بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 1: تاریخ پر تحقیق کا طریق کار

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اس باب کا مقصد یہ ہے کہ ہم یہ جان سکیں کہ :

·       تاریخی معلومات کیسے مرتب کی جاتی ہیں؟

·       تاریخی معلومات کیسے مسخ ہو جاتی ہیں یا کر دی جاتی ہیں؟

·       تاریخی معلومات کو اگلی نسلوں تک کیسے منتقل کیا جاتا ہے؟

·       تاریخی معلومات کی جانچ پڑتال کا طریقہ کیا ہے؟

اس باب کے اختتام پر ہم اس قابل ہوں گے کہ تاریخی معلومات کو جانچنے اور پرکھنے کے عمومی طریق کار سے واقف ہوں۔

 


 

اس باب میں ہم فن تاریخ کے بنیادی مباحث کا مطالعہ کریں گے تاکہ اس فن  کے بارے میں یہ جان سکیں کہ تاریخی معلومات کیسے حاصل کی جاتی ہیں؟ انہیں مرتب کیسے کیا جاتا ہے؟ عہد صحابہ سے متعلق تاریخی معلومات کس شکل میں دستیاب ہیں؟ کیا یہ معلومات ہم تک درست شکل میں پہنچی ہیں؟ فن تاریخ میں ایسے کون سے طریق ہائے کار (Procedures) موجود ہیں جن کی مدد سے ان معلومات کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے اور اس کی صحت (Authenticity) کا جائزہ لیا جا سکتا ہے؟

تاریخی معلومات کیسے مرتب کی جاتی ہیں؟

تاریخی معلومات، خواہ ان کا تعلق کسی بھی زمانے سے ہو، کو مرتب کرنے کا ایک پراسیس ہوتا ہے جس میں متعدد مرحلوں سے گزر کر یہ معلومات بعد کی نسلوں تک پہنچتی ہیں۔  وہ مرحلے یہ ہیں:

پہلا مرحلہ: واقعہ رونما ہونا اور عینی شہادت

جب کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، تو اس کے کچھ عینی شاہدین ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس واقعے کی تفصیلات کو نوٹ کرتے ہیں اور پھر اسے آگے بیان کر دیتے ہیں۔ اگر کسی واقعے کو عینی شاہدین میسر نہ آ سکیں تو اس کی تفصیلات بالعموم مخفی رہتی ہیں۔  عینی شاہدین اگر موجود ہوں تو وہ اپنے اپنے رجحان، دلچسپی  اور افتاد طبع کے لحاظ سے معلومات کو مرتب کرتے ہیں۔ انسان کی یہ نفسیات ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کے ہر پہلو کو جزوی تفصیلات کی حد تک یاد نہیں رکھتا بلکہ اس کی یہ فطرت ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کو اپنے خیالات، نظریات، دلچسپیوں اور تعصبات کی عینک سے دیکھتا ہے۔ مثلاً اگر کسی جگہ کوئی قتل کا واقعہ ہو جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گواہ تو پوری تفصیل سے قاتل کا حلیہ بتا دیتا ہے لیکن اس کے قتل کرنے کے انداز کو زیادہ تفصیل سے بیان نہیں کر پاتا کیونکہ اس طریقے میں اس کی دلچسپی نہیں ہوتی اور وہ اسے مناسب حد تک نوٹ نہیں کر پا سکا ہوتا ۔ اس کے برعکس دوسرا گواہ قاتل کے حلیے کو تو زیادہ تفصیل سے نوٹ نہیں کرتا لیکن قتل کرنے کے انداز کو بڑے واضح انداز میں بیان کر دیتا ہے کیونکہ اس کی دلچسپی اسی میں ہوتی ہے۔

اسی طریقے سے اگر اس واقعے کو کوئی ایسا شخص بھی دیکھ رہا ہو جواسلحے میں بڑی دلچسپی رکھتا ہو تو وہ باقی چیزوں  کی نسبت آلہ قتل کی جزئیات کو بڑی تفصیل سے بیان کر دیتا ہے۔  ایسا بھی ممکن ہوتا ہے کہ کسی شخص نے قاتل کو پہچان لیا ہو لیکن وہ کسی ذاتی مفاد یا خوف کی وجہ سے اس کے بارے میں غلط معلومات فراہم کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی واقعے کو بیان کرنے والوں میں تفصیلات کے بارے میں کچھ نہ کچھ اختلاف رونما ہو ہی جاتا ہے۔ اس طرح سے تاریخی معلومات کو مرتب  کرنے کا پہلا مرحلہ طے پاتا ہے۔ یہ مرحلہ بالعموم واقعے کے فوراً بعد مکمل ہو جاتا ہے اور اس میں زیادہ سے زیادہ چند دن ہی لگتے ہیں۔ 

چنانچہ ہم اپنے زمانے میں دیکھتے ہیں کہ کوئی اہم واقعہ رونما ہوتے ہی مقامی صحافی اور پولیس موقع پر پہنچ جاتے ہیں اور اس کا ریکارڈ مرتب کر لیا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کر لیے جاتے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے علاوہ اخبارات میں اس کی رپورٹس شائع ہو جاتی ہیں۔

دوسرا مرحلہ: معلومات  کو یکجا کرنا

دوسرے مرحلے میں عینی شاہدین سے  معلومات کو اکٹھا کر کے ایک جگہ درج کیا جاتا ہے۔  مختلف عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے جاتے ہیں اور ان تمام معلومات کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اگر معلومات کو درست طور پر مرتب کرنے کی کوشش کی جائے تو ایسا کرنے والا یہ کوشش کرے گا کہ جتنے زیادہ عینی شاہدین مل سکیں، ان سے معلومات اکٹھی کر لی جائیں۔ اگر کسی واقعے کو بہت سے لوگوں نے دیکھا ہے، تو اس میں قدرتی طور پر عینی شاہدین بہت زیادہ ہو نے چاہییں۔ اگر کوئی واقعہ کسی بند جگہ پر پیش آیا ہے اور موقع پر عینی شاہدین موجود نہیں ہیں، تو اس کے بارے میں بالعموم التباس پیدا ہو جاتا ہے۔ عام واقعات کو تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے لیکن اگر کوئی جرم ہوا ہو یا تاریخی نوعیت کا اہم واقعہ ہو تو اس کی باقاعدہ تفتیش کی جاتی ہے اور مختلف طرز کے ثبوت اکٹھے کیے جاتے ہیں۔

تیسرا  مرحلہ: تصویر کا مکمل کرنا

جب ممکنہ حد تک معلومات کو اکٹھا کر لیا جاتا ہے تو پھر ان کی مدد سے واقعے کی تصویر کو مکمل کیا جاتا ہے، کڑیو ں سے کڑیاں جوڑی جاتی ہیں اور یہ کوشش کی جاتی ہے کہ واقعے کی حقیقی صورت سامنے آ جائے۔ یہ عمل بالکل جگ سا پزل (Jigsaw Puzzle) سےمشابہت رکھتا ہے۔ جیسے جگ سا پزل میں تصویر کے مختلف کٹے ہوئے حصے ہوتے ہیں اور انہیں جوڑ کر ایک تصویر بنانا ہوتی ہے، بالکل ویسے ہی عینی شاہدین کے بیانات کو سن کر تصویر بنائی جاتی ہے۔ البتہ اس معاملے میں مختلف پہلو یہ ہے کہ یہاں ایک سے زائد  تصاویر بننے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ اگر عینی شاہدین کے بیانات میں تضاد پایا جائے یا پھر دیگر شواہد (Evidence) کچھ مختلف بات پیش کرے تو یہ بات ممکن ہوتی ہے کہ واقعے کی ایک سے زائد تصاویر سامنے آئیں۔  یہ بالکل بصری التباس (Optical Illusion) کی طرح ہوتا ہے، جس میں ایک ہی تصویر میں مختلف زاویہ نظر سے ایک سے زائد تصاویر نظر آتی ہیں۔ ایسا ہی ایک التباس نیچے کی تصویر میں دیا گیا ہے۔

rubin

اس تصویر کو دیکھ  کر کوئی پان کھانے والا شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ اگال دان کی تصویر ہے۔  جبکہ دوسرا یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ دو آدمیوں کی تصویر ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ششخص اسے شراب کا جام قرار دے دے۔  اس کا انحصار  ہر شخص کے طرز فکر، سماجی بیک گراؤنڈ اور  ذہنی ساخت پر ہے۔ بالکل اسی طرح تاریخی راویات کی بنیاد پر حاصل ہونے والی معلومات سے ایک شخص  اپنے طرز فکر، سماجی بیک گراؤنڈ اور ذہنی ساخت کے لحاظ سے ایک تصویر بنائے گا اور دوسرا دوسری۔

مثال کے طور پر ہمارے زمانے میں اہم واقعات کی ایک سے زائد توجیہات موجود رہتی ہیں۔ جیسے نائن الیون کے واقعے کے بارے میں بہت سے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ یہ امریکہ اور یہودیوں کی سازش تھی۔ اس کے برعکس امریکیوں کا موقف یہ ہے کہ اس کی ذمہ دار القاعدہ تھی۔  ایسا ہی اختلاف دنیا کے ہر اہم واقعے کے بارے میں موجود رہتا ہے۔

چوتھا مرحلہ: واقعات کے تسلسل کو تاریخ کی شکل میں مرتب کرنا

جب واقعات کو مرتب کر لیا جاتا ہے تو پھر اگلا مرحلہ ان واقعات کے تسلسل اور ان کے باہمی تعلق کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ کام مورخین کرتے ہیں اور  اس کے لیے کتابیں لکھتے ہیں۔ اس طرح سے تاریخ ایک مسلسل عمل کی شکل میں ہمیں نظر آتی ہے۔ مورخ کے ذاتی رجحانات اور تعصبات اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اورنگ زیب عالمگیر کی اپنے بھائیوں سے جو جنگیں ہوئیں اور ان کے نتیجے میں وہ سب مارے گئے۔  سیکولر قسم کے مورخین اس پر عالمگیر کے بارے میں طعنہ زنی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’اورنگ زیب نے کبھی نماز نہیں چھوڑی اور نہ ہی اپنا کوئی بھائی۔‘‘ اس کے برعکس مذہبی مورخین عالمگیر کو پسند کرتے ہیں اور ان جنگوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بقا کی جنگ تھی۔ اگر اورنگ زیب اپنے بھائیوں کو قتل نہ کرتا تو وہ اسے قتل کر دیتے۔

اسی طرح تاریخ پاکستان کے مختلف واقعات جیسے قیام پاکستان، 1965 اور 1971 کی جنگیں، قیام بنگلہ دیش، افغان سوویت جنگ، نائن  الیون، طالبان امریکہ جنگ اور اسی نوعیت کے دیگر واقعات سے متعلق مختلف مورخین اپنے اپنے تعصبات اور جھکاؤ کے مطابق تاریخی واقعات کو بیان کرتے نظر آتے ہیں۔

تاریخی معلومات کی ترتیب و تدوین میں دور جدید اور زمانہ قدیم کے طریق ہائے کار کا موازنہ

ہمارے زمانے کے اہم واقعات کی صورت میں عینی شہادت ، آثار و شواہد اور گواہیوں کو یکجا کرنے کا مرحلہ عام طور پر صحافی انجام دیتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اخباری رپورٹرز اور نیوز چینلز کے نمائندے وہاں پہنچ جاتے ہیں اور اس واقعے کو تحریری رپورٹ یا ویڈیو کی شکل میں ریکارڈ کر لیتے ہیں۔ جرم کی صورت میں  یہ کام پولیس کرتی ہے اور وہی صحافیوں کو معلومات فراہم کرتی ہے۔ اس کے بعد تصویر کو مکمل کرنے کا عمل ہوتا ہے۔ یہ کام عام طور پر تجزیہ نگار کرتے ہیں۔ مختلف اخباروں اور ٹی وی چینلز کے تجزیہ نگاروں بھاری معاوضے  پر یہ خدمت انجام دیتے ہیں۔ جو واقعہ جتنا اہم ہوتا ہے، اسے اتنی ہی زیادہ کوریج ملتی ہے۔ کم اہم واقعات کو زیادہ کوریج نہیں مل پاتی ہے۔  ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ تجزیہ نگاروں کے درمیان بہت سے واقعات کی تصویر کو مکمل کرنے  میں اختلاف رائے پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد تاریخ کو مدون کرنے کا مرحلہ آتا ہے جو کہ مورخین انجام دیتے ہیں۔  عام طور پر مورخین کا کام واقعے کے کافی عرصہ بعد ہوتا  ہے۔ روزانہ بنیادوں پر واقعات کی ریکارڈنگ اور تجزیہ نگاری کا کام تو واقعے کے چند دن کے اندر اندر ہو جاتا ہے لیکن  مورخین اپنا کام کافی عرصہ بعد کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر مشہور سیاستدانوں جیسے بھٹو، ضیاء الحق اور بے نظیر بھٹو کے قتل کے واقعات (بالترتیب 1979, 1988, 2007) کو لیجیے۔ ان واقعات  کی رپورٹنگ کا کام فوری طور پر کیا گیا۔ اب تک تجزیہ نگار، ان  پر لکھتے چلے آ رہے ہیں۔ مگر مورخین نے اپنا کام کافی بعد میں شروع کیا۔ مثلاً  تاریخ کی جو کتابیں 1990 کے عشرے میں  لکھی گئیں، ان میں بھٹو کے قتل کی تفصیلات موجود ہیں۔ اسی طرح 2000 کے عشرے میں لکھی جانے والی کتب میں ہمیں  ضیاء الحق کے قتل کا ذکر ملتا ہے۔ اس کتاب کی تحریر (2012) تک بے نظیر بھٹو کے قتل کے واقعے پر مبنی تاریخ کی کوئی کتاب  ہماری نظر سے نہیں گزری۔  ممکن ہے کہ 2020 کے عشرے میں پاکستان کی تاریخ کی جو کتب لکھی جائیں گی، ان میں اس واقعے کا ذکر ہو گا۔

پہلے زمانوں میں یہ سارا کام اس درجے کی تفصیل اور نفاست (Sophistication) سے انجام نہیں دیا جاتا تھا کیونکہ اس زمانے میں نہ تو اخبارات تھے اور نہ ٹی وی چینل،  نہ کمپیوٹر تھا اور نہ کیمرہ، نہ صحافیوں کا کوئی الگ طبقہ تھا اور نہ ہی معلومات کو ریکارڈ کرنے کا کوئی انتظام۔ عہد صحابہ میں تو کیفیت یہ تھی کہ کاغذ بھی آسانی سے دستیاب نہ ہوتا تھا بلکہ اسے دور دراز ممالک سے امپورٹ کرنا پڑتا تھا، اس وجہ سے کاغذ نایاب اور مہنگا تھا۔  ان وجوہات کی بنیاد پر لوگ تاریخی واقعات کو اپنے ذہنوں میں محفوظ رکھا کرتے تھے۔ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بارے میں البتہ اتنا اہتمام کر لیا گیا کہ انہیں لکھا جانے لگا۔ دوسری اور تیسری صدی ہجری میں جب کاغذ عام ہوا تو علم کے پورے ذخیرے کو کتابوں کی صورت میں مدون کر لیا گیا۔

عہد صحابہ کے واقعات پہلی صدی ہجری میں وقوع پذیر ہوئے تھے۔ جو لوگ ان واقعات کے عینی شاہد تھے، ان میں سے بعض نے انہیں اگلی نسل کے سامنے بیان کیا، اس اگلی نسل نے اپنے سے اگلی نسل اور اس نے اپنے سے اگلی نسل کے سامنے یہ واقعات بیان کیے۔  ایسا کم ہی ہوا کہ کسی بیان کرنے والے نے پورے واقعے کو مکمل تفصیلات کے ساتھ بیان کیا ہو بلکہ کسی نے مختصراً بات بیان کی اور کسی نے کچھ تفصیل سے۔ اس طرح سے یہ واقعات بیان کرنے والوں کے "بیانات" کی صورت میں مرتب ہوئے۔ ان بیانات کو اصطلاح میں "روایت" کہا جاتا ہے اور بیان کرنے والے کو "راوی" کہا جاتا ہے۔ عالم اسلام میں یہ رواج  عام ہو گیا کہ ہر روایت کو بیان کرتے ہوئے اس کے راویوں کی پوری سند (Trail) کو بیان کر دیا جائے۔ مثلاً ایک راوی احمد نے زید سے بات سنی، اس زید نے عمرو سے سنی، عمرو نے خالد سے سنی تو احمد اس روایت کو بیان کرنے سے پہلے یہ کہے گا: "زید نے ہم سے یہ روایت بیان کی، انہوں (زید)نے کہا کہ ان سے عمرو نے یہ بیان کیا اور عمرو نے کہا کہ میں نے خالد سے یہ بات سنی۔"  اس کے بعد  وہ اصل روایت کو بیان کرے گا۔

یہ سب کام زبانی ہو رہا تھا یا زیادہ سے زیادہ اتنا تھا کہ کسی نے اپنی ذاتی ڈائری پر یہ واقعات لکھ رکھے تھے۔ سو برس اسی طرح گزر گئے اور دوسری صدی ہجری میں کاغذ کا وہ انقلاب آ گیا جس کی تفصیلات ہم آگے بیان کریں گے۔ دیگر علوم کی طرح علم تاریخ پر کتابیں لکھنے کا بھی آغاز ہوا۔ اس زمانے میں بعض ایسے مورخین پیدا ہوئے جنہوں نے تاریخی روایات کو اکٹھا کرنے پر غیر معمولی محنت سے کام کیا اور عالم اسلام کا سفر کر کے جس جس کے پاس جو جو روایتیں موجود تھیں، انہیں اکٹھا کیا۔ یہ لوگ "اخباری" کہلاتے تھے کیونکہ ان کا کام خبروں اور واقعات کو اکٹھا کرنا تھا۔ ان میں محمد بن اسحاق (d. 151/768)، محمد بن عمر الواقدی(d. 207/822)، سیف بن عمر التیمی(d. c. 185/800)، ابو مخنف لوط بن یحیی(d. 170/786)، محمد بن سائب الکلبی (d.c. 185/800)اور ان کے بیٹے ہشام بن محمد الکلبی (d. 204/819)کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔

یہ وہی زمانہ تھا جب ماہرین حدیث (جنہیں محدثین کہا جاتا ہے) بھی اسی انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مرتب کر رہے تھے۔  یہ احادیث بھی اسی طرح روایات کی شکل میں موجود تھیں۔ ان محدثین نے احادیث نبوی کو مرتب کرنے  میں غیر معمولی احتیاط سے کام لیا جبکہ اخباریوں کے طبقے نے اس درجے کی احتیاط کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جس کی وجہ سے تاریخی روایات میں اعلی درجے کا معیار برقرار نہ رہ سکا۔ اس کی تفصیل کو ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability