بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 1: تاریخ پر تحقیق کا طریق کار

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

تاریخی روایات کی جانچ پڑتال کا طریقہ کیا ہے؟

جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے سیاسی مفادات کے لیے روایات ایجاد کیں اور انہیں پروپیگنڈا کے ذریعے پھیلا دیا۔ ان میں سے بہت سی روایات کتب تاریخ کا حصہ بن  گئیں اور سچ کے ساتھ جھوٹ کی آمیزش ہو گئی۔  اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جھوٹ کو سچ سے الگ کیسے کیا جا سکتا ہے تاکہ ہم واقعات کی صحیح تصویر تک پہنچ سکیں؟ 

مثل مشہور ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ جھوٹ گھڑنے والا کوئی نہ کوئی ایسی غلطی کر بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے اس کا جھوٹ پکڑا جاتا ہے۔  اس کے بیان میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ سچ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے جبکہ جھوٹ متعدد ہو سکتے ہیں۔  اس کی ایک مثال وہ مشہور واقعہ ہے جس میں ایک راوی (Narrator) نے بیان کیا کہ میں نے فلاں شخص سے یہ حدیث سنی ہے۔ سامعین میں ایک بڑے محدث بیٹھے تھے۔ انہوں نے پوچھا: "آپ کی عمر کتنی ہے؟" بولے: "اسی سال۔" محدث نے کہا: "پھر آپ یہ حدیث ان صاحب سے نہیں سن سکتے کیونکہ وہ آپ کی پیدائش سے دس برس پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔" اسی طرح کسی عباسی خلیفہ کے زمانے میں خیبر کے یہودیوں نے ایک دستاویز پیش کی جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں کچھ حقوق عطا فرمائے تھے۔ وقت کے ایک محدث نے اس دستاویز کو دیکھتے ہی جعلی قرار دیا  کیونکہ اس میں بطور گواہ حضرت سعد بن معاذ او رمعاویہ رضی اللہ عنہما کے دستخط تھے۔ ان میں سے ایک صحابی اس واقعے سے پہلے ہی شہید ہو چکے تھے اور دوسرے ابھی ہجرت کر کے مدینہ نہیں آئے تھے۔

علم تاریخ کے محققین نے اس مقصد کے لیے ایک  طریقہ کار وضع کیا ہے جسے " تاریخی تحقیق کا طریقہ (Historical Method)" کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ تحقیق کے اصول ہم یہاں اس کے ماہرین کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں۔ تفصیل کے لیے آپ کسی بھی انسائیکلو پیڈیا میں Historical Method کا عنوان دیکھ سکتے ہیں۔[1] بنیادی طور پر تاریخی معلومات کی جانچ پڑتال کے لیے چار اعتبار سے تحقیق کی جاتی ہے:

·       ماخذ کی تحقیق (Source Criticism)

·       داخلی تحقیق (Internal Criticism)

·       خارجی تحقیق (External Criticism)

·       تاریخی وجوہات کا تجزیہ (Historical Reasoning)

اب ہم انہیں ایک ایک کر کے بیان کرتے ہیں۔

ماخذ کی تحقیق (Source Criticism)

اس تحقیق میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ تاریخی معلومات کا ماخذ (Source) کیا ہے اور وہ کس درجے میں قابل اعتماد ہے؟ یہ معلومات محض سنی سنائی  ہیں یا ان کے لیے ٹھوس ثبوت موجود ہیں؟ کیا ان معلومات کا ماخذ ایک ہی شخص ہے یا متعدد افراد ہیں؟ اگر متعدد ہیں تو ان کے درمیان کوئی باہمی تعلق تو نہیں؟ کیا معلومات کے یہ مآخذ متعصب تو نہیں۔ اگر بہت سے مآخذ سے متفقہ طور پر ایک ہی بات سامنے آ رہی ہو، تو یہ مان لیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔ علم حدیث کی اصطلاح میں اسے "تواتر  (Perpetuity)" کہا جاتا ہے۔ جیسے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ یا سانحہ کربلا کا وقوع پذیر ہونا بے شمار مآخذ سے ثابت ہے۔ اگر مختلف افراد اس واقعے کے بارے میں متضاد باتیں پیش کر رہے ہوں تو تاریخی تحقیق کے ماہر کو  یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کس شخص کی بات درست ہے؟  اس ترجیح کے اصول یہ ہوتے ہیں:

·       اگر ایک شخص واقعے کا عینی شاہد ہے اور دوسرے نے کسی اور سے سن کر بات بیان کی ہے، تو عینی شاہد کی بات کو ترجیح ہو گی۔ مثلاً ایک شخص جنگ جمل میں شریک تھا، اس کا بیان اس شخص کی نسبت کہیں اہمیت رکھے گا جو سو سال بعد پیدا ہوا۔

·       اگر ایک شخص واقعے سے متعلق کسی قسم کا تعصب رکھتا ہے اور دوسرا تعصب نہیں رکھتا، تو غیر متعصب کو ترجیح حاصل ہو گی۔ جیسے کسی جنگ میں فریقین کے فوجیوں کی نسبت آزاد مبصرین اور صحافیوں کی بات کو ترجیح دی جاتی ہے۔

·       اگر ایک شخص کی بات کی تصدیق دوسرے آزاد ذرائع سے بھی ہو جاتی ہے، تو اس کی بات کو زیادہ اہمیت حاصل ہو گی۔  اس کے برعکس اگر کوئی شخص اپنے بیان میں محض منفرد ہے اور اس کے بیان کی تصدیق دوسرے آزاد ذرائع سے نہیں ہوتی، تو اس کی بات کی اہمیت کم ہو گی۔ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے  کہ تصدیق کرنے والے ذرائع کا آزاد ہونا ضروری ہے۔ مثلاً اگر ایک واقعے کو پانچ  افراد A, B, C, D, E بیان کرتے ہیں۔ ان میں تین افراد A, B, C کا بیان ملتا جلتا ہے جبکہ دو افراد D, E کا بیان ان سے مختلف ہے مگر وہ آپس میں متفق ہیں۔  اب محض اس وجہ سے پہلے تین افراد کے بیان کو ترجیح حاصل نہ ہو گی کہ وہ اکثریت میں ہیں۔ یہ دیکھا جائے گا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کوئی تعلق تو نہیں رکھتے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ تینوں ایک ہی سیاسی پارٹی سے تعلق  رکھتے ہوں؟ یا B, C دونوں کہیں A کے شاگرد تو نہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر ان کی گواہی کو تین نہیں بلکہ ایک فرد کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

·       اگر ایک فریق کی بات کی تصدیق دیگر ثبوتوں جیسے فنگر پرنٹس، DNA یا اسی نوعیت کی کسی اور چیز سے ہوتی ہے، تو اس کی بات قابل ترجیح ہو گی۔

·       اگر کسی ایک فریق کی بات کو ترجیح دینا ممکن نہ ہو، تو پھر مورخ اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے تحقیق کے دیگر طریقے اختیار کرے گا جن کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔ [2]

داخلی تحقیق (Internal Criticism)

جو تاریخی روایت مل رہی ہے، اس کے متن کا تجزیہ کر کے دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس حد تک قابل اعتماد ہے۔  چونکہ یہ تحقیق متن کے اندرونی تجزیے سے متعلق ہوتی ہے، اس وجہ سے اسے داخلی تحقیق  کہا جاتا ہے۔ اس میں درج ذیل ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:

·       معلومات پر مبنی جو رپورٹ ہے، کیا اس کے اندر کوئی اندرونی تضاد موجود ہے؟

·       جو شخص رپورٹ دے رہا ہے، کیا وہ عینی شاہد ہے یا اس نے کسی اور سے سن کر یہ معلومات لکھی ہیں؟  اگر یہ زبانی روایت ہے تو پھر کیا اس کی سند (Chain of Narrators) مکمل ہے یا نامکمل؟ کیا یہ تمام کے تمام راوی قابل اعتماد ہیں یا نہیں؟

·       اس شخص نے واقعے کی رپورٹ کب اور کہاں بیان کی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ واقعے کی رپورٹ پچاس سال بعد بیان کر رہا ہے جب اس کے دیگر عینی شاہدین دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں؟

·       اس شخص نے وہ رپورٹ کن اشخاص کے سامنے بیان کی ہے؟ کیا وہ ان پر اثر انداز ہونا چاہتا تھا یا پھر محض معلومات کی منتقلی ہی اس کا مقصد تھا؟

·       جو بیان وہ دے رہا ہے، کیا وہ عقلاً ممکن ہے؟ جیسے آج کل کا کوئی شخص اگر یہ دعوی کرے کہ اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے اور کوئی حدیث بیان کرے تو یہ عقلاً محال ہے۔

·       جس واقعے کے بارے میں وہ شخص بیان دے رہا ہے،  کیا اسے سمجھنے کے لیے کسی خصوصی مہارت کی ضرورت ہے؟ جیسے کسی تاریخی شخصیت کی بیماری کو کوئی طبیب ہی صحیح طور پر بیان کر سکتا ہے۔[3]

خارجی تحقیق (External Criticism)

اس قسم کی تحقیق میں تاریخی معلومات کے متن سے ہٹ کر دیگر بیرونی ذرائع سے ان معلومات کی تحقیق کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے خارجی تحقیق کہا جاتا ہے۔ اس میں یہ ٹیسٹ شامل ہوتے ہیں:

·       معلومات کو کب بیان کیا گیا؟  کیا انہیں اصل واقعے کے فوراً  بعد بیان کیا گیا یا کافی عرصہ بعد؟

·       معلومات کہاں مرتب کی گئیں؟  کہیں معلومات کسی ایسے علاقے میں مرتب تو نہیں کی گئیں جو اس واقعے سے متعلق کسی متعصب فریق کا گڑھ تھا؟

·       معلومات کس شخص نے مرتب کیں؟ کہیں وہ کسی  متعصب گروہ سے تعلق تو نہیں رکھتا تھا؟

·       معلومات کیا براہ راست ماخذ  (Primary Source) سے حاصل کی گئی ہیں یا پھر  کسی ثانوی ماخذ (Secondary Source)سے؟ اگر یہ ثانوی ماخذ سے حاصل کی گئی ہیں تو اس کا درجہ کیا ہے؟

·       کیا معلومات اپنی اصل حالت میں ہیں یا اس میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟

·       کیا لوگ طویل عرصے تک ان معلومات کو اسی طرح سے مانتے آئے ہیں یا کسی دور میں ان کا انکار بھی کیا گیا ہے؟

·       کیا ان معلومات کا تاریخی تجزیہ کرنے کی پہلے بھی کوشش کی گئی ہے یا انہیں بغیر تحقیق کے محض عقیدت مندی یا تعصب میں بس مان لینے کا رجحان رہا ہے؟

·       دیگر قرائن و آثار سے ان معلومات کی تصدیق (Corroboration) ہوتی ہے یا نہیں؟ [4]

ان میں سے پہلے چار اصولوں کو بالائی تحقیق (Higher Criticism) اور بقیہ دو کو زیریں تحقیق (Lower Criticism) کا نام دیا جاتا ہے۔

تاریخی اسباب و علل  کی تحقیق (Historical Reasoning)

اس طریقہ کار میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ زیر تحقیق تاریخی معلومات دیگر تاریخی  معلومات اور حالات سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔  تاریخ میں واقعات کا ایک تسلسل ہوتا ہے جس میں اسباب اور علل کی ایک زنجیر (Cause-and-effect chain) رونما ہو رہی ہوتی ہے۔ اگر ایک واقعہ اس زنجیر میں سرے سے فٹ ہی نہ بیٹھتا ہو تو اس کی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے۔  زیر تحقیق واقعے کے اسباب اور وجوہات تلاش کی جاتی ہیں، پھر ان کے نتائج پر غور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی واقعہ غیر متوقع ہو، تو اس سے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کی جاتی ہیں تاکہ کسی نتیجے پر پہنچا جا سکے۔   ابن خلدون(732-808/1332-1405) چونکہ علم التاریخ کے بانی ہیں، اس وجہ سے انہوں نے بھی اس معیار کو بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

خبروں کی تحقیق معاشرے کی طبیعت (Ethos) کو سمجھنے پر موقوف ہے اور تحقیق کا یہ طریقہ انتہائی قابل اعتماد اور اچھا ہے۔ اس سے سچی اور جھوٹی خبروں میں امتیاز ہو جاتا ہے ۔ اگرچہ خبروں کی سچائی ، راویوں کی دیانت داری سے بھی معلوم ہو جاتی ہے لیکن اس دیانت داری کی حیثیت ثانوی ہے جبکہ معاشرے کے طبعی حالات سے تحقیق کا درجہ مقدم ہے۔ راویوں کی دیانت داری کی تحقیق تو تب کی جائے گی جب خبر میں سچائی کا امکان ہو۔ جب خبر ہی ناممکن اور بعید از عقل ہو تو پھر جرح و تعدیل سے کیا فائدہ ہے۔ بعض عقل مند لوگوں نے خبر کے سلسلے میں ایک طریقہ یہ نکالا ہے کہ الفاظ سے ناممکن معانی لے لیے جائیں یا پھر عقل سے خارج ہو کر اس واقعے کی کوئی تاویل گھڑ لی جائے۔شرعی اخبار و آثار میں راویوں کی جانچ پڑتال ضروری ہے تاکہ کم از کم ان کی سچائی کا غالب گمان تو ہو۔ [5]

کیا یہ تحقیق ہر تاریخی واقعے سے متعلق کی جاتی ہے؟

اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر تاریخی واقعے سے متعلق اتنی معلومات دستیاب نہیں ہوتی ہیں کہ اوپر بیان کردہ تمام پروسیجرز کا اطلاق اس پر کیا جا سکے۔ عام تاریخی واقعات کے بارے میں اگر کوئی اختلاف سامنے نہ آئے تو انہیں زیادہ تحقیق کے بغیر قبول کر لیا جاتا ہے۔  تفصیلی تحقیق عام طور پر ان واقعات کی ہوتی ہے جن سے کوئی بڑا علمی، سیاسی یا  مذہبی اختلاف پیدا ہو رہا ہو۔ چھوٹے موٹے واقعات کی صورت میں ایسا نہیں ہوتا۔ جیسے کسی سفر کے دوران کسی بادشاہ  نے کہاں پڑاؤ ڈالا؟ اس نے کسی شخص کو کیا انعام دیا؟ بادشاہ کی شادی کس خاتون سے ہوئی؟ اس قسم کے عام معاملات میں زیادہ تحقیق نہیں کی جاتی ہے لیکن اہم تاریخی واقعات ، جن کے بارے میں کوئی بڑا اختلاف موجود ہو،  کے بارے میں یہ تحقیقات کی جاتی ہیں۔ جیسے کوئی بڑی جنگ کیوں ہوئی؟ اس کے اسباب کیا تھے؟  اس کے نتائج کیا نکلے؟ وغیرہ وغیرہ۔

حدیث اور تاریخ سے متعلق تحقیق میں کیا فرق ہے؟

حدیث چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق معلومات کا ریکارڈ ہے، اس وجہ سے اس کے معاملے میں تحقیق کا اعلی ترین معیار اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے خود اپنے متعلق فرمایا کہ مجھ سے جھوٹ منسوب کرنے والا اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہر قسم کی احادیث کے لیے تحقیق کا کڑا معیار برقرار رکھا گیا ہو بلکہ احکام کی احادیث کی چھان بین بہت ہی باریک بینی سے کی گئی جبکہ سیرت طیبہ سے متعلق عام تاریخی واقعات  کی بہت زیادہ چھان بین نہیں کی گئی ہے۔ ہاں اگر کسی معاملے میں کوئی اختلاف پیدا ہوا ہے تو اس کی تحقیق تفصیل سے کی گئی ہے۔

تاریخی واقعات میں عام طور پر یہ  معیار برقرار نہیں رکھا جا سکا ہے اور مورخین نے ہر قسم کا رطب و یابس اکٹھا کر دیا ہے۔ ان میں سے عام واقعات کی چھان بین تو بہت مشکل ہے تاہم ایسے واقعات جن سے امت کے اندر کوئی بڑا سیاسی یا مذہبی اختلاف پیدا ہوا ہے، کی چھان بین تفصیل سے کی جانی چاہیے۔ اس پر مزید بحث ہم اگلے باب میں کریں گے۔

خلاصہ باب

·       تاریخی معلومات مرتب کیے جانے کا عمل چار مراحل سے گزرتا ہے: (۱) واقعہ کا رونما ہونا اور عینی شہادتیں۔ (۲) واقعہ کی تفصیلات کو نوٹ کرنا۔  (۳) اس کا تجزیہ کر کے اس کی ایک مکمل تصویر بنانا۔ (۴) مختلف واقعات کی تصاویر کو لے کر تاریخ مرتب کرنا۔

·       تاریخی معلومات بہت مرتبہ راویوں کی بے احتیاطی، اضافی معلومات کی عدم دستیابی ، راویوں کے تعصب اور سیاسی و مذہبی وجوہات کے سبب مسخ ہو جاتی ہیں۔

·       جو تاریخی معلومات ’’تواتر‘‘ سے منتقل ہوتی ہیں، ان کے بارے میں شک نہیں ہوتا مگر جو انفرادی لوگوں کی خبروں سے منتقل ہوتی ہیں، ان کی صحت (Authenticity) کے بارے میں شک رہتا ہے۔ عہد صحابہ کی تاریخ کا بہت کم حصہ ہے جو تواتر  سے منتقل ہوا ہے۔

·       تاریخی روایات کی چھان بین کے لیے متعدد طریق ہائے کار ہیں، جن میں سے یہ نمایاں ہیں: (۱) ماخذ کی تحقیق۔ (۲) داخلی تحقیق۔ (۳) خارجی تحقیق۔ (۴) تاریخی وجوہات کی تحقیق۔

·       تمام تاریخی روایات کی چھان بین نہیں کی جاتی ہے بلکہ صرف انہی روایات کی چھان بین ہوتی ہے جن میں کوئی بڑا سیاسی، علمی یا مذہبی اختلاف پیدا ہو۔

اگلے باب میں ہم دیکھیں گے کہ عہد صحابہ سے متعلق تاریخی معلومات کیسے مرتب ہوئیں اور ان کی تحقیق کا طریقہ کیا ہے؟

اسائن منٹس

۱۔ تاریخی معلومات کس طرح اکٹھی کی جاتی ہیں؟ اس میں کون سے  مراحل پیش آتے ہیں اور کس کس مرحلے میں کس کس طریقے سے ان معلومات کو مسخ کیا جا سکتا ہے؟

۲۔ تاریخی معلومات کے مسخ کیے جانے کے کم از کم پانچ اسباب بیان کیجیے۔

۳۔ تواتر اور خبر واحد میں کیا فرق ہے؟ دونوں کی تین تین مثالیں بیان کیجیے۔

۴۔ ماخذ کی تحقیق (Source Criticism) کے اصولوں کو نکات کی صورت میں بیان کیجیے۔

۵۔ داخلی اور خارجی تحقیق (Internal and External Criticism) میں بنیادی فرق کیا ہے؟

۶۔ تاریخی اسباب و علل کی تحقیق (Historical Reasoning) کسے کہتے ہیں؟ تاریخی واقعات کی دو مثالیں لے کر بیان کیجیے کہ کس طرح اسباب و علل کی تحقیق کے ذریعے ان کے صحیح یا غلط ہونے کو جانچا جا سکتا ہے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1] Wikipedia. Article: Historical Method. en.wikipedia.org/wiki/Historical_method. ac. 16 Feb 2012

[2] Bernheim (1889) and Langlois & Seignobos (1898). Wikipedia. Article: Historical Method. http://en.wikipedia.org/wiki/Historical_method. ac. 16 Feb 2012

[3] R. J. Shafer. Ibid.

[4] Garrakhan. Ibid.

[5]  ابن خلدون۔ 1/48