بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

ارض روم، ڈوغو بایزید اور کوہ ارارات

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 20MB)

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے بغیر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ارض روم پہنچے تو یہ ایک عجیب شہر خموشاں کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ابھی عشاء کی اذان ہو رہی تھی اور پورا شہر بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔خدا کا شکر ہے کہ ہمیں ہوٹل ڈھونڈنا نہیں پڑا۔ جلد ہی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل نظر آیا جس کے نیچے ریستوران بھی بنا ہوا تھا۔ ہوٹل میں داخل ہوئے تو ریسپشن پر مامور صاحب نماز پڑھ رہے تھے۔ ہمیں بھوک لگ رہی تھی۔ نیچے موجود ریستوران میں داخل ہوئے تو ماحول کچھ ایرانی سا لگا۔ اس سے پہلے اہل ترکی مجھے "پاشا" کہہ کر پکار رہے تھے، ایران سے قربت کے باعث یہاں انہوں نے مجھے "آغا" قرار دیا۔

ہوٹل کے کاؤنٹر پر ایک باریش ترک بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ ہمارا خیر مقدم کیا۔ اب کھانے کے انتخاب کا مسئلہ تھا۔ سامنے تھال میں کھانے سجے ہوئے تھے۔ سوچ سمجھ کر سبزی گوشت کا انتخاب کیا جو کہ درست ثابت ہوا۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ ہمارے ہی کھانوں کی ابتدائی شکل ہو جس سے ارتقاء کرتے کرتے موجودہ پاکستانی سالن وجود میں آیا ہو۔ کھانے سے فارغ ہو کر میں ہوٹل میں کمرہ لینے کے لئے گیا۔ ریسپشن پر موجود صاحب کی نماز ابھی جاری تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کمرہ دکھایا جہاں ہمیں رات گزارنا تھی۔

ارض روم مشرقی ترکی کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ بھی ایک قدیم شہر ہے جس کی تاریخ 4000 قبل مسیح تک جاتی ہے۔ شہر کے نام کی وجہ یہ ہے کہ جب مسلم حکومتوں نے مشرقی اناطولیہ کا علاقہ فتح کیا تو ان کی سرحدیں اس شہر پر آ کر رک گئیں۔ اس زمانے میں یہ رومی سلطنت کا آخری شہر ہوا کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عربی اور فارسی میں اسے "ارض روم" یعنیروم کی سرزمین کا نام دے دیا گیا۔اپنی سرحدی لوکیشن کی وجہ سے یہ شہر تاریخ میں ہمیشہ جنگوں کا مرکز بنا رہا ہے۔ ابن بطوطہ کے دور میں یہاں سلجوقیوں اور تاتاریوں کے درمیان جنگ کے نتیجے میں یہ شہر تباہ ہو گیا تھا۔ اپنے سفر نامے میں موصوف لکھتے ہیں:

ہم مڑ کر ارزو روم (ارض روم) شہر پہنچے۔ یہ عراق کے شہروں میں سے ایک شہر ہے جس کا رقبہ بہت زیادہ ہے۔ اس کا اکثر حصہ اس فتنہ کے باعث تباہ ہو چکا تھا جو کہ ترکمان کے دو گروہوں کے مابین واقع ہوا۔ اس میں سے تین دریا گزرتے ہیں۔ اس کے اکثر حصے پر باغات پھیلے ہوئے ہیں۔

ترکی کے باقی حصوں کی طرح ارض روم میں بھی صبح بہت جلد ہو گئی۔ ناشتے کے طور پر ایک بیکری سے پنیر کے پیٹز لئے ۔ میں چونکہ دوپہر کے کھانے میں صرف پھل کھاتا ہوں، اس لئے ایک پھلوں کی دکان سے ڈھیر سارے انگور ، خوبانیاں اور آڑو بھی خریدے۔ اب میرے پاس ترکش لیرا ختم ہو رہے تھے۔ ایک بینک ڈھونڈ کر یہاں سے لیرا حاصل کرنے کے بعد ہم شہر سے نکلنے کو تیار ہو گئے۔

فتح اللہ گولان

ارض روم کی مشہور شخصیات میں محمد فتح اللہ گولان شامل ہیں۔آپ ایک مذہبی سکالر ،مفکر ،ممتازایل قلم اورشاعر ہیں ۔ گولان نے جدید معاشرتی اورطبعی علوم کے اصول وضوابط اورنظریات کا بھی عمیق مطالعہ کیا۔ انہوں نے ترکی میں ایک اسلام پسند تعلیمی تحریک کی بنیاد رکھی۔

محمد فتح اللہ گولان نے اپنے خطبات اورتحریروں میں اکیسویں صدی کا ایسا تصور پیش کیاہے جس میں ہم ایک ایسی ہمہ پہلو روحانی تبدیلی کا مشاہدہ کریں گے جو خوابیدہ اخلاقی اقدار میں ایک نئی روح پھونکے گی ۔یہ برداشت ،فہم و فراست اور بین الاقوامی تعاون کا دور ہوگا۔جوکہ تہذیبوں کے درمیان مکالمہ اورمشترکہ اقدار کی بناپر ایک مشترک معاشرتی تہذیب کی طرف راہنمائی کرے گا۔تعلیم کے میدان میں انہوں نے بہت سے فلاحی ادارے بنانے میں سرپرستی کی ہے ۔جن کا مقصد نہ صرف ترکی کے اندر بلکہ ترکی کےباہر بھی رفاہ عامہ کے لیے کام کرنا ہے ۔انہوں نے عوام کو انفرادی اوراجتماعی طور پر اہم مسائل سے آگاہی کے لیے میڈیا خاص طور پر ٹیلی ویژن کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔

گولان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عوام کے لیے انصاف کا حصول، معقول اورمناسب تعلیم پر منحصر ہے۔صرف اسی صور ت میں دوسروں کے حقوق کی حفاظت اوراحترام کامناسب فہم اور بردباری کا جذبہ پیداہوگا۔اس مقصد کے لیے انہوں نے سالہاسال سے معاشرے کے سرکردہ افراد اورراہنماؤں ،مضبوط صنعت کاروں اورچھوٹے کاروباری لوگوں کو اس بات پر ابھاراکہ وہ تعلیمی معیار بڑھانے میں امدا دکریں ۔ان ذرائع سے حاصل ہونے والے عطیات سے تعلیمی رفاہی ادارے اس قابل ہوئے کہ وہ ترکی میںاورترکی سے باہر بہت سے سکول قائم کریں۔

گولان کے مطابق جدید دنیا میں آپ ترغیب سے ہی دوسروں کو اپنے خیالات ماننے کے لیے قائل کرسکتے ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ جو لوگ اپنے خیالات زبردستی دوسروں پر ٹھونسنا چاہتے ہیں وہ عقلی طور پر دیوالیہ ہیں ۔لوگ ہمیشہ اپنے معاملات میں طریقہ کار کے انتخاب اوراپنی مذہبی وروحانی اقدار کے اظہارکے لیے آزادی چاہیں گے ۔وہ بیان کرتے ہیں کہ جمہوریت اپنے تمام تر نقائص کے باوجود اب واحد پائیدار سیاسی نظام ہے اور لوگوں کوچاہیے کہ وہ جمہوری اداروں کو جدید اور مستحکم بنانے کی کوششیں کریں ۔تاکہ ایک ایسا معاشرہ قائم کیاجاسکے جس میں انفرادی حقوق اورآزادی نہ صرف محفوظ ہوں بلکہ ان کا احترام کیاجاتاہو۔جہاں سب کے لیے مساوی مواقع ایک خواب کی طرح نہ ہوں۔

ان کی کئی تحریروں کا ترجمہ جرمن ،روسی ،البانوی ،جاپانی ،انڈونیشیائی ، ہسپانوی اور اردو زبانوں میں بھی ہوچکاہے ۔ گولان کی تحریروں کو ان کی ویب سائٹ www.fgulen.com پر دیکھا جا سکتا ہے۔

آئل چینج کا مسئلہ

طویل سفر کے بعد آئل چینج کرنا بہت ضروری ہو گیا تھا۔ میں نے ایک سروس اسٹیشن پر گاڑی روکی اور بونٹ اٹھا کر وہاں موجود اسٹاف کو آئل چینج کرنے کے لئے کہا۔ یہ صاحب برٹش پٹرولیم کے تیل کی بوتل اٹھا لائے اور انجن میں موجود تیل نکالے بغیر اسے گاڑی میں ڈالنے لگے۔ میں نے مداخلت کی اور پہلے پرانا تیل نکالنے کے لئے کہا لیکن ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آ سکی۔ یہ اپنے ایک دوست کو بلا لائے جو کچھ کچھ انگریزی جانتے تھے۔ انہیں بمشکل بات سمجھائی اورانہوں نے بمشکل دوسرے کو یہی بات سمجھائی۔ کہنے لگے، ہمارے پاس نیچے سے نٹ کھولنے کا سامان نہیں ہے۔دوسرے اسٹیشن پر گئے تو وہاں بھی یہی مسئلہ سامنے آیا۔

مجھے یاد آیا کہ رات شہر میں داخل ہوتے وقت راستے میں ایک جگہ بہت سی ورکشاپس دیکھی تھیں۔ اب ہم وہاں کی طرف روانہ ہوئے۔ ایک مکینک کو آئل چینج کا کہا تو انہوں نے ایگزان موبل، شیل، کالٹیکس اور برٹش پٹرولیم کے تیل کے ڈبے سامنے رکھ دیے اور پوچھا: "کون سا۔" میں نے ایک کا انتخاب کیا۔ یہ صاحب بھی اسی طرح بغیر پرانا تیل نکالے انجن کا ڈھکنا کھولنے لگے۔ اب میں نے تقریباً رقص کرتے ہوئے اشاروں سے بات انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ خدا کا شکر ہے کہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی۔ انہوں نے ساتھ والی ورکشاپ پر آنے کو کہا۔ یہاں زمین میں باقاعدہ خندق کھدی ہوئی تھی۔ ان صاحب نے نیچے اتر کر نٹ کھولا اور پرانا تیل نکالا۔ اس کے بعد نیا تیل ڈال کر فلٹر تبدیل کیا۔ مجھے ان کی صفائی پر حیرت ہو رہی تھی۔ ہمارے مکینک حضرات تو رات کو گھر جاتے ہوئے ہی ہاتھ دھوتے ہیں جبکہ یہ صاحب ہر دو منٹ بعد مخصوص لیکوڈ ہاتھوں پر مل کر ہاتھ دھو رہے تھے۔ اب ہم "ڈوغو بایزید" جانے کے لئے تیار تھے۔

روم و ایران کی جنگ

اب ہم ارض روم سے ایران جانے والی سڑک پر رواں دواں تھے۔ قدیم دور میں یہ پورا علاقہ "آرمینیا" کہلاتا تھا جس میں موجودہ ترکی کا تقریباً پورا مشرقی علاقہ شامل تھا۔ موجودہ دور میں آرمینیا ایک الگ ملک ہے جو اسی علاقے میں ترکی کے مشرق میں واقع ہے۔آرمینیا پر بھی 1991ء تک روس نے قبضہ جمایا ہوا تھا۔ آرمینیا سے پرے آذر بائیجان کا علاقہ ہے جس کا کچھ حصہ ایران کے صوبے آذر بائیجان میں شامل ہے اور بقیہ حصہ ایک علیحدہ ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔

عہد رسالت میں آرمینیا کا علاقہ روم اور ایران کی سپر پاورز کے درمیان سرحدی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کا کچھ حصہ ایران اور باقی حصہ روم کے زیر اثر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکی زندگی کے زمانے میں روم اور ایران کے مابین اس علاقے میں شدید جنگ ہوئی ۔ ایرانیوں نے ان جنگوں کو مجوسیت اور مسیحیت کے درمیان جنگ کا نام دیا۔ عیسائیوں کے جن فرقوں کو کلیسا نے بدعتی قرار دیا تھا، وہ اور یہودی اس جنگ میں ایرانیوں کے ساتھ تھے۔ شروع میں ایران کی افواج غالب آئیں۔مکہ کے مشرکین کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ تھیں کیونکہ یہ ان کے مشرک بھائی تھے جبکہ مسلمانوں کی ہمدردیاں عیسائیوں کے ساتھ تھیں کیونکہ یہ بہرحال توحید، نبوت اور آخرت پر ایمان رکھتے تھے۔ اسی دوران سورہ روم نازل ہوئی۔

الْم. غُلِبَتْ الرُّومُ. فِي أَدْنَى الأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ. فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ. بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہو گئے ہیں اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال میں وہ غالب ہو جائیں گے۔ اللہ ہی کا اختیار ہے ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن وہ ہو گا جب اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر اہل ایمان خوشیاں منائیں گے۔ اللہ جس کی چاہے مدد فرماتا ہے اور وہ زبردست اور مہربان ہے۔ (روم 30:1-5 )

جب یہ آیات نازل ہوئیں تو مشرکین مکہ نے مسلمانوں کا خوب مذاق اڑایا کہ تمہارے خدا نے یہ کیا بات کر دی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایرانی افواج، رومیوں کو مارتے ہوئے تقریباً پورا اناطولیہ فتح کر چکی تھیں اور استنبول فتح کرنے کے قریب تھیں۔ جنوب میں انہوں نے پورا شام، فلسطین اور مصر فتح کر لیا تھا۔سید ابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں:

619ء تک پورا مصر ایران کے قبضے میں چلا گیا اور مجوسی فوجوں نے طرابلس (موجودہ لیبیا) کے قریب پہنچ کر اپنے جھنڈے گاڑ دیے۔ ایشیائے کوچک (موجودہ ترکی) میں ایرانی فوجیں رومیوں کو مارتی دباتی باسفورس کے کنارے تک پہنچ گئیں اور 617ء میں انہوں نے عین قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کے سامنے خلقدون (موجودہ قاضی کوئی ) پر قبضہ کر لیا۔ قیصر نے خسرو کے پاس ایلچی بھیج کر نہایت عاجزی کے ساتھ درخواست کی کہ میں ہر قیمت پر صلح کرنے کے لئے تیار ہوں۔ مگر اس نے جواب دیا کہ "اب میں قیصر کو اس وقت تک امان نہ دوں گا جب تک کہ وہ پا بزنجیر میرے سامنے حاضر نہ ہو اور اپنے خدائے مصلوب کو چھوڑ کر خداوند آتش کی بندگی اختیار نہ کر لے۔ " آخر کار قیصر اس حد تک شکست خوردہ ہو گیا کہ اس نے قسطنطنیہ چھوڑ کر قرطاجنہ (موجودہ تیونس) منتقل ہو جانے کا ارادہ کیا۔

شہنشاہ ایران خسرو کے غرور و تکبر کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے، جو اس نے یروشلم کی فتح کے وقت قیصر روم کے نام لکھا۔

سب خداؤں سے بڑے خدا، تمام روئے زمین کے مالک خسرو کی طرف سے اس کے کمینہ اور بے شعور بندے ہرقل کے نام۔ تو کہتا ہے کہ تجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے۔ کیوں نہ تیرے رب نے یروشلم کو میرے ہاتھ سے بچا لیا۔

قرآن مجید کی اوپر بیان کردہ آیات میں یہ خوشخبری تھی کہ جب اہل روم غلبہ پائیں گے تو اسی زمانے میں اہل ایمان بھی کفار مکہ کے مقابلے میں غالب ہوں گے۔ ان آیات کے نزول کے چند ہی برس کے عرصے میں ایسا ہی ہوا۔ مودودی صاحب لکھتے ہیں:

622ء میں ادھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے گئےاور ادھر قیصر ہرقل خاموشی سے قسطنطنیہ سے بحر اسود کے راستے ترابزن کی طرف روانہ ہوا جہاں سے اس نے ایران پر پشت کی طرف سے حملہ کرنے کی تیاری کی۔ اس جوابی حملے کی تیاری کے لئے قیصر نے کلیسا سے روپیہ مانگا اور مسیحی کلیسا کے اسقف اعظم سرجیس نے مسیحیت کو مجوسیت سے بچانے کے لئے گرجاؤں کے نذرانوں کی جمع شدہ دولت سود پر قرض دی۔ ہرقل نے اپنا حملہ 623ء میں آرمینیا سے شروع کیا اور دوسرے سال 624ء میں اس نے آذر بائیجان میں گھس کر زرتشت کے مقام پیدائش ارمیاہ (Clorumia) کو تباہ کر دیا اور ایرانیوں کے سب سے بڑے آتش کدے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ یہی وہ سال تھا جس میں مسلمانوں کو بدر کے مقام پر پہلی مرتبہ مشرکین کے مقابلے میں فیصلہ کن فتح نصیب ہوئی۔ اس طرح وہ دونوں پیشین گوئیاں جو سورہ روم میں کی گئی تھیں ، دس سال کی مدت ختم ہونے سے پہلے بیک وقت پوری ہو گئیں۔

پھر روم کی فوجیں ایرانیوں کو مسلسل دباتی چلی گئیں۔ نینوی کی فیصلہ کن لڑائی (627ء) میں انہوں نے سلطنت ایران کی کمر توڑ دی۔ اس کے بعد شاہان ایران کی قیام گاہ دستگرد (دشکرۃ الملک) کو تباہ کر دیا گیا اور آگے بڑھ کر ہرقل کے لشکر عین طیسفون (Ctesiphon) کے سامنے پہنچ گئے جو اس وقت ایران کا دار السلطنت تھا۔

شاہراہ ریشم

اب ہم ارض روم سے مشرق کی طرف جا رہے تھے۔ یہ شاہراہ ریشم (Silk Route) تھی۔ بعض قارئین کو حیرت ہو گی کہ شاہراہ ریشم تو اپنی شاہراہ قراقرم کو کہا جاتا ہے جو چین جاتی ہے، یہ ترکی میں کہاں سے آ گھسی۔ شاہراہ ریشم کسی خاص سڑک کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک قدیم راستے بلکہ راستوں کے مجموعے کا نام ہے جس کے ذریعے یورپ سے لے کر چین تک تجارت کی جاتی تھی۔ یورپ سے تجارتی سامان بلیک سی کے راستے ترابزن لایا جاتا جہاں سے یہ ارض روم پہنچا دیا جاتا۔یہاں سے تجارتی قافلے ایران کے شہر تبریز پہنچ جاتے۔ اس کے بعد یہزنجان، قزوین، تہران اور نیشاپور سے ہوتے ہوئے پورا ایران پار کر کے ہرات سے افغانستان میں داخل ہوتے۔ان قافلوں میں سے بعض بخارا، سمرقند اور تاشقند سے ہوتے ہوئے دریائے آمو کے ساتھ ساتھ چین کی طرف چلے جایا کرتے تھے۔

افغانستان میں یہ تجارتی قافلے ہرات، قندہار، غزنی اور کابل سے سفر کرتے ہوئے پشاور کے قریب موجودہ پاکستان کے علاقے میں داخل ہوتے۔ یہاں سے شاہراہ ریشم کے دو حصے ہو جایا کرتے تھے۔ ایک حصہ جنوب مشرق میں لاہور اور پھر دہلی تک جاتا جبکہ دوسرا حصہ شمال مشرق میں مانسہرہ اور گلگت سے ہوتا ہوا چین کے شہر کاشغر پہنچ جاتا۔ یہاں سے پھر آگے چین کے دیگر شہروں میں تجارت ہوا کرتی تھی۔

دور جدید میں سلک روٹ کو دوبارہ آباد کرنے کی کئی مرتبہ کوشش کی گئی ہے۔ شاہراہ قراقرم کی صورت میں چین اور پاکستان نے سڑک تعمیر کر دی ہے۔ ایران اور ترکی میں ان کی سڑکوں کا اپنا نیٹ ورک موجود ہے۔ درمیان میں افغانستان کے حالات کی وجہ سے یہ لنک ٹوٹا ہوا ہے۔ اللہ تعالی اگر اس ملک کو امن نصیب کر دے تو یہ رابطہ دوبارہ بحال ہو سکتا ہے۔ جن دنوں ہم ترکی میں شاہراہ ریشم پر سفر کر رہے تھے، انہی دنوں یہ خبر بھی نظر سے گزری کہ اسلام آباد سے استنبول تک کارگو ٹرین سروس کا آغاز ہو رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ جدید دور کی شاہراہ ریشم ثابت ہو جائے۔

پسنلر کا قلعہ (بشکریہ www.panoramio.com )

فیئری چمنی

فیئری چمنی

ہمارے ساتھ ساتھ ریلوے لائن چل رہی تھی۔ ارض روم سے نکل کر پہلا شہر "پسنلر" آیا۔ یہاں پہاڑ کی چوٹی پر ایک قلعہ بنا ہوا تھا۔ قلعے کے نیچے ایک عجیب منظر تھا۔ ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ کون نما گھر بنے ہوئے تھے۔ ایسے گھر ہم نے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ آتش فشانی مادہ پر مشتمل کونز تھیں جن کو کھوکھلا کر کے لوگوں نے ان میں اپنے گھر بنا رکھے تھے۔ انہیں "فیئری چمنی" کا نام دیا گیا ہے۔اس قسم کے بہت سے گھر ترکی کی مشہور تاریخی سائٹ "کپا دوجیا" میں واقع ہیں۔ فیئری چمنی کو دیکھنے کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم "کپادوجیا" کے طویل سفر سے بچ گئے جو کہ ان فئیری چمنیوں کا گڑھ ہے۔

سلاجقہ

پسنلر کا قلعہ سلجوقی دور کی یادگار لگ رہاتھا۔ قلعہ سیاہ رنگ کی چٹانوں کے اوپر بنا ہوا تھا۔بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ قلعہ رومن دور میں آرمینیوں نے تعمیر کیا۔ اس کے بعد سلجوقی دور کے گورنر اوزون حسن نے پندرہویں صدی میں اس کی تعمیر نو کی۔ سلجوقی حکمرانوں کا تعلق ترکمانستان سے تھا ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان قبائل نے منظم ہونا شروع کیا۔ دسویں اور گیارہویں صدی عیسوی میں یہ جنوب کی طرف اپنی حکومت کو توسیع دیتے چلے گئے۔ ان کے لیڈر کا نام سلجوق تھا۔

1055ء میں سلجوق کے پوتے طغرل بیگ نے بغداد فتح کر لیا۔ اس زمانے میں عباسی بادشاہ وزیروں کے مشہور خاندان "آل بویہ" کے زیر اثر ہوا کرتا تھا۔ حکومت کے تمام فیصلے آل بویہ کیا کرتے۔ طغرل بیگ نے اس خاندان کے اثر سے بادشاہ کو آزاد کروایا۔ اب عباسی بادشاہ سلجوقیوں کا سرپرست تھا جبکہ حقیقی حکومت سلاجقہ کے ہاتھوں میں تھی۔طغرل بیگ کے بعد حکومت اس کے بھتیجے الپ ارسلان کے ہاتھ میں آئی جس نے سلطنت کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد ملک شاہ کا دور آیا جس میں سلجوقی سلطنت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ انہوں نے رومیوں کو متعدد جنگوں میں شکست دے کر تقریباً پورے اناطولیہ پر اپنی حکومت قائم کر لی۔بعد میں انہوں نے قونیہ کو اپنا دارلحکومت قرار دیا۔

سلجوقی حکمران علم کے دلدادہ تھے۔ انہوں نے پورے ملک میں تعلیمی اداروں کاجال بچھا دیا۔ اس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔اس کے علاوہ پورے ملک میں سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کر کے انہوں نے تجارت کو فروغ دیا۔ تقریباً 1300ء کے لگ بھگ سلجوقی سلطنت کا زوال شروع ہوا جب یہ مشرق سے تاتاریوں کی یلغار کے آگے نہ ٹھہر سکے۔اس کے بعد ایران کی صفوی حکومت اور وسطی ایشیا کی عثمانی حکومت کی یلغاروں نے سلاجقہ کا خاتمہ کر دیا۔

پسنلر سے آگے نکلے توہم نے خود کو ایک وسیع وادی میں پایا۔ پہاڑ اب کافی دور ہو چکے تھے۔ وسیع وادی میں ہم دریائے آرس کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ دریا کی وجہ یہ سے وادی قابل کاشت تھی اس لئے دور دور تک کھیت ہی کھیت نظر آ رہے تھے۔ ان کھیتوں میں سورج مکھی کے پھول چمک رہے تھے۔کھیتوں میں کرد کسان پینٹ کوٹ پہن کر کام کر رہے تھے۔ یہ منظر ہمارے پنجاب سے بہت مختلف تھا جہاں کے کسان دھوتی کرتے میں کام کرتے ہیں۔ ترکوں کے ہاں خوش لباسی کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ ہمارے ساتھ پٹری سے ٹرین گزری جس کی بوگیوں کا رنگ ہماری "قراقرم ایکسپریس" جیسا تھا۔ یہ ایک نہایت ہی سست ٹرین تھی۔

کچھ دور جا کر سڑک کے قریب دریا پر ایک پل نظر آیا۔ یہ ایک قدیم پل تھا جو سلجوقیوں نے تعمیر کیا تھا۔ بعد میں مشہور آرکی ٹیکٹ سنان نے اس پل کی تعمیر نو کروائی تھی۔ اب اس پل کو اس کی تاریخی حیثیت کے پیش نظر بند کر دیا گیا تھا۔ تھوڑی دور جا کر ہمیں تیز بارش نے آ لیا۔دریائے آرس کے کنارے تیز بارش نے کافی لطف دیا۔

قدیم پل (بشکریہ www.panoramio.com )

دریائے آرس

حراسان، آغری اور کردستان

اگلا شہر "حراسان" تھا۔ اسے خراسان نہ پڑھیے گا جو کہ افغانستان کا پرانا نام ہے۔ یہ بھی ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ یہ پورا علاقہ کردستان کا حصہ تھا۔ باقی ترکی کی نسبت کردستان کے شہر اتنے صاف اور ترقی یافتہ محسوس نہیں ہو رہے تھے۔ اس کی ایک خاص وجہ تھی۔ اس علاقے میں کرد آبادی ایران، عراق اور ترکی میں تقسیم ہوئی ہے۔ کردوں کی شدید خواہش ہے کہ ان کا علیحدہ وطن ہو۔ اس وجہ سے یہ لوگ پچھلے پچاس برس سے تینوں ملکوں میں تحریک آزادی چلا رہے ہیں جس میں بسا اوقات نوبت تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان تینوں ممالک کی فوج نے کردوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کی پوری کوشش کی ہے۔

پچھلی صدی میں آزادی کی بہت سی تحریکیں مختلف ممالک میں چلی ہیں۔ آزادی کی تحریکیں بالعموم ان علاقوں میں چلتی ہیں جہاں حکومت غیر قوم کے افراد کے ہاتھ میں ہو۔ ان تحریکوں کے لیڈر عوام الناس میں غیر قوم کے حکمرانوں سے نفرت کو بھڑکا کر انہیں یا تو مسلح جدوجہد کے لئے تیار کرتے ہیں اور یا پھر انہیں سڑکوں پر لا کر آزادی کا مطالبہ پیش کرتے ہیں۔ اگر ان تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک عجیب حقیقت سامنے آتی ہے۔ان تحریکوں میں عام طور پر غریب طبقے کے افراد اپنی جان، مال اور آبرو کی قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد جب تحریک کامیاب ہو جاتی ہے توسارے کا سارا فائدہ تحریک کے لیڈروں کو چلا جاتا ہے اور قربانیاں پیش کرنے والے افراد کی حالت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔

مثال کے طور پر برصغیر کی تحریک آزادی کو دیکھیے۔ انگریزوں کے خلاف تحریک میں اصل قربانیاں یہاں کے غریب عوام نے دیں۔ جب انگریز یہاں سے رخصت ہوا تو اقتدار مقامی اشرافیہ کے حصے میں آیا۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں ممالک میں سب سے پہلے تحریک آزادی کے مخلص راہنماؤں کو صفایا کیا گیا۔ پاکستان میں محمد علی جناح کو مناسب علاج فراہم نہ کر کے اور لیاقت علی خان کو براہ راست قتل کر کے راستے سے ہٹایا گیا۔ ہندوستان میں گاندھی جی کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک میں کرپٹ اشرافیہ کی حکومت قائم ہوئی جو اس پورے عرصے میں اپنے اپنے ملک کو لوٹ کر کھاتی رہی۔ جن لوگوں نے آزادی کے لئے حقیقی قربانیاں پیش کیں، ان کا کوئی پرسان حال نہ رہا۔ اس پر وہی مثال صادق آتی ہے کہ درد سہیں بی فاختہ، کوے انڈے کھائیں۔

کچھ ایسا ہی معاملہ کردستان کا ہے۔ تینوں ممالک یعنی عراق، ترکی اور ایران میں ایک عرصے سے تحریک چل رہی ہے۔ کردوں کے لیڈر اپنے غریب عوام وطن کے لئے جان دینے پر تیار کرتے ہیں البتہ آزادی کے بعد تمام تر فائدہ لیڈروں ہی کو ہو گا۔

اگلا شہر "آغری" تھا جو کہ صوبائی دارلحکومت کا مقام رکھتا تھا۔ شہر کے شروع میں خوبصورت جدید فلیٹ بنے ہوئے تھے۔ آگے ایک چوک پر میں نے ایک صاحب سے "ڈوغو بایزید" جانے والی سڑک کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے تفصیل سے راستہ سمجھایا۔ یہ صاحب بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ اس دوران ان کی بس نکل گئی۔ مجھے اس کا افسوس ہوا۔ میں نے سوچا کہ انہیں جہاں جانا ہے، ڈراپ کر دوں مگر اتنے میں ایک اور بس آ گئی۔

آغری کے بعد روڈ کافی خراب تھی۔ جگہ جگہ سڑک کو کھود کر دوبارہ بنایا جا رہا تھا جس کی وجہ سے سفر کی رفتار کافی سست تھی۔ دو گھنٹے میں ہم ڈوغو بایزید جاپہنچے جو کہ شاہراہ ریشم پر ترکی کا آخری شہر تھا۔یہ شہر ترکی، ایران اور آرمینیا کی سرحد پر واقع ہے۔آذر بائیجان کی سرحد بھی یہاں سے کافی قریب ہے۔

ارارات کا پہلا نظارہ

کوہ اراراتیا آرات ترکی کا سب سے اونچا مقام ہے۔ اس کی بلندی 16000 فٹ سے زائد ہے۔ اس پہاڑ کا منظر نہایت ہی دلفریب تھا۔ بہتر ہو گا کہ میں اسے اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی بجائے مستنصر حسین تارڑ صاحب کے الفاظ میں بیان کروں کیونکہ ان کا طرز بیان بہت دلنشیں ہے۔ انہوں نے 1960ء کے زمانے میں پاکستان سے برطانیہ خشکی کے راستے سے سفر کیا تھا جس کی تفصیلات انہوں نے اپنے سفرنامے "نکلے تیری تلاش میں" میں بیان کی ہے۔ پاکستان سے تارڑ صاحب اپنے دوست علی کے ہمراہ افغانستان اور ایران سے ہوتے ہوئے جب ترکی میں داخل ہوئے تو ان کے سامنے وہی منظر تھا جو اس وقت ہمارے سامنے تھا۔ لکھتے ہیں:

صدر دروازے سے باہر نکل کر ترکی کی سرزمین پر جب پہلا قدم رکھا تو میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ میرے سامنے خنک چاندی کی چمکتی ہوئی ایک دیوار کھڑی تھی۔ دامن سے چوٹی تک سفید برف کے بوجھ تلے دبا ہوا بلند پہاڑ جو سرحد کے اس پار سے دھندلا کہر آلود بادل معلوم ہوتا تھا۔ اتنا نزدیک جیسے ہاتھ بڑھاؤ تو ایک چھناکے سے چھن چھن کرتی چاندی تمام وادی میں بکھر جائے۔ یہ کوہ آرات تھا۔ روایت ہے کہ طوفان نوح (علیہ الصلوۃ والسلام) کے بعد حضرت نوح کی کشتی اسی پہاڑ کی چوٹی پر لنگر انداز ہوئی تھی۔ آرات کے پہلومیں بے شمار چوٹیوں نے سر اٹھا رکھے تھے لیکن سبھی خشک اور ویران۔ اس مقدس پہاڑ کی عظمت کا اقرار کرتے ہوئے سر بسجود۔

کوہ آرات کے خوبصورت سحر کے خنک بازو مجھے اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔ یکدم ایک تیز اور یخ بستہ ہوا چلنے لگی جو آرات کے پاک دامن سے چھو کر پھسلتی ہوئی نیچے وادیوں میں اترتی اور میرے جسم کو یخ کر جاتی۔ سیٹیاں بجاتی ہوئی تند ہوا کا شور کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھا۔۔۔۔

آرات کا پورا پہاڑ سورج کی روشنی سے چمک رہا تھا مگر گرد و نواح کے پہاڑوں اور گہری وادیوں میں دھندلکا چھا رہا تھا۔ شام ہونے کو تھی۔ قہوہ خانے کا مالک اب کباب بھوننے کی بجائے زمین پر بیٹھا آگ تاپ رہا تھا۔ میں نے آرات کی چوٹی کی جانب اشارہ کر کے پوچھا: "اس کی برف کس موسم میں پگھلتی ہے؟" "آرات کی برف کبھی نہیں پگھلتی۔" اس نے تقدس آمیز نظروں سے چوٹی کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے بتایا۔ "یہ نوح کا پہاڑ ہے۔ وادی کے دوسری طرف جس صبح موسم صاف ہو تو اس کی اجلی برفوں میں ایک کالا دھبہ دکھائی دیتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں وہ نوح کی کشتی کا ایک حصہ ہے۔"۔۔۔۔

سڑک کے کنارے سفید سنگ میل پر "ارض روم 384 کلومیٹر" کے الفاظ کندہ تھے۔ کچی سڑک بالکل ہموار اور سیدھی جا رہی تھی۔ ہمارے بائیں ہاتھ ٹیلے اور پہاڑیاں تا حد نظر پھیلے ہوئے تھے اور دائیں جانب فصلوں اور چراگاہوں کا ایک وسیع اور سرسبز میدان آرات کی خنک دیوار کے دامن تک چلا گیا تھا۔ میدان کے خاتمے پر آرات کے پہلو میں گڑیوں کے گھروندوں ایسے ننھے منے کچے مکانوں کے گاؤں تھے۔ برف مکانوں کی چھتوں کو چھو رہی تھی۔ خنک ہوا کی شدت میں ابھی تک کوئی کمی واقع نہ ہوئی تھی۔ ۔۔۔

آج سے تقریباً سات سو برس پیشتر مارکو پولو بھی اسی راستے سے گزرا تھا۔ وہ اپنے سفرنامے میں لکھتا ہے: "آرمینیا کے قلب میں ایک نہایت بلند پیالہ نما پہاڑ واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نوح کی کشتی یہاں لنگر انداز ہوئی تھی اور اسی مناسبت سے اسے "نوح کا پہاڑ" کہتے ہیں۔ یہ اتنا لمبا چوڑا ہے کہ اس کے گرد چکر لگانے میں دو دن صرف ہو جاتے ہیں۔ چوٹی پر برف پوری طرح کبھی نہیں پگھلتی بلکہ ہر سال پرانی برف پر نئی برف کی تہیں جم جاتی ہیں اور اس طرح اس کی بلندی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ برف کے پگھلنے سے پہاڑ کا دامن سرسبز اور زرخیز ہے۔"††

ڈوغو بایزید سے ارارات کی تصویر لینے کی ناکام کوشش

ارارات (بشکریہ www.panoramio.com )

ہمارے سامنے بھی یہی منظر تھا جس کی طرف مارکوپولو اور تارڑ صاحب نے اشارہ کیا ہے۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس وقت پہاڑ کی چوٹی مکمل طور پر بادلوں میں ڈھکی ہوئی تھی۔ جس کی وجہ سے میں اس کی صاف تصویر نہ لے سکا۔ پہاڑ کا نچلا حصہ نمایاں نظر آ رہا تھا۔ ارد گرد کے پہاڑ بھی کافی بلند تھے مگر ارارات کے آگے وہ بونے محسوس ہو رہے تھے۔ پہاڑ کی چوٹی پر برف اب بھی موجود تھی اور اس کے گلیشیئر نیچے تک آئے ہوئے تھے۔

سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوت

سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ایک بہت بڑے طوفان کی خبر ہمیں مذہبی صحائف سے ملتی ہے۔ اس کی جو تفصیلات قرآن مجید نے بیان کی ہیں، یہاں ہم وہ پیش کر رہے ہیں:

جب ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ (انہوں نے کہا:) "میں تمہیں صاف صاف خبر کرنے والا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ ایک دن تم پر درد ناک عذاب آئے گا۔" جواب میں ان کی قوم کے سرداروں ، جنہوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا، نے کہا: "ہمارے خیال میں تم ہمارے جیسے انسان ہی ہو۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس ان لوگوں نے جو ہمارے ہاں ذلیل تھے، بغیر سوچے سمجھے تمہاری پیروی کر لی ہے۔ہمیں تم میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آ رہی جس میں تم ہم سے بہتر ہو۔بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا ہی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے فرمایا: "اے میری قوم! دیکھو میں تو اپنے رب کی طرف سے (آفاق و انفس کی) روشن دلیل پر قائم تھا اور اس نے اپنے پاس سے مجھے رحمت (نبوت) عطا فرمائی۔ اب اگر تمہیں یہ نظر نہیں آ رہی تو ہم تمہیں اسے ماننے پر کیسے مجبور کر سکتے ہیں؟ اے میری قوم! میں اس کام کے بدلے تم سے کوئی مال نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے۔ میں ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹانے بھی رہا جو ایمان لے آئے ہیں۔ وہ تو اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں۔ مگر میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہالت برت رہے ہو۔ اے میری قوم! اگر میں ان (کمزور) اہل ایمان کو دھتکار دوں تو خدا کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا؟ تمہاری سمجھ میں کیا اتنی سی بات نہیں آتی؟ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، اور نہ ہی میرا یہ دعوی ہے کہ میں فرشتہ ہوں، میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ جنہیں تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں، انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی۔ ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں گا تو ظالم ہوں گا۔

وہ کہنے لگے: "اے نوح! تم نے ہم سے بحث کر لی اور بہت کر لی۔ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس کی تم دھمکی دیتے ہو۔" انہوں نے کہا: "وہ تو اللہ ہی لائے گا، اگر چاہے گا۔ تم اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے ہو۔ اب اگر میں تمہاری مزید خیر خواہی کرنا بھی چاہوں تو میری خیر خواہی تمہارے کام نہ آ سکے گی جبکہ اللہ نے تمہیں اس راہ پر چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا ہے۔ وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹنا ہے۔ ۔۔۔

نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لانے والے تھے، وہ ایمان لا چکے اب مزید لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ اب تم ان کے اعمال پر غم کرنا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کرو۔ دیکھو، جن لوگوں نے ظلم کیا ہے، ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا۔ یہ سب کے سب اب ڈوبنے والے ہیں۔

نوح کشتی بنانے لگے۔ ان کی قوم کے سرداروں میں سے جو کوئی ان کے پاس سے گزرتا تھا، ان کا مذاق اڑاتا تھا۔ انہوں نے فرمایا: "اگر تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو تو پھر ہم بھی اسی طرح تمہارا مذاق اڑائیں گے ۔ عنقریب تمہیں علم ہو جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر وہ بلا آن پڑے گی جو ٹالے نہ ٹلے گی۔یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ گیا اور وہ خاص تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا: "ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی پر رکھ لو۔ اپنے گھر والوں کو ساتھ لے لو سوائے ان افراد کے جن کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور اہل ایمان کو بھی ساتھ بٹھا لو۔ "نوح پر ایمان لانے والوں کی تعداد قلیل تھی۔

نوح نے کہا: "اس میں سوار ہو جاؤ۔ اللہ کے نام کے ساتھ ہی اس کا چلنا بھی ہے اور ٹھہرنا بھی۔ میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے۔" کشتی ان لوگوں کو لے کر پہاڑ جتنی بڑی بڑی لہروں میں چلنے لگی۔ نوح کا ایک بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا: "بیٹا! ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ، ان کفار کے ساتھ نہ رہو۔" اس نے پلٹ کر جواب دیا: "میں ابھی پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں، جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔" نوح نے کہا: "آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔" اتنے میں ایک موج ان دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا۔

(کچھ عرصے بعد) حکم ہوا: "اے زمین! سارا پانی نگل جاؤ اور اے آسمان! رک جاؤ۔ پانی زمین میں جذب ہونے لگا ، معاملہ ختم کر دیا گیا اور کشتی "جودی" پر رک گئی۔ کہہ دیا گیا: "دور ہو گئی ظالموں کی قوم۔"نوح نے اپنے رب کو پکارا: "اے رب! میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں سے تھا۔ تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں ے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔" فرمایا: "اے نوح! وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں تھا۔ وہ تو ایک بگڑی ہوئی شخصیت تھی۔ لہذا تم اس کی درخواست نہ کرو جس کی حقیقت کا تمہیں علم نہیں ہے۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں جیسا رویہ اختیار نہ کرنا۔" انہوں نے عرض کیا: "اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہو جاؤں گا۔

حکم ہوا: "اے نوح! اتر جاؤ۔ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تمہارے لئے او ران گروہوں کے لئے جو تمہارے ساتھ ہیں۔ کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جن کو ہم کچھ مدت کے لئے سامان زندگی بخشیں گے۔ پھر انہیں دردناک عذاب آ پہنچے گا۔(سورہ ہود 11:25-48 )

سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ واقعہ دراصل اللہ تعالی کے اس قانون کا معلوم تاریخ میں پہلا اطلاق تھا جسے "دینونت" کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے آخرت میں ہر انسان کے ساتھ جزا و سزا کا جو معاملہ کرنا ہے، اس نے متعدد بار وہی معاملہ بعض اقوام کے ساتھ دنیا میں کر کے دکھا دیا تاکہ لوگوں کو یہ یقین آ جائے کہ ان کے ساتھ آخرت میں یہ سب ہونے والا ہے۔ دینونت کی اس تاریخ کو مذہبی صحائف میں محفوظ کر دیا گیا تاکہ جو عبرت پکڑنا چاہے، اس کے لئے یہ مواد موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے طوفان کا ذکر نہ صرف بائبل اور قرآن مجید میں موجود ہے بلکہ ہندو مذہب کی کتابوں میں بھی ایک عظیم طوفان کا ذکر ملتا ہے۔ یہی معاملہ جنوبی امریکہ کے ریڈ انڈینز کا ہے۔ ان کی مذہبی داستانوں میں بھی ایک عظیم طوفان کا تذکرہ موجود ہے۔اس دینونت کی تاریخ میں نے اپنے سفرنامے "قرآن اور بائبل کے دیس میں" میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس پر موضوع پر سلائیڈ شو کی شکل میں ایکپریزنٹیشن بھی میری ویب سائٹ پر موجود ہے۔

دور جدید میں کوہ ارارات پر بہت سی مہمات بھیجی گئی ہیں تاکہ کشتی نوح کی باقیات کا پتہ چلایا جا سکے۔ پہاڑ پر ایک چٹان ایسی ملی ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ کشتی کا فوسل ہے۔ حقیقت جو بھی ہو بہرحال اللہ تعالی نے یہ نشانیاں روئے زمین پر بکھیر دی ہیں۔اب ہر انسان کی مرضی ہے۔ چاہے تو وہ ان واقعات کو محض داستانیں سمجھ کر نظر انداز کر دے اور چاہے تو ان سے سبق سیکھ کر خدا کا بندہ بن جائے۔

ارارات پر وہ چٹان جس کے بارے میں خیال ہے کہ کشتی نوح کا فوسل ہے۔ بشکریہ www.noahsarksearch.com

اسحاق پاشا کا محل

کوہ ارارات کا نظارہ دور سے ہی ممکن تھا کیونکہ اس کے بیس کیمپ تک جانے کے لئے بھی انسان کو کوہ پیما ہونا ضروری تھا۔ ہم لوگ ایک ہوٹل کے قریب رکے۔ یہاں کئی بسیں رکی ہوئی تھیں جن میں سے ایرانی زائرین نکل نکل کر آ رہے تھے۔ غالباً یہ لوگ شام کی طرف زیارتوں کے سفر کے لئے جا رہےتھے۔

اب ہم ڈوغو بایزید شہر میں داخل ہو گئے۔ یہاں ایک طویل بازار تھا۔ ہم لوگ اسحاق پاشا کا محل دیکھنا چاہتے تھے۔ جگہ جگہ "اسحاق پاشا سرائے" کی طرف جانے کے لئے بورڈ لگے ہوئے تھے۔ پہلے میں بھی یہی سمجھا تھا کہ یہ کوئی سرائے ہو گی مگر ایسا نہ تھا۔ ترکی زبان میں محل کو سرائے کہا جاتا ہے۔ شاید اسی سے اردو میں محل سرا کی ترکیب پیدا ہو گئی ہو گی۔کچھ گلیوں سے گزر کر ہم شہر سے باہر جانے والی تنگ سی سڑک پر ہو لئے۔ کچھ دور جا کر کافی بلندی پر محل کے آثار نظر آئے جو کہ چمکتی دھوپ میں کافی خوبصورت محسوس ہو رہا تھا۔

محل کے نیچے ایک کیمپنگ ایریا بنا ہوا تھا جس میں ٹائلٹ اور بچوں کے لئے جھولوں کی سہولت موجود تھی۔ یہاں کچھ دیر رک کر ہم اوپر محل کے دروازے پر جا پہنچے۔ اتنی بلندی پر محل کی تعمیر کے لئے بہت محنت کرنا پڑی ہو گی۔ بہرحال یہ بادشاہوں کے کام تھے۔ عوام کے پیسے کو اس طرح کی عیاشیوں میں اڑانا ان کا مشغلہ رہا تھا۔

عثمانی دور کے گورنر عبدی پاشا نے یہ محل 1685ء میں تعمیرکروانا شروع کیا تھا۔ اس کے بعض سیکشن ان کے پوتے اسحاق پاشا نے 1784ء میں تعمیر کروائے تھے۔ محل کا دروازہ بہت ہی بلند تھا۔ محل میں اس دور کی تمام لگژری سہولتیں فراہم کی گئی تھیں۔ ایک طرف گورنر کا دربار تھا۔ کھیل تماشوں کے لئے ہال الگ تھا۔ مختلف قسم کے کھانے پکانے کے لئے علیحدہ کچن بنے ہوئے تھے۔ گورنر کے لئے حمام بنایا گیا تھا۔ خواتین کے لئے حرم بنا ہوا تھا۔ ان محلات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے زوال کے اسباب کیا تھے۔ اس کی مزید تفصیل ہم استنبول کے باب میں بیان کریں گے۔

اسحاق پاشا کا محل

محل کا اندرونی حصہ (بشکریہwww.panoramio.com )

زرتشت کی دعوت

اس وقت ہم جس علاقے سے گزر رہے تھے، صدیوں پہلے یہیں جناب زرتشت نے توحید اور انسانیت کی دعوت پیش کی۔ ان کے بارے میں جو جدید تحقیقات ہوئی ہیں، ان کے مطابق زرتشت ایک خدا پر یقین رکھتے تھے۔ ان سے پہلے مذہبی راہنماؤں نے عوام کا استحصال کرنے کے لئے بہت سی مذہبی رسومات ایجاد کر رکھی تھیں جن میں دیوی دیوتاؤں کے حضور قربانیاں پیش کرنا ضروری تھی۔ یہ قربانیاں پروہتوں کے خزانے میں داخل ہو جایا کرتی تھیں۔ قرآن مجید نے ان رسومات کو اصر اور اغلال سے تعبیر کیا ہے۔ زرتشت نے بھی ان رسومات کی مخالفت کی۔

اس معاملے میں اختلاف ہے کہ زرتشت نبی تھے یا نہیں البتہ ان کی تعلیمات کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوا جو انبیاء کرام علیہم السلام کے ادیان کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ ان کی تعلیمات کو مسخ کر کے اس میں شرک کو داخل کر لیا گیا اور آگ کی پوجا کی جانے لگی۔ پورے ایران میں زرتشتی مذہب کو آتش پرستی کا مذہب قرار دے دیا گیا۔ اس کی باقیات آج بھی پارسیوں کی شکل میں موجود ہیں۔ عرب انہیں مجوسی کہا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجوسیوں کے ساتھ اہل کتاب کا سا معاملہ کرنے کا حکم دیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید زرتشت اللہ کے نبی ہی ہوں گے جن کی تعلیمات کو ان کے پیروکاروں نے مسخ کر لیا۔

انسان کا روئے زمین پر پھیلاؤ

کچھ دیر محل دیکھنے کے بعد ہم نیچے اترے۔ نیچے شہر سے کھانا کھایا، کافی پی اور واپسی کے سفر کے لئے تیار ہو گئے۔ ہم اس وقت زمین کے اس حصے میں تھے جہاں سے پوری نسل انسانی روئے زمین پر پھیلی ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے تینوں بیٹوں کی نسل زمین کے تین مختلف علاقوں میں جا کر آباد ہوئی تھی۔ حام کی نسل افریقہ میں، سام کی نسل دجلہ و فرات کی وادی میں اور یافث کی نسل آرمینیا کے علاقے میں۔

ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ یہ نسلیں مختلف علاقوں میں جا کر آباد کیوں ہوئیں۔ قرآن مجید اور بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور کے انسانوں کی عمریں بہت طویل ہوا کرتی تھیں۔ ہزار برس کی عمر تو عام سی بات ہوتی تھی۔ یقینی طور پر وہ لوگ بہت ہی مضبوط ہوں گے اور ان کے جسموں میں بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہو گی۔ اگر کسی شخص کی ہزار سالہ عمر میں 15% بچپن اور اتنے ہی بڑھاپے کے سال فرض کر لیے جائیں تو جوانی کی عمر 700 برس بچتی ہے۔ اگر اس شخص کی شادی 150 سال کی عمر میں کر دی جائے اور اس کے بعد اگلے 500 برس تک ہر سال ایک بچہ ہو تو صرف ایک انسانی جوڑے سے 500 بچے پیدا ہو سکتے تھے۔ابھی یہ صاحب محض 300 برس کے کڑیل جوان ہی ہوں گے جب ان کی پہلی اولاد بھی شادی کر کے پرفارم کرنے کے لئے تیار ہو گی۔ ان میں سے اگر نصف بچے مر مرا بھی جائیں تب بھیاس شخص کی زندگی ہی میں اس کی اپنی اولاد کی تعداد لاکھوں تک پہنچ جاتی ہو گی۔

شروع میں تو اس شخص کی اولاد اکٹھی رہتی ہو گی۔ بعد میں جب وسائل کی تنگی پیدا ہوتی ہو گی تو یہ لوگ مزید زمین کی تلاش میں بکھر جاتے ہوں گے۔انسانوں کی موجودہ آبادی اس بات کی شہادت فراہم کرتی ہے کہ یافث کی نسلوں یعنی یاجوج و ماجوج میں سب سے زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا۔ یہ لوگ جلد سے جلد نئی زمینوں کی تلاش میں آرمینیا کے علاقوں سے نکل کر مشرق میں چین و ہندوستان، شمال میں روس اور مغرب میں یورپ کی طرف روانہ ہوئے۔ اس زمانے میں روس اور الاسکا کے درمیان سمندر جما ہوا تھا چنانچہ یہلوگ سمندر کے اوپر سفر کرتے ہوئے امریکہ جا پہنچے۔ جب یہ سمندر پگھل گیا تو ان کا رابطہ اپنے بھائیوں سے منقطع ہو گیا۔

اب عصر کی نماز کا وقت ہو رہا تھا۔ میں نے ایک سروس اسٹیشن پر گاڑی روکی۔ یہاں کا پانی بہت سرد تھا۔ نماز کی ادائیگی کے بعد باہر نکلا تو اسٹیشن کے ملازمین نے مجھے گھیر لیا اور تعارف کی ناکام کوشش کرنے لگے۔ یہ جان کر وہ بہت خوش ہوئے کہ میں پاکستان سے آیا ہوں۔ یہ لوگ کرد تھے۔ میں نے یونہی کہہ دیا کہ صلاح الدین ایوبی بھی تو کرد ہی تھے۔ یہ سن کر ان میں سے ایک صاحب پھڑ ک اٹھے اور اپنے ساتھیوں کو کہنے لگے: "تم کرد ہو، کیا تمہیں معلوم ہے کہ صلاح الدین ایوبی کرد تھے؟ " انہوں نے نفی میں سر ہلایا تو بولے: "دیکھو ہمارے پاکستانی بھائی کو یہ معلوم ہے۔ کچھ شرم کرو۔" ظاہر ہے وہ بے چارے تعلیم حاصل کیے بغیر کام کاج پر لگ گئے ہوں گے۔ انہیں یہ معلوم نہ ہو سکا ہو گا کہ ان کے ایک بطل جلیل پر نہ صرف کردقوم بلکہ پورا عالم اسلام فخر کرتا ہے۔

مغرب کے قریب جا کر کہیں ہم واپس ارض روم پہنچے۔ اتفاق سے ہم ایک بازار میں جا نکلے جہاں پچھلی رات کی نسبت ایک بہتر ہوٹل میسر آ گیا۔ ہوٹل کی دیوار پر ترکی کا ایک نقشہ لگا ہوا تھا۔ میں نے ہوٹل کے منیجر سے پوچھا کہ انقرہ جانے کے لئے کون سا راستہ بہتر ہے: بلیک سی کے ساتھ ساتھ براستہ ترابزن، سامسن اور سائنپیا پھر اندرونی راستہ براستہ ارزنجان اور شیواس۔ کہنے لگے کہ اندر کا راستہ زیادہ بہتر ہے۔ اس سے بسیں 12 گھنٹے میں انقرہ پہنچتی ہیں۔ آپ اپنی کار پر ہیں، اس لئے جلدی پہنچ جائیں گے۔ ایک راستہ تو ہم آتے ہوئے دیکھ ہی چکے تھے، چنانچہ ہم نے اندرونی راستے سے واپسی کا ارادہ کیا۔

شیطانیانڈے

اگلی صبح ناشتہ کرنے کے لئے ہم ہوٹل کے ساتھ ہی واقع ریسٹورنٹ میں پہنچے۔یہ ایک چھوٹا سا صاف ستھرا ریسٹورنٹ تھا جس میں فیملی ہال الگ تھا۔ یہاں ایک ترک انکل اور آنٹی بیٹھے ہوئے تھے۔ غالباً آج آنٹی کا ناشتہ بنانے کا موڈ نہیں تھا۔ میں نے ویٹر سے آملیٹ کا پوچھا۔ جواب اثبات میں ملا۔ تھوڑی دیر بعد یہ صاحب تین تھالیاں اٹھا لائے جن میں ہاتھی کے کان سے بھی بڑے انڈے پڑے ہوئے تھے۔ چکھ کر دیکھا تو ذائقہ اپنے دیسی انڈوں جیسا محسوس ہوا۔ ماریہ روٹی کے بغیر انڈا کھایا کرتی تھی۔ اس نے اپنے انداز میں انڈا شروع کیا۔ ہم تینوں کھا کھا کر تھک گئے مگر انڈے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ بمشکل ہم تینوں نے مل کر دو انڈے ختم کئے۔ تیسرے کو راستے کے لئے پیک کروا لیا۔

ہم سوچنے لگے کہ نجانے یہ انڈے کس بلا کے تھے جو ختم ہونے کا نام ہی نہ لے رہے تھے۔ پہلے ہمارے ذہن میں شتر مرغ کا تصور آیا مگر اس کے انڈے اتنی آسانی سے دستیاب کہاں ہوتے ہیں۔ پھر ہم نے سوچا کہ شاید یہ بطخ کے انڈے ہوں اور آملیٹ دو انڈوں پر مشتمل ہو۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ یہاں سپر مارکیٹوں میں باقاعدہ ترکی کے انڈے ملتے ہیں۔ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیے گا، یہ تَرکی پرندے کے انڈے تھے، نہ کہ تُرکی ملک کے۔ ان کا چھلکا چتکبرا ہوتا ہے۔

ارض روم کی قدیم مسجد اور مدرسہ

ناشتے سے فارغ ہو کر ہم نے سامان گاڑی کی ڈگی میں رکھا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ ارض روم کی تاریخی عمارات دیکھنے کے بعد انقرہ کے لئے نکلا جائے۔ ہوٹل کی گلی سی نکل کر ہم مین روڈ بلکہ مین گلی میں آئے۔ میں نے گاڑی دائیں جانب موڑی کیونکہ رات ہم اسی طرف سے آئے تھے۔ اچانک سامنے سے آنے والی ہر گاڑی کے ڈرائیور نے چہرے پر سنگین تاثرات لا کر اشارے کرنا شروع کر دیے کہ ہم غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ چونکہ یہ اندرون شہر تھا، اس وجہ سے ٹریفک کا نظام ون وے تھا۔تنگ ون وے گلی میں کسی نہ کسی طرح گاڑی موڑ کر ہم آگے بڑھے۔ تھوڑی دور جا کر ایک سیاہ رنگ کی مسجد نظر آئی۔

ایک جگہ بمشکل پارکنگ ملی۔ مسجدچھوٹی سی تھی۔ اس کے کتبے پر "قاسم پاشا جامع" لکھا ہوا تھا اور تاریخ 1657ء درج تھی۔ باہر سے تو مسجد کی حالت مخدوش نظر آ رہی تھی مگر اندرونی حصہ ترکی کی روایت کی مطابق خوب بھڑکیلے نقوش سے سجا ہوا تھا۔ مسجد میں کچھ بچے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کر رہے تھے البتہ ان کے استاذ غائب تھے۔ میں یہاں کی تصاویر بنانے لگا۔ ایک بچے نے اپنی تصویر لینے کی فرمائش کر دی۔ مسجد کے قریب ہی موجود اسٹور سے ماریہ کے لئے آئس کریم خرید کر ہم اسی سڑک پر آگے بڑھے ۔ تھوڑی دور میں ہی ہم ارض روم کے مشہور مدرسے تک پہنچ چکے تھے۔

مدرسے کی عمارت بہت شاندار تھی۔ مین گیٹ کے باہر وسیع دالان تھا جس میں پارک بنا ہوا تھا۔ مدرسے کا اندرونی حصہ U شکل میں بنا ہوا ہوا تھا۔ دونوں جانب کمرے تھے اور درمیان میں گھاس سے بھرا ہوا لان تھا۔ سامنے کی طرف مسجد تھی۔ مدرسے کے اوپر کی منزل بند تھی مگر نیچے سے نظر آ رہی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اناطولیہ کا سب سے بڑا مدرسہ تھا۔ مدرسے پر موجود کتبوں میں یہ درج تھا کہ اس کی درست تاریخ تعمیر کا علم نہیں ہے البتہ یہ طے تھا کہ یہ مدرسہ تیرہویں صدی کے نصف آخر میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ وہی دور تھا جب سلجوق سلطنت اپنے آخری سانس لے رہی تھی اور تاتاری ان کی سلطنت پر قابض ہو رہے تھے۔

مدرسے کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سلجوق سلطان علاؤ الدین قیقباد کی بیٹی ہاندے خاتون نے تعمیر کروایا تھا۔ اس سے سلجوق بادشاہوں کی علم دوستی کا اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے آخری دور میں بھی انہوں نے تعلیم کے فروغ کی کوشش کی تھی۔ ان کی خواتین تک میں علم کو پھیلانے کا اتنا جذبہ تھا کہ اپنے زوال کے آخری دور میں بھی وہ مدرسے تعمیر کروا رہی تھیں۔ اسی دور کے مدارس ترکی کے دوسرے شہروں میں بھی موجود ہیں۔

قاسم پاشا کی مسجد 1657ء

ارض روم کا مدرسہ 1253ء

مدارس کا نظام تعلیم

سلجوقوں کے دور میں تعلیم کو باقاعدہ اداروں کی شکل میں منظم کیا گیا۔ یہ کارنامہ اس دور کے وزیر اعظم نظام الملک ( م 1092CE/485H) کے کارناموں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں بغداد سے لے کر نیشا پور تک مدارس کا جال بچھا دیا۔مسلمانوں کے تاریخ کے کامیاب ترین ایڈمنسٹریٹرز کی اگر ایک فہرست تیار کی جائے تو نظام الملک کا نام اس فہرست میں پہلے پانچ ناموں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کی نصیحتوں پر مشتمل کتاب "سیاست نامہ" کے ترجمے آج بھی دنیا کی بہت سی یونیورسٹیوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔

نظام الملک کے قائم کردہ مدارس کو ان کے نام کی مناسبت سے "نظامیہ" کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں لفظ "مدرسہ" سے دینی تعلیم کے مدارس ذہن میں آتے ہیں مگر نظام الملک کے نصاب تعلیم میں دینی و دنیاوی کی تفریق نہ تھی۔ ان کے نصاب میں دینی اور دنیاوی دونوں طرز کے علوم شامل تھے۔نظامیہ مدارس نے بڑے بڑے علماء کو جنم دیا۔ مشہور عالم امام غزالی (م 1111CE/505H) بھی بغداد کے مدرسہ نظامیہ کے صدر مدرس تھے۔ مشہور سائنسدان اور فلسفی عمر خیام (م 1131CE/525H) کا شمار نظام الملک کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔

ہندوستان کے مدارس میں بھی نظامیہ ہی کا نصاب چلتا رہا ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر (م 1707ء) کے دور میں ایک جلیل القدر عالم ملا نظام الدین سہالوی (وفات 1748ء) نے اس نصاب میں ضروری ترامیم کر کے عالمگیر کی سول سروس کے لئے ایک نصاب تیار کیا جو ان کے نام کی مناسبت سے "درس نظامی" کے نام سے مشہور ہوا۔ موجودہ دور کے دینی مدارس میں اسی درس نظامی میں کچھ ترامیم کر کے اسے پڑھایا جا رہا ہے۔

دینی مدارس کے نصاب کا آغاز قرآن مجید کے حروف کی تعلیم سے ہوتا ہے۔ طالب علم کو عربی، فارسی اور اردو پڑھنا سکھائی جاتی ہے۔ اس کے بعد اسے عربی گرامر کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس ضمن میں ابتدائی کتب فارسی زبان میں ہوتی ہیں اور اعلی درجے کی تعلیم عربی زبان میں دی جاتی ہے۔ گرامر کی کچھ کتابیں پڑھانے کے بعد عربی ادب، علم معانی، علم بیان، علم بدیع اور علم عروض کی چند ایک کتب کی تعلیم دی جاتی ہے۔

خالص دینی علوم میں ابتدا علم الفقہ سے ہوتی ہے جس کی متعدد چھوٹی بڑی کتب کئی سال تک پڑھائی جاتی ہیں۔ فقہ کے ساتھ علم کلام کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان دونوں کے متوازی قرون وسطی کے چند دنیاوی علوم کی تعلیم دی جاتی ہے جن میں منطق، فلسفہ اور ریاضی شامل ہیں۔

اعلی درجے پر پہنچ کر طالب علم اصول التفسیر، اصول الفقہ، اصول الحدیث کا مطالعہ کرتے ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی تعلیم درمیانی سالوں میں دی جاتی ہے۔ قرآن مجید کا منتخب نصاب (بالعموم سورہ بقرہ کی تفسیر بیضاوی) اور احادیث میں سے مشکوۃ پڑھا دی جاتی ہیں۔ آخری سال میں دورہ حدیث کروا دیا جاتا ہےجس میں صحاح ستہ کی کتابوں کی صرف ریڈنگ کی جاتی ہے البتہ کہیں کوئی اشکال پیدا ہو تو استاذ صاحب وضاحت کر دیتے ہیں۔

اس پورے نظام تعلیم میں چند مسائل موجود ہیں جن پر اہل علم عموماً تنقید کرتے رہتے ہیں۔ بہت سے مدارس میں اگرچہ ان میں سے بعض مسائل پر قابو پا لیا گیا ہے مگر پھر بھی اکثر جگہ یہ مسائل موجود ہیں۔ اس کی کچھ تفصیل یہ ہے:

       مدارس کے نظام تعلیم کا سب سے بڑا مسئلہ "مقصد تعلیم" ہے۔برصغیر پاک و ہند کے مدارس بالعموم فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ ہر مسلک کے مدارس کا ایک وفاقی بورڈ موجود ہے جو کہ اپنے مسلک کے مدارس کے طلبہ کا امتحان لیتا ہے۔ تعلیم کا سب سے بڑا مقصد یہی سمجھا جاتا ہے کہ اپنے مسلک کے دفاع اور دوسرے مسالک پر حملے کے لئے زبان اور قلم کے جنگجو تیار کیے جائیں۔کہنے کو تو یہاں اسلام کے داعی تیار کیے جاتے ہیں مگر اصل مقصد اپنے مخصوص مسلک کے داعی تیار کرنا ہوتا ہے۔

       دین کا اصل ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ اس کی تفہیم و تبیین احادیث کے ذخیرے میں موجود ہے۔ اکثر مدارس کے نصاب تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو قرآن و حدیث اس میں ترجیح کے مقام پر موجود نہیں ہیں۔قرآن مجید کی ایک نہایت مختصر تفسیر جلالین داخل نصاب ہے مگر بہت ہی کم مدارس میں یہ پوری تفسیر پڑھائی جاتی ہے۔ اعلی درجے کی تفاسیر میں بیضاوی شامل ہے جس میں سے صرف سورہ بقرہ ہی داخل نصاب ہے۔ بعض مدارس میں چند اور تفاسیر کا مطالعہ کروایا جاتا ہے۔ یہی معاملہ حدیث کا ہے۔ حدیث کے ذخیرے میں سے مشکوۃ المصابیح ہی وہ کتاب ہے جس کا مدارس کے طلباء تفصیل سے مطالعہ کرتے ہیں۔ اس میں بھی زیادہ زور ان احادیث کی تشریح میں صرف ہو جاتا ہے جن کی توجیہ میں کچھ فرقہ وارانہ مسائل موجود ہیں۔معاملات جیسے تجارت، معیشت، سیاست، معاشرت وغیرہ سے متعلق احادیث کو عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ صحیح و ضعیف حدیث کی جانچ پڑتال کے طریقہ کار کی عملی مشق بہت ہی کم ہی کروائی جاتی ہے۔

       مدارس کے نصاب میں جو دنیاوی علوم داخل ہیں، ان میں سے زیادہ تر آؤٹ ڈیٹڈ ہو چکے ہیں۔ علم المنطق کو ایک خاص زمانے میں اہمیت حاصل رہی ہو گی مگر آج کی دنیا میں اس کا اطلاق نہ ہونے کے برابر ہے۔ قرون وسطی میں فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی، اکنامکس، آسٹرانومی، پولیٹیکل سائنس، سوشیالوجی وغیرہ سب کی سب فلسفے کے تحت پڑھائی جاتی تھیں۔ اب ان علوم میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ یہ فلسفے سے الگہو کر اپنی اپنی جگہ علیحدہ حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ مدارس کے طلباء اس جدید دور میں بھی آٹھ سو سال پرانی سائنس پڑھنے پر مجبور ہیں۔

       قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کی عربی زبان کی اہمیت ناگزیر ہے۔اکثر مدارس میں عربی سکھانے کے لئے گرامر پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد عربی ادب میں قرون وسطی کی چند کتب پڑھا دی جاتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلی درجے کا قدیم عربی ادب نصاب میں شامل کیا جائے۔

       علوم دینیہ کا ایک نہایت ہی اہم حصہ بالعموم مدارس میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور وہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اور اسلام کی تاریخ۔ عام طور پر مدارس کے اعلی عہدے دار یہ کہتے ہیں کہ ہم طالب علم میں ایسی استعداد پیدا کر دیتے ہیں جس کی بدولت وہ ان علوم کا خود مطالعہ کرسکتا ہے۔ اگر اس دعوی کو درست بھی مان لیا جائے، اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ طالب علم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے ان علوم کی باقاعدہ تعلیم ناگزیر ہے۔

       طالب علموں کی اخلاقی تعلیم و تربیت اور کردار سازی کو عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب یہ حضرات منبر و محراب کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں تو مسجدیں اکھاڑوں میں بدل جاتی ہیں۔ان طالب علموں کو اختلاف رائے کے آداب سے ناواقف رکھا جاتا ہے۔ مخالف فرقوں کی نفرت ان کی رگوں میں اتار دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی اختلاف رائے کی صورت میں انہیں گالی گلوچ، الزام تراشی،پتھر، جوتا، اور بندوق کی گولی، جو کچھ دستیاب ہو، استعمال کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہوتی۔

       دین کے ایک طالب علم کے لئے دیگر مذاہب اور مکاتب فکر کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اس پر عموماً توجہ نہیں دی جاتی اور اگر اس ضمن میں کچھ پڑھایا بھی جاتا ہے تو اس کا مقصد صرف اور صرف ان کی تردید کرنا ہوتا ہے۔ بے تعصب تجزیاتی مطالعہ کے طریق کارسے عموماً اہل مدرسہ ناواقف رہ جاتے ہیں۔

       مدارس کے طریق تعلیم کا ایک بہت بڑا مسئلہ ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی ہے۔ مدارس میں برین واشنگ کے ایسے ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں جن کے نتیجے میں طالب علمکی شخصیت کو بری طرح مسخ کر دیا جاتا ہے۔ وہ اب اپنے ہی مسلک کی بعض شخصیات کے ذہنی غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ان شخصیات کو مقدس بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور ان کی کسی بات سے اختلاف رائے کو بہت بڑا جرم قرار دے دیا جاتا ہے۔ جو قارئین اس موضوع سے دلچسپی رکھتے ہوں، وہ اس کی تفصیل میری کتاب "مسلم دنیا میں ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی" میں دیکھ سکتے ہیں۔

یہ وہ مسائل ہیں جن کا کسی بھی مدرسے سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص شب و روز مشاہدہ کر سکتا ہے۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ بہت سے مدارس کے ارباب اختیار نے ان مسائل کا ادراک کر لیا ہے اور اس ضمن میں وہ اصلاح کی کوششوں میں مشغول ہیں۔ اللہ تعالی ان کی کوششوں کو کامیابی عطا کرے اور دیگر مدارس کے ارباب اختیار کو بھی ان مسائل کا ادراک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مدرسے سے فارغ ہو کر ہم اس کے ساتھ ہی موجود قلعے کی طرف بڑھے۔ اس وقت یہ قلعہ بند تھا جس کی وجہ سے باہر کی دیوار ہی نظر آ سکی۔ یہ ایک عظیم پرشکوہ قلعہ تھا۔ قلعے کی دیواریں کافی چوڑی تھیں۔ ارض روم کی سرحدی حیثیت کی وجہ سے یہاں ہر دور میں فوج رہا کرتی تھی۔ آثار قدیمہ میں بالعموم قلعے، محل اور عبادت گاہیں ہی باقی رہ جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوا کرتی ہے کہ ان عمارتوں کی تعمیر غیر معمولی حد تک مضبوط ہوتی ہے۔

ارزنجان

اب ہم ارض روم سے باہر جانے والی سڑک پر جا رہے تھے۔ یہ سڑک نئی نئی بنی تھی چنانچہ ڈرائیونگ میں لطف آنے لگا مگر تھوڑی دور جا کر یہ لطف ختم ہو گیا۔ آگے پرانی سڑک تھی جس میں جگہ جگہ کھدائی کر کے ٹریفک کو ادھر ادھر کیا جا رہا تھا۔ پورے ترکی کے سفر میں اندازہ ہو اکہ بحیثیت مجموعی ترکی کی سڑکوں کے مقابلے میں پاکستان کی سڑکیں کافی بہتر ہیں۔

سڑک کے بورڈز پر ارزنجان اور ترابزن دونوں کے بارے میں لکھا ہوا تھا۔ ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ہم "اشکیل" پہنچے۔یہاں سے ترابزن اور ارزنجان جانے والے راستے علیحدہ ہو رہے تھے۔ کچھ سفر طے کر کے ہم "ترجان گولو" جا پہنچے۔ یہ نیلے پانی کی ایک خوبصورت جھیل تھی جو خشک پہاڑوں کے درمیان اپنی بہار دکھا رہی تھی۔

تھوڑی دیر میں ہم ارزنجان جا پہنچے۔ شہر کے اندر جانے والی سڑک پر "شہر مرکزی" کا بورڈ لگا ہوا تھا۔یہ بورڈ ہمیں ہر شہر میں نظر آیا۔ ترکی کی ایک خوبی یہ ہے کہ ہر شہر کے بورڈ پر اس کی آبادی بھی درج ہوتی ہے۔ ارزنجان بھی ایک چھوٹا سا شہر تھا مگر صوبائی دارالحکومت تھا۔ چونکہ ترکی کے صوبے ہمارے ضلعوں کے برابر ہیں اس وجہ سے ان کے دارالحکومت بھی اتنے ہی ہیں۔ یہاں کی خوبی یہ تھی کہ ہر گھر پر سولر پینل نظر آ رہا تھا۔ تیل کی زیادہ قیمتوں کے باعث دنیا بھر کی قومیں اب توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اللہ تعالی نے مسلمانوں کو تیل اور گیس کی صورت میں توانائی کے اعلی ترین ذخائر دیے ہوئے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلمان انہیں امت مسلمہ میں سے غربت اور جہالت کے خاتمے کے لئے استعمال کرتے مگر انہوں نے اسے اپنی عیاشی کا ذریعہ بنا لیا۔ اس کا نتیجہ اب یہ نکل رہا ہے کہ دنیا توانائی کے متبادل ذرائع کو بہتر بنا رہی ہے۔ جیسے ہی اس ٹیکنالوجی نے ترقی کر لی، تیل کی عالمی ڈیمانڈ اور قیمتیں زمین پر آ جائیں گی۔

ہم جس راستے پر جا رہے تھے، ابن بطوطہ بھی اسی راستے سے گزرے تھے مگر ان کا رخ ہماری مخالف سمت میں تھا۔ لکھتے ہیں:

ہم ارزنجان پہنچے۔ یہ بھی عراق کے بادشاہ کے تحت شہروں میں سے ایک بڑا گنجان آباد شہر ہے۔ اس کے اکثر باشندے آرمینی ہیں۔ یہاں کے مسلمان ترکی زبان میں گفتگو کرتے تھے ۔ اس کے بازاروں کی ترتیب عمدہ تھی۔ یہاں بہت ہی خوبصورت کپڑے بنائے جاتے تھے۔ یہاں تانبے کی کانیں تھیں جس سے برتن اور اوزار بنائے جاتے تھے۔

سیواس

اب تک سڑک کے بورڈ ز میں سب سے اوپر ارزنجان بڑے شہر کے طور پر لکھا نظر آ رہا تھا۔ اس سے آگے کے بورڈز پر "شیواس" لکھا نظر آنے لگا۔ انقرہ کا ابھی دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔ تقریباً 250 کلومیٹر کے بعد ایک پہاڑی سے اترتے ہوئے اچانک پولیس کی ایک گاڑی نظر آئی۔ اس سے تھوڑی دور ایک اور گاڑی کھڑی تھی۔ اس وقت جتنی گاڑیاں بھی چل رہی تھیں، انہوں نے سب ہی کو روک لیا۔ ایک صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے، "سر! سپیڈ لمٹ۔" یہ کہہ کر انہوں نے میرا انٹرنیشنل لائسنس طلب کیا۔کہنے لگے کہ آپ کی اسپیڈ 116 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ میں نے عرض کیا کہ ہائی ویز پر پوری دنیا میں 120 کی حد رفتار کا قانون ہے۔ کہنے لگے : "ترکی میں یہ 100 ہے۔" مجھےپورے ترکی میں سوائے موٹر وے کے ایک بھی بورڈ نظرنہیں آیا جس میں حد رفتار درج کی گئی ہو۔

چالان کروا کر ہم آگے روانہ ہوئے۔ اب ہم سیواس میں داخل ہو رہے تھے۔ یہ ایک سرسبز شہر تھا۔ ابن بطوطہ اس کے بارے میں لکھتے ہیں:

اس کے بعد ہم نے سیواس کی طرف سفر کیا۔ یہ بھی عراق کے شہروں میں سے ایک ہے اور اس ملک کے تمام شہروں میں سب سے بڑا ہے۔ یہاں حکام اور امراء کے گھر تھے۔ اس شہر کی عمارتیں خوبصورت تھیں اور سڑکیں کھلی تھیں۔ یہاں کے بازار لوگوں سے بھرے ہوئے تھے۔یہاں مدرسے کی طرز کا ایک گھر تھا جو کہ "دار السیادت" کہلاتا تھا۔ یہاں صرف معزز لوگ ہی ٹھہر سکتے تھے۔ اس کے محافظین اس میں رہتے تھے۔ اس میں رہنے والوں کو ان کی مدت قیام تک بستر، کھانا اور چراغ وغیرہ فراہم کیے جاتے تھے۔ جب یہ ختم ہونے لگتے اور مزید فراہم کر دیے جاتے۔

ابن بطوطہ نے اب سے سات سو برس پہلے مسلمانوں کے جن شہروں کا ذکر کیا ہے، ان میں سے اکثر اپنے طرز تعمیرکے اعتبار سے دنیا کے خوبصورت شہروں میں شمار ہوتے تھے۔ان کی سڑکیں کھلی ہوا کرتی تھیں۔ اس دور کے لحاظ سے بہترین شہری سہولتیں لوگوں کو فراہم کی جاتی تھیں۔ مسافروں کے لئے حکومت کی جانب سے سرائے وغیرہ بنا دی جاتیں جن میں قیام و طعام کی سہولت مفت ہوا کرتی تھی۔ ہسپتال اور تعلیمی ادارے عوام کے لئے مفت ہوا کرتے تھے۔دنیا بھر میں قاہرہ، بغداد، دمشق، بخارا اور دہلی کی دھوم مچی ہوئی تھی۔اس دور کے یورپی لوگوں کے سفرنامے پڑھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ذہین لوگ مسلمانوں کے شہروں میں جا بسنے کی حسرت رکھا کرتے تھے۔

موجودہ دور میں یہ معاملہ الٹ ہو چکا ہے۔ اگر شہری سہولتوں کا جائزہ لیا جائے تواب مسلم دنیا کے خاص طور پر بڑے شہروں کا شمار گندے شہروں میں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے لوگوں کی خواہش ہے کہ انہیں ٹورنٹو، لندن، نیو یارک، پیرس، یا سنگا پور میں رہنے کا موقع ملے۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارے ہاں تعمیری شعور کا فقدان ہے۔ہمارے ہاں یہ شعور کم ہی پایا جاتا ہے کہ ہم جہاں رہیں، صفائی کا خیال رکھیں۔ سڑکوں اور گلیوں کو تجاوزات سے پاک رکھیں۔ ماحول میں دھویں اور شور کے ذریعے آلودگی پھیلانے سے گریز کریں۔ترکی کے شہر اس معاملے میں مسلم دنیا کے باقی ممالک کے شہروں سے بہت بہتر نظر آ رہے تھے۔

سیواس شہر میں ایک مدرسہ بھی تھا جس کی تاریخ تعمیر 1271ء بیان کی جاتی ہے۔ یہ کم و بیش اسی دور کا تھا جب ارض روم کا مدرسہ تعمیر کیا گیا۔ افسوس کہ اس وقت مجھے اس کا علم نہ تھا جس کی وجہ سے ہم یہ مدرسہ نہ دیکھ سکے۔

تاریخ میں سیواس کی ایک اور وجہ شہرت تیمور لنگ اور عثمانیوں کے درمیان جنگ ہے۔ تیمور اگرچہ خود بھی نام کا مسلمان تھا مگر یہ وہ بادشاہ ہے جس نے ہندوستان سے لے کر ترکی تک خون کی ندیاں بہا دی تھیں۔ سلطان بایزید یلدرم کے دور میں اس نے ترکی پر یلغار کی۔ سیواس کے مقام پر اس کی جنگ بایزید کے بیٹے ارطغرل سے ہوئی۔ اس جنگ میں تیمور کو فتح ہوئی۔ اس جنگ میں تیمور نے چار ہزار ترک جنگی قیدی بنائے جنہیں اس کے حکم سے زندہ زمین میں دفن کر دیا گیا۔

اناطولیہ کی فتح

ارزنجان اور شیواس کے درمیان کے پہاڑوں وہ دریا نکلتے ہیں جو جنوب میں جھیل الازغ میں پہنچتے ہیں۔ اس جھیل کے بعد یہ دریا دجلہ اور فرات کا نام اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وہ دریا ہیں جن کے کناروں پر چل کر مسلمانوں نے کئی مرحلوں میں اناطولیہ فتح کیا تھا۔ بہتر ہو گا کہ ہم اس مقام پر اس کی تفصیل بیان کرتے چلیں۔

عہد رسالت میں اناطولیہ کے زیادہ تر حصے پر رومیوں کی حکومت تھی۔ اس کے مشرقی حصے پر ایران کی ساسانی سلطنت کا قبضہ تھا۔ اس دور کی حکومتوں کا اصول یہ تھا کہ رعایا بادشاہ کے مذہب پر ہو گی۔ اگر کوئی شخص بادشاہ کے مذہب سے اختلاف کرتا تو اس کی سزا موت تھی۔ یہ مذہبی آزادی کی بجائے مذہبی جبر (Persecution) کا دور تھا۔ اگر کبھی کوئی بادشاہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو اپنے علاقے میں رہنے کی اجازت بھی دے دیتا، تب بھی انہیں دوسرے درجے کے شہری ہی تصور کیا جاتا تھا۔

اللہ تعالی نے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی قوم پر اتمام حجت کے بعد عرب اور اس کے گرد و نواح میں ایک ایسا خطہ قائم کرنے کا حکم دیا تھا جس میں ہر انسان کو مذہبی آزادی حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گرد و نواح کے بادشاہوں کو خطوط لکھ کر انہیں اسلام کی دعوت پیش کر دی تھی۔ ان بادشاہوں میں سے صرف حبشہ کے بادشاہ نجاشی رضی اللہ عنہ ایسے حکمران تھے جو ایمان لا سکے تھے۔

انسانوں کو مذہبی آزادی دلانے اس خدائی مشن کو پورا کرنے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ راشد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وقت کی دو سپر پاورز روم اور ایران کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایران کی سلطنت مکمل طور پر ختم ہو گئی اور یہاں کے باشندوں کو مکمل مذہبی آزادی نصیب ہو گئی۔ آپ ہی کے دور میں روم کی بازنطینی حکومت کو شام، فلسطین اور مصرمیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ عراق اور شام پر ایک مستحکم حکومت قائم کرنے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے باقی ماندہ علاقوں کی طرف توجہ دی۔

اناطولیہ پر مسلمانوں نے دو طرف سے یلغار کی۔ ایک طرف تو عراق میں مسلمان دجلہ اور فرات کے بہاؤ کے مخالف اوپر کی جانب بڑھنے لگے۔ دوسری طرف شام سے شمال میں یلغار کا آغاز کیا گیا۔اس زمانے میں عرب دجلہ و فرات کے شمالی حصے کے درمیانی علاقے کو "الجزیرہ" کہا کرتے تھے۔ اس لشکر کی قیادت سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی۔ انہوں نے یہ پورا علاقہ فتح کر لیا جس میں موجودہ ترکی کے شہر دیار بکر اور سان عرفہ شامل تھے۔ ان کی فوجیں شمال میں سفر کرتے کرتے ارزنجان تک پہنچ گئیں جو بغیر کسی جنگ کے فتح ہو گیا۔اس کے بعد مسلمانوں کی پوری توجہ مشرق کی طرف ہو گئی جس کے نتیجے میں آرمینیا اور آذر بائیجان کے جنوبیعلاقے فتح ہوئے۔

جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے گورنر بنے تو انہوں نے ایک مہم مشرقی ترکی کی طرف روانہ کی۔ اس مہم کے دوران مسلم افواج فرات کے مغربی کنارے کے شہر غازی انٹیپ اور ملاطیہ کو فتح کرتے ہوئے ارض روم تک جا پہنچیں۔ یہاں عراق سے آنے والی افواج ان میں مل گئیں۔ اس کے بعد ان افواج نے شمالی آرمینیا کو فتح کر لیا۔ ان فتوحات کے نتیجے میں اناطولیہ کا 30% حصہ مسلمانوں کے پاس آ گیا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں رومی افواج نے حملہ کر کے آرمینیا واپس لینے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ انتظامی اعتبار سے اعلی صلاحیتوں کے حامل تھے۔ آپ کی روانہ کردہ افواج نے ترابزن تک کا علاقہ فتح کر لیا۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے بحری فوج قائم کرنے کی اجازت طلب کی مگر مناسب سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث آپ نے یہ اجازت دینے سے انکار کر دیا۔سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کو اس کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک زبردست بحری فوج تیار کی اور بحیرہ روم کے ان جزیروں کو فتح کرنا شروع کر دیا جو اس وقت رومن ایمپائر کے قبضے میں تھے۔ ان میں جزیرہ قبرص (Cyprus) اور روڈس سب سے اہم تھے۔

مسلم فتوحات (بشکریہ www.faculty.cua.edu )

اناطولیہ کے باقی حصے میں خلافت راشدہ کے دور میں مسلمان نہ پہنچ سکے تھے البتہ قیصر روم کے مرکزی شہر قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) پر انہوں نے کئی مرتبہ یلغار کی۔ پہلی یلغار عہد عثمانی میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کی۔ اس جنگ میں مسلمان بحری راستے سے قسطنطنیہ پہنچے۔ ان مہمات میں قسطنطنیہ فتح نہ ہو سکا۔اس کے بعد بنو امیہ کے دور کی فتوحات میں زیادہ تر زور اسی پر رہا کہ قسطنطنیہ فتح کیا جا سکے۔ مسلمانوں نے بالعموم اناطولیہ کے اندرونی علاقے کو نظر انداز کر دیا۔ اس مقصد میں کامیابی نہ ہو سکی۔بعض ساحلی شہر مسلمانوں کے قبضے میں آتے اور نکلتے رہے۔ترکی کو چھوڑ کر اس کے بعد یونان اور اٹلی کے بعض علاقے مسلمانوں کے قبضے میں آ گئے۔اٹلی کا جزیرہ سسلی ایک طویل عرصے تک مسلمانوں کے قبضے میں رہا۔

اس کے تین چار سو سال بعد سلجوقیوں نے اناطولیہ کا اکثر حصہ فتح کر لیا مگر یہ بھی قسطنطنیہ فتح نہ کر سکے۔ بعد میں جب انہیں عثمانی ترکوں سے شکست ہوئی تو ترکی پر عثمانیوں کا اقتدار قائم ہو گیا۔ بالآخر عثمانی بادشاہ سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کر کے پورے اناطولیہ پر مسلم حکومت قائم کر دی۔

اگر مسلم دور کی ان تمام فتوحات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی فتوحات کی بنیادی وجوہات دو تھیں۔ ایک تو یہ کہ مسلمان ٹیکنالوجی کے اعتبار سے اپنی حریف قوموں سے بہتر تھے۔ دوسری قوموں کے مقابلے میں ان کی تعداد اگرچہ کم ہوتی تھی مگر ان کی تنظیم اور تیاری بہت بہتر ہوا کرتی تھی۔

مسلمانوں کی فتوحات کی دوسری وجہ ان کی اخلاقی حالت تھی۔ اس دور کے مسلمان اپنے حریفوں کے مقابلے میں اخلاق میں بہت بہتر ہوا کرتے تھے۔رومیوں نے اپنے ہم مذہب عیسائیوں پر کثیر تعداد میں ٹیکس لگا رکھے تھے۔ یہودیوں کے ساتھ ان کا رویہ بہت ہی خراب تھا اور انہیں مسلسل مذہبی جبر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس کے مقابلے میں مسلمان کھلے دل کے مالک تھے۔ ان کی سلطنت میں غیر مسلموں کو معمولی سے جزیہ کی ادائیگی کے بعد مکمل تحفظ حاصل ہوتا۔ ان پر عسکری نوعیت کی کوئی ذمہ داری نہ ہو کرتی تھی۔ ان پر دشمن کے حملے کی صورت میں دفاع مسلمانوں کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی۔ مذہبی معاملات میں انہیں مکمل آزادی حاصل ہوتی تھی۔

حمص کی فتح کے بعد مسلمانوں نے وہاں جزیہ وصول کیا۔ کسی وجہ سے انہیں یہ شہر چھوڑ کر جنگ کے لئے جانا پڑا تو انہوں نے شہر کے غیر مسلم باشندوں کو جزیہ کی رقم واپس کر دی۔ شہر کے باشندے رو پڑے کہ خدا تمہیں واپس لائے۔ ہمیں قیصر کی نسبت تم عزیز ہو جنہوں نے ہمیں بھاری ٹیکسوں سے نجات دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مقامات پر ان غیر مسلموں نے مسلمانوں کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مسلمانوں کے لئے جاسوسی کرنا، ان کی فوج کو خوراک فراہم کرنا، ان کے لئے راستے صاف کرنا اور ان میں پل بنانا، یہ سارے کام غیر مسلم انجام دیا کرتے تھے۔

جب تک مسلمان علمی اور اخلاقی اعتبار سے دوسری قوموں سے بہتر رہے، تب تک ان کی فتوحات کا دائرہ پھیلتا رہا۔ جب دوسری قومیں ان میدانوں میں ان سے آگے بڑھ گئیں تو وقت کا پہیہ مخالف سمت میں گردش کرنے لگا اور مسلمان مغلوب ہوتے چلے گئے۔

یوزگت اور حتی دور

اب بورڈز پر سیواس کی بجائے یوزگت کا نام نظر آ رہا تھا۔ ہم صبح سے اب تک 600 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر چکے تھے مگر انقرہ کے ابھی بورڈ تک آنا ابھی شروع نہ ہوئے تھے۔ کچھ دیر کے بعد ہم یوزگت جا پہنچے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے قریب حتی دور کے کچھ آثار موجود ہیں۔ افسوس کہ ہم یہ آثار بھی نہ دیکھ سکے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس راستے سے سفر ہمارے منصوبے میں شامل نہ تھا جس کی وجہ سے یہاں آنے سے قبل میں اس راستے پر موجود شہروں کے بارے میں معلومات اکٹھی نہ کر سکا تھا۔ بہرحال یہ کمی انقرہ کے عجائب گھر میں پہنچ کر دور ہو گئی۔ حتیوں نے اناطولیہ پر 1600-1200 قبل مسیح کے دور میں حکومت کی ہے۔

یوزگت کے قریب "ہاتوشا"کے آثار ملتے ہیں جو کہ حتی سلطنت کا دارالحکومت تھا۔ یہاں کے آثار سے پتھر کی سل پر لکھا ہوا ایک تحریری معاہدہ دریافت ہوا ہے جو کہ حتیوں کے بادشاہ اور فرعون مصر کے درمیان تھا۔ یہاں بعض ایسی سلیں بھی ملی ہیں جن پر ملک کا قانون درج تھا۔ غالباً عوام کی اطلاع کے لئے یہ سلیں کسی مرکزی چوک وغیرہ میں نصب کی جاتی ہوں گی۔ حتیوں نے اپنے دور میں ایک جاگیردارانہ معاشرہ قائم کیا جس میں غلامی تہہ در تہہ موجود تھی۔ آقا کو غلام کے جسم و روح پر مکمل اختیار حاصل ہوا کرتا تھا۔

کری قلعہ

اب رات ہو رہی تھی اور ہم "کری قلعہ" نامی شہر پہنچ رہے تھے۔ ابھی ہم انقرہ سے سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھے۔ میری خواہش یہ تھی کہ انقرہ کی بجائے اس سے پہلے آنے والے کسی چھوٹے شہر میں قیام کر لیا جائے تاکہ طویل سفر کے بعد بڑے شہر میں ہوٹل ڈھونڈنے کی خواری سے بچا جا سکے۔ میں نے شہر کے اندر جانے والی سڑک پر گاڑی موڑ لی۔ تھوڑی دور جا کر اندازہ ہوا کہ شہر سڑک سے کافی دور ہے۔ یہاں ہر طرف اندھیرا تھا اور دور دور تک کوئی روشنی نظر نہ آ رہی تھی چنانچہ واپس مڑے اور واپس انقرہ والی سڑک پر آ پہنچے۔

انقرہ سے کچھ پہلے الما داغ کے مقام پر ایک بڑا سروس اسٹیشن تھا۔ ہم نے مناسب یہی سمجھا کہ یہیں کھانا کھا لیا جائے تاکہ انقرہ پہنچ کر کم از کم کھانا ڈھونڈنے کی خواری سے بچا جا سکے۔ یہ ایک بڑا سروس اسٹیشن تھا جس پر بہت زیادہ چہل پہل نظر آ رہی تھی۔ یہاں ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد بھی بنی ہوئی تھی جس کا اندرونی حصہ ترکی کی روایت کے مطابق خوب چمکیلے اور بھڑکیلے نقش و نگار سے سجا ہوا تھا۔

نماز سے فارغ ہو کر ہم یہاں موجود ہوٹل کے فیملی ہال میں جا گھسے۔ یہاں زیادہ تر لوگ باہر ہی میزوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس ہوٹل میں ہم نے ترکی کے پورے سفر کا سب سے مزیدار کھانا کھایا۔ بکرے کی چانپوں کے تکے اور قیمے کے ساتھ سرخ مرچوں کی چٹنی نے بہت لطف دیا۔

کھانا کھا کر ہم دوبارہ روانہ ہوئے۔تھوڑی دور جا کر سامسن سے آنے والی سڑک ہم سے آ ملی۔ اب انقرہ نزدیک آ رہا تھا مگر ہر طرف سنسانی چھائی ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر میں انقرہ پہنچ گئے۔ اس پورے سفر میں ہمارے ساتھ ساتھ ریلوے لائن چل رہی تھی جس پر کئی مقامات پر آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ٹرینیں بھی نظر آتی رہی تھیں۔ یہاں کی پٹری تنگ گیج کی تھی جس کی وجہ سے ٹرین کی رفتار کچھ زیادہ نہ تھی۔ تارڑ صاحب اپنے سفر کے دوران اسی ٹرین کے ذریعے 24 گھنٹے میں ارض روم سے انقرہ پہنچے تھے۔ اب بھی ان ٹرینوں کے حالات کچھ ایسے حالات ہی لگ رہے تھے۔ یہی سفر ہم نے کار میں محض 10 گھنٹے میں طے کر لیا تھا۔

میرا خیال تھا کہ یہ بڑا شہر ہے ، اس لئے رات گئے تک کھلا رہتا ہو گا مگر یہاں بھی وہی معاملہ تھا۔ دس بجے پورا شہر بند پڑا تھا۔ کافی دیر کسی ہوٹل کی تلاش میں جھک مارنے کے بعد بالآخر ایک ٹیکسی ڈرائیور کے پیچھے لگ کر ایک ہوٹل میں پہنچے جس کے نتیجے میں کرایہ زیادہ ادا کرنا پڑا۔ کہنے کو تو یہ تھری اسٹار ہوٹل تھا مگر صفائی کا معیار کچھ زیادہ اچھا نہ تھا۔ ہم نے جلد از جلد سونے کی کوشش کی کیونکہ اگلا دن انقرہ میں کافی مصروفیت کا دن تھا۔

 

اگلا باب †††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

 

مصنف کی دیگر تحریریں

اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا سدباب/سفرنامہ ترکی/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں ††††/†† علوم الحدیث: ایک مطالعہ/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص ††/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟†† /مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت †††/Quranic Concept of Human Life Cycle ††††/Empirical Evidence of Godís Accountability