بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

مصطفی کمال اور کمال ازم

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 20MB)

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے بغیر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مصطفی کمال کی تحریک

مصطفی کمال کو جدید ترکی کا بانی کہا جاتا ہے۔ وہ 1881ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے استنبول کے ملٹری اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ 1902ء میں وہ فوج میں لیفٹیننٹ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اگلے دس سال میں ترقی کر کے وہ سینئر میجر کے عہدے تک جا پہنچے۔ 1912ء میں بلقان کی جنگ کی انہوں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ 1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی جس میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ 1915ء میں برطانوی اور فرانسیسی افواجنے آبنائے چناقی قلعہ کے ذریعے ترکی پر حملہ کیا جس میں مصطفی کمال نے شدید مزاحمت کی۔ 1916ء میں انہوں نے مشرقی محاذ پر روسی افواج کے خلاف جنگ کی اور کئی فتوحات حاصل کیں۔

پہلی جنگ عظیم میں جرمنی اور اس کی اتحادی افواج کو شکست ہوئی جس میں ترکی بھی شامل تھا۔ برطانیہ اور فرانس نے عثمانی سلطنت کے مقبوضات پر قبضہ کرنا شروع دیا۔ اس دور میں عثمانی سلطنت موجودہ دور کے سعودی عرب کے مغربی حصے، عراق، شام، فلسطین، افریقہ کے کچھ ساحلی ممالک اور ترکی پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ ترکی پر یونانی اور فرانسیسی افواج نے قبضہ کر لیا۔

کمال نے ان افواج کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کر لیا۔ ان کی قیادت میں ترکوں نے اپنی جنگ آزادی کا آغاز 1919ء میں سامسن سے کیا۔ اگلے دو تین برس کے عرصے میں ترکوں نے اس جنگ آزادی میں فتح حاصل کی اور جدید جمہوریہ ترکی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس جنگ میں مصطفی کمال کی خدمات کے نتیجے میں انہیں حکومت کا سربراہ بنا دیا گیا اور استنبول کی جگہ انقرہ کو جدید ترکی کا دارلحکومت بنا دیا گیا۔1923ء سے لے کر 1938ء میں اپنی موت تک مصطفی کمال ترکی کے حکمران رہے۔

نظریاتی اعتبار سے کمال ایک کٹر نیشنلسٹ تھے۔ ان کے اندر قوم پرستی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ان کی نظریاتی تربیت نوجوانان ترک (Young Turks) کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے دور میں انہوں نے ترکی میں بہت سی تبدیلیوں کی بنیاد رکھی۔ ان کی خواہش تھی کہ ترکی کو ایک جدید ریاست بنایا جائے۔ اس مقصد کے لئے تبدیلیوں کی جو لہر پیدا کی اس کی کچھ تفصیل یہ ہے۔

       عثمانی بادشاہت کا خاتمہ: کمال سے پہلے ترکی پر عثمانی بادشاہوں کی حکومت تھی۔ ان کا نظام حکومت "تھیو کریٹک بادشاہت" تھا جسے وہ "خلافت" کہا کرتے تھے۔ کمال نے اس مذہبی بادشاہت کو ختم کر کے سیکولر جمہوریہ قائم کی۔

       سیکولر ازم کا فروغ: کمال مغرب کے اس نظریے سے بری طرح متاثر تھے کہ ریاست اور مذہب کو علیحدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے نہ صرف ریاست کو مذہب سے الگ کر کے خالص سیکولر حکومت قائم کی بلکہ مذہبی علماء کے اثر کو کم کرنے کے لئے ان پر بہت سی پابندیاں بھی عائد کر دیں۔

       مذہبی لباس پر پابندی: عثمانی دور میں مرد و خواتین کے لئے مخصوص لباس پہننے کی پابندی تھی۔ علماء ایک مخصوص لباس پہنا کرتے تھے۔ کمال نے 1934ء میں ہر قسم کے مذہبی لباس پر پابندی عائد کر دی۔اس میں خواتین کے حجاب پر پابندی بھی شامل تھی۔مردوں اور خواتین کے لئے مغربی لباس کو فروغ دیا گیا۔

       خواتین سے متعلق تبدیلیاں: عثمانی دور میں خواتین کو کچھ حقوق سے محروم رکھا گیا تھا۔ کمال نے انہیں ووٹ اور سرکاری ملازمت کا حق دیا۔ نکاح و طلاق کے قوانین میں ترامیم کی گئیں۔ خواتین کو حقوق دینے کے ساتھ ساتھ ان پر یہ پابندی بھی عائد کی گئی کہ وہ پبلک لائف میں اپنی مرضی کا لباس پہننے کی بجائے مغربی لباس پہنیں۔

       مذہبی قوانین کا خاتمہ: کمال کے عہد میں مذہبی قوانین کو ختم کر دیا گیا اور مکمل سیکولر قوانین کو رائج کیا گیا۔

       حروف تہجی میں تبدیلی: عثمانی دور میں ترکی زبان، عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ کمال نے اس کی بجائے اسے رومن حروف میں لکھنے کا حکم جاری کیا۔

       اذان، نماز اور قرآن کی زبان میں تبدیلی: 1933ء میں یہ حکم جاری کیا گیا کہ اذان ترکی زبان میں دی جائے اور قرآن مجید کی تلاوت ترکی زبان میں کی جائے۔نماز بھی ترکی زبان میں ادا کی جائے۔

       مغربی تہذیب کا فروغ: کمال نے ترکی میں مغربی تہذیب کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے مغربی رقص و موسیقی کی محفلوں کو سرکاری سرپرستی فراہم کی۔ مغربی لباس پہننے پر زور دیا اور اپنے پیروکاروں کو مغربی طرز زندگی اختیار کرنے کی تلقین کی۔ان کے نزدیک مغربیت اور جدیدیت ہم معنی تھیں۔

       ایلیٹ ازم کا خاتمہ: عثمانی دور میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو مختلف خطابات دیے جاتے تھے۔ اشرافیہ کا طبقہ عوام سے بلند سمجھا جاتا تھا۔ کمال نے اسے ختم کرنے کے لئے اشرافیہ کے القابات پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ اور بات ہے کہ کمال کے اقدامات کے نتیجے میں ایک نئی ایلیٹ کلاس پیدا ہو گئی۔

       مدارس اور خانقاہوں پر پابندی: کمال نے مذہبی مدارس اور خانقاہوں پر پابندی عائد کر دی تاکہ مذہبی طبقے کو کچلا جا سکے۔

       یکساں تعلیمی نظام کا قیام: ملک میں مختلف طبقوں کے لئے مختلف تعلیمی نظام قائم تھے۔ کمال نے یکساں تعلیمی نظام رائج کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بلیک بورڈ لے کر ایک ایک قصبے میں جا کر خود تعلیم دینے کے عمل کا آغاز کیا۔

       آمرانہ نظام حکومت کا قیام: کمال نے بادشاہت کا خاتمہ کرتے ہوئے جمہوری حکومت قائم کی مگر یہ جمہوری حکومت صرف ایک پارٹی کی حکومت پر مبنی تھی۔

ان اقدامات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے آل اباؤٹ ترکی ڈاٹ کام کے بوراک سنسال لکھتے ہیں:

حکومت سنبھالتے ہیں اتاترک نے ملک کی سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی میں انقلابات کے سلسلے کا آغاز کیا جس کا مقصد ترکی کو ایک جدید ریاست بنانا تھا۔ ان کے نزدیک جدیدیت کا مطلب مغرب پرستی تھی۔ ایک موقع پر، ایک سیکولر قانونی ضابطہ جو کہ یورپی خطوط پر تیار کیا گیا تھا، نافذ کیا گیا جس نے خواتین، شادی اور خاندانی تعلقات کومتاثر کیا۔ ایک اور موقع پر ، اتاترک نے اپنے ہم وطنوں کو یورپیوں کی طرح سوچنے اور عمل کرنے کی تلقین کی۔ یورپی لباس پہننے کے لئے ترکوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اتاترک نے سرکاری تقریبات میں بذات خود بال روم ڈانس کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔"سر نیم" اختیار کیے گئے۔ مثال کے طور پر مصطفی کمال، کمال اتاترک بن گئے۔عصمت پاشا (وزیر اعظم) نے جنگ آزادی میں اپنی کامیابیوں کو یاد رکھنے کے لئے "انونو" کو سر نیم کے طور پر اختیار کیا۔

اس طرح اتاترک نے اس بات پر زور دیا کہ ماضی سے تمام رشتے توڑ دیے جائیں جسے وہ غلط سمجھتے تھے۔ (عثمانی دور کے) القابات ختم کر دیے گئے۔ فیض (ترکی ٹوپی) پر پابندی لگا دی گئی جو کہ ایک صدی پہلے پگڑی کی جگہ رائج کی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قوم پرستوں کے نزدیک یہ عثمانی دور کی علامت تھی۔

اتاترک کے انقلابی پروگرام کی نظریاتی بنیاد کمال ازم کہلاتی ہے۔ اس کے بنیادی نکات چھ ہیں۔ ان میں جمہوریت، قوم پرستی، نچلے طبقے کی حکومت، انقلابیت، معیشت پر حکومتی کنٹرول، اور سیکولر ازم شامل ہے۔۔۔۔۔

غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتاترک نے ترکی زبان کو از سر نو ایجاد کیا اور ترکی کی تاریخ کو ایک نئے قوم پرستانہ سانچے میں ڈھال دیا۔زبان سے متعلق اصلاحات کے ایک حصے کے طور پر اتوار کو صدر خود انقرہ کے ایک پارک میں جا کر لاطینی حروف تہجی کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ http://www.allaboutturkey.com/reform.htm

مصطفی کمال کے بارے میں ہمارے ہاں متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ سیکولر حضرات کے لئے وہ ایک آئیڈیل اور فرشتے کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ بہت سے مذہبی حضرات کے نزدیک ان کی حیثیت اہل مغرب کے ایک ایجنٹ کی سی تھی۔ چونکہ کسی کی ذات کے بارے میں بحث کرنا ہماری عادت نہیں ہے، اس وجہ سے ہم اپنی بحث کو صرف اور صرف ان کے اقدامات تک ہی محدود رکھتے ہیں۔

ہمارے ہاں کسی شخص کے اقدامات کا تجزیہ کرتے ہوئے متعصبانہ طریق کار اختیار کیا جاتا ہے۔ کسی شخص کے ایک اقدام سے اگر ہمیں اختلاف ہو تو ہم اس کے تمام اقدامات کو اسی نظر سے دیکھتے ہوئے مسترد کر دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم کسی شخص کے ایک اقدام کو اچھا سمجھتے ہوں تو پھر اس کے تمام اقدامات کو زبردستی اچھا قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طریق کار بالکل ہی غلط ہے۔ تجزیے کا درست طریقہ یہ ہے کہ ہمیں اس شخص کے اقدامات کا علیحدہ علیحدہ جائزہ لے کر ہر معاملے کے بارے میں درست و غلط کا فیصلہ کرنا چاہیے۔

کمال کے دور میں جو تبدیلیاں لانے کی کوشش کی گئی، ان میں سے بعض وقت کی ضرورت تھیں اور بعض تبدیلیاں یقینی طور پر حد سے تجاوز نظر آتی ہیں۔ مناسب ہو گا کہ ان تبدیلیوں سے ہم اپنا نقطہ نظر بھی یہاں بیان کرتے جائیں۔ قارئین ہمارے نقطہ نظر سے اختلاف کر سکتے ہیں۔

تھیوکریسی، سیکولر ازم اور اسلام

دور جدید کے مسلم ممالک میں یہ ایک بڑی بحث ہے کہ حکومت کو سیکولر ہونا چاہیےیا اسلامی۔اس بحث میں اختلاف کے نتیجے میں ہمارے ہاں دو مستقل طبقے وجود میں آ چکے ہیں جو کہ خود کو سیکولر یا اسلام پسند کہتے ہیں۔ پاکستان میں یہ بحث اس وقت اپنے عروج کو پہنچی جب یہاں کے ایک فوجی ڈکٹیٹر نے مصطفی کمال کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہوئے ترکی کی طرز پر تبدیلیوں کے عمل کا آغاز کرنا چاہا۔ اس بحث کا آغاز کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ تھیو کریسی اور سیکولر نظام ہائے حکومت کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے۔

قدیم دور اور قرون وسطی میں حکومت کے لئے جو ماڈل رائج کیا گیا، وہ تھیو کریسی کہلاتا تھا۔ اس نظام کے مطابق یہ طے کر لیا جاتا تھا کہ حکومت کرنا صرف خدا کا حق ہے۔ خدا نے یہ حق بادشاہ کو اپنے نائب کے طور پر تفویض کیا ہے۔ بادشاہ اس حق کو خدا کے نمائندے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ حکومت کا ایک مذہب ہو گاجس کے مطابق ریاست کے معاملات چلیں گے۔ قانونی اعتبار سے ہر شہری کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ اس مذہب کی پابندی کرے کیونکہ یہ "خدا کا حکم" ہے۔مذہب کی تشریح کرنا مذہب کے علماء کا کام ہو گا۔

اس نقطہ نظر کے تحت دنیا بھر میں بدھ، ہندو، مجوسی، یہودی، عیسائی اور اسلامی ریاستیں قائم ہوئیں۔ان ریاستوں میں بادشاہ کو خدائی اختیارات حاصل ہوا کرتے تھے کیونکہ اس کی حیثیت خدا کے ایک نائب کی سی تھی۔ بعض مشرکانہ مذاہب میں تو یہ تصور تھا کہ خدا بادشاہ میں حلول کر جاتا ہے، اس وجہ سے بادشاہ کی عبادت دراصل خدا ہی کی عبادت ہو گی۔

مذہب کی تشریح کرنے کے لئے مذہبی علماء کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔حکومتی سطح پر مذہبی علماء باقاعدہ ایک تنظیم کی صورت اختیار کر جایا کرتے تھے جس کا ایک سربراہ ہوتا تھا۔ ان علماء کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہوا کرتے تھے۔ مذہبی معاملات میں آزادی رائے کا کوئی تصور نہ تھا۔ اگر کسی شخص کے نظریات ان علماء کے نظریات سے مختلف سامنے آتے تو مذہبی عدالت میں اس کا مقدمہ لے جایا جاتا۔ اس شخص کو اپنے نظریات سے توبہ کرنے کا کہا جاتا اور توبہ نہ کرنے کی صورت میں اسے مرتد قرار دے کر قتل کر دیا جاتا۔

اگر عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو تھیوکریسی خدا کے نام پر انسان کی حکومت کا نام تھا۔ خدا کی کتاب کی ایک سے زائد توجیہات ممکن ہوا کرتی ہیں۔ توجیہ کے اس حق پر ایک مخصوص طبقے کی اجارہ داری قائم کر دینے کا معنی یہ ہےکہ آزادی اظہار کا قلع قمع کر دیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پوری دنیا میں ایک مخصوص طبقے کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔ علماء نے بادشاہوں کو اور بادشاہوں نے علماء کو سپورٹ کیا۔ ایک دوسرے کی مدد سے عوامی آزادیوں کو سلب کرنے اور خدا کے نام پر انہیں اپنا غلام بنائے رکھنے کا یہ سلسلہ کئی صدیوں تک جاری رہا۔

یہ وہ ماحول تھا جس میں اسلام کا ظہور ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو حکومت قائم فرمائی وہ اللہ تعالی کی کتاب یعنی قرآن مجید کی بنیاد پر تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ خود اللہ تعالی کے پیغمبر تھے، اس وجہ سے آپ اپنے معاملات میں اللہ تعالی سے براہ راست راہنمائی لیا کرتے تھے۔ آپ پر نبوت ختم ہو گئی۔ آپ کے بعد کسی کو یہ دعوی کرنے کا حق حاصل نہیں رہا کہ وہ خدا سے براہ راست راہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔ اب صرف اللہ کی کتاب باقی ہے یا اس کے پیغمبر کی سنت۔ ان کی توجیہ و تشریح کے لئے کسی ایک طبقے کو اختیار نہیں دیا گیا بلکہ ہر وہ شخص جو انہیں سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے، خواہ اس کا تعلق کسی طبقے سے کیوں نہ ہو، قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کر سکتا ہے۔

قرآن مجید میں اہل ایمان کسی خصوصیت بیان کرتے ہوئے واضح طور پر یہ بتا دیا گیا کہ امرُهُم شُورَى بَينَهُم یعنی "ان کے معاملات باہمی مشورے سے چلتے ہیں"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے دور میں اجتماعی فیصلے ہمیشہ باہمی مشورے سے کئے جاتے تھے۔

جب بھی کوئی اہم اجتماعی معاملہ پیش آتا تو مسجد میں لوگوں کو اکٹھا کیا جاتا۔ اس میں عام و خاص، امیر و غریب ، چھوٹے اور بڑے یا مرد و عورت کی کوئی تخصیص نہ ہوا کرتی تھی۔ ہر شخص کو مشورے کی مجلس میں شریک ہونے اور اس میں اپنی رائے کا اظہار کرنے کی مکمل آزادی ہوا کرتی تھی۔ ایک عام دیہاتی خلیفہ وقت کے کسی اقدام پر کھلے عام تنقید کر سکتا تھا۔ اپنے نقطہ نظر پر دوسروں کو قائل کر سکتا تھا اور اس طریقے سے اجتماعی عمل میں حصہ لے سکتا تھا۔اگر کسی شخص کے خیال میں خلیفہ قرآن و سنت کی تشریح غلط کر رہے ہوں، تو وہ ان سے مختلف تشریح پیش کر سکتا تھا۔اجتماعی فیصلے خلیفہ کی ذاتی رائے پر نہیں بلکہ ارباب مجلس کی اکثریتی رائے کے مطابق ہوا کرتے تھے۔جمعہ کی نماز کی صورت میں خلیفہ کو اس بات کا پابند کر دیا گیا کہ وہ عوام کے سامنے حاضر ہو۔ اگر کسی کو خلیفہ سے کسی بات پر اختلاف ہوتاتو وہ دوران خطبہ ، خلیفہ کو ٹوک کر اس کا احتساب کر سکتا تھا۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کے واقعات مشہور ہیں۔ ایک مرتبہ آپ نے خواتین کے حق مہر کی حد مقرر کرنا چاہی۔ ایک خاتون نے کھڑے ہو اس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا، "جس حد کو اللہ کے رسول نے مقرر نہیں کیا، آپ یہ حد مقرر کرنے والے کون ہوتے ہیں۔" آپ نے فرمایا، "عمر نے غلطی کی اور خاتون نے درست بات کہی۔" عراق اور شام کی زرخیز زمینوں کے بارے میں آپ کی رائے یہ تھی کہ انہیں حکومتی ملکیت میں رکھا جائے تاکہ ان کی آمدنی کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔ باقی لوگوں کی رائے یہ تھی کہ اسے فاتح فوج کے سپاہیوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کئی دن کی بحث کے بعد سب کو قائل کر لیا۔ آپ نے اس وقت تک اپنی رائے نافذ نہیں کی جب تک لوگ اس معاملے میں قائل نہ ہو گئے۔

اسلام کی شورائیت کا یہ نظام صرف عرب تک ہی محدود نہ رہا بلکہ ارد گرد کے علاقوں کی فتح کے بعد ان کے عوام کو مکمل آزادی فراہم کر دی گئی۔

خلافت راشدہ کے دور کے بعد وہ دور آیا جس میں عوام الناس سے یہ حق چھین لیا گیا اور خدا کے نام پر اس کے بندوں کو ایک مخصوص طبقے کا غلام بنا دیا گیا۔ عباسی بادشاہوں کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ انہوں نے سلطان کو ظل اللہ قرار دیا۔ ہمارے ہاں بھی اکبر بادشاہ نے خود کو اللہ کا سایہ قرار دیتے ہوئے خدائی اختیارات استعمال کرنے کا اعلان کیا۔ حکمرانوں کے اس طبقے کو مذہبی راہنماؤں کی حمایت حاصل رہی۔ اس کے بدلے حکمران مذہبی راہنماؤں کو انتظامیہ اور عدلیہ میں ملازمتیں فراہم کیا کرتے تھے۔ قرآن و سنت کی تشریح پر ایک مخصوص طبقے کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔ اگر بادشاہ کا جھکاؤ کسی مخصوص فرقے کی جانب ہوتا تو دیگر فرقوں کے افراد کے لئے زندگی تنگ کر دی جاتی۔لیکن یہ بھی درست ہے کہ اس سب تنگ نظری کے باوجود مسلم دنیا میں اظہار رائے کی آزادی باقی دنیا کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ تھی۔

یہ مسئلہ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں تھا بلکہ اس دور کے یورپ میں بھی یہی صورت حال تھی۔ مسلم دنیا میں مذہبی راہنماؤں کی کوئی باقاعدہ تنظیم موجود نہ تھی مگر اس کے برعکس یورپ میں کلیسا کی صورت میں ایک مضبوط تنظیم تھی جس کا سربراہ پوپ کہلاتا تھا۔ ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک مذہبی معاملات میں پوپ کی حکومت ہوا کرتی تھی۔ بادشاہوں کی تقرری بھی پوپ کے ہاتھوں ہوتی۔ کسی معاملے میں پوپ سے اختلاف رائے کا ذرہ برابر تصور بھی نہ کیا جا سکتا تھا۔ ایسا کرنے والے کو زندہ جلانے کی سزا سنائی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ پوپ سے اختلاف رکھنے والے بالعموم مسلم دنیا میں آ کر پناہ لیا کرتے تھے۔

سولہویں سے اٹھارہویں صدی کے درمیان یورپ میں ایک غیر معمولی تبدیلی پیدا ہوئی۔اہل یورپ کا ذہین طبقہ سائنسی اور سماجی علوم کی طرف مائل ہوا۔ انہوں نے مسلم دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں سے علم حاصل کیا اور اپنی زبانوں میں اس کے ترجمے کرنا شروع کیے۔ اس کےبعد انہوں نے اس میں اضافے کرنا شروع کیے۔ ان کے ہاں Renaissance اور Enlightenment کی تحریکیں چلیں جس میں عوام الناس کی فکری اور ذہنی سطح بلند ہوئی۔اب انہیں فکری غلام بنا کر رکھنا ممکن نہ رہا۔

جدید سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں بہت سے ایسے تصورات غلط ثابت ہوئے جنہیں اہل کلیسا نے مذہب کا درجہ دے رکھا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب پر لوگوں کا اعتماد اٹھنے لگا۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے اہل کلیسا نے انتہا درجے کے ریاستی جبر و تشدد کا سہارا لیا جس کے نتیجے میں لوگوں میں کلیسا کے خلاف بغاوت کی صورتحال پیدا ہوئی۔ پروٹسٹنٹ اور کچھ اور فرقوں نے بذات خود مذہبی نظام میں اصلاحات کرنے کی کوشش کی۔

یہ صورتحال تین سو برس تک برقرار رہی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اہل یورپ نے فیصلہ کر لیا کہ مذہب اور سیاست کو الگ کر دیا جائے۔ حکومت کے اجتماعی فیصلوں میں مذہب کا کوئی کردار نہ ہو۔ مذہب کو ذاتی زندگی تک محدود کر دیا جائے۔ جو اسے مان کر اس پر عمل کرنا چاہے، ضرور کرے مگر اسے اجتماعی قوانین کی صورت میں ریاست کے قوت سے نافذ نہ کیا جائے۔ اس تصور کو سیکولر ازم کا نام دیا گیا۔لفظ سیکولر کا معنی ہے "دنیاوی"۔ سیکولر ازم ایسا نظام ہے جس میں اجتماعی دنیاوی معاملات میں مذہب کی مداخلت برداشت نہیں کی جاتی بلکہ تمام دنیاوی قانون خالصتاًدنیاوی طور پر بنائے جاتے ہیں۔

ترکی یورپ کے قریب واقع ہے۔ اس دور میں بہت سے یورپی ممالک عثمانی سلطنت کا حصہ تھے۔عثمانیوں کے زوال کےد ور میں "ینگ ترکس" نامی تحریک بڑے عرصے سے کام کر رہی تھی۔ یہ تحریک جدید یورپی تصورات سے متاثر تھی جس میں سیکولر ازم اور نیشنلزم شامل تھے۔ مصطفی کمال کا تعلق بھی اسی تحریک سے تھا۔ جب انہیں حکومت کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے سیکولر ازم کو جبراً ترکی پر نافذ کرنے کی کوشش کی اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی رہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمانوں کی کوئی ریاست سیکولر ہو سکتی ہے؟ اس معاملے میں اسلام کا حکم کیا ہے؟ اس معاملے میں بعض لوگ سیکولر ازم کی مکمل نفی کرتے ہیں اور اسے خدا کے خلاف بغاوت قرار دیتے ہیں۔ بعض دوسرے لوگ اسلام اور سیکولر ازم کو ہم آہنگ قرار دیتے ہیں۔

اگر کوئی شخص لادین ہو یا کسی ایسے مذہب پر یقین رکھتا ہو جس میں اجتماعی احکام نہ پائے جاتے ہوں تو وہ باآسانی خود کو سیکولر قرار دے سکتا ہے لیکن ایک شخص کا خود کو بیک وقت مسلمان اور سیکولر قرار دینا ایک عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ میں ایک سیکولر مسلمان ہوں تو گویا وہ اللہ تعالی سے یہ کہہ رہا ہوتا ہے: "یا اللہ! میں تیرا بندہ ہوں۔ میں انفرادی زندگی میں تیرے ہر حکم پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں البتہ اجتماعی زندگی میں میں تیرے کسی حکم کی پابندی نہیں کروں گا۔ اگر میری حکومت کوئی ایسا قانون بنائے گی جو تیرے حکم کے خلاف ہو گا تو میں تیرا حکم ہرگز نہیں مانوں گا۔" یہ سیکولر مسلمان کی زندگی میں پیدا ہو جانے والا ایک ایسا تضاد ہے جس کا کوئی حل ممکن نہیں ہے۔اگر خود کو سیکولر مسلمان کہنے والے کوئی صاحب اس تضاد کا حل پیش کر سکیں تو مجھے خوشی ہو گی۔حقیقت یہ ہے کہ بیک وقت ایک اچھا سیکولر انسان اور ایک اچھا مسلمان بننا ممکن نہیں ہے۔

اگر کسی ملک میں متعدد مذاہب کے لوگ رہتے ہوں اور وہ سیکولر ازم کو اختیار کر لیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ مذہب ایسا معاملہ ہے جس میں انسان جذباتی ہوتا ہے۔ کوئی شخص یہ ہرگز قبول نہیں کر سکتا کہ اس پر کسی دوسرے مذہب کے قوانین مسلط کیے جائیں۔ذرا دیر کے لئے تصور کیجیے کہ کسی دوسرے مذہب کا حکمران آپ پر زبردستی اپنے مذہب کو مسلط کرے تو آپ کی جذباتی کیفیت کیا ہو گی۔ یہی معاملہ مسلم ممالک میں رہنے والے غیر مسلموں کا ہے۔ انہیں بھی اپنے مذہب سے محبت ہوتی ہے۔ اگر ہم اسلام کو زبردستی ان پر مسلط کریں گے تو اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ نکلے گا کہ یہ لوگ اسلام ہی سے متنفر ہو جائیں گے۔

ایسی صورت میں یقیناً سیکولر ازم سے بہتر کوئی حل نہیں ہے۔ جدید دور میں اس کی بڑی اچھی مثال ہندوستان ہے جہاں بہت سے مذاہب کے لوگ بستے ہیں۔ اگرچہ یہاں اکثریت ہندو مذہب کے ماننے والوں کی ہے مگر خود ہندومت میں اس قدر فرقے ہیں کہ ہندومت نافذ کرنا عملاً ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر مذہب اور فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے ان کا ایک پرسنل لاء ہے۔اجتماعی معاملات کو سیکولر طریقے سے چلایا جاتا ہے۔

دین اسلام تھیوکریسی اور سیکولر ازم دونوں سے مختلف تصور پیش کرتا ہے۔ اسلام میں مذہبی طبقے کے اقتدار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس میں پاپائیت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اسلام میں ہر شخص کا تعلق براہ راست خدا سے ہوتا ہے۔ اسے خدا سے تعلق پیدا کرنے کے لئے کسی واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسلام قطعی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی مذہبی شخص، خدا کے نام پر اپنا اقتدار قائم کرے۔ایک صاحب علم کے الفاظ میں اسلام میں ہر شخص اپنا پوپ خود ہی ہوا کرتا ہے۔

دوسری طرف اسلام کا سیاسی تصور سیکولر ازم سے مختلف ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دین میں پورے کے پورے داخل ہوں، اس کے تمام احکام کو مانیں اور ان پر عمل کریں۔ دین پر جزوی عمل کی گنجائش اسلام میں نہیں ہے۔ کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ذاتی زندگی میں تو دین کے احکام پر عمل کروں گا مگر اجتماعی زندگی میں، دین سے کوئی واسطہ نہ رکھوں گا۔

جدید دور میں مذہبی ریاست کے بارے میں چند اور سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ قرون وسطی میں تو بادشاہت اور مذہبی راہنماؤں کے گٹھ جوڑ سے یہ معاملہ چل گیا۔ جدید جمہوری دور میں اس کی صورت کیا ہونی چاہیے؟ میری نظر میں اس مسئلے کا سب سے بہترین حل پاکستان کے 1973ء کے آئین میں پیش کیا گیا ہے۔ اس بات سے ان لوگوں کو حیرت ہو گی جو کہ پاکستان کی ہر شے کو کمتر سمجھتے ہیں اور کسی بھی معاملے میں مثال کے لئے باقی دنیا کی طرف دیکھتے ہیں۔

پاکستان آئینی طور پر ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے۔ یہ تھیو کریٹک اسٹیٹ نہیں ہے جس میں مذہبی راہنماؤں کا ایک ٹولہ اپنی پسند و ناپسند کو خدا کے نام پر لوگوں پر مسلط کر سکے۔ آئین کے مطابق پاکستان کے قانون ساز ادارے عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں اور انہیں قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔ ظاہر ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کا عالم دین ہونا ضروری نہیں ہے۔ ان کے لئے یہ طے کرنا ایک مشکل کام ہے کہ کوئی قانون بناتے ہوئے اللہ تعالی کے احکام کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک آئینی ادارہ "اسلامی نظریاتی کونسل" کے نام سے بنایا گیا ہے۔

یہ مختلف مکاتب فکر کے اہل علم پر مشتمل ایک ادارہ ہے جو پارلیمنٹ کے لئے مشاورتی کردار ادا کرتا ہے۔ یہاں قوانین کے مسودوں کا شریعت کے ماخذوں کی روشنی میں جائزہ لیا جاتا ہےاور اپنی سفارشات پارلیمنٹ کے سامنے پیش کر دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد ان سفارشات کی روشنی میں قانون کے مسودے میں ضروری تبدیلیوں کے بعد اسے پارلیمنٹ سے منظور کروا لیا جاتا ہے۔اگر کوئی شہری یہ سمجھتا ہے کہ کسی قانون کی کوئی شق قرآن و سنت کے منافی ہے تو وہ اس قانون کو آئینی عدالتوں میں چیلنج کر سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ غیر مسلم اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی دی گئی ہے اور اسلام کو ان پر زبردستی مسلط نہیں کیا گیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ وہ ممالک جو جمہوریت اور شرعی قانون کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں، ان کے لئے پاکستان کے نظام میں ایک مثال موجود ہے۔اس صورتحال کو مزید بہتر کیا جا سکتا ہے۔ انتخاب کے بعد ارکان پارلیمنٹ کو ضروری اخلاقی اور دینی تعلیم دی جانی چاہیے تاکہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو سمجھ سکیں۔

اس ضمن میں ایک اور اچھی مثال ملائشیا نے قائم کی ہے۔ ان کی آبادی کا ساٹھ فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ملائشیا میں حکومت کی سطح پر اسلامی قوانین نافذ ہیں مگر ان کا اطلاق صرف مسلمانوں پر کیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے غیر مسلم اقلیتوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ اسلام کو ان پر جبراً مسلط کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کی مذہبی آزادی برقرار رہتی ہے اور انہیں اپنی آزادانہ مرضی سے اسلام قبول کرنے یا نہ کرنے کا موقع حاصل رہتا ہے۔مسئلے کا یہ حل کوئی نیا نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہود پر تورات ہی کے قوانین نافذ کیے جاتے تھے۔ مسلمانوں کی تیرہ سو سالہ تاریخ میں یہی حل اختیار کیا گیا۔ اسلام کو جبراً مسلط کر دینے سے غیر مسلموں کے دل میں اسلام کی محبت کبھی پیدا نہیں ہو سکتی۔ اس کے برعکس ایسا کرنا انہیں اسلام سے دور لے جا سکتا ہے۔

ایک مذہبی جمہوری ریاست میں ایک مسئلہ اور پیدا ہو جاتا ہے۔ تجربے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی راہنما اگر سیاست میں آئیں تو وہ سیاست کو تو کیا دین کے مطابق کریں گے، وہ خود سیاست کی کرپشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے پاکستان میں مذہبی سیاستدانوں میںسیکولر سیاستدانوں سے شاید زیادہ کرپشن پائی جاتی ہے۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ انہیں سڑکوں پر لا کر دوسروں کی حق تلفی کروائی جاتی ہے۔ پرمٹ حاصل کیے جاتے ہیں۔ عوام کے فنڈز خورد برد کیے جاتے ہیں۔ مذہب کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ خدا کے نام پر نفرتیں پھیلائی جاتی ہیں۔لوگوں کو تقسیم کیا جاتا ہے۔ لاشوں کی سیاست کی جاتی ہے۔ یہ سب وہ کرتے ہیں جو خود کو "اسلامی سیاستدان" کہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ صورتحال صرف مذہبی ریاست کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ سیاست میں اس قسم کی کرپشن مذہبی اور سیکولر ہر قسم کی ریاستوں میں پائی جاتی ہے۔ دنیا میں بہت سے ایسے ممالک موجود ہیں جو خود کو سیکولر کہتے ہیں اور وہاں مذہب نہیں بلکہ کسی اور نام سے اسی طرح کی کرپشن پائی جاتی ہے۔اس کا حل سیاست اور مذہب کو الگ کرنا نہیں ہے بلکہ معاشرے کی اخلاقی تربیت ہے جس کا تقاضا نہ صرف تمام مذاہب کرتے ہیں بلکہ خود جدید سیکولر معاشروں میں اس کو بے پناہ اہمیت دی جاتی ہے۔

ترکی ایسا ملک ہے کہ جس کی 99 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ اوپر دی گئی تفصیل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ مصطفی کمال نے مغرب کی اندھی تقلید میں ترکی پر جو سیکولر ازم مسلط کیا اور مذہب کو زندگی کے ہر معاملے سے نکالنے کی جو کوشش کی، اس کے نتیجے میں ترکی میں ایک عجیب قسم کا تضاد اور منافقت پیدا ہو گئی ہے۔ اہل ترکی بڑے فخر سے خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ اپنے انفرادی معاملات میں یہ اللہ کے احکام کی پیروی کرتے ہوں گے مگر اجتماعی معاملات میں اس کے احکام کی پیروی نہیں کی جاتی۔اس طرح گویا اہل ترکی اللہ تعالی سے کہہ رہے ہوتے ہیں: "یا اللہ! ہم تیرے بندے ہیں۔ اپنی انفرادی زندگی میں تو ہم تیرے ہر حکم کی پیروی کریں گے مگر جہاں اجتماعی معاملات درپیش ہوں گے، وہاں ہم تیرے بندے نہیں رہیں گے۔"

عثمانی بادشاہت کا خاتمہ

ہمارے برصغیر کے لوگ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے پر بڑے جزبز ہوئے اور انہوں نے 1919ء میں ایک بہت بڑا ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ ان کے خیال میں یہ خلافت کا خاتمہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ خلافت راشدہ کا خاتمہ دور صحابہ ہی میں ہو گیا تھا۔ اس کے بعد کی تاریخ میں بعض ادوار ایسے ضرور ہوئے جو خلافت راشدہ سے بہت قریب تھے مگر مسلمانوں کی مجموعی تاریخ میں خلافت راشدہ دوبارہ لمبے عرصے کے لئے قائم نہ ہو سکی۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان بادشاہ خود کو خلیفہ قرار دیتے رہےاور اپنی ذات اور خاندان کو چھوڑ کر باقی لوگوں پر اسلام کا نفاذ کرتے رہے۔ یہی معاملہ بعد کی بادشاہتوں میں جاری رہا۔

عثمانی بادشاہت بھی دیگر بادشاہتوں کی طرح ایک شاہی نظام تھا جو اپنے آخری سانس لے رہا تھا۔ اتحادی افواج نے جب ترکی کے مقبوضات کو فتح کیا اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے تو ترکی کے پاس بس یہی جزیرہ نما اناطولیہ باقی رہ گیا۔ اس علاقے میں انہوں نے بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔ اس دور میں دنیا میں اور بھی بہت سی بادشاہتیں ختم ہوئی تھیں۔ یہ اہل ترکی کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اپنے بادشاہ کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اس معاملے میں ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ترکی کی خلافت بس نام ہی کی خلافت تھی۔

خواتین سے متعلق تبدیلیاں

دین اسلام خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ قرآن مجید میں سورہ بقرہ، نساء، نور، احزاب اور طلاق کا مطالعہ کرتے چلے جائیے۔ اس میں ہمیں جگہ جگہ خواتین کے حقوق کا تحفظ ہی ملے گا۔ یہی معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحیح احادیث کا ہے۔

قرون وسطی کے مسلم معاشروں میں غیر مسلم دنیا کی طرح جاگیرداری نظام کو رائج کیا گیا۔ اس نظام میں خواتین کے بہت سے حقوق سلب کر لیے گئے۔ انہیں مردوں کے مقابلے میں کمتر بنا دیا گیا۔ زندگی کے معاملات میں ان کا رول ختم کر دیا گیا۔ اس صورت کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ مصطفی کمال نے ترکی میں خواتین کو ووٹ اور ملازمت کے حقوق دیےجو کہ ایک مستحسن اقدام تھا۔

خواتین کو حقوق دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک ہٹلر کی طرز کے فاشسٹ ڈکٹیٹر کا طرز عمل اختیار کیا۔ انہوں نے حجاب پر پابندی عائد کر دی۔خواتین کو مجبور کیا جانے لگا کہ اگر وہ ملازمت یا تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیں تووہ ایسا مغربی لباس پہنیں جس میں عریانی کا عنصر نمایاں ہو۔کمال ازم کے حامیوں نے بدکاری کو جائز قرار دے دیا۔ انہوں نے برہنہ ساحلوں کو فروغ دیااور نائٹ کلبوں میں برہنہ رقص، اسٹرپ ٹیزاور عصمت فروشی کو پروان چڑھایا۔ان کے ہاں اگر ایک خاتون کم لباسی کا مظاہرہ کرنا چاہے تو قانون اسے نہیں روک سکتا البتہ اگر کوئی خاتون اپنے جسم کو ڈھانپ کر رکھنا چاہے تو سیکولر ازم کے علم بردار ہمارے مولویوں کی طرح "سیکولر ازم خطرے میں ہے" کا نعرہ لگا کر میدان میں کود پڑتے ہیں۔

ان اقدامات کے نتیجے میں ان حضرات نے خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد کو تو مغربی لباس پہننے پر مجبور کر دیا ہےمگر وہ ان کے دلوں سے حیا کو اس حد تک نہیں نکال سکے کہ وہ مکمل مغربی ہو جائیں۔ترکی میں خاندانی نظام اب بھی بہت مضبوط ہے۔ ظاہر ہے کہ مصطفی کمال کے ان اقدامات کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فاشزم اور انتہا پسندی خواہ مذہب کے نام پر کی جائے یا سیکولر ازم کے نام پر، یکساں طور پر قابل مذمت ہے۔

اس معاملے میں سیکولر حضرات کے ہاں ایک عجیب قسم کی منافقت پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی نام نہاد مذہبی گروہ مذہب کے نام پر لوگوں پر جبر و تشدد کرتا ہے تو یہ لوگ لنگوٹ کس کر میدان میں آ جاتے ہیں اور انسانی آزادی کی دہائی دیتے ہیں۔مگر دوسری طرف اگر مصطفی کمال ایک فاشسٹ حکمران کا کردار ادا کرتے ہوئے حجاب پر پابندی عائد کرتے ہیں تو یہ لوگ انہیں ہیرو قرار دیتے ہیں۔ اس وقت انسان کی شخصیآزادی کے سارے اسباق انہیں بھول جاتے ہیں۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں بھی مذہبی لوگوں کی دوہرے معیارات موجود ہیں۔ جہاں اپنا فائدہ ہو، وہاں دونوں انسانیت اور مذہب کا درس دیتے نظر آتے ہیں اور جب اپنے مفاد پر ضرب پڑتی ہو تو پھر دوسرا معیار اختیار کر لیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس فاشسٹ مذہبی گروہوں کے خلاف خود دین دار طبقے میں ایک مضبوط آواز موجود ہے۔ اگر کوئی مذہبی گروہ اپنا نقطہ نظر لوگوں پر مسلط کرتا ہے تو دین دار طبقے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اس کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ وہ فاشسٹ مذہبی گروہوں کی غلطی واضح کرتے ہوئے یہ بتاتے ہیں کہ اسلام کسی پر اپنا نقطہ نظر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کے برعکس سیکولر حضرات نے شاید ہی کبھی اپنے فاشسٹوں کی مخالفت کی ہو۔

ایک غیر جانبدار شخص یہ مشاہدہ کر سکتا ہے کہ اس معاملے میں اہل مذہب، سیکولر حضرات کے مقابلے اخلاقی اعتبار سےبہت بلند مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔

ایلیٹ ازم کا خاتمہ

عثمانی دور میں اشرافیہ کا طبقہ بہت مضبوط تھا۔ جو شخص بادشاہوں کے جتنے قریب ہوتا، اس کا درجہ اتنا ہی بلند سمجھا جاتا۔ مصطفی کمال نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ انہوں نے ایلیٹ ازم کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے لئے انہوں نے عثمانی دور کے القابات اور عہدوں کو خلاف قانون قرار دیا۔ یقینی طور پر یہ ایک اچھا کام تھا مگر اس کے نتیجے میں ترکی میں ایلیٹ ازم کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ ان کے ان اقدامات کے نتیجے میں عثمانی دور کی اشرافیہ تو شاید ختم ہو گئی مگر جدید ری پبلکن دور کی اشرافیہ پیدا ہو گئی جو اس وقت ترکی کے اقتدار پر قابض ہے۔

زبان سے متعلق اقدامات

مصطفی کمال نے زبان سے متعلق کچھ ایسے اقدامات کیے جن کی مثال شاید ہی کسی قوم کی تاریخ میں ملتی ہو گی۔ عثمانی عہد میں ترکی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ کمال نے ترکی کو عربی کی بجائے رومن رسم الخط میں لکھنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے عربی اور فارسی الفاظ کو ترکی زبان سے نکالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی تصورات کو عربی کی بجائے ترکی الفاظ میں بیان کیا جائے۔ انہوں نے نماز ، اذان اور تلاوت قرآن کو عربی زبان کی بجائے ترکی زبان میں ادا کرنے کا حکم دیا۔

کمالسٹ اس بات میں تو کامیاب ہو گئے کہ ترکی کو رومن رسم الخط میں لکھا جا سکے مگر وہ دینی معاملات میں دخل اندازی میں ناکام رہے۔ عربی زبان میں نماز، اذان اور قرآن کے معاملے میں انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور خود کمال کی زندگی میں ہی اس حکم کو واپس لے لیا گیا۔

کمال کا یہ اقدام بدیہی طور پر غلط تھا۔ یہ واضح طور پر ترک قوم کو اپنے ماضی سے کاٹ دینے کی کوشش تھی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی جوان شخص کے سر پر ہتھوڑا مار کر اس کی یادداشت گم کر دی جائے۔ اس کے بعد وہ شخص اپنے ماضی کے تجربات اور ان کے نتائج سے مکمل طور پر محروم ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ ترک قوم کے ساتھ ہوا۔ انہیں ان کے اسلامی ماضی سے کاٹ کر پوری طرح مغرب سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ترک معاشرے میں اسلام کی جڑیں بہت ہی گہری تھیں لہذا اس کوشش کا نتیجہ یہ نکلا کہ ترک معاشرہ آدھا تیتر آدھا بٹیر بن کر رہ گیا۔ مسلمان ترکوں کو مغرب زدہ سمجھتے ہیں اور اہل مغرب انہیں اسلامی قرار دے کر ان سے فاصلہ رکھتےہیں۔

فاشسٹ اور آمرانہ نظام حکومت

کمال نے ایک طرف تو بادشاہت کو ختم کرتے ہوئے جمہوریت قائم کرنے کی دعوی کیا مگر ان کا جمہوری تصور مغرب کے عام جمہوری نظام کی بجائے ہٹلر اور مسولینی کے ماڈل پر مشتمل تھا۔ ترکی میں صرف ایک سیاسی پارٹی کے قیام کی اجازت دی گئی جو کہ کمال کی اپنی پارٹی تھی۔ انہوں نے اختلاف رائے کو سختی سے کچل دیا اور پارٹی پر اپنی اجارہ داری قائم رکھی۔

ترکی کے تعلیمی نصاب میں کمال اور کمال ازم کو اس طریقے سے داخل کر دیا گیا کہ کمال کی شخصیت مقدس رنگ اختیار کر گئی اور ان سے معمولی سا اختلاف بھی جرم قرار پایا۔ موجودہ دور میں بھی ترکی کے سیکولر کمالسٹ ، کمال کو کسی پیغمبر سے بھی بلند درجہ دیتے ہیں اور ان کی کسی بات پر تنقید کو برداشت نہیں کرتے۔

کمال کے اقدامات پر رد عمل

کمال نے ترکی میں ایسی اشرافیہ پیدا کر دی جس کی رگوں میں کمال ازم بری طرح رچ بس گیا۔ اشرافیہ کا یہی طبقہ ترک حکومت، فوج اور عدلیہ میں اہم عہدوں پر قابض ہو گیا اور انہوں نے اپنے مخالفین کو کچلنے کے لئے مختلف ادوار میں حکومت کی طاقت کا بھرپور استعمال کیا۔ اس کے رد عمل میں ایسے لوگ جو دین اسلام کو اپنی زندگی میں اہمیت دیا کرتے تھے، منظم ہونا شروع ہوئے اور انہوں نے فاشزم کے خلاف جدوجہد کی ایسی تاریخ رقم کی جس کی مثال کسی اور ملک میں نہیں ملتی۔

اس جدوجہد کی تفصیلات پر ہمیں اردو میں کوئی غیر جانبدار تحریر نہیں مل سکی ۔ ہمارے مذہبی لوگوں کی زیادہ تر تحریریں کمال ازم کی مذمت اور تردید میں لکھی گئی ہیں جبکہ سیکولر حضرات نے کمال کو پیغمبر بنا کر پیش کیا ہے۔ انگریزی زبان میں رینڈ کارپوریشن کی ایک رپورٹ مل گئی جس میں بڑی غیر جانبداری سے اس تاریخ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کا نام ہے The Rise of Political Islam in Turkey۔ یہ رپورٹ اینجل راباسا اور ایف اسٹیفین لارابی نے مرتب کی ہے۔ انہوں نے دقت نظر سے ترکی کی پوری ری پبلکن تاریخ کا جائزہ لیا ہے۔ یہاں ہم اس کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں:

کمال ازم نے مغربی اناطولیہ کے شہری علاقوں میں تو جگہ بنا لی مگر دیہات میں اس کا اثر و نفوذ کم رہا۔ حکومتی سطح پر کئے جانے والے اقدامات کا رد عمل یہ ہوا کہ اسلام پسندوں میں دین کو بچانے کا جذبہ پوری طرح بیدار ہو گیا۔ ترکی میں متعدد تحریکیں پیدا ہوئیں جنہوں نے حکومت کو چھوڑ کر عوام پر اپنی توجہ مبذول کی۔ ان تحریکوں نے ترکوں میں اسلامی شناخت کا احساس پیدا کیا اور دینی تعلیم کو غیر رسمی انداز میں فروغ دیا۔

اس زمانے میں ترکی میں بہت سی دینی شخصیات کا ظہور ہوا۔ ان بزرگوں میں بدیع الزمان سعید نورسی (1873-1960) شامل تھے۔انہوں نے 6000 صفحات پر مشتمل قرآن مجید کی تفسیر لکھی۔ نورسی نہ صرف ایک عالم دین اور صوفی تھے بلکہ انہوں نے جدید تعلیم بھی حاصل کی ہوئی تھی۔ انہوں نے جدید ذہن کو مدنظر رکھتے ہوئے دور جدید کے مسائل پر بہت کچھ لکھا۔ انہوں نے مذہب اور سائنس کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی اور دین کے مسلمات کو عقل سے ثابت کیا۔انہیں کمالسٹ حکومت کی جانب سے سخت مخالفت اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں طویل عرصے تک قید اور جلاوطنی کی سزا کاٹنا پڑی مگر یہ صعوبتیں ان کے پایہ استقلال میں لغزش پیدا کرنے سے قاصر رہیں۔

نورسی اور ان جیسے دیگر بزرگوں نے حکومت کے جبر و تشدد کے باوجود ترک معاشرے میں اسلام کا چراغ جلائے رکھا۔1938ء میں کمال کی وفات کے بعد ان کے دیرینہ ساتھی عصمت انونو نے ان کی جگہ سنبھالی۔ انونو کمال سے بھی بڑھ کر انتہا پسند ثابت ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف اسلام پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا بلکہ ترکی میں موجود دیگر اقلیتی گروہوں جیسے کردوں اور آرمینیوں کے خلاف سخت پالیسی اختیار کی۔ ان کے ان اقدامات کے نتیجے میں پورے ترکی میں کمالسٹوں کے خلاف فضا پیدا ہو گئی۔ حکومت کو1946 ء میں ملٹی پارٹی سسٹم کی اجازت دے دی۔ 1950ء میں عدنان مینڈرس کی جمہوری پارٹی نے انتخابات میں فتح حاصل کی۔ یہ کمالسٹوں پر مشتمل جمہوریت ہالک پارٹی (CHP) کی پہلی شکست تھی۔

عدنان مینڈرس نے کسی حد تک کمالسٹوں کی انتہا پسندانہ پالیسیوںکو ختم کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے مذہبی گروہوں کو کام کی اجازت دی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کردوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ رکھے گئے ناروا سلوک کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔کمالسٹ اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے اور ترکی کی فوج نے اقتدار پر قبضہ کر کے مارشل لاء نافذ کر دیا۔ 1961ء کے آئین میں جماعت بندی کی آزادی دے دی گئی جس کے نتیجے میں بہت سی غیر سیاسی مذہبی جماعتیں اور صوفی سلسلے کام کرنے لگے۔

1970ء کے عشرے میں ترکی میں سول وار شروع ہوئی جس کے ذمہ دار کمیونسٹ اور بائیں بازو کے عناصر تھے۔فوجی حکومت نے ان سے مقابلہ کرنے کے لئے مجبوراً اسلام پسندوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مذہبی تعلیم کولازمی قرار دیا گیا اور قرآن کلاسز کا اجراء کیا گیا۔ اس دور میں ترک نیشنلزم اور اسلام کے تصورات کو ملا کر ایک آئیڈیالوجی تشکیل دینے کی کوشش کی گئی۔ اب صورت حال یہ تھی کہ اگرچہ ترکی ایک کٹر سیکولر ریاست تھی مگر اس میں اسلام پسند عناصر کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔

1980ء کے عشرے میں وزیر اعظم ترگت اوزال نے بہت سی معاشی اصلاحات کیں جن کے نتیجے میں اسلام پسندوں کو مزید فروغ حاصل ہوا۔ اس سے پہلے ترکی کی معیشت پر زیادہ تر کنٹرول حکومت کا تھا۔ انہوں نے پرائیویٹ سرمایہ کاری کی اجازت دے دی۔ اس کے نتیجے میں امیر مذہبی لوگوں نے سرمایہ کاری کرنا شروع کی اور بہت سے کاروباروں پر چھا گئے۔ بہت سے پرائیویٹ اسکول اور یونیورسٹیاں بنائی گئیں جن میں سے بہت سی اسلام پسندوں کی ملکیت تھیں۔ متعدد ٹیلی وژن چینل قائم ہوئے جس کے نتیجے میں اسلام پسندوں کو اپنا پیغام پہنچانے کا موقع مل گیا۔

صنعتوں کے قیام کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ دیہات سے لوگ شہروں کی طرف منتقل ہونے لگے۔ ترکی کے زیادہ تر شہر مغرب زدگی کی لپیٹ میں آ چکے تھے جبکہ ان کے دیہات میں ابھی تک دین کو اہمیت دی جاتی تھی۔ جب یہ دیہاتی شہروں میں آئے تو انہیں بالکل ہی مختلف ماحول سے سابقہ پڑا۔ دوسری طرف شہر میں سیٹل ہونا ان کے لئے آسان نہ تھا۔ ان کے مسائل کے حل کے لئے اسلام پسند سیاسی جماعتوں کے کارکن آگے بڑھے۔ انہوں نے دیہات سے آنے والوں کو نوکری کی تلاش سے لے کر تعلیم اور میڈیکل کی سہولیات فراہم کیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام پسند جماعتوں کو عوام میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔

اس پورے عرصے میں سماجی سطح پر "ملی گورش" تحریک چل رہی تھی جو کہ بدیع الزمان سعید نورسی کے نظریات کی پرچارک تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں بہت سے لوگ دین کی طرف مائل ہو رہے تھے۔ اس تحریک کے سابق کارکنان میں نجم الدین اربکان بھی شامل تھے۔ انہوں نے قومی آرڈر پارٹی یا MNP کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی جسے فوج نے مداخلت کر کے خلاف قانون قرار دے دیا۔ اس کے بعد انہوں نے 1972ء میں قومی نجات پارٹی یا MSP کی بنیاد رکھی۔ ان کا نعرہ تھا کہ ترکی کے مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات کی طرف واپس جایا جائے۔

1973ء کے الیکشن میں MSP نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور کمالسٹ پارٹی کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت میں شمولیت اختیار کی۔ بعد میں یہ لوگ سلیمان ڈیمرل کی حکومت میں شریک رہے۔ 1980ء میں فوج نے مداخلت کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور مارشل لاء نافذ کر کے MSP کو خلاف قانون قرار دے دیا۔ اس کے بعد اربکان نے 1983ء میں نئی رفاہ پارٹی کی بنیاد رکھی۔

اسلام پسندوں نے عوامی فلاح و بہبود کے پراجیکٹس کے ذریعے ان کی حمایت حاصل کرنے کی اپنی حکمت عملی کو جاری رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1994ء کے بلدیاتی انتخابات میں رفاہ پارٹی نے 28 شہروں میں اکثریت حاصل کر لی جن میں استنبول اور انقرہ بھی شامل تھے۔ 1995ء کے قومی انتخابات میں بھی رفاہ پارٹی کو اکثریت حاصل ہو گئی جس کے نتیجے میں اربکان وزیر اعظم بن گئے۔

رفاہ پارٹی کی کامیابی کی اصل وجہ اس کا عوامی نیٹ ورک تھی۔ یہ نیٹ ورک قائم کرنے میں اس کی خواتین ورکرز کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ ان خواتین نے گھر گھر جا کر تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کیں جس کی وجہ سے رفاہ پارٹی کے عوامی نیٹ ورک کو غریب طبقے میں فروغ حاصل ہوا۔

ترکی کی فوج نے نیشنل سکیورٹی کونسل کے نام سے ادارہ قائم کیا ہوا ہے جس کے ذریعے فوج نے ملک کے اقتدار پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ یہی تجربہ پاکستان کے ایک فوجی ڈکٹیٹر نے کرنے کی کوشش کی تھی۔ 1997ء میں اس کونسل نے اربکان کو استعفی دینے پر مجبور کر دیا اور اگلے برس رفاہ پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد فوج نے کھلے عام اسلام پسندوں کے نظریات کے خلاف مہم چلانا شروع کر دی۔ اربکان نے فضیلت پارٹی کے نام سے ایک اور پارٹی بنائی جس پر آئینی عدالت نے 2001ء میں پابندی عائد کر دی۔

اس کے بعد اسلام پسندوں کے دو حصے ہو گئے۔ ایک حصہ سعادت پارٹی اور دوسرا انصاف و ترقی پارٹی (AKP)کی صورت اختیار کر گیا۔ ترکی میں اسلام پسند پارٹیوں کی تاریخ کو اوپر کے چارٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

2002ء کے انتخابات میں AKP کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ انہیں 34% ووٹ ملے جبکہ دوسرے نمبر آنے والی کمالسٹ پارٹی CHP کو محض 19% ووٹ مل سکے۔ اربکان مغربی ممالک کے سخت خلاف تھے اور ان کی نظریاتی بنیاد ہی مغرب کی مخالفت پر تھی۔ اس کے برعکس AKP نے مغربی ممالک سے اچھے تعلقات قائم رکھے اور مغرب کی سیاسی اقدار جیسے انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کے احترام پر زور دیا۔ AKP کی کامیابی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ عوام سیکولر پارٹیوں کی کرپشن سے سخت نالاں تھے اور اب تبدیلی چاہتے تھے۔ AKP نے اپنے دور اقتدار میں عوام کی خدمت کو نصب العین بنایا جس کے نتیجے میں 2007ء کے انتخابات میں انہیں پہلے سے بڑھ کر کامیابی ملی۔ انہوں نے 46% ووٹ حاصل کئے اور بغیر کسی سے اتحاد بنائے یہ پارٹی حکومت بنانے کے قابل ہو گئی۔

ترکی میں اسلام پسند پارٹیوں کے انتخابی نتائج کی تفصیل نیچے کے چارٹ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اس کے بعد سے لے کر اب تک AKP کی حکومت ہے۔ مذہبی ترکوں کی اس جدوجہد میں ہمارے ملک کی مذہبی جماعتوں کے لئے کچھ سبق موجود ہیں۔

سب سے پہلا سبق تو یہ کہ کوئی بھی سیاسی جماعت عوام کی حمایت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ہماری مذہبی اور غیر مذہبی سیاسی جماعتوں نے کبھی عوام کے اصل مسائل کو اپنا موضوع نہیں بنایا۔ عوام کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ آئین میں کیا تبدیلیاں کی جائیں؟ اختیارات صدر کے پاس ہوں یا وزیر اعظم کے؟ عوام کا اصل مسئلہ کرپشن، مہنگائی، بجلی کی فراہمی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہے۔ تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا ان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس طریقے پر عمل کر کے ترکی کی اسلام پسند جماعتوں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر ہماری مذہبی جماعتیں واقعتاً دین اور ملک سے مخلص ہیں تو انہیں بھی یہی روش اختیار کرنی چاہیے۔

لیکن افسوس کہ ہماری مذہبی جماعتوں کا تصور مختلف ہے۔ ان کے خیال میں چونکہ وہ دین کا نام استعمال کرتے ہیں، اس وجہ سے تمام مسلمانوں کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ انہیں ووٹ دیں۔ جو انہیں ووٹ نہیں ڈالتا، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے یا کم ازکم انتہائی گناہ گار ہوتا ہے۔ پچھلے الیکشن میں ایک صاحب نے تو یہ فتوی جاری کیا کہ ان کا انتخابی نشان "کتاب" قرآن مجید ہے۔ جو اسے ووٹ نہیں دے گا، اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ لیکن لوگوں نے اس فتوے کو کوئی اہمیت نہ دی۔اسلام میں سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے۔ جو عوام کی خدمت میں جتنا مخلص ہو گا، اس کی سیاست اتنا ہی اسلام کے قریب ہو گی۔

اس جدوجہد میں دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ مذہبی حضرات کو سیکولر لوگوں کی نسبت بہتر اخلاق اور کردار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ترکی کی سیاست میں سیکولر سیاست دان کرپشن اور بددیانتی کا نشان بن کر رہ گئے تھے۔ مذہبی سیاست دانوں نے اچھے کردار کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے انہیں عوام کی حمایت حاصل ہوئی۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی اور سیکولر سیاستدان کرپشن میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

ترکی کے مذہبی سیاستدانوں کی جدوجہد کا تیسرا سبق یہ ہے کہ پوری تیاری کے بغیر طاقتور سے ٹکرانے کے نتیجے میں نقصان اپنا ہی ہوتا ہے۔ ترکی کی فوج اور اشرافیہ میں سیکولرازم کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ یہاں کے مذہبی سیاست دانوں نے متعدد بار سیکولر فاشزم کا براہ راست مقابلہ کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمارے ہاں بھی یہی معاملہ رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے اس ضمن میں بڑی مناسب حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔ اس کی بجائے اگر ہمارے راہنما پوری توجہ اپنی تعمیر پر دیں تو کچھ ہی عرصے میں وہ اس مقام پر آ سکتے ہیں جہاں وہ کوئی مثبت کردار ادا کر سکیں۔

ترکی میں سیکولر فاشزم کے ذریعے مذہب کو محدود کرنے کی بے پناہ کوشش کے باوجود یہاں مذہب کس درجے میں موجود ہے، اس کے بارے میں اسلام کے مشہور ناقد ، لیوس برنارڈ کا یہ تبصرہ قابل غور ہے:

اسلام کی جڑیں ترکی کے عوام میں بہت گہری ہیں۔ اپنی ابتدا سے لے کر زوال تک سلطنت عثمانیہ اسلام کے پرچار یا دفاع سے وابستہ رہی ہے۔ ۔۔ ویسٹرنائزیشن کی ایک صدی کے دوران، ترکی میں ایسی بڑی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں جن کے بارے میں ایک باہر کا شخص سوچ بھی نہیں سکتا مگر اسلام کی جڑیں ترکوں کی زندگی اور ثقافت میں زندہ ہیں اور ترک مسلم کی شناخت کو اب بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ (The Emergence of Modern Turkey)

 

اگلا باب †††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

 

 

 

مصنف کی دیگر تحریریں

اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا سدباب/سفرنامہ ترکی/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں ††††/†† علوم الحدیث: ایک مطالعہ/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص ††/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟†† /مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار /اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت †††/Quranic Concept of Human Life Cycle ††††/Empirical Evidence of Godís Accountability