بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 2: عہد صحابہ کی تاریخ پر تحقیق

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ باب 1 میں اس سلسلے کے کچھ بنیادی تصورات بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے باب 2 سے پہلے باب 1 کا مطالعہ ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

دوسری صدی ہجری میں علم تاریخ

دوسری صدی ہجری میں مسلم دنیا میں ایک بہت بڑا انقلاب آیا جس نے لوگوں کے رہن سہن پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے۔ ہوا یوں کہ ماوراء النہر (موجودہ ازبکستان، تاجکستان وغیرہ) کے علاقے میں مسلم فوج کی ایک جھڑپ چین کی فوج کے ساتھ ہوئی۔ اس جنگ میں بعض ایسے چینی فوجی  مسلمانوں کے جنگی قیدی بنے جو کاغذ بنانے کے ماہر تھے۔ ان قیدیوں سے مسلمانوں نے کاغذ بنانے کا فن سیکھا ۔ چونکہ مسلم دنیا میں کاغذ کی ڈیمانڈ بہت زیادہ تھی، اس وجہ سے بہت تیزی سے کاغذ بنانے کے کارخانے یہاں پھیل گئے اور بڑی مقدار میں سستا کاغذ بنایا جانے لگا۔ اس عظیم ٹیکنالوجیکل انقلاب کا موازنہ بعد کی صدیوں میں پرنٹنگ پریس او رپھر کمپیوٹر کی ایجاد سے کیا جا سکتا ہے۔ جیسے کمپیوٹر نے ہمارے زمانے میں انسانوں کے رہن سہن، باہمی تعلقات، اداروں ، کاروبار، تعلیم اور ہر چیز کو بدل دیا ہے، بالکل ویسے ہی کاغذ بنانے کے طریقے کی دریافت نے مسلم دنیا میں تعلیم، تحقیق اور زندگی کے دیگر شعبوں پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے۔

اس سے پہلے لوگ محض ذاتی ڈائری کے طور پر اپنے علم کو لکھ لیا کرتے تھے۔ جب طالب علم اپنے استاذ سے  کچھ سیکھتا تو اسے اپنی ڈائری میں لکھ لیتا  اور بسا اوقات استاذ کو پڑھ کر سنا بھی دیتا تاکہ کسی غلطی کا امکان نہ رہے۔ دوسری صدی ہجری کا نصف آخر اور تیسری صدی کے نصف اول میں تصنیف و تالیف کا کام بڑے پیمانے پر کیا جانے لگا جن میں تاریخی کتب بھی شامل تھیں۔ کتابوں کو کمرشل پیمانے پر نقل کیا جانے لگا اور "ورّاقین" کا ایک طبقہ وجود میں آیا۔ یہ کتابوں کی ہاتھ سے نقلیں تیار کرنے کے ماہر تھے  اور انہوں نے باقاعدہ اپنا بازار بنا لیا۔ اگر کسی عالم کو اپنی کتاب  کی مثلاً سو کاپیاں تیار کروانا ہوتیں تو وہ ان وراقین  کے پاس آتے اور انہیں اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا نسخہ دیتے۔ یہ وراقین اس کام کو آپس میں بانٹ لیتے اور چند ہی دنوں میں یہ سو کاپیاں تیار کر کے عالم کو دے دیتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دھڑا دھڑ کتابیں لکھی  جانے لگیں اور انہیں بآسانی منتقل کیا جانے لگا۔

حافظے سے کاغذ  پر علم کی منتقلی کا یہ عمل ظاہر ہے کہ ایک سال میں نہیں ہوا ہو گا بلکہ ان کارخانوں کے ارتقاء میں کم از کم تیس چالیس برس ضرور لگے ہوں گے۔  کاغذ کا ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک بنا ہو گا، دکانیں قائم ہوئی ہوں گی اور اس کے ساتھ ساتھ ورّاقین (Scribes) کا وہ طبقہ وجود میں آیا ہو گا جس نے  کتابوں کو نقل کرنے کے فن کو بہت تیز کر دیا۔ اس سارے عمل میں پچاس سے سو برس تو یقیناً لگے ہوں گے۔ ہم اپنے زمانے میں دیکھ سکتے ہیں کہ کمپیوٹر کو مختلف معاشروں  میں رواج پانے کے لیے کم و بیش تیس سال (1980-2010)کا عرصہ لگا ہے اور 2012 میں  بھی یہ صورتحال نہیں ہے کہ ہر شخص کے پاس اپنا ذاتی کمپیوٹر ہو۔  شاید مزید تیس چالیس برس میں یہ صورتحال ہو جائے کہ ہر شخص ذاتی کمپیوٹر کا مالک ہو۔ کچھ ایسا ہی معاملہ  اس دور میں کاغذ کے ساتھ ہوا ہو گا۔

دوسری صدی ہجری کے نصف آخر میں ہمیں نظر آتا ہے کہ کتابیں لکھنے کے عمل کا آغاز ہوا اور تیسری صدی ہجری کے اوائل اور نصف میں جب کتابیں بڑے پیمانے پر لکھی جانے لگیں تو ان کا اسلوب وہی تھا جو اس سے پہلے زبانی روایت کا چلا آ رہا تھا۔ سب سے پہلے تو ضرورت اس امر کی محسوس ہوئی کہ  جو کچھ علم اب تک زبانی یا ذاتی ڈائریوں کی صورت میں چلا آ رہا ہے، اسے مرتب کر لیا جائے۔  چنانچہ تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، ادب، شاعری، فلسفہ غرض ہر علم میں  جو کچھ دستیاب تھا، اسے لکھا جانے لگا۔ حدیث اور تاریخ کے میدان میں پہلے مرحلے پر ان روایات کو اکٹھا کیا گیا۔ اہل علم کا فوکس یہ تھا کہ علم کو مرتب کیا جائے، مستند و غیر مستند کو بعد میں اگلے مرحلے پر دیکھ لیا جائے گا۔  یہ مرحلہ دوسری صدی کے آخر سے شروع ہو کر پانچویں صدی کے آخر تک جاری رہا اور اس عمل میں تین سو سال لگے۔

دوسری صدی ہجری میں ایسے مورخین سامنے آئے جنہوں نے تاریخ پر کتابیں لکھنا شروع کیں اور روایتیں اکٹھی کیں۔ مناسب ہو گا کہ اس موقع پر ہم ان مورخین کا تعارف کروا دیں اور ان کے متعلق ائمہ جرح و تعدیل کی آراء بھی نقل کر دیں۔ ائمہ جرح و تعدیل سے ہماری مراد وہ محققین ہیں جنہوں نے احادیث اور تاریخی روایات کے راویوں پر تحقیق پر اپنی زندگیاں صرف کیں اور ان کے بارے میں یہ تفصیلات  بیان کیں کہ یہ لوگ کس درجے میں قابل اعتماد تھے۔  ان ائمہ میں احمد بن حنبل(164-241/780-855)، ابن معین(156-233/772-847)، بخاری(194-256/810-870)، ابن المدینی (161-234/777-848)، ابو حاتم الرازی (195-277/810-890)، نسائی (214-303/829-915)اور دار قطنی (306-385/918-995) شامل ہیں۔ یہ سب تیسری اور چوتھی صدی ہجری کے مشہور ائمہ جرح و تعدیل ہیں اور ان کی رائے فن جرح و تعدیل میں اتھارٹی کا درجہ رکھتی ہے۔

مورخین اور راویوں کے بارے میں یہ تفصیلات ہم فن رجال (Biographical Studies)کے مشہور انسائیکلو پیڈیا "میزان الاعتدال" سے فراہم کر رہے ہیں اور مشہور ائمہ جرح و تعدیل، جنہوں نے مختلف راویوں کے حالات اور ان کے قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے پر گہری تحقیق کی ہے، کی آراء یہاں پیش کر رہے ہیں۔

محمد بن اسحاق (85-151/703-768)

مشہور عالم ہیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر ایک مفصل کتاب لکھی تھی جس کا جزوی حصہ اب بھی موجود ہے۔  دور صحابہ کی تاریخ کے بارے میں ان سے زیادہ روایات مروی نہیں ہیں۔

ان کے بارے میں محدثین اور ماہرین جرح و تعدیل کے مابین اختلاف ہے کہ یہ ثقہ تھے یا نہیں تھے۔علی بن مدینی اور ابن شہاب زہری نے انہیں سب سے بڑا عالم قرار دیا ہے ۔ سفیان بن عینیہ انہیں امیر المومنین فی الحدیث سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس امام مالک (93-179/711-795) جو ان کے ہم عصر تھے، انہیں "دجال" کا لقب دیتے ہیں۔ ان پر شیعہ اور فرقہ قدریہ سے  کا الزام ہے اور اس کے علاوہ ان پر تدلیس (غیر ثقہ راوی کا نام چھپا لینا تاکہ یہ لگے کہ حدیث مستند ہے) کے ارتکاب  کا الزام بھی ہے۔  یحیی بن معین کہتے ہیں کہ ثقہ تو تھے مگر حجت نہیں تھے۔[1]

محمد بن عمر الواقدی (130-207/747-823)

دوسری صدی کے سب سے مشہور مورخ محمد بن عمر الواقدی  ہیں۔ یہ صاحب بغداد کے قاضی تھے اور بڑے عالم تھے۔ انہوں نے بڑی محنت سے ایک ایک شہر اور ایک ایک گاؤں میں  جا کر تاریخی روایتیں اکٹھی کیں اور اس پر کتابیں لکھیں۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے یہ کتب  دوسری صدی کے نصف آخر میں لکھی گئی ہوں گی۔ انہوں نے روایات کی تفتیش و تنقید بالکل نہ کی بلکہ جو کچھ ملا، اسے لکھ لیا۔  یہی وجہ ہے کہ واقدی کو ماہرین جرح و تعدیل نے نہایت ہی ناقابل اعتماد اور غیر ثقہ قرار دیا ہے۔  واقدی کی تصانیف مرور ایام کی نذر ہو گئیں اور ہم تک نہیں پہنچیں تاہم ان کی روایات بعد کے دور کی تصانیف کا حصہ بن گئیں۔

واقدی کے بارے میں احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ یہ کذاب ہے۔ ابن معین انہیں ثقہ نہیں سمجھتےاور کہتے ہیں کہ ان کی روایت کبھی نہ لکھو۔ بخاری اور ابو حاتم انہیں متروک قرار دیتے ہیں۔ ابن المدینی، ابوحاتم اور نسائی کہتے ہیں کہ یہ روایتیں گھڑا کرتے تھے۔ دارقطنی کہتے ہیں کہ ان میں ضعف پایا جاتا ہے۔ ابن المدینی  کہتے ہیں کہ یہ صاحب تیس ہزار ایسی احادیث سنایا کرتے تھے جو کہ بالکل ہی اجنبی تھیں۔ [2] خطیب بغدادی نے واقدی سے متعلق نقل کیا ہے کہ انہوں نے جنگ احد کے واقعے کو  بیس (بروایت دیگر سو) جلدوں میں بیان کیا۔ اب چند گھنٹوں میں ہونے والی جنگ احد کو اگر بیس جلدوں میں بھی بیان کیا جائے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ فاضل مصنف نے اس میں کیا کچھ اکٹھا کر دیا ہو گا۔ [3]

تاریخ  کی کتب میں واقدی کی روایات کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایسی روایات،  جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی منفی بات ہو، ان میں سے اکثر کی سند میں واقدی موجود ہوتے ہیں۔  اس وجہ سے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ واقدی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کے بارے میں متعصب تھے۔  اس کے برعکس بعض شیعہ اہل علم جیسے ابن الندیم (d. 385/995)کا کہنا ہے کہ واقدی میں تشیع پایا جاتا تھا مگر وہ تقیہ کر کے خود کو اہل سنت میں ظاہر کرتے تھے۔ [4]

علی بن محمد المدائنی (135-225/752-840)

یہ بھی دوسری صدی کے مورخ ہیں۔ مذکورہ بالا ابن الندیم ، جو کہ اپنے زمانے کی لائبریری سائنس کے ماہر تھے اور انہوں نے اپنے زمانے تک کی کتب کی ایک مفصل فہرست تیار کی ہے، نے  مدائنی کی 239 تصانیف  کے نام گنوائے ہیں۔ ان کی یہ تصانیف بھی باقی نہیں رہیں تاہم ان کی بیان کردہ روایات کا بڑا حصہ تیسری صدی کی کتب کا حصہ بن گیا۔

جرح و تعدیل کے مشہور ماہر ابن عدی ان کے بارے  کہتے ہیں: "یہ حدیث کے معاملے میں قوی نہیں ہیں، اخباری ہیں اور ان کی روایات میں سے کم ہی ہیں جن کی سند مکمل ہے۔" یحیی بن معین نے البتہ انہیں  ثقہ قرار دیا ہے۔ [5] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مدائنی تاریخ میں ایک قابل اعتماد راوی سمجھے گئے ہیں مگر حدیث میں نہیں۔ بذات خود قابل اعتماد تھے لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ جن لوگوں سے روایت کر رہے ہیں، وہ قابل اعتماد اور ثقہ ہیں یا نہیں۔

ابو مخنف لوط بن یحیی  (d. 170/787)

یہ دوسری صدی کے مشہور ترین مورخ ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بنو امیہ سے متعلق جتنی بھی منفی نوعیت کی روایتیں ملتی ہیں، ان کا غالب حصہ انہی سے مروی ہے۔ جنگ صفین، واقعہ تحکیم، سانحہ کربلا، سانحہ حرہ اور اس کے بعد کے واقعات کا زیادہ تر حصہ تاریخ طبری میں انہی سے مروی ہے۔ دارقطنی نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے، ابن معین کہتے ہیں کہ یہ کچھ نہیں ہیں، ابن عدی نے انہیں غالی شیعہ قرار دیا ہے۔  [6]  ابن عدی کا کہنا یہ بھی ہے کہ ابو مخنف بہت ہی دل جلے شیعہ تھے۔ [7]

مناسب رہے گا کہ ابو مخنف کے متعلق ہم اہل تشیع کی رائے پیش کر دیں۔ ابو مخنف کے متعلق اہل تشیع کے ایک مصنف قمر بخاری صاحب لکھتے ہیں:

ابو مخنف كا نام، لوط بن يحيٰ بن سعيد بن مخنف بن سُليم ازدی ہے۔  ان كا اصلی وطن كوفہ ہے اور ان كا شمار دوسری صدی ہجری كے عظيم محدثين اور مورخين ميں ہوتا ہے۔ انہوں نے پيغمبر اسلام صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم كی رحلت كے بعد سے اموی حكومت كے آخری دور تك كے اہم حالات و واقعات پر كتابيں لکھیں، جيسے كتاب المغازى، كتاب السقيفہ، كتاب الردہ، كتاب فتوح الاسلام، كتاب فتوح العراق، كتاب فتوح خراسان، كتاب الشوريٰ، كتاب قتل عثمان، كتاب الجمل، كتاب صفين، كتاب مقتل أمير المؤمنين،  كتاب مقتل الحسن (عليہ السلام) كتاب مقتل الحسين (عليہ السلام) ۔۔۔

جو مجموعی طور پر اٹھائیس  كتابيں ہيں اور ان كی تفصيل علم رجال كی كتابوں ميں موجود ہے۔ ليكن ان ميں سے اكثر كتابيں ہماری دسترس ميں نہيں ہيں البتہ ان كتابوں كے کچھ مطالب ان كے بعد لکھی جانے والی كتابوں ميں روايت ابی مخنف كے عنوان سے موجود ہيں مثلاً تاريخ طبرى ميں ابو مخنف سے مجموعی طور پر پانچ سو سے زيادہ روایتيں موضوعات پر نقل ہوئی ہيں اور ان نقل شدہ روايات ميں سے اكثر كا تعلق،  جو کہ تقريباً ايك سو چھبیس روايتيں ہيں،  حضرت علی عليہ السلام كے دوران حكومت كے حالات و واقعات سے ہے۔ ايك سو اٹھارہ روايتيں واقعۂ كربلا اور ايك سو چوبيس روايتيں حضرت مختار كے قيام كے بارے ميں ہيں۔۔۔۔

اگر چہ ان كی تاريخ ولادت معلوم نہيں ہے ليكن ان كی تاريخ وفات عام طور سے سن 157 ہجری قمری نقل كی گئی ہے۔  ان كی تاريخ ولادت معلوم نہ ہونے كی وجہ سے بعض علماء رجال غلط فہمی كا شكار ہوئے ہيں۔ بعض نے انہيں امام علی عليہ السلام، امام حسن عليہ السلام، اور امام حسين عليہ السلام كا صحابی كہا ہے، جب كہ بعض علماء نے انہيں امام جعفر صادق عليہ السلام كا صحابی جانا ہے۔  جيسا كہ شيخ طوسی عليہ الرحمہ نے "كشّى" سے نقل كيا ہے كہ ابو مخنف،  امام علی عليہ السلام امام حسن عليہ السلام اور امام حسين عليہ السلام كے اصحاب ميں سے ہيں۔ ليكن ان كا خود يہ نظريہ نہيں ہے بلكہ ان كا كہنا ہے كہ ابو مخنف كے والد "یحیی" امام علی عليہ السلام كے صحابی تھے جب كہ خود ابو مخنف (لوط) نے آپ كا زمانہ نہيں دیکھا ہے۔۔۔۔ جو بات يقينی ہے وہ يہ كہ ابو مخنف كے پر دادا "مخنف بن سليم" رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام كے اصحاب ميں سے تھے اور آپ كی طرف سے شہر اصفہان كے گورنر مقرر ہوئے اور جنگ جمل كے دوران حضرت علی عليہ السلام كی فوج ميں قبيلہ ازد كے دستہ كی سالاری كے فرائض انجام ديتے ہوئے اس جنگ ميں شہادت كے درجہ پر فائز ہوئے۔

اہل تشيع كی علم رجال سے متعلق كتابوں سے يہ بات روشن ہے كہ ابو مخنف ايك قابل اعتماد شخص تھے، شيخ نجاشی ان كے بارے ميں كہتے ہيں كہ ابو مخنف كوفہ كے بزرگ راويوں كے شيوخ (اساتذہ) ميں سے ہيں ان كی روايت پر اعتماد كيا جاسكتا ہے۔ شيخ طوسی نے اپنی علم رجال كی كتاب ميں انہيں امام جعفر صادق عليہ السلام كا صحابی كہا ہے۔  شيخ عباس قمی نجاشی جيسی عبارت نقل كرنے كے بعد فرماتے ہيں:  ابو مخنف عظيم شيعہ مورخين ميں سے ايك ہيں۔  نيز آپ فرماتے ہيں كہ ابو مخنف كے شيعہ مشہور ہونے كے باوجود طبرى، اور ابن اثير ، جيسے علماء اہل سنت نے ان پر اعتماد كيا ہے، آقا بزرگ تہرانى نجاشی كی چند عبارتيں نقل كرنے كے بعد فرماتے ہيں: "ان كے شيعہ مشہور ہونے كے باوجود علمائے اہل سنت جيسے طبری اور ابن اثير نے ان پر اعتماد كيا ہے بلكہ ابن جرير كی كتاب تاريخ الکبیر تو ابو مخنف كی روايات سے پر ہے۔ آيت اللہ خوئی نے بھی انہيں ثقہ كہا ہے اور شيخ طوسی (رح) سے ابو مخنف تك جو سند ہے اسے آپ نے صحيح جانا ہے ۔

ليكن بعض علماء اہل سنت نے ان كے شيعہ ہونے كا ذكر كرتے ہوئے ان كی روايت كو متروك قرار ديا ہے اور بعض افراد نے ان كے شيعہ ہونے كا ذكر كئے بغير ان كی روايت كو ضعیف كہا ہے جيسا كہ یحیی  بن معين كا كہنا ہے: ابو مخنف ليس بشئ  یعنی ابو مخنف قابل اعتماد نہيں ہيں۔  اور ابن ابی حاتم نے یحیی  بن معين كا قول نقل كيا ہے كہ وہ ثقہ نہيں ہيں۔ اور دوسروں سے بھی اس بات كو نقل كيا ہے كہ وہ "متروك الحديث" ہيں۔

ابن عدی، یحیی بن معين كا قول نقل كرنے كے بعد كہتا ہے كہ گذشتہ علماء بھی اسی بات كے قائل ہيں، (يوافقہ عليہ الائمہ) اس كے بعد وہ كہتا ہے كہ ابو مخنف ايك افراطی قسم كے شيعہ ہيں، ان كی احاديث كی سند نہيں ہے ان كی احاديث كی سند نہيں ہے ان سے ايسی ناپسنديدہ اور مكروہ روايات نقل ہوئی ہيں جو نقل كرنے كے لائق نہيں ۔

ذہبی كا كہنا ہے كہ وہ متروك ہيں اور دوسری جگہ پر كہا ہے كہ ابو مخنف نے مجہول افراد سے روايت نقل كی ہے۔ دار قطنی كا قول ہے كہ ابو مخنف ايك ضعيف اخباری ہيں۔ ابن حجر عسقلانی كا كہنا ہے كہ ان پر اطمينان نہيں كيا جاسكتا ہے۔ پھر بعض علماء كا قول نقل كرتا ہے كہ ابو مخنف قابل اعتماد اور مورد اطمينان نہيں ہيں ۔

ليكن ابن نديم كا ان كے بارے ميں كہنا ہے كہ ميں نے احمد بن حارث خزار كے ہاتھ سے لکھی ہوئی تحرير ميں دیکھا ہے كہ علماء كا كہنا ہے، كہ ابو مخنف كی عراق اور اس كی فتوحات سے متعلق روايات سب سے زيادہ اور سب سے بہتر ہيں، جس طرح سے خراسان، ہندوستان اور فارس كے بارے ميں مدائنى، حجاز و سيرت كے بارے ميں واقدى، اور شام كی فتوحات كے بارے ميں ان تينوں كی معلومات يكساں ہيں۔ يہ عبارت ياقوت حموی نے بھی اپنی كتاب "معجم الادباء" ميں ذكر كی ہے۔ مجموعی طور پر اكثر علماء اہل سنت نے يحييٰ بن معين كے قول كا سہارا لے كر ابو مخنف كو غير ثقہ قرار ديا ہے۔

شيخ طوسی كا اپنی كتاب "فہرست" ميں اور نجاشی كا اپنی كتاب "رجال" ميں ان كے مذہب كے بارے ميں كوئی رائے پيش نہ كرنا،   ان كے شيعہ ہونے كی طرف اشارہ ہے۔  جيسا كہ بيان كيا جاچكا ہے كہ شيخ عباس قمی اور آقا بزرگ تہرانى نے واضح طور پر ان كے شیعہ ہونے كو بيان كيا ہے بلكہ يہاں تك كہا ہے كہ ان كا شیعہ ہونا مشہور ہے ليكن آقا خوئی نے اپنی كتاب "معجم رجال الحديث" ميں ان كے شيعہ يا غير شیعہ ہونے كو بيان كئے بغير انہيں ثقہ كہا ہے۔

اكثر علماء اہل سنت نے ان كے شیعہ ہونے كے بارے ميں كوئی اشارہ نہيں كيا۔  يہاں تك كہ ابن قتیبہ اور ابن نديم نے شیعہ افراد كے لئے ايك الگ باب تحرير كيا ہے ليكن ابو مخنف كے نام كا وہاں ذكر نہ ہونا ان كے غير شیعہ ہونے كو ظاہر كرتا ہے۔ علماء اہل سنت ميں سے ابن ابی الحديد وہ ہے جو اس بات كا قائل ہے كہ ابو مخنف كا شمار محدثين ميں ہوتا ہے اور وہ امامت پر اعتقاد رکھتے تھے، ليكن ان كا شمار شیعہ راويوں ميں نہيں ہوتا۔ صاحب قاموس الرجال اقوال پر تنقيد كرنے كے بعد فرماتے ہيں كہ ابو مخنف كی روايت ان كے متعصب نہ ہونے كی وجہ سے قابل اعتماد ہے ليكن ان كے شیعہ ہونے كے بارے ميں كوئی رائے پيش نہيں كی جاسكتی۔

لہٰذا ان كے مذہب كے بارے ميں بحث كرنے كا كوئی خاص عملی فائدہ نہيں ہے ليكن اگر ابو مخنف كی روايات پر غور و فكر كيا جائے جو اكثر سقیفہ، شوريٰ، جنگ جمل، جنگ صفین ، مقتل امام حسين عليہ السلام سے متعلق ہيں تو آپ اس نتيجہ پر پہنچیں گے كہ وہ شیعی افكار كے مالك تھے ، البتہ ممكن ہے كہ ان كی روايات ميں بعض مطالب ايسے پائے جاتے ہوں جو كامل طور پر شیعہ عقيدہ كے ساتھ مطابقت نہ رکھتے ہوں۔  ليكن ہميں چاہيے كہ ہم ابو مخنف كے دور زندگی كو بھی پيش نظر ركہيں كيونكہ بعض اوقات ائمہ معصومين عليہم السلام بھی تقیہ كی وجہ سے ايسے مطالب بيان كرتے تھے جو اہل سنت كے عقيدہ كے مطابق ہوا كرتے تھے اور يہ بات بھی قابل غور ہے كہ وہ ايك معتدل شخص تھے جس كی وجہ سے اہل سنت كی اكثر كتابوں ميں ان كی روايات كا مشاہدہ كيا جاسكتا ہے۔۔۔۔

ابو مخنف كی روايات كے متن كے صحيح يا غلط ہونے كے بارے ميں فيصلہ كرنا آسان كام نہيں ہے كيونكہ ابو مخنف كو تاريخی روايات نقل كرنے والوں ميں ايك بنيادی حيثيت حاصل ہے،  لہٰذا دوسری روايات كے پيش نظر ان كی روايت كے صحيح يا غلط ہونے كا فيصلہ نہيں كيا جاسكتا۔  اس لئے كہ تاريخ كے تمام راوی جيسے ہشام كلبى، واقدى، مدائنى، ابن سعد وغيرہ يہ سب ان كے دور كے بعد سے تعلق ركہتے ہيں اور اسی كے مرہون منت ہيں۔[8]

بخاری صاحب کی ان تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے علماء رجال کے نزدیک ابو مخنف ایک بڑے شیعہ عالم  اور مورخ تھے اور ان کے پڑدادا مخنف بن سلیم نے  حضرت علی  رضی اللہ عنہ کے دور میں جنگوں میں حصہ لیا تھا۔ ایسے تمام تاریخی واقعات ، جن کے بارے میں اہل سنت اور اہل تشیع کے مابین اختلاف ہے،  تقریباً سب کے سب کی تفصیلات ابو مخنف ہی سے مروی ہیں۔ اس وجہ سے ان معاملات میں ابو مخنف کی روایات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ مدعی اپنے نقطہ نظر کے حق میں خود گواہ نہیں بن سکتا ہے۔  راوی کی حیثیت گواہ کی ہوتی ہے۔ اگر مدعی خود  ہی گواہ بن جائے تو کون سی عدالت اس کی گواہی کو قبول کرے گی؟

یہ بات درست نہیں ہے کہ صرف یحیی بن معین نے ہی ابو مخنف کو ناقابل اعتماد قرار دیا ہے اور  اہل سنت کے بقیہ اہل علم ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ خود بخاری صاحب کے اقتباس میں متعدد علمائے اہل سنت کے اقوال درج ہیں جو ابو مخنف کو قابل اعتماد نہیں سمجھتے ہیں۔  ہم بھی میزان الاعتدال اور لسان المیزان سے متعدد ماہرین جرح و تعدیل کے اقوال نقل کر چکے ہیں  جن کے مطابق علمائے اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ابو مخنف قابل اعتماد نہیں ہیں۔ طبری، ابن اثیر اور دیگر مورخین کا ان کی روایات کو اپنی کتب میں جگہ دینا ، اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ ابو مخنف کو قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ ہم آگے چل کر بیان کریں گے کہ خود ان مورخین نے اپنی کتب کے بارے میں یہ کہا ہے کہ ہم نے واقعات کی تحقیق نہیں کی ہے بلکہ انہیں صرف نقل کیا ہے۔ صحیح غلط کی ذمہ داری ان راویوں پر ہے جن کے نام ہم نے سند میں دے دیے ہیں۔طبری اور دیگر مورخین کی حیثیت بات کو آگے نقل کرنے والے کی ہے۔ انہوں نے ہرگز یہ دعوی نہیں کیا ہے کہ جن راویوں کی روایات کو انہوں نے  اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے، وہ سب کے سب قابل اعتماد تھے اور ان کی بیان کردہ ہر ہر روایت کو قبول کر لیا جائے۔ 

محمد بن سائب الکلبی (d. c. 180/795)

یہ بھی دوسری صدی ہجری کے مورخ ہیں اور ان کا تعلق بھی ابو مخنف ہی کی پارٹی سے ہے۔ محمد بن سائب الکلبی کے بارے میں مشہور امام سفیان ثوری کہتے ہیں: "کلبی سے بچو۔" کہا گیا: "آپ بھی تو ان سے روایت کرتے ہیں؟" کہا: "میں اس کے سچ اور جھوٹ کو پہچانتا ہوں۔" سفیان ثوری کہتے ہیں کہ کلبی نے مجھ سے کہا: "میں ابو صالح سے جتنی روایتیں بیان کرتا ہوں، وہ سب جھوٹ ہیں۔" اعمش کہا کرتے تھے: "اس سبائی سے بچو، میں نے دیکھا ہے کہ لوگ اس کا نام جھوٹوں میں لیتے ہیں۔" احمد بن زہیر کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا: "کیا کلبی کی تفسیر کو دیکھنا جائز ہے؟" انہوں نے کہا: "نہیں۔" ابن معین کہتے ہیں: "کلبی ثقہ نہیں ہے۔"

جوزجانی نے کلبی کو "کذاب" اور دارقطنی نے متروک قرار دیا ہے۔  مشہور محدث ذہبی کہتے ہیں کہ اس کا کتاب میں ذکر کرنا درست نہیں ہے تو پھر اس سے روایت قبول کیسے کی جائے۔ [9]

ہشام بن محمد بن سائب الکلبی (d. 204/819)

یہ انہی کلبی صاحب کے بیٹے تھےاور اپنے والد سے روایات لیا کرتے تھے۔  بڑے عالم اور اخباری گزرے ہیں تاہم محدثین نے ان پر اعتماد نہیں کیا ہے۔  دارقطنی نے انہیں متروک قرار دیا ہے۔ ابن عساکر انہیں ثقہ نہیں سمجھتے۔ 150 کتب کے مصنف تھے۔   [10] تاریخ طبری کا اگر مطالعہ کیا جائے تو ہشام کلبی کی بہت سی روایات، ابو مخنف ہی سے منقول ہیں۔ بعض ایسی روایات ہیں جنہیں ہشام نے ابو مخنف کے علاوہ کسی اور راوی سے بھی روایت کیا ہے۔ ہشام کے پڑدادا اور محمد بن سائب کے دادا جنگ جمل اور صفین میں باغی پارٹی کا حصہ تھے۔  ہشام سے ان کے بیٹے عباس بن ہشام اکثر روایت کرتے ہیں جو اسی خاندان کا حصہ ہیں۔

سیف بن عمر التیمی (d. c. 185/800)

یہ صاحب کثیر تاریخی روایات کے راوی ہیں اور اس فن پر انہوں نے کتابیں بھی لکھی ہیں۔ یحیی بن معین انہیں ضعیف قرار دیتے ہیں۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ ان کی روایات کی کوئی حقیقت نہیں۔ ابو حاتم نے انہیں متروک قرار دیا ہے۔ ابن عدی کہتے ہیں کہ ان کی عام روایات "منکر" ہیں۔ ابن حبان بیان کرتے ہیں کہ ان پر زندیق ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ [11] ایسی بہت سی روایات، جو حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانے میں خلفائے راشدین کی منفی تصویر پیش کرتی ہیں، سیف بن عمر ہی سے منقول ہیں۔  بعض اہل علم کا خیال ہے کہ سیف بن عمر کی ان روایتوں کو قبول کیا جا سکتا ہے، جن میں  صحابہ کرام کی کردار کشی نہ کی گئی ہو اور وہ عہد صحابہ کے سیاسی مسائل سے ہٹ کر ہوں۔ [12]

دوسری صدی کے علم تاریخ پر مجموعی تبصرہ

یہ سب دوسری صدی ہجری کے مشہور مورخین ہیں لیکن ان کی کوئی کتابیں براہ راست ہم تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کتابوں کے اکثر مندرجات بعد کی بڑی کتب کا حصہ بن گئے، جس کی وجہ سے لوگوں کو اس کی ضرورت محسوس نہ ہوئی کہ پہلے کی کتابوں کو الگ سے محفوظ  رکھا جا سکے۔ موجودہ دور میں بعض حضرات نے خاص کر ابو مخنف  کی روایات کو تاریخ طبری اور دیگر کتابوں سے اخذ کر کے الگ کتاب کی صورت میں شائع کیا ہے۔

اوپر بیان کردہ تفصیلات میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ  سوائے ایک آدھ کے، دوسری صدی ہجری کے اکثر بڑے مورخین قابل اعتماد نہیں ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب  دو قسم کے ایسے محرکات (Motives)ظہور پذیر ہوئے جن کی بنیاد پر تاریخ کو جان بوجھ کر مسخ کیا گیا:

 پہلا محرک سیاسی تھا۔ بنو امیہ نے تقریباً نوے برس (40-132/660-750) حکومت کی۔  دوسری صدی ہجری کے اوائل میں ان کے خلاف بنو ہاشم کی تحریک پیدا ہوئی جس کا مقصد یہ تھا کہ امویوں کو ہٹا کر ان کی جگہ ہاشمیوں  کا اقتدار قائم کیا جائے۔ یہ تحریک تین عشروں تک پھلتی پھولتی رہی اور بالآخر 132/750 میں یہ کامیاب ہوئی۔ اس کے نتیجے میں امویوں کی حکومت ختم ہوئی اور ان کی جگہ بنو عباس کا اقتدار قائم ہوا۔ ہم اپنے دور کے بارے میں جانتے ہیں  کہ سیاستدان کس طرح ایک دوسرے بالخصوص حکمرانوں کی کردار کشی کرتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ  ان حکمرانوں کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکا  کر خود اقتدار پر قبضہ کیا جائے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ بنو ہاشم کے طرف داروں نے کیا اور بنو امیہ کو demonize کر کے ان کی نہایت ہی مسخ شدہ تصویر  پیش کی۔  یہی تصویر تاریخی روایتوں کا حصہ بن کر کتب تاریخ میں داخل ہوئی۔  حضرت عثمان، معاویہ، مروان، عبدالملک بن مروان اور دیگر اموی حکمرانوں کی خاص طور پر کردار کشی کی گئی۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد بنو ہاشم میں پھوٹ پڑ گئی اور یہ عباسی اور علوی کیمپوں میں تقسیم ہو گئے۔  یہ لوگ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کی اولادوں سے تھے۔ اقتدار چونکہ بنو عباس کے ہاتھ میں آیا، اس وجہ سے  انہیں علویوں کی مخالفت  کا سامنا کرنا پڑا۔ عباسی دور میں جب تاریخ کی کتب لکھی گئیں تو ایسی بہت سی روایات ان کا حصہ بن گئیں جن میں حضرت علی  اور ان کے صاحبزادوں حسن و حسین کی کردار کشی تھی۔ اگرچہ امت کے اہل علم میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے ایسی روایتوں کے جھوٹ کا پردہ چاک کیا جن میں حضرت عثمان، علی، معاویہ رضی اللہ عنہم اور دیگر اکابرین امت کی کردار کشی تھی تاہم یہ روایتیں کتب تاریخ میں داخل کر دی گئیں۔ بہرحال ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تاریخ کی یہ کتب صرف جھوٹ ہی پر مشتمل ہیں کیونکہ انہی تواریخ میں بنو امیہ بالخصوص حضرت عثمان، معاویہ رضی اللہ عنہما اور ولید بن عبد الملک کے مثبت کارنامے بھی ملتے ہیں۔ صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کتب تاریخ میں  ان حضرات کی کردار کشی سے متعلق مخصوص روایات داخل کی گئی ہیں۔

دوسرا محرک مذہبی تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں میں فرقہ بندی ارتقاء پذیر تھی۔ اہل تشیع ایک منظم گروہ کی شکل میں موجود تھے۔ خوارج اگرچہ آخری سانسیں لے رہے تھے مگر پھر بھی مسلم معاشرے کے اندر موجود تھے۔ ایک گروہ ناصبیوں کا بھی تھا ، جو خود کو "شیعان عثمان" کہتے تھے۔ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کے ساتھ تعصب رکھتے تھے۔ ان سب کے علاوہ مین اسٹریم مسلمان تھے جو بعد میں "اہل السنۃ و الجماعۃ" کہلائے۔  یہ وہ مسالک تھے جن کے اختلافات کی بنیاد "تاریخ" تھی۔  تاہم مسلمان ابھی مل جل کر رہتے تھے اور ان فرقہ بندیوں کی حدود اتنی واضح نہیں تھیں۔  اہل تشیع کے ہاں "تقیہ" کا اصول مسلمہ ہے جس کے تحت بہت سے شیعہ راوی، اپنا مسلک ظاہر نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مورخین ایک دوسرے سے روایتیں حاصل کرتے تھے اور پھر انہیں آگے بیان کر دیتے تھے۔

فرقہ وارانہ اختلافات کی عینک سے جب تاریخ کو دیکھا گیا  تو لوگوں نے بہت سی ایسی روایتیں وضع کر دیں جو ان کے نقطہ نظر کی تائید اور فریق مخالف کی تردید پر مبنی تھیں۔  اگر انسان اپنی آنکھوں پر سرخ شیشوں کی عینک لگا لے تو اسے ہر چیز سرخ ہی نظر آتی ہے۔ چنانچہ لوگوں نے جب تاریخ کو اپنے اپنے مسلک کے شیشوں کی عینک سے دیکھا تو انہوں نے تاریخی واقعات کی توجیہ اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صحیح تاریخی روایات میں بھی اس کے اثرات پیدا ہوئے اور واقعات کو توڑ مروڑ کر بیان کیا جانے لگا۔  چونکہ روایات کے تبادلے کا عمل مختلف مسالک کے لوگوں میں جاری تھا، اس وجہ سے اہل تشیع، خوارج  اور ناصبیوں کی  روایات مین اسٹریم مسلمانوں کی کتابوں میں داخل ہو گئیں۔ 

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  جمال الدین المزی (654-742/1256-1342)، تہذیب الکمال  فی اسماء الرجال، راوی نمبر 7057۔  بغداد: موسسہ دار الرسالہ۔

[2]  ایضا، راوی نمبر 7999

[3]  خطیب بغدادی (392-463/1002-1071)۔ تاریخ مدینۃ السلام (بغداد)۔  باب محمد بن عمر الواقدی، نمبر 1203۔ 4/11۔ بیروت: دار الغرب الاسلامی

[4]  خالد کبیر علال۔ مدرسۃ الکذابین فی روایۃ التاریخ الاسلامی و تدوینہ۔ ص 65-66۔ الجزائر: دار البلاغ

[5]  شمس الدین الذہبی۔ میزان الاعتدال فی نقد الرجال ، راوی نمبر 5927۔ بیروت: دار الکتب العلمیہ۔ www.waqfeya.com ac. 11 Dec 2009

[6]  ایضا۔ نمبر6998

[7]  ابن حجر عسقلانی (773-852/1372-1448)۔ لسان المیزان ۔  راوی نمبر 6248۔ بیروت: مکتبہ مطبوعات الاسلامیہ۔

[8]  قمر بخاری۔ مورخ ابی مخنف پر اک نظر۔ 

http://www.alqlm.org/forum/showthread.php?4183-مورخ-ابی-مخنف-پر-ایک-نظر (ac. 19 April 2012)

[9]  ذہبی۔ میزان الاعتدال۔  راوی نمبر 7580

[10]  ایضا، نمبر 9245

[11]  ایضا۔ نمبر 3642

[12]  برزنجی و حلاق۔صحیح التاریخ الطبری۔  3/6۔ دمشق: دار ابن کثیر۔