بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

انقرہ

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 20MB)

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے بغیر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

انقرہ ترکی کا دارالحکومت اور دوسرا بڑا شہر ہے۔اس کی آبادی پچاس لاکھ کے قریب ہےاور سائز کے اعتبار سے یہ ہمارے لاہور کے آس پاس ہے۔ یہ ایک قدیم شہر ہے جس کی تاریخ ساڑھے تین ہزار سال پر پھیلی ہوئی ہے۔ عثمانی بادشاہت کے خاتمے کے بعد اس شہر کو ترکی کا دارالحکومت قرار دے دیا گیا۔

انقرہ یونیورسٹی

صبح اٹھ کر ہم ناشتے کے لئے نیچے ہال میں آ گئے۔ ناشتہ کمرے کے کرائے میں شامل تھا اور کافی اچھا تھا۔ہمارا پروگرام یہ تھا کہ سب سے پہلے انقرہ یونیورسٹی کا دورہ کیا جائے تاکہ یہاں کے کچھ اہل علم سے ملاقات ہو سکے۔ اس کے بعد انقرہ کے میوزیم دیکھے جائیں۔ میں نے ہوٹل کے ملازمین سے انقرہ یونیورسٹی کے بارے میں پوچھا تو یہ لوگ سوچ میں پڑ گئے۔ کافی دیر ایک دوسرے سے مشورہ کرنے کے بعد انہوں نے اشاروں کے ذریعے مجھے راستہ سمجھانے کی کوشش کی۔ ان کی کوششوں کا فائدہ بس یہ ہوا کہ ہمیں یونیورسٹی کی سمت کا اندازہ ہو گیا۔

ہوٹل سے باہر نکل کر ہم نے یونیورسٹی کی تلاش شروع کی۔ شروع شروع اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے گاڑی روک کر ایک پولیس والے سے یونیورسٹی کا راستہ معلوم کرنے کی کوشش کی۔ یہ صاحب نجانے کیا سمجھے کہ نہایت ہی ترحم آمیز انداز میں باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر ہمیں دعائیں دینے لگے۔ ہم مختلف سڑکوں پر گردش کرنے لگے۔ ہر سڑک پر ایک ہی بورڈ ہمارا منہ چڑا رہا تھا جس پر "انیت کبیر" لکھا ہوا تھا۔ ہم جس طرف بھی رخ کرتے، یہی بورڈ ہمارے سامنے آ جاتا ، بس تیر کا رخ مختلف ہوتا۔ یہ دراصل مصطفی کمال کے مقبرے کا بورڈ تھا جس میں ہمیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔

ایک جگہ ہمیں ایک بڑی سی عمارت نظر آئی جو دیکھنے میں اسٹیٹ بنک یاپارلیمنٹ ہاؤس سے مشابہ تھی۔ یہاں دھڑا دھڑ لوگ آ جا رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ شاید یہاں کوئی انگریزی بولنے والا مل جائے جس سے یونیورسٹی کا پوچھا جا سکے۔ میں جب اس عمارت میں داخل ہوا تو یہ پارلیمنٹ ہاؤس کی بجائے ریلوے اسٹیشن نکلا۔ یہاں بھی کوئی انگریزی بولنے والا نہ مل سکا۔

اچانک مجھے ایسا چوک نظر آیا جو کہ ہمارے لاہور کے جی پی او چوک سے مشابہ تھا۔ جی پی او چوک کے پاس ہی پنجاب یونیورسٹی کا اولڈ کیمپس ہے۔ میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ انقرہ یونیورسٹی کا کیمپس بھی پاس ہی ہو۔ میرا خیال سچ مچ درست ثابت ہوا۔ یہاں ایک صاحب پیدل چلے جا رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھاتو کہنے لگے، "یونیورسی ٹیسی؟" میں شش و پنج میں پڑ گیا۔ یونیورسٹی کی حد تک تو معاملہ ٹھیک تھا مگر یہ "ٹیسی"کیا بلا ہے؟ انہوں نے اپنا کارڈ نکالا اور مجھے دکھایا جس پر ترکی زبان میں Univertisitesi لکھا ہوا تھا۔ارے، یہ صاحب تو یونیورسٹی کے ایڈمن اسٹاف میں شامل تھے۔ میرے لئے تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ میرا دل چاہا کہ ان صاحب کو کسی طرح قابو کر کے ساتھ بٹھا لوں اور اس وقت تک ان کی جان نہ چھوڑوں جب تک یہ ہمیں منزل مقصود تک نہ پہنچا دیں۔

ان صاحب سے مدد حاصل کرنے سے متعلق میرا تمام تر جوش ان کے مقابلے میں کچھ نہ تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ہماری مدد کرنے کے لئے اتنے بے قرار ہیں جتنے ہم نہیں ہیں۔ یہ ترکوں کی مخصوص مہمان نوازی تھی۔ ماریہ کی سرگرمیوں کی بدولت کار کا پچھلا حصہ کسی کباڑ خانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ سامان کو ادھر ادھر کر کے میں نے جگہ بنائی اور ان سے درخواست کی کہ ہمارے ساتھ کار میں بیٹھ جائیں۔انہیں ساتھ بٹھانے کا کوئی خاص فائدہ نہ ہوا کیونکہ چند ہی قدم کے فاصلے پر یونیورسٹی کا اولڈ کیمپس تھا جو اسی زمانے کا بنا ہوا نظر آ رہا تھا جب لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کا نیو کیمپس بنا ہو گا۔ وہ ہمیں اندر لے گئے اور ایک جگہ رکوا کر اندر سے ایک نہایت ہی مہذب اور نستعلیق قسم کے صاحب کو بلا لائے۔یہ صاحب شکل سے ہی پروفیسر نظر آ رہے تھے اور بڑی شستہ انگریزی میں گفتگو فرما رہے تھے۔ تعارف ہونے پر معلوم ہوا کہ یہ فزکس ڈیپارٹمنٹ ہے۔ میں نے ان سے "تھیالوجی ڈیپارٹمنٹ" کے بارے میں پوچھا۔

پروفیسر صاحب کہنے لگے: "وہ الہیات ڈیپارٹمنٹ کہلاتا ہے۔" میں خوش ہو گیا کیونکہ اردو میں بھی تھیالوجی کو الہیات ہی کہا جاتا ہے۔ کہنے لگے، "یہ اصل میں فیکلٹی آف سائنس ہے۔ یہاں ارد گرد کیمسٹری، فزکس اور فارمیسی ڈیپارٹمنٹس ہیں۔ الہیات کا شعبہ آرٹس کیمپس میں ہے جو یہاں سے قریب ہی ہے۔ انہوں نے مجھے راستہ سمجھا دیا اور بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ الوداع کہا۔ جو صاحب ہمیں لے کر آئے تھے، وہ پروفیسر صاحب کو کچھ کہہ کر دوبارہ ہمارے ساتھ آ بیٹھے اور کہنے لگے، "میں آپ کو وہاں پہنچا کر آؤں گا۔" چند منٹ میں ہم آرٹس کیمپس پہنچ گئے۔ الہیات کے شعبے میں پہنچ کر وہ اتر گئے۔ میں نے ان سے بہت کہا کہ میں آپ کو واپس چھوڑ آتا ہوں مگر پرزور طریقے سے انکار کرتے ہوئے سلام کر کے وہ واپس چلے گئے۔

الہیات ڈیپارٹمنٹ کی بلڈنگ بھی کافی پرانی تھی اور ماحول کے اعتبار سے یہ واقعی مذہبی تعلیم کا ادارہ نظر آ رہا تھا۔ ریسپشن پر ایک خاتون تشریف فرما تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا: "کیا کسی انگریزی بولنے والے اسکالر سے ملاقات ہو سکتی ہے؟" وہ کچھ دیر حیرت سے ہمیں دیکھتی رہیں۔ سوچ رہی ہوں گی کہ یہ کون عجیب آدمی ہے جو بیوی بچوں کے ساتھ یہاں آ کر اسکالر کا پوچھ رہا ہے۔اس کے بعد انہوں نے ایک نمبر ملایا اور کچھ گفتگو کرنے کے بعد ہمیں فرسٹ فلور پر جانے کا کہہ دیا۔

ڈاکٹر شعبان علی ڈوزگون سے ملاقات

اوپر پہنچے تو ایک صاحب ہمارے منتظر تھے جو اپنے رکھ رکھاؤ سے ہی اعلی درجے کے اسکالر نظر آ رہے تھے۔انہوں نے ہمارا پرتپاک استقبال کیا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں تو ان کی گرمجوشی میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ تعارف سے معلوم ہوا کہ ان کا نام ڈاکٹر شعبان علی ڈوزگون ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔ یہ وہی یونیورسٹی ہے جہاں مشہور مستشرق جان ایل ایسپوزیٹو جیسے اسکالر فیکلٹی کا حصہ ہیں۔

عام مستشرقین کے برعکس ایسپوزیٹو غیر متعصب اور کھلے ذہن کے مالک ہیں۔ نے "مسلم کرسچن انڈر اسٹینڈنگ" کے نام سے ایک ادارہ بنایا ہوا ہے جو اہل مغرب کو اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ یہ ادارہ پرانے مستشرقین کی طرح متعصبانہ طریقہ اختیار کرنے کی بجائے کھلے ذہن سے اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے میں مصروف ہے۔ان کی کوشش ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان احترام اور انسانیت کے تعلقات قائم کیے جائیں۔ اس ادارے کی ویب سائٹ کا ایڈریس ہے :

www.cmcu.georgetown.edu

ڈاکٹر شعبان ہمیں لے کر اپنے دفتر میں آ گئے۔ یہ ایک لمبوترا سا خاصا بڑا کمرہ تھا جس کی دو دیواروں کے ساتھ صرف کتابوں کے ریک لگے ہوئے تھے۔کتابوں میں ناصر الدین البانی کی "ارواء الغلیل" اور ابن تیمیہ کا "مجموعۃ الفتاوی" نمایاں تھے۔ ایک جانب الہ دین کے چراغ کی طرز کا ایک چراغ پڑا ہوا تھا۔ایک کونے میں کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا تھا جس میں الیکٹرک کیتلی، چائے، بسکٹ اور اس قبیل کی چیزیں شامل تھیں۔ دوسرے کونے میں ایک ستار بھی رکھی ہوئی تھی۔

ڈاکٹر صاحب سے تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں بہت سے مذہبی موضوع زیر بحث آئے۔ میں نے خاص طور پر ان سے ترکی اور اسلام کے حوالے سے بات چیت کی۔ ڈاکٹر صاحب نے خاص طور پر غیر مسلموں کو اسلام سے متعارف کروانے کے لئے انگریزی زبان میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے Uncovering Islam ۔ اس کتاب میں انہوں نے دین کے بنیادی تصورات،اعمال اور تاریخ کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں اسلام اور انسانیت کے تعلق کو بیان کیا ہے۔

ان کی یہ کتاب http://www.diyanet.gov.tr/English/web_kitap.asp?yid=30 پر دستیاب ہے۔ ترکی کی مذہبی زندگی کے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اگرچہ ترکی کی حکومت نے سختی سے سیکولر ازم کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے مگر اس کے باوجود حکومت نے مصطفی کمال کے زمانے سے ہی "دیانت" کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہوا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف ترکی بلکہ یورپ کے مختلف ممالک بالخصوص جرمنی میں موجود مساجد کا انتظام کرتا ہے۔ ملک بھر میں یونیورسٹیوں کے الہیات ڈیپارٹمنٹ کا تعلق دیانت سے ہے۔ بیرون ملک مقیم ترک عام طور پر زیادہ دین دار ہیں۔ یہ ان یونیوسٹیوں میں آ کر دین کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر واپس یورپی ممالک میں جا کر دعوتی و تبلیغی کام سر انجام دیتے ہیں۔ جرمنی میں اسلام کا تعارف انہی لوگوں کے ذریعے پہنچ رہا ہے۔

ترکی کی موجودہ حکومت کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کی لیڈر شپ دینی اعتبار سے اعلی تعلیم یافتہ ہے۔ترکی کا مسئلہ بھی بڑی حد تک پاکستان سے مشابہ ہے کہ وہاں فوج سیاست میں مداخلت کرتی رہتی ہے۔ لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور فوج کی مداخلت ملکی معاملات میں کم ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت نے بڑی حد تک سیکولر فاشسٹ پالیسیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب یونیورسٹیوں کے دروازے ان خواتین کے لئے کھل گئے ہیں جو کہ دین پر عمل کرتے ہوئے حجاب لینا چاہتی ہیں۔

ترکی کی دینی تحریکوں اور مکاتب فکر کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہاں غالب اکثریت حنفیماتریدی مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ یہاں کی دینی تحریکیں بہت مضبوط اور متحرک ہیں۔ جب سیکولر فاشسٹوں کی طرف سے انہیں پابندیوں کا سامنا ہوتا ہے تو یہ تحریکیں انڈر گراؤنڈ ہو جاتی ہیں۔ جب مذہبی آزادی کا دور آتا ہے تو یہ لوگ دوبارہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ تصوف کے میدان میں غالب اکثریت نقشبندی سلسلے سے تعلق رکھتی ہے اگرچہ قادری سلسلہ بھی یہاں موجود ہے۔ نقشبندی حضرات کاروبار اور بینکنگ کے میدان میںچھائے ہوئے ہیں اور ملک کی معیشت پر ان کا کنٹرول غالب ہے لیکن یہ حضرات موجودہ نظام میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔

میں نے ان سے پوچھا: "ترکی میں جو وقت گزارا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اخلاقی اعتبار سے ترک بہت اچھے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟" کہنے لگے، "یہ بات میرے لئے فخر کا باعث ہے کہ آپ کی یہ رائے ہے۔ یہ بات درست بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں خاندانی اور کمیونٹی کا نظام بہت مضبوط ہے۔ اس نظام کے تحت ہر شخص میں مضبوط اخلاقی اقدار راسخ کر دی جاتی ہیں۔" ان کی یہ بات ہمارے لئے خوشی کا باعث تھی کہ مغرب زدگی کو اس حد تک مسلط کر دینے کے باوجود ترکی میں خاندان کا ادارہ تباہ نہ ہوسکا ہے بلکہ اپنی پوری جڑوں کے ساتھ موجود ہے۔

ڈاکٹر شعبان کو اچانک خیال آیا کہ انہوں نے ہم سے کچھ کھانے کے لئے نہیں پوچھا۔ وہ فوراً کھڑے ہو گئے اور بولے، "آپ کیا لینا پسند کریں گے؟ میں آپ کو چائے اور بسکٹ پیش کر سکتا ہوں۔" ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا مگر انہوں نے اپنے اسٹاک سے بسکٹوں کا ایک ڈبہ برآمد کیا اور خاص طور پر اسے ماریہ کو پیش کر دیا۔

حدیث پراجیکٹ

کچھ عرصہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے متعلق انقرہ یونیورسٹی کے ایک پراجیکٹ کی خبر اخباروں میں آئی تھی۔ مغربی میڈیا نے اس پراجیکٹ کو "Radical Reinterpretation of Islam" کے عنوان سے تعبیر کیا تھا۔میں خاص طور پر اس پراجیکٹ سے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ڈاکٹر شعبان کہنے لگے کہ یہ پراجیکٹ انقرہ یونیورسٹی کا نہیں ہے بلکہ دیانت کا ہے۔ اس کام کے لئے انہوں نے ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں کے اسکالرز کی مدد حاصل کی ہے۔

مغربی میڈیا نے اپنے مقاصد کے لئے اس پراجیکٹ کو بدنام کر دیا ہے۔ اس ضمن میں پراجیکٹ کی ویب سائٹ www.hikem.net پر ایک تفصیلی پریس ریلیز شائع کی گئی ہے جس میں بڑے شد و مد سے اس بات کا انکار کیا گیا ہے کہ اس پراجیکٹ کا مقصد ہرگز ہرگز اسلام کی تشریح نو نہیں ہے۔اس پراجیکٹ کا مقصد احادیث کے پورے ذخیرے کوجدید طرز زندگی سے متعلق ابواب میں تقسیم کر کے شائع کرنا ہے۔ اس پراجیکٹ میں محدثین کے طریقے پراحادیث کے ذخیرے کا درایت و روایت کے نقطہ نظر سے جائزہ لینا ہے۔اس معاملے میں قدیم محدثین کے قائم کردہ اصولوں کی روشنی میں احادیث کے ذخیرے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

قارئین کی دلچسپی کے لئے عرض کرتا چلوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی بات کو منسوب کرنے کا معاملہ بہت ہی نازک ہے۔ ایک حدیث کے مطابق جو شخص حضور سے کسی بات کو غلط طور پر منسوب کرے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم اہل علم نے حدیث کے بارے میں بے پناہ احتیاط سے کام لیا ہے۔ کسی بات کے بارے میں یہ اطمینان کرنے کے لئے کہ اس کی نسبت واقعتاً حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درست ہے یا نہیں، بنیادی طور پر دو طریقے اختیار کیے گئے ہیں۔ ان طریقوں کو "روایت" اور "درایت" کا نام دیا گیا ہے۔

روایت کے طریقوں کے مطابقیہ دیکھا جاتا ہے کہ حدیث روایت کرنے والے کون لوگ ہیں؟ کیا وہ قابل اعتماد ہیں یا نہیں؟ ان کی عمومی شہرت کیسی ہے؟ اگر کسی راوی کے بارے میں ذرا سا بھی شک پڑ جائے تو یہ حدیث ناقابل قبول کے درجے میں آ جاتی ہے۔ درایت کے طریقوں میں حدیث کے متن کا جائزہ لیا جاتا ہےکہ اس حدیث میں بیان کردہ بات قرآن مجید، دیگر صحیح احادیث اور عقل عام کے مطابق ہونی چاہیے۔ اگر اس میں کوئی تضاد پایا جائے تو اس حدیث کو "شاذ" قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ حدیث کو مسترد کرنے کا معنی یہ نہیں کہ معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رد کیا جائے ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس حدیث کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نسبت درست نہیں ہے یا آپ کی بات کو صحیح طور پر بیان نہیں کیا گیا ہے۔ اس فن کی تفصیل آپ میری کتاب علوم الحدیث : ایک مطالعہ میں دیکھ سکتے ہیں۔

کچھ دیر ان سے گفتگو کے بعد ہم باہر نکلے۔ میری اہلیہ اس گفتگو سے کافی بور ہو رہی تھیں۔ اس لئے وہ نیچے گاڑی میں جا کر بیٹھ گئیں جبکہ میں کسی اور اسکالر کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ ان دنوں چھٹیاں تھیں۔ اس وجہ سے زیادہ تر کمرے بند تھے۔ ایک کمرہ کھلا نظر آیا تو میں اس میں داخل ہو گیا۔

مخطوطات پر تحقیق

یہاں ایک اور اسکالر تشریف فرما تھے۔ ان سے تعارف پر معلوم ہوا کہ ان کا نام ڈاکٹر حسین عطائی تھا۔ یہ "عطائی" اس معنی میں نہیں ہے جس میں ہمارے ہاں عطائی ڈاکٹر اور حکیم ہوتے ہیں۔ یہ ان کا نام تھا یا کسی صوفی سلسلے کی نسبت ہو گی۔ انہیں انگریزی سے واقفیت نہیں تھی۔ اس وجہ سے ان سے گفتگو عربی میں ہوئی۔ ڈاکٹر حسین بغداد اور دمام کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم رہے تھے۔ ان کا خاص میدان "اصول الفقہ" تھا۔ انہوں نے ڈاکٹر شعبان کے ساتھ مل کر امام نسفی کی اصول الفقہ پر ایک کتاب کو ایڈٹ کر کے شائع کروایا تھا۔

قارئین کی دلچسپی کے لئے عرض کروں کہ قدیم کتب کو ایڈٹ کرنا ایک بہت بڑا فن ہے۔ قرون وسطی میں جب پرنٹنگ پریس ایجاد نہیں ہوا تھا، تمام کی تمام کتب ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں۔ ایک مصنف ہاتھ سے کتاب لکھتے ۔ اس کے بعد ان کے شاگرد یا قریبی لوگ، ان کی لکھی ہوئی کتاب سے اپنے لئے نسخے تیار کر لیتے۔ اگر کتاب کی اشاعت بڑے پیمانے پر کرنا مقصود ہوتی تو اسے پروفیشنل کاتبوں کے حوالے کر دیا جاتا جو کتاب کا ایک ایک نسخہ اپنے ہاتھ سے لکھا کرتے تھے۔ جو لوگ اس کتاب سے دلچسپی رکھتے ، وہ ان نسخوں کو خرید لیا کرتے تھے۔ہاتھ سے لکھے ہوئے ان نسخوں کو مخطوطات (Manuscripts) کہا جاتا ہے۔

جدید دور میں جب پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا تو اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ قدیم اہل علم کی کتابوں کو جدید دور کے معیار پر شائع کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں قدیم مخطوطات پر تحقیق کرنے کا آغاز ہوا۔ یہ مخطوطات یا تو مختلف لائبریریوں میں محفوظ تھے یا پھر اہل ذوق نے انہیں اپنے ذاتی کتب خانوں میں شامل کر رکھا تھا۔ بہت سے مخطوطات عجائب گھروں میں موجود تھے۔اس بات کی ضرورت تھی کہ دنیا بھر میں موجود مخطوطات کی ایک فہرست تیار کی جائے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں مسلمان اسکالرز مستشرقین سے پیچھے رہ گئے۔ ان مستشرقین میں کارل بروکلمان کا نام سرفہرست ہے۔ انہوں نے "تاریخ الادب العربی" کے نام سے پوری دنیا کی لائبریریوں میں موجود مخطوطات کی فہرستیں تیار کیں۔ ان کی تیار کردہ فہرستوں سے آج بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔اس کے بعد بعض اہل علم نے ان فہرستوں میں قابل قدر اضافے کیے ہیں۔ان میں ایک جرمن ترک اسکالر فواد سزکین کی "تاریخ التراث العربی" مشہور ہے۔

مستشرقین (Orientalists) مغربی دنیا کے ان اسکالرز کو کہا جاتا ہے جو مشرقی علوم میں مہارت حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے مختلف اہل علم اپنے اپنے ذوق کے مطابق بدھ مت، ہندو مت، اسلام اور دیگر مشرقی مذاہب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں مستشرقین کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ یہ لوگ صرف اور صرف اسلام دشمن ہوتے ہیں۔ ان کی تصانیف کا مقصد ہی اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یہ استعمار کی سازش ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگرچہ یہ خیال جزوی طور پر درست ہے مگر اس تصویر کا ایک رخ اور بھی ہے۔

یہ بات تو درست ہے کہ مستشرقین کے ایک طبقے نے اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے اور دین اسلام کی تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کو مسخ کر کے پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن پانچوں کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے خالصتاً علمی انداز میں اسلام پر تحقیق کی ہے اور دیانتداری سے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے بہت سوں کو اللہ تعالی نے اسلام قبول کرنے کی توفیق بھی عطا کی ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ اور علوم کے بعض ایسے پہلوؤں پر مستشرقین کی تحقیقات موجود ہیں جن پر مسلمانوں میں سے کسی صاحب علم نے قلم بھی اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ رہے متعصب مستشرقین تو ان کی کتب کوان کے تعصب کے باعث اب خود اہل مغرب مسترد کر چکے ہیں۔

ہمیں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ نظریہ سازش کی دہائی دینے کی بجائے متعصب اور مخلص مستشرقین میں فرق کرتے ہوئے ان کے کام کے مثبت پہلوؤں سے فائدہ اٹھائیں۔ موجودہ دور میں ایک زبردست امکان اس بات کا بھی موجود ہے کہ مخلص مستشرقین کے ذریعے ہم اسلام کی دعوت ان کی اقوام تک پہنچا سکتے ہیں۔ہر قوم کے لوگ باہر کے لوگوں کی نسبت اپنے اہل علم کی کتابیں پڑھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اگر مستشرقین تک صحیح دینی علم پہنچا دیا جائے تو ان کے ذریعے اسلام کی دعوت ان کی اقوام میں پھیل سکتی ہے۔ اس طرف کم ہی لوگوں نے توجہ دی ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کے پرنس ولید بن طلال نے واشنگٹن میں "مسلم کرسچن انڈر اسٹینڈنگ سنٹر" قائم کیا ہوا ہے جس کے سربراہ جان ایل ایسپوزیٹو ہیں۔ اس طرز کے مزید ادارے قائم ہونے چاہییں تاکہ اسلام کی دعوت کو غیر مسلموں کے سامنے انہی کے علماء کے ذریعے پہنچایا جا سکے۔

خیر بات مخطوطات کی ہو رہی تھی۔ جب کوئی اسکالر کسی قدیم کتاب پر تحقیق کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے وہ بروکلمان کی تیار کردہ فہرستوں کی مدد سے اس کتاب کے مختلف مخطوطات کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے کہ وہ کہاں کہاں موجود ہیں۔ اصل مخطوطے کا حصول تو ناممکن ہوتا ہے کیونکہ کثرت استعمال سے وہ ضائع ہو سکتا ہے۔اس مسئلے کے حل کے لئے لائبریریوں اور میوزیمز کی انتظامیہ ان مخطوطات کی کاپی مائیکرو فلم یا سی ڈی کی شکل میں فراہم کر دیتی ہے۔ محققین اس کتاب کے ایک نسخے پر انحصار کرنے کی بجائے عموماً زیادہ سے زیادہ نسخے اکٹھے کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ غلطی سے محفوظ رہا جا سکے۔

مخطوطوں کے حصول کے بعد یہ حضرات مختلف نسخوں کا جائزہ لے کر کتاب کو دوبارہ لکھتے ہیں۔ اگر ایک نسخے میں کتاب کا کوئی حصہ موجود نہیں ہے یا اس میں کاتب نے لکھنے میں کچھ غلطی کر دی ہےتو مختلف نسخوں کا جائزہ لے کر درست عبارت کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس کام کے لئے نہ صرف عربی زبان (یا جس زبان میں بھی مخطوطہ موجود ہو) میں مہارت حاصل کرنا ضروری ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس متعلقہ علم میں بھی مہارت حاصل کی جائے جس میں وہ کتاب لکھی گئی ہو تاکہ مصنف کی بات کو درست طور پر سمجھا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کام بالعموم اعلی درجے کے ماہرین سر انجام دیتے ہیں۔ حال ہی میں ان ایڈٹ شدہ کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ انٹرنیٹ پر بلا معاوضہ مہیا کر دیا گیا ہے۔

دیانت کے پراجیکٹس

ڈاکٹر حسین عطائی سے فارغ ہو کر میں واپس ڈاکٹر شعبان کے پاس آیا۔ مجھے خطرہ تھا کہ آگے نجانے کوئی انگریزی بولنے والا ملے یا نہ ملے، اس لئے بہتر ہے کہ اگلی معلومات ان سے ہی حاصل کر لی جائیں۔ میرا ارادہ تھا کہ دیانت کے دفتر کا بھی دورہ کر لیا جائے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ دیانت کے پراجیکٹس کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں۔اس کے علاوہ میری خواہش تھی کہ اگر وہاں حدیث پراجیکٹ پر کام کرنے والے کوئی اسکالر مل جائیں تو ان سے بھی گفتگو کی جا سکے۔

ڈاکٹر شعبان نے اتنے اچھے طریقے سے دیانت کے دفتر کا پتہ بتایا کہ ہم بغیر کسی غلطی کے سیدھے وہاں جا پہنچے۔ یہ دفتر انقرہ سے "اسکی شہر" جانے والی سڑک پر واقع تھا۔ گیٹ پر موجود سکیورٹی گارڈز کو نجانے میری شکل پر کیا نظر آیا کہ انہوں نے بغیر کچھ پوچھے گیٹ کھول دیا۔ ایک نہایت ہی دس منزلہ پرشکوہ عمارت ہماری نگاہوں کے سامنے تھی جس کی وسیع و عریض پارکنگ کسی باغ کا منظر پیش کر رہی تھی۔ہر طرف پھول ہی پھول نظر آ رہے تھے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ "دیانت" ترکی کی حکومت کا ایک ادارہ ہے۔اس ادارے کا مقصد ترکی کے مذہبی امور کی ایڈمنسٹریشن ہے۔

میں نے یہاں بھی ریسپشن پر وہی نسخہ آزمایا کہ کسی انگریزی بولنے والے اسکالر سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے ایک صاحب احمد ساجندی سے کال ملا دی ۔ میں نے ان سے اپنا مدعا بیان کیا تو وہ بولے: "آپ وہیں ٹھہریے، میں نیچے آ رہا ہوں۔" اس کے بعد یہ صاحب مجھے اپنے دفتر میں لے گئے۔ تھوڑی دیر میں ان کے ایک اور کولیگ اردال عطالائی بھی آ گئے۔ ان دونوں نے کافی کوشش کی کہ حدیث پراجیکٹ پر کام کرنے والے کسی اسکالر سے ملاقات کا بندوبست کیا جائے مگر بدقسمتی سے وہاں کوئی دستیاب نہ تھا۔ میں نے ان سے دیانت کے کام کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کافی تفصیلات فراہم کیں۔

انہوں نے بتایا یہ ادارہ نہ صرف ترکی بلکہ یورپ کے مختلف ممالک بالخصوص جرمنی میں موجود مساجد کا انتظام کرتا ہے۔ ان کے زیر انتظام اندرون و بیرون ملک مساجد کی تعداد 75000 سے زائد ہے۔ان مساجد کے ائمہ کی تنخواہیں ترکی کی حکومت ادا کرتی ہے۔ ان مساجد کے ذریعے دین کی دعوت کا کام پورے یورپ میں جاری ہے۔ سیکولر ترکی کا یہ روپ میرے لئے نیا تھا۔انہوں نے مجھے دیانت سے متعلق کچھ بروشر بھی دیے۔

ان بروشرز میں دی گئی معلومات کے مطابق دیانت کوئی تھیوکریٹک ادارہ نہیں ہے۔ یہ محض ایک انتظامی نوعیت کا ادارہ ہے جس کا کام مساجد کا انتظام و انصرام ہے۔ ترکی کے اہل علم کو اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے اور اس کام میں حکومت مداخلت نہیں کرتی۔ دیانت کا ادارہ یونیورسٹیوں کی فیکلٹی آف ڈیوائنٹی کی مدد سے مختلف تحقیقی پراجیکٹس کا اہتمام کرتی ہے تاکہ عوام کو صحیح علم فراہم کیا جا سکے۔بین الاقوامی سطح پر یہ ادارہ دوسرے مذاہب کے اداروں کے ساتھ مل کر ورکشاپس اور کانفرنسز کا اہتمام کرتا ہے تاکہ مذاہب کے درمیان مثبت مکالمے کو فروغ دیا جا سکے۔

دیانت کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر علی بارداکوغلو ہیں۔ احمد نے مجھے ان کی ایک کتاب Religion and Society: New Perspectives for Turkey بھی دی۔ بعد میں میں نے یہ کتاب پڑھی تو بہت دلچسپ محسوس ہوئی۔ قارئین کے لئے ان کی کتاب کے چند اقتباسات پیش کر رہا ہوں تاکہ ان کےخیالات سے ہم بھی آگاہ ہو سکیں۔ صحیح دینی علم کی اہمیت سے متعلق لکھتے ہیں:

اسلام کی روایت میں اہل علم نے معاشرتی انضباط، قومی استحکام اور رائے عامہ کو تیار کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ علم سوسائٹی کی بنیاد میں شامل ہے۔ اس وجہ سے ایک حقیقی مسلم معاشرہ وہ ہے جو کہ صحیح علم پیدا کرے۔ غلط فہمیوں کو مسترد کرے اور علم کو قوت کے طور پر تیار کرے۔۔۔۔۔

صحیح علم کا مطلب ہے کہ توہم پرستی، غلطی، جہالت، بے انصافی اور مذہب کے غلط استعمال کے خلاف جدوجہد کی جائے۔ اسلامی روایت میں، یہ مذہبی علماء ہی ہیں جنہوں نے بے انصافی، توہم پرستی، مذہب کے غلط استعمال اور انتہا پسندی کے خلاف جہاد جاری رکھا ہے۔ مذہبی علم اپنی حقیقت کے اندر ایک جدوجہد کا نام ہے۔ اپنے معاملات کو مضبوط مذہبی علم کی بنیاد پر قائم رکھتے ہوئے، ادارہ مذہبی امور (دیانت) انتہا پسندانہ رجحانات کو برداشت نہیں کرتا جو کہ سماجی امن کو نقصان پہنچائیں۔ جن لوگوں میں یہ رجحان پائے جائیں، انہیں درست معلومات فراہم کی جاتی ہیں، انہیں تعلیم دی جاتی ہیں اور (انتہا پسندی ترک کرنے کے لئے) انہیں قائل کیا جاتا ہے۔ یہ ایک پرخطر راستہ ہے۔ ایسی مذہبیت جو کہ علم کی بجائے جذبات کی بنیاد پر قائم ہو، بالعموم معاشرے سے کٹ کر رہ جاتی ہے۔ ایسے افراد جنہوں نے جذباتی ماحول میں خود کو کسی خاص قوت، تحریک یا مرکز کے سامنے سرنگوں کر دیا ہو، ان کے ذہنوں کو روشن کرنا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔۔۔۔

ڈاکٹر علی بردا کوغلو سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کو استعمال کرنے کے شدید ناقد ہیں۔ اس سے متعلق لکھتے ہیں:

ہم یہ دعوی تو نہیں کرتے کہ تشدد، ٹینشن اور بے امنی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ہمیں دو بنیادی غلطیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ پہلی تو یہ کہ مذہبی تعلیم و تربیت کی عدم فراہمی کے سنگین نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں معاشرتی ترقی میں مذہب کا مثبت کردار ختم ہو جاتا ہے۔ دوسری غلطی یہ کہ مذہب کو قومی یا بین الاقوامی مفادات کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر توسیع پسندانہ عزائم کے لئے مذہب کو استعمال کیا گیا ہے۔۔۔۔

دوسروں کو سننے اور سمجھنے کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ چیز ہے جو ہمیشہ ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں بھی علم ہو گا وہاں خود اعتمادی اور آزادی ہو گی۔ایک تعلیم یافتہ شخص وہ ہوتا ہے جس میں خود اعتمادی ہو اور وہ دوسروں کی آزادی کے دائرے میں مداخلت نہ کرے۔ ۔۔۔

جب ہم آج کی مسلم دنیا کو دیکھتے ہیں تو ہمیں جمہوریت اور مذہب و حکومت کے تعلقات سے متعلق کئی مسائل نظر آتے ہیں۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بعض ممالک میں غیر جمہوری اور آمرانہ حکومتوں کو درست ثابت کرنے کے لئے اسلام کو استعمال کیا گیا ہے۔ یہ وہ وقت ہے کہ جب ہمیں سیاسی مفادات کی خاطر اسلام کے غلط استعمال کے مسئلے کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے۔ اسلام انسانی حقوق، سیاست میں عوام کی شمولیت، شہری آزادیوں، مساوات اور انصاف کو فروغ دیتا ہے۔ یہ خدا کے نام پر خیالات کو دبا دینے کا نام نہیں ہے۔۔۔۔

رواداری کی تلقین کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا بنیادی فرق رواداری ہے جو کہ معتدل سوچ کے اندر شامل ہے۔ یہ اعتدال پسندی ہی ہے جو کہ "دوسروں" کو برداشت کرنا سکھاتی ہے جبکہ انتہا پسندی میں "دوسروں" کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر آپ اپنے سے مختلف نظریات کو برداشت نہیں کر سکتے تو پھر آپ کی اعتدال پسندی ، اعتدال پسندی کے نام پر ایک اور انتہا پسندی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ۔۔۔

رواداری اور مثبت مکالمے کے معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ خواہش ہے کہ تمام اختلافات کو ختم کر دیا جائے۔ یہ کوشش کہ دوسرے ہمارے سانچے میں ڈھل جائیںاور انہیں اسی وقت قبول کیا جائے جب وہ ہم سے مشابہ ہو جائیں (ہی رواداری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔)

انسانیت کو آج کی اس دنیا میں دو بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ ایک تو وہ مسئلہ ہے جس کا تعلق انسانی زندگی کو ختم کر دینے والے عناصر سے ہے۔ ان میں بھوک، غربت، بے روزگاری، عدم مساوات، اخلاقی انحطاط، مذہب سے دوری، ظلم، طبی سہولتوں کی عدم فراہمی، تعلیم کے مسائل، قانون کا عدم احترام، آمرانہ طریقے، سماجی کلچر کا فروغ نہ پانا، تاریخی اور ثقافتی اقدار کی تباہی وغیرہ شامل ہیں۔ دوسرا مسئلہ پہلے سے کم اہم نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق بھی پہلے مسئلے سے ہی ہے۔ اس میں افراد کے مابین مناسب مکالمے کی عدم دستیابی، رواداری کی کمی، اختلافات کو برداشت نہ کرنا، اور اختلاف کے باوجود امن برقرار رکھنا شامل ہے۔ یہ کسی ایک علاقے یا ایک قوم کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔۔۔۔۔

دور جدید سے متعلق لکھتے ہیں:

ہمیں جلد از جلد (جدیدیت سے متعلق) فیصلہ کرنا ہو گا۔ اس کے تین راستے ہیں: پہلا تو وہ طریقہ ہے جو کلیسا نے شروع میں اختیار کیا۔ انہوں نے کھڑکیاں بند کر لیں اور یہ فرض کر لیا کہ جدیدیت نام کی کوئی چیز دنیا میں موجود نہیں ہے۔وہ یہ سمجھے کہ اگر ہم جدیدیت کا اقرار نہیں کریں گے تویہ ہم پر اثر انداز نہیں ہو سکے گی۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ ہم وہی کچھ کریں جو مغرب میں آج کلیسا کر رہا ہے اور وہ یہ کہ جدیدیت کے سامنے مکمل طور پر ہتھیار ڈالتے ہوئے دور جدید کے تمام تقاضے پورے کر دیے جائیں۔ تیسرا راستہ یہ ہے کہ ایک واضح روڈ میپ تیار کیا جائے جس کے ذریعے ہم جدید دور کے تقاضوں کا مستند مذہبی علم کی روشنی میں اس طریقے سے جائزہ لیںکہ اس کے نتیجے میں ہمارے مذہبی عقائد پر زد نہ پڑ سکے۔

جدت پسندی (Modernity) اس کا نام نہیں ہے کہ ہم دنیا پرست ہو جائیں۔ دوسرے الفاظ میں جدیدیت کسی شخص کو مذہبی اقدار سے خالی کر دینے کا نام نہیں ہے۔ ۔۔۔

آج مسلمانوں کو دو بہت بھاری کام سر انجام دینا ہیں۔ ایک تو انہیں اپنے اندر موجود انتہا پسندوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ دوسرے انہیں (باہر کی دنیا میں) اسلام کے منفی تاثر کو ختم کرنا ہے جو کہ بعض مخصوص حلقوں نے جان بوجھ کر غلط نیت سے قائم کیا ہے۔۔۔ اسلام کے منفی امیج کو قائم کرنے میں ان الفاظ نے اہم کردار ادا کیا ہے جو کہ لفظ "اسلام" سے پہلے لگا دیے جاتے ہیں۔ ان میں ماڈریٹ اسلام، ریڈیکل اسلام اور بنیاد پرستانہ اسلام شامل ہیں۔ ۔۔ ایسا نہیں ہے۔ تمام آسمانی مذاہب اعتدال پسندانہ ہیں اور یہ امن اور ہم آہنگی کے قیام کا ذریعہ ہیں۔۔۔۔

مذہب میں ریفارم کے بارے میں لکھتے ہیں:

(مذہب میں ریفارم کے بارے میں) لوگوں کی توقعات دو طرح کی ہوتی ہیں: بعض لوگ مذہب کی ایسی توجیہ چاہتے ہیں جو ان کے طرز زندگی سے موافقت رکھتی ہو۔ وہ خود کو مذہب کے مطابق ڈھالنے کی بجائے مذہب میں اپنی خواہشات کے مطابق تراش خراش کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کے خیال میں مذہب کی اصلاح ہونی چاہیے اور اس کی ایک نئی تعبیر کی جانی چاہیے جو ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ مگر یہ ممکن نہیں ہے۔ مذہب کی فطرت اس کی اجازت نہیں دیتی۔

دوسری طرز کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے روایتی تصورات اور تشریحات کو اصلی دین سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ان کے خیال میں ان تصورات میں تبدیلی، دراصل مذہب میں تبدیلی ہوتی ہے۔ حالانکہ یہاں اصل دین زیر بحث نہیں ہوتا بلکہ مذہب کا تاریخی تجربہ زیر بحث ہوتا ہے۔ دین اور مذہبی تجربہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ دین اس پیغام کا نام ہے جو ہمیشہ کے لئے یکساں طور پر قابل عمل ہے جبکہ مذہبی تجربہ اس پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے مختلف طریق ہائے کار کا نام ہے۔ یہ مختلف معاشروں اور تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف ہو سکتا ہے۔

اس وجہ سے دین کبھی تبدیل نہیں ہو سکتا مگر مذہبی تجربہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات کسی سنجیدہ معاملے میں مختلف آراء پیدا ہو جاتی ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی روایتی سمجھ کو دین قرار دے رہے ہوتے ہیں، اسے دین میں تحریف اور ماڈرنائزیشن قرار دے دیتے ہیں۔۔۔۔

(اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ) ہم دوسروں کی جو غلطیاں دیکھیں، ان کے خلاف مہم چلانے کی بجائے اچھی مثالیں قائم کر کے ان کے سامنے رکھ دیں۔

میں احمد اور اردال کے ساتھ مختلف موضوعات پر گفتگو کر رہا تھا۔احمد بنیادی طور پر دیانت کے انٹرنیشنل ریلیشز ڈیپارٹمنٹ کا حصہ تھے۔ان کی ذمہ داری تھی کہ دیگر ممالک کے مذہبی اداروں سے تعلق قائم کیا جائے۔ اس کے علاوہ وہ ترکی سے باہر کی مساجد کے ذمہ دار تھے۔ اردال کا تعلق ریسرچ پراجیکٹس کے انتظامی امور سے تھا۔

احمد بتانے لگے کہ ان کے پاس پاکستان کی "اسلامی نظریاتی کونسل" کا وفد بھی آیا تھا جس کی سربراہی ڈاکٹر خالد مسعود کر رہے تھے۔ انہوں نے الماری سے کونسل کا بروشر بھی نکال کر دکھایا۔ احمد کہنے لگے : "انہوں نے ہم سے بہت سے سوالات پوچھے۔ پھر ہم نے بھی ان سے کچھ سوالات پوچھے۔" میں نے کہا: "اسلامی نظریاتی کونسل آپ کی دیانت کی طرز کا ادارہ نہیں ہےبلکہ یہ پارلیمنٹ کی مشاورتی کونسل ہے۔" وہ یہ بات پہلے سے جانتے تھے۔ خالد مسعود صاحب نے اس ادارے کو بہت فعال بنا دیا ہے اور اس میں بہت سے تحقیقی پراجیکٹس پر کام ہو رہا ہے۔

دیانت اور اس کے کاموں کا امپریشن بہت ہی شاندار تھا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہماری وزارت مذہبی امور بھی اس طرز کا ادارہ بن جائے۔ سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر کی مساجد اور دینی مدارس کو وزارت مذہبی امور سے متعلق کیا جائے تاکہ اللہ کے گھروں کا فرقہ وارانہ اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال بند ہو سکے۔

احمد اور اردال کی یہ خواہش تھی کہ میں کھانا ان کے ساتھ کھاؤں۔ وہ بار بار اس بات پر افسوس کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ میرا کام نہیں کر سکے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کرکے اجازت چاہی۔تھوڑی دیر میں ہم دوبارہ انقرہ کی سڑکوں پر اڑے جا رہے تھے۔ انقرہ شہر کا انفرا اسٹرکچر اچھا تھا۔ سگنل کافی کم تھے۔ اکثر مقامات پر اوور ہیڈ برج بنا کر راستوں کو ہموار کیا گیا تھا۔ اب ہماری منزل "الوس" کا علاقہ تھی جو کہ انقرہ کا قدیم تاریخی علاقہ تھا۔یہ علاقہ ڈھونڈنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی کیونکہ ہر طرف اس کے بورڈ بھی موجود تھے اور ہر شخص اس سے واقف بھی تھا۔

ایتھنو گرافیکل میوزیم

ڈاکٹر شعبان نے مجھے بتایا تھا کہ انقرہ میں دو بڑے عجائب گھر ہیں۔ ایک عجائب گھر آرٹس سے متعلق ہے جس میں قدیم دور سے لے کر جدید دور تک کے مصوری اور مجسمہ سازی کے نمونے موجود ہیں۔ دوسرے عجائب گھر کا تعلق ایتھنو گرافی سے ہے۔میری دلچسپی ایتھنو گرافی سے تھی۔ اس وجہ سے ہم نے ایتھنو گرافیکل میوزیم دیکھنے کا ارادہ کیا۔

ایتھنو گرافی ، علم بشریات(Anthropology) کی ایک شاخ ہے۔ اس میں کسی معاشرے کے لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔قدیم معاشروں سے متعلق آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران وہاں سے جو اشیاء ملتی ہے، اس کی روشنی میں اس تہذیب کے لوگوں کے رہن سہن کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

انقرہ کا ایتھنو گرافیکل میوزیم قدیم قلعے کے ساتھ ہی بنا ہوا تھا۔ ٹکٹ کافی مہنگا تھا۔ اندر داخل ہوئے تو ایک پرشکوہ عمارت ہمارے سامنے تھی۔ اس عمارت کی تعمیر سلطان محمد فاتح کے وزیر اعظم محمود پاشا نے 1455-73 ء کے زمانے میں کروائی تھی۔ یہ دراصل اس دور کی مین مارکیٹ تھی جس کے باہر کی جانب 102 دکانیں تعمیر کی گئی تھیں۔ 1881ء میں اس عمارت میں آگ لگ گئی تھی۔مصطفی کمال کے زمانے میں اس عمارت کو عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

ایتھنو گرافیکل میوزیم کے اندر مختلف ادوار کی بہت سی اشیاء موجود تھیں جن سے ان ادوار میں رہنے والوں کی زندگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے چند اشیاء کی تفصیل یہ ہے:

       مذہبی نوعیت کے نوادرات: ان میں دیوی دیوتاؤں کے مجسمے اور تصاویر رکھے ہوئے تھے۔زیادہ تر تصاویر بھی پتھر تراش کر بنائی گئی تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے دیگر علاقوں کی طرح اناطولیہ میں بھی شرکیہ مذاہب کا غلبہ رہا ہے۔بعض تصاویر میں دیوتاؤں کو جنگ کرتے دکھایا گیا تھا۔ایک جگہ ابو الہول کے مجسمے بھی تھے جس کا سر انسان کا اور دھڑ شیر کا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصری مذہب کے آثار یہاں بھی موجود رہے تھے۔ بعض دیویوں کے مجسمے بھی موجود تھے۔ اناطولیہ کے لوگوں کے خیال میں زمین اور ماں کی کوکھ کی زرخیزی کا تعلق کچھ دیویوں سے تھا۔

       جنگ سے متعلق نوادرات: ان میں پتھروں پر تراشیدہ تصاویر میں جنگی مناظر پیش کئے گئے تھے۔ قدیم دور کی کچھ تلواریں اور نیزے بھی پڑے ہوئے تھے۔ ایک مجسمے میں ایک گھڑ سوار کو شیر سے لڑتا دکھایا گیا تھا۔

       گھریلو اشیاء: گھریلو اشیاء میں تانبے، کانسی اور مٹی کے ہر سائز کے برتن شامل تھے۔بعض تصاویر بھی گھریلو زندگی کی عکاسی کرتی تھیں۔ایک تصویر میں ایک شخص کو چھت پر چڑھتے دکھایا گیا تھا۔ ایک جگہ پتھر کی بنی ہوئی باقاعدہ پارٹیشن موجود تھی جس سے گھر کے اندر پردے کا کام لیا جاتا ہو گا۔

       بادشاہوں کی تصاویراور مجسمے: یہاں مختلف تصاویر اور مجسمے موجود تھے جو بادشاہ کی زندگی کی عکاسی کرتے تھے۔ بعض تصاویر میں یہ پیغام دیا گیا تھا کہ عوام کو بادشاہ کے سامنے سر نگوں ہو کر رہنا چاہیے۔ ایک تصویر میں بادشاہ کو رتھ پر دکھایا گیا تھا جس کے گھوڑے کے سم ایک شخص کو کچل کر جا رہے تھے۔

       معیشت سے متعلق نوادرات: بعض نوادرات کا تعلق معاش سے تھا۔ پتھر کو تراش کر ایک بیل گاڑی بنائی گئی تھی جس کے آگے دو بیل جتے ہوئے تھے۔ ایک تصویر میں چرواہے کو بکریاں چراتا دکھایا گیا تھا۔ایک تصویر میں بازار کا منظر دکھایا گیا تھا۔

       کہانیوں پر مشتمل تصاویر: بعض تصاویر ایک سیریز پر مشتمل تھیں جن میں ایک کہانی بیان کی گئی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم انسان اپنی تخلیقی صلاحیت کا اظہار کیسے کرتا تھا۔

       پورنو گرافی: فحش تصاویر صرف موجودہ دور میں ہی نہیں پائی جاتیں بلکہ قدیم دور میں فحش جذبات کا اظہار مجسموں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ یہاں بھی ایسے بعض بیہودہ مجسمے موجود تھے۔

       سکے اور مہریں: بادشاہوں کے مختلف ادوار کے سکےاور مہروں سے چند شو کیس بھرے ہوئے تھے۔ یہ زیادہ تر سونے، تانبے اور کانسی کے بنے ہوئے تھے۔

       بادشاہوں کے سر: بعض بادشاہوں کا پورا مجسمہ بنانے کی بجائے ان کے صرف سر بنائے گئے تھے جس میں ان کی شکل کو نمایاں کیا گیا تھا۔

       زیورات: خواتین کے مختلف زیورات جن میں انگوٹھیاں، نیکلس اور بریس لٹ شامل تھے۔ یہ زیادہ تر سونے اور چاندی کے بنے ہوئے تھے۔

میوزیم میں مختلف طرز کے مذہبی اور غیر مذہبی مجسمے ہر سائز میں موجود تھے۔ چھوٹے مجسمے شاید بچوں کے کھلونوں کے طور پر استعمال ہوتے ہوں گے۔ میوزیم کی چند تصاویر آپ کے پیش خدمت ہیں:

اس میوزیم میں میری توجہ کا مرکز قدیم اناطولیہ کے مذہب سے متعلق مجسمے تھے۔ یہاں مختلف قوموں کے دیوی دیوتاؤں کے مجسمے موجود تھے ۔ قدیم دور میں ہر قوم کے دیوی دیوتا مختلف ہوا کرتے تھے۔ ان کے خیال میں تمام دیوی دیوتا ایک بڑے خدا کے تحت کام کرتے تھے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ توحید انسان کی فطرت میں اس حد تک راسخ ہے کہ شرک کو اختیار کرنے کے باوجود وہ ایک بڑے خدا کو ماننے پر مجبور ہے۔

اگر ہم دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلتے جائیں تو ایک عظیم خدا کا تصور یکساں طور پر موجود رہتا ہے جبکہ نچلے درجے کے دیوی دیوتا ہر قوم اور تہذیب میں تبدیل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ حقیقت صرف ایک ہی ہوتی ہے جبکہ جہالت ہر علاقے کی مختلف ہوا کرتی ہے۔ ہر قوم کے مذہبی راہنماؤں نے اپنے تصور کے مطابق کچھ نام رکھ لیے اور انہیں خدا قرار دے دیا۔اس کے بعد انہوں نے ان دیوتاؤں سے متعلق پوری کی پوری دیو مالا گھڑ لی۔ دور کیوں جائیے، برصغیر پاک و ہند کا علاقہ اس دیو مالا کے بارے میں خود کفیل ہے۔

انقرہ میں چند مساجد بھی تھیں جن میں حاجی بہرام مسجد زیادہ مشہور تھی۔ یہ مسجد 1428ء میں تعمیر کی گئی تھی۔وقت کی کمی کے باعث ہم یہ مساجد نہ دیکھ سکے۔

انقرہ کا قلعہ اور جولین مرتد کا مینار

میوزیم دیکھنے کے بعد ہم باہر نکلے۔ اب ہم انقرہ کے قلعے کی دیوار کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ یہ ویسا ہی قلعہ تھا جیسا کہ عام طور پر قلعے ہوا کرتے ہیں۔ برصغیر کے قلعوں کے برعکس اس قلعے کی دیواریں پتھروں کی بنی ہوئی تھیں۔ قدیم دور میں پتھروں کو تراش کر مکعب شکل کی بڑی بڑی اینٹوں میں تبدیل کر دیا جاتا اور پھر انہیں تعمیراتی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا۔ اس قلعے کی ابتدائی تعمیر رومی دور سے پہلے ہوئی تھی۔ اس کے بعد رومیوں، بازنطینیوں اور سلجوقیوں نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق قلعے میں تبدیلیاں کرتے رہے۔

انقرہ، جو اس وقت "انگورہ" کہلاتا تھا میں تیمور اور بایزید یلدرم کے درمیان ایک زبردست جنگ ہوئی تھی جس میں تیمور کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ اس طریقے سے تیمور نے سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کر دیا تھا مگر عثمانی کچھ ہی عرصے میں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے۔

قلعے سے فارغ ہو کر ہم شہر کی طرف بڑھے۔ یہ انقرہ کا "ضلع الوس" تھا۔ ایک دکان سے موبائل کارڈ لینے کے بعد ہم اندر کی طرف آئے۔ ایک موڑ مڑتے ہی چوک کے بیچوں بیچ ایک قدیم مینار ہمارے سامنے تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس مینار کا نام "جولین مرتد کا ٹاور" تھا۔ یہ ایک رومی بادشاہ تھا جو 360-363 ء کے عرصے میں بادشاہ رہا تھا۔ اسے مرتد کہنے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے رومی سلطنت کو عیسائیت سے واپس قدیم مشرکانہ مذہب کی طرف لے جانے کی کوشش کی تھی۔جولین سے پہلے روم کے بادشاہ قسطنطین نے عیسائیت قبول کر کے اسے ملک کا سرکاری مذہب قرار دے دیا تھا۔

جولین مشرکانہ مذہب کے احیاء میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ایران کی ساسانی سلطنت سے جنگ کے سلسلے میں جب وہ انقرہ سے گزرا تو اس کے پیروکاروں نے اسے خراج تحسین پیش کرنے کے لئے یہ مینار تعمیر کیا تھا۔اس مینار کو ترکی زبان میں "بلقیس میناریسی" بھی کہا جاتاہے۔ اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی کیونکہ سبا کی ملکہ بلقیس، جنہوں نے حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام سے شادی کر لی تھی، کا شاید ہی کبھی انقرہ سے گزر ہوا ہو گا۔

مینار دیکھنے کے بعد ہم شہر سے باہر جانے والی سڑک پر آ گئے۔ کچھ ہی دیر میں ہم انقرہ کے رنگ روڈ پر پہنچ گئے۔ اب ہماری منزل "بُرسا" تھی جس کے لئے ہمیں استنبول کی جانب سفر کرنا تھا۔ ابھی ہم کچھ ہی دور گئے تھے کہ ایک بڑے سے بورڈ پر "قونیہ" لکھا نظر آیا۔ہمارے سفر کے ابتدائی پلان میں قونیہ شامل تھا مگر اردن کا ویزا نہ ملنے کے باعث ہمیں جنوبی ترکی کے سفر کا ارادہ منسوخ کرنا پڑا تھا ورنہ سفر کافی لمبا ہو جاتا۔ مناسب ہو گا کہ ہم اس شہر کی کچھ تفصیل بھی قارئین کے سامنے پیش کر دیں کیونکہ مذہبی تاریخ میں قونیہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

انقرہ کے قلعے کی دیوار

جولین مرتد کا ٹاور


 

اگلا باب †††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

 

مصنف کی دیگر تحریریں

اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا سدباب/سفرنامہ ترکی/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں ††††/†† علوم الحدیث: ایک مطالعہ/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص ††/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟†† /مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت †††/Quranic Concept of Human Life Cycle ††††/Empirical Evidence of Godís Accountability