بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 2: عہد صحابہ کی تاریخ پر تحقیق

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ باب 1 میں اس سلسلے کے کچھ بنیادی تصورات بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے باب 2 سے پہلے باب 1 کا مطالعہ ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

تیسری صدی ہجری میں علم تاریخ

جیسا کہ  ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ  عہد صحابہ کے بڑے بڑے واقعات ہمیں تواتر سے ملتے ہیں لیکن ان کی جزوی تفصیلات کا ذکر انفرادی رپورٹس یا روایات میں ملتا ہے۔  متواتر معلومات کے بارے میں مورخین کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ انفرادی روایات  کے بارے میں ان کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان روایات کو زیادہ تر دوسری صدی ہجری کے چند مورخین نے  مرتب کیا  اور کتابیں لکھیں۔ تیسری صدی ہجری میں جب تاریخی روایات کے بڑے مجموعے مرتب ہوئے تو دوسری صدی ہجری کی یہ کتابیں ان کا حصہ بن گئیں۔ چونکہ اس دور میں کتابیں ہاتھ سے نقل کی جاتی تھیں، اس وجہ سے لوگوں نے بعد کی کتب کو ہاتھ در ہاتھ نقل کیا اور پرانی کتب  غیر ضروری (Obsolete) ہوتی چلی  گئیں۔

تیسری صدی ہجری کی کتب تاریخ اس وجہ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں کہ ہمارے پاس پہلی صدی میں رونما ہونے والے واقعات کی تاریخ سے متعلق جو قدیم ترین مواد موجود ہے، وہ زیادہ تر تیسری صدی ہی میں لکھی گئی کتابوں پر مشتمل ہے۔ اس وجہ سے ہمارے پاس ان کتابوں سے متعلق تفصیلی معلومات ہونی چاہییں۔ جو شخص بھی عہد رسالت یا عہد صحابہ پر تحقیق کرے گا، اسے تیسری صدی کی کتابوں ہی کو اپنا ماخذ بنانا پڑے گا۔ بعد کی صدیوں میں جو کتب تاریخ لکھی گئیں، ان کی بنیاد بھی یہی تیسری صدی کی کتب تھیں۔ یہ بالعموم چار طرح کی کتابیں ہیں:

کتب انساب

ان کتابوں کا مقصد یہ ہے کہ مختلف شخصیات کے نسب نامے اور کارنامے بیان کیے جائیں ۔ چونکہ عربوں کے ہاں نسب کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی اور اسی کی بدولت قبائل کا تشخص قائم تھا، اس وجہ سے علم الانساب  کو دور جاہلیت ہی سے غیر معمولی حیثیت حاصل تھی۔  ہمارے ہاں تو  دیہات میں بھانڈ اور میراثی وغیرہ چوہدریوں کے شجرہ ہائے نسب محفوظ رکھتے ہیں اور محفلوں میں انہیں گاتے ہیں لیکن عربوں کے ہاں جو شخص علم الانساب  کا ماہر ہوتا، اسے معاشرے میں غیر معمولی  احترام کی نظر سے دیکھا جاتا۔   علم الانساب میں ہر ہر خاندان کا نہ صرف شجرہ نسب بلکہ اس کی مشہور شخصیات کے پورے حالات زندگی بیان کیے جاتے۔

یہی وجہ ہے کہ عربوں کا علم الانساب مرتب ہوتا رہا اور اگلی نسلوں کو یہ ذخیرہ صحیح طور پر منتقل ہوا۔  شجرہ نسب اور حالات زندگی کے علاوہ انساب کی کتب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شادیوں کی تفصیلات ملتی ہیں کہ کس کی شادی کس سے ہوئی۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مختلف قبائل اور خاندانوں کے درمیان رشتوں سے ان کے باہمی تعلقات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں مورخین نے بنو ہاشم اور بنو امیہ کے اختلافات کی جو تفصیل بیان کی ہے، اسے علم الانساب کی روشنی میں بآسانی پرکھا جا سکتا ہے۔

علم الانساب پر سب سے مشہور اور جامع کتاب احمد بن یحیی البلاذری  (d. 279/893) کی "انساب الاشراف" ہے۔ کہنے کو تو یہ انساب کی کتاب ہے لیکن اس میں تاریخی معلومات بکثرت موجود ہیں کیونکہ مصنف نے ہر ہر شخصیت کے نسب کے ساتھ اس کے پورے حالات زندگی بیان کر دیے ہیں۔  موجودہ دور میں یہ کتاب بڑے سائز کے پانچ پانچ سو صفحات پر مشتمل 13 جلدوں میں چھپی ہے۔ مصنف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے آغاز کرتے ہوئے نسل در نسل آپ کے ایک ایک رشتے دار کے حالات بیان کیے ہیں۔  پھر آپ کے چچا ابو طالب اور عباس رضی اللہ عنہ کے خاندان کے حالات بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد بنو امیہ، بنو زہرہ،  بنو تیم، بنو مخزوم، بنو عدی  اور قریش کے دیگر خاندانوں کے لوگوں کے حالات بیان کیے ہیں۔  کتاب کی ترتیب انہوں نے اس طرح رکھی ہے کہ  جو خاندان نسب کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  جتنا قریب ہے، اس کے حالات انہوں نے پہلے بیان کیے ہیں۔

بلاذری سے پہلے دوسری و تیسری صدی کے نساب مصعب الزبیری (156-236/773-851) کی کتاب ’’نسب قریش‘‘ نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے بھی قریش کے مختلف قبائل اور خاندانوں کے باہمی رشتوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔  یہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی نسل سے تھے اور امام مسلم نے ان سے روایات قبول کی ہیں۔   ان کی کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں صرف نسب اور رشتوں کو بیان کیا گیا ہے اور تاریخی واقعات بیان نہیں کیے گئے۔ اس وجہ سے اس کتاب کی غیر جانبداری مسلم ہے۔ بعد میں چوتھی صدی میں ابن حزم (384-456/994-1064)کی کتاب ’’جمہرۃ الانساب العرب‘‘ بھی ایک اہم کتاب ہے۔

کتب طبقات

طبقات کی کتابوں میں بھی مشہور شخصیات کے حالات زندگی  ہوتے ہیں جس کے ذیل میں ان شخصیات کےد ور کی تاریخ بیان ہو جاتی ہے لیکن ان کتابوں کی ترتیب طبقہ در طبقہ ہوتی ہے۔ طبقے سے مراد کسی شخص کا Peer Group یا Age Groupہے۔  جیسے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے ابتدائی سالوں میں ایمان لانے والے صحابہ ایک طبقہ میں شمار ہوتے ہیں۔ ہجرت کے بعد اور غزوہ بدر سے پہلے ایمان لانے  والے ایک طبقہ میں، غزوہ بدر و احد کے درمیان ایمان لانے والے ایک طبقہ میں اور اسی طرح مشہور واقعات کے درمیان ایمان لانے والوں کو ایک طبقے میں رکھا جاتا ہے۔  صحابہ کرام کا آخری طبقہ وہ ہے جو فتح مکہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے درمیانی عرصے میں ایمان لایا۔ ا س کے بعد تابعین کے طبقات شروع ہو جاتے ہیں۔

اس اسلوب پر لکھی جانے والی مشہور ترین کتاب محمد بن سعد (d. 230/845) کی "الطبقات  الکبری" ہے۔  ابن سعد اگرچہ خود تو بڑے قابل اعتماد مورخ ہیں مگر وہ محمد بن عمر الواقدی (d. 207/822)کے شاگرد ہیں جنہیں محدثین نے نہایت ہی ضعیف قرار دیا ہے۔ اس وجہ سے ابن سعد  کی وہ روایات جو واقدی کے توسط سے منقول ہیں، قابل اعتماد نہیں مانی جاتی ہیں۔ ابن سعد نے طبقہ در طبقہ صحابہ،  تابعین اور تبع تابعین کے حالات بیان کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی کتاب کو شہر وار مرتب کیا، یعنی ہر ہر شہر کے اندر جو جو طبقات موجود تھے، ان کی ترتیب سے شخصیات کے حالات بیان کیے۔

کتب مغازی

یہ وہ کتب ہیں جن میں جنگوں کے حالات  بیان کیے جاتے ہیں۔ اس قسم کی تاریخ کے سب سے مشہور عالم یہی محمد بن عمر الواقدی ہیں جنہوں نے جنگوں  سے متعلق روایات اکٹھی کیں۔  تیسری صدی میں بلاذری نے "فتوح البلدان" کے نام سے ایک کتاب لکھی جو مختلف شہروں کی فتوحات سے متعلق اہم ترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔

مشہور محدث امام احمد بن حنبل(164-241/780-855)کا کہنا ہے کہ مغازی، تفسیر  اور ملاحم (جنگیں) کی کتابیں بے اصل ہیں۔[1] اس کتاب میں جن واقعات پر ہم تحقیق کر رہے ہیں، ان میں کتب مغازی کی بہت زیادہ اہمیت نہیں ہے۔

کتب تاریخ

اس اسلوب کی کتب میں تاریخی ترتیب (Chronological Order) سے روایات درج کی جاتی ہیں۔ اس سلسلے کی سب سے مشہور کتاب ابن جریر طبری(224-310/838-922) کی  "تاریخ الامم و الملوک" ہے۔  یہ مختصراً "تاریخ طبری" کے نام سے مشہور ہے اور بعد کی کتب تاریخ کا ماخذ بھی ہے۔طبری فن تاریخ میں ایک رجحان ساز (Trend-setter) شخصیت  تھے۔ ان کے بعد اس اسلوب پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں لیکن یہ سب کی سب تاریخ طبری یا انساب و طبقات کی کتب سے ماخوذ تھیں۔ اس وجہ سے انہیں وہ حیثیت حاصل نہیں ہے جو تاریخ طبری کو حاصل ہے۔  طبری سے پہلے خلیفہ بن خیاط (160-240/777-854) اسی اسلوب پر کتاب لکھ چکے تھے مگر جو مقبولیت طبری کو حاصل ہوئی، وہ انہیں حاصل نہیں ہو سکی۔

تیسری صدی کے مشہور مورخین

تیسری صدی ہجری کے مشہور مورخین یہ ہیں:

1۔ محمد بن سعد کاتب الواقدی  (168-230/784-845): یہ طبقات ابن سعد کے مصنف ہیں اور واقدی کے شاگرد اور سیکرٹری تھے۔ ان کی کتاب میں ان کے استاذ واقدی کی روایات بکثرت موجود ہیں جن کے قبول کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

2۔ احمد بن یحیی البلاذری  (d. 279/893): یہ انساب الاشراف  اور فتوح البلدان کے مصنف ہیں۔

3۔ ابن جریر طبری (224-310/838-922): یہ علم تاریخ اور علم تفسیر کی رجحان ساز شخصیت ہیں اور انہوں نے نہایت مفصل تاریخ کو زمانی ترتیب (Chronological Order)سے بیان کیا ہے۔  ہماری اس کتاب کا بنیادی ماخذ یہی تین مصنفین ہیں لیکن اس کے علاوہ ہم نے دیگر ذرائع سے مدد بھی لی ہے۔

طبری کے بارے میں علمائے تاریخ کے مابین یہ اختلاف موجود ہے کہ وہ شیعہ تھے یا نہیں۔ ایک گروہ انہیں شیعہ قرار دیتا ہے اور دوسرے گروہ کا موقف یہ ہے کہ وہ شیعہ نہیں تھے بلکہ ان کے ہم نام ایک اور صاحب محمد بن جریر بن رستم طبری شیعہ تھے جس کی وجہ سے التباس پیدا ہوا۔  شیعہ عالم قمر بخاری کا کہنا ہے کہ اگر چہ طبری سنی مذہب تھے مگر زندگی كے آخری لمحات ميں ان كے تشيع كی طرف مائل ہونے كا احتمال ديا جاسكتا ہے۔[2]

طبری کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں جہاں حضرات ابوبکر، عمر، عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہم  پر تنقید پر مشتمل روایات ملتی ہیں، وہاں ان چاروں حضرات کے فضائل سے متعلق مثبت روایات بھی ان کی کتاب میں پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں اگر روایات ہیں تو ان پر تنقید پر مبنی روایتیں بھی ان کی کتاب میں پائی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ طبری محض ایک مورخ تھے اور انہیں جو کچھ ملا، انہوں نے اسے جمع کر دیا اور تحقیق و تفتیش کی ذمہ داری اگلی نسلوں کے سپرد کر  دی۔

4۔ الجاحظ (159-255/776-869): جاحظ مورخ سے زیادہ ادیب تھے۔ ہمارے ہاں بھی ایسے مصنفین ہوئے ہیں جنہوں نے تاریخی ناول لکھے ہیں۔  ناول نگار یا ادیب کا اصل ہدف تاریخی روایات کی تحقیق و تجزیہ نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو بھی تاریخی واقعہ اسے ملے، وہ اسے نہایت خوبصورت اسلوب میں کہانی کی شکل میں بیان کر دے۔ اس وجہ سے ناولوں اور ادیبانہ تحریروں کو کبھی بھی تاریخ کا مستند ماخذ نہیں سمجھا گیا ہے۔ ہاں ان سے استفادہ ایک عام آدمی کے لیے بہت آسان ہوتا ہے کیونکہ یہ اپنے اسلوب کے اعتبار سے ریڈر فرینڈلی کتابیں ہوتی ہیں۔  تاہم جاحظ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ  انہوں نے اپنی کتب میں تحقیق کی ہے اور "شک اور تنقید" کو بنیادی اہمیت دی ہے۔  علم تاریخ میں انہوں نے علی بن محمد المدائنی (135-225/752-840)کی شاگردی اختیار کی اور اس پر بعض کتابیں بھی لکھیں۔  اس کتاب میں ہم نے ان کی کتاب "العثمانیہ" سے استفادہ کیا ہے۔

5۔ ابن عبد الحکم (187-257/803-871): انہوں نے مصر او رشمالی افریقہ کی تاریخ پر کتابیں لکھیں جو کہ ہماری اس کتاب کے موضوع سے براہ راست متعلق نہیں ہیں۔

6۔ ابن ابی الدنیا (208-281/823-894): یہ ایک بہت بڑے محدث ہیں اور انہوں نے تاریخ پر بھی کتابیں لکھیں۔ ویسے ان کی زیادہ تر کتب کا موضوع تزکیہ نفس ہے۔ ان کی تاریخ سے متعلق کتب ہم تک پہنچ نہیں سکی ہیں۔

7۔ خلیفہ بن خیاط (160-240/777-854): یہ ایک بڑے مورخ ہیں۔ انہوں نے تاریخ پر ایک کتاب لکھی جو "تاریخ خلیفہ بن خیاط" کے نام سے مشہور ہے۔  غالباً یہ پہلی کتاب ہے جو تاریخی ترتیب (Chronological Order) کے مطابق لکھی گئی البتہ اسے وہ مقبولیت حاصل نہ ہوئی جو تاریخ طبری کو حاصل ہوئی۔  اس کی وجہ غالباً یہ رہی ہے کہ یہ نہایت مختصر کتاب ہے اور موجودہ دور کے محض 450 صفحات میں انہوں نے 232 سال کی تاریخ بیان کر دی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے "طبقات" کے موضوع پر بھی کتابیں لکھیں جن میں طبقہ در طبقہ لوگوں کے احوال کے ساتھ تاریخ بھی بیان ہوئی ہے۔

8۔ ابن ہشام (d. 218/834): ابن ہشام کا شمار بڑے مورخین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے محمد بن اسحاق کی لکھی ہوئی سیرت نبوی کی کتاب کا  خلاصہ تحریر کیا جو "سیرت ابن ہشام" کے نام سے مشہور ہے اور اس موضوع پر دستیاب کتابوں میں قدیم ترین ہے۔  ان کی کتاب کا تعلق چونکہ سیرت طیبہ سے ہے، اس وجہ سے ہماری اس کتاب کے موضوع سے یہ براہ راست متعلق نہیں ہے۔

9۔ ابو العباس یعقوبی (d. 284/897): یہ ایک بڑے تاریخ دان اور جغرافیہ دان تھے جن کی کتاب "تاریخ یعقوبی" کے نام سے مشہور ہے۔  یہ ایک شیعہ مورخ تھے۔

10۔ عمر بن شبہ (173-262/789-876): عمر ایک بڑے عالم تھے اور انہوں نے مختلف علوم و فنون پر کتابیں لکھیں۔ تاریخ کے موضوع پر انہوں نے متعدد کتابیں لکھیں جن میں کتاب الکوفہ، کتاب البصرہ، کتاب امراء المدینہ، کتاب امراء المکہ، کتاب السلطان، کتاب مقتل عثمان، کتاب التاریخ وغیرہ نمایاں ہیں۔ انہوں نے علم تاریخ میں ایک نیا رجحان پیدا کیا اور وہ یہ تھا کہ ہر شہر کی الگ تاریخ لکھی جائے۔ اس میں اس شہر کی مشہور شخصیات کا ذکر ہو۔ ویسے تو یہ رجحان طبقات ابن سعد میں بھی پایا جاتا ہے لیکن عمر بن شبہ کے بعد ہر ہر شہر کی تاریخ پر الگ الگ کتابیں لکھی جانے لگیں۔ ان کی بہت سی کتب اب نایاب ہو چکی ہیں تاہم ان کی بہت سی روایات طبری میں موجود ہیں۔

11۔ الامامہ و السیاسۃ کے مصنف: اس کتاب کی نسبت ایک بڑے عالم ابن قتیبہ دینوری (213-276/828-889) کی جانب کی جاتی ہے تاہم یہ نسبت درست نہیں ہے۔ کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مصنف غالی شیعہ ہیں جبکہ ابن قتیبہ کے بارے میں یہ بات معلوم و معروف ہے کہ وہ اہل تشیع کے سخت مخالف تھے۔ ان کی "الامامۃ و السیاسۃ " نامی کسی کتاب کا سراغ کسی اور ماخذ  جیسے فہرست ابن الندیم میں نہیں ملتا ہے اور نہ ہی  اس کتاب کا اسلوب بیان ان کی دیگر کتب سے ملتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ الامامۃ و السیاسۃ کسی شیعہ عالم کی کتاب ہے۔

کیا تیسری صدی ہجری کی لکھی ہوئی کتب تاریخ مستند ہیں؟

اس سوال کا جواب ہاں میں بھی ہے اور نہیں میں بھی کیونکہ  ان کتب تاریخ میں مستند (Authentic) روایات بھی ہیں اور جعلی بھی۔  عام طور پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ تیسری صدی ہجری میں جو کتب لکھی گئیں، ان میں زیادہ زور اس بات پر تھا کہ روایات کو اکٹھا کر لیا جائے اور انہیں سند کے ساتھ بیان کر دیا جائے تاکہ مستقبل کا کوئی مورخ اس سند کی مدد سے تحقیق کر سکے کہ روایت مستند ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کس درجے میں ہے۔ اگرچہ روایات پر تنقید اور چھان بین کے عمل کا آغاز تیسری صدی ہجری کے نصف سے شروع ہو چکا تھا لیکن تاریخی روایات کی زیادہ چھان بین  نہیں کی گئی۔ اس دور کے ناقدین نے اپنی ترجیحات یہ متعین کیں کہ جن روایات میں کوئی دینی مسئلہ ہو، ان کی چھان بین پہلے کر لی جائے۔  تاریخی روایات کی جانچ پڑتال کا معاملہ کچھ دیر سے شروع ہوا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مورخین نے جعلی روایتوں کو اپنی کتب میں درج ہی کیوں کیا؟ یہ بات ہم جانتے ہیں کہ کوئی مصنف جب کتاب لکھتا ہے تو وہ اپنے زمانے کے لوگوں کی علمی اور ذہنی سطح ہی کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھتا ہے۔  آج ہم جو کتب لکھ رہے ہیں، ہم زیادہ سے زیادہ اگلے پچاس سو برس کے قارئین کی علمی و ذہنی سطح  کو ہی مدنظر رکھ سکتے ہیں۔ سن 2500 یا 3000 کے قارئین کی علمی و ذہنی سطح کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے اور نہ ہی اس کے مطابق کتاب لکھ سکتے ہیں۔ تیسری صدی کے مورخین نے بھی جب کتب لکھیں تو ان کے پیش نظر ہم لوگ نہیں تھے بلکہ ان کے اپنے دور کے قارئین  تھے۔  یہ لوگ پہلی دو صدیوں کے کم از کم مشہور راویوں اور مورخین سے اچھی طرح واقف تھے۔ اگر ان کے سامنے مثلاً واقدی یا ابو مخنف یا ہشام کلبی کی کوئی روایت پیش کی جاتی  تو یہ قارئین جانتے تھے کہ ان حضرات کا علمی مقام کیا ہے اور ان کی روایتوں پر کس درجے میں اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح  سے وہ بآسانی یہ معلوم کر لیتے کہ قابل اعتماد روایت کون سی ہے اور ناقابل اعتماد کون سی۔

کتب تاریخ میں مستند اور جعلی روایتوں کے  درج ہونے سے متعلق جو بات ہم نے کہی ہے، وہ اپنی جانب سے نہیں کی بلکہ خود ان مورخین نے یہی بات کہی ہے۔ ابن جریر طبری اپنی تاریخ کے مقدمہ (Preface) میں لکھتے ہیں:

قارئین کتاب کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ میں نے جو اخبار و آثار (روایتیں) اس کتاب میں نقل کیے ہیں، اس میں میرا اعتماد انہی روایات پر ہے جنہیں میں نے ذکر کیا ہے اور جن کے ساتھ ان کی سندیں بھی موجود ہیں۔ اس میں وہ حصہ بہت ہی کم ہے جنہیں میں نے عقلی دلائل کے ادراک اور وجدانی استنباط کے بعد ذکر کیا ہے کیونکہ گزشتہ واقعات کی خبروں کا نہ ذاتی طور پر ہمارا مشاہدہ ہے اور نہ وہ زمانہ ہی ہم نے پایا ہے۔ ان کا علم ہمیں صرف ناقلین اور راویوں کی بیان کردہ خبروں ہی سے ہو سکتا ہے نہ کہ عقلی دلائل اور وجدانی استنباط سے۔ پس ہماری کتاب میں جو بعض ایسی روایات ہیں، جنہیں ہم نے پچھلے لوگوں سے نقل کیا ہے، ان کے بارے میں اگر اس کتاب کے پڑھنے یا سننے والے اس بنا کر کوئی برائی یا عجیب پن محسوس کریں کہ اس میں انہیں صحت (Authenticity) کی کوئی وجہ اور معنی میں کوئی حقیقت نظر نہ آئے، تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے انہیں خود اپنی طرف سے درج نہیں کیا ہے بلکہ ان کا ماخذ وہ ناقل (نقل کرنے والے) ہیں جنہوں نے وہ روایات ہمیں بیان کیں۔ ہم نے وہ روایات اسی طرح بیان کر دی ہیں جس طرح ہم تک پہنچیں۔[3]

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود طبری کا نقطہ نظر یہ نہیں ہے کہ "مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔" ان تک جو روایتیں پہنچیں، انہوں نے انہیں آگے نقل کر دیا۔ اب یہ قارئین کا کام ہے کہ وہ ان روایتوں کی سند اور متن کا تجزیہ کر کے ان کی چھان بین کریں۔  موجودہ دور میں تین عرب علماء محمد بن طاہر البرزنجی، محمد صبحی حسن حلاق اور شیخ یحیی ابراہیم یحیی  نے پوری کی پوری تاریخ طبری پر تحقیق کر کے اس کی صحیح اور ناقابل اعتماد روایتوں کو الگ کر دیا ہے۔ ان کی کتاب کا نام ہے: "صحیح و ضعیف تاریخ الطبری۔" اس کتاب کو 2007 میں دار ابن کثیر، بیروت نے شائع کیا ہے اور یہ www.waqfeya.com پر دستیاب ہے۔ ہم نے اس کتاب سے بہت استفادہ کیا ہے۔

کیا امت کے اہل علم نے دوسری صدی کے مورخین پر اندھا اعتماد کیا ہے؟

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب طبری اور دیگر مورخین نے ابو مخنف، ہشام کلبی، واقدی اور سیف بن عمر وغیرہ کی روایتیں نقل کی ہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ان پر اعتماد کیا ہے۔ پھر ہم ان پر اعتماد کیوں نہ کریں؟ یہ بات درست نہیں ہے کہ امت کے اہل علم نے دوسری صدی کے مورخین جیسے ابو مخنف، ہشام کلبی، واقدی اور سیف بن عمر پر  اندھا اعتماد کیا ہے۔ جیسا کہ آپ طبری کے اقتباس میں دیکھ سکتے ہیں کہ انہوں نے خود بیان کر دیا ہے کہ ان کی  حیثیت محض بات کو نقل کرنے والے اور مواد کو مہیا کر دینے والے کی سی ہے۔  انہوں نے ہر روایت کے ساتھ اس کی سند دے دی ہے۔ اب یہ قارئین کا کام ہے کہ وہ چھان بین خود کریں۔

یہ بالکل اسی طرح ہے کہ  جیسے آج کمپیوٹر کے دور میں کوئی ادارہ تمام تاریخی روایات کا ایک انسائیکلو پیڈیا تیار کرے۔ اب یہ ادارہ ایسا نہیں کرے گا کہ کتب تاریخ میں کانٹ چھانٹ شروع کر دے بلکہ تمام تاریخی روایات کو، جیسا کہ وہ ہم تک پہنچی ہیں، اس انسائیکلو پیڈیا میں  درج کرے گا۔ پھر اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ہر ہر روایت پر تبصرہ بھی شامل کتاب کر دیا جائے گا کہ یہ کس درجے میں مستند ہے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس ادارے کے نزدیک یہ تمام روایات قابل اعتماد ہیں۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  عسقلانی۔ لسان المیزان۔ خطبۃ الکتاب۔ 1/207۔

[2]  قمر بخاری۔ مورخ ابی مخنف پر اک نظر۔ حوالہ بالا۔

[3]  طبری۔  مقدمہ۔ 1/17