایسا ہے تو دنیا میں ہماری شنوائی کیوں نہیں ہے۔ اس دنیا کو چھوڑیے ، اللہ تعالی کے حضور امت مسلمہ کے لئے ہماری دعا قبول کیوں نہیں ہوتی۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے دعا سے پہلے تدبیر کا حکم دیا ہے۔ پانی ہمیشہ بلندی سے پستی کی طرف بہتا ہے۔ اگر کوئی کسان پانی کے چشمے سے اوپر کی جانب کھیت بنا لے اور مصلے بچھا کر بیٹھ کر دعا کرنے لگے کہ میرا کھیت ہرا بھرا ہو تو اس کا کھیت کبھی ہرا بھرا نہ ہو گا۔ وہ پوری دنیا کے سامنے احتجاج کرنے لگے کہ دیکھو میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ دوسرے میرے حصے کا پانی لے کر جا رہے ہیں، مجھے کچھ نہیں مل رہا مگر اس کی بات کوئی نہ سنے گا۔

ہم نے بھی معاملہ کسان جیسا ہی کیا۔ پہلے ایک ہزار برس تک لمبی تان کر غفلت کی نیند سوتے رہے۔ غفلت اور عیش پرستی کے باعث اخلاقی اعتبار سے ہمارے معاشرے انحطاط کا شکار ہوتے چلے گئے۔علم کے میدان میں ہماری دلچسپی کا اصل مرکز الہیاتی فلسفہ بن گیا اور سائنس و ٹیکنالوجی کو ہم نے کبھی اہمیت نہ دی۔ اقتصادیات کے میدان میں بھی ہمارے ہاں جمود رہا۔دوسری طرف اخلاقی انحطاط کے باعث ہمارے وجود کا ایک حصہ دوسرے کو کھانے لگا۔

اس عرصے کے دوران اہل مغرب نے علم، اقتصادیات اور اخلاقیات کے میدان میں اپنے جھنڈے گاڑنا شروع کیے اور صورت یہاں تک پہنچی کہ ہمارا اور ان کا فرق بڑھتا چلا گیا۔ انہوں نے پہلے ریل ، کار اور جہاز کے ذریعے دنیا کے فاصلے ختم کر دیے۔ اس کے بعد ابلاغ کی دنیا میں انقلاب برپا کر کے دنیا میں اپنے افکار پھیلانا شروع کیے۔ سائنسی ترقی کا لازمی نتیجہ اقتصادی ترقی نکلا۔ ان کے ہاں بہت سے انقلابات کے نتیجے میں اخلاقی شعور پیدا ہوا اور دوسروں کے لئے نہ سہی مگر کم از کم اپنی قوم کی حد تک یہ لوگ اچھے انسان بن گئے۔

اس عرصے میں جو کچھ ہوا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قدو قامت میں اہل مغرب کے سامنے ہم بونوں کی طرح چھوٹے رہ گئے۔ یہ لوگ اگرچہ اپنی اقوا م کے لئے اچھے تھے مگر دوسری اقوام کے لئے ان کا اخلاقی معیار بہت ہی پست تھا۔ چنانچہ یہ ہم پر چڑھ دوڑے اور نوآبادیاتی نظام کی شکل میں انہوں نے ایشیا، افریقہ، امریکہ اور آسٹریلیا کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ شروع کر دی۔اس معاملے نے اقتصادی اعتبار سے ہمیں بہت ہی پستی میں دھکیل دیا ۔معاش اور اخلاق کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد کے مطابق غربت کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہم اخلاقی اعتبار سے پست سے پست ہوتے چلے گئے۔

عیسائی دنیا کو چھوڑ کر اگر مسلمانوںاور یہودیوں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس چھوٹی سی قوم سے بھی بہت پیچھے ہیں۔ دنیا میں ڈیڑھ ارب کے قریب مسلمان ہیں جبکہ یہود کی تعداد ڈیڑھ کروڑ کے قریب ہے۔ گویا دنیا میں ہر یہودی کے مقابلے میں 100 مسلمان موجود ہیں۔ یہ یہودی کوئی مذہبی گروہ نہیں ہے بلکہ ایک قومی اور نسلی گروہ ہے۔یہ ڈیڑھ کروڑ یہودی سوا ارب مسلمانوں کے مقابلے میں انتہائی طاقت ور ہیں۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔

سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ جدید دور کی تشکیل نو کے پیچھےیہود کے اعلی ترین دماغوں کا کردار ہے۔ فزکس کے میدان میں آئن اسٹائن، نفسیات کے میدان میں سگمنڈ فرائیڈ، معاشیات کے میدان میں پال سیموئیل سن اور ملٹن فرائیڈمین جیسے ماہرین ان کے ہاں پائے جاتے ہیں اور اس درجے کا ایک بھی عالم ہمارے ہاں نہیں ہے۔ میڈیکل کی دنیا کی بڑی بڑی ایجادات یہود ہی نے کی ہیں۔ پچھلے سو برس کے عرصے میں یہودی اہل علم نے 180 نوبل پرائز جیتے ہیں جبکہ مسلمانوں میں ان کی تعداد صرف 3 ہے۔ یہ حضرات بھی مسلم دنیا میں عتاب کا شکار ہی رہے۔دنیا کی دس بڑی کمپنیوں اور برانڈز کے اکثریتی مالک یہودی ہیں۔ امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا میں بااثر سیاستدان یہودی ہیں۔ دنیا کے میڈیا پر یہودی چھائے ہوئے ہیں۔ دنیا کے بڑے خیراتی ادارے تک یہودی چلا رہے ہیں۔ یہ تو ان کے اہل علم کا حال ہے، ان کے عام لوگوں میں تعلیم کا تناسب 100فیصد ہے جبکہ مسلمانوں میں یہ محض 40 فیصد ہے۔ اس تعلیم کا معیار بھی نہایت ہی پست ہے۔یہودی اپنے مذہب کو پھیلانا پسند نہیں کرتے ورنہ شاید دنیا کا سب سے بڑا تبلیغی نیٹ ورک بھی انہی کا ہوتا۔

ان اعداد و شمار کا مقصد مایوسی پھیلانا نہیں ہے بلکہ صورتحال کا حقیقی تجزیہ کرنا ہے۔ ہمارے اہل دانش کو اپنی کمزوری کا احساس بہت پہلے ہو چکا تھا۔ انہوں نے اس صورتحال کا درست تجزیہ نہیں کیا اور مسئلے کا حل یہ تجویز کیا کہ ہم جنگ کے ذریعے ان پر غلبہ حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ ہم اللہ تعالی کی چہیتی قوم ہیں ، ہم پر ظلم ہوا ہے اس وجہ سے اللہ تعالی کی مدد ہمارے شامل حال ہو گی۔ بس پھر کیا تھا، مسلمان پوری دنیا میں اہل مغرب کے خلاف صف آرا ہو گئے۔

یہ حل بالکل ایسا ہی تھا کہ کسی یتیم بچے کے گھر کوئی بدمعاش گروہ آ گھسے اور اس پر قبضہ کر کے بیٹھ جائے۔ اس بچے کے نام نہاد خیر خواہ اس کی پیٹھ ٹھونک کر اس کے ہاتھ میں ایک چاقو دیں اور اس بدمعاش گروہ کے مقابلے پر اس بچے کو آمادہ کر دیں۔ ہمارے ساتھ یہی ہوا۔ ہمارے لیڈروں نے ہماری پیٹھ ٹھونک کر ہمیں اس مقابلے پر مجبور کر دیا۔

یقیناً اللہ تعالی کا پسندیدہ دین اسلام ہے جس سے اپنے اخلاقی انحطاط کے باعث ہم کوسوں دور جا چکے تھے۔ سائنس اور اقتصادیات کے میدانوں میں ہم بہت پیچھے تھے۔ دوسرے تو کیا ، ہم اپنی قوم کے لئے مخلص نہ تھے۔ چنانچہ ہم نے دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی دعا کے ساتھ اس میدان میں ان کا مقابلہ شروع کیا جس میں مقابلے کے ہم اہل نہ تھے۔ اللہ تعالی کی مدد تو کیا آتی، ہمیں اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ اس مقابلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ دشمن کو تو ہم شاید ہی کوئی بڑا نقصان پہنچا سکتے، ہمارے اپنے معاشرےتباہی کا شکار ہوتے چلے گئے۔ چنانچہ آج امریکہ اور اسرائیل اپنی جگہ موجود ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس صومالیہ، فلسطین، عراق، افغانستان اور پاکستان کی حالت پوری دنیا کے سامنے ہے۔

اگر ہمیں مقابلہ کرنا ہی ہے تو اس کے لئے میدان کچھ اور ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں چین سے سبق سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے دنیا کے ہر جھگڑے سے خود کو علیحدہ رکھ کر اپنی پوری توجہ علمی اور اخلاقی اعتبار سے خود کو بہتر بنانے پر دی ہوئی ہے۔ اسی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے جاپان، کوریا، سنگاپور اور ملائشیا جیسے ممالک ترقی یافتہ کی صف میں شامل ہو چکے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم علم کے میدان میں اہل مغرب کا مقابلہ کریں۔ اگر ان کے ہاں دس اہل علم پیدا ہوتے ہیں تو ہم بیس اہل علم پیدا کر کے دکھائیں۔ اگر وہ اپنے ہاں غربت کا خاتمہ دس سال میں کر سکتے ہیں تو ہم پانچ سال میں ایسا کر کے دکھائیں۔ اگر وہ سو ایجادات کرتے ہیں تو ہم دو سو ایسی ایجادات کر کے اپنی علمی برتری ثابت کریں۔ اگر انہوں نے کرپشن سے پاک معاشرہ پچاس سال میں پیدا کیا ہے تو ہم ایسا پچیس سال میں کر کے دکھائیں۔ اگر وہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے ایک ارب خرچ کرتے ہیں تو ہم دو ارب اس کام میں خرچ کریں۔ اگر یہود اپنے دین کی دعوت دوسروں کو نہیں پہنچاتے تو ہم اللہ کے پیغام کو اس کی حقیقی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کریں۔ جس دن ہم نے ایسا کر لیا، اس دن دنیا میں بھی ہماری بات سنی جائے گی اور اللہ تعالی بھی ہماری دعا کو قبول کرے گا۔

الحمد للہ مسلم دنیا میں اس بات کا احساس پیدا ہو چکا ہے۔ بہت سے لوگ ہمارے ہاں اب تخریب کو چھوڑ کر تعمیر کی طرف آ چکے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی غربت کے خاتمے ، علم کے فروغ، اور اخلاقی تربیت کا کام شروع ہو چکا ہے۔ اب ضرورت اس کو آگے بڑھانے کی ہے۔ تخریب کے راستے پر دو سو سال کی ناکامیوں کے بعد ہم نے یہ سیکھ لیا ہے کہ اس راستے پر چل کر ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ہمارے ہاں ان لوگوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی واقعتًا ایک برائی ہی ہے اور اس برائی سے نیکی کا کوئی مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ ہم نے الحمد للہ تعمیر کا راستہ اختیار لیا ہے اور اب انشاء اللہ اب تعمیر کے راستے پر چل کر محض تیس چالیس برس میں ہم نتائج دیکھ لیں گے۔

فطرت کا نیلا کینوس

غزہ کی پٹی کے بعد ہم ساحل سے دور ہوتے چلے گئے۔ اب ہمارے نیچے صرف سمندر تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا دور تک ایک نیلے رنگ کی چادر پھیلی ہوئی ہے۔ فضا میں جا بجا سفید بادلوں کے ٹکڑے اس طرح سے پھیلے ہوئے تھے جیسے ایک وسیع نیلے کینوس پر روئی کے گالے چپکا دیے گئے ہوں۔ میرے کانوں میں قرآن مجید کی یہ آیت گونجنے لگی: ُوَ الذِى خَلَقَ لَكُم ما فِى الأرضِ جَمِيعًا" یعنی "وہی (خالق) تو ہے جس نے اس زمین میں جو کچھ ہے، وہ تمہارے لئے بنایا۔"

یہ مٹی، یہ سمندر، یہ بادل، یہ فضا، یہ پانی، یہ ہوا، یہ جانور سب کا سب اللہ تعالی نے ہمارے لئے ہی بنایا ہے۔ ہم ان کروڑوں نعمتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے خالق کی ناشکری ان چند چیزوں پر کر جاتے ہیں جو اس نے کسی مصلحت کے تحت ہمیں عارضی طور پر عطا نہ کی ہوں۔

میں سوچنے لگا کہ یہ سیارہ زمین، جسے اللہ تعالی نے ہمارے لئے بنایا ہے، ہماری ماں کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح اللہ تعالی ماں کی چھاتیوں کے ذریعے ہمیں ابتدائی خوراک فراہم کرتا ہے بالکل اسی طرح وہ آکسیجن، پانی، نباتات اور حیوانات کی نعمتوں کو اسی زمین کے ذریعے ہمیں فراہم کرتا ہے۔ہمارے ہاں بعض جذباتیاور تنگ نظر لوگ اس زمین کے کسی مخصوص خطے کو اپنی دھرتی ماں قرار دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پورا کرہ ارض ہماری دھرتی ماں ہے۔ جس طرح انسان اپنی ماں کی خدمت ، محبت کے ساتھ کرتا ہے بالکل اسی طرح یہ دھرتی ماں ہم سے اس خدمت کی طلب گار ہے کہ اس کی ہوا ، پانی اور مٹی کو آلودہ نہ کیا جائے۔ ہم میں سے ہر شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ممکنہ حد تک اسے پاک صاف رکھیں۔یہی ہمارے خدا اور اس کے دین کا تقاضا ہے۔

سوائن فلو

ان دنوں سوائن فلوپھیلا ہوا تھا۔ اس کے خطرے کے پیش نظر ترکی کی حکومت نے جہاز میں فارم تقسیم کروائے تھے جن میں مسافروں نے اپنی تفصیلات کے علاوہ سوائن فلو کی علامات سے متعلق کچھ سوالات کے جواب دینا تھے۔ اس قسم کے فارمز کا حقیقتاً کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ان کی وجہ سے ان پڑھ لوگ مشکل میں آ جاتے ہیں۔ میں نے جدہ ایئر پورٹ پر بہت سے سیدھے سادھے دیہاتیوں کو فارم بھرنے کی مصیبت کرتے دیکھا ہے۔ مسافروں کی زندگی مشکل بنانے کی بجائے آسان طریقہ یہ ہے کہ امیگریشن آفیسر کے ساتھ ایک ڈاکٹر کو بٹھا دیا جائے جو امیگریشن کے دوران چند سوالات کر کے ابتدائی معائنہ کر لےاور اگر کسی میں یہ علامتیں پائی جائیں تو اس کے تفصیلی ٹسٹ وغیرہ کر لیے جائیں۔

میرے ذہن میں ابن بطوطہ کے زمانے کی وبا کی یاد تازہ ہو گئی۔ ان کے شام کے سفر کے دوران وہاں طاعون پھوٹ پڑا تھا جس میں صرف دمشق شہر میں ایک ایک دن میں دو دو ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ موصوف لکھتے ہیں:

"میں عظیم طاعون کے زمانے میں ربیع الآخر سن 749ھ (1348ء) کے آخری دنوں میں دمشق پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ حیران کر دینے کی حد تک اس مسجد کی تعظیم کر رہے ہیں۔ بادشاہ کے نائب ارغون شاہ نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ دمشق کے سب لوگ تین دن روزہ رکھیں اور بازاروں میں کھانا نہ پکائیں۔ لوگوں نے لگاتار تین دن روزہ رکھا۔ آخری روزہ جمعرات کے دن تھا۔ اس کے بعد تمام امراء ، شرفاء، جج، فقہاء، اور مختلف طبقات کے لوگ جامع مسجد میں جمع ہوئے اور ان سے مسجد بھر گئی۔

انہوں نے یہاں جمعہ کی رات نماز، ذکر اور دعا میں گزاری۔ اس کے بعد انہوں نے فجر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد وہ سب کے سب پیدل باہر نکلے۔ ان کے ہاتھوں میں قرآن مجید تھا اور ان کے امراء تک ننگے پاؤں تھے۔ شہر کے تمام لوگ، مرد و خواتین، چھوٹے بڑے، سب کے سب نکلے۔ یہودی اپنی تورات کے ساتھ نکلے۔ عیسائی اپنی انجیل کے ساتھ نکلے۔ ان کی خواتین اور بچے بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وہ سب کے سب اللہ تعالی کے حضور عجز و انکسار کے ساتھ اپنے کتاب اور انبیاء کا واسطہ دے کر دعا کر رہے تھے۔ وہ پیدل (باہر کی) مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ یہاں پہنچ کر وہ زوال کے وقت تک عاجزی سے رو رو کر دعا کرتے رہے ۔ اس کے بعد وہ شہر کی جانب پلٹے اور نماز جمعہ ادا کی۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے یہ معاملہ جب ہلکا کیا تو اس وقت ان کے مرنے والوں کی تعداد روزانہ 2000 تک پہنچ گئی۔"

دولت اور عیش میں پڑ کر انسان خود کو اتنا بڑا سمجھنے لگتا ہے کہ وہ اپنے خالق کے خلاف بغاوت پر اتر آتا ہے۔ وبائی امراض انسان کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ انسان ایک برتر ہستی کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ان کا جینا اور مرنا ایک ہی ہستی کے دست قدرت میں ہے۔ ابن بطوطہ کے دور میں طاعون اور ہمارے دور میں ایڈز، برڈ فلو اور سوائن فلو انسان کو اپنے عجز کا احساس دلاتے ہیں۔ اب یہ انسان کی مرضی ہے کہ وہ اس طرف توجہ دے کر کامیاب ہو یا اس وارننگ کو نظر انداز کر کے ناکام۔

جہاز آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ دور افق پر بادل کچھ اس طرح چمک رہے تھے جیسے پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف چمکتی ہے۔ بادلوں سے کچھ نیچے انطالیہ کے پہاڑ نظر آ رہے تھے۔ اب بحیرہ روم ختم ہو رہا تھا اور ہم جزیرہ نما اناطولیہ میں داخل ہو رہے تھے۔ بہتر ہو گا کہ آگے بڑھنے سے پہلے ہم ترکی کے جغرافیہ اور تاریخ سے متعلق ضروری واقفیت حاصل کر لیں تاکہ بعد میں ان کا حوالہ دینے میں آسانی ہو۔

 

اگلا باب †††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست †††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

 

 

مصنف کی دیگر تحریریں

اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا سدباب/سفرنامہ ترکی/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں ††††/†† علوم الحدیث: ایک مطالعہ/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص ††/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟†† /مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت †††/Quranic Concept of Human Life Cycle ††††/Empirical Evidence of Godís Accountability