بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

سامسن، ترابزن اور یوزن گولو

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 20MB)

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے بغیر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سامسن بلیک سی پر واقع ترکی کی بڑی بندرگاہ ہے۔ یہ دو دریاؤں "کی زی لرمارک" یا سرخ دریا اور "یی زی لرمارک" یا سبز دریا کے درمیان کے ڈیلٹا میں واقع ہے۔ یونانی دیو مالا کے مطابق سامسن ، امیزان (Amazons) کی فوج کا علاقہ ہے۔ یہ خواتین پر مشتمل فوج تھی جنہیں کڑی جنگی تربیت دی جاتی اور کمان چلانے کے لئے ان کی ایک چھاتی کاٹ دی جاتی۔ بہرحال یہ کوئی تاریخی حقیقت نہیں بلکہ محض دیو مالا ہی تھی۔ سامسن میں ترکی کی گیس کی تنصیبات ہیں۔ یوکرائن سے بحیرہ اسود کے نیچے سے ایک گیس پائپ لائن سامسن آ کر نکلتی ہے۔

ہم لوگ رات کے اندھیرے میں سامسن پہنچے تھے۔ اس وجہ سے شہر کے بارے میں کوئی رائے قائم نہ کر سکے۔ کچھ دیر ہوٹل تلاش کرنے میں لگ گئی۔ ایک ہوٹل ملا جو کہ کافی مہنگا محسوس ہوا۔ قریب ہی ایک صاحب کھڑے تھے۔ میں نے ان سے ہوٹل کے بارے میں پوچھا۔ بولے، "آپ کو عربی آتی ہے۔" اس کے بعد کہنے لگے،"میں ٹیکسی چلاتا ہوں۔ آپ کو ہوٹل چھوڑ دیتا ہوں۔" ہم ان کے پیچھے روانہ ہوئے۔ یہ ہمیں ایک ہوٹل میں لے آئے جو کہ اسٹینڈرڈ کے اعتبار سے کوئی خاص نہ تھا مگر کرایہ زیادہ تھا کیونکہ ہوٹل والے نے ٹیکسی والے کو کمیشن بھی ادا کرنا تھا۔ کچھ بحث و تمحیص کے بعد 70 لیرا پر معاملہ طے پایا۔

کمرے میں سامان رکھ کر میں کھانا خریدنے نکلا۔ ترکی کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ ان کے شہر بہت جلدی بند ہو جاتے تھے۔ ابھی ساڑھے نو بجے تھے مگر شہر میں ہو کا عالم تھا۔ کھانے کے چند ایک ہوٹل کھلے تھے۔ میں ایک ہوٹل میں داخل ہوا ۔ یہاں مختلف تھالوں میں کچھ ڈشیں پڑی ہوئی تھیں۔ یہاں چپاتی بھی دستیاب تھی۔ میں نے اس کا نام بھی پوچھ لیا تاکہ آئندہ آسانی ہو۔ معلوم ہوا کہ اسے "لَوَش" کہتے ہیں۔ میں نے مکس سبزی کی ایک ڈش پیک کروائی اور واپس کمرے میں آ گیا۔

ڈرتے ڈرتے کھانا چکھا تو قابل برداشت محسوس ہوا۔ کھانا کھا کر ہم جلد ہی سو گئے۔ ناشتہ کمرے کے کرائے میں شامل تھا۔ صبح اٹھ کرناشتے کے لئے پہنچے تو وہی لکڑی کے بن اور ان کے ساتھ شہد، پنیر اور مکھن تھا۔ ہوٹل میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی دستیاب تھی۔ میں نے وائرلیس کے ذریعے اپنے لیپ ٹاپ پر انٹرنیٹ لگا کر ای میلز چیک کیں اور پاکستانی اخبارات کا مطالعہ کیا۔اخبارات میں پاکستان سے متعلق ایک ہولناک خبر ہمارے سامنے تھی۔

بعض انتہا پسندوں نے گوجرہ میں ایک عیسائی بستی کو آگ لگا دی تھی جس میں بہت سے افراد جل کر جان بحق ہو گئے تھے۔ اس شرم ناک کاروائی کے لئے بہانہ توہین رسالت کو بنایا گیا تھا۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہم رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ایسی کاروائیاں کر رہے ہیں کہ جن کے نتیجے میں اسلام بدنام ہو۔ اگر کسی جاہل نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا بھی ہو تو اسے سزا دینے کے لئے ملک میں قانون موجود ہے۔ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے خود کاروائی کرنا اور بے گناہ افراد کو جلا کر ہلاک کر دینا ایسا جرم ہے جس کی کوئی گنجائش نہ اسلام میں موجود ہے اور نہ ہی کسی اخلاقی ضابطے میں۔ مجھے یقین ہے کہ ان مجرموں کے خلاف قیامت کے دن خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعوی دائر کریں گے کیونکہ یہ لوگ آپ کے مقدس نام پر انسانیت کے خلاف ظلم کر رہے ہیں۔

ہمارے ہاں توہین رسالت کے قانون کا جس قدر غلط استعمال کیا گیا ہے، اس کے نتیجے میں ناموس رسالت کی پاسبانی کا فریضہ تو ہم کیا سرانجام دیتے، ہم نے غیر مسلموں میں اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات والا صفات کے خلاف نفرت کا بیج اپنے ہاتھوں سے بویا ہے۔اس غلط استعمال کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ذاتی جھگڑوں میں لوگ توہین رسالت کا غلط الزام لگا کر مخالف کو سزا دلوانے پر تل جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بے دین قسم کے لوگ اس قانون ہی کو ہدف بنا لیتے ہیں۔

توہین رسالت ، بدکاری کے مقابلے میں ایک بہت ہی بڑا جرم ہے۔ اگر کوئی کسی پر بدکاری کا غلط الزام عائد کرے تو اس کی سزا اسی کوڑے ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ بدکاری سے کئی گنا بڑے جرم کا الزام عائد کرنے پر ہمارے ہاں کوئی سزا نہیں دی جا سکتی۔ اگر قانون کے اس غلط استعمال کو روکنے کی بات کی جائے تو مذہبی لوگ اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کے لئے میدان میں آ جاتے ہیں۔ افسوس کہ ان کا سارا کاروبار ہی نفرت کی بنیاد پر چلتا ہے۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

اس معاملے میں ایک انتہا تو یہ ہے اور دوسری انتہا وہ ہے جس کی بدولت بے دین قسم کے لوگ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی شان میں گستاخی کرتے پھرتے ہیں۔ اس تبصرے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو ختم کیا جائے۔ اللہ کے کسی پیغمبر کے ساتھ کوئی شخص اگر گستاخی کا معاملہ کرے تو کسی بھی صاحب ایمان کی غیرت اسے گوارہ نہیں کر سکتی۔ اس قانون کو یقیناً برقرار رہنا چاہیے اور حکومت کے ذریعے اسے پوری قوت سے نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ کسی کو ایسی جسارت کرنے کی جرأت نہ ہو سکے۔مگر اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے جن کی وجہ سے کوئی بددیانت انتہا پسند اس قانون کا غلط استعمال نہ کرتے ہوئے کسی بے گناہ کو سزا نہ دے سکے۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اسلامی قوانین بدنام نہ ہوں۔

سامسن کا بازار

ناشتے سے فارغ ہو کر ہم بازار میں نکلے جو کہ ہوٹل کے گرد و نواح میں واقع تھا۔ یہ بازار پتلی پتلی گلیوں پر مشتمل تھا۔عجیب بات یہ تھی کہ ان گلیوں میں بھی بسیں چل رہی تھیں۔یہاں گوشت کی کچھ دکانیں تھیں اور ان میں ذبح شدہ بکروں کو شو رومز میں کچھ اس طریقے سے ڈسپلے کیا گیا تھا جیسے یہ کوئی جدید فیشن کے ملبوسات ہوں۔ یہاں ایک عجیب چیز نظر آئی۔ قیمے کے سینگ نما لمبے لمبے رول گچھوں کی صورت میں شو رومز میں لٹکائے گئے تھے۔ اسے غالباً کسی خاص ڈش میں استعمال کیا جاتا ہو گا۔

ایک دکان سے پھل خرید کر ہم گاڑی میں آ بیٹھے اور شہر سے باہر جانے والی سڑک کی طرف روانہ ہو گئے۔ ایک صاحب سے ترابزن جانے والی سڑک کا پوچھا۔ انہوں نے ترکی زبان میں نجانے کیا تقریر شروع کر دی۔ خلاصہ یہ تھا کہ ساحل یولو پر چلے جائیے۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی ساحل کو ساحل ہی کہا جاتا ہے۔ اب ہم پرانے شہر کی طرف جا رہے تھے۔ ایک جگہ گاڑی روکی تو ہر طرف پرانے مکانات تھے۔ ایک مکان کی بالکونی میں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے جن کی عمر 80 سال کے لگ بھگ ہو گی۔ قریب ہی ان کی ہم عمر شریک حیات صفائی کر رہی تھیں اور پان کھانے کے انداز میں منہ چلا رہی تھیں۔ دونوں کے چہروں پر ایک دوسرے کے لئے محبت کے تاثرات تھے۔ کاش ایسا رومانس ہمارے ہر جوڑے کو نصیب ہو تو زندگی کتنی آسان ہو جائے۔

بلیک سی کا پہلا نظارہ

مختلف سڑکوں سے گھومتے ہوئے ہم بالآخر ساحل یولو پر آ پہنچے۔ اب ہماری نظروں کے سامنے بلیک سی تھا جو واقعتاً سیاہ نظر آ رہا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا یہ رنگ بس یہیں تک محدود ہے۔ آگے جا کر اس کا پانی نیلا ہی ہو جاتا ہے۔ یہاں بحری جہازوں کا ایک میوزیم بنا ہوا تھا جس میں متروک بحری جہازوں کو سجا سنوار کر کھڑا کر دیا گیا تھا۔سامسن سے متعلق بروشرز میں یہاں مصطفی کمال کی ذاتیات سے متعلق ایک میوزیم کا ذکر بھی تھا جس میں ہمیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔

ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے ہم شہر سے باہر نکلتے گئے۔ اب ہم ترابزن کے بورڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے ساحل یولو پر سفر کر رہے تھے۔ہمارے دائیں جانب سبزے سے ڈھکے ہوئے پہاڑ تھے اور بائیں جانب سمندر۔ یہ نظارہ ہمارے لئے نیا تھا کہ سمندر اور اتنا ڈھیر سا سبزہ ایک جگہ اکٹھا ہو۔††††††

آسمان پر گھنے بادل اکٹھے ہو رہے تھے۔ اچانک ہی تیز بارش شروع ہو گئی۔ بارش میں سبز پہاڑ گویا نہا رہے تھے اور بارش کے یہی قطرات سمندر میں بھی تلاطم پیدا کر رہے تھے۔ کچھ دور جا کر ہم سمندر سے دور ہونے لگے۔ اب ہم سبز دریا کے اوپر سے گزر رہے تھے۔یہ "چار شمبا" کا قصبہ تھا۔ یہاں لکڑی کی بنی ہوئی ایک مسجد تھی جس کا سن تعمیر 1206ء تھا۔ اس مسجد کا نام "گوک چیلی مسجد" تھا۔ اس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کی تعمیر میں دھات کا کوئی کیل استعمال نہ ہوا تھا۔

میں نے تو جیسے تیسے ناشتہ کر لیا تھا مگر میری اہلیہ اور بیٹی نے صحیح طور پر ناشتہ نہ کیا تھا۔ کسی متوقع ہنگامے سے بچنے کے لئے میں نے ایک پٹرول پمپ پر واقع ریستوران پر گاڑی روک دی۔ یہ ایک نہایت ہی خوبصورت مقام تھا۔ سبز پہاڑوں کے دامن میں کھیتوں کے درمیان یہ ریستوران بنا ہوا تھا۔ کھانے میں ترک کباب ملے جو کہ واقعتاً بہت مزیدار تھے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم کسی متوقع ہنگامے سے محفوظ رہے۔

یہاں کے پٹرول پمپ پر گاڑیوں کی صفائی کا عجیب طریقہ نظر آیا۔ گاڑیوں کو دھونے کے بعد ایک اسٹیشن پر لایا جا رہا تھا جہاں بہت بڑے بڑے آٹومیٹک برش گھوم کر اس کی صفائی کر رہے تھے۔

کھانا کھا کر ہم روانہ ہوئے۔ اب ہم ساحل سے کچھ دور ہو چکے تھے۔ اگلا شہر "انیے" تھا۔ یہاں سمندر سڑک کے بالکل ساتھ لگا ہوا تھا۔ ایک جگہ سڑک کے بیچ میں کوئی کام ہو رہا تھا اور ٹریفک کو ایک طرف کرنے کے لئے ایک پولیس اہلکار کسی پنجابی ہیرو کی طرح سینہ تانےاور ہاتھ میں گنڈاسے کی بجائے ڈنڈا پکڑے سڑک کے بیچ میں کھڑا تھا۔ یہ ایکسپریس وے تھی مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس پر بھی جا بجا سگنل بنے ہوئے تھے۔اس پوری سڑک کے نیچے سے گزر کر بہت سے مقامات پر بے شمار ندی نالے سمندر میں مل رہے تھے۔ اسی تازہ پانی کی بدولت بلیک سی آباد تھا۔

ساحل یولو کے کنارے باغات

سامسن کی ساحل یولو

سڑک کے ساتھ ساتھ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ہورڈنگز لگی ہوئی تھیں جن پر ایک نہایت ہی غمگین صورت صاحب کی تصویر تھی۔ ان کا نام احمد یلماز لکھا ہوا تھا۔ان کی اس مغموم صورت نے پورے ترکی میں ہمارا پیچھا کیا۔ جہاں جہاں ہم گئے، وہاں وہاں انہوں نے ہمارے استقبال کے لئے ہورڈنگز لگوا رکھی تھیں۔ چونکہ یہ ہورڈنگز ترکی زبان میں تھیں، اس وجہ سے اندازہ نہیں ہو سکا کہ یہ صاحب کون ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ ان کے کوئی سیاستدان وغیرہ ہوں گے۔ بعد میں انٹرنیٹ پر تلاش کیا تو ڈھیروں احمد یلماز نکل آئے جن کی صورتیں اتنی غمگین نہ تھیں۔

انیے سے باہر نکلتے ہی ایک اور عجیب منظر نگاہوں کے سامنے آیا۔ سڑک اور سمندر کے درمیان ایک سرسبز پٹی حائل ہو چکی تھی جس پر لوگوں نے کیمپنگ کی ہوئی تھی۔ اگلا شہر "فستا" تھا۔ یہاں سے سڑک سمندر سے ہٹ کر پہاڑوں کے بیچ میں جا رہی تھی۔ اب سرنگوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا۔ ہم ایک سرنگ سے نکلتے تو دوسری میں جا گھستے۔ ہر سرنگ کے آغاز میں اس کی طوالت درج تھی۔ ایک سرنگ تو چار کلومیٹرطویل ثابت ہوئی۔ اس سے باہر نکلتے ہی ہماری آنکھیں چندھیا گئیں۔آج جمعہ کا دن تھا اور نماز کا وقت قریب آ رہا تھا۔ ہم لوگ اب اگلے شہر کے قریب پہنچ رہے تھے۔

اردو میں نماز جمعہ

قارئین کے لئے یہ بات حیرت کا باعث ہو گی کہ ہم نے نماز جمعہ، اردو میں ادا کی۔ بے فکر رہیے،ہم نے کوئی بدعت ایجاد نہیں کی۔ یہاں اردو سے مراد، اردو زبان نہیں بلکہ اردو شہر ہے۔ اب ہم "اردو" شہر پہنچ چکے تھے جو کہ بلیک سی کے کنارے ایک صاف ستھرا خوبصورت شہر تھا۔ یہاں سمندر کے کنارے ایک مسجد بنی ہوئی تھی جہاں سے اذان کی صدا بلند ہو رہی تھی۔ مسجد کے قریب بہت سی گاڑیاں رکی ہوئی تھیں۔ میں بھی وضو کر کے مسجد میں چلا گیا کیونکہ مجھے اللہ تعالی کی طرف سے عائد کردہ اہم ترین فریضہ انجام دینا تھا۔

ہمارے ہاں بعض لوگ نماز کی اہمیت کو کم کرنے کے لئے طرح طرح کے فلسفے ایجاد کرتے ہیں۔ ہمارے ایک ملنے والے جو کہ امت مسلمہ کے مسائل پر فلسفے جھاڑنے کے بہت شوقین ہیں، ایک دن عین نماز کے وقت اپنا وعظ شروع کر بیٹھے۔ انہوں نے اپنے دفتر کا ایک واقعہ بیان کیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ لوگ نماز کو بہانہ بنا کر کام نہیں کرتے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ یہ دونوں انتہائیں ہیں۔ بعض لوگ نماز کو بہانہ بنا کر کام چوری کرتے ہیں، یہ ایک انتہا ہے جبکہ بعض لوگ نماز کو کم اہم سمجھتے ہوئے سرے سے اسے ادا ہی نہیں کرتے۔ اللہ تعالی نے اپنے فرائض میں سب سے زیادہ اہمیت نماز ہی کو دی ہے۔ہمیں ان دونوں انتہاؤں سے بچتے ہوئے اللہ تعالی کے حضور نماز کے لئے حاضر ہونا چاہیے۔

ترکی کی مساجدکا اندرونی حصہ بہت سے تیز رنگوں والے نقش و نگار سے مزین ہوتا ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب کی مساجد کا اندرونی حصہ سادہ رکھا جاتا ہے۔سعودی عرب کی طرح ترکی کی مساجد کا انتظام بھی حکومت کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

امام صاحب نے خطبہ ترکی زبان میں دیا جس کا کچھ حصہ عربی میں تھا۔ عربی حصے سے معلوم ہوا کہ خطبے کا موضوع رمضان کی تیاری اور شعبان کے فضائل تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ترکی میں مساجد کے ائمہ کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے مگر وہ لوگ اس آزادی کا غلط استعمال نہیں کرتے اور اپنے خطبات میں فرقہ واریت پھیلانے کی بجائےمعاشرے کی اصلاح کو اپنا موضوع بناتے ہیں۔ تخلیقی عمل کے لئے آزادی اظہار کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ ایک تخلیقی شخص اس وقت تک اعلی درجے کی تخلیق نہیں کر سکتا جب تک کہ اسے اس بات کا یقین نہ ہو کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں، اسے کہنے کی آزادی مجھے حاصل ہے۔

موجودہ دور میں مغربی ممالک اس معاملے میں ہم سے بہت آگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس کا میدان ہو یا ادب کا، اعلی درجے کی تخلیقات ان ہی کے ہاں ہوا کرتی ہیں۔ ان کے ہاں آزادی اظہار کا یہ عالم ہے کہ امریکی پالیسیوں کے سب سے بڑے ناقد نوم چومسکی کو امریکی شہریت حاصل ہےاور وہ وہاں آزادی سے رہ رہے ہیں۔ ہم لوگ چونکہ اس میدان میں پیچھے ہیں، اس وجہ سے ہمارے تخلیقی صلاحیت رکھنے والے افراد مغربی ممالک میں جا بسنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہاں انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع میسر ہوا کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام انسان کی اظہار رائے کی آزادی کا سب سے بڑا علم بردار ہے۔ اس آزادی کی حدود یہ ہیں کہ ہم دوسروں کی آزادی میں دخل اندازی نہ دیں اور ان کی دل آزاری نہ کریں۔

اردو ایک قدیم شہر ہے۔ یہاں انسانی آبادی کے آثار 3000 قبل مسیح سے ملتے ہیں۔ یہ علاقہ خاص قسم کے نٹس کی پیداوار کے لئے مشہور ہے جنہیں "ہیزل نٹس" کہا جاتا ہے۔ ان کے لئے اردو زبان میں کوئی نام موجود نہیں ہے۔ یہاں جولائی میں ان نٹس کی نمائش بھی ہوتی ہے جو اس وقت ختم ہو چکی تھی۔

گائرسن

اردو سے اگلا شہر گائرسن تھا ۔ یہ شہر سمندر کنارے سبز پہاڑوں پر واقع تھا۔مین روڈ سے نکل کر ہم شہر میں داخل ہوئے۔ ایک سڑک اوپر پہاڑ پر جا رہی تھی۔ میں نے گاڑی کو اس سڑک پر ڈال دیا۔ سڑک کا زاویہ بہت ہی گہرا تھا۔ ہمیں یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گاڑی ابھی آگے سے اٹھ جائے گی اور پھر رول ہوتی ہوئی نیچے سمندر میں جا گرے گی۔ تھوڑی دیر میں ہم پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئے۔اب ایک نہایت ہی حسین نظارہ ہمارے سامنے تھا۔ ہمارے سامنے سمندر تھا جس کے بیچوں بیچ ایک سرسبزچٹان نکلی ہوئی تھی۔ آسمان پر گھنے بادل تھے اور ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ دور بادل گویا سمندر کو مس کر رہے تھے۔

چوٹی پر بہت سے گھر بنے ہوئے تھے۔ پہاڑ کے دوسری جانب گائرسن شہر تھا۔ چوٹی سے لے کر نیچے تک سرخ چھتوں والے گھر ہی گھر تھے۔ ہر گھر کی چھت پر سولر پینل لگا ہوا تھا تاکہ شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جا سکے۔ نیچے ایک قبرستان تھا جس کی قبریں بالکل ہمارے طرز کی تھیں۔

ایک جگہ گاڑی کھڑی کر کے ہم چٹان کنارے کی طرف بڑھے تاکہ یہاں سے سمندر اور گائرسن شہر کی تصویریں لی جا سکیں۔ ادھر ایک ترک اماں اور ان کے دو بیٹے لکڑیوں کے گٹھے اٹھائے چلے آ رہے تھے۔ ان سے سلام دعا ہوئی۔ انہیں بھی ہمارے پنجاب کے دیہاتیوں کی طرح ہمارے بارے میں بہت تجسس ہوا۔ اماں نے ایک لڑکے سے کچھ کہا اور وہ گھر کے اندر سے جا کر اپنی بہن کو بلا لایا۔ ان خاتون کو اچھی خاصی انگریزی آتی تھی۔ انہوں نے ہمارا انٹرویو کیا اور ہمیں چائے کی دعوت دی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زبان میں یہ تفصیلات اپنی والدہ کے گوش گزار کر دیں تاکہ ان کا تجسس ختم ہو سکے۔

گائرسن سے سمندر کا نظارہ

گائرسن شہر کا منظر

ہم ان کا شکریہ ادا کر کے واپس مڑے اور ہائی وے پر واپس آ گئے۔ اب وہی منظر ہماری نگاہوں کے سامنے تھا۔ ہمارے دائیں طرف سبزے میں ڈھکے پہاڑ تھے اور بائیں جانب سمندر۔ آسمان پر سرمئی بادل تھے ۔ عجیب بات یہ تھی کہ یہاں بادل صرف خشکی پر تھے۔ ساحل کے اوپر پہنچ کر بادل اس طرح ختم ہو رہے تھے جیسے کسی نے باقاعدہ چھری سے انہیں ساحل کے ساتھ ساتھ کاٹ دیا ہو۔

ٹائر بولو، آئی نیسل، چارشی باشی سے گزرتے ہوئے اب ہم ترابزن کے قریب پہنچ رہے تھے۔ اچانک ایک بورڈ ہمارے سامنے آ گیا جس میں دائیں طرف تیر کا نشان دیا ہوا تھا اور بورڈ پر لکھا تھا: "سیرا گولو، 5 کلومیٹر"۔ ہمیں چونکہ جھیلوں سے عشق تھا، اس وجہ سے ہم بھی اسی جانب چل پڑے۔ہمارے ساتھ ساتھ ایک دریا چل رہا تھا جس میں اس وقت پانی کم تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم جھیل کے کنارے پہنچ گئے۔ یہ مٹیالے پانی کی جھیل تھی جو سرسبز پہاڑوں کے بیچ میں تھی۔پہاڑوں پر سبزہ تو اچھا تھا مگر جھیل بہت زیادہ خوبصورت نہ تھی۔

ترابزن سے متعلق بروشرز میں ایک خوبصورت جھیل کی تصویر دی گئی تھی۔ میں نے بروشر نکالا تاکہ دیکھا جائے کہ یہ وہی جھیل ہے یا نہیں۔ معلوم ہوا کہ وہ دوسری جھیل ہے جس کا نام "یوزن گولو" ہے۔ یہاں کچھ ترک لڑکے کھڑے تھے۔ میں نے انہیں یوزن گولو کی تصویر دکھا کر اس کا راستہ پوچھا۔ وہ کہنے لگے، "آپ دوبارہ ساحل یولو پر چلے جائیے۔ ایک گھنٹے کے سفر کے بعد آپ کو اس کا بورڈ نظر آ جائے گا۔"

سیرا گولو

جھیل سے ہم دریا کے ساتھ ساتھ سمندر کی جانب بڑھے۔ ساحل یولو پر پہنچے تو یہ گولڈن دریا سمندر میں مل رہا تھا۔ جہاں تک اس کا پانی جا رہا تھا، وہاں سمندر کا رنگ مختلف تھا۔ یہ "اکچا آباد" کا قصبہ تھا۔ اب ہم ترابزن شہر میں داخل ہو رہے تھے۔ پاکستان کی طرح ترکی کے بہت سے شہروں کے نام کے ساتھ "آباد" کا لاحقہ استعمال ہوتا ہے۔ ان کے ہاں ایک اور لاحقہ "شہر" بھی استعمال ہوتا ہے جیسے اسکی شہر وغیرہ۔

ترابزن

ترابزن بلیک سی پر واقع ترکی کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ اس کا شمار بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ ایک قدیم شہر ہے جہاں انسانی آبادی کے آثار 7000 قبل مسیح سے ملتے ہیں۔ یہاں 1263ء کا تعمیر کردہ مشہور "آیا صوفیہ" بھی واقع ہے جو استنبول کے آیا صوفیہ کی ایک شاخ ہے۔ اس کی تفصیل ہم استنبول پہنچنے کر بیان کریں گے۔

ترابزن آٹھویں صدی عیسوی یا دوسری صدی ہجری میں مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا۔ یہ رومی سلطنت کی ایک اہم چھاؤنی تھی۔ مسلم دور میں ترابزن کو بین الاقوامی اہمیت حاصل ہوئی جب یہ ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا۔ یورپ کی مصنوعات بذریعہ بلیک سی ترابزن میں لائی جاتیں اور یہاں سے یہ مال ایران کے راستے ہندوستان اور چین کی طرف بھیج دیا جاتا۔ اسی طرح ہندی اور چینی مصنوعات ترابزن سے بذریعہ سمندر یورپ اور روس پہنچائی جاتیں۔

مشہور اطالوی سیاح مارکوپولو بھی اسی راستے سے چین کی طرف گئے تھے۔ چین میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد واپسی پر وہاں کے بادشاہ نے ان کی ذمہ داری لگا دی کہ وہ ایک شہزادی کو ایران چھوڑ دیں جس کی شادی ایران کے بادشاہ سے طے پائی تھی۔ ایک طویل بحری سفر کے بعد جب یہ قافلہ ایران پہنچا تو معلوم ہوا کہ بوڑھے بادشاہ سلامت جہان فانی سے گزر گئے ہیں۔ یقیناً اس کا علم ہونے پر مارکوپولو کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہو گی کہ اب شہزادی کو واپس پہنچانے کے لئے دوبارہ چین جانا پڑے گا۔ اس وقت ان کی خوش قسمتی آڑے آئی اور ابا جان کی بجائے ، اس کے بیٹے نئے بادشاہ کو چینی شہزادی پسند آ گئی۔ اس نے شہزادی سے شادی کر لی۔ مارکوپولو نے جان چھوٹنے پر یقیناً خدا کا شکر ادا کیا ہو گا۔اس کے بعد ایران سے مارکوپولو ترابزن پہنچے اور بحری جہاز میں بیٹھ کر اپنے وطن روانہ ہوگئے۔

انیسویں صدی میں اس علاقے پر کچھ عرصے کے لئے روس کا قبضہ بھی رہا ہے جو بعد میں عثمانی افواج نے چھڑا لیا۔ اس زمانے میں روسی افواج نے مختلف ممالک میں جنوب کی طرفپیش قدمی کی تھی۔ بحیرہ کیسپین کے دوسری جانب انہوں نے ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان اور کرغیزستان پر قبضہ کیا اور بحیرہ کیسپین او راسود کے درمیان جارجیا، آذر بائیجان ، آرمینیا اور ترکی پر فوج کشی کی۔

سڑک سے ترابزن شہر کی قدیم فصیل نظر آ رہی تھی جو سیاہ رنگ کے پتھروں سے بنی ہوئی تھی۔ یہاں ساحل یولو پر ٹریفک کافی جام تھا۔ یہاں سے نکل کر ہم مزید آگے بڑھتے چلے گئے۔ اب تک ساحل کے ساتھ ساتھ ہم مشرق کی جانب سفر کرتے آئے تھے مگر اب سڑک ساحل کے ساتھ ساتھ شمال کی طرف رخ کر رہی تھی۔ ترابزن سے باہر نکلتے ہی ہمیں تیز بارش نے آ لیا۔ ہم جدہ میں بارش نہ ہونے کے باعث اس نعمت سے ترسے ہوئے تھے۔ میں نے فوراً گاڑی روکی اور باہر نکل کر بارش میں نہانے کو انجوائے کرنے لگا۔ ماریہ بھی باہر نکل آئی۔ موسلا دھار بارش میں بلیک سی خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا۔اس سے پہلے کہ میں اتنا گیلا ہوتا کہ گاڑی خراب ہوتی، میں واپس آ کر بیٹھ گیا۔

یوزن گولوکا پہلا نظارہ

کچھ دیر بارش سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم آگے بڑھے۔ ترابزن کے بعد "یومرا "اور "اراکلی"کے قصبے آئے۔ اس کے بعد ہم لوگ "آف" پہنچ گئے۔ یہاں پہاڑوں کی جانب" یوزن گولو "کی طرف راستہ نکل رہا تھا۔ سڑک کے ساتھ ساتھ ایک پختہ کناروں والا نالہ بہہ رہا تھا۔ ہم اس نالے کے ساتھ والی سڑک پر ہو لئے۔ تھوڑی دور جا کر پختہ کنارے ختم ہو گئے۔ اب ہم ایک شور مچاتے ہوئے تیز دریا کے ساتھ ساتھ سفر کر رہے تھے۔ اس دریا کو ہم دریائے سوات سے تو نہیں البتہ وادی کاغان کے دریائے کنہار سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔

دریا میں گرتی آبشار

دریائے یوزن

دریا کے دونوں جانب کافی بلند سرسبز پہاڑ تھے۔ ان پہاڑوں کی خصوصیت یہ تھی کہ یہاں بلندی پر زمین ہموار کر کے چائے کے باغات لگائے گئے تھے۔ یہ ترابزن کی مشہور چائے تھی۔تھوڑی دور جا کر "چیکارہ" کا قصبہ آیا۔ قصبے کے قریب ہی ایک خوبصورت منظر ہماری نگاہوں کے سامنے تھا۔ پتلی سی ایک آبشار نالے کی صورت میں پہاڑ سے گر رہی تھی۔ اس کے اوپر چھوٹا سا پل بنا کر سڑک کو گزارا گیا تھا۔ اس سے سو میٹر کے فاصلے پر ایک بہت بڑی آبشار دریا میں گر رہی تھی۔جہاں آبشار دریا میں گر رہی تھی، وہاں پر دریا کے دوسرے کنارے گھنے درخت تھے۔ ان ہرے بھرے کے درمیان عین دریا کے کنارے ایک ٹنڈ منڈ سا خشک درخت کھڑا تھا۔ ہدایت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ بعض لوگ اللہ کے پیغمبر کے زمانے میں ہوتے ہوئے بھی ہدایت سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ہم کچھ دیر کے لئے یہاں رک گئے۔ گاڑی کا تھرما میٹر اب 14 ڈگری سینٹی گریڈ کا اعلان کر رہا تھا۔ باہر نکلے تو کافی سردی محسوس ہوئی۔ میں نے ڈگی کھول کر گرم فل شرٹ نکالی اور اپنی ٹی شرٹ کے اوپر پہن لی۔ کچھ دیر آبشار کی قدرتی موسیقی سی لطف اندوز ہونے کے بعد ہم آگے روانہ ہوئے۔

تھوڑی دیر کے بعد اچانک چڑھائی شروع ہو گئی۔ چڑھائی کے ساتھ ساتھ دریا کے شور میں بھی اضافہ ہو رہا تھا کیونکہ یہ اب زیادہ تیزی سے نیچے کی طرف جا رہا تھا۔تھوڑی سی چڑھائی کے بعد اچانک سڑک سیدھی ہو گئی۔ سامنے مسجد کا مینار نظر آ رہا تھا۔ دریا اب پرسکون ہو چکا تھا۔ ایک موڑ مڑتے ہی ہمارے سامنے ترکی کا حسین ترین منظر تھا۔ یہ یوزن جھیل تھی جو اپنے حسن کے لحاظ سے پورے ترکی میں مشہور تھی۔ترابزن کے بروشر میں جس منظر نے ہمیں مسحور کیا تھا، وہ اب نگاہوں کے سامنے تھا اور حقیقتاً اپنی تصویر سے بڑھ کر دلفریب تھا۔

جھیل کے ایک کنارے پر سڑک تھی جس پر دکانیں وغیرہ بنی ہوئی تھیں۔ دوسرے اور تیسرے کنارے پر ہوٹل تھے مگر ہوٹلوں اور جھیل کے درمیان ایک کچی سڑک تھی۔ چوتھی جانب خالی تھی۔ جھیل کے شمالی کنارے پر ایک بہت ہی خوبصورت مسجد بنی ہوئی تھی۔جھیل کے بیچوں بیچ ایک ننھا منا سا جزیرہ تھا جو گھنے سبزے سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس کا سائز کچھ اتنا ہی تھا جتنا کہ ہماری کلری جھیل میں نوری جام تماچی کا مقبرہ بنا ہوا ہے۔ جھیل کے ایک جانب سے دریائے یوزن نکل رہا تھا۔چاروں طرف سبزے سے ڈھکے ہوئے پہاڑ تھے جن کی چوٹیاں بادلوں سے ہم آغوش ہو رہی تھیں۔

یوزن گولو کے کنارے مسجد

جھیل کے درمیان جزیرہ

اس جھیل کے منظر کا موازنہ اپنی جھیل سیف الملوک سے کیا جا سکتا ہے مگر یہاں فرق یہ تھا کہ جھیل کے چاروں طرف لکڑی کے بہت سے ہٹس بنے ہوئے تھے۔ یہ جھیل اتنی بلندی پر بھی نہ تھی جتنی بلندی پر سیف الملوک واقع ہے۔پہلی نظر ہی میں ہم اس جھیل پر عاشق ہو چکے تھے چنانچہ فیصلہ یہ ہوا کہ اگلے دو تین دن یہیں بسر کیے جائیں۔ ویسے بھی اب ہم استنبول سے 1300 کلومیٹر کا سفر طے کر چکے تھے۔

جھیل کے کنارے بہت سے لوگ تھے جن میں سعودیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ ان میں سے زیادہ تر حضرات اپنی جیپوں اور کاروں پر سعودی عرب سے آئے تھے۔ ان کی خواتین نے برقعے پہنے ہوئے تھے جس کی وجہ سے ماحول پاکیزہ لگ رہا تھا۔ ترکی کے مغرب زدہ ماحول کی وجہ سے ہمیں جو گھٹن محسوس ہو رہی تھی، اس کا بھی یہاں خاتمہ ہو گیا تھا۔ ہمارے ہاں عربوں کا تصور یہ ہے کہ یہ اپنے ممالک سے باہر جا کر خوب عیاشی کرتے ہیں۔ یہ تصور بالکل ہی غلط ثابت ہوا۔ یہاں موجود تمام عرب نہایت ہی شرافت سے انجوائے کر رہے تھے۔ ان کی خواتین بھی مکمل باپردہ تھیں اور مردوں کی نظر میں بھی حیا تھی۔ ترک خواتین بھی باپردہ نظر آ رہی تھیں۔

ابھی بہت کچھ باقی ہے!

اس صورت حال سے متعلق ہم آپس میں گفتگو کرنے لگے۔ اہل مغرب کا کلچر مسلم معاشروں میں پھیلانے کے لئے کس درجے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ میڈیا کی پوری طاقت کو اس کام پر لگا دیا گیا کہ دنیا میں بے حیائی کو عام کیا جا سکے۔ سینما، ٹی وی ، رسائل و میگزین، انٹرنیٹ ، تھیٹر غرض ہر قسم کے میڈیا کے ذریعےبے حیائی کے فروغ کا کام لیا جانے لگا۔ مصر اور پاکستان جیسے ممالک میں سرکاری طور پر بے حیائی کے کاروبار کی سرپرستی کی گئی۔ ترکی میں حکومتی جبر کے زور پر بے حیائی کو مسلط کیا گیا۔ اس سب کے باوجود مغربی کلچر پوری طرح ہمارے معاشروں میں سرایت نہیں کر سکا ہے۔ اب بھی ہمارے ہاں ایسے خواتین و حضرات کی کمی نہیں ہے جن کے نزدیک حیا اور عفت و عصمت بنیادی اقدار کی حیثیت رکھتی ہیں۔مناسب ہو گا اگر ہم اس موقع پر بے حیائی کی تاریخ کا مختصر جائزہ لے لیں۔

بے حیائی قدیم دور سے دنیا میں موجود رہی ہے۔ پہلے زمانوں میں معاشرے پر مردوں کا مکمل کنٹرول ہوا کرتا تھا۔ معاشی وسائل ان ہی کے قبضے میں ہوا کرتے تھے۔ قدیم دور میں مردوں کی ہوس کو پورا کرنے کے لئے بڑے بڑے حرم تعمیر کیے جاتے تھے جن میں خواتین کو غلام بنا کر رکھا جاتا تھا۔ ایک مرد کے حرم میں اس کی حیثیت کے مطابق سینکڑوں بلکہ ہزاروں عورتیں تک ہوا کرتی تھیں۔ان خواتین کو بچپن سے ہی بے حجابی اور مرد کی جنسی تسکین کی تربیت دی جاتی تھی۔ ان خواتین سے وہ تمام کام لیے جاتے تھے جن کا مظاہرہ آج کل کے عریاں چینلز پر ہوتا ہے۔

مغربی معاشروں کی کیفیت بھی یہی تھی۔ مغرب کے جاگیردارانہ نظام میں عورت کو بری طرح دبا کر رکھا گیا تھا۔ عورت کو مرد کی ملکیت سمجھا جاتا تھا۔ اس نظام کو ان کے مذہبیراہنماؤں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں مغرب میں بادشاہت، جاگیرداری اور کلیسا کے جبر و تشدد کے خلاف زبردست تحریک پیدا ہوئی۔اس تحریک کے نتیجے میں مغرب میں انسان کی شخصی آزادی ایک بنیادی قدر کی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس آزادی کا نتیجہ یہ نکلا کہ خواتین کو ان کے وہ حقوق دیے گئے جن سے وہ صدیوں سے محروم تھیں۔ خواتین کی آزادی کے ساتھ ہی ان کا سماجی رتبہ بلند ہوا اور انہیں کسی حد تک معاشی خود مختاری ملنے لگی۔

صنعتی انقلاب کے بعد جاگیرداری نظام کی سرمایہ دارانہ نظام نے لے لی جس میں عیاش مردوں کے لئے بڑے بڑے حرم بنا کر رکھنا ممکن نہ رہا۔ معاشی اعتبار سے اب بھی وسائل پر اسی عیاش طبقے کا قبضہ تھا۔ حرم کے سماجی ادارے کے خاتمے کے بعد ان کے معاشروں میں ایک خلا پیدا ہوا اور وہ یہ تھا کہ عیاش مرد اپنی سفلی خواہشات کی تسکین کہاں کریں۔ اس مقصد کے لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ حیا اور عفت و عصمت کے تصورات کو جاگیردارانہ دور کی یادگار بنا کر فرسودہ قرار دے دیا جائے تاکہ مردوں کو عیاشی کے لئے زیادہ سے زیادہ عورتیں دستیاب ہو سکیں۔عیاش مردوں کے اس طبقے کے پاس جدید ایجادات اور میڈیا کے وسائل تھے جنہیں اس مقصد کے لئے بروئے کار لایا گیا۔

ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت مغربی دنیا میں حیا اور عفت و عصمت کے تصورات کے خلاف مہم چلائی گئی۔ خاندانی نظام کی عفت و عصمت کو غلامی اور جنسی بے راہ روی کو آزادی کا خوبصورت نام دے دیا گیا۔ اس تصور کو عام کرنے کے لئے فلمیں بنائی گئیں، تحریریں لکھی گئیں، ڈرامے تشکیل دیے گئے اور فلسفیانہ موشگافیاں کی گئیں۔ سگمنڈ فرائیڈ وہ پہلا ماہر نفسیات تھا جس نے اس تصور کو باقاعدہ سائنسی زبان میں بیان کیا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں مغرب میں مردوں کی تعداد خواتین کی نسبت بہت کم رہ گئی تھی۔ چونکہ مغرب میں ایک زائد شادیوں کی اجازت نہ تھی، اس وجہ سے خواتین کے معاشی مسائل نے انہیں مجبور کیا کہ وہ مردوں کی ہوس پوری کر کے اپنا گزارہ چلائیں۔

بیسویں صدی کے نصف آخر میں میڈیا کی نت نئی ایجادات نے بے حیائی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہر قسم کے میڈیا نے خود کو مقبول بنانے کا سستا طریقہ یہ نکالا کہ بے حیائی کو فروغ دیا جائے تاکہ ان کا چینل، رسالہ یا ویب سائٹ زیادہ افراد کی نظر سے گزرے۔اس کے ساتھ ساتھ مانع حمل ادویات نے خواتین کے لئے غیر مردوں سے جنسی تعلقات قائم کرنا آسان کر دیا۔ جب خواتین کی معاشی حالت بہتر ہوئی تو ان کے عیاش طبقے کی ہوس کو پورا کرنے کے لئے مرد طوائف اور مردانہ پورنو گرافی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

مسلم دنیا میں بے حیائی کی پہلی لہر بیسویں صدی کے نصف اول میں آئی جب مسلمانوں کی اشرافیہ کے اس حصے نے جو یورپی آقاؤں کو خوش کرنا چاہتا تھا، مغربی اقدار کو اپنانے کی بھونڈی کوشش کی۔ اس سلسلے کو یہاں زیادہ پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔ بیسویں صدی کے آخری عشرے میں میڈیا کے انقلاب کے نتیجے میں یہاں بے حیائی کی دوسری لہر آئی ہے جس کے نتیجے میں ہماری نوجوان نسل میں حیا اور عفت و عصمت کی اقدار کا خاتمہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

اب انفارمیشن ریوولوشن کو آئے بھی بیس برس ہو چکے ہیں۔ اپنی پوری قوت لگا دینے کے باوجود بے حیائی اور فری سیکس کے علم بردار حیا اور عفت و عصمت کی اقدار کا خاتمہ نہیں کر سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے مذہبی اور سماجی راہنما اس خطرے کا احساس کر لیں جو ہمارے معاشروں میں سرایت کر رہا ہے۔ اس ضمن میں اس فرق کا خیال رکھنا ضروری ہے جو مغربی اور مسلم دنیا میں موجود ہے۔

مغرب میں مذہب کے خلاف ایک بہت بڑی بغاوت موجود تھی۔ مسلم دنیا میں ایسا نہیں ہے۔ اہل مغرب کو اگر یہ کہا جاتا کہ حیا کو اپناؤ کیونکہ مذہب اس کا حکم دیتا ہے تو اس بات کا ان پر الٹا اثر ہوتا تھا۔ اس کے برعکس اگر ایک مسلمان کو اگر مثبت انداز میں یہ سمجھایا جائے کہ اس کا دین اسے یہ حیا کا حکم دیتا ہے تو مسلمان اس کی پیروی میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ہمارے ہاں تو طوائفوں سے لے کر سیاستدانوں جیسے طبقات بھی ابھی خدا سے بغاوت کے مقام پر کھڑے نہیں ہوئے۔ اگر مثبت انداز میں انہیں سمجھایا جائے تو اس کے نتائج اچھے نکل سکتے ہیں۔

موجودہ دور میں عفت و عصمت اور حیا کے تصورات کو عام کرنے کے لئے اتنی ہی شدت سے مہم چلانے کی ضرورت ہے جتنی شدت سے بے حیائی کے علمبرداروں نے مہم چلائی ہے۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ مولویانہ انداز میں فتوے بازی کی بجائے سنجیدہ اور معقول دلائل کے ذریعے نئی نسل کو حیا اور عفت و عصمت کے تصورات اپنانے کے لئے قائل کیا جائے۔

مچھلی اور چوربا

یہی گفتگو کرتے ہم جھیل کے دوسرے کنارے پر جا پہنچے۔ اچانک میرے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا: "یا شیخ! انت تعرف عربیۃ۔" "ایوا۔" میں نے جواب دیا۔

"انت سعودی؟" سوال پوچھا گیا۔

"لا۔ انا باکستانی۔" میں نے جواب دیا۔ جواب میں معانقہ کیا گیا۔

میں نے بھی یہی سوال پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ صاحب ترک تھے اور جنوبی ترکی کے مشہور شہر انطالیہ سے آئے تھے۔ اچھی خاصی عربی جانتے تھے۔ مڑ کر دیکھا تو ان کی اہلیہ میری اہلیہ سے گفتگو کر رہی تھیں۔ دونوں خواتین ایک دوسرے کی زبان تو نہیں جانتی تھیں البتہ ایک دوسرے کی بات پوری طرح سمجھ رہی تھیں۔بچوں کی تعداد سے لے کر ان کے سائز اور عمروں تک پوری معلومات کا تبادلہ ہو رہا تھا۔

اب ہم مختلف ہوٹلوں سے کمرے کا پوچھنے لگے۔ معلوم ہوا کہ سب کے سب ہوٹل بک ہیں۔ یہاں کی عجیب بات یہ تھی کہ ہر ہوٹل میں 20 سال سے بھی کم عمر ترک لڑکے اور لڑکیاں ریسپشن پر کھڑے تھے۔ لڑکیوں نے باقاعدہ حجاب پہنے ہوئے تھے۔ ایک جگہ سے یہ مشورہ ملا کہ جھیل کے دوسری طرف چلے جائیے۔ وہاں آپ کو ہوٹل مل جائے گا۔ دوسری طرف پہنچے تو یہاں لکڑی کے بنے ہوئے ہٹس تھے۔ ایک ہٹ کے باہر ایک بزرگ تشریف فرما تھے۔ ان سے کمرے کے بارے میں پوچھا تو ترکی زبان میں ایک طویل تقریر کر دی گئی جس کا کچھ مطلب سمجھ میں نہ آیا۔ انہیں جسمانی زبان استعمال کرنے کی شاید عادت نہ تھی۔

ہم مزید آگے بڑھے۔ایک ہوٹل سے معلوم کیا۔ یہاں ایک بارہ تیرہ سالہ بچی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنے حلق سے انگریزی برآمد کرتے ہوئے پوچھا: "ہاؤ مینی؟" "ٹو۔""کم۔" یہ کہہ کر وہ ہمارے آگے چل پڑی۔ اس کے انداز میں ایسی عجلت تھی کہ کہیں یہ گاہک ہاتھ سے پھسل نہ جائیں۔ دوسری طرف ہمیں یہ بے چینی تھی کہ کہیں یہ کمرہ بھی ہاتھ سے پھسل نہ جائے۔ بچی ہمیں واپس انہی بزرگ کے پاس لے آئی۔ پہلے تو ان سے کچھ بات کی اور پھر ہمیں ایک ہٹ کھول کر دکھایا۔ لکڑی کا یہ کمرہ بہت اچھے انداز میں سجا ہوا تھا اور کرایہ بھی نہایت ہی مناسب تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ انہی بزرگ کی بیٹی تھی۔ ان کا پورا خاندان بھی اسی جگہ رہتا تھا۔ اپنے گھر کے اوپر نیچے انہوں نے متعدد کمرے بنا رکھے تھےجو ان کی آمدنی کا ذریعہ تھے۔

میں نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ یہ بچی ہمیں اپنے والد کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلی جائے اور ہم انہیں نہ تو کچھ سمجھا سکیں اور نہ ان کی کوئی بات سمجھ سکیں، اس سے سارے معاملات طے کر لیے جائیں۔ انٹرنیٹ کا پوچھا تو اس نے پاس ورڈ بتا دیا۔ کمرے میں سامان رکھ کر ہم نے سوچا کہ نماز مسجد میں چل کر پڑھی جائے۔ جلدی جلدی گرم کپڑے پہن کر ہٹ سے باہر نکلے تو ایک باریش سعودی صاحب وضو کر کے جا رہے تھے۔ تعارف ہوا تو کہنے لگے، "یہاں کیا کرنے آئے ہو، پاکستان بھی تو ایسا ہی ہے؟" یہ صاحب سعودی عرب کے شہر قصیم سے آئے ہوئے تھے۔

جھیل کے دوسرے کنارے پر مسجد میں پہنچےتو یہ نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ جماعت ختم ہو چکی تھی مگر دوسری جماعت ابھی جاری تھی۔نماز سے فارغ ہو کر مسجد کے اندرونی حصے پر غور کیا۔ ترکی کی دیگر مساجد کی طرح یہاں بھی نقش و نگار کا بھاری کام کیا گیا تھا۔ اتنے میں ایک صاحب آئے اور مجھے اپنا کیمرہ دے کر کہنے لگے، "میری تصویر اتار دیجیے۔"یہ کہہ کر وہ خود محراب میں جا کھڑے ہوئے۔ ان سے گپ شپ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ منورہ سے یہاں آئے ہیں۔

نماز سے فارغ ہو کر ہم کھانے کے لئے ہوٹل تلاش کرنے لگے۔ ایک ہوٹل پر مچھلی کی تصویر بنی ہوئی تھی، ہم نے اسی کا انتخاب کیا۔ کھانے کا آرڈر دینے کے لئے میں نے ان کے بورڈ پر بنی کھانے کی تصویروں کی طرف اشارہ کیا۔ ہوٹل جھیل کے عین کنارے پر تھا ۔ موسم کافی سرد ہو رہا تھا۔ کھانے میں روسٹ مچھلی اور پتلی دال آئی جو کہ یہاں "چوربا" کہلاتی تھی۔ اس کے ساتھ روٹی کے طور پر وہی لکڑی والے بن تھے جنہیں کھا کھا کر اب ہماری داڑھیں درد کرنے لگ گئی تھیں۔ اہلیہ کہنے لگیں، "مجھے تو چاول ہی منگا دیں۔" ویٹرس کو اچھی خاصی عربی اور انگریزی آتی تھی۔ چاول منگوائے۔ یہاں کے چاول بھی خوب تھے۔ پنجاب کے باسمتی چاول کھانے والوں کے سامنے چنےکے سائز کے موٹے موٹے چاول لا کر رکھ دیے گئے۔ چوربا اور مچھلی البتہ کافی مزیدار ثابت ہوئے۔

کھانے سے فارغ ہو کر کافی پینے کے بعد ہم کچھ دیر جھیل کے کنارے پیدل چلے۔ مجھے سردیوں کا موسم بہت پسند ہے۔ جدہ میں تو یہ موسم ہمیں نصیب نہیں ہوتا۔اس وقت اگست کے ابتدائی دنوں میں ہم یوزن گولو کی سردی کو انجوائے کر رہے تھے۔

بادل، بارش اور چشمہ

اگلی صبح آنکھ کھلی تو بادل پہاڑ کی چوٹی سے اتر کراس کے نصف تک آ چکے تھے۔ ساری رات یہ بادل ہلکی ہلکی پھوار کی صورت میں برستے رہے تھے جس سے پورے علاقے میں کیچڑ ہو رہا تھا۔ قریبی ہوٹل میں ناشتہ کرنے کے لئے گئے۔ ہوٹل کے اندر ایک خوبصورت منظر تھا۔ ہوٹل کے لان میں بڑے بڑے تالاب بنے ہوئے تھے جن میں سرد پانی کی مچھلیاں پالی گئی تھیں۔ دریا سے پمپ کے ذریعے پانی ان تالابوں میں ڈالا جاتا اور یہاں مچھلیوں کی فصل تیار کی جاتی۔اس وقت ہوٹل کا ایک ملازم مچھلیوں کو خوراک فراہم کر رہا تھا اور یہ اچھل اچھل کر پانی سے باہر آ کر خوراک جھپٹنے میں مصروف تھیں۔

یہاں سے وہی بوفہ اسٹائل ناشتہ ملا جو ہم روزانہ ہی کر رہے تھے۔ ناشتے کے بعد ہم نے پیدل ہی علاقے کا سروے کرنے کا ارادہ کیا۔ ہوٹل کے عقبی جانب دریا بہہ کر جھیل کی طرف جا رہا تھا۔ دریا کے دونوں کناروں کو پختہ کر دیا گیا تھا اور ان کے ساتھ ساتھ کچے ٹریک بنائے گئے تھے۔ درمیان میں کئی مقامات پر دریا پر لکڑی کے پل بنائے گئے تھے۔ دریا کے ایک جانب بہت سے ہوٹل بنے ہوئے تھے۔ ان میں لکڑی کا فرنیچر تھا جو کہ گیلیوں کو کاٹ کر بنایا گیا تھا۔ تھوڑی دور چل کر ہم ایک چشمے پر جا پہنچے جو پہاڑ کی بلندی سے دریا میں گر رہا تھا۔ چشمے پر جگہ جگہ بند باندھ کر اس کا پانی زرعی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔

یوزن دریا

بادل اور آبشار

اب ہمارا دل چاہ رہا تھا کہ کسی طرح اڑ کر بادلوں میں جا پہنچیں۔ واپس ہوٹل آ کر کار میں بیٹھے اور جھیل کے دوسرے کنارے کی طرف روانہ ہوئے۔ یہاں سے ایک سڑک پہاڑ کے اوپر جا رہی تھی۔ آگے جا کر یہ ایک کچی سڑک میں تبدیل ہو گئی۔ دونوں طرف گھنے سبزے کے بیچ میں سے گزرتے ہم اوپر جا رہے تھے۔ منظر کچھ ویسا ہی تھا جیسا کہ شوگران کی چڑھائی میں نظر آتا ہے۔ نصف پہاڑ کی بلندی پر پہنچ کر ہم بادلوں میں داخل ہو گئے۔ جیسے جیسے ہم اوپر جا رہے تھے، بادل گھنے ہوتے چلے جا رہے تھے۔

گاڑی مسلسل پہلے اور دوسرے گیئر میں چلی جا رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہم پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ گھنے بادلوں کی وجہ سے چند فٹ سے آگے نظر نہ آ رہا تھا۔ بل کھاتی ہوئی سڑک کا کنارہ بھی بمشکل دکھائی دے رہا تھا۔ اچانک ایکبڑا سا چشمہ نظر آیا جس میں سے ڈھیروں ڈھیر پانی بہہ کر نیچے کی طرف جا رہا تھا۔ یہاں دو تین سعودی فیملیاں اپنی GMC جیپ اور فورڈ کار پر آئے ہوئے تھے۔ انہیں پٹرول کا اچھا خاصا خرچ برداشت کرنا پڑا ہو گا مگر اتنی بڑی فیملی کو گاڑی پر لا کر انہوں نے ہوائی جہاز کا جو کرایہ بچایا ہو گا وہ پٹرول کے خرچ سے زیادہ ہی ہو گا۔

یہ لوگ بھی ہماری طرح ایڈونچر پسند تھے۔ چشمے میں سے کار گزارنا ایک مشکل کام تھا۔ انہوں نے اپنی کار وہیں کھڑی کی اور سب کے سب جیپ میں بیٹھ کر بلکہ زبردستی ٹھنس کر آگے روانہ ہو گئے۔ بادل اب ہلکی ہلکی پھوار کی صورت میں برس رہے تھے۔ کچھ دیر ہم یہیں رک کر موسم سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ میں چہرہ اوپر کر کے اس پر پڑنے والی پھوار سے لطف اندوز ہونے لگا۔

میں سوچنے لگا کہ یہ دنیا کتنی خوبصورت ہے۔ یہاں کس قدر خوبصورت اور دلفریب مقامات ہیں تاکہ انسان یہاں آ کر انجوائے کر سکیں۔ گھنے سبزے سے ڈھکے پہاڑ، ان کے درمیان تیزی سے بہتے آبشار، شور مچاتے دریا، پرسکون جھیلیں، برفیلی وادیاں یہ سب انسان کے اعصاب کو سکون دیتے ہیں۔ اسے اگر جنت ارضی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا مگر اس جنت ارضی میں دو خامیاں موجود ہیں۔

دنیا کی اس جنت میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس سے لطف اندوز ہونے کے لئے انسان کے پاس دولت ہونی چاہیے۔ جو لوگ پیسے سے محروم ہیں، اس جنت کی نعمتیں ان کے لئے نہیں ہیں۔ دوسری خامی یہ کہ امیر افراد کے لئے بھی دنیا کا یہ سارا لطف عارضی ہے۔ انسان کے پاس جتنی بھی دولت ہو ، ایک دن ایسا آتا ہے کہ اسے اس دنیا سے جانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد پھر اس کا مال و دولت پیچھے رہ جاتا ہے۔ ہر انسان کی یہ شدید خواہش ہے کہ اسے زندگی میں ایسی انجوائے منٹ ملے جو کبھی ختم نہ ہو مگر اس دنیا کا ہر مزہ ایک دن ختم ہو کر رہتا ہے۔

اللہ تعالی نے دنیا میں خوبصورت مقامات رکھ کر انسان کے اس شوق کو ہوا دی ہے کہ وہ اس سے ہزاروں گنا زیادہ پر لطف زندگی کو حاصل کر سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے ایسی جنت تیار کر رکھی ہے جس میں داخلے کے لئے پیسہ نہیں بلکہ نیک عمل شرط ہے۔ اس جنت میں داخلہ خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ہو گا۔ اس جنت میں جگہ، موجودہ دنیا کی طرح عارضی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر الاٹ کی جائے گی۔ اس جنت میں انسان کو وہ نعمتیں ملیں گی جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو گا۔ اس جنت میں ہر امیر و غریب اپنے عمل کی بنیاد پر داخل ہو سکتا ہے۔

اس مقام سے واپس آنے کو جی نہ چاہ رہا تھا مگر اب مسلسل پھوار سے کیچڑ پیدا ہو رہا تھا اور یہ خطرہ تھا کہ واپسی پر کہیں ہم پھسلتے ہوئے ایک گھنٹے کا سفر چند سیکنڈ میں طے نہ کر لیں۔ اب ہم پہلے گیئر میں واپس آ رہے تھے۔ پھوار کا پانی درختوں سے چھن کر گاڑی کی چھت پر گر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ ہم نیچے آ پہنچے۔ اب یوزن جھیل نظر آ رہی تھی اور ایک نہایت ہی خوبصورت منظر پیش کر رہی تھی۔ بلندی سے پانی کا نظارہ ایسا منظر ہے جو انسان کو مسحور کر دیتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے خالق کائنات سے جنت میں اونچے باغات اور نیچے بہنے والے دریاؤں اور نہروں کا ذکر کیا ہے۔

نیچے اتر کر ہم جھیل کنارے ایک ہوٹل میں آ بیٹھے۔ یہاں ایک بڑی آبشار پہاڑ سے گر رہی تھی۔ غالباً یہ وہی چشمہ تھا جسے ہم اوپر دیکھ کر آئے تھے۔آبشار کے گرنے سے فضا میں پانی کا ایک بادل سا تشکیل پا رہا تھا جو پھوار کی صورت میں چہرے پر نہایت ہی بھلا محسوس ہو رہا تھا۔ یہاں گرما گرم کافی پینے کے بعد ہم واپس اپنے ہوٹل گئے۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد دوبارہ نکلے۔

اب شام ہو رہی تھی اور بھوک بھی لگ رہی تھی۔ ایک جگہ ہمیں ایک صاحب پراٹھے تیار کرتے نظر آئے۔ترکی میں یہ پہلا موقع تھا جب ہمیں پراٹھے نظر آئے تھے چنانچہ ہم یہیں براجمان ہو گئے۔ یہ پنیر کے پراٹھے تھے۔ترکی کے ہوٹلوں میں یہ مسئلہ تھا کہ ویٹر اور مالک کے لباس میں کوئی خاص فرق ہم محسوس نہ کر سکے۔ ہر جگہ ویٹر بھی ایسے خوش لباس تھے کہ انہیں ٹپ دیتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ کہیں برا نہ مان جائیں۔ کھانا کھا کر ہم اب دوبارہ جھیل کے کنارے پر جا پہنچے۔ اب آہستہ آہستہ اندھیرا ہو رہا تھا۔ اس مقام سے میں نے جھیل کی ایک ہی زاویے سے متعدد تصاویر کھینچیں جن میں آہستہ آہستہ اندھیرا پھیل رہا تھا۔

یہاں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ بعض لوگ جھیل کے کنارے کوئلے جلا کر بار بی کیو کر رہے تھے۔ بعض یونہی چہل قدمی کر رہے تھے۔ بعض لوگ جھیل میں ڈوری ڈالے مچھلیاں پکڑنے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ طریقہ نہایت ہی ظالمانہ ہے۔ ایک کانٹے پر خوراک لگا کر اسے پانی میں ڈال دیا جاتا ہے۔ مچھلی اس خوراک کو کھانے کے لئے یہ کانٹا اپنے حلق میں پھنسوا بیٹھتی ہے اور پھر اسے کھینچ لیا جاتا ہے۔ذرا تصور کیجیے کہ ہمارے حلق میںاسی طرح کانٹا ڈال کر ہمیں گھسیٹا جائے تو شاید پھر اس تکلیف کا اندازہ ہو۔ایک مرتبہ مچھلی کا کانٹا میرے حلق میں پھنس گیا تھا، اس کی تکلیف مجھے آج بھی یاد ہے۔ ہمارے دین نے ہمیں جانوروں کے ساتھ بھی رحم دلی کا حکم دیا ہے۔ جانور کو ذبح کرنے کے لئے چھری کا تیز ہونا ضروری ہے تاکہ اسے کم سے کم تکلیف ہو۔ اسی طرح مچھلی کے شکار کے لئے جال کا طریقہ درست ہے۔

بادلوں میں سے یوزن گولو کا نظارہ

اس مقام پر بہت ہی قومیتوں کے لوگ موجود تھے۔ اللہ تعالی نے یہ دنیا فرق کے اصول پر بنائی ہے۔ یہاں ہر شخص دوسرے سے مختلف ہے۔ بعض فاشسٹ گروہوں میں انسانوں کے درمیان فرق کو مٹا کر ایک جیسے گھڑے گھڑائے انسان تیار کرنے کا تجربہ کیا گیا جو کہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ ہر انسان شکل و صورت، طرز فکر ، رنگ، زبان اور صلاحیت کے اعتبار سے دوسرے سے مختلف ہے۔ انسانوں کا یہی فرق ہے جس سے دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ اہل مغرب نے یہ سیکھ لیا ہے کہ مختلف طرز کے انسانوں میں مختلف صلاحیتوں کے حامل ہوا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے معاشرتی تنوع (Pluralism) کو انہوں نے بطور پالیسی اختیار کر لیا ہے۔یک رخے (Authoritarian) معاشرے بالعموم ناکام رہتے ہیں کیونکہ ان میں انسانوں کے فرق کو اہمیت نہیں دی جاتی۔

 

اگلا باب †††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

 

 

مصنف کی دیگر تحریریں

اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا سدباب/سفرنامہ ترکی/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں ††††/†† علوم الحدیث: ایک مطالعہ/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص ††/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟†† /مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت †††/Quranic Concept of Human Life Cycle ††††/Empirical Evidence of Godís Accountability