بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 2: عہد صحابہ کی تاریخ پر تحقیق

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ باب 1 میں اس سلسلے کے کچھ بنیادی تصورات بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے باب 2 سے پہلے باب 1 کا مطالعہ ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

 

 

اس باب کا مقصد یہ ہے کہ ہم یہ جان سکیں کہ :

·       عہد صحابہ کی تاریخ کو پہلی تین صدیوں میں کیسے مرتب کیا گیا؟

·       پہلی تین صدیوں کے اہم مورخ  کون کون سے ہیں اور وہ کس درجے میں قابل اعتماد سمجھے جاتے ہیں؟

·       قرون وسطی اور دور جدید کے اہم مورخ کون کون سے ہیں؟

·       مخصوص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کردار کشی کے اسباب کیا تھے؟

·       عہد صحابہ کی تاریخی روایات کی جانچ پڑتال کا طریقہ کیا ہے؟

·       ایک عام آدمی تاریخ کی چھان بین کیسے کر سکتا ہے؟

اس باب کے اختتام پر ہم اس قابل ہوں گے کہ عہد صحابہ سے متعلق تاریخی معلومات کو جانچنے اور پرکھنے کے طریق کار سے واقف ہوں۔

 


دور صحابہ و تابعین (11-133/632-750)کا اجمالی جائزہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور شروع ہوتا ہے۔ ان کے بعد تابعین اور ان کے بعد تبع تابعین کا دور آتا ہے۔ صحابی اس شخص کو کہا جاتا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہو جبکہ تابعی اسے کہتے ہیں جس نے کسی صحابی سے ملاقات کی ہو۔ اسی طرح تبع تابعی اس شخص کو کہتے ہیں جس نے  کسی تابعی سے ملاقات کی ہو۔

عام طور پر مصنفین دور صحابہ کو 11/632 سے شروع کر کے 110/728 تک لے جاتے ہیں کیونکہ آخری صحابی اسی سال میں فوت ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ تابعین کے دور کو شمار کرتے ہیں اور کم و بیش 200/815 تک دور تابعین کو شمار کرتے ہیں کیونکہ آخری تابعی اسی زمانے میں فوت ہوئے تھے۔ تاہم دقت نظر سے دیکھا جائے تو صحابہ کرام کی اکثریت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور تک وفات پا چکی تھی اور اس زمانے میں جو صحابہ باقی رہ گئے تھے، ان کی غالب اکثریت بھی اگلے پندرہ بیس برس میں وفات پا چکے تھے۔  اس کے بعد جو اکا دکا صحابہ باقی رہ گئے، وہ اگرچہ رشد و ہدایت کا مینار تھے تاہم اس دور میں دین و دنیا کے زیادہ تر معاملات تابعین کے ہاتھ میں تھے۔ بالکل اسی طرح 133/750 تک اکثر جلیل القدر تابعین بھی وفات پا چکے تھے اور ان میں سے کچھ حضرات اگر باقی رہ بھی گئے تب بھی دین ودنیا کے معاملات عملاً تبع تابعین کے ہاتھ میں آ چکے تھے۔ 

عہد صحابہ و تابعین کے مذہبی، سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کو سمجھنے  کی خاطر ہم  اس دور کو بھی مزید چھوٹے ادوار (Sub-Periods) میں تقسیم کر سکتے ہیں۔  یہ تقسیم اس بنیاد پر ہے کہ کس دور میں کون لوگ دینی اور دنیاوی قیادت کے مناصب پر فائز رہے۔ یہ تقسیم ہمارے فہم (Judgment)کے مطابق ہے اور اس میں دو چار سال اوپر نیچے کیے جا سکتے ہیں۔

1۔ کبار صحابہ کا دور (11-40/632-660):یہ وہ دور ہے جب مسلمانوں کی قیادت ان صحابہ کے ہاتھ میں رہی جنہوں نے طویل عرصے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی۔ ان میں زیادہ تر حضرات وہ تھے جو عمر  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ہی کم تھے۔ ان میں سب سے نمایاں خلفائے راشدین اور عشرہ مبشرہ کے بقیہ صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔ ان کے علاوہ دیگر سابقون الاولون بھی بالعموم اسی دور کے اندر وفات پا چکے تھے۔

2۔ متوسط صحابہ کا دور (40-60/660-680): اس دور میں وہ صحابہ دینی اور دنیاوی قیادت  پر فائز رہے جو عہد نبوی میں ابھی نوجوان تھے۔ ان میں سب سے نمایاں حضرت معاویہ، ابوہریرہ، ام المومنین عائشہ، عبداللہ بن عمر  اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم تھے۔

3۔ صغار صحابہ کا دور (60-80/680-700): اس دور میں دینی اور دنیاوی قیادت ایک حد تک تابعین کے ہاتھ میں آ چکی تھی تاہم  ابھی وہ صحابہ موجود تھے جو عہد رسالت کے آخری دور میں پیدا ہوئے تھے۔  ان میں حضرت حسن، حسین، عبداللہ بن زبیر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم  شامل ہیں۔ 80/700 کے بعد بھی تیس سال تک بعض صحابہ زندہ رہے تاہم اس کے بعد دین و دنیا کی قیادت عملاً کبار تابعین کو منتقل ہو چکی تھی۔

4۔ کبار تابعین کا دور (80-100/680-718): صحابہ و تابعین کے ادوار کا بہت سا حصہ مشترک (Overlapping) ہے۔ کبار تابعین وہ تھے جو خلفائے راشدین کے ابتدائی ایام میں پیدا ہوئے اور ان کی پوری زندگی جلیل القدر کبار صحابہ کے ساتھ گزری۔ ان میں سے طویل عمر پانے والے بھی 100/718 کے لگ بھگ وفات پا چکے تھے۔

5۔ متوسط تابعین کا دور (100-133/718-750): یہ وہ تابعین ہیں جو متوسط صحابہ کے دور میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ان سے تربیت حاصل کی۔ ان کا دور کم و بیش اس وقت ختم ہوتا ہے جب بنو امیہ کا اقتدار ختم ہوا۔

6۔ صغار تابعین کا دور (60-200/750-815): یہ وہ تابعین ہیں جو صغار صحابہ کے دور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے صغار صحابہ یا کبار تابعین سے تعلیم و تربیت پائی۔ ان کا دور خاصا طویل ہے تبع تابعین کے دور کے ساتھ خلط ملط ہے۔

7۔ تبع تابعین کا دور (150-300/767-912) : اس میں تبع تابعین کی مختلف نسلیں (Generations) شامل ہیں جنہوں نے کبار سے لے کر صغار تابعین کا زمانہ پایا۔

اس باب میں ہم ان اس بات کا جائزہ لیں گے کہ عہد صحابہ سے متعلق تاریخ پر تحقیق کیسے کی جائے۔ اس کے لیے ہم پہلے یہ دیکھیں گے کہ عہد صحابہ کی تاریخ مرتب کیسے ہوئی اور پھر ہم دیگر امور کا جائزہ پیش کریں گے۔  گویا کہ ہم یہاں "علم تاریخ کی تاریخ" کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter