بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قسطنطنیہ

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 20MB)

 

مکمل تحریر کو تصاویر کے بغیر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ازمت کے پاس پہنچ کر ہم مرمرہ ریجن سے نکل آئے۔ خلیجازمت کے گرد چکر کاٹ کر ہم اس کی دوسری جانبپہنچے۔ موٹر وے پر پہنچ کر ہم نے اپنا رخ استنبول کی جانب کر لیا۔ تھوڑی دیر ہی میں ہم استنبول شہر کے مضافات میں داخل ہو گئے۔ یہ ایک صنعتی علاقہ تھا۔ پہاڑوں کے بیچ میں وادیوں کے درمیان مختلف فیکٹریاں نظر آ رہی تھیں۔ استنبول شہر ابھی پچاس کلومیٹر دور تھا مگر اس کے مضافات یہیں سے شروع ہو رہے تھے۔

استنبول ایک قدیم شہر ہے۔ اس شہر کو 1600 سال تک دنیا کی دو سپر پاورز کا دار الحکومت رہنے کا اعزازحاصل رہا ہے۔ استنبول کی تاریخکے آثار6500 قبل مسیح تک دریافت ہو چکے ہیں۔ جب اس شہر کو یونانیوں نے اپنی سلطنت میں شامل کیا تو اس کا نام "بازنطین" رکھا۔ 100 قبل مسیح کے لگ بھگ یہ شہر رومی سلطنت کا حصہ بنا۔ رومی شہنشاہ قسطنطین یا کانسٹنٹائن جب یہاں سے گزرا تو اسے یہ جگہ بہت پسند آئی۔ اس نے اس شہر کو 330ء میں اپنا دار الحکومت بنا لیا۔اس نے شہر کا نام کانسٹنٹائنوپل رکھا جو عربی میں قسطنطینیہ اور فارسی و اردو میں قسطنطنیہ بن گیا۔ اس کے بعد تقریباً 1100 سال یہ شہر رومی سلطنت کا دا ر الحکومت رہا۔ جب 1453ء میں اسے سلطان محمد فاتح نے فتح کیا تو یہ مسلمانوں کی عثمانی سلطنت کا دا ر الحکومت قرار پایا۔ اس کی یہ حیثیت 1923ء تک برقرار رہی۔ اب استنبول جدید ترکی کا دار الحکومت تو نہیں ہے مگر اس کا اہم ترین شہر ہے۔

شہر میں داخل ہونے کے بعد اچانک پھولوں سے لدی ہوئی دیواریں ہمارے سامنے آ گئیں۔ سڑک کے دونوں جانب پہاڑی چٹانوں پر اس طریقے سے پھول اگائے گئے تھے کہ یہ ایک تختے کی طرح انہیں ڈھانکے ہوئے تھے۔†† ارد گرد کے پہاڑوں پر خوشنما سرخ چھتوں والے مکان سبز بیک گراؤنڈ میں دلفریب منظر پیش کر رہے تھے۔یہاں پہاڑوں پر بھی دس پندرہ منزلہ عمارتیں عام تھیں۔

جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ استنبول شہر بیک وقت ایشیا اور یورپ میں واقع ہے۔ نقشے پر دیکھیے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی پلاس کے جبڑوں کی طرح ایشیا اور یورپ کا ایک ایک کونہ نکل کر ایک دوسرے کے مقابل آ کر رک گیا ہو۔ درمیان میں آبنائے باسفورس ہے۔ یہ تنگ سی سمندری پٹی جو کہ ایک عظیم الشان دریا کا منظر پیش کرتی ہے، بحیرہ مرمرہ اور بحیرہ اسود کو آپس میں ملاتی ہے۔یورپی حصے میں باسفورس سے ایک شاخ نکل کر دور تک خشکی کے اندر چلی جاتی ہے۔ یہ "شاخ زریں" یا "گولڈن ہارن" کہلاتی ہے۔ باسفورس اور گولڈن ہارن کے درمیان کا علاقہ "غلطہ" کہلاتا ہے۔ اس خطے کے حسن کا نظارہ تارڑ صاحب کے الفاظ میں سنیے:

میرے سامنے گنبدوں اور میناروں کا ایک شہر سمندر سے اٹھا۔ یہ شہر ماضی بعید میں بازنطینیوں کا بازنطائن۔ ماضی میں کانسطنطائن کا قسطنطنیہ اور حال میں عثمانی ترکوں کا استنبول کہلایا۔ ایک شہر تین عہد، تین روپ اور تین ہی حصے۔ایک حصہ ایشیا میں جہاں سے ہم آ رہے تھے۔ دوسرا یورپ میں اسلامبول اور تیسرا الغلطہ جسے شاخ زریں اسلامبول سے جدا کرتی ہے۔ ایک ہی شہر۔ ہمارے گرد آبنائے باسفورس میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ ایشیا اور یورپ کے درمیان درجنوں مسافر بردار کشتیاں رواں دواں۔ سامان سے لدے ہوئے بیڑے، مچھیروں کی لاتعداد کشتیاں۔ دنیا کے ہر کونے سے آئے ہوئے تجارتی جہاز اور پھر ہارن اور بھونپوؤں کی متواتر آوازیں۔ دنیا بھر میں کسی بھی شہر نے اپنے گرد پھیلے ہوئے سمندر کو اتنی خوبصورتی نہیں بخشی جو باسفورس کے حصے میں آئی ہے۔ وینس کی خوبصورتی کا انحصار ہی سمندر پر ہے مگر استنبول میں سمندر شاخ زریں کا کشکول ہاتھ میں لیے شہر سے حسن کی بھیک مانگ رہا ہے۔ میری نظروں کے سامنے اس حسین شہر کے طلسمی افقی خطوط ابھر رہے تھے۔ آیا صوفیہ کا عظیم الجثہ گنبد۔ نیلی مسجد کے چھ نازک اندام اور باریک مینار۔ ترک سلطانوں کا محل سرا۔ شاخ زریں پر پل الغلطہ اور اس گھنے جنگل میں سینکڑوں لامبے اور پتلے مینار ہر سو بکھرے ہوئے جیسے نیلے آسمان کے سینے میں تیز چمکتے ہوئے برچھے گڑے ہوں۔ میرے لئے استنبول کی پہلی جھلک جوانی کے فریبوں اور پہلی محبت کے احساسات سے زیادہ حسین اور ہیجان خیز ثابت ہوئی تھی۔

ہم لوگ بھی استنبول کے فطری حسن اور صفائی سے کافی متاثر تھے مگر تارڑ صاحب کی نسبت ذرا کم۔ تھوڑی دیر میں ہم باسفورس کے پل پر جا پہنچے۔ یہ بغیر ستونوں کے ایک عظیم پل تھا جس کے دونوں طرف ٹاور تعمیر کر کے ان سے لوہے کے رسے لٹکائے گئے تھے۔ ان کے درمیان پل لٹک رہا تھا۔ آج آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے جن کی وجہ سے نیلے باسفورس کا رنگ سرمئی لگ رہا تھا۔

دفاتر سے چھٹی کا وقت ہوا تھا جس کی وجہ سے دور دور تک ٹریفک بلاک تھی۔اس میں استثنا استنبول کی "میٹرو" کا تھا۔ یہ وہی ڈبل بسیں تھیں جو ہم نے برسا میں بھی دیکھی تھیں۔ کھلی سڑک کے بیچوں بیچ دو لینز ان کے لئے مخصوص کر دی گئی تھیں۔ یہی پر ان کے اسٹاپ بنے ہوئے تھے۔یہ تیز رفتاری سے ٹریفک میں پھنسی ہوئی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے سینے پر مونگ دلتی ہوئی چل رہی تھیں۔ تمام بسیں کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں۔ ان کے ہاں خواتین کے علیحدہ کمپارٹمنٹ کا رواج نہ تھا۔ہم نے شکر کیا کہ ہم جدہ میں رہتے ہیں جہاں ابھی تک ٹریفک بلاک ہونے کا مسئلہ شدت اختیار نہیں کر سکا۔

چونکہ اب ہم سفر سے تنگ آ چکے تھے اس لئے مناسب یہی محسوس ہوا کہ پہلے اپنی واپسی کی سیٹیں پہلے کی تاریخ میں کروا لیں۔ ڈیڑھ کروڑ کی آبادی کے اس شہر میں سعودی ائر لائن کا دفتر کون ڈھونڈتا۔ اس لئے ہم نے ائر پورٹ کا رخ کیا۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ سعودی عرب کی تمام فلائٹیں جا چکی ہیں اس لئے دفتر اب بند ہے۔ اب رات گزارنے کے لئے ہوٹل ڈھونڈنےکا مرحلہ تھا جو کہ بڑے شہر میں کچھ ایسا تھا جیسے بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کی جائے۔ ایک عربی بولنے والے صاحب نے بتایا کہ آپ "توپ کاپی" چلے جائیے۔ وہاں ہر طرف ہوٹل ہی ہوٹل ہیں۔

توپ کاپی

ائر پورٹ سے توپ کاپی کے راستے سے میں واقف تھا کیونکہ گوگل ارتھ پر یہ راستہ میں تفصیل سے دیکھ چکا تھا۔سڑک پر لگے سائن بورڈز کے مطابق ڈرائیو کرتے ہم کچھ دیر میں شہر کی فصیل سے گزر کر توپ کاپی جا پہنچے۔استنبول شہر کی فصیل "رومیلی حصار" کہلاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر سلطان محمد فاتح نے کی تھی۔ توپ کاپیایک وسیع علاقے کا نام تھا جس میں استنبول کے اساسی تاریخی آثار موجود ہیں۔ یہ ایک طویل سڑک تھی جس کے اطراف میں دکانیں اور پلازے بنے ہوئے تھے۔ سڑک کے بیچوں بیچ "مونو ریل" کی پٹریاں تھیں۔ ان پر دو بوگیوں والی ٹرینیں چل رہی تھیں۔ یہ ٹرام کی جدید شکل تھی۔ ٹرین کے دونوں جانب انجن تھا۔ جدھر جانا ہو، اس طرف کا انجن چلا لیجیے۔ مونو ریل اور سڑک کی ٹریفک کو اشاروں کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔

استنبول کی فصیل(بشکریہ coolistanbultours.com)

استنبول کی مونو ریل

یہاں واقعی ہر جانب ہوٹل ہی ہوٹل تھے۔ کچھ دیر کے بعد ایک ہوٹل پسند آ گیا۔ہوٹل کے قریب ہی ایک چارجڈ پارکنگ تھی۔ وہاں گاڑی کھڑی کر کے ہم کھانا کھانے کے لئے نکلے۔ قریب ہی ایک باربی کیو ریسٹورنٹ تھا۔ یہاں پہنچتے ہی ایک گھاگ قسم کے بیرے نے بالکل اسی انداز میں اپنے کھانوں کی تعریف شروع کر دی جیسے ہمارے شاعر اپنی محبوبہ کی تعریف کرتے ہیں۔ ہماری شکلوں کو دیکھتے ہوئے آخری مصرعہ یہ فٹ کیا کہ "یہاں حلال کھانا ملتا ہے۔"

اس ہوٹل کی خصوصیت یہ تھی کہ یہاں انیسویں صدی کے زمانے کے استنبول اور دیگر ترک شہروں کی تصاویر لگی ہوئی تھیں۔ افسوس کہ ہم کیمرہ گاڑی میں بھول آئے تھے، ورنہ ان تصاویر کی مزید تصاویر لے لیتے۔ کھانا مزیدار تھا۔فارغ ہو کرگاڑی قریب ہی ایک چارجڈ پارکنگ میں کھڑی کی۔ وہاں موجود صاحب نے پہلے تو قومیت پوچھی۔پاکستانیہونے کے باعث انہوں نے دس کی بجائے پانچ لیرا وصول کیے۔ اب ہم اپنے کمرے میں آ گئے۔ رات کے دس بج رہے تھے اور استنبول شہر بھی ویران ہو رہا تھا البتہ اس کی ویرانیدیگر شہروں کی نسبت کم تھی۔

اگلی صبح ناشتے میں وہی لکڑی والے بن اور شہد سے گزارا کیا۔میں بڑی تگ و دو کے بعد ہوٹل کے ملازمین کو کسی نہ کسی طرح یہ سمجھانے میں کامیاب ہو گیاکہ میں فلائٹ میں اپنی سیٹ جلدی کی تاریخ میں کروانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد انٹرنیٹ کے ذریعے سعودی ائر لائن کے دفتر کا نمبر معلوم کیا اور انہیں فون کیا۔ مجھے امید نہ تھی کہ وہ فون اٹھا لیں گے اور اگر اٹھا لیں گے تو میری بات سمجھ سکیں گے مگر انہوں نے نہ صرف فون اٹھایا بلکہ وہاں موجود صاحب نے نہایت ہی اچھے طریقے سے بات سنی، سمجھی اور فون پر ہی اگلے دن کی سیٹ کنفرم کر دی۔

اب پارکنگ سے گاڑی سے لے کر ہم استنبول کی سیر کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ اچھی بات یہ تھی کہ یہاں کی تمام قابل ذکر جگہیں ایک ہی مقام پر واقع تھیں۔ویسے تو پورا استنبول ہی مسجدوں کا شہر ہے مگر ہم ایک دن میں تمام مساجد دیکھ نہ سکتے تھے اور ویسے بھی ان مساجد کا آرکی ٹیکچر بالکل ایک جیسا ہے۔یہاں اتنی زیادہ تاریخی مساجد ہیں کہ گویا ہر بادشاہ اور اس کے افسر نے ایک مسجد بطور نشانی تعمیر کی تھی۔ہر مسجد کے نام کے ساتھ کسی نہ کسی پاشا کا نام لگا ہوا تھا۔

سائن بورڈز کے مطابق چلتے ہوئے ہم پہلے ساحل یولو پر آئے اور اس کے بعد ایک تنگ سی گلی میں گھس گئے جو سیدھی فصیل کے اندر جا رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہم تاریخی ایریا میں پہنچ گئے۔ ایک گلی میں بمشکل پارکنگ ملی جو کہ ڈھائی لیرا فی گھنٹہ کے حساب سے تھی۔

سلطان احمد مسجد

پارکنگ سے نکل کر جیسے ہی ہم آگے بڑھےتو ایک نہایت ہی عالیشان مسجد ہمارے سامنے تھی۔ یہ سلطان احمد مسجد تھی۔ہمارے دائیں جانب "آیا صوفیہ" کا گرجا ، مسجد یا عجائب گھر تھا۔ آیا صوفیہ اور سلطان احمد مسجد کے درمیان ایک وسیع اور سرسبز پارک بنا ہوا تھا۔ہم مسجد کی جانب بڑھنے لگے۔ ڈھیروں ڈھیر سیاح مسجد کے اندر جا رہے تھے۔ انہیں صرف مسجد کے بیرونی صحن تک جانے کی اجازت تھی۔ اس سے آگے ٹورسٹ پولیس کے اہل کار تھے جو صرف معقول لباس والوں کو ہی آگے جانے دے رہے تھے۔ بیرونی صحن پتھر کی سلوں سے بنا ہوا تھا۔

ہم لوگ پہلے مسجد کے بیرونی صحن میں پہنچے۔ یہاں ایک بوڑھی سکھ خاتون بیٹھی ہوئی تھیں اور اپنے بیٹے سے مشرقی پنجاب کے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں کچھ کہہ رہی تھیں۔ مسجد کے باہر پلاسٹک کے بیگ ایک رول میں لپٹے ہوئے تھے۔ جو بھی اندر جانا چاہتا، وہ ان لفافوں میں اپنے جوتے ڈال کر لے جاتا۔ مسجد کے اندر داخل ہوئے تو ہر طرف نیلا ہی نیلا رنگ بکھرا ہوا تھا۔ مسجد کی چھت پر نیلے رنگ کا کام کیا گیا تھا۔ اس کی کھڑکیوں کے شیشے بھی نیلے رنگ کے تھے۔ اگرچہ سنان کے آرکی ٹیکچر کے تحت تعمیر کردہ مساجد کے اندرونی حصے میں زیادہ تر نیلے رنگ کا استعمال ہی ہوا ہے مگر اس مسجد کو اہل مغرب نے "نیلی مسجد" کے نام سے مشہور کر دیا ہے۔

سلطان احمد مسجد

مسجد کے گنبد کا اندرونی حصہ

یہ مسجد 1609-1616 ء کے عرصے میں سلطان احمد کے حکم سے تعمیر کی گئی۔ اہل مغرب اسے عثمانی دور کے آرکی ٹیکچر کا شاہکار قرار دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر بازنطینی بادشاہوں کے محل موجود تھے۔ مسجد کو سنان کے ایک شاگرد محمد آغا نے ڈیزائن کیا۔

آج جمعہ کا دن تھا۔ جیسے ہمارے ہاں نماز جمعہ سے پہلے مسجدوں میں بچے تلاوت و نعت شروع کر دیتے ہیں، ویسے ہی یہاں بھی تلاوت کلام پاک جاری تھی۔ میں نے ایک پولیس والے سے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا۔ معلوم ہوا کہ نماز ایک بجے ہو گی۔ گویا ابھی نماز میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔ ہم نے سوچا کہ اس وقت میں کوئی اور جگہ دیکھ لی جائے۔ چنانچہ مسجد سے باہر آ گئے۔

اب ہمارا رخمسجد کے مغربی جانب تھا۔ یہاں ایک ٹورسٹ انفارمیشن سنٹر بنا ہوا تھا۔ میں نے ان سے پانی میں بنے ہوئے ستونوں کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بڑے اچھے طریقے سے اس کا رخ سمجھا دیا۔ کہنے لگے، یہ صرف دو منٹ کے فاصلے پر ہے۔ یہاں سے مجھے استنبول کا ایک سیاحتی نقشہ بھی مل گیا۔

ملین مینار اور باسیلیکا سسٹرن

مونو ریل کی پٹریاں پار کر کے ہم دوسری جانب آ گئے۔ یہاں ایک طویل مینار بنا ہوا تھا۔اس کا نام "ملین" تھا۔ یہاں بورڈ پر درج تھا کہ چوتھی صدی عیسوی میں یہ مینار سلطنت روم کے مرکز کے طور پر تعمیر کیا گیا اور اسے مرکزی نقطہ مان کر یہاں سے سلطنت کے طول و عرض کی پیمائش کی گئی۔

ملین مینار

باسیلیکا سسٹرن (بشکریہ wikipedia.org)

مینار کے دوسری طرف "باسیلیکا سسٹرن" کا عجوبہ تھا۔ یہ کیا چیز تھی؟ تارڑ صاحب کے الفاظ میں سنیے:

ٹکٹ خرید کر ہم جھونپڑی کے اندر داخل ہو گئے۔ دروازے کے ساتھ ہی لکڑی کی سیڑھیاں نیچے جاتی تھیں۔ ہم نیم تاریکی میں آہستہ آہستہ نیچے اترے۔ ہمارے سامنے کانسطنطائن کا زیر زمین آبی محل کھڑا تھا۔تین سو چھتیس مرمریں ستون جو کمر تک گہرے پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ محل کی چھت سے پانی کی بوندیں رس رس کر ستونوں کے اس وسیع تالاب میں ٹپ ٹپ گر رہی تھیں جیسے جل ترنگ بج رہا ہو۔سیڑھیوں کے قریب چند ستونوں پر بجلی کے قمقمے ٹمٹما رہے تھے لیکن اس سے پرے مکمل تاریکی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے ایک پراسرار جھیل میں سینکڑوں ستون اگ آئے ہیں۔

پچاس برس میں اب فرق یہ پڑا تھا کہ اس پراسرار مقام کے اوپر جھونپڑی کی بجائے ایک شاندار عمارت تعمیر کر دی گئی تھی۔ ٹکٹ اب پندرہ لیرا کا تھا۔ نیچے ہر ستون کے ساتھ خوبصورت لائٹیں لگا دی گئی تھیں۔میری تحقیق کے مطابق یہ آبی محل نہیں تھا بلکہ اس جگہ کو بادشاہ کے محل کے لئے پانی کی ٹنکی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ بارش کے پانی کو یہاں اکٹھا کر کے پھر انسانوں یا جانوروں پر لاد کر اسے محل میں لایا جاتا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ گرمی لگنے پر بادشاہ سلامت بھی یہاں انجوائے کرنے آ جاتے ہوں۔ بہرحال یہ جو کچھ بھی تھا، خوب تھا۔

پانی میں رنگ برنگی مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ یہاں کے ماحول میں عجیب وحشت سی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہم کسی بھوت بنگلے میں آ گھسے ہیں۔ سیاحوں کی کثرت کے باعث یہ وحشت بہرحال ایسی نہ تھی کہ انسان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ نکلے۔پورےہال میں لکڑی کا پل بنا ہوا تھا جس پر سے گزر کر لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہے تھے۔ ایک مقامپر عجیب و غریب ستون بنے ہوئے تھے۔ ان ستونوں پر عجیب قسم کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ انہیں "میڈوسا" کے ستون کہا جاتا ہے۔

میڈوسا (بشکریہ www.concierge.com (

باسیلیکا سسٹرن

یونانی دیو مالا میں میڈوسا ایک بھتنی کا نام ہے۔یہاں کے ستونوں پر میڈوسا کی تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگرچہ بادشاہ کانسٹنٹائن نے عیسائیت قبول کر لی تھی مگر یونانی مشرکانہ مذہب کے اثرات اس پر یا اس کے عملے کے ذہنوں پر ابھی باقی تھے۔یہی معاملہ مسلمانوں کے ساتھ ہوا۔ افریقہ، ایران، وسط ایشیا، ترکی اور ہندوستان میں بہت سے لوگوں نے اسلام قبول تو کر لیا مگر ان کے ذہنوں پر ان کے قدیم مشرکانہ مذاہب کے اثرات باقی رہے۔ یہی اثرات اگلی نسلوں کو بھی منتقل ہوئے۔ برصغیر کے مسلمانوں میں جو توہم پرستی پائی جاتی ہے، یہ اسی کی باقیات میں سے ہے۔

اب ایک بجنے میں پندرہ منٹ تھے۔ ہم نے مناسب یہی محسوس کیا کہ واپس مسجد چلا جائے تاکہ جمعہ کی نماز میں بروقت شامل ہوا جا سکے۔ تھوڑی دیر میں ہم وہاں جا پہنچے۔ مسجد کے بیرونی صحن میں وضو خانہ بنا ہوا تھا۔ ترکی میں بالعموم رواج یہ تھا کہ مسجد کے ٹائلٹ پر رقم ادا کرنا پڑتی ہے مگر وضو خانہ بالکل فری ہوتا ہے۔اپنے قدیم اسٹائل سے ایسا لگ رہا تھا کہ اس وضو خانے کو بھی سلطان صاحب نے مسجد کے ساتھ ہی تعمیر کروایا ہو گیا۔ سنگ مرمر کی ٹائلوں کے بیچ میں سے ٹونٹیاں نکلی ہوئی تھیں جن میں سے ہلکا ہلکا پانی آ رہا تھا۔

مسجد مکمل طور پر بھر چکی تھی۔ مجھے بمشکل برآمدے میں جگہ مل سکی۔ ٹھیک ایک بجے اذان ہوئی۔ اس کے بعد امام صاحب نے عربی اور ترکی زبان میں خطبہ شروع کیا۔ آج کے خطبے کا موضوع "غیبت، بدگمانی اور تجسس" تھا۔ یہ وہ گناہ ہیں جو ہمارے معاشرے میں پورے زور و شور سے پھیلے ہوئے ہیں مگر انہیں گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ہر شخص دوسرے کے بارے میں بدگمانی میں مبتلا ہے۔ کسی کے عمل کو مثبت انداز میں لینے کی بجائے ہمارے ہاں منفی سوچ عام ہے۔ جب تک یہ ذہن کے اندر رہتی ہے، یہ بدگمانی کہلاتی ہے۔ انسانجب دوسروں کے بارے میں منفی رویہ اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد اگلا مرحلہ تجسس کا ہوتا ہے۔ دوسروں کی عیب جوئی کے لئے ان کی ٹوہ لی جاتی ہے۔ اس کے بعد ان عیوب کو غیبت کی صورت میں اچھالا جاتا ہے۔ یہ تینوں گناہ وہ ہیں جن میں ہم مذہبی لوگ سب سے زیادہ مبتلا ہیں۔ امام صاحب نے سورہ حجرات کے حوالے سے بتایا کہ قرآن مجید میں بدگمانی سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنْ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلا تَجَسَّسُوا وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ. (حجرات49:12 )

اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو۔ بہت سے گمان تو گناہ ہوتے ہیں۔ تجسس نہ کیا کرو اور نہ ہی ایک دوسرے کی غیبت کیا کرو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ تم اس سے کراہت کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

ہمارے ہاں مساجد میں جمعہ کے خطبے زیادہ تر فرقہ وارانہ مسائل اور حکومت پر تنقید کی نظر ہو جاتے ہیں۔ اگر ان خطبات کو لوگوں کی اخلاقی اصلاح کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کے نتائج بہت جلد سامنے آ سکتے ہیں۔ سال کے باون جمعوں میں اگر باون اخلاقی برائیوں یا اچھائیوں کے بارے میں گفتگو کی جائے تو ہم اپنی شخصیت کی تعمیر کر سکتے ہیں۔

اذان کی دعوتی اہمیت

امام صاحب کی قرأت بہت دلکش تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر ہم باہر نکلے تو مغربی سیاح مسجد سے نکلنے والوں کی دھڑا دھڑ تصاویر لے رہے تھے۔ بعض لوگ باقاعدہ فلم بنا رہے تھے۔ ان کے لئے یہ شاید نئی چیز ہو گی اور انہوں نے اپنے سفر ناموں میں اسے بیان کرنا ہو گا۔اذان اور نماز کی یہ صورت غیر مسلموں کو عمل کے ذریعے اسلام کی دعوت پیش کرتی ہے۔ یہ لوگ اس سے کس حد تک متاثر ہوتے ہیں، اس کا اندازہ ایک مغربی مصنفہ کرسٹینا برزوسٹوسکی کے اس بیان سے ہوتا ہے۔

نماز کے لئے دی جانے والی ماورائی اذان کی آواز سے زیادہ کوئی چیز دل ہلا دینے والی نہیں ہے۔ نیلی مسجد کا لاؤڈ اسپیکر کھٹکھٹاتا ہے اور اس کے بعد "اللہ ہ ہ ہ ہ ہ ہہ" کی آواز نکلتی ہے۔ اس نغمے کی گونج پورے علاقے میں پھیل جاتی ہے جس سے پوری کی پوری فضا بھر جاتی ہے۔ ابھی یہ صدا ختم نہیں ہوتی کہ دوسرا مینار جاگ اٹھتا ہے اور (دوسری پکار کے ساتھ) اس پہلیصدا کا جواب دینے لگتا ہے۔ خاموشی کے چھوٹے سے وقفے کے بعد نیلی مسجد کی اذاندوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔ اذان کا یہ نغمہ خاموشی کے وقفوں کے ساتھ جاری رہتا ہے اور اس سے اعلی درجے کی موسیقی تخلیق ہوتی ہے۔ چند منٹ تک اذان جاری رہنے کے بعد یہ ختم ہوتی ہے ۔ یہ پورا نغمہ استنبول کی ٹریفک کے شور کے درمیان بھی سنا جا سکتا ہے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ مسلم ممالک کا سفر کرنے والے ان سیاحوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے متعلق کتابچے فراہم کیے جائیں تاکہ ان تک دین کا پیغام پہنچے۔ اس کے بعد یہی لوگ اپنی سفری داستانوں کے ذریعے اس پیغام کو اپنی باقی قوم تک پہنچا سکتے ہیں۔

ہمارے ہاں دعوت دین کی اس ذمہ داری سے غفلت کا سبب یہ ہے کہ ہم نے اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی بجائے اپنے لئے دلچسپی کے کچھ اور ہی میدان ڈھونڈ لیے ہیں۔ اہل مغرب کے بعض شریر حکمرانوں کے فساد کی وجہ سے ہمارے لوگ پوری غیر مسلم دنیا سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ اگر ہم اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے تو چند فسادیوں کی وجہ سے عام انسانوں کی اتنی بڑی تعداد کو اللہ کے دین کی دعوت سے محروم نہ رکھتے۔عین ممکن ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اس بات کا حساب ہم سے طلب کرے کہ ہم نے اس کے دین کی دعوت کے بارے میں اس قدر غفلت کا مظاہرہ کیوں کیا۔

عیسائیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے ہاں یہ کمی بھی پائی جاتی ہے کہ انہوں نے دوسری قوموں تک اپنی دعوت پہنچانے کے لئے ادارے اس درجے میں قائم نہیں کیے۔ ہمارے دینی مدارس میں اسلام کے نہیں بلکہ مخصوص فرقوں کے مبلغ تیار ہوتے ہیں۔ ہماری دعوتی و اصلاحی تحریکوں میں سے شاید ہی کوئی ایسی ہو جس نے غیر مسلموں تک دعوت دین پہنچانے کو اپنا ہدف بنایا ہو۔البتہ مغربی ممالک میں بعض لوگ انفرادی یا اجتماعی سطح پر اس مقصد کے لئے کام کر رہے ہیں۔اس کے برعکس عیسائیوں کے ہاتھ بہت ہی منظم دعوتی ادارے موجود ہیں۔ ان کے ہاں ہر علاقے کے مخصوص سماجی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے مبلغ تیار کیے جاتے ہیں۔ افریقہ و ہندوستان کے قبائلی علاقوں کے لئے "ورلڈ ٹرائبل مشن" الگ سے کام کر رہا ہے۔

ہمارے ہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ دعوت دین کے لئے باقاعدہ مستقل ادارے بنائے جائیں۔ دینی مدارس کے تعلیم میں دعوت دین کو ایک سبجیکٹ کی صورت میں پڑھایا جائے۔ جو لوگ دعوت دین کو بطور فل ٹائم یا پارٹ ٹائم مشغلے کے طور پر اختیار کریں، ان کی کاؤنسلنگ کا اہتمام کیا جانا چاہیے ۔ میرا ارادہ ہے کہ اپنی ویب سائٹ کے ذریعےدنیا بھر میں دعوت دین کا کام کرنے والوں کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ کاؤنسلنگ کا کچھ ذریعہ بناؤں تاکہ اس میدان میں اپنے تجربات ہم ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر سکیں۔ جو قارئین اس کام میں دلچسپی رکھتے ہوں، وہ بذریعہ ای میل مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس معاملے میں میرا کتابچہ "دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار" دین کی دعوت دینے والوں کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔

تصوف کی کمرشلائزیشن

مسجد سے باہر نکلے تو ایک جگہ اسٹال لگا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ شام کو کسی آڈی ٹوریم میں گھومتے درویشوں کے رقص کا پروگرام ہے۔ یہ وہی رقص ہے جس کی تفصیل ہم قونیہ کے باب میں بیان کر چکے ہیں۔ یہاں اسٹال پر بروشر موجود تھے جن پر باقاعدہ تصاویر کے ذریعے رقص کی تفصیل دی گئی تھی۔عجیب بات یہ تھی کہ اس رقص پر باقاعدہ 40 لیرا کا ٹکٹ لگایا گیا تھا۔ ساتھ یہ بھی درج تھا کہ حاضرین کے لئے ڈرنکس مفت ہوں گے۔

بروشر دیکھ کر ہماری ہنسی نکل گئی۔ یہ ترک بڑے کمرشل نکلے۔ انہوں نے دنیا پرستی سے دور بھاگنے والے صوفیوں اور درویشوں کو بھی کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ یہ آئیڈیا ہمارے ہاں کے کسی ٹور آپریٹر کو نہیں آیا۔ ورنہ عین ممکن تھا کہ مغربی سیاحوں کے لئے کسی آڈی ٹوریم میں مزاروں پر دھمال ڈالنے والے ملنگوں کے رقص کا اہتمام کیا جاتا۔ رقص کے ساتھ صوفیانہ موسیقی کے نام پر انہیں قوالی سنائی جاتی۔ ملنگوں کی گھوٹی ہوئی بھنگ کے سوم رس کا ایک ایک پیالہ حاضرین کو ٹکٹ کی قیمت میں ہی شامل کر کے پیش کیا جاتا جسے پی کر وہ معرفت کی منازل طے کرتے چلے جاتے۔ ابھی تک ہمارے لوگوں نے صرف قوالی کو کمرشلائز کیا ہے۔

آیا صوفیہ

سلطان احمد مسجد کے بالکل سامنے پارک تھا جس کے دوسری طرف آیا صوفیہ یا "حاگیہ صوفیہ" تھا۔ یہ ایک قدیم گرجا گھر تھا جو بادشاہ قسطنطین نے عیسائیت قبول کرنے کے بعد 330ء کے لگ بھگ تعمیر کروایا تھا۔ یہ عمارت تباہ ہو گئی تھی جس کے بعد 537ء میں جسٹنین اول نے اس کی دوبارہ تعمیر کروائی۔بعد میں اس کی تعمیر میں کچھ اضافے ہوتے رہے۔ 900 سال تک یہ چرچ ، عیسائیت کے مرکز کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔صلیبی جنگوں کے دوران اسے خود ان عیسائی حملہ آوروں نے شدید نقصان پہنچایاجو کہ مخالف فرقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ فرقہ واریت چیز ہی ایسی ہےکہ انسان اس میں پڑ کر ایسا درندہ بنتا ہے کہ وہ عبادت گاہوں کے تقدس کا بھی خیال نہیں رکھتا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارے ہاں بھی پایا جاتا ہے جب مخالف فرقے کی مسجد میں بم دھماکہ کر کے عین نماز کی حالت میں لوگوں کو شہید کر دیا جاتا ہے۔

آیا صوفیہ

آیا صوفیہ کا اندرونی منظر (بشکریہ flickr.com)

1453ء میں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطان محمد فاتح نے اس چرچ کو مسجد میں تبدیل کر دیا۔ میں نے تواریخ میں جب یہ پڑھا تو مجھے سخت حیرت ہوئی۔ دین اسلام قطعی طور پر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ پر قبضہ کر کے اسے مسجد میں تبدیل کیا جائے۔ یروشلم کی فتح کے موقع پر جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کے بڑے گرجا گھر میں پادریوں کے ساتھ مذاکرات میں مشغول تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا۔ آپ نے گرجا کی بجائے اس کی سیڑھیوں میں نماز ادا کی۔ پادریوں نے جب اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا: "میں نہیں چاہتا کہ مستقبل میں کوئی مسلمان یہ کہہ کر کہ یہاں ہمارے خلیفہ نے نماز ادا کی تھی، تم سے یہ گرجا چھیننے کی کوشش کرے۔"

عجیب بات یہ ہے کہ سلطان کے اس اقدام پر ان کے علماء نے بھی توجہ کیوں نہیں دلائی۔انہی تواریخ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عام عیسائی آبادی کے لئے سلطان نے بڑی وسعت نظری کا مظاہرہ کیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ عیسائی آبادی کے بڑی تعداد میں انخلا کے باعث یہاں وہ لوگ نہ رہے ہوں جو گرجا کی دیکھ بھال کر سکیں۔ اس وجہ سے اسے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تاکہ یہ عبادت گاہ ہی رہے۔بعد میں مصطفی کمال نے اس عمارت کاعبادت گاہ کا اسٹیٹس ختم کرتے ہوئے اسے میوزیم کا درجہ دے دیا۔

آیا صوفیہ کی عمارت بڑی پرشکوہ ہے۔ یہ بازنطینی اور عثمانی آرکی ٹیکچر کا شاہکار ہے۔ گرجا کی اصل عمارت کو برقرار رکھتے ہوئے مسلمانوں نے اس کے گرد مینار تعمیر کیے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک محراب اور منبر کا اضافہ کیا ہے۔ گرجا کے گنبدوں میں اب بھی سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی تصاویر موجود ہیں۔ اس کے دوسرے فلور پر بازنطینی دور کے موزائک آرٹ کے نمونے بھی موجود ہیں جن میں باریک باریک پتھروں کی مدد سے تصاویر بنائی گئی ہیں۔ اس موزائک آرٹ کی تفصیل میں اپنے سفرنامے "قرآن اور بائبل کے دیس میں" کے باب "مادبہ" میں پیش کر چکا ہوں۔

توپ کاپی محل

آیا صوفیہ کی سائیڈ سے گزر کر ہم توپ کاپی محل کی جانب بڑھے۔ اینٹوں کی بنی ہوئی گلی میں چلتے چلتے ہم محل کے صدر دروازے پر جا پہنچے۔ ہمارے سامنے ایک بہت بڑا گیٹ تھا جس کے دونوں جانب ایک بہت ہی موٹی دیوار جا رہی تھی۔ یہ سلطنت عثمانیہ کا مرکز تھا جسے اب میوزیم بنا دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ قسطنطنیہ کی فتح کے دوران رومی بادشاہ کا محل تباہ ہو گیا تھا، اس لئے سلطان محمد فاتح نے یہاں اپنے لئے محل تعمیر کروایا۔

محل کے دروازے میں داخل ہوئے تو دونوں جانب بندوقیں تھامے سپاہی بت بنے کھڑے تھے۔ یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ یہ حقیقی انسان ہیں یا مومی اسٹیچو۔ ہم مسلسل انہیں دیکھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں ایک سپاہی سے رہا نہ گیا اور اس نے پلکیں جھپکا ہی لیں۔ معلوم ہوا کہ حقیقی انسان ہیں۔ دروازے کے اندر ایک بہت بڑا لان تھا۔ اس کے ایک جانب محل کی مسجد بنی ہوئی تھی۔محل کے دروازوں پر عربی و فارسی میں بہت سے اشعار لکھے ہوئے تھے جن میں سلاطین کی خوشامد سے لے کر ان کے دشمنوں کی تباہی و بربادی کی دعائیں تک درج تھیں۔ایک شعر میں تو بادشاہ کے دشمنوں کو باقاعدہ گالیاں اور کوسنے دیے گئے تھے۔کچھ اشعار پیش خدمت ہیں:

حضرت سلطان محمود ابن خان عبدالحمید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اشقیا مردود با بندن حرامی نابدید

جناب حضرت سلطان احمد خان ثالث کیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سپہر سلطنت دہ ذات پاکی آفتاب نور

شہ تخت سعادت غازی صاحب کرامت دار ۔۔۔۔۔۔ ولی پاک خصلت علم و حلم و لطف لہ مشہور

اس سے بادشاہوں کے گرد موجود مفاد پرست حلقے کی چمچہ گیری کا اندازہ ہوتا ہے۔ یقیناً یہی وہطبقہ تھا جو ان کے زوال کا باعث بنا تھا۔

توپ کاپی محل کا دروازہ

محل کی مسجد

لان کے دوسرے سرے پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہاں تک تو معاملہ فری تھا۔ اب آگے جانے کے لئے ٹکٹ لینا ہو گی۔ ٹکٹ لے کر اگلا دروازہ پار کیا تو ہم ایک اور لان میں تھے۔ لان کے چاروں جانب کمرے بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے ہر کمرے کو نوادرات کی ایک خاص قسم کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔ ایک کمرے میں سلاطین کے بستر تھے۔ دوسرے کمرے میں ان کے برتن، تیسرے میں ان کی انگوٹھیاں، چوتھے میں ان کے جوتے، پانچویں میں ان کی تلواریں، چھٹے میں ان کے کپڑے، ساتویں میں ان کی تصاویر ، آٹھویں میں ان کے قالین اور اسی طرح اور بہت سے کمروں میں نجانے کیا الا بلا بھرا پڑا تھا۔

میری اہلیہ کو بادشاہوں کے زرق برق گھاگرے اور فراک بہت پسند آئے۔ انہیں اس بات کی حیرت ہوئی کہ یہ لباس ان کے مرد پہنا کرتے تھے۔ آج کل اس قسم کے لباس ہمارے ہاں صوبہ سرحد کے دیہات کی پٹھان خواتین پہنتی ہیں۔ بادشاہوں کی تصاویر بھی خوب تھیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کسی بچے نے بھدی سی پینٹنگز بنائی ہوں۔ ایک تصویر میں کسی سلطان کا پورٹریٹ بنایا گیا ہوا تھا۔ میں نے آج تک اتنا مسکین صورت بادشاہ نہیں دیکھا۔ اونچی ٹوپی میں وہ بادشاہ سلامت کی بجائے کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے شیف معلوم ہو رہے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تصویر ان کی وفات کے بعد ہی بنائی گئی ہو گی ورنہ اگر ان کے سامنے یہ تصویر پیش کی جاتی تو وہ مصور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم جاری کر دیتے۔

مسکین صورت بادشاہ

جڑاؤ خنجر

بادشاہوں کی ہر چیز میں ہیرے جواہرات کا بے دریغ استعمال کیا گیا تھا۔ اور تو اور تلواروں اور خنجروں پر بھی ہیرے جواہرات لگائے گئے تھے۔ ایک تلوار پر ہزار کے قریب ہیرے جڑے تھے۔ تارڑ صاحب کے دوست علی کے بقولاس تلوار سے تو سلطان صاحب بادام ہی توڑتے ہوں گے، آدمی تو مرنے سے رہا۔

محل کی بالکنی سے گولڈن ہارن کا نظارہ

مغربی سیاحوں کے لئے ان اشیاء میں بہت کشش تھی۔ انہوں نے اپنے ملکوں میںجا کر اپنے دوستوں کو مشرقی بادشاہوں کے لگژریلائف اسٹائل کی داستانیں سنانا ہوں گی۔ اس کے برعکس میرے لئے یہاں سلطنت عثمانیہ کے زوال کی داستان اکٹھی کر دی گئی تھی۔جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا ہے:

آ تجھ کو بتاتا ہوں، تقدیر امم کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر

عثمانی سلاطین بھی اپنی ابتدا میں بڑے جفاکش اور محنتی لوگ تھے۔ جب انہوں نے محنت چھوڑ کر عیاشی کی زندگی اختیار کی تو ان پر زوال آ گیا۔ اسی زوال کی داستان یہاں اس عجائب گھر میں محفوظ کر دی گئی تھی۔

ایک کمرے سے نکل کر ہم آگے بڑھے تو ایک بالکنی ہمارے سامنے تھی جس سے گولڈن ہارن کا نظارہ نہایت ہی دلفریب نظر آ رہا تھا۔ اس معاملے میں سلاطین واقعی بہت ہی باذوق واقع ہوئے تھے۔بالکنی کے نیچے ایک ریسٹورنٹ بنا ہوا تھا جس میں ہر چیز پانچ گنا قیمت پر فروخت کی جا رہی تھی۔

مختلف کمروں سے گزرتے ہوئے ہم نے بادشاہوں کے دیوان عام اور خزانے کی عمارتیں دیکھیں۔ اس وقت یہ خالی ہال ہی تھے۔ ادھر ادھر سے ٹیکس اکٹھا کر کے انہیں سلاطین کی عیاشیوں پر خرچ کیا جاتا رہا تھا۔ اس معاملے میں یہ بادشاہ ہمارے آج کل کے جمہوری حکمرانوں سے بہرحال بہتر تھے کہ وہ اپنی عیاشیوں کے علاوہ ٹیکسوں کی اس آمدنی کا کچھ حصہ عوام پر بھی خرچ کر دیتے تھے۔ مسلم بادشاہوں نے اپنے زمانے کے معیار کے لحاظ سے تعلیم اور صحت کی جو سہولتیں اپنے عوام کو فراہم کی تھیں ، اس کا عشر عشیر بھی غیر مسلم دنیا میں نہیں ملتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس دور کی مسلم دنیا باقی ممالک کے مقابلے میں بہت ترقی یافتہ تھی اور یہاں آ کر رہنا اور تعلیم حاصل کرنا اہل یورپ کا ایک خواب ہوا کرتا تھا۔

انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے منسوب تبرکات

محل کے مختلف حصوں کو دیکھتے دیکھتے ہم اس کے آخری کونے تک پہنچ گئے۔ یہاں تین چار الگ کمرے بنے ہوئے تھے۔ ان میں داخل ہوتے ہیں تلاوت کی دلنواز آواز کان میں پڑی۔ معلوم ہوا کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سابقہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے منسوب تبرکات موجود ہیں۔ان تبرکات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک، آپ کے قدم مبارک کا نشان، نعلین مبارک، آپ سے منسوب تلواریں،آپ کا نامہ مبارک، دندان مبارک اور لباس مبارک شامل تھے۔ اس کے علاوہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے منسوب برتن، سیدنا یوسف علیہ السلام سے منسوب عمامہ، سیدنا موسی علیہ السلام سے منسوب عصا اور سیدنا داؤد علیہ السلام سے منسوب تلوار بھی اس میوزیم کا حصہ تھیں۔ ان تبرکات کے علاوہ یہاں خانہ کعبہ کی کنجی، حجر اسود کا کیس، خانہ کعبہ کا پرانا دروازہ اورخانہ کعبہ میںاستعمال ہونے والا ایک پرانا شہتیر بھی موجود تھا۔†† ان تبرکات کی تصاویر اتارنے کی اجازت نہ تھی۔ اس وجہ سے یہاں ہم haqonline.lightuponlight.com سے ان کی تصاویر پیش کر رہے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کا نشان

موئے مبارک اور دندان مبارک

داڑھی مبارک کا بال

حضور سے منسوب تلواریں

رسول اللہ کا نامہ مبارک

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منسوب تلواریں

نعلین مبارک

خانہ کعبہ کی کنجی

سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے منسوب برتن

سیدنا یوسف علیہ السلام سے منسوب عمامہ

سیدنا موسی علیہ السلام سے منسوب عصا

سیدنا داؤد علیہ السلام سے منسوب تلوار

ان تبرکات کے بارے میں حتمی طور تو یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کی نسبت ان بزرگوں کی طرف درست ہے یا نہیں البتہ یہ تبرکات ان بزرگوں کی طرف منسوب ضرور ہیں۔ایک روایت کے مطابق یہ تبرکات آخری عباسی بادشاہ متوکل نے سلطان سلیم اول کو اس وقت دیے تھےجب سلطان نے عباسی خلافت کے خاتمے کا اعلان کر کے خود کو خلیفہ قرار دیا تھا۔

چونکہ انبیاء کرام خاص طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی چیز کو منسوب کرنا دنیا و آخرت میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے، اس لئے اس معاملے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ اس ضمن میں صحیح رویہ یہ ہے کہ اگر اس نسبت کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں کوئی دلیل نہ ہو تو خاموشی اختیار کی جائےاور کوئی تبصرہ کرنے سے باز رہا جائے۔ ہاں اگرکسی چیز کے بارے میں یہ ثابت ہو جائے کہ اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف درست ہے تو پھر اس سے محبت و عقیدتایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ بقول مولانا حسن رضا خان؂

جو سر پر رکھنے کو مل جائے نعل پاک حضور ۔۔۔۔۔ تو پھر کہیں گے کہ ہاں ! تاجدار ہم بھی ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب دو اصلی تبرکات ہمارے ہاتھوں میں موجود ہیں اور وہ ہیں آپ کا دیا ہوا قرآن اور آپ کی سنت طیبہ۔ افسوس کہ ہم نے ان تبرکات کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا ہے۔ قرآن و سنت کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہماری محبت و عقیدت کے دائرے سے خارج ہو چکا ہے۔

میوزیم کے ایک جانب نوادرات کو ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹری بھی تھی۔ یہاں کاربن ڈیٹنگ ٹیسٹ کی سہولت میسر تھی جس کی مدد سے نوادرات کے اصل وقت کا پتہ چلایا جاتا ہے۔

سلاطین کا حرم

تبرکات کی زیارت کے بعد ہم واپس مڑے۔ تھوڑی دیر میں ہم حرم سلطانی کے دروازے پر پہنچ گئے۔ سلطنت عثمانیہ کے زوال کے چند اسباب تو ہم پہلے دیکھ آئے تھے مگر اس زوال کا سب سے بڑا سبب اس وقت ہمارے سامنے تھا اور یہ تھا سلاطین کا حرم۔ جو لڑکی بادشاہوں کو پسند آ جاتی اسے داخل در حرم کر دیا جاتا۔ اس کی تفصیل ہم اپنی کتاب "اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ" میں بیان کر چکے ہیں۔وہی تفصیل ہم یہاں درج کر رہے ہیں:

حرم کے ادارے کا تصور مسلمانوں میں یونانی اور رومی سلطنتوں سے آیا۔ بادشاہ کو جو لڑکی پسند آ جاتی، اسے حرم میں داخل کر دیا جاتا۔ ان میں سے بعض خوش نصیب لڑکیوں کو ملکہ کی حیثیت حاصل ہو جایا کرتی تھی لیکن ان کی زیادہ تر تعداد لونڈیوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ اگر یہ معاملہ صرف بادشاہ تک ہی محدود رہتا تب بھی اس کے اثرات زیادہ نہ پھیلتے لیکن بادشاہ کی دیکھا دیکھی شہزادوں، وزراء، فوجی جرنیلوں، درباریوں اور بڑے تاجروں نے بھی اپنے حرم بنانے شروع کر دیے۔

††††††††† مسلم سلطنت کے ان علاقوں، جن میں حکومت کی رٹ مضبوط نہ ہوا کرتی تھی، کم سن بچیوں کو اغوا کر کے لونڈی بنایا جاتا۔ ان میں خاص طور پر وسط ایشیا کے ممالک جارجیا اور آذر بائیجان قابل ذکر ہیں جہاں کی خواتین بہت خوبصورت ہوا کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں بھی خواتین کی بطور طوائف اسمگلنگ میں ان علاقوں کا ایک خاص کردار ہے۔ اس کے علاوہ غیر مسلم ممالک جیسے یورپ وغیرہ میں بھی بچیوں کو اغوا کر کے مسلم ممالک میں اسمگل کر دیا جاتا۔

††††††††† ان بچیوں کو تجربہ کار نخاس یا بردہ فروش ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں فروخت کر دیا کرتے تھے۔ فروخت ہوتے ہوتے یہ ان لوگوں کے ہاتھ میں آ جایا کرتی تھیں جن کا کام ہی ان بچیوں پر طویل المدت سرمایہ کاری کرنا ہوا کرتا تھا۔ ان لونڈیوں کی اعلی درجے کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا اور انہیں شعر و ادب، موسیقی، رقص اور دیگر فنون لطیفہ کی تربیت دی جاتی۔ صنف مخالف کے جذبات کو ابھار کر اسے اپنے قابو میں لانے کی خاص تربیت ان لونڈیوں کو دی جاتی تھی۔ ان کے مربی عموماً ان سے اچھا سلوک کیا کرتے تھے کیونکہ انہیں اپنی انوسٹمنٹ کو واپس وصول بھی کرنا ہوا کرتا تھا۔

††††††††† جوان ہونے پر ان لونڈیوں کی بولیاں لگتیں اور شاہزادے اور رئیس ان کی خریداری میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔ جو شخص سب سے زیادہ بولی دیتا وہ لونڈی کا مالک بن جایا کرتا تھا۔ بسا اوقات کچھ رئیس کسی لونڈی کے مربی کو اس کے بچپن ہی میں ایڈوانس رقم دے کر اس کی جوانی کی بکنگ کروا لیا کرتے تھے۔ لونڈی کی پہلی ازدواجی رات اسے دلہن بنایا جاتا اور اس کا مالک اس سے بطور سہاگ رات کے لطف اندوز ہوا کرتا تھا۔ یہ رسم آج بھی "نتھ اتروائی" کے نام سے جاری ہے۔ اس صورتحال کے معاشرے پر اثرات سے متعلق رضا الشیرازی لکھتے ہیں:

لونڈیوں کی کثرت ہوتی چلی گئی اور اس کے باعث مردوں کے دلوں سے غیرت نکلتی چلی گئی۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگ ایک دوسرے کو لونڈیوں کا تحفہ دینے لگے جن میں رومی، ترکی اور ایرانی لونڈیاں شامل تھیں۔ یہ عرب عورتوں کی نسبت زیادہ خوبصورت اور ملائم چہرے کی حامل ہوا کرتی تھیں۔ پہلے مرد دوسروں کی خواتین کو نہ تو دیکھا کرتے تھے اور نہ ہی ان کی طرف متوجہ ہوا کرتے تھے جس کی وجہ سے خواتین محفوظ ہوا کرتی تھیں۔ جب خواتین کی کثرت ہو گئی تو غیرت کم ہوتی چلی گئی۔ جب کسی بیوی کے ساتھ اس کے خاوند کی مشغولیت میں کمی واقع ہو گئی تو اس کی عصمت، عقل اور شرف کے بارے میں مرد کی توجہ بھی کم ہوتی چلی گئی۔

جیسے جیسے عباسی عہد میں تمدن ارتقاء پذیر ہوتا رہا، عرب شہروں میں خواتین نے بھی اپنی آزادی اور غیرت کو بھلا دیا۔ بسا اوقات خواتین خود اپنے شوہر کا قرب حاصل کرنے کے لئے اسے خوبصورت لونڈی کا تحفہ دینے لگیں۔ خاوند کا دوسری عورت سے ازدواجی تعلقات قائم کرنا ان کے لئے بڑا مسئلہ ہی نہ رہنے لگا اور نہ ہی ان کے لئے یہ بات حسد کا باعث رہنے لگی۔ (محمد رضا الشیرازی، الآداب الاجتماعیۃ فی المملکۃ الاسلامیۃ)

ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں جا بجا اس بات کا ذکر کیا ہے کہ خوبصورت رومی لونڈیاں امراء کے حرم میں موجود تھیں۔ اندلس اور ترکی کا ذکر کرتے ہوئے وہ اس بات پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ یہاں کے حماموں میں مرد اپنی لونڈیوں کو لے کر غسل کرنے کے لئے جاتے ہیں جہاں مرد و عورت ایک ہی بڑے سے ہال میں برہنہ ہو کر غسل کرتے ہیں۔ اس دور کے حمام کو آج کل کے مساج سینٹر اور بیوٹی پارلر سمجھ لیجیے۔ غرض یہ کہ جو کچھ آج عیاشی کے بڑے بڑے اڈوں پر ہو رہا ہے، وہی سب کچھ مسلم امراء کے حرم میں ہوا کرتا تھا۔

حرم میں داخل ہونے کے بعد لونڈیوں کے ساتھ مختلف قسم کے حالات پیش آیا کرتے تھے۔ بعض لونڈیاں تیز طرار ہوتیں اور اپنے مالک کو قابو میں لے کر اس کے گھر کی مالکن بن بیٹھتیں۔ شاہزادوں اور بادشاہوں کی لونڈیاں بسا اوقات ان کے ہوش و حواس پر چھا کر مملکت کے امور کی نگہبان بن جایا کرتی تھیں۔ ابن الطقطقی کے بیان کے مطابق عباسی بادشاہ الھادی باللہ کو اس کی سوتیلی ماں کے حکم پر لونڈیوں ہی نے اس کا سانس بند کر کے قتل کیا تھا۔

اسی طرح ابن طقطقی کے بیان کے مطابق آل بویہ کا حکمران عضد الدولہ ایک لونڈی کے عشق میں اتنا پاگل ہوا کہ امور سلطنت سے ہی غافل ہو گیا جس سے پوری سلطنت کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ اس کے بعد جب اسے ہوش آئی تو اس نے خود اپنے ہاتھ سے اسی لونڈی کو دریائے دجلہ میں ڈبو کر ہلاک کر دیا۔ اسی طرح مغلیہ دور میں انارکلی کی مثال سب کے سامنے ہے جس نے شہزادہ سلیم کو اپنے قبضے میں کر رکھا تھا لیکن جہاندیدہ بادشاہ اکبر نے شہزادے کو اس سے محفوظ رکھنے کے لئے اسے زندہ دیوار میں چنوا دینے کی سزا سنائی تھی۔ معلوم نہیں کہ یہ واقعہ محض فکشن ہی ہے یا اس میں کچھ حقیقت بھی ہے۔ شہزادے صاحب اتنے دل پھینک واقع ہوئے تھے کہ جب بادشاہ بنے تو پھر بھی اپنی ملکہ نورجہاں کے مکمل کنٹرول میں رہے۔ اگر جہانگیر کے بعد دو اچھے کردار کے بادشاہ مغلیہ خاندان کو نہ ملتے تو مغلیہ سلطنت کا زوال سو برس پہلے ہی شروع ہو جاتا۔

حرم کی جن لونڈیوں میں تیزی طراری کی صفت مفقود ہوا کرتی تھی، اول تو ان کا شاہی حرم تک پہنچنا ہی ناممکن تھا، اگر وہ یہاں تک پہنچ بھی جاتیں تو بادشاہ یا شہزادے کا دل ان سے جلد ہی بھر جاتا۔ اس کے بعد ان کی پوری زندگی ایک نہایت ہی بھیانک انتظار کا شکار ہو جاتی۔ جو زیادہ پارسائی کا مظاہرہ کرتیں، وہ ہسٹریا کی مریض بن جاتیں اور جو اپنی خواہشات پوری کرنے کے دوسرے راستے اختیار کرتیں، وہ شاہی عتاب کی زد میں آ کر موت سے ہمکنار ہوتیں۔

کنیزوں میں محافظوں اور شاہی خاندان کے دوستوں کے ساتھ صنفی تعلقات استوار کر لینے کے واقعات بھی بکثرت ملتے ہیں۔ کسی کنیز سے دل بھر جانے کے بعد اسے کسی دوست یا افسر کو تحفتاً پیش کر دینے کا رواج بھی شاہی خاندانوں میں عام رہا ہے۔ بہت سی کنیزیں محلات کی اندرونی سازش میں مختلف بیگمات، شہزادوں اور شہزادیوں کے جاسوسوں کا کردار بھی ادا کیا کرتی تھیں۔ فریق مخالف کے غالب آ جانے کی صورت میں ان کی بقیہ زندگی پس زنداں گزرا کرتی تھی۔

وزراء، امراء اور درباریوں کی کنیزوں کے ساتھ بھی ذرا کم تر سطح پر یہی معاملہ پیش آیا کرتا تھا۔ ان کی سیاست اپنے حرم کی حدود میں جاری رہتی۔ ان میں سے جو کنیز ذرا زیادہ تیز ہوتی، وہ ترقی پا کر کسی بادشاہ یا شہزادے کے حرم میں داخل ہو جاتی اور کچھ عرصہ دولت سمیٹنے کے بعد واپس اپنے مقام پر آ جاتی۔ افسوس کہ غلامی کے خاتمے کے بعد اب بھی حرم بنانے کا یہ سلسلہ مسلم دنیا میں جاری ہے جس میں لالچ، قانونی معاہدوں اور اغوا کے ذریعے لونڈیاں اور غلام بنائے جاتے ہیں۔

لونڈیوں کے علاوہ ہم جنس پرست قسم کے امراء خوبصورت نوجوان لڑکے بھی اپنے حرم میں رکھ لیا کرتے تھے اور ان سے جنسی طور پر لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ ان لڑکوں کو "امرد" کہا جاتا تھا۔ ان لڑکوں کو بھی ناز و ادا دکھا کر اپنے شوقینوں کے صنفی جذبات کو بھڑکانے کی بھرپور تربیت دی جاتی تھی۔ جاحظ نے اپنے رسائل میں اپنے مخصوص ادیبانہ انداز میں ایسے لوگوں پر شدید تنقید کی ہے اور ان کی بدکاریوں پر کڑا محاسبہ کیا ہے۔ ابن بطوطہ نے جزیرہ مالی کے اپنے سفر میں شاہی دربار پر تنقید کی ہے جس میں خوبصورت لونڈیوں اور غلاموں کو عریاں کر کے کھڑا کیا جاتا تھا۔ لکھتے ہیں:

لونڈیاں اور غلام دربار میں عریاں حالت میں کھڑے ہوتے تھے جہاں انہیں سب ہی دیکھتے تھے۔ بادشاہ کے ماتحت اس کے سامنے آ کر اپنے عجز و انکسار کا اظہار اس طرح سے کرتے کہ وہ اپنی کمانیں زمین پر مارتے اور راکھ اور خاک کو اپنے سر پر ڈالتے۔ شاہی شاعر پرندوں کے لباس پہنے ادھر ادھر گھوم رہے ہوتے تھے۔

جیسا کہ شیرازی نے بیان کیا ہے مردوں کی اس شہوت پرستی کے اثرات عام آزاد خواتین پر بھی وقوع پذیر ہونے لگے۔ ایک مرد اگر خوبصورت لونڈیوں کے جھرمٹ میں ہر وقت رہے گا تو اس کے پاس اپنی بیوی کے لئے وقت کہاں بچ سکے گا۔ اس کے نتیجے میں بیوی اور دیگر لونڈیاں لازماً دیگر راستے تلاش کرے گی۔ اس صورتحال کا تجزیہ مشہور محدث ابن جوزی نے ان الفاظ میں کیا ہے:

مجھ سے بعض بوڑھے حضرات نے شکایت کی، "میری عمر زیادہ ہو گئی ہے اور میری قوت کمزور پڑ گئی ہے، پھر بھی میرا نفس نوجوان لونڈیوں کی خواہش کرتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ وہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتی ہیں جبکہ میں اس قابل نہیں رہا۔ اگرچہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں مگر میرا نفس گھر والی پر قناعت کرنے کو تیار نہیں ہے۔"

میں نے کہا، "میرے پاس دو جواب ہیں: ایک تو عام لوگوں کا جواب ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ موت کو زیادہ یاد کرنے میں مشغول ہو جائیے اور اسی طرف اپنی توجہ رکھیے۔ اس بات سے محتاط رہیے کہ جو شخص لونڈی خریدتا ہے اور پھر اس کے حقوق کی ادائیگی نہیں کر پاتا تو وہ اس سے نفرت کرنے لگتی ہے۔ اگر وہ (ازدواجی تعلقات کی ناکام) کوشش کرتا ہے تو یہ نفرت جلد پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر اس کی خواہش باقی رہ جائے تو اس کی نفرت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے لڑکیاں بوڑھوں کو پسند نہیں کرتیں۔ جان رکھیے کہ وہ اس کا بدلہ اس طرح لے گی کہ آپ سے مال بٹور کر کسی اور سے تعلق قائم کر لے گی اور آپ کا معاملہ ٹیڑھا کر دے گی۔ اس لئے اپنی سلامتی کو ملحوظ خاطر رکھیے اور اس کام کو ترک کر دیجیے اور اسی لذت پر قناعت کیجیے جو آپ پہلے حاصل کر چکے۔

دوسرا جواب میں یہ دیتا ہوں کہ اس بات کو نہ بھولیے کہ اس وقت آپ ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے قابل ہیں یا نہیں ہیں۔ اگر آپ اس قابل نہیں ہیں تو اس کام کو مکمل طور پر چھوڑ کر اس پر صبر کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اگر کوئی کسی عورت کو محض اخراجات اور اچھے تعلقات کا لالچ دے کر ایسا کرے گا بھی تو یہ خطرے سے خالی نہیں ہو گا۔ اگر آپ اس وقت بھی ایسا کرنے کے قابل ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے نفس میں نوجوان لڑکیوں کی شدید خواہش ہے تو ان (بے چاریوں) کو تو نکاح یا ازدواجی تعلق کی خواہش ہی نہیں ہے۔ ایسی لونڈیوں سے تو حسن سلوک کرنا چاہیے اور ان پر خرچ کرتے ہوئے احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

†††††† اگر ان سے ازدواجی تعلقات قائم بھی کریں تو آپ کو انزال کو اس وقت تک روکنا چاہیے جب تک کہ خاتون کی ضرورت پوری نہ ہو جائے۔ (اس کے ساتھ ساتھ) خاتون کو آخرت کی یاد بھی دلاتے رہیے، نکاح سے ہٹ کر عشق کی برائی بیان کیجیے اور اسے عشاق کے (عبرت ناک انجام) کے واقعات سنائیے۔ اچھے لوگوں کے ذکر سے اس کے دل میں (نیکی کی) محبت پیدا کیجیے۔ اپنے لباس اور شکل و صورت کا خیال رکھیے، اس سے اچھا سلوک کیجیے، اس کی ضروریات کا خیال رکھیے اور اس پر خرچ کرنے میں وسعت سے کام لیجیے۔ اس طریقے سے امید ہے کہ آپ خطرہ مول لینےکے ساتھ ساتھ زندگی کی گاڑی کو کھینچ لیں گے ۔ (ابن جوزی، صید الخاطر)

شاہی خاندانوں نے اتنے بڑے بڑے حرم بنا لئے تھے کہ ان میں ہزاروں کی تعداد میں لونڈیاں موجود رہا کرتی تھیں۔ حرم کا مالک، خواہ کتنے ہی کشتے اور معجون وغیرہ کھا کر اپنا رعب و دبدبہ قائم رکھنے کی کوشش کرے، اس کے لئے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں موجود خواتین کو جنسی اور نفسیاتی اعتبار سے مطمئن کر سکے۔ حرم رکھنے کا لازمی نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ یہ خواتین اپنی خواہشات کی تسکین کے لئے متبادل راستے تلاش کریں۔ یہ بات شاہی خاندانوں کو گوارا نہ تھی۔

شاہی خاندانوں کے لئے مشکل یہ تھی کہ اگر وہ حرم کی حفاظت پر محافظ مقرر کرتے ہیں تو یہی محافظ ان کی جھوٹی عزت کے لٹیرے بن جائیں گے۔ خواتین کی فوجی تربیت اتنی عام نہ تھی کہ ان پر فوجی خواتین کو ہی محافظ بنا دیا جائے۔ مسلمان بادشاہوں کو یونانی معاشرے سے اس مسئلے کا حل مل گیا۔ وہ حل یہ تھا کہ مخنثوں پر مشتمل ایک پولیس تشکیل دی جائے اور حرم کی حفاظت کا کام اس پولیس کے سپرد کر دیا جائے۔

قدرتی طور پر مخنث اتنی بڑی تعداد میں پیدا نہیں ہوتے کہ ان کی ایک باقاعدہ پولیس فورس تشکیل دی جا سکے۔ اب ایک ہی صورت باقی رہ جاتی تھی اور وہ یہ کہ مردوں کو خصی کر کے مخنث بنایا جائے۔ لیکن مسئلہ یہ پیدا ہو گیا کہ اسلام میں کسی مرد یا خاتون کو مخنث بنانا قطعی حرام ہے۔ بعض راہبانہ مزاج رکھنے والے صحابہ نے ایسا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایسا کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔

ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ یہ کام مسلم سلطنتوں کی حدود سے باہر انجام دیا جانے لگا۔ بردہ فروشوں نے افریقہ، وسط ایشیا اور یورپ کے غیر مسلم ممالک کے بردہ فروشوں سے تعلقات قائم کر لئے۔ یہ لوگ اپنے ہاں کے غلاموں اور جنگی قیدیوں کو مخنث بنا کر انہیں مسلم ممالک کی طرف اسمگل کر دیتے۔ چونکہ یہ سارا کاروبار بادشاہوں کی خواہش سے ہوا کرتا تھا اس وجہ سے اس پر حکومت کی جانب سے کوئی پابندی عائد نہ تھی۔ خواجہ سراؤں کو محلات میں ایسا آزادانہ مقام حاصل ہونے لگا کہ حرم کی بیگمات اور لونڈیاں بھی بسا اوقات اپنی ناآسودہ خواہشات سے مجبور ہو کر انہی پر اکتفا کرنے پر مجبور ہو جایا کرتی تھیں۔ مسلم سلاطین اور امراء کی اس شہوت پرستی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی حکومتیں زوال کا شکار ہونے لگیں۔

پل غلطہ

توپ کاپی محل سے نکل کر ہم پارکنگ کی طرف بڑھے۔پارکنگ بوائے نے بارہ لیرا بطور فیس وصول کر کے ہمیں گاڑی لے جانے کی اجازت دے دی۔ گلیوں سے نکل کر اب ہم مین روڈ پر آ گئے۔ یہ استنبول کی ساحل یولو تھی جو کہ ساحل کے عین کنارے پر بنی ہوئی تھی۔ ہمارے ساتھ ساتھ پرانے شہر کی فصیل چل رہی تھی۔ اس وقت ہم"گولڈن ہارن" کے علاقے سے گزر رہے تھے۔نیلا سمندر ایک جھیل نما دریا کی صورت میں ہمارے دائیں جانب پھیلا ہوا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ہم اس تاریخی پل پر پہنچ گئے جو "پل غلطہ" کہلاتا ہے۔ یہ پل گولڈن ہارن کے عین دھانے پر بنا ہوا ہے۔

اس مقام پر تاریخ میں متعدد پل موجود رہے ہیں۔1502ء میں یہاں سلطان بایزید دوم نے پل تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کیا جو کہ ناکام رہا۔ 1845ء میں یہاں پہلا پل تیار ہوا جو کہ "جسر جدید" کہلاتا تھا۔ اس زمانے میں گولڈن ہارن پر آگے کی جانب ایک قدیم پل موجود رہا ہے جو کہ "جسر قدیم" کہلایا کر تا تھا۔ اس کے بعد اس پل کی چار مرتبہ تعمیر نو ہوئی۔ موجودہ پل 1994ء میں تعمیر ہوا ہے کیونکہ اس سے پہلے والے پل کو 1992ء میں آگ لگ گئی تھی۔

پل پار کر کے تھوڑی دیر میں ہم "غلطہ ٹاور" جا پہنچے۔یہ ایک پرانا مینار ہے جو 1348ء میں رومیوں نے تعمیر کیا تھا۔جس زمانے میں تارڑ صاحب نے یہاں کا سفر کیا تھا، اس وقت غلطہ ٹاور کے اوپر فائر بریگیڈ کا دفتر تھا۔ آج کل اسے ایک تاریخی ورثہ قرار دے کر محفوظ کر دیا گیا ہے۔

یہاں سے یو ٹرن لے کر ہم واپس مڑے اور پل غلطہ دوبارہ پار کر کے گولڈن ہارن کے یورپی کنارے پر واپس آ گئے۔کچھ دور چلنے کے بعد ایک جگہ سمندر کنارے ایک پارک نظر آیا۔ یہاں کچھ دیر گاڑی روک کر ہم بیٹھے۔ میں نے قریبی دکان سے اپنے لئے بطور لنچ پھل خریدے۔ ماریہ کو یہاں کے جھولے بہت پسند آئے۔ سمندر میں چھوٹے بڑے بحری جہاز گزر رہے تھے۔ ساحل سے تازہ تازہ ہوا مشام جاں کو معطر کر رہی تھی۔ عین ساحل پر ایک سڑک بنی ہوئی تھی۔ یہاں کنارے پر بھی پانی کافی گہرا تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ یہاںکوئی جنگلا وغیرہ نہیں لگا ہوا تھا اور بچے کھیل رہے تھے۔

پارک میں کچھ دیر گزار کر ہم دوبارہ سڑک پر آ گئے اور گولڈن ہارن کے اوپر کی جانب بڑھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں ہم استنبول کے "ایوب ڈسٹرکٹ" میں داخل ہو گئے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں میزبان رسول سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر موجود ہے۔ اب یہ ایک گنجان آباد محلہ ہے۔

غلطہ پل (بشکریہ panoramio.com)

غلطہ ٹاور کی ایک پرانی تصویر(بشکریہwikipedia.org)

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا اصل نام خالد بن زید تھا۔ آپ مدینہ کے قبیلہ بنو خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ آپ اسے شرف میزبانی بخشیں۔ آپ نے فرمایا کہ جہاں میری اونٹنی رکے گی، وہیں میرا قیام ہو گا۔ یہ اونٹنی خود بخود سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے جا رکی۔ یہ وہی مقام ہے جہاں آج مسجد نبوی واقع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اس وقت تک قیام فرمایا جب تک کہ مسجد نبوی اور آپ کی رہائش کے لئے چند کچی اینٹوں کے کمرے تیار نہ ہو گئے۔

جنگ بدر، احد اور خندق میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ رہے۔ دور خلافت میں بھی آپ جذبہ جہاد سے سرشار تھے۔ طبقات ابن سعد میں آپ کے حالات زندگی کے تحت بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں 53 ہجری یا 674ء میں ایک مہم قسطنطنیہکی طرف اپنے بیٹے یزید کی سرکردگی میں بھیجی۔ اس مہم میں سیدنا حسن و حسین اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم جیسے اکابرین شامل تھے۔ اس زمانے میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے لیکن آپ بھی اس لشکر میں شامل ہو گئے۔

مسلمانوں نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا۔ اس دوران آپ بیمار پڑ گئے۔ یزید آپ کی خدمت میں عیادت کے لئے حاضر ہوئے اور آپ سے آپ کی آخری خواہش دریافت کی۔ آپ نے فرمایا، "ہاں، میری خواہش یہ ہے کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے سوار کر کے دشمن کے علاقے میں جہاں تک ممکن ہو لے جانا ۔ جہاں سے وہ آگے نہ بڑھنے دیں، مجھے وہیں دفن کر دینا۔" جب آپ نے وفات پائی تو یزید نے آپ کا جنازہ پڑھایا اور اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے دشمن کے علاقے میں جہاں تک ممکن ہوا، اندر لے جا کر آپ کو دفن کیا۔

آپ کی شخصیت کچھ ایسی تھی کہ رومی بھی آپ کے عقیدت مند ہو گئے تھے۔ آپ کے جنازے میں بعض رومیوں نے بھی شرکت کی۔ بعد کے ادوار میں بھی ان کے ہاں آپ کی حیثیت ایک "سینٹ" کی رہی۔چونکہ عیسائی حضرات میں قبر پرستی بہت پائی جاتی ہے اس وجہ سے انہوں نے اپنے سینٹ یا اولیاء اللہ کی طرح آپ کی قبر کو بھی مرجع خلائق بنا لیا۔ ابن سعد (م 230ہجری) بیان کرتے ہیں کہ آپ کی قبر قسطنطنیہ کے قلعے کی دیوار کی جڑ میں ہے۔ روم کے لوگ اپنے معاہدے آپ کی قبر پر آ کر کرتے ہیں۔ وہی اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جب قحط میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہاں آ کر دعا کرتے ہیں۔

مسجد ایوب کا دروازہ(بشکریہ photographersdirect.com)

مسجد ایوب (بشکریہpanoramio.com)

بعض تاریخی روایات میں آتا ہے کہ جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو آپ سلطان کے خواب میں تشریف لائے اور اسے اپنی قبر پر ایک عظیم الشان عمارت تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ یہ ایک بالکل ہی بے اصل روایت ہے۔ اگر آپ کو اپنی قبر مبارک پر مقبرہ بنانے کی شوق ہوتا تو آپ اپنی وفات سے پہلے اپنے ہی ساتھیوں ہی کو حکم دیتے کہ میرے مرنے کے بعد میرا ایک عظیم الشان مزار بنوانا اور اسے عبادت گاہ کا درجہ دینا۔ اس کے لئے آپ کو چھ سو سال کا انتظار کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ یقینا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان ارشادات سے واقف تھے کہ :

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض وفات میں ارشاد فرمایا: "اللہ نے ان یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت فرمائی جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو نماز کی جگہ بنا لیا۔ " آپ فرماتی ہیں: "اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ حضور کی قبر کو بھی لوگ نماز کی جگہ بنا لیں گے تو آپ کی قبر مبارک کھلی جگہ پر ہوتی۔ (بخاری، کتاب الجنائز)

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے، ان پر لکھنے، ان پر عمارت تعمیر کرنے اور ان پر پاؤں رکھ کر چلنے سے منع فرمایا۔ (ترمذی، کتاب الجنائز)

آپ نے گمنامی کے لئے دشمن کی سرزمین کا انتخاب کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمانوں نے یہود و نصاری کے طریقے پر چلتے ہوئے آپ کی قبر مبارک پر مسجد تعمیر کر ڈالی اور ایک عظیم الشان مقبرہ تعمیر کر دیا۔

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے منسوب مسجد کی تعمیر سلیمان کے دور میں ہوئی تھی اور یہ ترکی اسٹائل کی مسجد ہے۔ مسجد سے گولڈن ہارن کا نظارہ بہت خوبصورت نظر آتا ہے۔

واپسی کا سفر

اب ہم واپس ہوٹل کی طرف جا رہے تھے کہ راستہ بھول گئے۔ سامنے ایک جگہ فاسٹ فوڈ کے بہت سے ریسٹورنٹ تھے۔ موقع غنیمت جانتے ہوئے ہم نے یہاں سے کچھ برگر وغیرہ لیے۔ کچھ دیر بعد راستہ ڈھونڈ کر واپس ہوٹل پہنچے۔اگلی رات گزار کر صبح اٹھے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر میں پارکنگ میں گیا جہاں گاڑیاں دھونے کا اہتمام بھی تھا۔ چونکہ آج گاڑی بھی واپس کرنا تھی، اس لئے اسے دھلوا کر صاف کروایا۔ ہماری فلائٹ پونے تین بجے کی تھی جس کے لئے بارہ بجے ایئر پورٹ پہنچنا ضروری تھی۔

تھوڑی دیر میں ہم ایئر پورٹ جا پہنچے۔ بورڈنگ پاس اور امیگریشن کے مراحل سے گزر کر ہم لاؤنج میں جا بیٹھے۔ جہاز ٹھیک وقت پر روانہ ہوا۔ جہاز میں زیادہ تر ترک ہی تھے جو عمرے کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب جا رہے تھے۔ تین گھنٹے کی پرواز کے بعد ہم اہل محبت کے خوابوں کی سرزمین یعنی مدینہ منورہ کے ایئر پورٹ پر جا اترے۔ یہ ایئر پورٹ مدینہ منورہ سے مشرقی جانب قصیم اور ریاض جانے والی موٹر وے پر واقع ہے۔

مدینہ منورہ کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر موجودہ حکومت نے حرم مدنی کے مشرقی حصے میں "نالج اکنامک سٹی" کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق یہاں ایک جدید شہر بسایا جائے گا جس میں دنیا بھر سے اعلی تعلیم یافتہ حضرات کو یہاں لا کر آباد کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے یہاں ایسی انڈسٹری کو فروغ دیا جائے گا جس میں اعلی درجے کی فنی مہارت کی ضرورت ہو گی۔ میڈیکل، انجینئرنگ، آئی ٹی، کامرس غرض ہر شعبے کے ممتاز ماہرین کو یہاں لا کر آباد کیا جائے گا۔ اس طریقے سے مدینہ منورہ، جو کبھی مسلمانوں کے اعلی ترین دماغوں کا مرکز ہوا کرتا تھا، ایک مرتبہ پھر عالم اسلام کا علمی مرکز بن جائے گا۔ اللہ تعالی اس خواب کو پورا کرے۔

زیادہ تر زائرین مدینہ ہی اتر گئے تھے۔ اب جہاز خالی تھا۔ آدھے گھنٹے بعد اس نے پھر پرواز شروع کی۔ اس مرتبہ جہاز نے پورے مدینہ کے گرد چکر لگایا۔ میری کھڑکی شہر کی جانب تھی۔فضا سے مدینہ منورہ کو دیکھنے کا لطف ہی کچھ اور تھا۔ اس وقت اندھیرا چھا رہا تھا اور شہر کی لائٹس آن کر دی گئی تھیں۔ شہر کے بیچوں بیچ چمکتے سفید رنگ کی مسجد نبوی اپنی بہاریں دکھا رہی تھی۔شہر کے چاروں طرف گول رنگ روڈ نے احاطہ کیا ہوا تھا۔

تقریباً بیس منٹ کی فلائٹ کے بعد ہم جدہ ایئر پورٹ پر جا اترے اور مسلمانوں کی تاریخ میں یہ سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس سفر سے حاصل کردہ تجربات سے سبق سیکھنے اور ان سے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 

††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

 

مصنف کی دیگر تحریریں

اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا سدباب/سفرنامہ ترکی/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں ††††/†† علوم الحدیث: ایک مطالعہ/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص ††/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟†† /مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت †††/Quranic Concept of Human Life Cycle ††††/Empirical Evidence of Godís Accountability