بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات ۔۔۔ تعارف

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

دین اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ کا مطالعہ نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی کی بدولت ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برپا کردہ پیغمبرانہ تحریک نے انسانیت پر کیا اثرات مرتب کیے۔ دنیا کس درجے میں گمراہی کا شکار تھی اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے اپنی جدوجہد کی بدولت ایک عظیم الشان اخلاقی انقلاب برپا کر کے دنیا کے سامنے ایک آئیڈیل نمونہ پیش فرمایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ پاکباز شخصیتیں تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور اس کے بعد انہوں نے اپنی پوری زندگیوں کو آپ کے مشن کی تکمیل میں لگا دیا۔ اس لحاظ سے دور صحابہ کو عہد رسالت کی توسیع (Extension) قرار دیا جا سکتا ہے۔

جب دین کا ایک طالب علم اولین مسلمانوں کی تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے، تو اسے یہ نظر آتا ہے کہ یہ صحابہ اسلام کی دعوت کو لے کر اٹھے اور اپنے وقت کی متمدن دنیا پر چھا گئے۔ دنیا بھر میں اس وقت مذہبی جبر (Persecution) کا دور تھا اور  لوگ اپنے بادشاہوں کا دین اختیار کرنے پر مجبور تھے۔ صحابہ کرام نے دنیا کے ایک بڑے حصے سے مذہبی جبر کا خاتمہ کر کے انسان کو یہ حق عطا کیا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کر سکے۔ وہ لوگ جو قیصر و کسری کی غلامی میں جکڑے ہوئے تھے، انہیں رہائی عطا کی۔ صحابہ کرام کا یہ کارنامہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری نسل انسانی کے لیے  ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔  ایک طرف تو خلافت راشدہ کی یہ تصویر دین کے ہر طالب علم کو نظر آتی ہے لیکن دوسری جانب وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ اسی خلافت راشدہ کے آئیڈیل دور کے پانچ چھ سال فتنہ و فساد کی نظر ہو گئے اور انہی صحابہ کے مابین ایسے اختلافات پیدا ہوئے کہ باہمی جنگ و جدال کی نوبت آ پہنچی۔ ایسا کیوں ہوا اور اس کے پیچھے کیا تاریخی عوامل کار فرما تھے؟ دینی تاریخ کے ہر طالب علم کے ذہن میں یہ سوال اور اس سے ملتے جلتے کچھ اور سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کا حل اگر اسے نہ ملے تو وہ ذہنی پراگندگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہر وہ شخص جو دین اسلام کو مانتا ہے، اس کا تعلق خواہ کسی بھی مسلک سے کیوں نہ ہو،  یہ تاریخی سوالات اسے بہرحال پریشان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کیوں او رکیسے پیدا ہوئے ، ان کے اسباب کیا تھے اور ان کے کیا نتائج امت کی تاریخ پر مرتب ہوئے؟اس کتاب کا مقصد انہی سوالات کا جواب تلاش کرنا ہے۔

واضح رہنا چاہیے کہ ہم یہ کتاب فرقہ وارانہ اختلافات کو اجاگر کرنے کے لیے نہیں لکھ رہے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ صحابہ کرام سے متعلق  مسلمانوں کے ہاں دو بڑے گروہ موجود ہیں  جن کا زاویہ نظر ایک دوسرے سے مختلف ہے اور ان مسائل پر ان کے ہاں بحثیں ہوتی رہتی ہیں لیکن ہم ان بحثوں سے بالاتر ہو کر محض تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ان سوالات کا جواب تلاش کرنا چاہیں گے اور یہ کوشش کریں گے کہ اس معاملے میں کوئی تعصب اور جانبداری ہماری راہ میں حائل نہ ہو سکے۔   ہمارے نزدیک تمام صحابہ کرام ہی معتبر ہیں اور ہمارے سر کا تاج ہیں۔  ان میں سے کسی ایک کی جانب جھکاؤ یا کسی کے خلاف تعصب  کے  بغیر ان سب کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے ہم قرآن مجید ، احادیث اور تاریخی روایات کی روشنی میں ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنْ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمْ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً.

محمد اللہ کے رسول ہیں اور اس کے ساتھی کفار پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔ آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ رکوع و سجدہ کرتے ہوئے اللہ کا فضل اور رضا تلاش کرنے میں مشغول ہیں۔سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں، یہ ہے ان کی صفت۔  تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک فصل ہے جس نے پہلے کونپل نکالی ، پھر اس کو مضبوط بنایا ، پھر وہ موٹی ہوئی،پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں ۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نیک عمل کیے ہیں،  اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایاہے۔ (الفتح 48:29)

وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ.

مہاجرین اور انصار میں سب سے پہلے آگے بڑھ کر [ایمان لانے والے] اور وہ جنہوں نے نیکی میں ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور اس سے۔ اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔  (التوبہ 9:100)

قرآن مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک بالکل صحیح طور پر پورے تواتر سے منتقل ہوا ہے۔ جو لوگ قرآن کو اللہ تعالی کی کتاب نہیں بھی مانتے، وہ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ یہ کتاب ہم تک بعینہ ویسے ہی پہنچی ہے، جیسا کہ محمد رسول اللہ نے اسے اپنی امت کو دیا۔ کم از کم تاریخی اعتبار سے قرآن مجید کی محفوظ ہونے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔  اسی قرآن کی ان آیات کا مطالعہ کیا جائے  تو صحابہ کرام کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ آپس میں نرم دل اور رحم دل ہیں،  ایک دوسرے کے لیے ان کے دلوں میں محبت اور احترام کے جذبات موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس گروہ کی تربیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں ہوئی ہو، اسے ایسا ہی ہونا چاہیے۔  یہ صحابہ کرام کی ایک تصویر ہے۔

دوسری جانب جب ہم تاریخ کے مآخذ کا جائزہ لیں تو ہمیں دو قسم کی معلومات  ملتی ہیں۔ معلوماتی رپورٹس  کا ایک گروپ تو وہ ہے جو قرآن مجید کی اوپر بیان کردہ آیات  کے عین مطابق ہے جبکہ دوسرا گروپ ایسا ہے جو ان آیات سے بالکل متضاد اور مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔  ظاہر ہے کہ یہ سب کی سب رپورٹس  درست نہیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو ان میں سے وہ روایات درست ہیں جو قرآن مجید سے مطابقت رکھتی ہیں اور یا پھر وہ درست ہیں جو قرآن مجید کے بیان سے ایک مختلف اور متضاد تصویر پیش کرتی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  ان میں سے کون سی رپورٹس  درست اور مستند ہیں؟ آیا قرآن سے مطابقت رکھنے والی یا اس سے متضاد تصویر پیش کرنے والی؟ اس کتاب میں ہم یہ جائزہ لینے  کی کوشش کریں گے کہ ان میں کون سی رپورٹس  درست ہیں اور فن تاریخ کی رو سے ان کا درجہ کیا ہے؟

دور صحابہ کی تاریخ  مختلف افراد کی بیان کردہ کہانیوں اور رپورٹس پر مشتمل ہے۔ ان میں سے ہر ایک کہانی کو فن حدیث و تاریخ کی اصطلاح میں ’’روایت‘‘ کہا جاتا ہے۔  یہ مختصر بھی ہیں اور طویل بھی۔ ان روایات کا پہلا گروپ وہ ہے جس کے مطابق صحابہ کرام انسانی اخلاق کے اعلی ترین منصب پر فائز نظر آتے ہیں۔ دنیا ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی، ان کے مخالفین انہیں رات کے راہب اور دن کے مجاہد  کا خطاب دیتے ہیں۔ ان کے باہمی تعلقات خلوص اور محبت پر مبنی نظر آتے ہیں اور وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار (بنیان مرصوص) بن کر انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلانے کی جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔  اس کے برعکس روایات کا  دوسرا گروپ وہ ہے جو ان صحابہ کی کردار کشی پر مبنی ہے اور  اس کے مطابق ان کی ایک بالکل مختلف تصویر دکھائی دیتی ہے۔ تعداد کے اعتبار سے پہلی قسم کی روایات کہیں زیادہ ہیں۔ یہاں ہم  ان دونوں قسم کی روایات کی چند مثالیں پیش کر رہے ہیں جو اہل سنت او راہل تشیع دونوں کی کتب میں آئی ہیں۔

مثبت روایات کا گروپ

روایات کے اکثریتی گروپ کی چند مثالیں ہم یہاں پیش کر رہے ہیں:

1۔  محمد بن حنفیہ  رحمہ اللہ (حضرت علی کے بیٹے) بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر کون ہے؟" انہوں نے فرمایا: "ابو بکر۔ " میں نے عرض کیا: "ان کے بعد؟" فرمایا: "عمر۔" مجھے خدشہ گزرا کہ اب میں نے یہی سوال کیا تو آپ عثمان کا نام لیں گے۔ میں نے عرض کیا: "ان کے بعد آپ ہوں گے؟" فرمایا: "میں تو مسلمانوں میں سے ایک مسلمان ہوں۔" رضی اللہ عنہم۔[1]

2۔  حبیب بن ابی ثابت کی روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں تھے کہ کسی نے آ کر کہا: "ابوبکر بیعت کے لیے مسجد میں بیٹھے ہیں۔" آپ نے صرف قمیص  پہن رکھی تھی اور ازار اور چادر نہ تھی۔ اس خوف سے کہ کہیں دیر نہ ہو جائے، آپ مسجد کی طرف گئے اور بیعت کی۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گئے اور گھر سے چادر اور ازار منگو اکر پہنا۔[2]

3۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک تھا کہ ایک شخص نے میرا شانہ پکڑ لیا۔ دیکھا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر انہوں نے حضرت عمر کے لیے دعائے مغفرت کی اور کہا : "اے عمر! آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جو عمل کے اعتبار سے مجھے آپ کی طرح پسند ہو۔ بخدا! میرا خیال ہے کہ اللہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ رکھے گا۔" [3]

4۔  حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "کیا آپ اس بات سے راضی نہیں ہیں کہ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون کو حضرت موسی علیہما  الصلوۃ والسلام سے تھی؟ سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔" [4]

5۔  جب عمر بن خطاب نے ایران کی جنگ میں بذات خود جانے کے بارے میں مشورہ طلب کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "یاد رکھیے کہ اسلام کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار قلت و کثرت پر نہیں ہے بلکہ یہ دین، دین خدا ہے جسے اسی نے غالب بنایا ہے اور یہ اسی کا لشکر ہے جسے اسی نے تیار کیا ہے اور اسی نے اس کی امداد کی ہے۔ یہاں تک کہ اس منزل تک پہنچ گیا ہے اور اس قدر پھیلاؤ حاصل کر لیا ہے۔ ہم پروردگار کی طرف سے ایک وعدہ پر ہیں اور وہ اپنے وعدہ کو بہرحال پورا کرنے والا ہے اور اپنے لشکر کی بہرحال مدد کرے گا۔

ملک میں حکمران کی منزل مہروں کے اجتماع [تسبیح] میں دھاگے کی ہوتی ہے کہ وہی سب کو جمع کیے رہتا ہے اور وہ اگر ٹوٹ جائے تو سارا سلسلہ بکھر جاتا ہے اور پھر کبھی جمع نہیں ہو سکتا ہے۔ آج عرب اگرچہ قلیل ہیں لیکن اسلام کی بنا پر کثیر ہیں اور اپنے اتحاد و اتفاق کی بنا پر غالب آنے والے ہیں۔ لہذا آپ مرکز میں رہیں اور اس چکی کو انہی کے ذریعہ گردش دیں اور جنگ کی آگ کا مقابلہ انہی کو کرنے دیں۔ آپ زحمت نہ کریں کہ اگر آپ نے اس سرزمین کو چھوڑ دیا تو عرب چاروں طرف سے ٹوٹ پڑیں گے اورسب اس طرح شریک جنگ ہو جائیں گے کہ جن محفوظ مقامات کو آپ چھوڑ کر گئے ہیں ، ان کا مسئلہ جنگ سے زیادہ اہم ہو جائے گا۔

ان عجمیوں نے اگر آپ کو میدان جنگ میں دیکھ لیا تو کہیں گے کہ عربیت کی جان یہی ہے۔ اس جڑ کو کاٹ دیا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راحت مل جائے گی اور اس طرح ان کے حملے شدید تر ہو جائیں گے اور وہ آپ میں زیادہ ہی طمع کریں گے۔ اور یہ جو آپ نے ذکر کیا ہے کہ لوگ مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے آ رہے ہیں تو یہ بات خدا کو آپ سے زیادہ ناگوار ہے اور وہ جس چیز کو ناگوار سمجھتا ہے، اس کے بدل دینے پر قادر بھی ہے۔ اور یہ جو آپ نے دشمن کی تعداد کا ذکر کیا ہے تو یاد رکھیے کہ ہم لوگ ماضی میں بھی کثرت کی بنا پر جنگ نہیں کرتے تھے بلکہ پروردگار کی نصرت اور اعانت کی بنیاد پر جنگ کرتے تھے۔  [5]

6۔ حضرت امیر معاویہ کے نام سیدنا علی رضی اللہ عنہما اپنے خط میں لکھتے ہیں: "میری بیعت اسی قوم نے کی ہے جس نے ابوبکر، عمر اور عثمان کی بیعت کی تھی اور اسی طرح کی ہے جس طرح ان کی بیعت تھی کہ نہ کسی حاضر کو نظر ثانی کا حق تھا اور نہ کسی غائب کو رد کر دینے کا اختیار تھا۔ شوری کا اختیار بھی صرف مہاجرین و انصار کو ہوتا ہے لہذا وہ کسی شخص پر اتفاق کر لیں اور اسے امام نامزد کر دیں تو گویا کہ اسی میں رضائے الہی ہے اور اگر کوئی شخص تنقید کر کے یا بدعت کی بنیاد پر اس امر سے باہر نکل جائے تو لوگوں کا فرض ہے کہ اسے واپس لائیں اور اگر انکار کر دے تو اس سے جنگ کریں کہ اس نے مومنین کے راستہ سے ہٹ کر راہ نکالی ہے اور اللہ بھی اسے ادھر پھیر دے گا جدھر وہ پھر گیا ہے۔[6]

7۔  جب باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں مدینہ کا محاصرہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کو نصیحت کرنے گئے تو آپ سے فرمایا: "آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور آپ کو ان کی صحبت نصیب ہوئی۔ آپ نے حضور کی احادیث کو سنا ہے اور آپ کو ان کا داماد بننے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ ابن ابی قحافہ (ابوبکر) حق پر عمل کرنے میں آپ سے بہتر نہ تھے اور نہ ہی ابن خطاب (عمر) نیکی آپ سے بہتر تھے۔ آپ قرابت کے رشتے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قریب ہیں، آپ کو جو (دامادی کا رشتہ) نصیب ہوا ہے، وہ ان دونوں کا حاصل نہیں ہوا۔ اس وجہ سے ان دونوں کو آپ پر سبقت حاصل نہیں ہے۔"[7]

8۔ ابو بکر عبسی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر اور علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ زکوۃ کے جانوروں کے باڑے میں گیا۔ اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سایہ میں بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سخت گرمی کی دھوپ میں کھڑے ہوئے  انہیں کچھ لکھوا رہے تھے۔ ان کے بدن پر دو سیاہ چادریں تھے، ایک کو انہوں نے تہبند کی طرح لپیٹ رکھا تھا دوسری کو سر پر لپیٹا ہوا تھا۔ آپ زکوۃ کے اونٹ گن رہے تھے اور ان کے رنگ اور دانت  کے بارے میں لکھوا رہے تھے۔ حضرت علی نے (جب خلیفہ وقت کی یہ مشقت دیکھی تو) حضرت عثمان سے فرمایا: "حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کی بیٹی کا یہ قول اللہ کی کتاب میں (حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام) کے بارے میں نقل ہوا ہے۔ 'ابا جان! انہیں ملازمت پر رکھ لیجیے کیونکہ جس سے آپ اجرت پر کام لیں، ان میں وہ بہتر ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔'" پھر حضرت علی نے حضرت عمر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "ایسے قوی اور امین آپ ہیں۔"[8]

8۔ باغیوں کے محاصرے کےد وران حضرت علی رضی اللہ عنہ بار بار باغیوں کے پاس جاتے تھے اور خلیفہ وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب صفائیاں پیش کر کے انہیں قائل کرتے تھے کہ وہ بغاوت سے باز آ جائیں۔ آپ کی ان کاوشوں سے متعدد باغی واپس بھی چلے گئے۔  اہل مصر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔ آپ احجار الزیت کے پاس ایک لشکر میں تھے اور آپ کے گلے میں تلوار لٹک رہی تھی اور آپ سرخ یمنی عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ آپ نے حضرت حسن کو حضرت عثمان کی حفاظت کے لیے بھیجا ہوا تھا۔ مصریوں نے جا کر آپ کو سلام کیا اور اپنی عرض داشت پیش کی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان پر چلائے اور انہیں نکال دیا۔ آپ نے فرمایا: "نیک لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ذو المروہ اور ذو خشب کے لشکر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ تم واپس جاؤ۔ اللہ تمہاری صحبت سے بچائے۔"[9]

9۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حفاظت کے لیے حضرت علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم نے اپنے بیٹوں حسن و  حسین بن علی، عبداللہ بن زبیر اور محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہم کو مقرر کیا۔[10]

10۔ جب باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر پانی بند کیا تو یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے جو اپنی جان پر کھیل کر انہیں پانی اور ضرورت کی دیگر اشیاء پہنچا کر آتے تھے۔[11]

11۔  جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ملی تو آپ نے یہ آیت پڑھی: كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ. [یہ لوگ شیطان کی طرح ہیں کہ وہ انسان سے کہتا ہے، "کفر اختیار  کرو۔" پھر وہ کافر بن جاتا ہے تو وہ شیطان یہ کہتا ہے: "میں تم سے بری الذمہ ہوں ، میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔"] [12]

12۔ باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر کے آپ کو دفن نہ ہونے دیا اور آپ کے جنازے پر پتھر برسائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جا کر انہیں روکا۔[13]

13۔ احنف بن قیس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: "مجھے لگتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیے جائیں گے۔ آپ یہ فرمائیے کہ میں ان کے بعد کس کی بیعت کروں؟" انہوں نے جواب دیا: "علی کی۔" جب انہوں نے یہی سوال سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو آپ نے بھی انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کا حکم دیا۔ [14]

14۔  حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "لوگو! معاویہ کی گورنری کو ناپسند مت کرو۔ اگر تم نے انہیں کھو دیا تو تم دیکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے جیسے حنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتا ہے۔[15]

15۔ خوارج نے ایک ہی رات حضرت حضرت علی ، معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا۔ برک بن عبداللہ  خارجی نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا ۔ وار اوچھا پڑا اور آپ کے کولہوں پر زخم آیا۔ آپ نے اسے گرفتار کر لیا۔ قاتل نے کہا: "میرے پاس ایسی خبر ہے جس کے سننے سے آپ خوش ہو جائیں گے اور اگر میں آپ سے وہ خبر بیان کروں گا تو آپ کو بہت فائدہ پہنچے گا۔" آپ نے فرمایا: "بیان کرو۔" وہ بولا: "آج میرے بھائی نے علی کو قتل کر دیا ہو گا۔" آپ نے فرمایا: "کاش! تمہارے بھائی کو ان پر قدرت نہ نصیب ہو۔"[16]

16۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جو مسائل پیش ہوتے تھے، وہ ان کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر ان کی رائے مانگا کرتے تھے۔ جب ان کے پاس ان کی شہادت کی اطلاع پہنچی تو فرمایا: "فقہ اور علم، ابن ابی طالب کی شہادت کے ساتھ چلا گیا۔"[17]

17۔ حضرت معاویہ کو جب حضرت علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی خبر ملی تو رونے لگے۔ ان کی اہلیہ نے  ان سے کہا: "آپ اب ان کے متعلق رو رہے ہیں جبکہ زندگی میں ان سے جنگ کر چکے ہیں۔" آپ نے فرمایا: "افسوس! تمہیں علم نہیں کہ آج کتنے لوگ علم و فضل اور دین کی سمجھ سے محروم ہو گئے ہیں۔"[18]

18۔ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بڑے اصرار کے ساتھ ضرار صدائی سے کہا: "میرے سامنے علی کے اوصاف بیان کرو۔" انہوں نے نہایت بلیغ  الفاظ میں حضرت علی کی غیر معمولی تعریفیں کیں۔ حضرت معاویہ سنتے رہے اور آخر میں رو پڑے۔ پھر فرمایا: "اللہ ابو الحسن (علی) پر رحم فرمائے، واللہ وہ ایسے ہی تھے۔"[19]

19۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو آپ نے افسوس کا اظہار کیا اور مرثیہ کہا۔ [20]

20۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں ہر سال حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو  ہر قسم کے تحفوں کے علاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے تھے۔ [21]

21۔ واقعہ کربلا کے بعد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کو جب شام لے جایا گیا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خاندان کی خواتین بہت روئیں اور یزید نے بھی سخت افسوس کا اظہار کیا۔[22]

22۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تین بیٹوں کا نام ابوبکر، عمر اور عثمان تھا۔ ان میں ابوبکر اور عثمان سانحہ کربلا میں شہید ہوئے۔[23]

ان تمام روایات کو مدنظر رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یک جان اور کئی قالب تھے۔ ان کے درمیان محبت، ہمدردی اور احترام کے تعلقات تھے۔ وہ ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے  اور ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی کینہ اور بغض نہ تھا۔

منفی روایات کا گروپ

تاریخی روایات کا ایک اور گروپ بھی ہے جو عام روایات سے ہٹ کر بالکل ہی متضاد تصویر پیش کرتا ہے۔ اس کے مطابق  حضرت علی رضی اللہ عنہ خود کو خلافت کا حق دار سمجھتے تھے۔ جب صحابہ کرام کی اکثریت نے آپ کی بجائے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا لیا تو آپ کو سخت رنج پہنچا۔ نعوذ باللہ آپ نے دل ہی دل میں کینہ رکھا اور مجبوراً ان کی بیعت کر لی۔  اس کے بعد آپ نے حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کی خلافت کو بھی مجبوراً برداشت کر لیا۔ خلافت عثمانی کے آخری ایام میں آپ نے  بغاوت برپا کر کے خلیفہ کو شہید کروا دیا اور خود اقتدار پر قابض ہو گئے۔ حضرات طلحہ، زبیر، عائشہ اور معاویہ رضی اللہ عنہم نے آپ کو خلیفہ تسلیم نہ کیا اور آپ سے جنگیں کیں۔ آپ کی شہادت کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو مجبور کر کے صلح کی اور پھر بیس برس حکومت کی اور اپنی وفات کے بعد اپنے بیٹے یزید  کو نامزد کر گئے۔ اس کی وجہ سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے علم بغاوت بلند کیا جس کی پاداش میں یزید نے انہیں کربلا کے میدان میں شہید کروا دیا۔

چونکہ اس کتاب کا مقصد ہی ان منفی روایات کا جائزہ لینا ہے، اس وجہ سے ہم نے کوشش کی ہے کہ کم و بیش ان تمام منفی روایات کو اس کتاب میں درج کیا جائے۔ یہ سب روایتیں اپنے اپنے مقام پر آئیں گی۔

کون سی تصویر درست ہے؟

ایک غیر جانبدار قاری جب ان دونوں قسم کی روایات پڑھتا ہے تو اس کا ذہن کنفیوز ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ عہد صحابہ کی ان متضاد تصاویر  میں سے کون سی  تصاویر درست ہیں؟ اگر پہلی قسم کی روایات کو درست مان لیا جائے تو پھر دوسری قسم کی روایات کا کیا کیا جائے اور اگر دوسری قسم کی روایات ٹھیک ہیں تو پہلی قسم کی روایات کی کیا حیثیت ہے؟  اگر پہلی قسم کی روایات درست تھیں تو پھر صحابہ کرام کے درمیان جنگیں کیوں ہوئیں؟ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے محض پچیس برس بعد ہی ایک دوسرے سے کیوں برسر پیکار ہو گئے؟

اگر ہم قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو اس سے ہمیں جس رویے کی تلقین کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر ہمارے سامنے کوئی ایسی ویسی بات آئے جس میں ان ہستیوں پر  الزام عائد کیا گیا ہو، تو اسے بلا تامل مسترد کر دینا چاہیے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

وَلَوْلا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ.

ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب آپ لوگوں نے اس (بہتان) کو سنا تو تھا تو آپ کہتے، ہم تو اس بارے میں اپنی زبان سے کچھ نہیں نکال سکتے۔ اے اللہ! تو پاک ہے۔ یہ تو بڑا ہی بہتان ہے۔   (النور 24:16)

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنْ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلا تَجَسَّسُوا وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ.

اے اہل ایمان! آپ لوگوں کو چاہیے کہ بہت زیادہ گمان کرنے سے بچا کریں۔ یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ (کسی کی ذات سے متعلق) تجسس نہ کیا کریں اور نہ ہی آپ میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا آپ میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ آپ لوگ یقیناً اس سے کراہت محسوس کریں گے۔ اللہ سے ڈرتے رہیے کہ یقیناً اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔  (الحجرات 49:12)

اہل ایمان کا یہی رویہ ہونا چاہیے۔ تاہم کتب تاریخ میں چونکہ ایسی متعصبانہ روایتیں بڑی تعداد میں داخل کر دی گئی ہیں، اس وجہ سے بسا اوقات غیر جانبدار قارئین کو بھی یہ کنفیوژن محسوس ہوتی ہے کہ اتنی ساری روایات کو بلا تامل مسترد کیسے کیا جائے۔ اس کتاب میں ہم اسی کنفیوژن کو دور کرنے کی کوشش کریں گے اور تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے خالص علمی انداز میں یہ جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ  ان دونوں قسم کی روایات میں سے کون سی درست ہیں اور عہد صحابہ کی خانہ جنگیوں کے اسباب کیا تھے؟

صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار سے ہمیں جو عقیدت و محبت ہے، اس کی ایک اپنی جذباتی اور دینی اہمیت ہے مگر مناسب ہو گا کہ یہ تجزیہ کرتے وقت  اس عقیدت کو کچھ دیر کے لیے ایک طرف رکھ دیں اور بالکل خالی الذہن ہو کر خالص فن تاریخ کی روشنی میں ان روایات کا جائزہ لیں تاکہ ہم پوری غیر جانبداری کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچ سکیں کیونکہ  غیر جانبدارانہ تجزیہ ہی ہمیں دل کا اطمینان فراہم کر سکتا ہے۔  اگر انسان جانبدارانہ تجزیہ کرے تو اس کے دل کو کبھی اطمینان حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے دل میں کسی مخصوص صحابی سے متعلق بغض موجود ہے، تو ان سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے دل سے یہ بغض وقتی طور پر نکال دیں اور بالکل غیر جانبدار ہو کر اس کتاب کا مطالعہ کریں۔

اس موضوع  پر بلا مبالغہ ہزاروں کتب لکھی جا چکی ہیں۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ یہ کتب فرقہ وارانہ بحثوں پر مشتمل ہوتی ہیں جن میں ایک دوسرے پر طعن و تشنیع پایا جاتا ہے۔ بعض کتب میں صحابہ کرام کے ایک گروہ کی جانب جھکاؤ موجود ہوتا ہے اور دوسرے گروہ پر تنقید ہوتی ہے۔ اکثر کتب تکنیکی زبان میں لکھی جاتی ہیں جن کی وجہ سے عام قارئین کے لیے ان کا سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ ان میں تاریخی تنقید کے فن کی تفصیلات دیے بغیر اس فن کو استعمال کیا گیا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ایک عام قاری کو مشکل لگتا ہے کہ وہ ان کے مندرجات کی تصدیق (Verification) کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ایک ایسی کتاب لکھنے کی کوشش کی ہے جو فرقہ واریت سے پاک ہو، اس میں کسی فرقے پر طعن و تشنیع نہ ہو ، سبھی صحابہ و اہل بیت کا ادب ملحوظ خاطر رکھا گیا ہو، اور کتاب کو ایسے اسلوب میں پیش کیا جائے جسے ایک عام قاری بآسانی نہ صرف سمجھ سکے بلکہ اس کی تصدیق بھی کر سکے۔

روایات کا الگ الگ تجزیہ کرنے سے پہلے مناسب ہو گا کہ فن تاریخ کے بارے میں ابتدائی معلومات آپ کے سامنے رکھ دیں۔  اس کے بعد ہم یہ دیکھیں گے کہ صحابہ کرام سے متعلق کون کون سی روایات وہ ہیں جو قرآن مجید سے مطابقت رکھتی ہیں اور کون سی وہ ہیں جو قرآن مجید سے متضاد تصویر پیش کرتی ہیں۔ اس کے بعد ہم ایک ایک روایت کا جائزہ لے کر اس کے مستند (Authentic) ہونے کو چیک کر سکتے ہیں۔  یہ معلومات پہلے دو ابواب پر محیط ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ ان دو ابواب کو پڑھے بغیر ہرگز اگلے ابواب کا مطالعہ نہ کیجیے۔

اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو۔

محمد مبشر نذیر

اکتوبر 2012 ؍ ذو الحجہ 1433

mubashirnazir100@gmail.com

اگلا صفحہ                                    فہرست                                    

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 



[1] بخاری، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث 3468۔ مکتبہ مشکاۃ الاسلامیہ۔ www.almeshkat.net (ac. 11 Nov 2011)

[2] ابن جریر طبری(224-310/838-922)۔ (اردو ترجمہ: سید محمد ابراہیم)۔ تاریخ الامم و الملوک۔ 11ھ کا باب۔ جلد 2، ص 410 (11H, 2/1-410)کراچی: نفیس اکیڈمی۔

[3] بخاری، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث 3482، مسلم ، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث 2389

[4]  مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث 2404۔ مکتبہ مشکاۃ الاسلامیہ۔ http://www.almeshkat.net/ (ac. 11 Nov 2011)

[5] سید شریف رضی(359-406/970-1015)۔ نهج البلاغة (عربی)۔ منتديات مقهى الأصدقاء۔ www.PalsCoffee.com ac. 19 Apr 2007 خطبہ  145

[6]   ایضا۔ مکتوب 6

[7]  طبری۔ 34H, 3/1-382

[8]   ایضا۔ 22H, 3/1-222

[9]  ایضا۔ 35H, 3/1-441 to 443

[10]  ایضا۔35H, 3/444

[11]  ایضا۔35H, 3/448

[12]  ایضا۔ 3/449

[13]  ایضا۔ 3/472

[14] ایضا۔ 36H, 3/2-113

[15]  ابن ابی شیبہ۔ المصنف۔ 14/38850۔ ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغۃ۔ 12/40

[16] طبری ۔ 40H, 3/2-357

[17]  ابن عبد البر (368-463/979-1071)۔  الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔ باب علی۔ 2/53۔  بیروت: دار الفکر۔www.waqfeya.com (ac. 11 Aug 2012)

[18]  ابن کثیر(701-774/1302-1373)۔  البدایہ و النہایہ۔ 11/129۔  (تحقیق: الدکتور عبداللہ بن محسن الترکی) قاہرہ: دار ہجر۔

[19] ابن عبد البر (d. 463/1071)۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔ 2/52۔

[20]  طبری۔ 3/2-358

[21]  ابو مخنف، مقتل  الحسین، ص 14،  قم: منشورات الرضی، http://www.al-mostafa.info/data/arabic/depot2/gap.php?file=016992.pdf  (ac. 16 Feb 2012)

[22]  طبری، 61H, 4/1-236,237

[23]  ایضاً 61H/4/1-227, 242