بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 1: تاریخ پر تحقیق کا طریق کار

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

تاریخی معلومات کیسے مسخ ہو جاتی ہیں؟

آپ نے دور جدید اور عہد قدیم تاریخی معلوماتکے مرتب کرنے کے پراسیس کا جو مطالعہ کیا ہے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ یہ بات جان سکتے ہیں کہ اس پورے پراسیس میں بہت سے ایسے خلا (Loopholes) موجود ہیں ، جن کی مدد سے تاریخی معلومات مسخ ہو سکتی ہیں۔یہ کام غیر ارادی طور پر ہوتاہے اور ارادی طور پر بھی۔ہم ان دونوں امور کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔

غیر ارادی طور پر تاریخی معلومات کا مسخ ہو جانا

آپ نے وہ کھیل تو دیکھا ہو گا جس میں شریک ایک شخص کے کان میں کوئی بات کہی جاتی ہے، وہ یہ دوسرے کے کان میں بیان کرتا ہے اور وہ تیسرے کے، لیکنجب یہ بات آخری شخص بیان کرتا ہے تو بات بالکل تبدیل ہو چکی ہوتی ہے۔ جو واقعات تو ایسے ہوں کہ انہیں ہزاروں افراد نے دیکھا ہو، وہ بالکل ٹھیک ٹھیک اگلی نسلوں تک منتقل ہو جاتے ہیں لیکن جن واقعات کے گواہ ایک دو افراد ہی ہوں، ان کی صحیح تصویر اگلی نسلوں تک منتقل نہیں ہو پاتی ہے۔اس کی وضاحت ہم ایک مثال سے کرتے ہیں۔ جیسے کوئی جنگ ہوئی۔ ظاہر ہے کہ اس میں ہزاروں افراد شریک ہوں گے، جن میں سے اگر آٹھ دس بھی اس جنگ کے واقعہ ہونے کو بیان کر دیں تو بعد کے دور کے مورخین کے لیے تاریخ لکھنے کا کافی مستند مواد دستیاب ہو جائے گا۔مورخ کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ وہ ان صاحبان کے بیانات کا ایک دوسرے سے موازنہ کر کے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ لیکن اس جنگ کے آغاز میں کسی کمانڈر نے اپنے تین قریبی ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر کیا خفیہ پلاننگ کی؟یہ وہ بات ہے کہ جس تک رسائی بہت ہی مشکل کام ہے۔ہماری انفارمیشن ایج میں بھی شاید کوئی صحافی یا مورخ اس کی صحیح تفصیلات بیان نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کے بارے میں تو مورخین میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہوتا ہے لیکن جزوی تفصیلات کے بارے میں ان کے ہاں اکثر اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔

جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے، واقعہ کی تصویر پر گرد پڑتی چلی جاتی ہے اور اس کے بارے میں تحقیق و تفتیش مشکل ہوتی چلی جاتی ہے۔ فرض کیجیے کہ اب سے سو سال بعد ایک مورخ ہمارے زمانے کی تاریخ لکھنا چاہتا ہے۔ اہم واقعات کی رپورٹنگ کا کام ہمارے زمانے کے صحافی کر رہے ہیں اورتجزیہ نگاران کی تصویر مکمل کرتے جارہے ہیں۔سو سال بعد کا مورخ جب ہمارے زمانے کی تاریخ لکھے گا تو اس کے لیے یہ ممکن نہ ہو گا کہ وہ واقعات کی از سر نو چھان بین کرے کیونکہ اس وقت تک واقعے کے گواہوں میں شاید ہی کوئی زندہ بچا ہو ۔ دیگر قرائن و آثار بھی ضائع ہو چکے ہوں گے ۔ مورخ کے لیے صرف اور صرف صحافیوں اورتجزیہ نگاروں کا کیا ہوا کام باقی بچے گا۔ اگر اخبارات اور نیوز چینلز نے اپنے آرکائیوز میں پرانے اخبارات اور خبروں کی ویڈیوز سنبھال کر رکھی ہوں گی تو شاید یہ مورخ کو دستیاب ہو جائیں ورنہ صرف تجزیہ نگاروں کا کام ہی اس مورخ کو مل سکے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تجزیہ نگاروں کی تحریریں یا ویڈیوز اس مورخ کو نہ مل سکیں اور اسے دیگر وسائلجیسے سابقہ مورخین کے کام ہی پر اکتفا کرنا پڑے۔

اس مثال کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ دور جدید کے مورخین کے لیے بھی تاریخ کی تصویر پرپڑی گرد ہٹاناایک مشکل کام ہے۔ ہمارے پڑوس میں رات کے وقت تنہائی میں کسی کو قتل کر دیا جائے تو بھی ہمارے لیے یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ تمام تر وسائل رکھتے ہوئے ہم صحیح مجرم تک پہنچ جائیں، کجا یہ کہ سینکڑوں برس پہلے کے کسی قتل یا اور واقعے سے متعلق ہم صحیح مجرم تک پہنچ سکیں جب نہ اخبارات تھے اور نہ صحافی، نہ نیوز چینل تھے اور نہ ہی تجزیہ نگار اور کمپیوٹر یا پریس تو بہت دور کی بات، کاغذ بھی پوری طرح دستیاب نہ تھا۔آج کے اس دور میں جب کمیونی کیشن کا انقلاب آ چکا ہے اور وسائل نقل و حمل اس درجے میں ایجاد ہو چکے ہیں کہ چند گھنٹوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے کا سفر ممکن ہے، ہم یہ دعوی نہیں کر سکتے ہیں کہ ہر ہر بات بالکل صحیح طریقے پر ریکارڈ ہو رہی ہے اور بالکل ٹھیک ٹھیک اگلی نسلوں تک منتقل ہو رہی ہے۔پھر یہ دعوی پرانے زمانے کے بارے میں کرنا کیسے ممکن ہے؟

بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ محض غلط فہمی کی وجہ سے بات صحیح طور پر منتقل نہیں ہو پاتی۔ ایک شخص اس واقعے یا بات کو صحیح سمجھ نہیں سکا اور اپنی ناقص فہم کو اس نے آگے منتقل کر دیا۔ بعد میں یہ بات کتب تاریخ کا حصہ بن گئی۔

جان بوجھ کر تاریخی معلومات کا مسخ کیا جانا

اوپر دی گئی تفصیلات سے ہم یہ جان چکے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھمحض غلط فہمی یا لاپرواہی یا معلومات کی کمی کے باعث تاریخی معلومات صحیح طور پر اگلی نسلوں کو منتقل نہیں ہوتیں۔ اس عمل میں اس وقت زیادہ شدت پیدا ہو جاتی ہے جب کوئی شخص یا گروہ اپنے شخصی یا گروہی مفادات کے تحت جان بوجھ کر تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرے۔سیاسی معاملات میں چونکہ لوگ اقتدار کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے خلاف جدوجہد میں مصروفہوتے ہیں، اس وجہ سے وہ تاریخ کو بھی محض اپنا ہتھیار ہی سمجھتے ہیں اور اسے مسخ کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ پہلی اور دوسری صدی ہجری میں متعدد سیاسی جماعتیں وجود پذیر ہو چکی تھیں۔ان میں سے ہر ایک کی خواہش یہ تھی کہ اقتدار اسے نصیب ہو۔ اس دور کی سیاسی جماعتوں کو ہم اپنے دور کی پارٹیوں پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ اس زمانے میں جو بھی اقتدار کا خواہش مند ہوتا ، اس کے لیے ایک ہی راستہ تھا کہ وہ بغاوت برپا کرے اور لڑ جھگڑ کر اقتدار حاصل کر لے۔ ہر پارٹی کی کوشش یہ تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت حاصل کر لے تاکہ اسے سیاسی کارکندستیاب ہو سکیں۔ اس کے لیے ہر پارٹی نےاپنے مقاصد کے حصول کے پراپیگنڈا کا ہتھیار استعمال کیا۔ ہٹلر کے قریبی ساتھی اور اس کی پراپیگنڈا مشینری کے انچارچ گوئبلز کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ جھوٹ کو اتنی مرتبہ بولو کہ لوگ اسے سچ مان لیں۔پراپیگنڈا گوئبلز کی ایجاد نہیں ہے بلکہ ہزاروں برس سے لوگ اسی قول پر عمل کرتے آئے ہیں جن میں مسلمانوں کی پہلی دو صدیوں کی سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں۔

دوسری صدی ہجری میں جن لوگوں میں تاریخ دانی کا شوق پیدا ہوا، وہ بالعموم انہی میں سے کسی ایک پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے سیاسی تعصبات کے مطابق سچی جھوٹی ہر قسم کی روایاتاکٹھی کیں اور ان پر کتابیں لکھیں۔ ان متعصب مورخینکو اس سے غرض نہ تھی کہ بات مستند ہے یا نہیں، انہیں تو اپنی تصویر مکمل کرنا تھی اور اس کے لیے انہیں جو بھی رطب و یابس ملا، قبول کر کے انہوں نے اپنے ذہن کے مطابق تصویر مکمل کرنے کی کوشش کی۔ بعد میں جب تاریخ طبری اور دیگر کتب لکھی گئیں، تویہی سچی جھوٹی روایتیں ان کا حصہ بھی بن گئیں۔ اس کے بعد ہر ہر گروہ اپنے اپنے نظریات کے مطابق جب تاریخ کی کوئی تصویر بنانا چاہتا ہے تو اسے اس کا پورا مصالحہ انہی تاریخی کتب سے مل جاتا ہے۔

تاریخ سے متعلق یہ تمام حقائقہم اپنے پاس سے بیان نہیں کر رہے ہیں بلکہ علم التاریخ کے بانی ابن خلدون (732-808/1332-1405)نے بھی یہی بات کہی ہے۔ اپنے شہرہ آفاق مقدمہ تاریخ میں لکھتے ہیں:

چونکہ خبر میں جھوٹ اور سچ کا امکان ہوتا ہے، اس لیے تاریخ میں بھی جھوٹ اور سچ اور غلطی کا احتمال (Probability) رہتا ہے۔تاریخ میں غلطیوں کے کئی اسباب ہوتے ہیں:

پہلا سبب اختلاف آراء و نقطہ ہائے نظر ہے۔ جب ذہن راہ اعتدال پر ہوتا ہے اور کوئی بات سنتا ہے تو اس کی تحقیق کرتا ہے اور اس میں غور و فکر کرتا ہے یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ خبر سچی ہے یا جھوٹی۔ لیکن جب ذہن کسی رائے یا نقطہ نظر میں ڈوباہوتا ہے تو وہ فوراً اس خبر کودرست مان لیتا ہے جو اس کی رائے یا نقطہ نظر کے موافق ہو کیونکہ اس کی بصیرت پر تعصب و محبت کی پٹی بندھی ہوتی ہے جو اسے تحقیق و تنقید سے روک دیتی ہے۔ اب وہ جھوٹی خبر قبول کر کے غلطی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس جھوٹی خبر کو بلا تامل آگے نقل کر دیتا ہے۔

دوسرا سبب نقل کرنے والوں پر بھروسہ ہے کہ اس کے خیال میں وہ قابل اعتماد ہیں اور غلط بیانی ان کے شایان شان نہیں ہے۔ اس وجہ سے وہ جرح و تعدیل کے اصول پر ان کے احوال کی جانچ پڑتال نہیں کرتا ہے۔

تیسرا سبب مقصد سے لاپرواہی ہے۔ بہت سے راوی اپنیمشاہدہ کی ہوئی یا سنی ہوئی خبروں کے اغراض و مقاصد سے آگاہ نہیں ہوتے ہیں۔ وہ محض اپنے گمان اور اٹکل پچو کی بنیاد پر روایت کر دیتے ہیں۔ اس لیے وہ غلطی کا شکار ہو جاتی ہیں۔

چوتھا سبب کسی خبر کے بارے میں سچا ہونے کا وہم ہے۔ یہ کئی طرح سے پیدا ہوتا ہے۔ زیادہ تر اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ راویوں پر اعتماد کر لیا جاتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خبروں کو (اس دور کے) دیگر خارجی واقعات سے میچ نہیں کیا جاتا ہے تاکہ اس خبر اور دیگر واقعات میں مطابقت (Reconciliation)پیدا ہو جائے۔ اس تطبیق سے عدم واقفیت کے باعث جعلی اور من گھڑت باتوں کو بھی فروغ حاصل ہو جاتا ہے اور صحیح و غلط کی تمیز نہیں رہتی ہے۔ سننے والا خبر کو جوں کا توں نقل کر دیتا ہے حالانکہ وہ جعلی ہونے کے سبب سچائی سے کوسوں دور ہوتی ہیں۔

پانچواں سبب معزز اور بڑے لوگوں کی خوشامد کر کے انہیں خوش کرنا اور ان کا قرب حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اکثر خوشامدی لوگ بڑے لوگوں کی ہر بات خوبصورت رنگ میں رنگ کر اسے پھیلا دیتے ہیں اور س طرح وہ جھوٹی خبریں دنیا میں پھیل جاتی ہیں کیونکہ انسان کو فطری طور پر اپنی تعریف اچھی لگتی ہے۔ لوگ دنیا اور اس کے مال و متاع کے انتہائی حریص ہوتے ہیں او رحقیقی فضیلت اور اہل فضیلت کو نہیں چاہتے ہیں۔

چھٹا سببجو مذکورہ بالا تمام اسباب سے زیادہ اہم ہے، اس معاشرے کے احوال سے ناواقفیت ہے (جس کی وہ خبر ہو۔) ہر زمانے کا ایک مخصوص ماحول (Ethos) ہوتا ہے اور اس زمانے کے ہر واقعے کے لیے، اس زمانے کی خصوصیاتسے مطابقت ضروری ہوتی ہے۔ اگر خبر سننے والا، اس ماحول کے تقاضوں اور واقعات کی مخصوص خصوصیات سے باخبر ہو تو اسے اس خبر کی تحقیق میں بڑی مدد ملے گی۔ ۔۔۔

بعض اوقات لوگ بالکل ہی محال و ناممکن خبروں پر یقین کر کے انہیں نہ صرف مان لیتے ہیں بلکہ دوسروں سے روایت بھی کر دیتے ہیں۔ لوگ ان سے یہ خبریں نقل کرتے چلے آئے ہیں۔ [1]

اس کے بعد ابن خلدون نے تاریخ کی سابقہ کتب سے بعض مثالیں نقل کی ہیں جیسے اسکندر یونانی کے بارے میں مشہور ہے کہ جب اس نے اسکندریہ شہر آباد کرنا چاہا تو سمندری بلاؤں نے اس کی مخالفت کی۔ اس نے شیشے کا ایک صندوق بنوایا اور اس میں بیٹھ کر سمندر میں اترا۔ یہاں اس نے تہہ میں موجود کچھ شیطانی جانوروں کی تصاویر کھینچ لیں اور واپس آ کران کے مجسمے بنوا کر ساحل پر لگوا دیے۔ بلائیں جب رکاوٹ ڈالنے آئیں تو ڈر کر بھاگ گئیں اور اس طرح اسکندریہ کے شہر میں رکاوٹ دور ہو گئی۔ اس قسم کی بہت سی داستانیں داستان گو حضرات نے محض اس لیے گھڑیں کہ ان کی مدد سے وہ لوگوں کو محظوظ کر سکیں۔بعض مورخین نے زیادہ تردد کیے بغیر انہیں بھی کتب تاریخ کا حصہ بنا دیا۔

 

اگلا صفحہ††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی ††/مطالعہ قرآن/مطالعہ حدیث /مطالعہ تاریخ/تعمیر شخصیت ††/تقابلی مطالعہ ††/دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 



[1] ابن خلدون، مقدمہ 1/46۔ الکتاب الاول: فی طبیعۃ العمران۔ بیروت: دار الفکر۔ www.waqfeya.net (ac. 30 Sep 2006)