بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

استنبول میں آمد

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 20MB)

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے بغیر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اب ہم ترکی کی فضاؤں میں داخل ہو رہے تھے۔ ہمارے سامنے جنوبی ترکی تھا جس میں اونچے نیچے پہاڑوں کا سلسلہ جاری جاری تھا۔ آہستہ آہستہ ہم آگین ریجن کی طرف جا رہے تھے۔ ہمارے بائیں جانب بحیرہ آگین تھا اور دائیں جانب بہت سے چھوٹے بڑے شہر پھیلے ہوئے تھے۔ ہمارے سامنے ایک بہت بڑی جھیل نظر آ رہی تھی جو کہ "بے شہر گولو" کہلاتی ہے۔ ترکی زبان میں جھیل کو گولو کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹی موٹی بہت سی جھیلیں ہمیں ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر نظر آ رہی تھیں۔ یہاں سے کچھ ہی فاصلے پر "قونیہ" کا مشہور تاریخی شہر تھا جو تصوف یا صوفی ازم کے عالمی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔

ترکی میں واٹر مینجمنٹ

ہماری نگاہوں کے سامنے پہاڑوں کے درمیان دریا بہہ رہے تھے ۔ جہاں بھی مناسب جگہ تھی وہاں ترکی کی حکومت نے ڈیم تعمیر کر کے بجلی اور آب پاشی کا اہتمام کیا تھا۔ حد نگاہ تک جھیلیں اور ڈیم پھیلے ہوئے تھے۔جہاں دریا نہیں بھی تھے وہاں بھی ڈیم بنے ہوئے تھے تاکہ بارش اور سیلاب کی صورت میں پانی کو اکٹھا کیا جا سکے۔

یہ ترکی کا پہلا امپریشن تھا کہ یہاں کی حکومتیں اپنی عوام کے لئے کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہیں۔ ترکی میں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کی حکومت ہے جو اسلام پسند سمجھی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں کے نام نہاد اسلام پسند سیاست دانوں نے سوائے منفی ذہنیت پھیلانے کے اور قوم کو احتجاجی نفسیات میں مبتلا کرنے کے اور کچھ نہیں کیا۔ انہیں اگر کہیں حکومت بھی نصیب ہوئی ہے تو انہوں نے عوام کے اصل مسائل سے پہلو تہی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی عوام میں کوئی جڑیں موجود نہیں ہیں۔

ترکی کے اسلام پسند اس معاملے میں مختلف ہیں۔ انہوں نے عوام کے اصل مسائل جیسے مہنگائی، کرپشن، توانائی اور امن و امان کو اپنا مسئلہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پارٹی کو زبردست عوامی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ ترکی میں ڈیموں کی 1200 سے متجاوز ہے۔ ان میں سے 23 بڑے ڈیم ہیں جن کا مقابلہ ہمارے تربیلا اور منگلا ڈیم سے کیا جا سکتا ہے۔کچھ عرصہ قبل ترکی نے دریائے فرات پر ایک بہت بڑا ڈیم تعمیر کیا ہے جس کی وجہ سے شام اور عراق سے اس کے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔

اس کے برعکس ہمارے ہاں، جہاں پانچ بڑے اور بہت سے چھوٹے دریا بہتے ہیں، ڈیموں کی تعداد سو سے بھی کم ہے جن میں سے بڑے ڈیم صرف دو ہی ہیں۔ ہم بھی ڈیم بنا کر بجلی اور پانی کے مسائل حل کر سکتے ہیں مگر ہماری قوم ایک دوسرے سے ہی مخلص نہیں ہے۔

جہاں ڈیم بنانا ملک کی ترقی کے لئے اچھا ہے وہاں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ یہ ڈیم ماحولیات کو تباہ نہ کریں۔ اس وجہ سے ڈیم بنانے سے قبل پانی کی ایکو لوجیکل اسٹڈی کی جاتی ہے تاکہ پانی کی مخلوقات کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔ ایسا کر کے ہم ان مخلوقات پر نہیں بلکہ خود اپنے آپ پر احسان کرتے ہیں کیونکہ ان جانداروں کی نسلوں کے خاتمے سے انسانی زندگی پر ایسے زہریلے اثرات رونما ہوتے ہیں جس کا اندازہ ہم نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالی نے ہر مخلوق کو کسی خاص مقصد سے بنایا ہے۔ ان میں سے ایک مخلوق کا خاتمہ ماحول پر ایسے برے اثرات مرتب کرتا ہے کہ جس سے انسان اور دیگر جاندار بیماریوں اور وباؤں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ ہماری دینی ذمہ داری ہے کہ ہم ماحولیات سے متعلق شعور پیدا کریں اور اس طرح قرآن مجید کے حکم کے مطابق خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں۔

اب ہم کافی سرسبز علاقے پر پرواز کر رہے تھے۔ یہاں پہاڑوں اور اونچے نیچے میدانوں کا سلسلہ جاری تھا۔ کہیں کہیں یہ میدان سبز کی بجائے بھورے رنگ کے دکھائی دے رہے تھے۔ یہ یقیناً وہ کھیت تھے جن سے فصل اتار لی گئی ہو گی۔

استنبول میں لینڈنگ

اب ہم بحیرہ مرمرہ کے اوپر پرواز کر رہے تھے۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ بحیرہ روم ، آگین سی کی شکل میں تنگ سمندر میں تبدیل ہوتا ہے ۔ یہ سمندر شمال میں تنگ ہوتا چلا جاتا ہے اور آبنائے چناقی قلعہ کے پاس جا کر بالکل تنگ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ یک لخت ایک بہت بڑی جھیل کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو بحیرہ مرمرہ کہلاتی ہے۔

نیچے برسا کے گرد و نواح کے نہایت ہی سرسبز پہاڑ نظر آ رہے تھے۔ یہاں عجیب بات یہ تھی کہ سمندر اور سبزہ بیک وقت موجود تھا۔ ایک طرف نیلا سمندر اور دوسری طرف سرسبز پہاڑ۔ یہ پہاڑ عین ساحل پر واقع تھے۔میرا تجربہ ہے کہ سمندر خشکی کے ساتھ ملاپ سے ہی خوبصورت لگتا ہے ورنہ اس کی یکسانیت سے انسان بور ہو جاتا ہے۔ بحیرہ مرمرہ کے اوپر سے گزر کر جہاز استنبول کے ایئر پورٹ کی طرف جا رہا تھا۔

استنبول دنیا کا واحد شہر ہے جو دو براعظموں میں واقع ہے۔ آبنائے باسفورس کے مشرقی جانب ایشیا اور مغربی جانب یورپ ہے۔ شہر دونوں جانب آباد ہے اور دو بڑے پل ان دونوں حصوں کو آپس میں ملاتے ہیں۔ ایئر پورٹ یورپی حصے میں ہے۔

جہاز کے چیف پائلٹ نے غالباً اپنے اسسٹنٹ کو تربیت دینے کے لئے لینڈنگ کرنے کا کہا تھا۔ ان حضرت نے کافی بری لینڈنگ کا مظاہرہ کیا اور جہاز کے پہیوں نے ٹھک کر کے جھٹکے سے زمین کو چھو لیا۔ جہاز میں موجود ترکوں نے پرجوش انداز میں تالیاں بجا کر وطن پہنچنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ ان میں وہ لوگ شامل تھےجو کافی عرصے بعد اپنے وطن واپس پہنچے تھے ۔ کچھ ایسی ہی خوشی کا اظہار واپسی کے سفر میں سعودیوں نے جدہ کی لینڈنگ کے وقت کیا تھا مگر ان کا اسٹائل کافی مہذب تھا۔

امیگریشن

جہاز ٹنل پر جا لگا۔ ہم لوگ یہاں سے نکل کر امیگریشن کاؤنٹر کی جانب بڑھے۔ اتنے میں ایک باحجاب خاتون تیزی سے ہماری جانب آئیں اور عربی میں کہنے لگیں، "سعودی حضرات امیگریشن سے پہلے ویزا کاؤنٹر سے ویزا لے لیں۔" سعودی شہریوں کے لئے ایئر پورٹ پر ہی ویزا کی سہولت موجود تھی۔ ہم لوگ امیگریشن کاؤنٹر کی جانب بڑھے۔ یہاں کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔ اس وقت بہت سی فلائٹس اتری تھیں جس کی وجہ سے امیگریشن کی قطار بہت طویل تھی۔ یہ قطار آخر میں جا کر پندرہ بیس کاؤنٹرز پر ختم ہو رہی تھی۔ امیگریشن آفیسرز تیزی سے مہریں لگا کر لوگوں کو فارغ کر رہے تھےجس کے باعث قطار تیزی سے کھسک رہی تھی۔

قطار میں زیادہ تر لوگ یورپین تھے۔ ان میں سے پاکستانی صرف ہم ہی تھے۔سابقہ تجربے کے باعث میرا خیال یہ تھا کہ جیسے ہی ہم امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچیں گے، ہمارے سبز پاسپورٹ دیکھتے ہی امیگریشن آفیسر ہمیں کوئی نامی گرامی دہشت گرد یا اسمگلر سمجھتے ہوئے علیحدہ کمرے کی طرف بھیج دے گا۔ وہاں ترکش امیگریشن اور انٹیلی جنس کا عملہ ہم سے طویل تفتیش کرے گا اور مطمئن ہونے کے بعد ہماری جان چھوڑے گا۔ ہمارے سامان کی باریک بینی سے تلاشی لی جائے گی اور ہمارے جسم کے ریشے ریشے کو جدید مشینوں کی مدد سے چیک کیا جائے گا۔

میں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے اپنے ذہن میں طویل منصوبہ بندی کر لی۔ اگر انہوں نے یہ سوال کیا تو اس کا جواب یہ ہو گا۔ اگر وہ پوچھا تو اس طرح جواب دوں گا۔ میں نے بیس پچیس سوالات کے ممکنہ جوابات تیار کر لیے۔ میں نے سوچا کہ اگر انہوں نے ترکی آمد کا مقصد پوچھا تو کہوں گا کہ ترکی کے تاریخی مقامات پر ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ اس طرح شاید ان پر رعب پڑے اور وہ متاثر ہو کر جلدی جان چھوڑ دیں۔ اس خیال کا اظہار میں نے اپنی اہلیہ سے کیا تو وہ فوراً بولیں: "یہ غضب نہ کیجیے گا۔ آپ کسی طرف سے بھی کوئی مصنف یامحقق دکھائی نہیں دیتے۔"

انہوں نے میری شخصیت کا بے رحمانہ تجزیہ شروع کر دیا، "محققین کی تین نشانیاں ہیں: پہلی یہ کہ اس کی آنکھوں پر موٹے شیشوں کی عینک ہونی چاہیے۔ وہ آپ لگاتے نہیں۔ دوسری نشانی یہ کہ محقق کو آدھے سر سے گنجا ہونا ضروری ہے۔ یا پھر کم از کم کنپٹیوں کے بال سفید ہونا ضروری ہے۔ ابھی آپ کے بال جھڑنا شروع نہیں ہوئے اور نہ ہی سفید ہوئے ہیں۔ تیسری نشانی یہ کہ محقق کی توند کا باہر نکلا ہوا ہونا ضروری ہے جس کا ڈایا میٹرکم از کم 48 انچ ہو۔ آپ کی اچھی بھلی توند نکلی ہوئی تھی جسے آپ نے اسکواش کھیل کھیل کر اور فاقے کر کر کے اندر کر لیا۔ اب اگر آپ ایسا کوئی دعوی کریں گے تو امیگریشن والے ہمیں مشکوک سمجھیں گے۔"

اس تجزیے نے مجھے کافی حد تک قائل کر لیا تھا اور ایسا کوئی دعوی کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔حقیقت یہی ہے کہ انسان کو خود کو صرف اور صرف طالب علم سمجھنا چاہیے۔ جب کوئی طالب علم خود کو محقق، مدقق، اسکالر ، عالم اور اس طرح کے بھاری بھرکم القابات سے مزین کرنے لگتا ہے تو ابتدا میں اس کی گردن اکڑنے لگتی ہے۔ اس کے بعد وہ دوسروں کو جاہل سمجھ کر انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس کے بعد اس کا علم اسے جاہل بنا دیتا ہے۔ یہ لاعلمی والی جہالت نہیں ہوتی بلکہ رویے کی جہالت ہوتی ہے جو انسان کو سرکش بنا دیتی ہے۔ دور جاہلیت کے ایک شاعر عمرو بن کلثوم کے بقول؂

الا لا يَجهَلنَ أحَدٌ علَينَا..... فنَجهَلُ فَوقَ جَهلِ الْجَاهِلِينَا

خبردار! کوئی ہمارے خلاف جہالت کا اظہار نہ کرے کہ ہم بھی تمام جاہلوں سے بڑھ کر جہالت کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

ایسا جاہل واقفیت کے باوجود متکبرانہ رویے کے باعث کسی کی بات نہیں سنتا۔ خود کو ہمیشہ حق پر سمجھتا ہے اور اپنے مخالف کو کافر، فاسق اور فاجر کا خطاب دیتا ہے۔ یہی وہ جہالت پر مبنی رویہ ہے جس کے حاملین سے اگر سامنا ہو تو الجھنے کی بجائے "قَالُوا سَلاماً" کہہ کر رخصت ہو جانے کی ہدایت قرآن مجید نے کی ہے۔ یہ علم بڑی عجیب چیز ہے۔ اس کی طلب میں رہو تو یہ اپنے پیچھے لگا کر انسان کو خدا کی بادشاہی یعنی جنت میں داخل کر دیتا ہے اور اگر اپنے تئیں اس کے علم بردار بن جاؤ تو یہ جہنم کی گہرائیوں میں جا گراتا ہے۔

امیگریشن والوں کو مطمئن کرنے کیمنصوبہ بندی کرتے ہم کاؤنٹر پر جا پہنچے۔ یہاں پہنچ کر میری ساری منصوبہ بندی دھری کی دھری رہ گئی کیونکہ امیگریشن آفیسر نے فٹا فٹ مہریں لگا کر ہمیں مسکرا کر دیکھا اور ویلکم کیا۔ امیگریشن سے جلدی جان چھوٹ جانے کی وجہ سے مجھے کافی مایوسی ہوئی کیونکہ میں دوسرے سفرنامہ نگاروں کی طرح قارئین کو اس کی الم ناک داستان سنانے سے محروم ہو گیا تھا۔

اب بیلٹ سے سامان اٹھانے کا مرحلہ تھا۔ لاؤنج ہر قومیت کے لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ترکی ایک ٹورسٹ ڈیسٹی نیشن ہے۔یہاں یورپ، امریکہ اور مشرق وسطی سے کثیر تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ یہ سیاح اس ملک کے ہوٹلوں میں رہتے ہیں جس سے ہوٹل کے مالکان ، اسٹاف، ویٹر اور صفائی کرنے والوں کا روزگار چلتا ہے۔ یہی سیاح کرائے پر گاڑیاں اور ٹیکسیاں لیتے ہیں تو ان کی روزی روٹی کا بندوبست ہوتا ہے۔ تاریخی مقامات پر یہی سیاح ترکی کی حکومت کو فیس ادا کرتے ہیں جس سے ان کے ملک کی ترقی کے لئے وسائل فراہم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاحوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔

سیاحت کو فروغ دینا یقیناً ملک کی معیشت کے لئے بہت اچھا ہوتا ہے کیونکہ اس سے لوگوں کو روزگار نصیب ہوتا ہے۔ہر ملک اپنے قدرتی حسن، تاریخی مقامات اور کلچرل کشش کو پوری دنیا میں مارکیٹ کرتا ہے۔

تھائی لینڈ نے سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ایک عجیب طریقہ اختیار کیا۔ ان کے بادشاہ نے اعلان کر دیا کہ ہر گھر اپنی ایک لڑکی کو جسم فروشی کے لئے وقف کر دے تاکہ سیاح تھائی لینڈ کا رخ کریں۔یہاں کے لوگ بادشاہ کو دیوتا سمجھ کر اسے پوجتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ایک تو کیا، کئی لڑکیوں بلکہ لڑکوں تک کو اس مذموم مقصد کے لئے وقف کر دیا۔

تھائی لینڈ میں قدرتی حسن اور تاریخی مقامات کی سیاحت کی بجائے پوری دنیا سے جنسی مریض آنے لگے۔ یہ لوگ اپنے ساتھ ایڈز اور دیگر بیماریاں لے کر آئے۔تھائی قوم جو دنیا میں ایک محنتی قوم سمجھی جاتی تھی، جنسی مریضوں کی غلام بن کر رہ گئی جس کے نتیجے میں آج یہ ایڈز کا شکار ملک ہے، ان کا خاندانی نظام تباہ ہو چکا ہے اور پورا معاشرہ تباہی کی طرف گامزن ہے۔ حال ہی میں دبئی کو سیکس ٹورازم کے لئے مارکیٹ کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب دبئی ایک بہت بڑے قحبہ خانے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اگر یہاں کے باشندوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو اس ملک کا انجام بھی تھائی لینڈ جیسا ہی ہو گا ۔

میں سامان والی ٹرالی لینے گیا توعجیب صورت حال پیش آئی۔ ٹرالیاں ایک زنجیر کے ذریعے جکڑی ہوئی تھیں اور یہ زنجیر ہر ٹرالی پر موجود ایک آٹو میٹک تالے سے گزر رہی تھی۔ یہاں کچھ یورپی سیاح سکے ڈال کر ٹرالی حاصل کر رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ ٹرالی کے لئے ایک لیرا (اس وقت کے پچاس پاکستانی روپے) کا سکہ ٹرالی کے تالے میں ڈالنا ضروری ہے۔ یہ ترک تو بڑے کاروباری نکلے۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں یہ سہولت بلامعاوضہ ہوا کرتی ہے لیکن یہاں اس کا بھی کرایہ لیا جا رہا تھا۔

قریب موجود ایک کاؤنٹر سے پانچ لیرے کے نوٹ کے بدلے سکے حاصل کیے۔ مجھے خطرہ لگا رہا کہ اس معاملے میں بھی وہ کاروباری ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ لیرے کے بدلے چار لیرے دے دیں گے مگر انہوں نے پورے پانچ ہی دیے۔ ٹرالی لے کر ہم نے بیلٹ سے اپنا بیگ اٹھایا۔ اب امیگریشن کاؤنٹر سامنے تھا۔ یہاں بھی حیرت انگیز طور پر انہوں نے کوئی تعرض نہ کیا اور ویلکم ٹو ترکی کہہ کر ہمیں باہر جانے کا اشارہ کیا۔ ہم ایئر پورٹ سے باہر آ گئے۔

رینٹ اے کار

باہر نکل کر ہم رینٹ اے کار کے دفاتر تلاش کرنے لگے۔ یہاں اسی قسم کے ایجنٹ گھوم رہے تھے جو سیاحوں کو تاڑ کر انہیں خدمات حاصل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک صاحب ہمیں"یورو پارک" کے دفتر میں لے آئے۔ یہاں موجود صاحب بڑی صاف انگریزی بول رہے تھے۔ انہوں نے مناسب ریٹ پر جدید ماڈل کی ایک فی ایٹ کار کی پیش کش کی۔ ہمارے ہاں تو فی ایٹ کے ٹریکٹر ہی مشہور ہیں مگر یہاں کاریں بھی چلتی ہیں۔

کار کے کاغذات لے کر ہم ایئر پورٹ پارکنگ میں پہنچے۔ یہاں کمپنی کے اسٹاف نے کار کی چابیاں ہمارے حوالے کیں۔ یہ ایک ڈیزل کار تھی ۔ یہ ہمارے لئے بہت بہتر تھا کیونکہ ترکی میں پیٹرول دنیا میں شاید سب سے زیادہ مہنگا ہے۔ ڈیزل بھی بہت مہنگا ہے مگر پیٹرول سے کم۔ ان دنوں پیٹرول کی قیمت 3.60 لیرا (175 روپے) اور ڈیزل کی 2.62 لیرا (125 روپے) فی لیٹر تھی۔

گاڑی 2009 ماڈل کی تھی اور صرف 9000 کلومیٹر چلی ہوئی تھی مگر اس کے باوجود اس میں بیٹھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم کسی ہیلی کاپٹر میں بیٹھ گئے ہوں۔ ڈیزل اور پیٹرول کار میں یہی فرق ہوا کرتا ہے۔سعودی عرب کی طرح ترکی میں بھی لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہی تھی۔ اس وجہ سے اسٹیرنگ الٹے ہاتھ پر تھا مگر گاڑی مینول گیئر کی تھی۔

مجھے سعودی عرب میں آٹو میٹک گاڑ ی چلانے کی عادت پڑ گئی ہے۔مینول گاڑی آخری مرتبہ پاکستان میں چلائی تھی جہاں اسٹیرنگ دائیں جانب ہوتا ہے۔ چنانچہ میں کلچ دبا کر بائیں ہاتھ سے گیئر تلاش کرنے لگا۔ گیئر کی بجائے میرے ہاتھ میں دروازے کا ہینڈل آیا جسے گیئر سمجھ کر آگے پیچھے کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اب یاد آیا کہ یہاں گیئر دائیں ہاتھ سے لگانا پڑے گا۔ اس گاڑی کے پیڈل بھی کچھ عجیب سے تھے۔ ریس، بریک اور کلچ میں فاصلہ بہت ہی کم تھا اور ایک ہی پاؤں سے تینوں کو دبایا جا سکتا تھا۔اس کا مقصد غالباً یہ تھا کہ کلچ کے بائیں جانب پاؤں رکھنے کی جگہ بنی ہوئی تھی جو طویل سفر میں کام آئی۔ پارکنگ فیس کمپنی نے ادا کی ہوئی تھی۔††

باہر نکل کر میں نے ریس پر پاؤں رکھا مگر گاڑی کی پک اپ کچھ اچھی نہ تھی۔ سعودی عرب میں تو پاؤں کا ذرا سا دباؤ ملنے پر گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگتی تھی مگر یہاں عجیب ہی معاملہ تھا۔ ڈیزل کی بجائے یہ سی این جی گاڑی لگ رہی تھی۔ میرے ایک دوست سی این جی گاڑی کو پسند نہیں کرتے۔ ان کے خیال میں پٹرول گاڑی ایک ارنے بھینسے کی مانند ہے۔سی این جی کٹ لگوانے سے یہ بھینسا خصی ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اس ڈیزل گاڑی کا بھی تھا۔

استنبول کا پہلا امپریشن

پارکنگ سے باہر نکلے تو استنبول کا پہلا امپریشن بہت ہی اچھا تھا۔ نہایت ہی صاف ستھرا شہر تھا۔ کھلی کھلی سڑکیں اور گھنا سبزہ۔میں گوگل ارتھ پر کسی حد تک استنبول شہر کا مطالعہ کر چکا تھا۔ اس وجہ سے سڑکوں کا کچھ اندازہ تھا۔باہر نکلتےہی حسب عادت میں نے پہلی غلطی کی اور ایک غلط موڑ کاٹ لیا۔ غلطی کا احساس اس وقت ہوا جب ہم ایک رہائشی علاقے میں داخل ہو گئے۔ یہاں چند دکانیں بھی بنی ہوئی تھیں۔ اس غلطی کا فائدہ یہ ہوا ان دکانوں سے ہم نے پانی، برگر اور آئس کریم خرید لی۔

استنبول کا ماحول کافی مغرب زدہلگ رہا تھا۔ مجھے خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں برگر میں بھی خنزیر کا گوشت نہ ہو۔ اس خیال سے ہی میرا جی متلانے لگا۔ میں نے برگر والے صاحب سے پوچھا، "حلال؟" وہ یک دم سنجیدہ ہو گئے ، ان کے چہرے پر برا ماننے کے تاثرات پیدا ہوئے اور بولے، "حلال!!!" میں نے ان سے پوچھا، "انقرہ یولو؟" ترکی زبان میں "یولو" سڑک کو کہتے ہیں۔ انہوں نے اشاروں کی مدد سے مجھے راستہ سمجھایا۔

اب ہم استنبول انقرہ موٹر وے کی طرف جا رہے تھے جس پر "بولو" شہر واقع تھا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ استنبول کو آخر میں دیکھیں گے۔ کچھ دور جا کر ایک سگنل تھا۔ ساتھ والی گاڑی میں ایک صاحب ڈرائیونگ کے ساتھ ساتھ اسٹیرنگ پر رکھے ہوئے اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے۔

استنبول میں دینی شعائر نظر نہیں آ رہے تھے۔ ہمارے پاکستان یا سعودی عرب میں جگہ جگہ سبحان اللہ، استغفر اللہ لکھا نظر آتا ہے۔ یہاں ایسا کچھ نہ تھا البتہ ہر چند قدم کے فاصلے پر ایک مسجد نظر آ رہی تھی۔ ان مساجد کا آرکی ٹیکچر ایک جیسا تھا۔ ایک بڑا گنبد اور اس کے ارد گرد متعدد چھوٹے گنبد۔ غالباً یہ عثمانی دور کے مشہور آرکی ٹیکٹ "سنان" کی ایجاد تھا۔ اس اسٹائل کا مقصد یہ تھا کہ امام یا خطیب کی آواز گنبدوں کے اندر سفر کرتی دور تک چلی جائے۔ جب لاؤڈ اسپیکر ایجاد نہیں ہوا تھا، اس وقت مسلمان انجینئروں نے اس انداز میں آواز دور کے سامعین تک پہنچانے کا اہتمام کیا تھا جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

استنبول شہر، جدید اور قدیم کا ایک خوبصورت امتزاج نظر آ رہا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ ہمارے مذہبیراہنما جدیدیت سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں؟ سوائے چند ایک چیزوں، جیسے بے حیائی وغیرہکے،دور جدید کی عمارت عین اسلام کے اصولوں پر استوار ہے۔ مذہبی آزادی ہو یا ویلفیئر اسٹیٹ، تعلیم کا فروغ ہو یا اقلیتوں کے حقوق، صفائی و ستھرائی ہو یا جمہوریت، ہر پہلو سے دور جدید اسلام کے اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہ درست ہے کہ چند برائیاں دور جدید میں عام ہوئی ہیں مگر قدیم ادوار میں بھی تو ان سے بھی بڑی برائیاں موجود رہی ہیں۔ اگر بے حیائی اور سود موجودہ دور کے فتنے ہیں تو مذہبی جبر، آمرانہ اقتدار اور جاگیرداری نظام قدیم دور کے فتنے رہے ہیں۔

میری سمجھ میں یہ آیا کہ قدیم دور میں اہل مذہب کو جو اقتدار حاصل تھا، وہ دور جدید نے ان سے چھین لیا ہے۔ ہمارے اہل مذہب اپنی کتابوں میں ایک طرف یہ پڑھتے ہیں کہ بادشاہ، اہل علم کی پالکی کو کندھا دیا کرتے تھے اور شہزادے ان کی جوتیاں سیدھی کیا کرتے تھے۔ دوسری طرف وہ یہ دیکھتے ہیں کہ جدید معاشرے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو وہ اس دور میں خود کو ان فٹ محسوس کرتے ہیں۔ چونکہ ہمارے ہاں اہل مذہب کی اکثریت دین اسلام کو اس کے اصلی ماخذوں سے نہیں بلکہ قرون وسطی کے مخصوص تنگ نظر ماحول میں لکھی گئی کتابوں کے توسط سے سمجھتی ہے، اس وجہ سے انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ دور جدید میں کوئی ایسا حادثہ پیش آیا ہے جس نے انسان کو اس کی اصل راہ سے بھٹکا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جدید دور کی ہر اچھی چیز سے بھی نفرت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اگر ہم دین اسلام کے اصل ماخذوں یعنی قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت طیبہ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دور جدید نے قدیم دور کی بہت بڑی بڑی برائیوں جیسے مذہبی جبر اور نفسیاتی غلامی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ قرون وسطی کے انسان کو اس بات پر مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ ریاست کے مذہب کو قبول کرے۔ ریاست کے مذہب یا فرقے سے ذرا سا اختلاف کرنے پر انسان کو زنجیروں میں قید رکھا جاتا تھا، اس کی پیٹھ پر کوڑے برسائے جاتے تھے، اسے زندہ آگ میں جلا دیا جاتا تھا۔ الحمد للہ موجودہ دور میں یہ فتنہ بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے۔ قرون وسطی میں مذہبی راہنما طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے انسانوں کو اپنا نفسیاتی غلام بنا لیا کرتے تھے۔ انفارمیشن ایج کے اس دور میں ان کے لئے ایسا کرنا کافی مشکل ہو گیا ہے۔

موجودہ دور میں بہت سے دانشور عیسائیت کی طرح اسلام کی اصلاح (Reformation) کرنے کی ضرورت کو بیان کرتے ہیں تاکہ اسے دور جدید کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی کسی اصلاح یا ریفارمیشن کی ضرورت نہیں ہے۔ دور جدید درجہ بدرجہ ترقی کرتا ہوا خود ہی اسلام سے ہم آہنگ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ریفارمیشن کی اصل ضرورت ہمارے مذہبی تصورات میں ہے جنہیں غلط طور پر ہم نے اسلام کا نام دے رکھا ہے۔ اسلام کو نہیں بلکہ مسلمانوں کےطرز فکر کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔

آبنائے باسفورس

اب ہم انقرہ موٹر وے کی جانب جا رہے تھے۔ گوگل ارتھ سے دیکھے گئے نقشے کے مطابق اب تک ہمیں آبنائے باسفورس کے پل تک پہنچ جانا چاہیے تھا مگر ابھی دور دور تک اس کا نام و نشان نہیں تھا۔ ہمیں خطرہ لاحق ہونے لگا کہ کہیں ہم غلط سمت میں تو نہیں جا رہے۔ ابھی ہم با آواز بلند یہ سوچ ہی رہے تھے کہ لندن برج کی طرز کے دو طویل ٹاورز نظر آنے لگے۔ ان ٹاورز کے درمیان آبنائے باسفورس کا پل نظر آ رہا تھا۔ان ٹاورز سے کو ملانے والے لوہے کے رسے پل کو تھامے ہوئے تھے۔

کہنے کو تو یہ پل محض ایک شہر کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے ملاتا ہے مگر درحقیقت یہ پل ایشیا کو یورپ سے ملا رہا تھا۔ ہم اس وقت یورپ میں تھے۔ اس پل کو پار کر کے ہم ایشیا میں داخل ہو جاتے۔اس پل کا نام "سلطان محمد فاتح برج" رکھا گیا تھا۔

جیسے ہی ہم پل پر پہنچے ایک عجیب منظر ہمارے سامنے تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہم ایک بہت بڑے پہاڑی دریا کے اوپر سے گزر رہے ہیں۔ دونوں جانب سبز ے سے ڈھکے پہاڑوں کے درمیان نیلے رنگ کا ایک بہت بڑا دریا گزر رہا تھا۔ یہ دریا ، عام پہاڑی دریاؤں کی طرح پرشور نہیں تھا بلکہ اس کا پانی نہایت ہی پرسکون تھا۔ پل کو اتنی بلندی پر بنایا گیا تھا کہ اس کے نیچے سے بحری جہاز بڑے آرام سے گزر سکتے تھے۔ میری اہلیہ نے اس خوبصورت منظر کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرنے کی کوشش کی مگر کیمرے میں کسی خرابی کے باعث اچھی تصویر نہ آ سکی۔ اس دن ہمارے ساتھ یہی ہوا۔ اس وجہ سے یہاں ہمانٹرنیٹ سے لی گئی تصاویر پیش کر رہے ہیں ۔

آبنائے باسفورس اور سلطان محمد فاتح برج (بشکریہ www.panoramio.com )

پل پار کرتے ہی ٹول پلازہ آ گیا۔ یہاں ٹول ٹیکس کی ادائیگی کے لئے آٹو میٹک کیمرے نصب کیے گئے تھے جو خود بخود گاڑی کا نمبر نوٹ کر کے ٹول ٹیکس کو مالک کے اکاؤنٹ سے ایڈجسٹ کر لیتے۔ اس کی رقم پہلے ہی گاڑی کے کرایے میں شامل کر لی گئی تھی۔

ترکی کی موٹر وے

اب ہم باقاعدہ موٹر وے پر سفر کر رہے تھے۔ ترکی میں صرف دو موٹر وے ہیں۔ ایک استنبول اور انقرہ کے درمیان اور دوسری جنوب میں غازی انٹپ اور انطالیہ کے درمیان۔ اس موٹر وے کا معیار اچھا تھا مگر اس کے مقابلے میں ہماری موٹر وے کافی بہتر ہے۔ سڑک کے دونوں کناروں پر ایمرجنسی لین بہت ہی تنگ تھی جس کی وجہ سے تنگی داماں کا احساس ہو رہا تھا۔ سعودی عرب کی عام سڑکوں پر بھی تقریباً ایک لین کے برابر ایمر جنسی لین چھوڑی جاتی ہے جس کی وجہ سے کھلے پن کا احساس ہوتا ہے۔ موٹر وے پر رات کی ڈرائیونگ میں مدد کرنے والے اسٹڈ نصب نہیں کیے گئے تھے۔

ترکوں کی ڈرائیونگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہیہ اچھے ڈرائیور نہیں ہوتے۔ یہ تبصرہ اہل مغرب کے معیار کے مطابق ہے ورنہ پاکستان اور سعودی عرب کی نسبت یہاں ڈرائیونگ کا معیار کافی بہتر تھا۔ گاڑی میں ڈیزل اب ختم ہونے کے قریب تھا مگر دور دور تک کسی پٹرول پمپ کے آثار نظر نہ آ رہے تھے۔ اگر کہیں پر پٹرول اسٹیشن موجود بھی تھا تو وہ موٹر وے سے ہٹ کر سروس لین پر تھا۔ استنبول سے باہر نکلتے ہی ہمیں ایک ریسٹ ایریا نظر آیا۔ میں نے گاڑی یہاں موڑ لی۔ ٹنکی فل کروانے پر ایک سو ایک لیرا خرچ ہوئے۔ یہاں صاف ستھرے باتھ روم بھی بنے ہوئے تھے۔قریب ہی لکڑی کی بنی ہوئی مسجد تھی جس میں مرد و خواتین کے لئے علیحدہ علیحدہ کمرے تھے۔

استنبول انقرہ موٹر وے

(بشکریہ www.panoramio.com )

خلیج ازمت

(بشکریہ www.panoramio.com )

وضو کرکے نماز ادا کرنے کے بعد ہم آگے چلنے لگے تو ماریہ نے چپس کی فرمائش کر دی۔میں نے یہاں موجود مارکیٹ سے چپس کا ایک بڑا پیکٹ خریدا۔ کاؤنٹر پر موجود ادھیڑ عمر خاتون سے اس کی قیمت پوچھی۔ کہنے لگیں، "تین لیرا۔" میں نے پانچ لیرا کا نوٹ دیا۔ پھر بولیں، "آپ کہاں سےآئے ہیں؟ " میں نے کہا، "پاکستان سے۔" انہوں نے تین کی بجائے دو لیرا کاٹ کر تین لیرا مجھے واپس کر دیے۔

اب ہم دوبارہ موٹر وے پر سفر کر رہے تھے۔ "گبزے" اور"تاوشانسل " کے شہروں سے گزر کر ہم اب ازمت کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اچانک ہی ایک نہایت دلفریب منظر ہمارے سامنے آ گیا۔ موٹر وے اونچے نیچے پہاڑوں سے گزر رہی تھی۔ یہ پہاڑ گھنے سبزے سے ڈھکے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ سمندر کا کنارہ تھا۔ یہ "خلیج ازمت "تھی جو کہ بحیرہ مرمرہ کی مشرقی شاخ پر مشتمل تھی۔ خلیج کا دوسرا کنارہ بھی ہمیں نظر آ رہا تھا۔ سمندر کے بیچوں بیچ بہت سے بحری جہازوں کے مستول نمایاں تھے۔

خلیج ازمت کے آخری کنارے پر "ازمت" شہر تھا۔ سڑک اور سمندر کے بیچ میں شہر نظر آ رہا تھا۔ مکانوں کی سرخ مخروطی چھتیں نیلے پانی اور زرد روشنی کے بیک گراؤنڈ میں نہایت بھلی لگ رہی تھیں۔

یہاں سے ایک سڑک "برسا "اور "ازمیر "کی جانب جا رہی تھی۔ اس سڑک پر ہمیں واپسی پر سفر کرنا تھا۔ ازمت سے آگے نکلے تو تھوڑی دیر میں "اسپانزا" کا شہر آ گیا۔شہر کے ساتھ ہی ایک نہایت ہی خوبصورت جھیل ہماری منتظر تھی۔ یہ جھیل اسپانزا تھی۔ پورے کا پورا ترکی نہایت ہی دلفریب قدرتی اور مصنوعی جھیلوں سے بھرا پڑا ہے۔ اس وقت تو نہیں البتہ واپسی کے سفر میں ہم نے اس جھیل پر کچھ وقت گزارا تھا۔

جھیل اسپانزا

اسپانزا سے آگے "ڈوزجے" کا شہر آیا۔ یہ ایک تاریخی شہر ہے۔ یہاں کیتھولک چرچ سے متعلق کچھ کھنڈرات موجود ہیں جنہیں "پروسیا اینڈ ہائپیئم" کہا جاتا ہے۔ یہ ایک صوبائی دارلحکومت ہے۔ ترکی میں صوبے بہت چھوٹے چھوٹے ہیں۔ ان کا ایک صوبہ کم و بیش ہمارے ایک ضلع کے برابرہے۔ہر پچاس کلومیٹر کے بعد نئے صوبے کی حدود شروع ہو رہی تھیں اور ہم تین گھنٹے میں پانچ چھ صوبے "پھڑکا"چکے تھے۔

سامنے اونچے پہاڑ نظر آ رہے تھے جن پر سبزہ بہت گھنا تھا۔ سردیوں میں یہ پورا علاقہ برف سے ڈھک جاتا ہے۔ تھوڑی دیر میں ہم ان پہاڑوں کے دامن میں جا پہنچے۔ یہاں موٹر وے ایک سرنگ میں داخل ہو رہی تھی۔ بعد میں ہمیں اندازہ ہوا کہ ترکی میں سڑکوں پر بے شمار سرنگیں بنائی گئی ہیں۔ سرنگ کے اندر لائٹیں لگی ہوئی تھیں اور اسپیڈ لمٹ 120 سے کم کر کے 80 کر دی گئی تھی۔

سرنگ شیطان کی آنت کی طرح کافی طویل ثابت ہوئی۔ ساڑھے چار کلومیٹر طویل سرنگ پار کر کے ہم پہاڑوں کی دوسری جانب پہنچے تو "بولو" شہر کے آثار نظر آئے۔ ہم دوپہر دو بجے استنبول پہنچے تھے۔ اس کے بعد 300 کلومیٹر کا کافی طویل سفر طے کر چکے تھے۔ اس وقت شام کے آٹھ بج رہے تھےمگر سورج ابھی سوا نیزے پر موجود تھا۔ یہ علاقہ 40 درجے عرض بلد پر واقع ہے۔ جیسے جیسے شمال کی طرف چلا جائے، گرمیوں میں دن اور سردیوں میں رات طویل ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جولائی کے مہینے میں یہاں شام ساڑھے آٹھ بجے سورج غروب ہوتا ہے اور صبح چار بجے پھر طلوع ہو جاتا ہے۔

 

اگلا باب †††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست †††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

 

 

مصنف کی دیگر تحریریں

اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا سدباب/سفرنامہ ترکی/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں ††††/†† علوم الحدیث: ایک مطالعہ/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص ††/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟†† /مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت †††/Quranic Concept of Human Life Cycle ††††/Empirical Evidence of Godís Accountability