بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

بُرسا اور مرمرہ ریجن

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 20MB)

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے بغیر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

تصوف کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے قونیہ موڑ سے گزر کر ہم استنبول جانے والی موٹر وے پر پہنچ گئے۔اب ہمیں بھوک لگ رہی تھی۔ تھوڑی دور جا کر جو پہلا ریسٹ ایریا نظر آیا، وہاں رک کر ہم نے کھانا کھایا۔

کارپوریٹ سوشل ریسپانسی بلٹی

یہاں کی موٹر وے پر خوبی یہ نظر آ رہی تھی کہ مختلف سروس اسٹیشن مختلف کمپنیوں کو دے دیے گئے تھے۔ کہیں شیل کا اسٹیشن نظر آ رہا تھا اور کہیں ایگزان موبل کا، کہیں برٹش پٹرولیم کے اسٹیشن تھے اور کہیں ترکی کی کمپنی فاکس ٹو کے۔ یہ اچھا طریقہ تھا۔ ہماری موٹر وے پر ایک ہی کمپنی کو سارے سروس اسٹیشن دے دیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں اجارہ داری قائم ہو گئی ہے۔ ایک عام آدمی کو فائدہ اسی صورت میں پہنچ سکتا ہے جب کاروبار میں اجارہ داری کو ختم کر کے مقابلے کو عام کیا جائے۔

قدیم اور جدید دور کے کاروبار میں بنیادی فرق یہ ہے کہ قدیم دور میں کاروبار اور اس کے مالک کی شخصیت میں فرق نہ ہوا کرتا تھا۔ اگر کاروبار میں نقصان ہوتا تو یہ مالک کی ذاتی ذمہ داری ہوا کرتی تھی کہ وہ اپنے گھر کے اثاثے بیچ کر قرض خواہوں کی رقم ادا کرے۔ جدید دور میں جائنٹ اسٹاک کمپنی کا تصور پیدا ہوا۔ اب کاروبار کو ایک علیحدہ شخصیت فرض کر لیا گیا۔ ابنقصان کی صورت میں قرض خواہوں کو بس وہی رقم مل سکتی ہے جو کمپنی کی ملکیت اثاثے بیچ کر پوری کی جا سکے۔ اس تصور نے سرمایہ دارانہ نظام کو زبردست تقویت دی۔ وہ لوگ جن کا کمپنی کے معاملات پر مکمل کنٹرول ہو، باآسانی کمپنی کے اثاثے اپنے ذاتی نام سے رکھ سکتے ہیں تاکہ قرض خواہوں کو ادائیگی نہ کرنی پڑے۔

جدید دنیا، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی دنیا ہے۔ پوری دنیامیں ہر قسم کے کاروبار پر چند کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔ اس اجارہ داری کا نقصان عام آدمی کو ہو رہا ہے۔ حال ہی میں عالمی شہرت یافتہ بھارتی مصنفہ ارون دھتی رائے اور ان کے ہم خیال سوشلسٹ گروہوں کی طرف سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اس اجارہ داری کے خلاف زبردست آواز سامنے آئی ہے۔

سوشلسٹ طرز فکر رکھنے والے ایک عجیب المیہ کا شکار ہیں۔ جب یہ لوگ سرمایہ دارانہ نظام کی برائیاں بیان کرنے پر آتے ہیں تو بڑے خوبصورت طریقے سے اس نظام کی خامیاں اجاگر کرتے ہیں۔ سرمایہ داروں کے مزدور پر ظلم کے حقائق کو اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ سننے والے کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں۔ دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کے مسائل ایسے درد ناکبیان کرتے ہیں کہ سننے والے کا دل یہ چاہتا ہے کہ وہ اٹھے اور اس کھیت کو آگ لگا دے جو کسان کو روٹی مہیا نہ کر سکے۔ سرمایہ داروں کی اجارہ داریوں اور اس کے استحصال کی ایسی ایسی تفصیلات بیان کرتے ہیں کہ انسان کانوں کو ہاتھ لگا لے۔

یہ سب بیان کرنے کے بعد وہ اس مسئلے کا جو متبادل حل پیش کرتے ہیں، وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ چند سرمایہ داروں کی اجارہ داریوں کو ختم کر کے حکومت کی ایک ہی بڑی سی اجارہ داری قائم کر دی جائے۔ ظاہر ہے کہ حکومت پر کنٹرول ایک یا چند اشخاص کا ہوتا ہے۔ سوشلسٹ نظام کے قیام کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پورے ملک کی معیشت چند افراد کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے اور اس طریقے سے سرمایہ داروں کے ایک بڑے گروہ کا خاتمہ کرتے ہوئے پورے ملک کو چند افراد کا غلام بنا دیا جاتا ہے۔

ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری واقعتاً ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مغربی ممالک میں اس مسئلے کا حل "کارپوریٹ سوشل ریسپانسی بلٹی" کی صورت میں نکالا گیا ہے۔ ان کی حکومتیں کمپنیوں کے منافع میں سے 40-60% حصہ وصول کر کے انہیں عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتی ہیں۔ کمپنیوں کو اس بات پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ خود بھی معاشرے کی خدمت کے لئے تعلیم اور صحت کے فلاحی منصوبوں میں پیسہ لگائیں۔ اس ضمن میں نہ صرف قانونی اقدامات کیے جاتے ہیں بلکہ اس تصور کو کاروباری تعلیم کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ نوجوان چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور بزنس ایڈمنسٹریٹرز کی تعلیم میں سب سے زیادہ اہمیت اخلاقی اقدار کو دی جاتی ہے۔ ان کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا جاتا ہے کہ انہیں معاشرے سے متعلق اپنی ذمہ داری سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے عوام کا شعور اس حد تک بیدار کر دیا گیا ہے کہ جو کمپنیاں سماجی مسائل کو حل کرنے پر رقم نہیں لگاتیں، لوگ ان کی پراڈکٹس خریدنا چھوڑ دیتے ہیں۔

میرے خیال میں دولت کے ارتکاز کے مسئلے کا حل یہی ہے۔ایک طرف اس مقصد کے لئے قانون سازی کرنی چاہیےکہ بڑی کمپنیوں پر ٹیکس کی شرح زیادہ ہو۔ انہیں عوام پر رقم خرچ کرنے پر مجبور کیا جائے اور کاروباری تعلیم میں نئے ایگزیکٹوز کو اس کام کے لئے تیار کیا جائے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کو ترجیح دیں۔

عہد رسالت میں پیداوار بنیادی طور پر زرعی ہوا کرتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کے حالات کے مطابق اس پیداوار کا 10% یا 5% بطور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا۔ صنعتی انقلاب کے بعد ملکی پیداوارکا بڑا حصہ صنعتی پیداوار پر مشتمل ہے۔ دور جدید کے بعض اہل علم نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ صنعتی پیداوار پر بھی زکوۃ عائد کر دینی چاہیے۔جو لوگ کاروبار کو سمجھتے ہیں، وہ اس سے واقف ہیں کہ زراعت، صنعت اور سروس جدید پیداواری معیشت کے تین سیکٹرز ہیں۔ اگر ایک چھوٹے سیکٹر پر زکوۃ عائدکی جا رہی ہے تو باقی دو بڑے سیکٹرز کو اس سے مستثنی کیوں کیا جائے۔

خلیج ازمت

اب ہم دوبارہ "بولو" شہر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ یہ وہی شہر تھا جہاں سے ہم نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جانے اور آنے کے سفر میں ہم ایک شہر سے دوسری بار گزرنے والے تھے۔ بولو کے بعد، یہاں کی طویل سرنگ آئی اور اس کے بعد ہم جھیل اسپانزا جا پہنچے۔ یہاں کچھ رک کر جھیل کے نظاروں کو اپنی آنکھوں میں اتارنے کے بعد ہم آگے روانہ ہوئے۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم "ازمت" کے ایگزٹ پر پہنچ چکے تھے۔ یہاں ٹول پلازہ پر باقاعدہ عملہ موجود تھا جنہوں نے پانچ لیرا وصول کر کے ہمیں موٹر وے سے نکلنے کی اجازت دی۔ آگے ازمت شہر تھا۔

بحیرہ مرمرہ شمال مشرق میں ایک تنگ جھیل کی شکل اختیار کر جاتا ہے جو کہ خلیج ازمت کہلاتی ہے۔ اس خلیج کے آخری کونے میں ازمت شہر واقع ہے۔ شہر کے قریب سے گزرتے ہوئے ہم خلیج کے دوسرے کنارے پر آ گئے۔ آج بادلوں کی وجہ سے اس خلیج کا رنگ نیلے کی بجائے گرے نظرآ رہا تھا۔ کچھ دیر ہم خلیج کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ اس علاقے میں آبادی بہت گنجان تھی۔ اس کی وجہ سے ہر تھوڑے فاصلے پر ایک سگنل آ جاتا تھا ۔ اس وجہ سے ہمارا دم الجھ رہا تھا۔

برسا

عشاء کے قریب جا کر ہم برسا پہنچے۔ یہ استنبول، انقرہ اور ازمیر کے بعد ترکی کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ عثمانی بادشاہوں نے اناطولیہ فتح کرنے کے بعد قونیہ کی بجائے برسا کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلا جب سلطان محمد فاتح نے استنبول فتح کر کے اسے اپنا دار الحکومت وہاں منتقل کر دیا۔

اب ہمارا بھوک اور تھکن کے مارے ہمارا برا حال ہو رہا تھا مگر برسا میں کوئی ہمیں پرسہ دینے کے لئے موجود نہ تھا۔ مین روڈ کے اوپر ہی میکڈونلڈ کا سائن نظر آ رہا تھا۔ کسی نئے ترکی کھانے کو آزمانے سے بہتر تھا کہ اسی کھانے کو آزمایا جائے جس کے ذائقے سے ہماری زبانیں پہلے سے آشنا تھیں۔ میں نے گاڑی میکڈونلڈ کے ڈرائیو وے کی طرف موڑ لی اور تین "بگ میک" کا آرڈر دیا۔ کھڑکی میں موجود خاتون کو نجانے کیا سمجھ میں آیا کہ انہوں نے چار برگر لا کر ہمیں پکڑا دیے۔ میں نے کہا، "میں نے تو تین کا آرڈر دیا تھا۔" معصومیت سے کہنے لگیں، "سر! پھر ایک کے پیسے میں اپنی جیب سے دے دیتی ہوں۔" ہمیں یہ مناسب نہ لگا چنانچہ چاروںبرگر کے پیسے دے کر آگے روانہ ہوئے۔

تھوڑی دور جا کر ہمیں ایک عجیب چیز نظر آئی۔ ایک اشارے پر گاڑی روکی تو ایک بہت ہی طویل بس ہمارے سامنے موجود تھی۔ یہ ایک کی بجائے دو بسیں تھیں جنہیں جوڑا گیا تھا۔ اگلی بس مکمل تھی مگر اس کا پچھلا حصہ غائب تھا۔ جبکہ پچھلی بس ڈرائیور والے حصے کے بغیر تھی۔ ان دونوں بسوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا کر ایک لمبی بس تیار کی گئی تھی۔درمیانی حصے میں ربڑ لگا ہوا تھا تاکہ بس آسانی سے مڑ سکے۔ ان بسوں کا مقصد یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو لے جایا جا سکے۔

تھوڑی دیر میں ہم "شہر مرکزی" یا اندرون شہر جا پہنچے۔ یہ بھی ترکی کے دیگر شہروں کی طرح نہایت ہی صاف ستھر شہر تھا۔ یہاں ایک چوک میں بہت سے ہوٹل موجود تھے۔ ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ یہاں انقرہ کی طرح ہوٹل تلاش کرنے کے لئے ہمیں جھک نہیں مارنی پڑی۔ دو تین ہوٹل دیکھ کر ایک صاف ستھرا ہوٹل پسند کیا اور وہیں ڈیرا ڈال دیا۔

برسا شہر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اسے سلطنت عثمانیہ کے پہلے دارالحکومت ہونے کا شرف حاصل رہا ہے۔ مناسب ہو گا کہ اگر سلطنت عثمانیہ کی مختصر تاریخ بیان کر دی جائے جو کہ چار سو سال تک دنیا میں واحد سپر پاور کی حیثیت سے موجود رہی ہے۔

جڑی ہوئی بسیں (بشکریہ stevechurchill.com)

اندرونی حصہ بشکریہ wikimedia.org

سلطنت عثمانیہ کا عروج و زوال

سلطنت عثمانیہ کا آغاز 1299ء میں عثمان خان سے ہوا۔ تقریباً سات سو سال کے بعد اس کا اختتام 1923ء میں سلطان محمد ششم پر ہوا۔ سلطنت عثمانیہ کےپورے دور کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

       دور آغاز اورعروج 1299 Ė 1566 ء

       دور جمود 1566-1822 ء

       دور زوال 1822-1923 ء

بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ سلطنت عثمانیہ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی اولاد کے بادشاہوں کی حکومت کو کہتے ہیں۔ یہ سلاطین ایک ترکمان سردار عثمان خان کی اولاد میں سے تھے جو کہ سلجوقی بادشاہوں کے ایک اہم جنگی کمانڈر تھے۔عثمان خان نے سلجوقی اور بازنطینی سلطنتوں کے درمیان ایک چھوٹی سی عثمانی سلطنت کی بنیاد رکھی جو کہ اناطولیہ کے تقریباً نصف حصے پر مشتمل تھی۔ اس کے بعد ان کے بیٹے اور خان اور پوتے مراد اول کے دور میں یہ سلطنت پھیلنے لگی۔ 1453ء میں سلطان محمد اول نے قسطنطنیہ فتح کیا۔ سلطان سلیم (1512-1520) نے شام، عراق ، فلسطین اور مصر کے علاقے فتح کر کے آخری عباسی بادشاہ سے "خلیفہ" کا ٹائٹل چھین لیا۔

سلیم کے بعد سلیمان قانونی (1520-1566) کا دور آیا جو کہ عثمانی سلطنت کا نقطہ عروج سمجھا جاتا ہے۔ اس دور میں یورپ کے بہت سے علاقے فتح ہوئے اور جزیرہ نما بلقان کا بڑا حصہ عثمانی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ موجودہ دور کے بلغاریہ، یونان، رومانیہ اور ہنگری کے علاقے عثمانیوں کی سلطنت کا حصہ بنے۔ اپنے آباؤ اجداد کے برعکس سلیمان نہ صرف تلوار کے دھنی تھے بلکہ وہ تصنیف و تالیف کے شوقین بھی تھے۔ وہ پہلے عثمانی بادشاہ تھے جنہوں نے سلطنت کے قوانین مرتب کئے اور اس کے بل بوتے پر انہیں "قانونی" کا لقب ملا۔انہوں نے یہودی و عیسائی اقلیتوں کو بہت سے حقوق عطا کیے۔ ان کے دور میں آرٹ اور کلچر نے بہت ترقی کی۔

سلیمان کے بعد سلطنت عثمانیہ کا دور جمود شروع ہوا جو کہ مزید اڑھائی سو برس جاری رہا۔ اس کے بعد عثمانیوں نے یورپ اور روس کے کئی علاقے کھو دیے۔ بالآخر سلطنت عثمانیہ کا زوال شروع ہوا اور سلطنت کمزور پڑنے لگی۔ پہلی جنگ عظیم میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا۔ جب جرمنی کو شکست ہوئی تو اتحادی افواج نے ترکی کے حصے بخرے کر دیے اور انہی کے زیر اثر مصطفی کمال نے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر دیا۔

مختلف ادوار میں سلطنت عثمانیہ کا نقشہ(بشکریہ ottomansouvenir.com)

عثمانیوں کے عروج کے پیچھے جو اسباب کار فرما تھے ان میں بنیادی حیثیت ان کی دینی اور اخلاقی حالت کو حاصل ہے۔ شروع کے دور کے عثمانی بادشاہ بہت دین دار اور نیک تھے۔ یہ لوگ اپنی رعایا کے ساتھ نہایت ہی اچھا سلوک کرتے۔ ان کے لئے رفاہ عامہ کے کام کرواتے۔ میدان جنگ میں بادشاہ خود اگلی صفوں میں لڑ کر اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھاتے۔ سرکاری دعوتوں میں بادشاہ اپنے سپاہیوں کو خود کھانا سرو کیا کرتے تھے۔

عثمانیوں کے عروج کا دوسرا سبب ان کی برترٹیکنالوجی تھی۔ ان کی ہم عصر یورپی اقوام اپنے اس دور کو ڈارک ایجز سے تعبیر کرتی ہیں۔ یہ وہی دور تھا جب ان کے سائنس دانوں کو ایسے سائنسی انکشافات، جو کہ ان کے مذہبی عقیدے سے مختلف تھے، کی پاداش میں زندہ جلایا جا رہا تھا۔ انکویزیشن کی عدالتوں کے ذریعے عقیدے میں ذرا سا اختلاف کرنے والے کو موت کی سزا دے دی جاتی۔عثمانیوں نے ایک شاندار بحری قوت تیار کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے سائنس دان نت نئی ایجادات میں مصروف رہے جس کے نتیجے میں انہیں یورپ اور معاصر ایشیائی قوتوں پر زبردست برتری حاصل رہی۔

عثمانیوں کے عروج کی تیسری وجہ ان کی شاندار تنظیم تھی۔ ان کے درمیانے دور میں ایک ادارہ تشکیل پایاجو کہ "دیو شرمی" کہلاتا تھا۔ یہ غلاموں پر مشتمل افواج تھیں۔ وسطی ایشیا کے عیسائی خاندانوں سے ان کے بچوں کو خریدا جاتا۔ ان کی تربیت کی جاتی اور اعلی تربیت کے بعد ان کی صلاحیت کے اعتبار سے انہیں فوج یا سول سروس میں اعلی عہدے دیے جاتے۔ اس موقع پر انہیں آزاد بھی کر دیا جاتا۔ یہ لوگ ساری عمر بادشاہوں کے وفادار بن کر رہتے۔چونکہ ان لوگوں کو سلطنت میں اعلی اسٹیٹس حاصل ہوتا، اس لئے غریب والدین خود اپنے بچوں کو حکومت کے ہاتھوں فروخت کر دیا کرتے تھے تاکہ ان کے خاندان کو معاشرے میں اچھا مقام حاصل ہو سکے۔

عثمانیوں کے عروج کی چوتھی بڑی وجہ غیر مسلموں کے ساتھ ان کا حسن سلوک تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں انتہا پسند عیسائیوں کے ستائے ہوئے اعلی تعلیم یافتہ یہودی اور اسپینی مسلمان ترکی میں آ کر آباد ہوئے۔ نہ صرف یہودی اور مسلمان بلکہ خود عیسائیوں کے وہ فرقے جو کلیسا سے اختلاف رکھتے تھے، ان کی جائے پناہ عثمانیوں کا دیس تھا جو انہیں خوش آمدید کہنے کے لئے تیار تھا۔ کلیسا کے ستائے ہوئے عیسائی اور یہودی، عثمانیوں کی فتح میں بہت ممد و معاون ثابت ہوئے۔ مشہور مستشرق لوئیس برنارڈ، جو کہ اسلام اور مسلمانوں کے شدید ناقد ہیں، لکھتے ہیں:

بہت سی عیسائی کمیونیٹیز (عثمانی سلطنت میں) اپنی لیڈر شپ کے تحت رہ رہی تھیں جو کہ حکومت کی منظور کردہ تھیں۔ ان کے اپنے اسکول اور تعلیمی نظام تھے۔ شادی، طلاق، وراثت اور مذہبی معاملات کے بارے میں ان کے اپنے قوانین ان پر نافذ کیے جاتے تھے۔ یہودیوں کا بھی یہی معاملہ تھا۔ اس طرح صورت حال یہ تھی کہ ایک ہی گلی میں رہنے والے تین افراد، جو تین مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے، اگر مرتے تھے تو ان کی جائیدادیں تین مختلف قانونی نظاموں کے تحت تقسیم ہوا کرتی تھیں۔

یہود اگر یوم سبت یا یوم کپور کی خلاف ورزی کرتے تو ان کو سزائیں ان کی اپنی ربانی عدالتوں سے ملتی تھیں ۔ عیسائیوں کو دوسری شادی کرنے پر ان کی اپنی عدالتیں سزا دیتیں کیونکہ یہ عیسائیت میں تو جرم ہے مگر عثمانیوں کے ہاں یہ جرم نہ تھا۔ اسلامی قوانین کی پابندی سے یہودو نصاری آزاد تھے۔ رمضان کے مقدس مہینے میں ان پر سر عام کھانے کی کوئی پابندی نہ تھی۔ انہیں شراب بنانے، آپس میں بیچنے اورپینے کی آزادی بھی تھی۔ عثمانی دور کی بعض سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ عدالتوں کے سامنے یہ مسئلہ پیش آیا کہ مسلمانوں کو یہود و نصاری کی شادیوں میں شراب پینے سے کیسے روکا جائے؟اس معاملے میں بھی سب پر پابندی عائد کر دینے کے آسان حل کو قابل غور نہ سمجھا گیا۔

(Europe & Islam)

یہ عثمانیوں کے عروج کی وجوہات تھیں جس کی بدولت ان سے تمام کمیونیٹیز خوش رہا کرتی تھیں۔ جب ایک عام آدمی کو حکومت سے اس کا حق مل رہا ہو تو وہ خود کو قوم کا حصہ سمجھتا ہے اور اس کی تعمیر و ترقی میں اپنی ذمہ داری کو ادا کرتا ہے۔ اس کے برعکس اگر حکومت اسے اس کا حق نہ دے تو پھر وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہوئے ملک و قوم سے لا تعلق ہو جاتا ہے۔

اپنے دور زوال میں عثمانیوں نے اپنے آباؤ اجداد کی اچھی عادتوں کو چھوڑ دیا۔ ان کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ان کا اخلاقی انحطاط تھا۔ سلاطین اور امراء نے اپنے حرموں میں خوبصورت لڑکیاں جمع کرنا شروع کر دیں۔ اس عیش پرستی کے نتیجے میں وہ حکومتی معاملات سے بے خبر ہوتے چلے گئے اور کرپشن پھیلنے لگی۔ سلیمان اعظم اپنی ایک خوبصورت روسی لونڈی روکسلین کے عشق میں ایسا پاگل ہوا کہ اسے ملکہ بنا کر سارے معاملات اس کے سپرد کر دیے۔ ترک مصنفہ، محترمہ خالدہ ادیب خانم لکھتی ہیں:

سلیمان نے اپنی بیوی کے اثر سے صرف اتنا ہی نہ کیا کہ اپنا جانشین ایک نہایت ہی نااہل اور نالائق شہزادہ کو بنایا۔ اگر معاملہ یہیں تک محدود رہتا تو سلیم کے سلطان بننے کے اتنے برے نتائج نہ نکلتے کیونکہ اگر کسی سلطنت کا نظام مستحکم ہوتا ہے تو بادشاہ کی نالائقی کا تدارک اچھے کارکنوں کے حسن انتظام سے ہو جاتا ہے۔ مگر بادشاہ کی بیوی نے سلیمان کو اس پر بھی آمادہ کر لیا کہ وہ شہزادوں کو محل میں ہی بند رکھ کر تعلیم و تربیت دلانے کا رواج شروع کر دے۔ شہزادوں کے نصاب تعلیم سے جسمانی تربیت اور عملی تجربے خارج کر دیے گئے۔۔۔۔ اس نئے رواج کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب ایسے لوگ بادشاہ ہونے لگے جو بند محل میں تعلیم پاتے تھے۔ عیش و عشرت اور تن آسانی کے عادی تھے اور جنہیں کاروبار سلطنت سے کوئی واقفیت نہیں تھی۔

سترہویں صدی میں اول سے آخر تک نااہل سلاطین کا ایک سلسلہ بندھا ہوا نظر آتا ہے۔ ان میں جو عیش پرست نہیں تھے، وہ پرلے درجہ کے ظالم و جابر تھے اور جو حرم کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے، وہ انتہا سے زیادہ بداطوار تھے۔ ان کی منظور نظر بیگمات سلطنت کے بڑے بڑے عہدے فروخت کرنے لگیں۔ ہم کہتے ہیں، "مچھلی اپنے سر سے گلنا شروع ہوتی ہے۔" عثمانیوں کی سول سروس اسی رنگ میں رنگی جانے لگی اور رشوت لے کر عہدے فروخت کیے جانے لگے۔ میرٹ، جو کہ پہلے ترقی پانے کا معیار تھا، اب بے حیثیت ہو کے رہ گیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ عثمانی سلاطین جو کہ شروع کے رومی بادشاہوں کی طرح شجاعت و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے، اب بازنطینی حکمرانوں کی طرح آرام پسند ہو گئے۔ اس دور کے بہت کم سلطان ایسے ہوں گے جو طبعی موت مرے ہوں گے۔ اس صدی میں فوجوں کی بغاوت اور فرماں رواؤں کی معزولی کا بازار گرم تھا، اس وجہ سے ان میں اکثر قتل کر دیے جاتے تھے۔(Conflict of East & West in Turkey)

عثمانی بادشاہوں کے مرنے کے بعد ان کے شہزادوں میں مغلوں کی طرح اقتدار کے حصول کی جنگیں ہونے لگیں۔ ان کے ہاں ایک عجیب قانون یہ طے پایا کہ ایک بادشاہ کے لئے اپنے بھائیوں کا قتل جائز قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد ہر شہزادہ باپ کے مرنے کے بعد اپنے بھائیوں کے قتل کے درپے ہو جاتا اور فوج تقسیم ہو کر ایک دوسرے سے برسر پیکار ہو جاتی۔

سلطنت عثمانیہ کے زوال کا ایک بڑا سبب ان کا علمی جمود تھا۔ عثمانیوں کا سرکاری نظام تعلیم ان علماء کے ہاتھ میں تھا جو یہ سمجھتے تھے کہ علم تیرہویں صدی عیسوی یا چھٹی صدی ہجری پر آ کر رک گیا ہے۔ اس کے بعد اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔سلطان سلیم ثالث کے دور میں جدید علوم و فنون کے مدارس قائم کرنے کی کوشش کی گئی جسے علماء نے ناکام بنا دیا۔ اس میں انہیں فوج کی حمایت حاصل رہی تھی۔ اس کے برعکس ترکی کی حریف اقوام رینی ساں اور ریفارمیشن کے ادوار میں علمی اعتبار سے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی تھیں۔

ان کی یہ علمی ترقی جلد ہی اقتصادی اور عسکری ترقی میں بدل گئی اور مسلمان اس میدان میں بہت پیچھے رہ گئے۔ ان کا علمی جمود، معاشی و عسکری جمود میں تبدیل ہو گیا۔ یہ صورتحال اب تک برقرار ہے اور ہمارے علماء آج تک یہ سمجھتے ہیں کہ علمی ترقی بس وہی ہے جو ہمارے اسلاف کر گئے۔ اب موجودہ دور میں جو کچھ بھی ہے، وہ سراسر انحراف ہی ہے۔

الوداغ پہاڑ

اگلی صبح اٹھ کر ہم نے وہی لکڑی والے بن اور شہد کا ناشتہ کیا اور باہر نکلے۔ قریب ہی ایک دکان تھی۔ کچھ ڈرنکس اور دوپہر کے لئے پھل وغیرہ لینے کے لئے ہم اندر گئے۔ برسا، ترکی میں پھلوں اور خاص طور پر ڈرائی فروٹ کی پیداوار کے لئے مشہور ہے۔ یہاں کی خاص چیز مونگ پھلی ہے۔ یہ ہمارے ہاں کی مونگ پھلی سے سائز میں دوگنا ہوتی ہے اور اس کے دانے بھی بہت موٹے موٹے ہوتے ہیں۔ ہم نے خاص طور پر یہ مونگ پھلی گھر کے لئے خریدی۔ میری شکل دیکھتے ہی دکاندار نے پوچھا، "اسے سفر کے لئے پیک کر دوں؟" میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

یہاں سے فارغ ہو کر میں نے ایک منی ایکسچینج سے ترکی لیرا حاصل کیے۔ اب ہم "الوداغ" جانے کے لئے تیار تھے۔ایک سگنل پر میں نے ساتھ والی کار میں موجود صاحب سے الوداغ کا راستہ پوچھا۔ ان صاحب کی شکل مشہور کرکٹر عمران خان سے ملتی جلتی تھی۔ کچھ دیر سوچتے رہے، پھر کہنے لگے، "آپ میرے پیچھے آئیں۔ میں آپ کو اس کے راستے تک پہنچا دیتا ہوں۔" انہوں نے ہماری خاطر اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔ کچھ دیر ان کے پیچھے چلنے کے بعد ہم ایک چوراہے پر پہنچے۔ یہاں انہوں نے شیشے سے ہاتھ نکال کر ہمیں ایک سڑک دکھا دی اور خود واپس ہوئے۔ میں نے بھی ہاتھ ہلا کر ان کا بھرپور شکریہ ادا کیا۔

الوداغ کا جنگل

الوداغ کی سردیاں بشکریہ pbase.org

الوداغ ایک پہاڑی سلسلہ ہے۔ یہ علاقہ سردیوں میں مکمل طور پر برف سے ڈھک جاتا ہے۔ اس وجہ سے یہاں اسکی انگ اور سردیوں کے دیگر کھیلوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ یہ ترکی کا سب سے بڑا اسکی انگ سنٹر ہے۔ان دنوں اگست کے ابتدائی ایام تھے۔ اس وجہ سے برف کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا البتہ سبزہ اپنے پورے جوبن پر تھا۔ پہاڑی علاقوں کی طرح یہاں بھی تنگ سی سڑک بل کھاتی ہوئی اوپر کی طرف جا رہی تھی۔ سڑک کے دونوں جانب گھنے سبزے کے درمیان سرخ، سفید، پیلے اور کاسنی رنگ کے پھول اپنی بہار دکھا رہے تھے۔

تھوڑی دیر میں ہم بلندی پر جا پہنچے۔ یہ پہاڑ بہت زیادہ بلند تو نہیں تھے مگر اپنے موسم کی وجہ سے ان کا ماحول وہی تھا جو ہمارے شمالی علاقہ جات کا ہے۔علاقہ اچھا تھا مگر یوزن گول اور بولو کے مقابلے میں زیادہ پسند نہ آیا۔ اوپر ایک پارک بنا ہوا تھا جس میں بچے جھولے جھول رہے تھے۔ یہاں کچھ اسکول کے بچے پکنک منانے آئے ہوئے تھے۔ ان کی باحجاب ٹیچرز ایک جانب بیٹھی گپیں ہانک رہی تھیں۔ مرد ٹیچر باقاعدہ ایپرن باندھے بار بی کیو کر رہے تھے۔ بچے پستولوں میں پانی بھر کر ایک دوسرے پر ڈال رہے تھے۔ کچھ بچے پینگیں چڑھانے میں مصروف تھے۔ ماریہ نے بھی ان کے ساتھ جھولے لیے۔

آج دھوپ نکلی ہوئی تھی جس کی وجہ سے موسم کچھ گرم تھا۔ ہم اب سفر کر کر کے تنگ آ چکے تھے، اس وجہ سے ارادہ کیا کہ اگلے ایک دو دن میں استنبول دیکھ کر واپسی کا کوچ کیا جائے۔ کچھ دیر یہاں گزار کر ہم نے الوداغ کو الوداع کہا اور واپسی کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ برسا سے نکل کر ہم دوبارہ اسی سگنلز سے بھرپور سڑک پر سفر کرنے لگے۔

مرمرہ ریجن

یہ پورا علاقہ مرمرہ ریجن کہلاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس علاقے کے شمال اور مغرب دونوں جانب بحیرہ مرمرہ پھیلا ہوا ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ علاقہ طویل عرصے تک یونان کے قبضے میں رہا ہے۔ اس وجہ سے یہاں مسلم تاریخ کے آثار کم اور یونانی تاریخ کے آثار زیادہ پائے جاتے ہیں۔ یونان کی دیو مالا کے بہت سے کرداروں کا تعلق مرمرہ ریجن سے ہے۔

اہل مغرب چونکہ اپنی تاریخ کا آغاز یونان سے کرتے ہیں، اس وجہ سے ان کے لئے اس علاقے میں بہت کشش ہے۔ ہم لوگوں کے لئے اس ریجن میں کچھ خاص کشش نہ تھی اور ہم طویل سفر سے بھی تنگ آ چکے تھے، اس وجہ سے ہم نے یہاں زیادہ وقت گزارنے کی بجائے واپسی ہی میں عافیت محسوس کی۔ مگر بہتر ہو گا کہ قارئین کی دلچسپی کے لئے اس علاقے کے خاص خاص مقامات کا ذکر کر دیا جائے۔

ٹروجن ہارس

برسا سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر "چناقی قلعہ" کا مشہور شہر واقع ہے۔ یہ بحیرہ مرمرہ کا آخری کونا ہے۔ یہاں سے بحیرہ مرمرہ ایک تنگ سی آبنائے کے ذریعے بحیرہ آگیان میں جا ملتا ہے جو جنوب کی طرف بحیرہ روم میں جا ملتا ہے۔اس لحاظ سے بحیرہ مرمرہ کسی سپیرے کی بین کی شکل اختیار کرتے ہوئے ایک ایسی جھیل بن جاتا ہے جو ایک طرف بحیرہ روم اور دوسری طرف بحیرہ اسود کے ساتھ دو تنگ سی آبناؤں کے ذریعے ملا ہوا ہے۔

چناقی قلعہ شہر کے قریب ہی قدیم یونانی شہر "ٹرائے" کے آثار موجود ہیں۔ یہ شہر اب سے چار سے پانچ ہزار سال پہلے ایک بڑا تجارتی مرکز رہا ہے۔ کوئی تین ہزار سال پہلے یونان چھوٹی چھوٹی شہری ریاستوں میں تبدیل ہو گیا جن کے درمیان وسائل کی چھینا جھپٹی کے سلسلے میں جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ اس شہر سے متعلق "ٹروجن ہارس" کی مشہور زمانہ کہانی یونانی دیو مالا میں ملتی ہے۔

اس کہانی کے مطابق ٹرائے پر ایک دوسرے شہر کی فوج حملہ آور ہوئی اور انہوں نے اس کا محاصرہ کر لیا۔ طویل محاصرے کے باوجود شہر فتح نہ ہو سکا۔ ناکام ہو کر حملہ آوروں نے واپسی کا اعلان کر دیا۔ جاتے جاتے وہ لکڑی کا ایک بہت بڑا گھوڑا چھوڑ گئے۔ شہر کے لوگوں نے جب دشمن فوج کو واپس جاتے دیکھا تو قلعے کے دروازے کھول کر باہر نکلے۔ دیکھا کہ دشمن تو جا چکا ہے مگر ایک بہت بڑا لکڑی کا گھوڑا کھڑا ہے۔ وہ اسے یادگار سمجھتے ہوئے اندر لے گئے۔ جب رات ہوئی تو گھوڑے کے پیٹ کا دروازہ کھلا او راس میں موجود دشمن کے سپاہی باہر نکلے۔ انہوں نے طے شدہ منصوبے کے تحت شہر کے پھاٹک کھول دیے۔ ان کے ساتھی جو بظاہر جا چکے تھے، چپکے سے واپس آ گئے اور اس طرح شہر فتح ہو گیا۔ اس کہانی کی بدولت انگریزی ادب میں خفیہ سازش کے لئے "ٹروجن ہارس" کا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ اس گھوڑے کا ایک ماڈل اب بھی "چناقی قلعہ" میں موجود ہے۔

ٹرائے کا گھوڑا (بشکریہ flickr.com)

ازمیر اور افسس

چناقی قلعہ سے تین سو کلومیٹر جنوب میں ازمیر کا شہر واقع ہے جو ترکی کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ اس کا قدیم نام "سمرنا" ہے۔ ازمیر کی وجہ شہرت اس سے 70 کلومیٹر کے فاصلےپر واقع قدیم شہر افسُس (Ephesus) کے کھنڈرات ہیں۔ اس شہر کو عیسائی تاریخ میں بہت اہمیت حاصل ہے۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آپ کے حواریوں نے اناطولیہ کے علاقے کو اپنی دعوت کا مرکز بنا لیا۔ شروع میں تو عیسائیوں کی حیثیت یہودیوں کے ایک ضمنی فرقے کی تھی جن پر آرتھو ڈوکس یہودی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑا کرتے تھے۔

اللہ کے عظیم رسول سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلانے کے سبب 70ء میں یہود پر اللہ کا عذاب رومی بادشاہ ٹائٹس کی شکل میں نازل ہوا جس نے یروشلم کو تباہ کر دیا اور یہودیوں کو غلام بنا کر پوری رومن ایمپائر میں منتشر کر دیا۔ یہودیوں کے مقابلے میں عیسائیوں کے ساتھ رومیوں کی پالیسی نرم تھی۔عیسائیوں نے پورے اناطولیہ میں اپنی دعوت پھیلانا شروع کی۔ سینٹ پال جو کہ عیسائیت کے پرجوش مبلغ تھے، انہوں نے افسس کو اپنا مرکز بنایا۔ یہاں سے انہوں نے یونان کے مختلف شہروں میں موجود عیسائیوں کو جو خطوط لکھے، وہ بائبل کے عہد نامہ جدید میں "رومیوں، کرنتھیوں اور گلتیوں کے نام" کے عنوان سے موجود ہیں۔پال نے ایک خط افسس شہر کے باشندوں کے نام بھی لکھا تھا جو کہ بائبل میں "افسسیوں کے نام" کے عنوان سے موجود ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اصحاب کہف کا تعلق بھی افسس سے تھا۔ ان سے منسوب ایک غار بھی یہاں پائی جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک غار جنوبی ترکی کے شہر طرسوس اور ایک غار اردن میں عمان کے قریب بھی موجود ہے۔

شباطائی زیوی

ازمیر کی ایک مشہور شخصیت شباطائی زیوی ہے۔ مارک لیپر نے اپنے سفرنامے میں ان کے حالات لکھے ہیں۔ یہ صاحب 1626ء میں ازمیرکے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے یہودی فقہ کے عظیم مجموعے "تالمود" کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ان کا رجحان تصوف کی طرف ہو گیا۔ انہوں نے یہودی تصوف یا کبالہ میں مہارت حاصل کی۔اس زمانے کے یہودیوں میں "ہزار سالہ" نظریات گردش کر رہے تھے۔ ان نظریات کے مطابق اب تورات میں دی گئی پیشین گوئیوں کے مطابق "مسیحا" کی آمد کا وقت قریب تھا۔ اس قسم کے خیالات 1000 ہجری کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر بھی موجود رہے ہیں۔غالباً ہمارے ہاں بھی یہ خیال یہودیوں کی جانب سے آیا ہو گا۔

زیوی نے 1648ء میں مسیح موعود ہونے کا دعوی کر دیا۔ ان کا دعوی تھا کہ وہ یہودیوں کو دوبارہ اکٹھا کر کے اسرائیل کی عظیم سلطنت قائم کرنے کے لئے آئے ہیں۔ ترکی پر ان دنوں مسلمان عثمانی بادشاہوں کی حکومت تھی جو کہ غیر مسلموں کے معاملات میں قطعی مداخلت نہ کیا کرتے تھے۔ زیوی کی دعوت پھیلنے لگی۔ حلب کے ایک متمول یہودی رفائیل جوزف حلبی نے ان کی دعوت کو قبول کیا تو اپنی دولت اس کےلئے وقف کر دی۔ زیوی نے فلسطین کا رخ کیا۔ یہاں غزہ کے علاقے میں ان کی ملاقات "ناتھن آف غزہ" سے ہوئی جو کہ بعد میں ان کے دست راست ثابت ہوئے۔

آہستہ آہستہ شباطائی زیوی یہودیوں کے سربراہ کی حیثیت اختیار کر گئے۔ انہوں نے تورات کی شریعت کو منسوخ کر دیا۔ ان کا ارادہ تھا کہ یہودیوں کو منظم کر کے اسرائیل کی سلطنت کو دوبارہ قائم کیا جا سکے۔ ان کی دعوت اب نہ صرف سلطنت عثمانیہ بلکہ یورپ کے طول و عرض میں موجود یہودیوں میں پھیل چکی تھی۔ ان کے عزائم کو بھانپتے ہوئے حکومت نے انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا مگر ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا۔

1666ء میں شباطائی نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے نتیجے میں ان کے بہت سے مرید ان سے بدظن ہو گئے۔ اس کے باوجود انہوں نے سرکاری سرپرستی میں اپنا کام جاری رکھا۔ ایک طرف انہوں نے مسلمانوں کو کبالائی تصوف سے آگاہ کیا او ردوسری طرف یہودیوں میں سے اپنے عقیدت مندوں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔اس طریقے سے کبالائی تصوف اور اسلام کی آمیزش سے انہوں نے ایک نیا فرقہ پیدا کیا جو کہ "شباطائی فرقہ" کہلاتا ہے۔ ان کے ماننے والے آج بھی ترکی میں پائے جاتے ہیں جو کہ بظاہر مسلمان ہیں لیکن اندر سے اپنی یہودی رسومات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود و نصاری میں بھی مسلمانوں کی طرح مہدی اور مسیح ہونے کے بہت سے دعوے دار پیدا ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک لوگ ان جھوٹے دعوے داروں کے ہاتھوں بے وقوف بنتے رہیں گے۔

 

اگلا باب †††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

 

 

مصنف کی دیگر تحریریں

اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا سدباب/سفرنامہ ترکی/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں ††††/†† علوم الحدیث: ایک مطالعہ/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص ††/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟†† /مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت †††/Quranic Concept of Human Life Cycle ††††/Empirical Evidence of Godís Accountability