بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 2: عہد صحابہ کی تاریخ پر تحقیق

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ باب 1 میں اس سلسلے کے کچھ بنیادی تصورات بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے باب 2 سے پہلے باب 1 کا مطالعہ ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

پہلی صدی ہجری میں علم تاریخ

چونکہ عہد صحابہ پہلی صدی ہجری پر مشتمل ہے، اس وجہ سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کے دور ہی میں کوئی مورخ پیدا ہوتے  جو اس دور کے واقعات پر کتابیں لکھتے لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس دور میں کاغذ کمیاب تھا اور کتابیں لکھ کر پھیلانے کا رواج نہ تھا۔ قرآن مجید ہی وہ واحد کتاب تھی جو لکھی ہوئی صورت میں موجود تھی۔ احادیث نبویہ کو بعض لوگوں نے اپنے رجسٹروں میں لکھ رکھا تھا اور اس کی حیثیت ذاتی ڈائری کی تھی۔ اس وجہ سے ہمیں پہلی صدی ہجری میں کوئی نمایاں مورخ نظر نہیں آتے۔ پہلی صدی میں مورخین کی عدم دستیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ تاریخ کا ذوق رکھنے والے مسلمانوں کا زیادہ تر فوکس احادیث نبویہ پر تھا۔ انہیں پڑھنا،  پڑھانا، یاد کرنا، نوٹ کرنا، اگلی نسلوں تک منتقل کرنا ہی ان کے نزدیک اہم کام تھا۔ تاریخی واقعات کی یاد چونکہ ابھی تازہ تھی، اس وجہ سے انہیں اس کی ضرورت محسوس نہ ہوئی کہ ان سے متعلق روایات کو کوئی شخص اکٹھا کر کے کتاب لکھے۔  یہی وجہ ہے کہ پہلی صدی ہجری میں یہ روایات بکھری رہیں اور لوگ احادیث کے ساتھ ساتھ انہیں بھی روایت کرتے رہے تاہم بعض ایسی شخصیات اس دور میں پیدا ہوئیں جنہوں نے حدیث اور تاریخ پر غیر معمولی کام کیا۔

ابن شہاب الزہری(58-124/678-742)

پہلی صدی ہجری کے اواخر  اور دوسری صدی کے اوائل میں محمد بن مسلم بن شہاب الزہری کی شخصیت ایسی ہے جو فن حدیث میں نمایاں ہوئی۔  یہ کہا جا سکتا ہے کہ زہری اپنے دور میں علم روایت کے سب سے بڑے عالم تھے۔ آپ بنو امیہ کے خلفاء ولید اور سلیمان کے قریب رہے۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ  خلیفہ بنے تو انہوں نے زہری سے فرمائش کی کہ وہ احادیث نبویہ کو اکٹھا کریں۔  یہی وجہ ہے کہ احادیث کی بہت بڑی تعداد زہری سے مروی ہے اور موطاء امام مالک، بخاری اور مسلم جیسی کتابوں میں ان کی مرویات کی تعداد بہت زیادہ  ہے۔  اگرچہ بعض لوگوں نے زہری پر تنقید کی ہے مگر امت کے اہل علم کی غالب اکثریت نے ان پر اعتماد کیا ہے۔

ابن شہاب زہری سے بعض تاریخی روایات بھی منقول ہیں مگر ان روایتوں میں ایک مسئلہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جنگ جمل ، صفین، تحکیم وغیرہ کے واقعات 36-38/657-659 میں پیش آئے جبکہ زہری کی پیدائش 58/678 کی ہے۔ زہری  جب ان واقعات کی کوئی تفصیل بیان کرتے ہیں تو سند بیان کرنے کی بجائے براہ راست اس واقعے کی تفصیلات بیان کرنے لگتے ہیں۔ وہ اس شخص کا نام نہیں بتاتے جس سے انہوں نے یہ واقعہ سن رکھا ہے۔ ان واقعات میں سے بہت سے ایسے ہیں جن میں کسی نہ کسی خاص صحابی کی کردار کشی ملتی ہے۔ چونکہ زہری ان واقعات کے عینی شاہد نہیں ہیں، اس وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ جس شخص سے انہوں نے وہ واقعہ سنا، وہ کس درجے میں قابل اعتماد تھا۔ عین ممکن ہے کہ زہری نے یہ واقعات اپنے بچپن یا نوجوانی میں ایسے لوگوں سے سنے ہوں جو بعض صحابہ کے خلاف بغض رکھتے ہوں اور ان کے خلاف اٹھنے والی باغی تحریک کا حصہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی منقطع سند (Broken chain of narrators) کے واقعات قابل اعتماد نہیں  ہیں۔

یونس بن یزید الایلی(d. 152/769)

یہ ابن شہاب زہری کے شاگرد خاص تھے اور ان کی کتابوں کے حافظ تھے۔ ویسے تو ایلی کا تعلق دوسری صدی ہجری سے ہے لیکن چونکہ یہ ابن شہاب الزہری کی تاریخی روایات کا اہم حصہ انہی سے مروی ہے، اس وجہ سے ان کا ذکر یہیں کیا جا رہا ہے۔اگرچہ بعض ائمہ جرح و تعدیل نے انہیں قابل اعتماد قرار دیا ہے تاہم  جن لوگوں نے ان کے معاملے میں تحقیق کی ہے، انہوں نے بیان کیا ہے کہ ان کا حافظہ کمزور تھا۔ امام احمد بن حنبل بیان کرتے ہیں کہ  یونس نے زہری کی روایات لکھنے میں بکثرت غلطیاں کی ہیں اور بڑی منکر (یعنی عجیب و غریب) قسم  کی روایات بیان کی ہیں۔ [1]

زہری سے جتنی بھی ایسی منقطع تاریخی روایات منقول ہیں، جن میں صحابہ کرام کی کردار کشی ہے، تقریباً ان سب کو یونس بن یزید الایلی نے روایت کیا ہے۔ 

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  شمس الدین الذہبی (673-748/1275-1347)۔ سیر الاعلام النبلا۔ شخصیت نمبر 6894۔ ص 4300۔   عمان: بیت الافکار الدولیہ۔