بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

آرٹون اور ٹورٹم آبشار

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 20MB)

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے بغیر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اگلی صبح اٹھ کر ہم پراٹھا ہوٹل پہنچے۔ آج یہاں آلو کے پراٹھے بھی دستیاب تھے۔ان میں ہماری طرح کے مصالحے تو نہ تھے مگر یہ پھر بھی غنیمت تھے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر ہم نے آگے چلنے کا ارادہ کیا۔ اب ہماری منزل آرٹون تھی۔ ترکی کے شمال مشرقی علاقوں سے متعلق بروشرز میں آرٹون سے متعلق بہت ہی خوبصورت تصاویر تھیں چنانچہ ہمارا ارادہ تھا کہ آرٹون میں بھی ایک دو دن جا کر رکا جائے۔

اب ہم یوزن جھیل سے دریا کے کنارے کنارے واپس "آف" کی طرف سفر کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں ہم آف جا پہنچے۔ یہاں سے اب ہم دوبارہ کوسٹل ہائی وے پر سفر کرنے لگے جو بلیک سی کے کنارے پر بنی ہوئی تھی۔ کچھ دور جا کر ایک ہمیں ایک عجیب چیز نظر آئی۔ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر ایکسر سائز مشینیں لگی ہوئی تھیں۔ جو لوگ اپنے جسم کو فٹ رکھنے کے شوقین ہوں وہ عین سمندر کے کنارے تازہ ہوا میں ورزش کر سکتے تھے۔ یہ ایک بہت اچھی سہولت تھی ورنہ ہمارے ہاں تو جم کی اچھی خاصی فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔ جگہ جگہ سڑک کے کنارے سیڑھیاں نیچے جا رہی تھیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگ نیچے بنی ہوئی سرنگ سے سڑک پار کر کے ساحل تک جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے بہت کم لوگوں کو سڑک پار کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

راستے میں ماریہ نے آئس کریم کی فرمائش کر دی۔ میں نے ایک دکان پر گاڑی روکی۔ اس قصبے کا نام "ارھاوی" تھا۔ یہاں والز آئس کریم کا نام "ال جیڈا" تھا۔ جب میں یونی لیور کے آئس کریم ڈویژن میں کام کرتا تھا تو ہمارے سامنے ترکی میں کمپنی کے آئس کریم بزنس کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ یہی حقیقت تھی کہ ترکی کے ہر ہر اسٹور پر ال جیڈا کا فریزر رکھا ہوا تھا اور ا س میں آئس کریم بھری ہوئی تھی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ یہاں کوکا کولا کا بھی تھا۔ پیپسی کہیں دور دور تک نظر نہ آ رہی تھی۔

ارھاوی سے آگے چلے تو پھر سرنگوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان میں سے ایک سرنگ بہت قدیم تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ اب گری کہ اب گری۔ سرنگ کی چھت سے باقاعدہ پانی ٹپک رہا تھا۔ جلدی جلدی اس سرنگ سے نکلے۔ اب ہم "رزے" شہر پہنچ رہے تھے جو کہ صوبائی صدر مقام تھا۔

چونکہ اب ہم کافی سفر طے کر چکے تھے۔ مناسب یہ تھا کہ گاڑی کا آئل چینج کروا لیا جائے۔ شیل کا ایک سروس اسٹیشن دیکھ کر میں نے گاڑی یہاں روک دی۔ سروس اسٹیشن کے ملازمین کو بات سمجھانا ایک مشکل کام ثابت ہوا۔ انہوں نے مسئلے کا حل یہ کیا کہ اندر سے اپنے منیجر کو بلا لائے۔ یہ صاحب نہایت ہی صاف انگریزی بول رہے تھے۔ ایسی اچھی انگریزی ترکی میں کم ہی سننے میں ملی تھی۔ ان سے معلوم ہوا کہ موصوف اسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ویسے استنبول میں رہتے تھے مگر یہاں ایک ہوٹل کی تعمیر کے سلسلے میں موجود تھے۔کہنے لگے کہ ہمارے پاس آئل چینج کا سلسلہ تو نہیں ہے البتہ آپ کی گاڑی میں آئل کم ہے۔ اسے پورا کر دیتے ہیں۔ بعد میں آپ آئل چینج کروا لیجیے گا۔

یاجوج ماجوج کے دیس میں

رزے کے بعد اگلا شہر "ہوپا"آیا۔ یہ ترکی کا آخری بڑا شہر تھا۔ اس کے بعد جارجیا کی سرحد تھی۔ جارجیا کا دارلحکومت تبلیسی یہاں سے دو تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔1990ء تک یہ علاقہ سوویت یونین میں شامل تھا مگر جب اس کے ٹکڑے ہوئے تو جارجیا نے بھی دوسری بہت سی ریاستوں کی طرح آزادی کا اعلان کر دیا۔

اب ہم یاجوج ماجوج کی سرزمین میں داخل ہو رہے تھے۔ بائبل کی کتاب پیدائش کے مطابق سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد انسانی نسل ان کے تین بیٹوں سام، حام اور یافث سے چلی تھی۔ سام نے رہائش کے لئے دجلہ و فرات کی وادی کا انتخاب کیا جو "میسو پوٹیمیا" کہلاتی ہے۔ حام نے اپنی اولاد سمیت دریائے نیل کی وادی میں رہائش اختیار کی۔ یافث کو بحیرہ کیسپین اور بحیرہ اسود کے درمیان کا علاقہ پسند آیا، چنانچہ انہوں نے اپنی اولاد کو یہاں آباد کر دیا۔ اس وقت ہم اسی علاقے سے گزر رہے تھے۔

یافث کی اولاد میں سے ماجوج (Magog) نام کے ایک بزرگ گزرے ہیں۔ ان کی نسل میں "یاجوج "یا "جوج "(Gog)نام کا بادشاہ گزرا ہے۔ اس وجہ سے ماجوج کی پوری نسل یاجوج و ماجوج کہلائی۔ سام و حام کی نسلوں نے بڑی بڑی تہذیبیں قائم کیں مگر یاجوج ماجوج زیادہ تر خانہ بدوش رہے۔ ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا جس کی وجہ سے یہ اپنے اصل وطن سے شمال، مشرق اور مغرب کی طر ف نکل کھڑے ہوئے۔ شمال میں انہوں نے روس کو اپنا مسکن بنایا۔ مشرق میں انہوں نے چین اور ہندوستان پر اپنا اقتدار قائم کیا اور مغرب میں یورپ کی سرزمین پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد معلوم تاریخ میں امریکہ اور آسٹریلیا پر بھی ان ہی کی حکومت قائم ہوئی۔ سام اور یافث کی نسلوں میں کئی مرتبہ زمین کے حصول کے لئے جنگ ہوئی۔ ایسی ہی ایک جنگ کی تفصیل بائبل کی کتاب "حزقی ایل" میں ملتی ہے۔

دنیا کا اقتدار سب سے پہلے حام کی نسلوں کو سپرد ہوا اور مصر میں انہوں نے عظیم الشان تہذیب قائم کی۔ اس زمانے میں حام کی افریقی نسلیں سپر پاور کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اس کے بعد سام کی نسلوں کی باری آئی۔ سام کی نسل کے ایک بطل جلیل سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کی دو شاخوں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کو باری باری زمین کا اقتدار نصیب ہوا۔ اس کی تفصیل آپ میرے سابقہ سفرنامے "قرآن اور بائبل کے دیس میں" پڑھ سکتے ہیں۔

قرآن مجید اور بائبل میں قیامت کی یہ نشانی بیان ہوئی ہے کہ اس سے پہلے روئے زمین پر یاجوج و ماجوج کا اقتدار قائم ہو جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ان کے پہلے گروہ نے منگولیا سے اٹھ کر تاتاریوں کی شکل میں عالم اسلام پر یلغار کی۔ کچھ عرصے بعد یہ گروہ تو مسلمان ہو گیا۔ اس کے بعد یاجوج و ماجوج کے دوسرے گروہ نے یورپی استعمار کی صورت میں ایشیا اور افریقہ پر پھر یلغار کی۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ دور میں بھی دنیا کی تمام بڑی طاقتیں یعنی امریکہ، روس اور چین کا بڑا حصہ یاجوج ماجوج ہی پر مشتمل ہیں۔ یافث کی ماجوج کےعلاوہ اور اولاد بھی ہو گی مگر غالب اکثریت کے اصول پر یافث کی پوری نسل ہی کو یاجوج و ماجوج کے نام سے مذہبی صحیفوں میں بیان کیا گیا ہے۔

بعض صحیح احادیث میں ایک دیوار کا ذکر آیا ہےجس کے پیچھے یاجوج و ماجوج قید ہیں اور روزانہ اسے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور مستقبل میں ایک دن وہ اس میں کامیاب ہو جائیں گے۔ان احادیث پر جدید دور میں یہ سوال کیا گیا ہے کہ آج کل تو روئے زمین کا چپہ چپہ سیٹلائٹ کی مدد سے چھانا جا چکا ہے۔ ایسی کوئی دیوار نہیں ملی جس کے پیچھے کوئی اتنی بڑی قوم آباد ہو۔

یہ سوال دراصل ایک غلط فہمی کی بنیاد پر پیدا ہوتا ہےجو کہ اس دیوار کو حقیقی معنی میں لینے سے پیدا ہوئی۔ اصل میں یہاں دیوار کو تمثیل کے اسلوب میں بیان کیا گیا تھا اور اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ اللہ تعالی نے انہیں گویا پہاڑوں کے اندر قید کر کے سام اور حام کی نسلوں کو ان سے محفوظ کر رکھا ہے۔ قرب قیامت میں یہ لوگ آزاد ہو کر روئے زمین پر قابض ہو جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حافظ ابن کثیر نے بھی سورۃ کہف کی تفسیر میں اس روایت پر تنقید کرتے ہوئے یہ توجیہ پیش کی ہے کہ یہ روایت دراصل اسرائیلی روایت ہے جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب الاحبار علیہ الرحمۃ سے سنی ہو گی لیکن کسی راوی نے غلطی سے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا۔

اب یاجوج و ماجوج کو کسی دیوار کے پیچھے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکیوں، روسیوں، یورپیوں اور چینیوں کی صورت میں یہ اس وقت زمین کے اطراف میں موجود ہیں۔قرآن مجید اور بائبل کی یہ پیش گوئی پوری ہو چکی ہے۔ اب ہمیں قیامت کا انتظار کرنا چاہیے اور اپنے قول و فعل کے اعتبار سے اس کی تیاری کرنی چاہیے۔

ذوالقرنین

قرآن مجید میں جناب ذوالقرنین کا ذکر آیا ہے۔ یہ ایک صاحب ایمان بادشاہ تھے جنہوں نے اپنی سلطنت کو عدل و انصاف سے بھر دیا تھا۔ان کا ایک سفر بھی بحیرہ کیسپین اور بلیک سی کے درمیان ہوا تھا جس کے اشارات قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں۔ سورہ کہف میں ہے:

پھر (ذوالقرنین نے ایک اور مہم کا) سامان تیار کیا۔ یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے تو انہیں ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل سے ہی کوئی بات سمجھتی تھی۔ ان لوگوں نے کہا: "اے ذو القرنین! یاجوج اور ماجوج اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ تو کیا ہم آپ کو کوئی ٹیکس اس مد میں ادا کریں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار تعمیر کر دیں۔ "

انہوں نے کہا: "جو کچھ میرے رب نے مجھے دے رکھا ہے ، وہ کافی ہے۔ تم بس محنت سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان دیوار تعمیر کر دیتا ہوں۔ مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو۔" جب انہوں نے پہاڑوں کے درمیانی درے کو بند کر دیا تو لوگوں سے کہا: "تم آگ دہکاؤ۔ جب یہ (آہنی دیوار) آگ کی طرح سرخ ہو گئی تو انہوں نے کہا: "لاؤ، اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا۔"

یہ دیوار ایسی تھی کہ یاجوج و ماجوج اس پر چڑھ کر نہ آ سکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لئے اور بھی مشکل تھا۔ (ذو القرنین نے) کہا: "یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوند خاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ (کہف 18:91-98 )

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ ذو القرنین کی سلطنت کے شمالی علاقے میں آباد اقوام پر اس دور میں بھی یاجوج و ماجوج حملے کیا کرتے تھے۔بعض لوگوں نے آپ کی بنائی ہوئی دیوار کو اوپر بیان کردہ حدیث میں مذکور دیوار قرار دیا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔جناب ذو القرنین کی بنائی ہوئی دیوار ساتویں صدی عیسوی تک قفقاز کے شہروں دربند اور دریال کے بیچ میں واقع تھی۔دربند اب بھی داغستان کا ایک شہر ہے جو بحیرہ کیسپین واقع ہے جبکہ دریال پہاڑی سلسلہ ہے جو جارجیا اور روس کی سرحد پر واقع ہے۔ اسی سلسلے میں کہیں وہ دیوار رہی ہو گی۔ یاقوت حموی نے اس کا ذکر اپنی کتاب "معجم البلدان" میں کیا ہے۔بہرحال اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔

دریائے چوروح

اگر ہم سمندر کے ساتھ ساتھ سفر کرتے تو جارجیا میں داخل ہو جاتے مگر ہوپا سے ہمیں بلیک سی کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہنا تھا۔ یہاں پہنچ کر ہم نے اس سمندر کا آخری نظارہ کیا اور گاڑی سمندر سے ہٹ کر اندر کی طرف ڈال لی۔ یہ علاقہ بھی باقی بلیک سی ریجن کی طرح سرسبز پہاڑوں پر مشتمل تھا۔

اب ہم ایک چھوٹے سے دریا کے ساتھ ساتھ سفر کر رہے تھے جسے نالہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ یہاں کی سڑک میں بل بہت زیادہ تھے جس کی وجہ سے گاڑی کو زیادہ اسپیڈ پر بھگانا مشکل ہو رہا تھا۔ ایک مقام پر قدیم دور کا پتھر کا ایک محرابی پل بنا ہوا تھا۔ ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد ہم "بورچکا" جا پہنچے۔ یہاں کچھ ایسا ہی منظر تھا جیسا کہ ہمارے ہاں تھاکوٹ کے قریب شاہراہ قراقرم کا منظر ہوتا ہے جب یہ سڑک دریائے سندھ پر آ نکلتی ہے۔ بس فرق یہ تھا کہ ہم دریائے سندھ کی بجائے دریائے چوروح پر پہنچ رہے تھے۔

دریائے چوروح ترکی کے بڑے دریاؤں میں سے ایک ہے۔ یہ دریا ترکی کے شمال مشرقی ریجن کے پہاڑوں سے نکلتا ہےاور اپنے ساتھ بہت سے چھوٹے دریاؤں کو ملاتا ہوا جارجیا میں داخل ہوتا ہے جہاں کچھ سفر طے کرنے کے بعد یہ بلیک سی میں جا گرتا ہے۔بورچکا پر ایک بڑا ڈیم بنا ہوا تھا جس کی جھیل کئی کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھی۔ ڈیم سے پہلے ہم نے دریا کا پل پار کیا اور دوسری جانب پہنچ گئے۔ اب سڑک بل کھاتی ہوئی اوپر کی طرف جا رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں ہم پہاڑ کے اوپر جا پہنچے۔ یہاں سے جھیل کا نظارہ قابل دید تھا۔

اب ہماری منزل "آرٹوِن" تھی جو یہاں سے محض 25 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ ڈیم کی وجہ سے دریا جھیل کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ یہ جھیل آرٹون تک ہمارے ہمراہ رہی۔ آرٹون کے بارے میں بروشرز میں بڑے بلنگ و بانگ دعوے کئے گئے تھے۔ اس وجہ سے ہمارے ذہن میں یوزن جھیل جیسا تصور موجود تھا مگر جیسے ہی ہم یہاں پہنچے، ہمارے خوابوں کا تاج محل چکنا چور ہو گیا۔ یہ خشک پتھریلے پہاڑوں کےدرمیان واقع ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جس میں کہیں کہیں سبزہ نظر آ رہا تھا۔ دریائے چوروح کا رنگ بھی مٹیالا تھا جس کی وجہ سے اس کا حسن بھی ماند پڑ گیا تھا۔

شہر کے بیچ میں ایک نہایت ہی شاندار آبشار موجود تھی جس میں سے بے پناہ پانی نیچے گر رہا تھا۔ میری اہلیہ کہنے لگیں، "یہ آبشار قدرتی نہیں لگ رہی۔ " میرا خیال تھا کہ یہ قدرتی ہے۔ ہم کچھ دیر آبشار کے نیچے بیٹھ کر اس کا نظارہ کرنے لگے۔ہمارے اختلاف کا تھوڑی دیر ہی میں فیصلہ اس طرح ہوا کہ اچانک بجلی چلی گئی اور یہ قدرتی نظر آنے والی آبشار خود بخود بند ہو گئی۔ یہاں ایک دکان سے ہم نے کھانے پینے کی کچھ اشیاء خریدیں۔ میں نے اپنے لئے پھل لیا جس میں ترکی کی مشہور زمانہ خوبانیاں شامل تھیں۔ یہ سائز میں ہماری خوبانیوں سے دوگنا اور نہایت ہی رسیلی تھیں۔

دریائے چوروح پر بورچکا ڈیم

دکاندار نے مجھے ایرانی سمجھ کر خواہ مخواہ فارسی میں منہ ماری کرنا چاہی۔ جب میں نے اپنا تعارف کروایا تو وہ صاحب بڑے افسردہ ہوئے۔ کہنے لگے، "پاکستان کے حالات بہت خراب ہیں۔" اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا میڈیا بھی پاکستان کے حالات کو خاصی کوریج دیتا ہے کہ ایک دور دراز دیہاتی علاقے میں رہنے والوں کو بھی پاکستان کے حالات کا علم ہے۔

آرٹون کی متوقع خوبصورتی کے باعث ہمارا ارادہ تھا کہ یہاں بھی ایک دو دن رکیں گے مگر اس شہر کے امپریشن نے ہمارے خواب چکنا چور کر دیے تھے چنانچہ ہم نے فیصلہ کیا کہ آگے چل کر کہیں رکا جائے۔ اب ہم دریائے چوروح کے ساتھ ساتھ سفر کرنے لگے۔ کچھ دور جا کر ایک عجیب منظر ہماری نگاہوں کے سامنے آ گیا۔ دریا کے دونوں طرف پہاڑوں کو کھود کر انہیں ایک پیالے کی شکل دی گئی تھی۔ درمیان میں دریا بھی کہیں کہیں چٹانوں کے اندر غائب ہو رہا تھا۔ میرا اندازہ ہے کہ یہاں ماہرین نے دریا کو سرنگوں میں سے گزار کر بجلی پیدا کرنے کا اہتمام کیا ہوا تھا۔

پہاڑ کی چوٹی سے آرٹون کا نظارہ

دریائے چوروح

کچھ دور جا کر سبزہ غائب ہو گیا۔ اب ہم چٹیل پتھریلے پہاڑوں کے بیچ میں سفر کر رہے تھے اور دریائے چوروح ہمارے ہمراہ تھا۔ اس پہاڑی سلسلے کو "کچکار" کہا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ پہاڑ خوفناک ہوتے جا رہے تھے۔ ہم اب ایک تنگ و تاریک درے میں داخل ہو چکے تھے۔ بعض مقامات پر تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پہاڑ جیسے سر پر آ گرے گا۔ محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں جگہ جگہ پہاڑ سڑک پر آ گرا تھا۔ ایک مقام پر تو باقاعدہ گاڑیاں لائن میں رکی ہوئی تھیں ۔ اتر کر اگلی گاڑی سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہاں ابھی تازہ تازہ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور ہائی وے ڈیپارٹمنٹ نے گاڑیوں کو روکا ہوا ہے۔ ہم نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ عین ہمارے گزرنے کے وقت سلائیڈنگ نہیں ہوئی۔ کچھ دیر کے بعدسڑک صاف ہوئی تو یہاں سے روانگی ہوئی۔

کافی فاصلہ طے کرنے کے بعد ہم ایک دو راہے پر جا پہنچے۔ یہاں سے ایک سڑک قریب ہی واقع قصبے "یوسف علی" کی طرف جا رہی تھی۔ یہ مقام "دریائی رافٹنگ" کے لئے مشہور ہے۔ رافٹنگ ایسا کھیل ہے جس میں ربڑ کی کشتیوں پر بیٹھ کر تیزی سے بہتے ہوئے پہاڑی دریا میں کشتی رانی کا شوق پورا کیا جاتا ہے۔میرا بھی ارادہ تھا کہ اس کھیل کا تجربہ کر کے دیکھا جائے مگر اس وقت یہاں ایسے کوئی آثار نہ تھے۔ سنا ہے کہ ہمارے ہاں بھی شمالی علاقوں میں فوجی جوان یہ کھیل کھیلتے ہیں مگر عوام میں یہ کھیل مقبول نہیں ہے۔

یوسف علی کے قریب ایک سروس اسٹیشن پر نماز ادا کرنے کے بعد سے ہم نے اگلے شہر "ارض روم" کی طرف رخ کیا۔ یہاں سے دریا کی دو شاخیں ہو رہی تھیں۔ ایک تو یوسف علی کی جانب سے آ رہی تھی اور دوسری ارض روم کی طرف سے۔ تھوڑی دور جا کر ہمیں "ٹورٹم آبشار" کا بورڈ نظر آیا چنانچہ میں نے اسی طرف گاڑی موڑ لی۔

ٹورٹم آبشار

پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر کے ہم آگے بڑھے۔ اس مقام پر لگے ایک تعارفی بورڈمیں ٹورٹم کو ترکی کا سب سے قیمتی قدرتی خزانہ قرار دیا گیا تھا۔ یہاں ایک وسیع وادی تھی جس میں دریائے چوروح ایک پرسکون ندی کی طرح بہہ رہا تھا۔ اچانک دریا کے راستے میں کئی سو فٹ گہری کھائی آ جاتی ہے اور دریا اس کے اوپر سے ایک بہت بڑی آبشار کی صورت میں نیچے گرتا ہے۔ اسی کا نام ٹورٹم آبشار تھا۔

آبشار کے دونوں جانب نیچے جانے کے لئے سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں ۔ ان سیڑھیوں کی تعداد کم از کم 200تو ہو گی۔یہ آبشار واقعتاً ترکی کا سب سے قیمتی قدرتی خزانہ تھی۔ یہاں پانی چار حصوں میں تقسیم ہو کر نیچے گر رہا تھا۔ درمیان کے دو حصوں میں پانی زیادہ تھا جبکہ کناروں پر پانی کم تھا۔

ٹورٹم آبشار

ٹورٹم جھیل (بشکریہ www.panoramio.com )

ہم ایک طرف کی سیڑھیوں سے نیچے اترنا شروع ہوئے۔ سیڑھیاں اتر کر نیچے پہنچے تو آبشار کا ایک مختلف زاویے سے جائزہ لیا۔ بالکل نیچے پہنچ کر آبشار ایک بڑے سے تالاب میں گر رہی تھی۔ اس تالاب سے پانی چھلک کا دوبارہ ندی کی صورت اختیار کر رہا تھا۔ یہی ندی آگے جا کر دریائے چوروح میں مل رہی تھی۔

یہاں بعض ترک پتھروں پر قدم رکھتے ہوئے آبشار کے قریب جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم نے اس کوشش سے پرہیز کیا کیونکہ پانی کی وجہ سے پتھر کافی چکنے ہو رہے تھے اور ذرا سی غلطی سے ہم تیز بہتی ہوئی ندی میں گر سکتے تھے۔ آبشار سے اڑنے والی پانی کی پھوار دور تک پھیل رہی تھی۔

کچھ دیر یہاں گزار کر ہم نے واپسی کے لئے دوسری جانب کی سیڑھیوں کا انتخاب کیا۔ اوپر پہنچے تو صورتحال مختلف ہو چکی تھی۔ اب ہم ندی کے دوسری جانب تھے۔ یہاں ندی پرسکون تھی۔ یہی ندی آہستہ آہستہ پہاڑی کے کنارے کی طرف جا رہی تھیجہاں سے یہ یک دم پوری قوت سے آبشار کی صورت میں نیچے گر رہی تھی۔ اس مقام پر ندی کو پار کرنے کے لئے پتھررکھ کر راستہ بنایا گیا تھا جس پر سے گزر کر ہم واپس پارکنگ میں پہنچ گئے۔ یہاں کچھ ریستوران بنے ہوئے تھے۔ اب شام ہو رہی تھی لہذا ہم نے فیصلہ کیا کہ جلد از جلد ارض روم کی طرف روانہ ہوا جائے تاکہ دن کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا سکے۔

کچھ دور جا کر ہم ایک بہت بڑی جھیل پر پہنچ گئے۔ یہ ٹورٹم جھیل تھی۔ سنہرے پہاڑوں کے درمیان اس جھیل کا نیلا پانی خوب منظر پیش کر رہا تھا۔ جھیل کافی بڑی تھی اور سڑک اس کے کنارے پر چل رہی تھی۔ کچھ دیر بعد مغرب ہو گئی اور اندھیرا پھیلنے لگا۔ سڑک اب کافی چوڑی ہو چکی تھی۔ یہاں سنگل سڑک کے بیچ میں ایک لین بنا دی گئی تھی جو کہ اوور ٹیکنگ کے لئے استعمال ہو سکتی تھی۔ اب ہم "ارض روم" کے قریب ہوتے چلے جا رہے تھے۔

 

اگلا باب †††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

 

 

مصنف کی دیگر تحریریں

اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا سدباب/سفرنامہ ترکی/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں ††††/†† علوم الحدیث: ایک مطالعہ/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص ††/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟†† /مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت †††/Quranic Concept of Human Life Cycle ††††/Empirical Evidence of Godís Accountability