بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

ترکی کا تعارف

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 20MB)

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے بغیر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ترکی ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔ جیسا کہ آپ نقشے میں دیکھ سکتے ہیں کہ جدید ترکی کے بنیادی طور پر دو حصے ہیں۔ بڑا سبز حصہ ایک جزیرہ نما کی شکل کا ہے جو کہ "اناطولیہ" کہلاتا ہے۔ اسے ایشیائے کوچک (Asia Minor) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس چھوٹا حصہ جو سرخ لکیروں میں دکھایا گیا ہے، "تھریس" کہلاتا ہے۔ اناطولیہ ایشیا جبکہ تھریس یورپ کا حصہ ہے۔تھریس میں ترکی کی سرحد بلغاریہ اور یونان سے ملتی ہے۔

ترکی کا نقشہ اور اس کے مختلف ریجن

اناطولیہ کو مختلف ریجنوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نیچے سے دیکھیے تو بحیرہ روم کے ساتھ والا حصہ "میڈی ٹرینین ریجن" کہلاتا ہے۔ بحیرہ روم ترکی کے مغرب میں پتلا ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس حصے کو "آگین ریجن" کہا جاتا ہے اور یہاں کا سمندر آگین سی کہلاتا ہے۔یہ آگین سی ایک تنگ سی آبنائے کے ساتھ گزر کر ایک نسبتاً کھلی جھیل میں داخل ہوتا ہے۔ یہ جھیل "بحیرہ مرمرہ" کہلاتی ہے اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ "مرمرہ ریجن" کہلاتا ہے۔

استنبول کے پاس پہنچ کر بحیرہ مرمرہ دوبارہ تنگ ہو کر "آبنائے باسفورس "کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ تنگ سی آبنائے دوبارہ ایک بہت ہی بڑی جھیل میں جا گرتی ہے جو "بحیرہ اسود" یا "بلیک سی "کہلاتی ہے۔ یہ بحیرہ کیسپین کے بعد دنیا کی دوسری بڑی جھیل ہے۔بلیک سی کے آس پاس کا علاقہ "بلیک سی ریجن" کہلاتا ہے۔

ترکی کا شمال مشرقی علاقہ دشوار گزار اور بلند ترین پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ یہاں اس کی سرحد جارجیا، آرمینیا اور ایران سے ملتی ہے۔ ترکی، ایران اور آرمینیا کی سرحد پر ترکی کا بلند ترین پہاڑ کوہ ارارات واقع ہے۔جنوب مشرق میں ترکی کی سرحد عراق اور شام سے ملتی ہے۔ ترکی کے مشرقی بلند پہاڑوں سے دنیا کے دو مشہور دریا دجلہ و فرات نکلتے ہیں۔ دریائے دجلہ براہ راست عراق میں داخل ہو جاتا ہے جبکہ فرات پہلے شام اور پھر عراق میں داخل ہو کر اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ یہ دونوں دریا جنوبی عراق میں بصرہ کے قریب خلیج فارس میں جا گرتے ہیں۔ان دونوں دریاؤں کے درمیان کی وادی میسو پوٹیمیا کہلاتی ہے جس کا اوپری حصہ ترکی، درمیانہ حصہ شاماور نچلا حصہ عراق میں واقع ہے۔

بہتر ہو گا کہ ہم اپنے سفر کا نقشہ بھی قارئین کی خدمت میں پیش کر دیں تاکہ انہیں واضح طور پر ہر علاقے کے بارے میں علم ہو سکے۔

مصنف کا ترکی میں سفر

ہم نے اپنے سفر کا آغاز استنبول سے کیا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ پہلے ترکی کے باقی علاقوں کو دیکھ لیا جائے اس کے بعد آخری ایام استنبول میں گزارے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ استنبول پہنچتے ہی ہم یہاں سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹے شہر "بولو" کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس کے بعد اگلے دن "سامسن" میں رات گزاری۔ تیسرے دن ہم "ترابزن" کی طرف روانہ ہوئے اور شہر سے 90 کلومیٹر دور ایک خوبصورت جھیل "یوزن گول" پر دو دن قیام کیا۔ یہاں سے ہم جارجیا کی سرحد کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں سے "کچکار" پہاڑوں سے گزرتے ہوئے "ارض روم" پہنچے۔ اگلے دن ہم نے ایران کی سرحد پر واقع "ڈوغو بایزید" کا سفر کیا اور کوہ ارارات کی سیر کے بعد واپس ارض روم پہنچے۔ اس کے بعد ہم "ارزنجان"، "شیواس" سے ہوتے ہوئے انقرہ پہنچے۔ انقرہ سے ہم نے "برسا" اور "الوداغ" پہاڑوں کا رخ کیا اور یہاں سے واپس استنبول پہنچے۔

ترکی کے جغرافیے کے ساتھ ساتھ اس کی مختصر تاریخ بھی اگر بیان ہو جائے تو اس کے مختلف علاقوں کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

ترکی کے اناطولیہ ریجن کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ یہاں پتھر کے زمانے سے انسان موجود ہے۔ بلیک سی کے ارد گرد کے علاقے میں اب سے دس ہزار سال پہلے آبادی کے آثار ملتے ہیں۔ آسانی کے لئے ہم ترکی کی تاریخ کو ان ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں:

       زمانہ قبل ازتاریخ: 2500 ق م سے پہلے

       کانسی کا دور: 2500 ق م سے 700 ق م

       لوہے کا دور: 700 ق م سے 330 ء

       رومن بازنطینی دور: 330 ء سے 1453ء

       سلجوقی دور: 1071ء سے 1300ء

       عثمانی دور: 1299ء سے 1923ء

       ری پبلکن دور: 1923ء سے تا حال

ان ادوار کی تفصیل ہم مختصر طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ قیمتی معلومات ہمیں مختلف انسائیکلو پیڈیاز اور آل اباؤٹ ترکی ڈاٹ کام سے دستیاب ہو سکی ہیں:

قبل از تاریخ کا زمانہ: 2500 ق م سے پہلے

ترکی میں قبل از تاریخ کے زمانےکے آثار ملتے ہیں۔ بلیک سی کی تہہ میں انسانی آبادی کے آثار ملے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں یہ علاقے پانی سے باہر تھے۔ کسی جغرافیائی حادثے کے نتیجے میں بلیک سی کی سطح بلند ہوئی اور یہ علاقے زیر آب آ گئے۔ قدیم زمانے میں اناطولیہ کا بڑا حصہ عراق کی قدیم اکدانی سلطنت کے زیر اثر رہا ہے۔تاریخی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے طوفان کا زمانہ بھی یہی ہے۔ عین ممکن ہے کہ انہی کے طوفان کے باعث بلیک سی کی سطح بلند ہوئی ہو۔

کانسی کا زمانہ: 2500 ق م سے لے کر 700 ق م

اس دور کو کانسی کا دو راس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں آلات اور برتنوں کا بڑا حصہ کانسی سے بنایا جاتا تھا۔ 2500 ق م کے بعد حتیوں نے اناطولیہ میں قدم جمانے شروع کر دیے۔ یہ انڈو یورپین نسل کے کسان تھے۔ انہوں نے اناطولیہ کے علاقے میں ایک عظیم سلطنت قائم کی۔ ان کے قوانین معاصر تہذیبوں کی نسبت زیادہ انسان دوست تھے۔ ان کے پورے دور میں دیگر اقوام اناطولیہ پر حملے کرتی رہیں۔حتیوں کا مذہب مشرکانہ تھا جس میں وہ متعدد خداؤں کی پرستش کیا کرتے تھے۔ بادشاہ کو پجاریوں کا سربراہ مانا جاتا تھا۔ حتی سلطنت 1400 ق م کے لگ بھگ اپنے عروج کو پہنچی۔ آہستہ آہستہ اسے زوال آ گیا اور اس کی جگہ متعدد تہذیبوں نے لے لی۔

حتیوں کے ساتھ ساتھ اناطولیہ کے کچھ حصے پر آشوری (Assyrians) بھی قابض رہے۔ ان کا اصل وطن دجلہ اور فرات کے درمیان کی زرخیز وادی تھی جسے میسو پوٹے میا (Mesopotamia) کہا جاتا ہے۔ یہاں سے یہ دجلہ و فرات سے اوپر کی جانب سفر کرتے ہوئے اناطولیہ پر قابض ہوئے۔

اس پورے عرصے میں ترکی کے مختلف علاقوں میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم رہیں۔ مغرب کی جانب سے یہ یونانی اقوام کے زیر اثر رہا جبکہ مشرقی جانب سے یہ عراق کی قدیم سلطنتوں کے زیر اثر رہا۔ اس زمانے میں مغربی ترکی میں آئیونیا تہذیب، فرائ جیا تہذیب، اور ٹرائے کی تہذیب غالب رہی۔

لوہے کا دور: 700 ق م سے 330 ء

لوہے کے دور کا آغاز سیدنا داؤد علیہ الصلوۃ والسلام سے ہوا۔ قرآن مجید کے مطابق اللہ تعالی نے ان کے ہاتھ میں لوہے کو نرم کر دیا تھا جس کے باعثانہوں نے لوہے کی وسیع سلطنت قائم کی۔ ان کے بیٹے سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں لوہے کے علاوہ دیگر قسم کی صنعتوں کے غیر معمولی ترقی کی۔ ہواؤں کو مسخر کیا گیا۔ سمندر کے خزانوں کو تلاش کیا گیا۔ عظیم الشان عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ان کی سلطنت میں سائنسی ترقی کا یہ عالم تھا کہ یمن جیسے ترقی یافتہ ملک کی ملکہ بھی ان کے محل میں پہنچ کر خود کو دیہاتی دیہاتی سا محسوس کرنے لگی۔ یہ ترقی اسرائیل سے نکل کر دیگر قوموں تک بھی پہنچی۔

اس دور میں مغربی ترکی لڈیا کی سلطنت اور مشرقی ترکی ایران کی ہاخا منشی سلطنت کے زیر اثر آ گیا۔ 334 ق م میں اس علاقے کو یونان کے اسکندر نے فتح کر لیامگر اس کے جانشین اتنی بڑی سلطنت کو سنبھال نہ سکے اور یہ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ اس کے بعد یہاں طویل عرصے تک یونانیوں کی سلیوسی سلطنت کی حکومت رہی جو کہ 63ء تک قائم رہی۔ درمیان میں کچھ عرصے کے لئے آرمینیوں کی حکومت بھی یہاں قائم رہی۔

اس کے کچھ عرصے بعد رومیوں کو عروج نصیب ہوا اور ان کے فاتحین نے پورا اناطولیہ فتح کر کے اسے روم کا حصہ بنا دیا۔ ابتدا میں یہ ایک جمہوری حکومت تھی لیکن بعد میں یہ بادشاہت میں تبدیل ہو گئی۔ انہوں نے ترکی کے علاوہ موجودہ شام، اردن ، فلسطین اور مصر پر قبضہ جما لیا۔ اسی دور میں سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوئی۔ آپ کے بعد آپ کے ماننے والوں کی بڑی تعداد نے ترکی کو اپنا مسکن بنایا اور یہاں دعوتی و تبلیغی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

رومی دور: 330 ء سے 1453ء

300ء کے لگ بھگ اس پورے علاقے کی اکثریت عیسائی مذہب اختیار کر چکی تھی۔ 330ء میں رومی شہنشاہ قسطنطین نے عیسائیت قبول کر کے اسے سرکاری مذہب قرار دیا۔ یہی وہ بادشاہ ہے جس نے موجودہ استنبول کے مقام پر عظیم شہر قسطنطنیہ بسانے کا حکم دیا جو اس کا دارلحکومت قرار پایا۔ اس سے پہلے یہ ایک چھوٹا سا شہر تھا جو بازنطین کہلاتا تھا۔

ساتویں صدیکے دوران مسلمانوں نے شام اور مشرقی ترکی کو فتح کر لیا جس کے نتیجے میں رومی سلطنت صرف اناطولیہ کے مغربی علاقوں تک محدود ہو گئی۔1037ء میں اس علاقے میں طغرل بیگ نے سلجوقی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ مشرقی اور وسطی اناطولیہ پر سلجوقوں اور مغربی ترکی پر رومنوں کی حکومت رہی۔ سلجوقی سلطنت کے زوال پر اس کی باقیات سے عثمانی ترکوں نے جنم لیا اور مشرقی ترکی پر اپنی حکومت قائم کر لی۔

عثمانی دور: 1453ء سے 1923ء

1453ء میں عثمانی بادشاہ سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کر لیا۔ اس کے بعد عثمانیوں نے یورپ، وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور افریقہ میں اپنی فتوحات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے عثمانی سلطنت کو وسعت دی۔ عثمانیوں نے حکومت کے مختلف شعبوں کو غیر معمولی انداز میں منظم کیا جس کے نتیجے میں وہ اپنے دور کی سپر پاور بن گئے۔ آہستہ آہستہ اس سلطنت کو زوال آنا شروع ہوا۔ انیسویں صدی اس سلطنت کے زوال کا دور ہے جس میں یہ سلطنت اندرونی طور پر کمزور ہوتی چلی گئی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں پہلی عالمی جنگ ہوئی جس میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا۔ اس جنگ میں جرمنی کی شکست کے ساتھ ہی برطانیہ اور فرانس کی افواج نے اس عظیم سلطنت کے ٹکڑے کر کے بہت سے ممالک بنا دیے۔

ری پبلکن دور: 1923ء تا حال

عثمانی سلطنت کی باقیات پر جدید ترکی کی حکومت قائم ہوئی۔ نوجوان ترکوں پر مشتمل افواج ، جن کی قیادت مصطفی کمال کے پاس تھی، نے بیک وقت سلطنت عثمانیہ اور اتحادی افواج کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ یہ لوگ اتحادیوں کو اپنے ملک سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کے بعد مصطفی کمال نے سیکولر دور کی ابتدا کی جو آج تک جاری ہے۔

 

اگلا باب †††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست †††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

 

 

مصنف کی دیگر تحریریں

اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا سدباب/سفرنامہ ترکی/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں ††††/†† علوم الحدیث: ایک مطالعہ/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص ††/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟†† /مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت †††/Quranic Concept of Human Life Cycle ††††/Empirical Evidence of Godís Accountability