بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

جب زندگی شروع ہو گی

از ابو یحیی

 

گیارہواں باب: آخر کار۔ ۔ ۔

ناول کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

جمشید کو ابھی حساب کے لیے پیش نہیں کیا گیا تھا۔ دو فرشتے اس کو عرش کے قریب لے کر کھڑے ہوئے تھے اور وہ اپنی باری کا انتظار کررہا تھا۔ اس کا چہرہ ستا ہوا تھا جس پر دنیا کے پچاس ساٹھ برسوں کی دولتمندی کا تو کوئی اثر نظر نہیں آتا تھا، لیکن حشر کے ہزاروں برس کی خواری کی پوری داستان لکھی ہوئی تھی۔ اس کے قریب جانے سے قبل میںنے اپنے دل کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ۔ قریب پہنچا تو اس کے قریب کھڑے فرشتوں نے مجھے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مگر صالح کی مداخلت پر انہوں نے ہمیں اجازت دے دی۔ جمشید نے مجھے دیکھ لیا تھا۔ وہ بے اختیار میرے قریب آیا اور میرے سینے سے لپٹ گیا۔ پھر وہ میری طرف دیکھ کر بولا:

’’ابو میں اتنا رویا ہوں کہ اب آنسو بھی نہیں نکل رہے۔‘‘

میں اس کی کمر تھپتھپانے کے سوا کچھ نہ کہہ سکا۔ پھر اس نے آہستگی سے کہا:

’’ابو شاید میں اتنا برا نہیں تھا۔‘‘

’’مگر تم بروں کے ساتھ ضرور تھے بیٹا !بروں کا ساتھ کبھی اچھے نتائج تک نہیں پہنچاتا۔ تم نے شادی کی تو ایسی لڑکی سے جس کی واحد خوبی اس کا حسن اور دولت تھی۔ خدا کی نظر میں یہ کوئی خوبی نہیں ہوتی۔ تم ہم سے الگ ہوگئے اور اپنے سسر کے ایسے کاروبار میں شریک ہوگئے جس کے بارے میں تمھیں معلوم تھا کہ اس میں حرام کی آمیزش ہے۔ مگر بیوی، بچوں اور مال و دولت کے لیے تم حرام میں تعاون کے مرتکب ہوتے رہے۔ یہی چیزیں تمھیں اس مقام تک لے آئیں۔‘‘

’’آپ ٹھیک کہتے ہیں ابو، مگر میں نے نیکیاں بھی کی تھیں۔ تو کیا کوئی امید ہے؟‘‘

میں خاموش رہا۔ میری خاموشی نے اسے میرا جواب سمجھادیا۔ وہ مایوس کن لہجے میں بولا:

’’مجھے اندازہ ہوگیا ہے ابو۔ اپنے بیوی بچوں اور ساس سسر کو جہنم میں جاتا دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوچکا ہے کہ آج کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ سارا اختیار اس رب کے پاس ہے جس کے احکام کو میں بھولا رہا۔ آج جس کا عمل اسے نہیں بچاسکا اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچاسکے گی۔ میں ہزاروں برس سے اس میدان میں پریشان پھر رہا ہوں۔ میں ان گنت لوگوں کو جہنم میں جاتا دیکھ چکا ہوں۔ مجھے اب اپنی نجات کی کوئی امید نہیں رہی ہے۔ میں نے اللہ سے بہت معافی مانگی ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ آج معافی مانگنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ابو! اللہ میاں شاید مجھے معاف نہ کریں۔ مگر آپ مجھے ضرور معاف کردیجیے۔ آپ تو میرے باپ ہیں نا۔‘‘

یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ میری آنکھوں سے آنسو نہ بہیں، مگر نہ چاہتے ہوئے بھی میری آنکھیں برسنے لگیں۔ اسی اثنا میں جمشید کا نام پکارا گیا۔ فرشتوں نے فوراً اسے مجھ سے الگ کیا اور بارگاہ ربوبیت میں پیش کردیا۔

وہ ہاتھ باندھ کر اور سر جھکاکر سارے جہانوں کے پروردگار کے حضور پیش ہوگیا۔ ایک خاموشی طاری تھی۔ جمشید کھڑاتھا مگر اس سے کوئی سوال نہیں کیاجارہا تھا۔ مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ اس خاموشی کی وجہ کیا ہے۔ تھوڑی دیر میں وجہ بھی ظاہر ہوگئی۔ کچھ فرشتوں کے ساتھ ناعمہ وہاں آگئی۔ اس کے ساتھ ہی صالح نے مجھے اشارہ کیا تو میں ناعمہ کے ساتھ جاکر کھڑا ہوگیا۔ ناعمہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ وہ مجھ سے کچھ پوچھنا چاہ رہی تھی، مگر بارگاہ احدیت کا رعب اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔

کچھ دیر میں جمشید سے سوال ہوا:

’’مجھے جانتے ہو، میں کون ہوں؟‘‘

اس آواز میں اتنا ٹھہراؤ تھا کہ میں اندازہ نہیں کرسکا کہ یہ ٹھہراؤ کسی طوفان کی آمد کا پیش خیمہ ہے یا پھر مالک دو جہاں کے حلم کا ظہور ہے۔

’’آپ میرے رب ہیں۔ سب کے رب ہیں۔ یہی میرے والد نے مجھے بتایا تھا۔‘‘

شان بے نیازی کے ساتھ پوچھا گیا:

’’کون ہے تمھارا باپ؟‘‘

جمشید نے میری طرف دیکھ کر کہا:

’’یہ کھڑے ہوئے ہیں۔‘‘

اس کے اس جملے کے ساتھ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ مجھے اس بات کا اندازہ ہوچکا تھا کہ اب جمشید مارا گیا۔ کیونکہ میں نے اسے توحید کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزوں کی نصیحت کی تھی جن میں اس کا ریکارڈ اچھا نہیں تھا۔ اب مجھ سے یہی پوچھا جانا تھا کہ میں نے اسے کن باتوں کی نصیحت کی تھی اور میری یہی گواہی اس کی پکڑ کا سبب بن جاتی۔ مگر میری توقع کے بالکل برخلاف اللہ تعالیٰ نے مجھے گواہی کے لیے نہیں بلایا۔ انہوں نے جمشید سے ایک بالکل مختلف سوال کیا:

’’ابھی تم اپنے باپ سے کیا کہہ رہے تھے۔ ۔ ۔ یہ کہ اللہ میاں شاید مجھے معاف نہ کریں۔ مگر آپ مجھے ضرور معاف کردیجیے۔ آپ تو میرے باپ ہیں نا۔‘‘

لمحہ بھر پہلے جو میری امید بندھی تھی وہ اس سوال کے ساتھ ہی دم توڑ گئی۔ جمشید کو بھی اندازہ ہوگیا کہ اس کی پکڑ شروع ہوچکی ہے۔ خوف کے مارے اس کا چہرہ سیاہ پڑگیا۔ اس کے ہاتھ پاؤں لرزنے لگے۔ اس کے سان و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ اللہ تعالیٰ جو دوسرے حساب کتاب میں مصروف تھے ساتھ ساتھ اس کی بات بھی سن رہے تھے۔ نہ صرف سن رہے تھے بلکہ اس کے الفاظ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے کا سبب بن گئے تھے۔ وہ بڑی بے بسی سے بولا:

’’جی میں نے یہ بات کہی تھی لیکن میرا مطلب وہ بالکل نہیں تھا جو آپ سمجھے ہیں۔‘‘

’’تمھیں کیا معلوم میں کیا سمجھا ہوں؟‘‘

پوچھا گیا، مگر آواز میں ابھی تک وہی ٹھہراؤ تھا۔

’’نہ۔ ۔ ۔ نہیں مجھے بالکل نہیں معلوم۔ ۔ ۔ آپ کیا سمجھے۔‘‘، جمشید نے لڑکھڑاتی زبان سے جواب دیا۔

اس سے مزید کوئی بات کہنے کے بجائے ناعمہ سے پوچھا گیا:

’’میری لونڈی یہ تیرا بیٹا ہے۔ اس نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا۔‘‘

ناعمہ بولی:

’’پروردگار! اس نے میرے ساتھ بہت نیک سلوک کیا۔ یہ بڑھاپے تک میری خدمت کرتا رہا۔ اس نے مال سے، ہاتھوں سے اور محبت سے میری بہت خدمت کی۔ اس کی بیوی اسے ٹوکتی تھی لیکن یہ میری خدمت سے باز نہیں آیا۔ اس نے اپنا مال اور اپنی جان سب بے دریغ میرے لیے وقف کردی تھی۔‘‘

ناعمہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ جمشید کے لیے اور بہت کچھ کہے، مگر اسے معلوم تھا کہ جو پوچھا گیا ہے اس سے ایک لفظ زیادہ کہنے پر اس کی اپنی پکڑ ہوجائے گی۔ اس لیے وہ مجبوراً اتنا کہہ کر خاموش ہوگئی۔

پروردگار نے فرشتے کی طرف دیکھ کر پوچھا:

’’کیا یہ عورت ٹھیک کہہ رہی ہے؟‘‘

فرشتے نے نامہ اعمال دیکھ کر کہا:

’’اس نے بالکل ٹھیک کہا ہے۔‘‘

اس کے بعد جو کچھ ہوا ا س نے میرے دل کی دھڑکن تیز کردی۔ حکم ہوا اس کے اعمال ترازو میں رکھو۔ پہلے گناہ رکھے گئے۔ جن سے الٹے ہاتھ کا پلڑا بھاری ہوتا چلا گیا۔ اس کے بعد نیکیاں رکھی گئیں۔ ہم سب کے چہرے فق تھے۔ ایک ایک کرکے نیکیاں رکھی گئیں۔ مگر وہ گناہوں کے مقابلے میں اتنی کم اور ہلکی تھیں کہ میزان میں الٹے ہاتھ کا پلڑا بدستور بھاری رہا۔ آخر میں صرف دو نیکیاں رہ گئیں۔ بظاہر فیصلہ ہوچکا تھا۔ ناعمہ نے مایوسی اور بے کسی کے ملے جلے احساس کے ساتھ آنکھیں بند کرلیں۔ جمشید اپنا سر پکڑ کے بے بسی سے زمین پر گرگیا۔

میں جس وقت سے میدان حشر میں آیا تھا میں نے ایک دفعہ بھی عرش کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں کی تھی۔ مگر نجانے اس وقت پہلی بار بے اختیار میری نگاہیں مالک ذوالجلال کی طرف اٹھ گئیں۔ ۔ ۔ ایک لمحے سے بھی کم عرصے کے لیے۔ ۔ ۔ اس ساعت میرے دل سے وہی صدا نکلی جو زندگی کی ہرناگہانی اور مشکل پر میرے دل سے نکلاکرتی تھی۔لاالہ الااللہ۔پھر میری نظر اور سر دونوں فوراًجھک گئے۔

فرشتے نے پہلی نیکی اٹھائی۔ یہ ناعمہ کے ساتھ کیا گیا اس کا حسن سلوک تھا۔ حیرت انگیز طور پر سیدھے ہاتھ کا پلڑا بلند ہونا شروع ہوا۔ میں نے اپنے برابر کھڑی ناعمہ کو جھنجھوڑ کر کہا :

’’ناعمہ! آنکھیں کھولو۔‘‘

میری آواز جمشید تک بھی چلی گئی۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا اور آہستہ آہستہ کھڑا ہوگیا۔اٹھتے پلڑے کے ساتھ اس کی آس بھی بن گئی۔لیکن ایک جگہ پہنچ کر سیدھے ہاتھ کا پلڑا ٹھہرگیا۔ الٹے ہاتھ کا پلڑا ابھی بھی بھاری تھا۔ ہمارے دلوں میں جلنے والی امید کی شمع پھر بجھنے لگی۔ فرشتے نے آخری نیکی اٹھائی اور بلند آواز سے کہا۔ یہ توحید پر ایمان ہے۔ اس کے رکھتے ہی پلڑے کا توازن بدل گیا۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا۔ اللہ اکبر و للہ الحمد۔

اس کے ساتھ ہی مدھم لہجے میں آواز آئی:

’’جمشید تمھارے باپ نے تمھیں میرے بارے میں یہ بھی بتایا تھا کہ میں ماں باپ سے ستر ہزار گنا زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہوں۔ یہ تم تھے جس نے میری قدر نہیں کی۔ اسی لیے میدان حشر میں تمھیں اتنی سختی اٹھانی پڑی۔ میرا عدل بے لاگ ہوتا ہے۔ مگر میری رحمت ہر شے پر غالب ہے۔‘‘

فرشتے نے نجات کا فیصلہ تحریر کرکے نامۂ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دے دیا۔ جمشید کے منہ سے شدت جذبات میں ایک چیخ نکلی۔ اسے جنت کا پروانہ مل گیا تھا۔ ہزاروں سال پر مبنی اس طویل اور سخت دن کی اذیت سے اسے نجات مل گئی بلکہ ہر تکلیف سے اسے نجات مل چکی تھی۔ وہ بھاگتا ہوا آیا اور ہم دونوں سے لپٹ گیا۔ ناعمہ پر شادیٔ مرگ کی کیفیت طاری تھی۔ جمشید کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور میں اپنے وجود کے ہر رعشے کے ساتھ اس رب کریم کی حمد کررہا تھا جس کی رحمت کاملہ نے جمشید کو معاف کردیا تھا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہمارا پورا خاندان حوض کوثر کے وی آئی پی لاؤنج میں جمع تھا۔ میری تینوں بیٹیاں لیلیٰ، عارفہ اور عالیہ اور دونوں بیٹے انور اور جمشید اپنی ماں ناعمہ کے ہمراہ موجود تھے۔ جمشید کے آنے سے ہمارا خاندان مکمل ہوگیا تھا۔ اس لیے اس دفعہ خوشی اور مسرت کا جو عالم تھا وہ بیان سے باہر تھا۔ یوں اپنے خاندان کو اکھٹا دیکھ کر میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے صالح سے کہا:

’’اپنوں میں سے ایک شخص بھی رہ جائے تو جنت کا کیا مزہ!‘‘

میری بات کا جواب جمشید نے دیا جس کی بیوی بچے اور سسرال والوں کے بارے میں جہنم کا فیصلہ ہوچکا تھا:

’’ہاں ابو! مجھ سے زیادہ یہ بات کون جان سکتا ہے۔ آپ بہت خوش نصیب ہیں۔‘‘

’’یہ خوش نصیب اس لیے ہیں کہ اپنے گھر والوں کی تربیت کو انھوں نے اپنا مسئلہ بنالیا۔ وہ تو تم ہی نالائق تھے ورنہ دوسروں کو دیکھو۔ سب کے ساتھ اچھا معاملہ ہوا۔‘‘، اس دفعہ ناعمہ نے کہا۔

’’امی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، مگر مجھے دنیا میں یہ خیال رہا کہ میرے ابو کی شفاعت مجھے بخشوادے گی۔ دراصل میرے سسر کے ایک پیر صاحب تھے جن پر انھیں بہت اعتقاد تھا۔ وہ ہمیشہ میرے سسر سے کہتے تھے کہ میرا دامن پکڑے رکھو۔ میں قیامت کے دن تمھیں بخشوادوں گا۔ بس وہیں سے مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے ابو جیسا تو کوئی ہو نہیں سکتا۔ ان کی شفاعت میرے کام آئے گی۔‘‘

اس کی بات سن کر میں نے کہا:

’’بیٹا تم بالکل غلط سمجھے تھے۔ دیکھو تمھارے سسر کو ان کے پیر صاحب نہیں بچاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ شفاعت کو ذریعہ نجات سمجھنے کی دعوت نہ ہمارے نبی نے دی اور نہ قرآن مجید میں یہ کہیں بیان ہوا ہے کہ اسے ذریعہ نجات سمجھو۔ قرآن کریم تو نازل ہی اس لیے ہوا تھا کہ یہ بتائے کہ آخرت کے دن نجات کیسے ہوگی۔ اس نے بار بار یہ واضح کیا تھاکہ روز قیامت نجات کا پیمانہ ایک ہی ہے یعنی ایمان اور عمل صالح۔ نزول قرآن کے وقت سارے عیسائی اس گمراہی کا شکار تھے کہ حضرت عیسیٰ کی شفاعت انھیں بخشوادے گی جبکہ مشرکین یہ سمجھتے تھے کہ ان کے بت خد اکے حضور ان کے سفارشی ہوں گے۔ اس لیے قرآن مجید نے بار بار اس بات کو واضح کیا کہ شفاعت کوئی ذریعہ نجات نہیں ہے۔ انسان کو وہی ملے گا جو اس نے کیا ہوگا۔‘‘

’’لیکن شفاعت کا ذکر قرآن میں آیا تو ہے اور حدیثوں میں بھی اس کا ذکر ہوا ہے۔‘‘، جمشید نے سوال کیا۔

میں نے اس کے سامنے ایک سوال رکھتے ہوئے کہا:

’’یہ بتاؤ کہ پورے قرآن یا کسی حدیث میں کہیں یہ کہا گیا ہے کہ شفاعت کو ذریعہ نجات سمجھ کر اس پر بھروسہ کرو یا اس کے لیے دعا کرو۔‘‘

’’نہیں ایسا تو کہیں بھی نہیں کہا گیا۔‘‘

جمشید کی جگہ انور نے پورے اعتماد اور وثوق سے کہا تو جمشید نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا:

’’نہیں بھائی ہم تو ہر اذان کے بعد شفاعت کی دعا کرتے تھے۔‘‘

میں نے جمشید کی بات کا جواب دیا:

’’یہ تو لوگوں نے حضور کی بات میں خود اضافہ کیا تھا۔ حضور نے صرف اتنا کہا تھا کہ میرے لیے مقام محمود کی دعا کرو تو میری شفاعت واجب ہوجائے گی۔ یہ نہیں کہا تھا کہ شفاعت کے لیے بھی دعا کیا کرو یا اس پر بھروسہ کرکے عمل صالح چھوڑ دو اور مزے سے گناہ کرتے رہو۔‘‘

صالح نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا:

’’عبد اللہ تم رکو میں انہیں شفاعت کا تصور تفصیل سے سمجھاتا ہوں۔ دیکھو اصل نجات کا ضابطہ ایمان اور عمل صالح ہے اور اس کے سوا کچھ اور نہیں۔ آج اگر کسی کو معافی مل رہی ہے تو دراصل وہ کسی کی شفاعت سے نہیں مل رہی بلکہ اللہ تعالیٰ کے علم، قدرت اور رحمت کی وجہ سے مل رہی ہے۔ قرآن مجید میں اس بات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بس شرک ہی کو معاف نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہیں اور جس شخص کے لیے چاہیں بخش سکتے ہیں۔ چھوٹے موٹے گناہوں کو تو اللہ تعالیٰ دنیا کی سختیوں اور نیکیوں کی بنا پر معاف کردیا کرتے تھے، لیکن جن لوگوں نے گناہ کا راستہ مستقل اختیار کیے رکھا اور توبہ نہیں کی انہیں تو بہرحال اس راہ پر چلنے کے نتائج آج بھگتنا پڑرہے ہیں۔ تاہم کوئی بندۂ مؤمن جب اپنے گناہوں کی کافی سزا بھگت لیتا ہے۔ ۔ ۔ ‘‘، صالح نے یہیں تک بات مکمل کی تھی کہ جمشید نے لقمہ دیا:

’’جیسے میں نے بھگتی یا پھر لیلیٰ نے میدان حشر کی ابتدائی خواری اٹھائی تھی۔‘‘

’’بالکل۔ ۔ ۔ ‘‘

صالح نے اس کی تائید کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی:

’’میں یہ بتارہا تھا کہ جب بندۂ مؤمن اپنی خواری اور میدان حشر کی سختیاں جھیلنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے اپنے قانون عدل کے تحت نجات کا مستحق ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کچھ نیک لوگوں کی گواہی کو جو دراصل اس کے اچھے اعمال ہی کی گواہی ہوتی ہے، اس کی مغفرت کا بہانہ بنادیتے ہیں۔ جیسے تمھارے لیے تمھارے ماں باپ کی گواہی مغفرت کا ذریعہ بن گئی۔ یا لیلیٰ رسول اللہ کی اس گواہی کے نتیجے میں نجات پاگئی جو آپ نے ابتدا میں دی تھی۔ لیکن دیکھ لو کہ اس میں بھی ذاتی ایمان اور ذاتی عمل کی موجودگی ضروری ہے اور سزا تو بہرحال انسان کو بھگتنی پڑتی ہے۔ تو یہ بتاؤ کہ سزا بھگت کر معافی کا راستہ بہتر ہے یا شروع ہی میں توبہ اور عمل صالح کا راستہ اختیار کرلینا اور بغیر کسی سختی کے نجات پاجانا بہتر ہے؟‘‘

’’ظاہر ہے کہ پہلا راستہ بہتر ہے، مگر یہ بتائیے کہ پھر حضور کی شفاعت کی کیا حقیقت ہے؟‘‘، اس دفعہ عارفہ نے جواب دیا اور ساتھ میں صالح سے ایک سوال بھی کرلیا۔

’’حضور کی شفاعت کا مطلب اگر یہ ہوتا کہ لوگوں کے پاس کوئی نیک عمل نہ ہو تب بھی حضور لوگوں کو بخشوادیں گے تو قرآن عمل صالح کی کوئی بات ہی نہیں کرتا بلکہ قرآ ن کریم میں اللہ تعالیٰ حضور کی زبانی یہ کہلوادیتے کہ لوگوں بس مجھ پر ایمان لے آؤ، میں آخر کار تم کو بخشوادوں گا۔‘‘

’’یہ تو عیسائیوں کا عقیدہ تھا اور اس کا انجام انھوں نے آج بھگت لیا۔‘‘، ناعمہ نے طنزیہ انداز میں کہا۔ صالح نے اس کی تائید میں کہا:

’’ہم جانتے ہیں کہ قرآن میں ایسی کوئی بات بیان نہیں ہوئی ہے۔ اس کے برعکس ساری یقین دہانی اس بات کی ہے کہ ایمان لاؤ اور عمل صالح اختیار کرو اور سیدھا جنت میں جاؤ۔ باقی رہی حدیث تو حدیثوں میں جو کچھ شفاعت کے بارے میں آیا ہے اسے اگر قرآن کی روشنی میں دیکھا جاتا جو آخرت کے بارے میں حقائق بیان کرنے کی اصل کتاب ہے تو بات بالکل واضح تھی۔‘‘

وہ کیا بات ہے؟ جمشید نے پوچھا:

’’وہ یہی کہ آج کے دن گنہ گاروں نے اپنے اعمال کی پوری پوری سزا بھگتی ہے۔ اس کے بعد حضور کی درخواست وہ سبب بن گئی جس کی بنا پر لوگوں کی نجات کا امکان پیدا ہوا۔ یہ پہلی دفعہ اس وقت ہوا تھا جب حضور نے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی تھی کہ انسانیت کا حساب کتاب شروع ہو۔ جس کے نتیجے میں لوگوں کو انتظار کی زحمت سے نجات ملی۔ دوسری دفعہ آپ نے اور دیگر تمام انبیا نے اپنی اپنی قوموں کو دی گئی اپنی تعلیم کی شہادت دی۔ یہ شہادت ان سب لوگوں کے لیے نجات کا باعث بن گئی جن کا عمل مجموعی طور پر اس تعلیم کے مطابق تھا۔‘‘

’’جیسے کے میں۔‘‘، لیلیٰ بولی۔

’’ہاں جیسے کے تم۔ اور اب تیسری دفعہ حضور اس وقت درخواست کریں گے جب کچھ لوگوں کا معاملہ مؤخر کردیا جائے گا۔ ان کا حساب کتاب آخری وقت تک نہیں کیا جائے گا اور وہ اپنے گناہوں کی پاداش میں حشر کے میدان میں خوار ہوتے رہیں گے۔ حضور ان کے لیے بار بار درخواست کریں گے۔ تاہم جب اللہ تعالیٰ کی حکمت اور علم کے تحت ان کا فیصلہ کرنا مناسب ہوگا تب حضور کو اجازت دی جائے گی کہ وہ ان کے حق میں کوئی بات کریں۔ پھر حضور کی درخواست کے نتیجے میں ان کا حساب کتاب ہوگا جس کے بعد جاکر ان کی نجات کا کوئی امکان پیدا ہوگا۔ اور یہ ہوگا بھی سب سے آخر میں جب ایسے لوگ اپنے تمام اعمال کی بدترین سزا بھگت چکے ہوں گے اور توحید سے وابستگی اور اپنے اچھے اعمال کی بنا پر نجات کے مستحق ہوجائیں گے۔‘‘

’’میرا ایک سوال ہے۔‘‘، انور نے صالح کو مخاطب کرکے کہا۔

’’وہ یہ کہ اگر سب لوگ سزا بھگت کر ہی معافی کے مستحق بن رہے ہیں تو اس میں اللہ کی رحمت کہاں سے آگئی۔ یہ تو بس عدل ہورہا ہے۔‘‘

’’بہت اچھا سوال ہے۔‘‘، صالح نے انور کی تحسین کرتے ہوئے جواب میں کہا۔

’’دیکھو! وہ اگر صرف عدل کرتے تو ایسے لوگوں کی اصل سزا جہنم کے عذاب تھے جو میدان حشر کی سختیوں سے ہزاروں لاکھوں گناہ سخت سزا ہے۔ عدل کے تحت ایسے تمام لوگوں کو جہنم کی سزا بھگتنی چاہیے تھی۔ مگر ان کی رحمت یہ ہے کہ وہ حشر کی سختی کو جہنم کے عذابوں کا بدل بنارہے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ کی صفت عدل اور صفت رحمت کا بیک وقت ظہور ہورہا ہے۔‘‘

صالح نے بات ختم کی تو جمشید نے کہا:

’’تو یہ ہے اصل بات۔ میں تو اس غلط فہمی میں رہا کہ شفاعت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم جتنے مرضی گناہ کرلیں حضور اور دیگر نیک لوگ ہمیں بخشوادیں گے۔‘‘

’’یہ تصور اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کے خلاف ہے۔ یہ بس ایک غلط فہمی تھی جو قرآن کریم کو سمجھ کر نہ پڑھنے کی وجہ سے لوگوں کو لگی۔ نجات تو صرف ایمان اور عمل صالح سے ہوتی ہے۔ باقی رہی معافی تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بس یہ کرتے ہیں کہ اس معافی کا اعلان اور سبب کسی نیک بندے کی گواہی یا درخواست کو بنادیتے ہیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کا مقصود اپنے محبوب و برگزیدہ بندوں کی عزت افزائی ہوتی ہے۔ نجات تو اپنے اصول پر ہوتی ہے۔ اور تم سے بہتر اب یہ کون جانتا ہے کہ انسان جہنم میں نہ بھی جائے تب بھی گناہوں کی کتنی سخت سزا حشر کے میدان کی سختی کی شکل میں بہرحال بھگتنی پڑتی ہے۔‘‘

’’کیا جہنم میں جانے کے بعد بھی نجات کا کوئی امکان ہے؟‘‘، عالیہ نے سوال کیا تو ایک خاموشی چھاگئی۔ کچھ دیر بعد اس سکوت کو صالح نے توڑتے ہوئے کہا:

’’قرآن کہتا ہے نا کہ اللہ تعالیٰ بس شرک ہی کو معاف نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہیں اور جس شخص کے لیے چاہیں بخش سکتے ہیں۔‘‘

’’مطلب؟‘‘، انور نے پوچھا۔

’’مطلب یہ کہ کچھ گناہ جہنم تک پہنچاسکتے ہیں، لیکن ان گناہوں کے باوجود جن لوگوں میں ایمان کی کوئی رمق باقی تھی، انھیں آخرکار معافی مل سکتی ہے۔ مگر یہ معافی کس کو ملے گی، کب ملے گی، یہ باتیں اللہ کے سوا کوئی جانتا ہے اور نہ کوئی اور طے ہی کرے گا۔ اور میرے بھائی جہنم تو ایک پل رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ جو لوگ وہاں سے نکلیں گے وہ نجانے کتنا عرصہ گزارنے کے بعد اپنی سزا بھگت کر نکلیں گے۔ یہ مدت اتنی زیادہ ہوگی کہ اربوں کھربوں سال بھی اس حساب میں چند لمحوں کے برابر ہیں۔ اس بارے میں تو نہ سوچنا ہی بہت بہتر ہے۔‘‘

’’میرے خدایا!‘‘، انور لرز کر بولا۔

’’جہنم تو دور کی بات ہے، حشر کے میدان میں ایک پل کھڑے رہنا بھی ناقابل برداشت عذاب ہے۔‘‘، جمشید نے اپنے تجربے کی روشنی میں کہا۔

لیلیٰ نے اس پر مزید اضافہ کیا:

’’یہ گناہ کتنی بڑی مصیبت ہوتے ہیں۔ کاش یہ بات ہم لوگ دنیا میں سمجھ لیتے۔‘‘

صالح نے بحث ختم کرتے ہوئے کہا:

’’انسانوں کی دو سب سے بڑی بدنصیبیاں رہی ہیں۔ ایک یہ کہ حشر کے دن کا مرکزی خیال حساب کتاب تھا، مگر لوگوں نے اسے شفاعت کا موضوع بنادیا۔ دوسری یہ کہ انسانی زندگی میں مرکزی حیثیت ارحم الراحمین، رب العالمین کی تھی، جبکہ لوگوں نے غیر اللہ کو مرکزی خیال بنادیا۔‘‘

میں نے صالح کی تائید کرتے ہوئے کہا:

’’کتنی سچی بات کہی ہے تم نے صالح! کاش لوگ یہ بات دنیا میں جان لیتے۔‘‘

پھر میں نے اپنے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

’’میرے بچوں! اب دنیا کی زندگی قصۂ ماضی ہوچکی ہے۔ اب تمھاری منزل ختم نہ ہونے والی جنت کی بادشاہی ہے۔ سکون، آسودگی، آسانی، محبت، رحمت، لطف و سرور۔ ۔ ۔ تمھیں یہ سب مبارک ہو۔ دیکھا تم نے ہمارا رب کتنا کریم و رحیم ہے۔ آؤ ہم سب مل کر اپنے رب کریم کی حمد کریں اور مل کر کہیں ’الحمد للہ رب العالمین‘۔‘‘

سب نے مل کر ’الحمد للہ رب العالمین‘کو ایک نعرے کی شکل میں بلند کیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

’’عبد اللہ! حشر کے دن کے معاملات اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تمھیں اگر حشر کے معاملات سے کوئی دلچسپی باقی رہ گئی ہے تو دوبارہ وہاں چلے چلو۔‘‘، کچھ دیر بعد صالح نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا۔

’’اس وقت حساب کتاب کہاں تک پہنچا ہے؟‘‘، ناعمہ نے دریافت کیا۔

’’لوگوں کی زیادہ بڑی تعداد آخری زمانے میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ سب اب نمٹ چکے ہیں۔ مسلمانوں اور مسیحیوں اور ان کے معاصرین کا عمومی حساب کتاب ہوچکا ہے۔ اس وقت یہود کا حساب چل رہا ہے۔ یوں سمجھ لو کہ بیشتر انسانیت کی تقدیر کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ دیگر امتوں میں لوگوں کی تعداد بہت ہی کم تھی اس لیے اب بہت زیادہ وقت نہیں لگے گا۔‘‘

’’میرے استاد، فرحان احمد کا کیا ہوا۔ تمھیں کچھ معلوم ہے؟‘‘

’’نہیں میرا ان سے کوئی براہ راست تعلق نہیں۔ اس لیے میں ان کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتا۔ یہ تو میں جانتا ہوں کہ وہ یہاں حوض پر نہیں ہیں۔باقی اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کا کیا ہوگا۔ویسے بہتر ہے کہ اب تم اٹھ جاؤ۔‘‘

’’ٹھیک ہے ۔ ہم لوگ چلتے ہیں۔‘‘، میں نے نشست سے اٹھتے ہوئے کہا۔

ناعمہ اور بچے بھی اپنی نشستوں سے اٹھ گئے۔ ناعمہ نے اٹھتے ہوئے کہا:

’’میں ان بچوں کے ہمراہ ان کے خاندانوں کے پاس جارہی ہوں۔ یہاں وی آئی پی لاؤنج میں تو صرف آپ کے بچے آسکتے ہیں۔ ان کے بچے تو نیچے انتظار کررہے ہیں۔ میں ان کے پاس جارہی ہوں۔ اور ہاں مجھے اپنے جمشید کے لیے کوئی نئی دلہن بھی ڈھونڈنی ہے۔‘‘

اس آخری بات پر ہم سب ہنس پڑے سوائے جمشید کے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ نئی دلہن کی بات پر ہنسے یا اپنی سابقہ بیوی کی ہلاکت پر افسوس کرے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اگلا باب                                  فہرست                                                         پچھلا باب

دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability