بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 1: تاریخ پر تحقیق کا طریق کار

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

تاریخی معلومات کیسے منتقل ہوتی ہیں؟

تواتر اور انفرادی رپورٹس (Perpetuity and Solitary Reports)

عہد صحابہ بلکہ ہر دور ہی سے متعلقمعلوماتہمیں بالعموم دو شکلوں میں دستیاب ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک شکل تواتر (Perpetuity) کہلاتی ہے جبکہ دوسری خبر واحد (جمع اخبار احاد ) یعنی انفرادی رپورٹس (Solitary Reports)۔ تاریخ میں کسی بھی قسم کی معلومات (Information)، خواہ وہ مذہبی ہوں یا نہ ہوں، کو دوسرے لوگوں اور اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے بنیادی طور پر یہی دو طریقے استعمال ہوئے ہیں۔ تواتر سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے مطابق کسی خبرکو ہر دور میں اتنے زیادہ افراد بیان کرتے ہوںکہ اس کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ اس کے برعکس خبر واحد وہ طریقہ ہے جس کے مطابق کسی خبر کو ایک دو یا چند افراد بیان کرتے ہوں اور ان کے بیان میں غلطی یا شک و شبہ کی گنجائش باقی رہ جائے۔

تواترکی مثالیوں پیش کی جاسکتی ہے کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر2001 کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر تباہ ہوگیا۔ یہ واقعہ رونما ہوتے ہی اس کی خبر دنیا بھر کے ٹی وی چینلز، اخبارات اور انٹر نیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل گئی۔ اس واقعے کو موقع پر جا کر ہزاروں افراد نے دیکھا اور بیان کردیا۔ اس معاملے میں دنیا بھر میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ واقعہ رونما ہوا تھا کیونکہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اب سے پندرہ بیس برس تک کےبعداس واقعے کو دنیا بھر کے اربوں افراد اپنی آنے والی نسل کو سنائیں گے، اس واقعے کے بارے مضامین لکھے جاتے رہیں گے، ویڈیو فلمیں دیکھی جاتی رہیں گی اور اس کا تذکرہ ہوتا رہے گا۔ ہمارے بعد والی نسل کے افراد انہی طریقوں سے ان معلومات کو اپنے سے اگلی نسل میں منتقل کریں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اب سے ہزار سال بعد بھی اس بات میں کوئی شک و شبہ موجود نہیں ہوگا کہ 11 ستمبر 2001کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر جہازوں کے ٹکراؤ سے تباہ ہوگئے تھے۔ یہ پورا پراسیس "تواتر" کا عمل کہلاتا ہے۔

اس ذریعے سے حاصل ہونے والی معلومات حتمی اور قطعی ہوتی ہیں اور ان کے بارے میں کسی شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ چنانچہ ہم لوگ پوری قطعیت کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ1947 میں برصغیر آزاد ہوا تھا، 1857 میں برصغیرمیں جنگ آزادی ہوئی تھی، سولہویں صدی عیسوی میں اکبر نام کا ایک بادشاہ ہندوستان پر حکومت کرتا تھا، پندہرویں صدی میں کولمبس نے امریکہ دریافت کیا، بارہویں صدی میں صلاح الدین ایوبی نے صلیبی جنگیں لڑی تھیں، ساتویں صدی میں سانحہ کربلا وقوع پذیر ہوا تھا، اور اسی ساتویں صدی کے عرب میں محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بعثت ہوئی تھی اور آپ کے بعد آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس وقت کی مہذب دنیا کا بڑا حصہ فتح کر لیا تھا۔ پہلی صدی عیسوی میں فلسطین میں سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے دین حق کا علم بلند کیا تھا، 1400 قبل مسیح میں سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلے پر آنے والا فرعون سمندر میں غرق ہوگیا تھا، 2000 قبل مسیح میں سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے نمرود کی خدائی کو چیلنج کیا تھا، اور اس سے بھی کہیں پہلے سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں زمین پر ایک بہت بڑا سیلاب آیا تھا۔ یہ وہ معلومات ہیں، جن کا کوئی ذی عقل اپنے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے انکار نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی ان حقائق کا انکار کرتا ہو تو وہ سورج کے روشن ہونے ، دن اور رات کی تبدیل ہونے اور زمین کے گول ہونے کا بھی انکار کر سکتا ہے۔

ہمارے علمی ذخیرے میں ایسی بہت سی معلومات ہیں جو تواتر کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں اور انکے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا ضرور ہوسکتا ہے کہ بعض معلومات کے منتقل کرنے کا سلسلہ اگلی نسلوں میں پہنچ کر کسی وجہ سے منقطع ہو جائے اور یہ تواتر ٹوٹ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے بادشاہوں کے وجود اور زمانوں کے بارے میں تاریخ میں اختلاف پایا جاتا ہے کیونکہ ان معلومات کی اتنی اہمیت نہ تھی کہ کوئی انہیں محفوظ رکھنے کا اہتمام کرتا۔ اس کے برعکس انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور بعض دیگر مذاہب کے بانیوں کے بہت سے واقعات تواتر کے ساتھ منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں کیونکہ ان کی اہمیت کے پیش نظر انہیں محفوظ رکھنے کا بھرپور اہتمام کیا گیا تھا۔ یہی اہتمام تواتر کہلاتا ہے۔

تاریخ میں بہت سی معلومات ہمیں خبر واحد (ایک دو افراد کی دی ہوئی خبر) کی صورت میں بھی ملتیہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی کا منظر کسی عینی شاہد نے دیکھا۔ اس نے اپنے ذہن میں موجود تفصیلات کو کسی دوسرے تک منتقل کردیا۔ دوسرے شخص نے ان معلومات کو تیسرے تک ، تیسرے نے چوتھے تک اور چوتھے نے پانچویں شخص تک منتقل کردیا اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ان معلومات میں اس قسم کی باتیں ہو سکتی ہیں کہ اس نے جہازوں کے ٹکرانے سے پہلے کسی شخص کو مشکوک انداز میں اس عمارت سے نکل کر بھاگتے ہوئے دیکھا تھا، سب سے پہلے 79 ویں منزل تباہ ہوئی تھی، پچاسویں منزل پر موجود فلاں شخص کس طرح زندہ بچا،وغیرہ وغیرہ ۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا تباہ ہونا تو تواتر سے ثابت ہے لیکن اس کی جزوی تفصیلات خبر واحد سے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی واقعے کے بارے میں مختلف اخبارات کی خبروں میں جزوی سا فرق پایا جاتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد ایک دو انسانوں کے مشاہدے اور یاد رکھنے پر ہوتی ہے۔

جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ ہمارے اخبارات کسی بھی بڑے واقعے کی جب رپورٹنگ کرتے ہیں تو ان میںاس کے بارے میں بعض تفصیلات میں اختلاف موجود ہوتا ہے۔ کسی حادثے کی صورت میں مرنے والے یا زخمی ہونے والوں کی تعداد کیا تھی، حادثے میں قصور کس کا تھا، جیسے معاملات میں اخباری رپورٹرز کے بیانات کے فرق کی وجہ سے مختلف اخبارات مختلف معلومات دیتے ہیں جبکہ اس بات پر سب کا اتفاق ہوتا ہے کہ یہ واقعہ رونما ہوا ہے۔ یہ چیز بھی عام مشاہدے میں دیکھنے میں آتی ہے کہ ایک شخص دوسرے کے سامنے واقعے کو بالکل درست بیانکردیتا ہے لیکن دوسرا تیسرے کے سامنے بیان کرتے وقت اپنے کسی مفاد کے تحت، یا پھر محض غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے اس میں کچھ کمی بیشی بھی کر دیتا ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکےہیں کہکانوں کان بات پہنچانے کے کھیل میں جب اصل جملہ آخری فرد سے پوچھا جاتا ہے تو اس کا جواب اصل جملے سے خاصا مختلف ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں تواتر سے حاصل ہونے والی معلومات سو فیصد قطعی اور یقینی (Confirm)ہوتی ہیں اور انمیں کسی قسم کے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس خبر واحد سے حاصل ہونے والی معلومات سو فیصد یقین کے درجے پر نہیں پہنچتیں بلکہ ان میں کسی نہ کسی حد تک شک و شبہ پایا جاتا ہے۔ اس شک و شبہ کو تحقیق کے طریقوں سے کم از کم سطح پر لایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے اصول حدیث کا فن ایجاد کیا تاکہ خبر واحد سے حاصل کردہ معلومات کو پرکھا جا سکے۔

تواتر سے حاصل کردہ معلومات میں کسی قسم کی ہیرا پھیری کرنا ممکن نہیں ہوتا جبکہ انفرادی روایتوں میں جان بوجھ کر حقائق کو مسخ کیا جا سکتا ہے۔ جیسے ہمارے دور سے متعلق کبھی بھی کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکے گا کہ مثلاً نائن الیون تو کبھی ہوا ہی نہیں یا امریکہ نے تو کبھی افغانستان یا عراق پر حملہ نہیں کیا۔ ہاں جزوی واقعات سے متعلق غلط بیانی کی جا سکتی ہے۔جیسے اگر امریکیوں کے لٹریچر کا جائزہ لیا جائے تو وہ نائن الیون کا الزام مسلمانوں پر دھرتے ہیں جبکہ مسلمان اس کا الزام یہودیوں یا خود امریکیوں پر دھرتے ہیں۔ممکن ہے کہ اب سے پانچ سو یا ہزار برس بعد تک یہی اختلاف موجود رہے۔

تواتر کے معاملے میں ایک ایسی صورت ہے جس میں گڑبڑ کی جا سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ مصنوعی سا تواتر پیدا کر دیا جائے۔ یہ پروپیگنڈا کے اصول کے مطابق ہوتا ہے۔ جیسے آج کوئی شخص A قتل ہو جائے تو اس کا کوئی دوست Bیہ دعوی کر دے کہ شخص C اس کا قاتل تھا۔اس کے بعد وہ اس بات کی تشہیر کر دے، میڈیا پر بیان دے اوراخبارات میں خبریں چھپوائے۔ اس کی بات پر یقین کر کے اور دس بیس لوگ یہی بات دوہرانے لگ جائیں اور پانچ دس سال بعد یہ لوگ تعداد میں اتنے زیادہ ہو جائیں کہ ان کی بات پر تواتر کا گمان ہونے لگے۔†† بعد میں کوئی مورخ اسی کی بنیاد پر اگر اپنی کتاب میں یہ لکھ دے کہ C نے A کو قتل کیا تھا تو بات پوری طرح پھیل جائے گی اور لوگ بلا تامل اسے مان لیں گے۔

ایسے مصنوعی تواتر کی جانچ پڑتال آسان ہے کیونکہ اگرBکے زمانے میں اس کے دعوے سےہٹ کر دیگر وسائل سے اس واقعے کا جائزہ لیا جائے گاتو بات واضح ہو جائے گی کہ سوائے اس ایک شخص کے اور کوئی یہ بات نہیں کہتا ہے۔ اس سے معلوم ہو جائے گا کہ تواتر کا یہ دعوی بے بنیاد ہے اور مصنوعی قسم کا تواتر پیدا کیا گیا ہے۔

عہد صحابہ کی تاریخ کے کون سے واقعات تواتر سے منقول ہیںاور کون سے اخبار احاد سے؟

عہد صحابہ کی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات تواتر سے منقول ہیںجیسے خلفاء راشدین کون کون تھے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں مرتدین سے جنگیں ہوئیں اور روم و ایران سے جنگوں کا آغاز ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں روم اور ایران کو شکست دی گئی اور یہ اعلی درجے کی خوشحالی کا دور تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نہایت نیک دل خلیفہ تھے اور باغیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں خانہ جنگیاں ہوئیں۔ حضرت حسن نے معاویہ رضی اللہ عنہما سے صلح کر لی وغیرہ وغیرہ۔

انہی واقعات کی جزوی تفصیلات ہمیں اخبار احاد کے ذریعے ملتی ہیں۔ ان میں سچی جھوٹی ہر قسم کی روایات شامل ہیں۔مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ یا دیگر صحابہ کے اپنے ساتھیوں سے کیا مشورے ہوئے؟ آپ کی بیعت کن حالات میں ہوئی؟جنگ جمل و صفین کے اسباب کیا تھے؟ یہی وہ تفصیلات ہیں جن میںہمیں بے شمار تضادات اور اختلافات ملتے ہیں ۔

اخبار احاد میں سنداور متن کی اہمیت کیا ہے؟

علم روایت میں کسی بھی انفرادی روایت کے دو حصے مانے جاتے ہیں: ایک حصہ اس کی سند اور دوسرا متن۔ "سند" سے مراد وہ حصہ ہوتا ہے جس میں تاریخ کی کتاب کے مصنف (Compiler) سے لے کر واقعے کے عینی شاہد تک کے تمام راویوں (روایت بیان کرنے والوں) کی مکمل یا نامکمل زنجیر (Chain of Narrators) کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں۔ اس کی مثال ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اور یہاں دوبارہ بیان کر رہے ہیں: "زید نے ہم سے لکھ کر بیان کیا، انہوں نے کہا کہ انہوں نے خالد سے یہ بات سنی۔ خالد نے کہا کہ انہوں نے اسلم سے یہ بات سنی اور اسلم نے کہا کہ میں نے یہ واقعہ ہوتے دیکھا: ۔۔۔۔۔" سند کے بعد روایت کا متن شروع ہوتا ہے جو کہ روایت کا اصل حصہ ہوتا ہے جس میں اصل واقعہ بیان کیا گیا ہوتا ہے۔

جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں تاریخی تحقیق (Historical Method) کے ماہرین سند اور متن دونوں کا تجزیہ کرتے ہیں اور یہ جانچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ روایت کس حد تک قابل اعتماد ہے۔یہاں ہم اسی طریقہ کار کی تفصیل بیان کر رہے ہیں تاکہ اس طریقہ کار کو سیکھ کر اس کا اطلاق عہد صحابہ سے متعلق معلومات سے کیا جا سکے۔

 

اگلا صفحہ††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی ††/مطالعہ قرآن/مطالعہ حدیث /مطالعہ تاریخ/تعمیر شخصیت ††/تقابلی مطالعہ ††/دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability