بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

بولو میں ایک رات

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 20MB)

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے بغیر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

موٹر وے سے نکل کر ہم شہر کی جانب چلے۔ وسیع وادی میں پھیلا ہوئےشہر کی عمارتوں کی سرخ چھتیں پیلے اور سبز بیک گراؤنڈ میں عجیب سا منظر پیش کر رہی تھیں۔ بعد میں ہمیں اندازہ ہوا کہ پورے ترکی میں عمارتوں کی چھتوں کو مخروطی بنایا جاتا ہے اور ان پر سرخ ٹائلیں لگا دی جاتی ہیں۔ اس طریقے سے پورا شہر سرخ سرخ محسوس ہوتا ہے۔

شہر میں داخل ہو کر میں نے ایک صاحب سے ہوٹل کا پوچھا۔ ترکی میں ہوٹل کو "اوٹل" کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک جانب اشارہ کر دیا اور اشاروں ہی اشاروں میں یہ بھی بتا دیا کہیہ ون وے سڑک تھی۔ ہمیں گھوم کر اس سڑک پر پہنچنا تھا۔ میں نے بہتر یہی سمجھا کہ گاڑی ایک جگہ پارک کر کے پیدل ہی ہوٹل کی تلاش کی جائے۔ جہاں میں نے گاڑی پارک کی، وہاں ایک دکان تھی جس پر "Terzi" لکھا نظر آ رہا تھا۔ یہ واقعتاً درزی ہی کی دکان تھی کیونکہ ترکی زبان میں 'T' کو 'د' کے طور پر استعمال کر لیا جاتا ہے۔

ترکوں کی عجیب عادت تھی۔ اگر ان سے انگریزی میں کسی جگہ کا پوچھا جائے تو وہ انداز سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ حضرت وہاں جانا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ترکی زبان میں ایک طویل تقریر شروع کر دیتے ہیں اور تقریباً رقص کرتے ہوئے اشاراتی زبان میں اس خوبی سے راستہ سمجھاتے ہیں کہ راستہواقعی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ان کی اس خوبی کے باعث ہم راستہ پوچھتے ایک ہوٹل میں جا پہنچے۔ ہوٹل کے منیجر کافی کم گو تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ کسی بات کے جواب میں طویل تقریر کا کوئی فائدہ نہیں۔ چنانچہ سوال کے جواب میں مسکرا کر صرف ہاتھ سے اشارہ کر دیتے۔ ہوٹل کافی معقول تھا۔ میں نے سوچا کہ ابھی وقتہے، کیوں نہ ایک دو اور ہوٹل دیکھ لیے جائیں۔

قریب ہی ایک اور ہوٹل تھا جس پر "کشمیر ہوٹل" کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ یہ نسبتاً مہنگا تھا اور معیار کے اعتبار سے پہلے ہوٹل جیسا ہی تھا۔ میں نے ہوٹل کے منیجر سے وجہ تسمیہ پوچھی۔ وہ میری بات نہ سمجھے اور بولے، "کشمیر انڈیا اور پاکستان میں ہے مگر یہ کشمیر ہوٹل ہے۔"بعد میں تجربہ ہوا کہ ترکی میں بہت ہی کم لوگ اچھی انگریزی جانتے ہیں۔ ہم نے پہلے والے ہوٹل میں آ کر کمرہ لیا ۔ سامان رکھا اور شہر گھومنے نکل کھڑے ہوئے۔

ماحول میں گھٹن

ہوٹل ایک پہاڑی پر تھا جس سے سیڑھیاں اتر کر نیچے بازار میں جا رہی تھیں۔ یہ بولو کا اندرون شہر تھا۔ ایک طرف تنگ سی سڑک تھی جس پر گاڑیاں چل رہی تھیں اور دوسری جانب یورپ کے شہروں کی طرح اینٹوں کا وسیع راستہ بنا ہوا تھا۔ شہر کا ماحول بڑی حد تک یورپی تھا۔مغربی لباس میں ملبوس مرد و خواتین ادھر ادھر آ جا رہے تھے۔ بہت سی باحجاب ترک خواتین بھی تھیں مگر ان کی تعداد کم تھی۔ اس ماحول کی وجہ سے ہم بالکل اسی طرح کی گھٹن محسوس کر رہے تھے جیسے کوئی سیکولر لادین قسم کا اکیلا شخص اس وقت محسوس کرتا ہےجب وہ غلطی سے مولویوں میں آ پھنسے۔

جس طرح قدیم دور میں شرک ایک عالمی برائی تھی، بالکل اسی طرح بے حیائی موجودہ دور میں ایک عالمی برائی بن چکی ہے۔ ارباب میڈیا نے اپنے لئے جو کردار منتخب کر لیا ہے، اس کے نتیجے میں انہیں نہایت ہی بھیانک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔ دوسری طرف ہمارے اہل مذہب ڈنڈے کے زور پر خواتین کو باپردہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس طریقے سے سوائے اس کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ لوگ ضد میں آ کر دین سے اور دو رہوتے چلے جائیں۔ درست طریقہ یہ ہے کہ بے حیائی کے برائی ہونے کا شعور لوگوں میں پیدا کیا جائے۔ انہیں بتا یا جائے کہ بے حیائی برائی کیوں ہے؟ یہ انسانیت کے لئے کس طرح سے نقصان دہ ہے؟ اور اس کے نتائج کیا نکلیں گے؟

بے حیائی میں بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ اس کے نتیجے میں معاشرے میں بدکاری عام ہوتی ہے۔ مرد و خواتین اختلاط کے دوران اگر کچھ حدود کا خیال نہ رکھیں تو اس کے نتیجے میں ان کے تعلقات حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ جب یہ تعلقات حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو خاندان کے ادارے کی تباہی کا آغاز ہوتا ہے۔

اگر انسان جوان حالت میں کسی درخت سے اگ پڑتے اور جوانی کی حالت ہی میں اس جہان فانی سے کوچ کر جاتے تو شاید فری سیکس ہی انسان کے لئے بہتر نظام زندگی ہوتا۔ ایک مرد جتنی خواتین سے چاہے، ازدواجی تعلقات قائم کرتا اور روزانہ نت نئے مزوں کو انجوائے کرتا۔ اسی طرح ایک خاتون جتنے چاہے مردوں سے تعلقات قائم کر کے روزانہ زندگی کی نئی جہتوں میں سفر کرتی۔ اس صورت میں کسی خاندان کی ضرورت نہیں تھی۔

اللہ تعالی نے انسان کا لائف سائیکل اس سے بہت مختلف بنایا ہے۔ انسان ایک کمزور بچے کی صورت میں پیدا ہوتا ہے جسے اگر توجہ نہ ملے تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ یہیں سے اسے ایک ماں اور ایک باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے ایک ایسی ہستی درکار ہوتی ہے جو خوراک سے لے کر پیشاب کروانے تک اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کی ایک آواز پر وہ دل کی گہرائیوں سے لبیک کہتی ہوئی آئے اور اسے اپنی گود میں لے کر اپنی مامتا کے جذبات نچھاور کرے۔

اہل مغرب نے ماں کے متبادل کے طور پر ڈے کیئر سنٹر بنا لیے۔ ان کی اپنے ماہرین سماجیات کی تحقیقات گواہ ہے کہ کرائے کی مائیں بچے کو وہ محبت نہیں دے سکتیں جو اس کی نفسیاتی نشوونما کے لئے ضروری ہے۔ بچے کو حقیقی ماں کی محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ نہ صرف ماں بلکہ بچے کو ایک باپ کی ضرورت بھی ہوا کرتی ہے۔ ایسا باپ جو بچے کواپنی پدرانہ شفقت عطا کرے۔ اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے معاشی دوڑ دھوپ کرے ۔ اگر ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داری کسی ایک فرد کو سونپ دی جائے تو بچے کی مکمل ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔

مغربی تہذیب کو اپنانے والے ممالک میں سنگل پیرنٹ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق آسٹریلیا میں 20 فیصد بچوں صرف والدہ یا والد کے زیر نگرانی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آسٹریلوی ماہر ڈیوڈ رو کہتے ہیں:

ایسے بچے جو کہ والدین میں سے کسی ایک کے زیر سایہ پروان چڑھ رہے ہوں میں دماغی بیماریوں، خودکشی کرنے یا الکوحلسے متعلق بیماریوں کا شکار ہو جانے کا تناسب ان بچوں کی نسبت دوگنا ہے جن کی تربیتماں اور باپ دونوں نے مل کر کی ہو۔ سنگل پیرنٹ لڑکیوں میں منشیات کے استعمال کا تناسب تین گنا اور لڑکوں میں یہ تناسب چار گنا ہے۔ سویڈن کے نیشنل بورڈ فار ہیلتھ اینڈ ویلفیئر کی مصنف گونیلا رنگ بیک کے مطابق ان بچوں کی بڑی تعداد غربت کے باعث صحت کے مسائل کا شکار رہتی ہے۔

(http://www.theage.com.au/articles/2003/01/24/1042911549349.html)

امریکی ماہر میک لاناہن کے مطابق ان بچوں کو پوری توجہ نہیں ملتی اور ان کے مالی وسائل بھی کم ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ طرح طرح کی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف بچے ہی کا نہیں ہے۔ انسان جوانی کا طویل عرصہ گزار کر اس دور میں بھی جا پہنچتا ہے جسے قرآن میں أَرْذَلِ الْعُمُرِ کہا گیا ہے۔ جوانی ڈھلنے کے ساتھ ساتھ انسان کو طرح طرح کی بیماریاں گھیر لیتی ہیں۔ بچہ تو دن بدن بہتری کی طرف گامزن ہوتا ہے لیکن ایک بوڑھے شخص کی حالت ہر روز بگڑتی چلی جاتی ہے۔ اس وقت بھی اس شخص کو کسی بچے کی طرح توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اہل مغرب نے اولڈ ہوم بنا کر اس مسئلے کو بھی حل کرنے کی کوشش کی ہے مگر اس سے مسئلہ حل نہیں ہوا۔ ان اولڈ ہومز میں بوڑھوں کو میڈیکل کی سہولیات، کھیل اور ساتھی تو مل جاتے ہیں مگر ان کی حسرت بھری نگاہیں اپنی اولاد کو تکتی رہتی ہیں جن کے پاس اپنے بوڑھے والدین کے پاس آنے کا وقت نہیں ہوتا۔

اس کے برعکس اہل مشرق خوش نصیب ہیں کہ انہیں بچپن میں ماں اور باپ دونوں کا پیار ملتا ہے۔ جوانی میں یہ اپنی محبت اپنے والدین اور بچوں پر لٹاتے ہیں۔ جب ان کا بڑھاپا انہیں آ گھیرتا ہے تو پھر یہی اولاد ان کی ہر جسمانی اور نفسیاتی ضرورت کو پورا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ اہل مشرق کو یہ فائدہ صرف اور صرف خاندانی نظام کی بدولت حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے اس نظام کو انسان کی بنیادی ضرورت کے طور پر قائم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام آسمانی کتابوں میں بدکاری کو گناہ سے بھی بڑھ کر جرم قرار دیا گیا ہے۔

اگر کسی معاشرے میں بدکاری پھیل جائے تو پھر اس کا براہ راست اثر خاندان پر پڑتا ہے۔ کوئی خاتون یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ اس کا خاوند کسی باہر کی عورت سے تعلقات قائم کرے۔ اسی طرح کوئی مرد بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی بیوی کا کوئی آشنا بھی ہو۔ ایسا ہونے کی صورت میں خاندان ٹوٹ جاتا ہےجس کا فوری نقصان بچوں کو پہنچتا ہے۔ چند سال بعد جب یہ مرد و خواتین بوڑھے ہوتے ہیں تو خاندان کے ٹوٹنے کا یہی نقصان ڈپریشن کی صورت میں لوٹ کر انہی کی طرف آتا ہے اور وہ حسرت زدہ نگاہوں سے اپنی اولاد کو تلاش کرتے رہ جاتے ہیں۔

اللہ تعالی اپنی مخلوق سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے آسمانی شریعت انسان پر پابندیاں لگانے کے لئے نہیں بلکہ اس کے لاینحل مسائل کو حل کرنے کے لئے دی ہے۔ انسان جب آسمانی شریعت سے منہ موڑ لیتا ہے تو وہ افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا ہے۔ کہیں مغربی ممالک جیسی بے راہ روی جنم لیتی ہے اور کہیں ہمارے پس ماندہ علاقوں کی طرح عورت کو غلام بنا لیا جاتا ہے۔

اگر قرآن مجید کا جائزہ لیں تو اس معاملے میں اس کی ہدایت بہت ہی واضح ہے۔ قرآن مجید مرد و خواتین کو کسی کام سے نہیں روکتا بلکہ انہیں یہ تلقین کرتا ہے کہ اگر ان کے اختلاط کا موقع پیش آ جائے تو انہیں اپنے لباس اور رویے میں ایک شریف اور باحیا انسان کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ہمارے ہاں حیا اور حجاب کو صرف خواتین کے ساتھ مخصوص کر لیا گیا ہے۔ مگر قرآن مجید کی نظر میں حیا صرف خواتین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مردوں کے لئے باحیا ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ خواتین کے لئے۔ قرآن مجید دونوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی نظر کو باحیا بنا کر رکھیں۔حیا کا مطلب جھجک نہیں ہے۔ حیا ایک رویے کا نام ہے کہ انسان خود کو ایک شریف اور ذمہ دار شخص سمجھے۔ دوسروں کی بہو بیٹیوں اور شوہروں پر ڈورے ڈالنے کی بجائے اس کی نظر ایک شریف انسان کی سی ہو۔ سیکس سمبل بننے کی بجائے وہ اپنے لباس، رکھ رکھاؤ اور کردار میں پاکیزہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، "اگر تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو جی چاہے کرو۔"

اب فیصلہ ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہہماری اگلی نسلیں سنگل پیرنٹ والدین بنیں اور ہم اپنے بڑھاپے کی حسرتوں میں تنہا ہوں تو بصد شوق مغربی تہذیب کو اختیار کیجیے۔ اگر ہمیں یہ پسند نہیں ہے تو ہمیں خاندان کے ادارے کو بچانا ہو گا۔ اس کے لئے معاشرے میں بے حیائی اور بدکاری کو پھیلنے سے روکنا ہو گا۔ اسی طرح ہم اپنی آنے والی نسلوں کے بچپن اور بڑھاپے کو خوشگوار بنا سکیں گے۔

یہ عجیب بات تھی کہ ہمیں یہ ماحول مغربی لگ رہا تھا مگر ایک مغربی مصنف کو یہ ماحول مشرقی نظر آتا ہے۔امریکی سفرنامہ نگار مارک لیپر لکھتے ہیں:

"یہاں کی خواتین کی ایک تہائی تعداد گرم موسم میں بھی اپنے سر کو ڈھانپ کر رکھتی ہے۔ صرف ایک خاوند ہی اپنی بیوی کے بال دیکھ سکتا ہے۔ وہ اس معاملے میں وہی نقطہ نظر رکھتے ہیں جو ہمارا (عورت کے) سینے سے متعلق ہے۔ "

ترکی کے خواتین و حضرات کی بڑی تعداد اگرچہ مغربی تہذیب کو اپنا چکی ہے مگر یہ ابھی تک پوری طرح مغربی نہیں ہو سکیں۔†† اہل مشرق انہیں مغربی سمجھتے ہیں مگر اہل مغرب انہیں ابھی تک مشرقی ہی قرار دیتے ہیں۔ ترکی کے نوجوانوں کو ہم نے بڑی حد تک باحیا ہی پایا۔ کہیں یہ نہیں دیکھا کہ لڑکے لڑکیوں کو تنگ کر رہے ہوں، سیٹیاں مار رہے ہوںیا ان کے پیچھے پیچھے جا رہے ہوں۔

مشرقی شرم و حیا کی روح ہمارے اندر اس گہرائی میں پیوست ہے کہ کئی عشروں تک میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی بے حیائی اسے مکمل طور پر ختم نہیں کر سکی۔یہ بات اہل مذہب کے لئے اپنے اندر ایک گہرا سبق لیے ہوئے ہے ۔ مذہب کو قانون بنا کر ڈنڈے کے زور پر نافذ کرنے کی بجائے اگر وہ اسے تہذیب بنا کر لوگوں کی روح کی گہرائیوں میں اتار دیں تو اسے آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے اسلاف نے یہی کیا جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

بولو کی جامع مساجد

اب سورج غروب ہو چکا تھا۔اتنے میں مغرب کی آذان کی آواز سنائی دی۔اس اذان نے اس گھٹن کا خاتمہ کر دیا جو کہ ہم یہاں آ کر محسوس کر رہے تھے۔اذان کی آواز نہایت ہی مناسب تھی۔ہمارے ہاں تو لاؤڈ اسپیکر کو اتنا تیز کر دیا جاتا ہے کہ اس کی آواز کانوں کو چیرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اذان سے ہٹ کر مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کو اتنا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے کہ لوگ دین سے بیزار ہو جائیں۔ ارباب مسجد ان احادیث کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں جن میں پڑوسی کو ایذا پہنچانے کو کتنا بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ مجھے مسجد سے بہت لگاؤ ہے مگر اس کے باوجود میری کوشش ہوتی ہے کہ مسجد سے کچھ دور ہی گھر لیا جائے تاکہ لاؤڈ اسپیکر کے جا بجا استعمال سے نجات مل سکے۔ ہمارے ہاں صرف دین دار ہی نہیں بلکہ دنیا دارحضرات کا بھی یہی حال ہے۔ اگر ان کے ہاں کوئی تقریب ہو تو پھر لاؤڈ اسپیکر میں کان پھاڑ دینے والی موسیقی بجائی جاتی ہے تاکہ کوئی آرام نہ کر سکے۔

سڑک پار کر کے ہم مسجد کی جانب بڑھے۔ یہ ایک قدیم مسجد تھی۔ مسجد کے باہر ایک سبیل لگی ہوئی تھی جس میں پینے کا پانی تھا۔ یہ سبیل مسجد کی تعمیر کے دور کی لگ رہی تھی۔ یہاں ایک طویل بالوں والے صاحب کھڑے تھے۔ میں نے وضو خانے کا پوچھا تو بڑے خوش ہوئے اور میرے ساتھ چل کر وضو خانے کی نشاندہی کی جو کہ تہہ خانے میں تھا۔

میں نیچے پہنچا تو ایک عجیب منظر نگاہوں کے سامنے تھا۔ ایک طرف استنجا کے لئے ٹائلٹ بنے ہوئے تھے اور دوسری جانب وضو کے لئے جگہ تھی۔ ہمارے ہاں عموماً ٹائلٹ کے باہر کچھ جمعدار صاحبان سر پر کپڑا باندھے جھاڑو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں اور ہر آنے جانے والے سے پانچ روپے وصول کرتے ہیں۔ یہاں ایک شیشے کا کیبن بنا ہوا تھا اور اس میں کسی جمعدار کی بجائے ایک طرح دار خاتون براجمان تھیں اور کسی میوزیم کی طرح ٹائلٹ جانے کے لئے نصف لیرا کا باقاعدہ ٹکٹ ایشو کر رہی تھیں۔

مجھے چونکہ صرف وضو کرنا تھا اس لئے انہوں نے مجھ سے کوئی رقم وصول نہیں کی۔ مسجد کا وضو خانہ ہماری طرح کا تھا مگر اس میں بیٹھنے کے لئے کافی اونچی نشست تھی۔ یہاں بھی عرب ممالک کی طرح جوتوں سمیت وضو خانے میں لوگ جا رہے تھے۔

اوپر مسجد میں پہنچا تو ایک اور عجیب چیز دیکھی۔ محراب میں امام صاحب نماز پڑھا رہے تھےا ور ان کے پیچھے دو صفوں میں نمازی تھے۔ مسجد کے پچھلے کونے میں ایک چبوترہ سا بنا ہوا تھا جس میں دو صاحبان اسپیکر کے سامنے کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک نائب امام تھے اور دوسرے ان کے ساتھ محض صف بنانے کے لئے کھڑے تھے۔ امام صاحب جب تکبیر کہتے تو یہ اسپیکر میں بلند آواز میں تکبیر کو دوہراتے۔ نماز کے بعد نائب امام صاحب نے دعا کروائی۔اس قسم کے بعض رواج ہمارے ہاں بھی ہیں جن کا کوئی ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں نہیں ملتا۔ نماز ایسا معاملہ ہے جس میں ہمیں نت نئے طریقے ایجاد کرنے کی بجائے خالصتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنا چاہیے۔

اصل میں جب انسان دین کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس میں کچھ ایسا جوش پیدا ہو جاتا ہے کہ اسے دین کے اصل احکام کافی نہیں لگتے۔ ایک صاحب نظر نے اس کیفیت کا تجزیہ کچھ یوں کیا ہے:

انسان کے اندر یہ عام کمزوری پائی جاتی ہے کہ جن چیزوں کے ساتھ اس کا تعلق محض عقلی ہی نہیں بلکہ جذباتی بھی ہوتا ہے، ان معاملات میں وہ بسا اوقات غیر متوازن اور غیر معتدل ہو جایا کرتا ہے۔آدمی اپنے بیوی بچوں سے محبت کرتا ہے تو صرف محبت ہی نہیں کرتا بلکہ بسا اوقات اس محبت میں وہ ایسا اندھا ہو جاتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ عداوت بھی کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ اس اندھے پن میں اس کو خدا کے حقوق کا بھی کچھ ہوش نہیں رہ جاتا۔ اگر اسے اپنے قبیلہ یا قوم یا ملک سے محبت ہے تو ان کی عصبیت اس پر بسا اوقات اتنی غالب آ جاتی ہے کہ وہ ان کے لئے پوری انسانیت کا دشمن بن جاتا ہے۔ حد یہ ہے کہ ان کی حمایت میں خود خدا سے بھی لڑنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

یہی چیز مذہب کے دائرہ میں آ کر اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے کیونکہ مذہب کے ساتھ اولاً تو عام لوگوں کا تعلق عقلی کم اور جذباتی زیادہ ہوتا ہے اور اگر عقلی ہوتا بھی ہے تو بھی اس معاملے میں انسان کے جذبات اتنے شدید ہوتے ہیں کہ عقل کے لئے ان کو ضبط میں رکھنا آسان کام نہیں ہوتا۔ یہ جام و سنداں کی بازی کھیلنا ہر شخص کے بس کا کام نہیں ہے۔ چنانچہ اس دائرہ کے اندر ایسا بہت ہوتا ہےکہ آدمی کو جس حد پر رک جانا چاہیے، وہاں آ کر وہ نہیں رکتا بلکہ اس کو پھلانگ کر آگے نکل جانا چاہتا ہے۔

اگر ایک شخص اس کا مرشد ہے تو وہ اس کو مرشد ہی کے درجہ پر نہیں رکھے گا بلکہ اس کی خواہش یہ ہو گی کہ وہ کسی طرح اس کو رسالت کے مرتبہ پر فائز کر دے ۔ اسی طرح اگر ایک ذات کو خدا نے منصب رسالت سے سرفراز فرمایا ہے تو یہ اپنے جوش عقیدت میں یہ چاہے گا کہ اس کو خدا کی صفات میں بھی کچھ نہ کچھ شریک کر دے۔ اگر اس سے کسی کام کا مطالبہ پاؤ کیا گیا ہے تو وہ چاہے گا کہ وہ اسکو بڑھا کر سیر بھر کر دے۔ اس غلو پسندی نے دنیا میں بڑی بڑی بدعتوں کی بنیادیں ڈالی ہیں۔ اسی کے سبب سے عیسائیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بنایا۔ اسی کے سبب سے انہوں نے اپنے صوفیوں اور عالموں کو ارباباً من دون اللہ (اللہ کے علاوہ رب) کا درجہ دیا اور یہی چیز تھی جس نے ان کو رہبانیت کے فتنہ میں مبتلا کیا ۔۔۔۔

بدعت کا دوسرا سبب خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ انسان کے اندر یہ بھی ایک کمزوری ہے کہ بسا اوقات وہ ایک نظریہ یا ایک رویہ اختیار تو اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ اس کی خواہشات نفس کے مطابق ہوتا ہے۔ اس سے اس کے کسی مخفی منصوبے کی تکمیل ہو رہی ہوتی ہے۔ اس سے کسی ایسے شخص کی خوشنودی اسے حاصل ہوتی ہے جس کی خوشنودی اسے اپنے دنیوی اغراض کے نقطہ نظر سے مطلوب ہوتی ہے۔ اس سے اس کے وہ ارمان پورے ہوتے ہیں جو نفس کی اکساہٹ سے اس کے اندر ہر وقت گدگدیاں پیدا کر رہے ہوتے ہیں لیکن وہ اتنی جرأت و ہمت نہیں رکھتا کہ ان چیزوں کی تکمیل کے لئے وہ صاف صاف نفس پرستی اور دنیا پرستی کے نام سے میدان میں اترے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اپنی اس دنیا داری اور نفس پرستی کے لئے دین داری کی کوئی آڑ بھی تلاش کرے تاکہ رند کا رند بھی رہ سکے اور ہاتھ سے جنت نہ جانے پائے۔

اس خواہش کے تحت وہ مختلف قسم کے نظریات بناتا ہے اور ان کو مذہب کے اندر گھسانے کی کوشش کرتا ہے اور اگر گھسانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر ان سے اپنی خواہشوں کے بند دروازوں کو کھولنے میں کلید کا کام لیتا ہے۔ خواہشات نفس کے تحت فتوی لکھتا ہے اور ان کو کتاب و سنت کی طرف منسوب کرتا ہے۔ بعض سفلی جذبات کی تسکین کے لئے بہت سے کام کرتا ہے اور ان کو معرفت الہی اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ بتاتا ہے۔(امین احسن اصلاحی، تزکیہ نفس)

نماز سے فارغ ہو کر میں امام صاحب سے ملاقات کے لئے آگے بڑھا۔ میں نے بیک وقت انگریزی اور عربی میں گفتگو کا آغاز کیا۔ انہیں دونوں زبانوں سے واقفیت نہ تھی۔ انہوں نے نائب امام کو بلایا اور اشارے سے کہا کہ یہ عربی جانتے ہیں۔ نائب امام تھوڑی بہت عربی جانتے تھے۔ انہوں نے مجھے مسجد کا کتبہ دکھایا جس پر 1499ء کی تاریخ لکھی ہوئی تھی۔ بتانے لگے کہ یہ مسجد بولو کے گورنر نے 500سال پہلے تعمیر کی تھی اور یہ شہر کی مرکزی جامع مسجد تھی۔

بولو کی 500 سال قدیم جامع مسجد

مسجد کا بورڈ "کادی جامع 1499"

بولو کی 200سال قدیم جامع مسجد

میں سوچنے لگا کہ دنیا میں ہر دور کی تعمیر کردہ مسجد موجود ہے مگر خلافت راشدہ کے دور کی تعمیر کردہ کوئی مسجد موجود نہیں ہے۔ اس وقت سب سے قدیم تعمیر شدہ مسجد دمشق کی جامع بنو امیہ ہے۔ یہ مسجد 75ھ کے آس پاس تعمیر کی گئی ہے۔ خلافت راشدہ کا دور 40ھ میں ختم ہوا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایران اور شام فتح ہوئے اور قیصر و کسری کے محلات تعمیر کرنے والے بہترین کاریگر مسلم دنیا کا حصہ بنے۔ اگر آپ چاہتے تو ان کاریگروں سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی ایسی شاندار تعمیرکرواتے جو کہ آج تک برقرار رہتی مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

دور فاروقی کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی تعمیر پر ذاتی جیب سے کچھ لکڑی کا کام کروا دیا جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اکثریت نے پسند نہیں کیا۔ اس سے خلافت راشدہ اور بعد کے ادوار کی ملوکیت کا فرق نمایاں ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ دور ملوکیت میں اسلام کی شان اسی میں سمجھی گئی کہ مساجد کی عالیشان عمارتیں تعمیر کی جائیں جنہیں دیکھ کر آنے والی نسلیں بادشاہ کو یاد رکھیں۔ خلفاء راشدین کا نقطہ نظر اس کے بالکل برعکس تھا۔ یہ حضرات عمارتوں پر پیسہ لگانے کی بجائے انسانوں پر پیسہ لگانا زیادہ پسند کیا کرتے تھے۔وہ جانتے تھے کہ عمارتوں پر پیسہ لگانے سے ان کا نام دنیا میں تو باقی رہ جائے گامگر آخرت میں اجر پانے کے لئے انسانوں کی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری ادا کرنا ضروری ہے۔افسوس کہ ہمارے ہاں آج بھی مساجد کی تعمیر و تزئین پر کروڑوں روپے لگا دیے جاتے ہیں مگر انہی مساجد کے گرد و نواح میں بسنے والے افراد کی ضروریات کا کسی کے دل میں خیال پیدا نہیں ہوتا۔

عوام کے مال میں اس قدر احتیاط کے باوجود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس تردد میں رہا کرتے تھے کہ آپ خلیفہ ہیں یا بادشاہ۔ ایک دن غالباً سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا، "اگر آپ عوام کی رقم کا ایک درہم بھی غلط طریقے سے وصول کریں یا غلط جگہ پر خرچ کریں تو آپ بادشاہ ہیں ورنہ آپ خلیفہ ہیں۔"

ہمارے اکاؤنٹنٹ حضرات سال میں ایک مرتبہ اپنے اکاؤنٹس کلوز کرتے ہیں۔ یہ بات ان کے لئے حیرت کا باعث ہو گی کہ خلفاء راشدین بھی سال میں ایک مرتبہ بیت المال کی کلوزنگ کیا کرتے تھے۔ اس کلوزنگ میں وہ کوئی انٹریز پاس کرنے کی بجائے بیت المال میں جو کچھ ہوتا تھا، اسے اس کے حق داروں تک پہنچانے کی پوری کوشش کرتے تھے اور کلوزنگ کے دن بیت المال میں سے ہر قسم کے مال کو اس کے حق داروں تک پہنچانے کے بعد وہاں جھاڑو دے دی جاتی تھی۔ بادشاہ سرکاری خزانے کو ظلم کے مال سے بھر کر اسے بے دردی سے لٹایا کرتے ہیں جبکہ خلیفہ اسے درست طریقے سے وصول کر کے درست جگہ پر خرچ کرتے ہیں۔

میں سوچنے لگا کہ خلافت راشدہ کا عرصہ اتنا قلیل کیوں رہا۔ ہماری 1400 سالہ تاریخ میں خلافت راشدہ کا عرصہ صرف 30 سال ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے تو یہ عرصہ کل 60 سال بنتا ہے۔ بعد کے کچھ اچھے ادوار بھی خلافت راشدہ کے قریب ہیں۔ ان کا مجموعہ بھی چالیس پچاس سال سے زیادہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کی 1500 سالہ تاریخ میں خلافت راشدہ کا عرصہ بھی 200 سال سے کم ہے۔ اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ یہ دنیا اللہ تعالی نے امتحان کے لئے بنائی ہے۔ اگر ہر طرف خلافت راشدہ کا دور دورہ ہو تو پھر امتحان کیا رہا۔ پھر تو ہر شخص ماحول سے مجبور ہو کر نیکی کرنے پر مجبور ہو گا۔ انسان کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ نیکی اور بدی کے مخلوط ماحول میں اچھا رہے۔

مسجد سے باہر نکل کر ہم اینٹوں والی گلی میں چل پڑے۔ کچھ دور ایک اور شاندار مسجد نظر آ رہی تھی جس کے بارے میں نائب امام صاحب نے بتایا تھا کہ یہ دو سو سال قدیم ہے۔ اس مسجد کا نام "بایزید یلدرم مسجد" تھا جو کہ ایک عثمانی بادشاہ تھے۔ یہ مسجد سنان کے آرکی ٹیکچر کا شاہکار نظر آ رہی تھی۔ میں مسجد کے اندر چلا گیا۔ اندر سے مسجد نہایت ہی خوبصورت منظر پیش کر رہی تھی۔ مسجد کی چھت نہایت ہی خوبصورت نقش و نگار سے مزین تھی۔ زیادہ تر نیلا رنگ استعمال کیا گیا تھا۔ ترکوں نے مسجد نبوی کی تعمیر میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا تھا چنانچہ اگر آپ ترکوں کے دور کی بنی ہوئی مسجد نبوی کے گنبدوں کا اندرونی جائزہ لیں تو کچھ ایسے ہی نقش و نگار وہاں بھی موجود ہیں۔

مسجد کے قریب ہی ایک خوبصورت فوارہ بنا ہوا تھا جس میں سے کئی رنگ نکل رہے تھے۔ ہمیں بھوک لگ رہی تھی۔ قریب ہی شاورما کی ایک دکان تھی جو ہمارے لئے غنیمت تھی۔ میں نے اسے خوب مصالحے دار بنانے کے لئے کچھ الٹے سیدھے اشارے کئے جسے کمال مہربانی سے وہ صاحب سمجھ گئے اور انہوں نے خوب مرچیں بھر کر شاورما بنا دیا۔ میرا خیال تھا کہ جب ہم اسے کھائیں گے تو ہمارے کانوں سے دھواں سا نکلنے لگے گا، آنکھوں اور ناک سے پانی بہہ نکلے گا ، زبان سے "سی سی " کی آوازیںنکلیں گی مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ شاورما بہت مزیدار تھا اور اس کی مرچیں ذائقے میں بہت مناسب تھیں۔ معلوم ہوا کہ ترکی مرچیں زیادہ تیز نہیں ہوتیں۔

ترکی کے حمام

فوارے پر بیٹھ کر شاورما کھانے کے بعد ہم دوسری جانب چل پڑے۔ تھوڑی دور جا کر ایک جگہ "حمام" کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ ترکوں کی معاشرت میں حمام کو تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ ان کے ہاں حمام محض نہانے کے لئے ہی استعمال نہیں ہوتے بلکہ اس کی ایک مخصوص سماجی اہمیت ہے۔ قدیم دور میں سیورج کا نظام نہ ہونے کے باعث گھروں میں بیت الخلا اور نہانے دھونے کا انتظام کرنا مشکل ہوا کرتا تھا، اس زمانے میں حمام بنائے جاتے جن میں تازہ ٹھنڈے اور گرم پانی اور اس کی نکاسی کا اہتمام کیا جاتا۔ حمام ایک بڑے سے ہال کی صورت میں ہوا کرتا جس میں لوگ انڈو ویئر وغیرہ پہن کر نہایا کرتے۔ مردوں اور خواتین کے لئے علیحدہ حمام ہوا کرتے تھے۔ ان حماموں میں غسل کے علاوہ مساج پارلر بھی ہوتے تھے۔لوگ مساج کروانے کے ساتھ ساتھ گپ شپ بھی لگایا کرتے۔ اس طریقے سے حمام ایک سوشل سینٹر کی صورت اختیار کر جایا کرتا تھا۔

ابن بطوطہ اپنے دور میں ترکی کے حماموں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے یہاں بعض ایسے حمام دیکھے جہاں مرد اپنی لونڈیوں کو لے کر گھس جاتے تھے اور بغیر کسی ستر کے غسل کیا کرتے تھے۔ کسی بھی باحیا انسان کی طرح انہیں یہ بات سخت ناگوار گزری اور انہوں نے قاضی شہر سے کہہ کر اس رسم کو ختم کرنے کی کوشش کی۔یہاں کے باشندوں کی بے حیائی کا ذکر کرتے ہوئے ابن بطوطہ بیان کرتے ہیں:

اس شہر کے لوگ برائی کو نہیں روکتے۔ یہی معاملہ اس ملک کے اکثر افراد کا ہے۔ یہ لوگ روم کی خوبصورت لونڈیوں کو خریدتے ہیں اور انہیں فساد پھیلانے (عصمت فروشی) کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ہر لونڈی نے ایک مخصوص رقم اپنے مالک کو ادا کرنا ہوتی ہے۔ میں نے تو یہاں تک سنا ہے کہ لونڈیاں مردوں کے ساتھ حمام میں چلی جاتی ہیں۔ جو شخص فساد کا یہ کام حمام کے اندر کرنا چاہے، اسے کوئی نہیں روکتا۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ اس شہر کے قاضی نے بھی اسی طریقے سے لونڈیاں رکھی ہوئی ہیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بے حیائی صرف دور جدید کا فتنہ ہی نہیں ہے۔ سابقہ ادوار میں بھی بے حیائی پائی جاتی تھی۔ موجودہ دور میں فرق یہ پڑا ہے کہ میڈیا نے اسے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا ہے۔عیاش لوگ پہلے زمانوں میں بھی یہی کچھ کیا کرتے تھے جو آج کل ہوتا ہے۔ خدا پرست لوگ اس دور میں بھی ایسے کاموں سے اجتناب کرتے تھے اور جدید دور بھی ایسی حرکتوں سے دور رہتے ہیں۔

ترکی کے ٹورسٹ بروشرز میں حمام کا بہت شد و مد سے ذکر کیا گیا تھا۔ آج کل حمام کے ساتھ اسٹیم اور سوانا باتھ کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ مساج کرنے کے بعد شاکنگ شاور کے تجربے کو بھی بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ شاور کے بعد ماربل کے پلیٹ فارم پر آرام کیا جاتا ہے۔ کچھ بروشرز سے ہمیں یہ معلوم ہوا تھا کہ ان میں مرد و خواتین اکٹھے غسل کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ہمیں یہ جرأت نہ ہو سکی کہ ہم کسی حمام میں داخلے کا تصور بھی کر سکیں۔

محمد بولوی سے ملاقات

اب ہم واپس ہوٹل کی طرف جا رہے تھے۔ سڑک کے کنارے ایک سیاہ رنگ کا بہت بڑا مجسمہ نصب تھا۔ میری خواہش تھی کہ کسی انگریزی بولنے والے سے ملاقات ہو سکے تاکہ کچھ یہاں کے بارے میں معلومات حاصل ہو جائیں۔ میری اہلیہ ماریہ کے لئے شاورما لینے دکان پر چلی گئیں۔اچانک ایک صاحب ہمیں دیکھ کر آئے اور کہنے لگے، " یو سپیکانگلش " میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس کے بعد ان صاحب سے کافی دیر گپ شپ ہوئی۔

ان کا نام محمد تھا ۔ پیشے کے اعتبار سے یہ انجینئر تھے اور سویڈن میں تعلیم حاصل کر چکے تھے۔ اس وجہ سے ان کی انگریزی کافی بہتر تھی۔ مجھ سے پوچھنے لگے، "آپ کہاں سے آئے ہیں؟" میں نے کہا، "پاکستان سے مگر ان دنوں جدہ میں مقیم ہوں۔" بڑے خوش ہوئے اور بتانے لگےکہ سویڈن میں ان کے روم میٹ پاکستانی تھے اور ہوسٹل میں ان کے ساتھ کئی پاکستانی رہا کرتے تھے۔

جس طرح ہم لوگ دوسری اقوام کی عجیب و غریب عادات کے بارے میں سن اور پڑھ کر محظوظ ہوتے ہیں اور ان کا ریکارڈ لگاتے ہیں، بعینہ یہی معاملہ ان کا ہمارے بارے میں ہے۔ محمد ریکارڈ لگانے کے سے انداز میں کہنے لگے: "مجھے تو پاکستانی بھائیوں کی یہ بات بڑی عجیب لگی کہ وہ روزانہ روٹی پکاتے تھے۔" مجھے اس وقت تو ان کی بات سمجھ میں نہ آئی مگر اگلی صبح ناشتے پر ان کی بات کا اندازہ ہوا۔

ہم جس مجسمے کے پاس کھڑے تھے، اس کے بارے میں وہ بتانے لگے کہ یہ شہر کے ایک بہت ہی نیک شخص کا ہے۔ ان صاحب نے بہت سے طلباء و طالبات کو وظائف دیے اور بولو شہر کے لئے تعمیر کا بہت سا کام کیا ہے۔ اظہار تشکر کے طور پر ان کا مجسمہ شہر کے مرکزی چوک میں نصب کیا گیا ہے۔ ان کی بات سے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ حدیث یاد آئی کہ سابقہ اقوام میں بھی ایسا ہوتا تھا کہ نیک افراد کے مرنے کے بعد ان کے مجسمے بنا لیے جاتے تھے تاکہ ان کی یاد تازہ رہے۔ کئی نسلوں کے بعد یہ مجسمے مقدس حیثیت اختیار کر جایا کرتے تھے اور ان کی پوجا شروع ہو جاتی تھی۔

محمد ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے ۔ اسلامی تاریخ پر ان کی نظر گہری تھی۔ انہوں نے بولو کے گرد و نواح سے متعلق قیمتی معلومات مجھے فراہم کیں۔ میں نے ان سے اپنے ترکی کے سفر کے منصوبہ پر بات چیت کی تو وہ کافی متاثر ہوئے۔ کہنے لگے، "لگتا ہے، آپ ترکی کے جغرافیے کا گہرا مطالعہ کر کے آئے ہیں۔"

ترکی کی پہلی صبح

اب رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے۔ اب جا کر کہیں عشاء کی اذان ہو رہی تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر ہم ہوٹل پہنچے اور جلد سے جلد سونے کی کوشش کی۔ آج ہمارے سفر کا پہلا دن تھا اور ہم صبح پانچ بجے سے جاگ رہے تھے۔ نیند جلدی آ گئی۔

صبح چار بجے ہی کمرے میں روشنی پھیل گئی۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ ترکی میں گرمیوں کی راتیں بہت مختصر ہوتی ہیں۔ اگر مزید شمال کی طرف چلا جائے تو یہ راتیں اور بھی مختصر ہوتی چلی جاتی ہیں۔ سردیوں کے اس کے الٹ معاملہ ہوتا ہے اور دن بہت ہی مختصر ہو جاتے ہیں۔ چند دن گزارنے کے بعد یہ عجیب رواج سامنے آیا کہ یہاں کھڑکیوں پر بہت ہی ہلکے سے پردے لگائے جاتے تھے۔ اس وجہ سے نماز کے بعد یہاں سونا ایک مشکل کام لگ رہا تھا۔

ناشتہ کمرے کے کرائے میں شامل تھا۔ ہم لوگ نیچے ہال میں ناشتہ کرنے پہنچے۔ ناشتہ بوفہ اسٹائل کا تھا۔ ایک جانب پنیر کے قتلے تھے۔ دوسری طرف ابلے ہوئے انڈے رکھے ہوئے تھے۔ تیسری طرف شہد، پنیر اور مکھن کے ننھے منے ڈبے رکھے ہوئے تھے۔ چوتھی طرف کھیرے اور ٹماٹر کاٹکر رکھے گئے تھے۔ ہمارے پنجاب کی بڑی بوڑھیوں کے خیال میں کبھی بھی خالی پیٹ کچی سبزی نہیں کھانی چاہیے مگر یہاں ایسا ہی رواج تھا۔میں نے ماریہ کے لئے آملیٹ لانے کا کہا مگر ویٹر صاحب اس لفظ سے ہی ناواقف تھے۔ وہ ہوٹل کے منیجر کو بلا لائے جن کا معاملہ ویٹر سے مختلف نہ تھا۔

روٹی کے طور پر عجیب و غریب قسم کے بن سامنے آئے۔ ترکی میں روٹی کے طور پر یہ بن کھانے کا رواج تھا۔ اندر سے تو یہ نرم تھے مگر ان کا چھلکا نہایت ہی سخت تھا۔ اگر چھلکے کو اتار کر بن کھایا جاتا تو ایک پیس کا ایک ہی نوالہ بنتا۔ میں نے چھلکے کو چبانے کی کوشش کی۔ تھوڑی دیر میں یہ منہ میں گھل گیا مگر اس کوشش میں میرے جبڑوں میں کچھ درد ہونے لگا۔کچھ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ بن کا یہ چھلکا کسی درخت کی چھال سے بنایا گیا ہے۔ اب مجھے محمد کی حیرت کی وجہ سمجھ میں آئی کہ پاکستانی روزانہ روٹی بناتے ہیں۔ روزانہ صبح ، دوپہراور شام کے کھانے میں چند دن یہ بن کھانے سے میری داڑھ میں مستقل درد ہو گئی جو کافی عرصہ بعد جا کر ٹھیک ہوئی۔

ییدی گولر

ناشتے سے فارغ ہو کر ہم باہر نکلے۔ رات والی شاورما کی دکان سے ماریہ کے لئے چکن کے نگٹ بنوائے۔ اب ہم ییدی گولر جانے کے لئے تیار تھے۔

بولو کے گرد ونواح میں دیکھنے کی بہت سی جگہیں تھیں مگر سب کو دیکھنا ممکن نہ تھا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ ہر شہر کے ایک دو قابل دید مقامات کی سیر کر لی جائے۔ بولو کے گرد و نواح میں سب سے خوبصورت جگہ ییدی گولر تھی۔ ترکی میں ییدی سات کو کہتے ہیں اور گول یا گولر جھیل کو۔ یہ سات جھیلوں کا مجموعہ تھا جو گھنے سبزے سے ڈھکے پہاڑوں کے درمیان واقع تھا۔

بولو سے باہر نکل کر ہم ان کے جی ٹی روڈ کے مرکزی چوک میں پہنچے اور ییدی گولر والی سڑک پر چل پڑے۔ تھوڑی دور جا کر پختہ سڑک ختم ہو گئی۔ اب ہم ایک کچی سڑک پر سفر کر رہے تھے۔ یہاں ہر سال سردیوں میں بہت زیادہ برفباری ہوتی ہے۔ بولو کے قریب بہت سے اسکائی انگ ریزارٹ بنے ہوئے ہیں۔ برف باری کی وجہ سے یہاں پختہ سڑک کا قائم رہنا مشکل ہے۔ یہی وجہ تھی کہ یہاں کی حکومت نے پختہ سڑک کا تکلف ہی نہیں کیا۔ کچی سڑک البتہ بالکل ہموار تھی اور یہاں جیپ کی ضرورت نہیں تھی۔

کچھ دور جا کر ہم پہاڑوں میں داخل ہو گئے۔ اب دونوں جانب پہاڑ ہمیں اپنے جلو میں لیتے ہوئے ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے تھے۔ درمیان میں پتلی سی وادی تھی جس میں بس یہی سڑک بنی ہوئی تھی۔ آہستہ آہستہ ہم اوپر کی جانب جا رہے تھے۔ سڑک کو اتنے اچھے انداز میں پلان کیا گیا تھا کہ گاڑی با آسانی تیسرے گیئر میں چل رہی تھی۔

یدی گولر کا راستہ

 

پن چکی

پہاڑوں کے اوپر اتنی ہریالی تھی کہ ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آ رہا تھا۔ کہیں کہیں مویشی چرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ دور پہاڑ پر سبز پودوں میں ایک سرخ پودا بھی نظر آ رہا تھا۔ ابھی جولائی کے آخری ایام تھے۔ اس نے کچھ جلدی کر دی تھی۔کچھ ہی عرصے بعد ان سب پودوں کے پتوں کو سرخ اور پھر سیاہ پڑ جانا تھا۔

اللہ تعالی نے یہ ایکو سسٹم بھی خوب بنایا ہے۔ زمین سے نمکیات چوس کر یہ پودے بڑے ہوتے ہیں۔ ان کے پتے کھا کر جانور پلتے ہیں اور جانوروں کو انسان کھا جاتے ہیں۔ اس کے بعد یہ پودے، جانور اور انسان جب مر کر مٹی میں ملتے ہیں تو دوبارہ ان نمکیات کو پورا کر دیتے ہیں جن کی ضرورت پودوں کو ہوتی ہے۔ دنیا کا یہ نظام انتہا درجے کی ذہانت کی تخلیق ہے۔ اس زمین کا ذرہ ذرہ یہ پکار کر کہہ رہا ہے کہ اسے لامحدود ذہانت کی حامل کسی ہستی سے تخلیق کیا ہے۔ اس کائنات میں صرف انسان ہی ایسی ناشکری مخلوق ہے جو اپنی خواہشات کو بے لگام کرنے کے لئے خالق کائنات کا انکار کر دیتا ہے ورنہ ہر مخلوق اس کے حکم کے آگے سر بسجود ہے۔

پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو ایک تین پروں والی پن چکی ہمارے سامنے تھی۔ یہ بجلی پیدا کرنے کے لئے تھی اور یہاں سے تاریں نکل کر دونوں طرف جا رہی تھیں۔یہ بجلی پیدا کرنے کا سستا اور آسان طریقہ تھا۔ نجانے ہمارے ہاں اسے کیوں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ توانائی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اللہ تعالی نے ہمارے لئے بے پناہ توانائی مفت ہوا، پانی اور دھوپ کی صورت میں رکھ دی ہے۔ اس سے فائدہ نہ اٹھاتے ہوئے مہنگی تھرمل بجلی پیدا کرنا اللہ تعالی کی ناشکری ہے۔

پہاڑ چنار کے درختوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ ہمارے شمالی علاقہجات میں پہاڑوں پر یہی چنار کے درخت سایہ کرتے ہیں مگر ان کا پھیلاؤ اتنا زیادہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اگر پہاڑکی گھاس زرد ہو جائے تو اس کا سبزہ کم محسوس ہوتا ہے۔ یہاں کے چنار کے درخت بہت پھیلے ہوئے تھے جس کی وجہ سے پہاڑ گھنے سبز نظر آ رہے تھے۔

ایک دو مقام پر دو راہے تھے۔ یہاں سے پوچھ کر ہم درست سمت میں چلے۔ سڑک اب نیچے اتر رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہم ییدی گولر جا پہنچے۔ اس علاقے کو ترکی کی حکومت کی جانب سے نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا تھا۔ سڑک کے دونوں جانب جھیلیں نظر آ رہی تھیں۔ یہاں ایک چھوٹا سا ریسٹ ہاؤس اور ایک کیبن بنا ہوا تھا۔میں نے گاڑی ایک جانب پارک کر دی۔ کیبن میں سے ایک صاحب نکلے۔ میں نے ان سے اس مقام کی تفصیل پوچھی تو انہوں نے بیزاری سے ترکی زبان میں ایک تقریر کر دی۔ زبان کا تو ایک لفظ بھی پلے نہ پڑا مگر ان کے اشاروں کا خلاصہ کچھ یوں سمجھ میں آیا کہ یہ دوسری اور تیسری جھیل ہے۔ پہلی جھیل اوپر کی جانبتھی اور بقیہ نیچے کی جانب۔

دوسری اور تیسری جھیل کا رنگ ہلکا سبز تھا۔ دوسری جھیل پر درختوں کی شاخیں لٹک رہی تھیں جن سے دھوپ چھن چھن کر پانی پر پڑ رہی تھی۔ پہلی جھیل پر جانے کے لئے ایک ٹریک بنا ہوا تھا۔ ہم اس پر چل پڑے۔ پانچویں جھیل پر پہنچے تو یہ کچھ خاص محسوس نہ ہوئی۔ پوری جھیل سبز رنگ کے الجی نما پودوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ اب ہم واپس دوسری جھیل سے ہوتے ہوئے تیسری جھیل کی طرف آئے۔ یہ ان تمام جھیلوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی۔ جھیل کے چاروں طرف گھنا سبزہ تھا جس کے عکس کے باعث جھیل کا رنگ بھی سبز ہو رہا تھا۔ دھوپ پانی پر پڑ کر منعکس ہو رہی تھی۔

اب ہم چوتھی جھیل کی جانب بڑھے۔ یہ ایک چھوٹی سی جھیل تھی۔ اس کے بعد پانچویں جھیل کچھ فاصلے پر تھی۔ اس کے قریب کیمپنگ ایریا بنا ہوا تھا۔ میں ساتھ ساتھ جھیلوں کی تصاویر لے رہا تھا۔ پہلی تین جھیلوں کی تصاویر بے حد خوبصورت آئیں حالانکہ جھیلیں اتنی خوبصورت نہیں تھیں۔ اس میں میرا نہیں بلکہ یہ ڈیجیٹل کیمرے کا کمال تھا۔ اس ایجاد کی بدولت ہم جیسے اناڑی فوٹو گرافر بھی اچھی تصاویر لے لیتے ہیں۔ جومنظر اچھا لگا ،کیمرے کا رخ اس کی طرف کر کے بٹن دبا دیا۔ تین چار تصاویر میں سے جو خوبصورت آ گئی، اسے قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا۔پانچویں جھیل کی کوئی تصویر خوبصورت نہیں آ سکی۔ اس وجہ سے میں پینو رامیو پر موجود سلجوق صاحب کی دی ہوئی تصویر پیش کر رہا ہوں۔

پانچویں جھیل پر موجود کیمپنگ سائٹ میں دو خیمے لگے ہوئے تھے۔ یہاں ایک ترک فیملی بیٹھی ہوئی تھی۔ ان سے سلام دعا کرنے کی کوشش کی۔ تعارف ہوا مگر کچھ پلے نہ پڑا۔ یہ معلوم ہو گیا کہ وہ اسی علاقے کے رہنے والے تھے۔ ہمارے پاکستانی ہونے کا سن کر بڑے خوش ہوئے۔

اب ہم جھیل کی جانب جا رہے تھے۔ اچانک پانی گرنے کی آواز سنائی دی۔ وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ جھیل میں ایک تیز رفتار چشمہ آ کر گر رہا ہے۔ یہاں پانی کا نظام یہی تھا۔ بارش اور چشموں کا پانی پہلی جھیل میں اکٹھا ہوتا ہے۔ جب یہ جھیل بھر جاتی ہے تو اس کا فالتو پانی ایک چشمے کی صورت میں دوسری، وہاں سے تیسری، چوتھی اور پانچویں جھیل میں آ گرتا ہے۔ پانچویں جھیل سے یہ پانی ایک زیر زمین راستے کے ذریعے چھٹی جھیل اور وہاں سے ساتویں تک پہنچتا ہے۔اس کے بعد فالتو پانی ایک نالے کی صورت میں نیچے کی طرف چلا جاتا ہے۔فضا میں ہلکی سی خنکی تھی۔

دوسری جھیل

تیسری جھیل

پہلی جھیل

پانچویں جھیل (بشکریہ panoramio.com)

کیمپنگ ایریا میں حکومت نے لکڑی کی میزیں اور بنچ رکھے ہوئے تھے۔ ایک جانب بار بی کیو کرنے کے لئے چولہا بنا ہوا تھا۔ اس میں کوئلے اور لکڑیاں ڈال کر سیاح بار بی کیو کر سکتے تھے چنانچہ وہ ترک فیملی یہی کر رہی تھی۔ گوشت کی بھینی بھینی خوشبو ہر طرف پھیل رہی تھی۔دوسری طرف بچوں کے لئے کچھ جھولے لگے ہوئے تھے۔

میری اہلیہ اور ماریہ جھولوں کی طرف چلی گئیں۔ میری طبیعت نیند نہ پوری ہونے کے باعث بوجھل ہو رہی تھی۔ میں نے جھیل کنارے ایک میز کا انتخاب کیا جہاں چشمے کے گرنے سے پیدا ہونے والی موسیقی کی آواز پہنچ رہی تھی۔ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی اور ٹھنڈی ٹھنڈی سی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ میں بڑے اطمینان سے میز پر لیٹا اور ماحول کو انجوائے کرتے کرتے میری آنکھ لگ گئی۔ ایک گھنٹے بعد آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ ترک بھائیوں نے لکڑی والے بن میں رکھ کر تازہ تازہ چکن تکہ بھیجا ہے۔ اب اس نعمت سے انصاف نہ کرنا ناشکری ہوتی چنانچہ جبڑوں کو جبری مشقت میں ڈالنا پڑا۔ تکے کا ذائقہ ہمارے جیسا ہی تھا۔

ترک عصبیت

دوسری قوموں کی طرح ترکوں میں بھی قومی عصبیت پائی جاتی ہے مگر ان کی عصبیت تعمیری ہے۔علم سماجیات کے بانی ابن خلدون کے مطابق عصبیت سے ہی قوم بنتی ہے۔ انسان کے اندر یہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو ایک گروہ یا قوم کا حصہ سمجھتا ہے۔ کسی قوم میں یہ جذبہ جتنا طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے، اتنا ہی قوم متحد ہو کر تعمیر کے راستے پر چلتی چلی جاتی ہے۔

ہمارے ہاں قومی عصبیت کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ دوسری قوموں سے نفرت کی جائے اور اپنی قوم سے محبت۔ ترکوں کے ہاں ایسی عصبیت پائی نہیں جاتی۔ ان کے ہاں عصبیت کا معنی ہے کہ اخلاق اور کردار میں دوسری اقوام سے بہتر بنا جائے۔ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تعمیری بنا جائے۔ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ اچھے انسان بنا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی میں اخلاق کا معیار بہت بلند ہے۔ کرپشن بہت ہی کم ہے۔ لوگ اچھے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ غیر ملکیوں کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو خاص طور پر اس کی مدد کی جاتی ہے۔

ہمارے ہاں بھی اعلی اخلاق کے حامل افراد کی کمی نہیں ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ تعمیری لوگ کم ہی متعصب ہوا کرتے ہیں۔ زیادہ تر تعصب ان لوگوں میں پایا جاتا ہے جن میں خود کوئی کمی ہو۔ ایسے لوگ اپنے احساس کمتری کو چھپانے کے لئے تعصب کی آڑ لیتے ہیں۔آپ شاید ہی کسی اعلی تعلیم یافتہ ایگزیکٹو، ڈاکٹر، انجینئریا کامیاب بزنس مین کو تعصب میں مبتلا دیکھیں گے۔اس کے برعکس ایسے لوگ جو کاروبار میں ناکام رہ جائیں، ملازمت حاصل نہ کر سکیں، یا سرے سے کام ہی نہ کرنا چاہتے ہوں، تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے افراد کو سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کے لئے قابو کر لیتی ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو احتجاجی مظاہروں میں نکلتے ہیں، پتھراؤ کرتے ہیں، گاڑیاں جلاتے ہیں، گھروں کے شیشے توڑتے ہیں اور پٹرول پمپ اور بینک لوٹتے نظر آتے ہیں۔

ہمارے ہاں جلسے جلوس کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر جلوس نکال کر معیشت کا پہیہ جام کر دیا جاتا ہے۔ایسا کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ ان کے اس عمل سے کتنے گھروں میں چولہا نہ جل پائے گا۔ ہمارے ایک جاننے والے اپنی آنکھوں دیکھا منظر بیان کرتے ہیں کہ وہ کراچی کے صدر بازار میں کسی کام سے گئے۔ ان دنوں پاکستان میں شراب پر پابندی نہیں تھی اور کھلے عام شراب فروخت ہوا کرتی تھی۔ کچھ لوگ اس کے خلاف جلوس نکال کر احتجاج کر رہے تھے۔ صدر پہنچ کر شراب کی دکان کے سامنے یہ جلوس مشتعل ہو گیا اور انہوں شراب کی دکان پر حملہ کر دیا۔ اندر پہنچ کر جس کے ہاتھ میں شراب کی جو بوتل لگی، اس نے لوٹ کر اپنے تھیلے میں ڈالی اور اس کے بعد دکان کو آگ دکھا دی۔ یہ وہ حضرات تھے جو شراب کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

اگر ہم اس تکلیف دہ کلچر سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی خود کو تعمیری اور مثبت بنانا ہو گا۔ قوم کی تعمیر صرف اور صرف تعلیم اور اخلاقی تربیت سے ہوتی ہے۔ ہمارے جو افراد دین کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں اور وہ اس کام میں مخلص ہیں، ان کے لئے کرنے کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ وہ قوم کی اخلاقی تربیت کریں۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے وہ اپنی قوم کو عزت کا مقام دلوا سکتے ہیں۔ جلسے جلوسوں سے لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے جبکہ اخلاقی تعمیر سے انہیں اپنے حقوق وصول کرنے کا نہیں بلکہ دوسروں کے حقوق ادا کرنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

جماعت ۔۔۔۔جماعت۔۔۔۔

یہاں سے اٹھ کر ہم چھٹی جھیل کی جانب چلے جو سڑک کے دوسری جانب تھی۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی ایسا ہی کیمپنگ ایریا ہے۔ یہاں لکڑی کی بنی ہوئی چھوٹی سی مسجد تھی۔ ایک صاحب مسجد کی جانب جا رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگے، "جماعت۔۔۔۔ جماعت۔۔۔۔" کچھ فاصلے پر چشمے کا رخ موڑ کر ایک حوض سا بنا ہوا تھا جس میں سے مستقل پانی بہے جا رہا تھا۔ یہاں سے وضو کیا تو ہاتھ پاؤں منجمد ہوتے معلوم ہوئے۔ گھنے سبزے کے باعث دھوپ بھی پوری طرح پہنچ نہ پا رہی تھی۔

مسجد والے صاحب اذان دے رہے تھے۔ ان کی آواز فطرت سے پوری طرح ہم آہنگ محسوس ہو رہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ارد گرد موجود مرد مسجد کی طرف چل پڑے اور چھوٹی سی مسجد نمازیوں سے بھر گئی۔نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو خواتین مسجد میں جمع ہونے لگیں۔ مرد مسجد کے ایک طرف اکٹھا تھے۔انہیں شایدمیں وکھری ٹائپ کا لگ رہا تھا چنانچہ تعارف کی ناکام کوشش شروع کی گئی۔ انگریزی کسی کو نہ آتی تھی چنانچہ اپنی فیملی کے ایک انگریزی تعلیم یافتہ فرزند کو آواز دی گئی جو کہ ترجمانی کا فریضہ انجام دیں۔انہیں کچھ کچھ انگریزی آتی تھی جو تعارف کے لئے کافی تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ حضرات یہاں سے کچھ دور بلیک سی پر واقع شہر "بارٹِن" سے تعلق رکھتے ہیں۔ خاصی بڑی اور دین دار فیملی تھی جنہیں اپنے مسلمان اور ترک ہونے پر فخر تھا۔

اب ہمارا کوچ کا پروگرام تھا۔ چھٹی اور ساتویں جھیل دیکھنے کے بعد ہم واپس مڑے اور بولو کی جانب چل پڑے۔اب ہم استنبول انقرہ جی ٹی روڈ پر تھے اور موٹر وے کے ایگزٹ کی طرف جا رہے تھے۔گاڑی میں ابھی نصف ٹنکی ڈیزل موجود تھا مگر بہتر یہی تھا کہ ٹنکی بھی فل کروا لی جائے اور حوائج ضروریہ سے بھی فارغ ہو لیا جائے۔ پٹرول پمپ پر کہیں ٹائلٹ نظر نہیں آ رہے تھے۔ میں نے اس بارے میں پٹرول ڈالنے والے صاحب سے پوچھا۔ یہ صاحب بات سمجھنے کی کوشش کرتے رہے مگر ناکام رہے۔کچھ دیر غور و خوض کے بعد جب بات نہ بن پڑی تو اپنے منیجر کو بلا لائے۔ معاملہ اب مشکل ہو رہا تھا۔ میرے ذہن میں ٹائلٹ کے مترادف جتنے الفاظ آئے ، میں نے کہہ دیے: "ٹائلٹ۔۔۔ڈبلیو سی۔۔۔حمام۔"

حمام کے لفظ پر منیجر صاحب پھڑک اٹھے۔ ہاتھوں کو اس طرح پھیلایا جیسے ان پر کوئی نقشہ رکھا ہوا ہو۔ کہنے لگے، "آپ کے پاس نقشہ ہے؟" میں نے نقشہ پیش کیا تو اس پر انقرہ کے قریب ایک مقام پر انگلی رکھ کر بولے، "یہاں آپ کو بہت اچھے حمام مل جائیں گے۔" گویا ان کے مشورے کے مطابق ہمیں حوائج ضروریہ کے لئے ڈیڑھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے انقرہ جانا چاہیے تھا۔ وہ حمام سے غسل والا حمام سمجھے تھے۔

اب ہم انقرہ موٹر وے پر داخل ہوئے اورمشرق کی جانب چل پڑے۔جیسے ہماری موٹر وے M1 & M2 کہلاتی ہے، اسی طرح یہاں کی موٹر وے کو O-4 کا نمبر دیا گیا تھا۔ کچھ دور جا کر ایک ریسٹ ایریا آیا۔سبز پہاڑوں کے دامن میں خوبصورت عمارتیں بنی ہوئی تھیں۔ یہاں بڑا اچھا پارک بھی بنا ہوا تھا جس میں جھولے لگے تھے۔ ماریہ نے یہیں ڈیرا ڈال دیا۔ ہم سپر مارکیٹ کی طرف چل پڑے۔

سفرنامے کے نوٹس لکھنے کے لئے میرا پین گم ہو گیا تھا۔ یہاں سپر مارکیٹ میں بال پین تلاش کیا مگر نہ ملا۔ کاؤنٹر پر موجود خاتون سے اس کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگیں، "نو پین۔" ان کے اپنے لکھنے کے لئے بہت سے بال پین ایک ڈبے میں رکھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا کہ انہی میں سے دے دیجیے۔ انہوں نے ڈبا میرے سامنے رکھا۔ میں نے ایک بال پین لیا اور قیمت پوچھی۔ کہنے لگیں، "نو منی۔"

یینی چاغا گولواور الغاز نیشنل پارک

ریسٹ ایریا سے نکل کر کچھ دور چلے تو ایک خوبصورت منظر نگاہوں کے سامنے آ گیا۔ کسی ناگن کی طرح بل کھاتی ہوئی موٹر وے ایک حسین نیلی جھیل کے پاس سے گزر رہی تھی۔ ایک بورڈ پر اس کا نام "یینی چاغا گولو"لکھا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی جھیل تھی جس کے کنارے ہماری "ہالیجی جھیل "کی طرح سرکنڈوں کا گھنا جنگل تھا۔جھیل کے کنارے پر یینی چاغا کا قصبہ تھا۔

جھیل سے کچھ آگے پہنچے تو "گریڈی" کا قصبہ آیا۔ یہاں سے ہمیں موٹر وے سے باہر نکلنا تھا کیونکہ اب ہمیں بلیک سی کے کنارے واقع شہر "سامسن" کی طرف جانا تھا۔ ایگزٹ سے نکل کر اب ہم عام سڑک پر آ گئے۔ یہاں ایک ٹول پلازہ بنا ہوا تھا۔ یہاں 11 لیرا ٹول وصول کیا گیا جو میرے خیال میں کافی زیادہ تھا مگر بعد میں ترکی کے آخری سرے تک ہمیں کسی ٹول پلازہ کا سامنا نہ کرنا پڑا۔

اب ہم دو رویہ اونچے نیچے راستے پر سفر کر رہے تھے۔ کچھ فاصلے پر پہنچ کر ایک تاریخی شہر "سفران بولو" کو جانے والی سڑک بائیں جانب نکلتی نظر آئی۔ اس شہر میں ترکی کے قدیم گھر پائے جاتے ہیں۔ ہم یہاں نہ جا سکے بلکہ اسی سڑک پر سیدھے سفر کرتے ہوئے "اتکارا چلار" سے ہوتے ہوئے "الغاز" جا پہنچے۔ یہ شہر اپنے گھنے جنگل کی وجہ سے مشہور تھا اور اسے نیشنل پارک قرار دیا گیا تھا۔ یہاں کا منظر کچھ مختلف تھا۔ پہاڑوں پر موجود گھاس زرد ہو چکی تھی اور اس پر سبز رنگ کے گھنے درختوں کا جنگل تھا جو سڑک کے دونوں جانب پھیلا ہوا تھا۔

ترکوں کی اخلاقی تربیت

ہم اب استنبول سے 700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر چکے تھے مگر صرف ایک جگہ ہی پولیس کی گاڑیاں دیکھی تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ترکی میں پولیس کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں جرائم بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ ہم نے پورے ترکی میں کبھی یہ منظر نہیں دیکھا کہ کوئی شراب پی کر غل غپاڑہ کر رہا ہو۔ ہر شہر میں نائٹ کلب اور ڈسکو موجود تھے مگر وہاں جانے والوں کی تعداد بہت ہی کم تھی۔ خواتین کے ساتھ بدتمیزی کا کوئی واقعہ ہم نے نہیں دیکھا۔ پولیس والوں کو گاڑیاں روک کر چیکنگ کرتے ہوئے کہیں بھی نہیں دیکھا۔

اس کی وجہ یہی سمجھ میں آئی کہ ان کے ہاں لوگوں کی اخلاقی تربیت کا نظام بہت مضبوط ہے۔ اگر لوگوں کی اخلاقی تربیت کر دی جائے تو پھر پولیس اور اس کی چیکنگ کی ضرورت بہت ہی کم رہ جاتی ہے۔ بعد میں جب ترک دانشوروں سے ملاقات ہوئی تو میرے اس اندازے کی تصدیق ہو گئی کہ ایسا ہی ہے۔

مجھ سے ایک بار ایک صاحب پوچھنے لگے کہ آپ اپنی تحریروں میں اخلاقی تربیت کو اتنی اہمیت کیوں دیتے ہیں؟ میں نے ان کی خدمت میں ایک مثال پیش کی۔ فرض کر لیجیے کہ آپ کسی مقام پر کوئی پل بنانا چاہتے ہیں۔ اس پل کی تعمیر کے لئے آپ کو جو انسانی وسائل درکار ہوں گے، ان میں کن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے؟ یقینی طور پر آپ کو ایسے انجینئر درکار ہوں گے جو اپنے فن میں پوری مہارت رکھتے ہوں۔ انہیں ایسے پل بنانے کا تجربہ ہو۔ انہوں نے کسی انجینئرنگ کے ادارے سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہو۔ ان سب فنی خصوصیات کے ساتھ ساتھ وہ اخلاقی اعتبار سے اچھے اور دیانت دار انسان بھی ہوں۔

اگر آپ کسی ایسے شخص کوپل بنانے کا ٹھیکہ دے دیتے ہیں جو اپنے فن میں مہارت نہیں رکھتا تولازمی طور پر پل اپنی تعمیر کے کچھ ہی عرصے بعد گر جائے گا۔ یہی معاملہ اخلاقی تربیت کا ہے۔ اگر آپ کسی اہل مگر بددیانت انجینئر کو یہ کام سونپتے ہیں تو بھی نتیجہ یہی ہو گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاقی تربیت کی اہمیت کلیدی ہے۔

ہمارے دین دار افراد اگرچہ اخلاقیات کو اچھا سمجھتے ہیں مگر بالعموم اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ان کے ہاں مخصوص وضع قطع اورفرقہ وارانہ اختلافات کو جتنی اہمیت دی جاتی ہےاور اس پر جتنا زور صرف کیا جاتا ہے، اس کا عشر عشیر بھی اخلاقی تربیت پر صرف نہیں کیا جاتا ۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے مذہبی طبقے کے افراد میں بھی کرپشن عام ہے۔ مدارس اور مساجد کے فنڈز سے لے کر حکومتی فنڈز میں خورد برد کے بہت سے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔اسی اخلاقی تربیت کے فقدان کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسجدکے منبر و محراب کو ان مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جن کی دین میں کوئی اجازت نہیں ہے۔

طوسیہ کے چاول

اب وادی کچھ وسیع ہوتی جا رہی تھی ۔ سڑک کے دونوں جانب ہرے بھرے کھیت نظر آ رہے تھے۔ جہاں فصل پک چکی تھی وہاں کھیتوں کا رنگ زرد ہو چکا تھا۔یہ طوسیہ کا علاقہ تھا جو چاول کے کھیتوں کے لئے مشہور تھا۔ سبز کھیتوں میں سبزے کے مختلف شیڈ موجود تھے۔ کہیں رنگ زردی کے قریب تھا اور کہیں ہلکا سبز۔ کہیں یہ گہرا سبز تھا۔ دور زرد گھاس کے اندر ایک نیلی جھیل نظر آ رہی تھی۔ یہ سب اللہ تعالی کی قدرت کے مختلف رنگ تھے۔وادی میں ایک تنگ سا دریا بہہ رہا تھا جو کہ ہماری اپر جہلم نہر جتنا چوڑا تھا۔

کچھ دور دریا ہمارے ساتھ چلا۔ مجھے اب کافی کی طلب محسوس ہو رہی تھی۔ ترکی میں کافی کا استعمال بہت ہی کم ہے۔ اس کے برعکس ان کی اپنی چائے زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔سعودی عرب میں جو ٹرکش کافی کے نام پر جو کافی پیش کی جاتی ہے، اس کا ترکی میں کہیں رواج نہ تھا۔ ایک بڑا ریسٹ ایریا آیا۔ میں اتر کر ہوٹل میں گیا۔ خوش قسمتی سے یہاں کافی مل گئی۔ یہاں پر کافی کو نیسلے کے مشہور برانڈ کے نام پر "نیس کیفے" کہا جاتاہے۔کافی اتنی تیز تھی کہ میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔اس کا اثر یہ ہوا کہ میں نے گاڑی کی ریس پر پاؤں کے دباؤ میں اضافہ کر دیا مگر پھر بھی ہماری گاڑی بمشکل 120 کی رفتار پر جا رہی تھی۔

جستجو اور تحقیق

سڑک پر کچھ مغربی سیاح کندھوں پر بیگ لٹکائے اپنی سائیکلوں پر جا رہے تھے۔ یہ غالباً "ٹور دی ورلڈ" قسم کے سیاح تھے۔ بعض لوگ ایڈونچر پسند ہوتے ہیں اور کوئی عجیب سا کارنامہ کر کے ممتاز ہونے کے لئے اس قسم کے کام کرتے ہیں۔ ان حضرات میں دراصل جستجو اور تحقیق کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ اگر اسی توانائی کو کسی مثبت اور تعمیری کام میں صرف کیا جائے تو بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالی نے یہ مادہ انسان کے اندر اس لئے رکھا ہے کہ وہ خوب سے خوب ترکی تلاش کرے۔ دنیاوی معاملات میں تو انسان ایسا ہی کرتا ہے۔ اگر وہ بازار میں کوئی چیز لینے جاتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم قیمت میں وہ بہترین سے بہترین چیز خریدے۔ وہ دس دکانوں پر جاتا ہے۔ ان کی مصنوعات اور ان کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہے۔ ان کا باہمی تقابل کرتا ہے اور پھر جو سب سے بہتر لگے وہ خرید لیتا ہے۔

یہی انسان دین کے معاملے میں انتہا درجے کی غیر ذمہ داری کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ وہ جس مذہب، مسلک اور فرقے میں پیدا ہو جائے، اس سے مضبوطی سے چمٹا رہتا ہے۔ اس کے ذہن میں جب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عین ممکن ہے کہ کوئی دوسرا مذہب یا مسلک حق پر ہو اور میرا مذہب ہی غلط ہوتو وہ اس سوال کو سختی سے دبا دیتا ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرما دیا ہے:

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔ جنہوں نے ہماری راہ میں جستجو کی، ہم ضرور ضرور انہیں اپنی طرف راستہ دکھا دیں گے۔ (عنکبوت 29:60)

یہ درست ہے کہ ہر شخص میں اتنی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ تحقیق کر سکے مگر ذہن میں اٹھنے والے سوالات کو دبا دینا ہی وہ جرم ہے جس کا حساب ہمیں اللہ تعالی کے حضور دینا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جب انسان کے ذہن میں اپنے مذہب، مسلک یا فرقے سے متعلق کوئی سوال پیدا ہو تو وہ اپنے فرقے کے اہل علم کے علاوہ دیگر فرقوں کے اہل علم سے بھی اس کا جواب پوچھے اور پھر اس کے سامنے جو راہ کھلے، اس پر چلنے کی کوشش کرے۔ افسوس کہ ہم دین کو اتنا بے وقعت سمجھتے ہیں کہ جو مذہب یا فرقہ ہمیں سب سے پہلےمل جائے، ہم سوچے سمجھے بغیر اسے اختیار کر لیتے ہیں۔

ہمارے ذہنوں میں یہ کوٹ کوٹ کر بھر دیا جاتا ہے کہ ہم حق پر ہیں، ہمارے سوا جو لوگ ہیں سب باطل پر ہیں۔ ہمارا کوئی قصور نہیں،ہر معاملے میں قصور صرف دوسروں کا ہے۔ ہم سب سے بڑے ہیں ، دوسرے تمام لوگ ہمارے مقابلہ میں چھوٹے ہیں۔ ہم خدا کے محبوب ہیں، دنیا بھی صرف ہماری ہے اور آخرت بھی صرف ہماری ہی ہے۔ کچھ ایسی ہی برین واشنگ دوسرے مذاہب اور فرقوں کے مذہبی راہنما اپنے پیروکاروں کے ذہنوں میں کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ مسلک اور فرقے میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے سے برسر پیکار ہو جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں بعض فرقہ پرست لوگ بھی فرقہ واریت کو برا کہتے ہیں۔ ان کے خیال میں فرقہ واریت کا آسان سا حل یہ ہوتا ہے کہ دوسرا ان کے نقطہ نظر کو قبول کر لے۔ حل تو بڑا سادہ ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ دوسرے کے ذہن میں بھی حل یہی ہوتا ہے۔ فرقہ پرست ہونےکی بجائے انسان کو حق پرست ہونا چاہیے۔انسان کی کمٹ منٹ فرقے کی بجائے حق سے ہونی چاہیے۔

اب ہم "بویا بت" نامی شہر کےپاس سے گزر رہے تھے۔ "گرزے " کے مقام پر "سامسن سائنپ یولو" پر جا پہنچے۔ اب ہم بلیک سی کے ساتھ ساتھ سفر کر رہے تھے۔ یہ ڈبل روڈ تھی۔ یہاں اونچی نیچی ڈھلانوں پر کھیت بنے ہوئے تھے۔ بعض کھیت تو کافی ترچھے تھے۔ شام کے آٹھ بج رہے تھے اور سورج غروب ہو رہا تھا۔اب اندھیرا پھیل رہا تھا۔ اب ترکوں کی ایک اور خوبی سامنے آئی۔ سب لوگوں نے گاڑیوں کی لائٹیں مدہم رکھی ہوئی تھیں۔ تیز لائٹوں سے سامنے والے ڈرائیور کو تکلیف ہوتی ہے جو کسی حادثے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

یہی معاملہ ہارن کا ہے جو آواز کی آلودگی (Noise Pollution) پھیلاتے ہوئے دوسروں کو ایذا دینے کا باعث بنتا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کی تمام مہذب اقوام تیز لائٹوں اور ہارن کے استعمال سے پرہیز کرتی ہیں۔اب سڑک بہتر ہوتی جا رہی تھی اوراسی مناسبت سے رش بھی بڑھ رہا تھا کیونکہ سامسن شہر قریب آ رہا تھا۔ہم لوگ "دریائے کی زی لرمارک"یا سرخ دریا کو پار کرتے ہوئے شہر کی طرف جا رہے تھے۔

تاریخ میں سامسن کی وجہ شہرت یہ ہے کہ 1919ء میں مصطفی کمال نے جنگ آزادی کا آغاز یہیں سے کیا تھا۔ اس سے متعلق کچھ آثار یہاں پر ملتے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ آگے بڑھنے سے پہلے مصطفی کمال اور ان کی تحریک کا جائزہ لے لیا جائے۔یہ تفصیلات ان کی آفیشل ویب سائٹ www.ataturk.com سے لی گئی ہیں۔

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست††††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

 

 

اگلا باب †††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

 

مصنف کی دیگر تحریریں

اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا سدباب/سفرنامہ ترکی/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں ††††/†† علوم الحدیث: ایک مطالعہ/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص ††/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز /اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟†† /مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت †††/Quranic Concept of Human Life Cycle ††††/Empirical Evidence of Godís Accountability