بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 2: عہد صحابہ کی تاریخ پر تحقیق

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ باب 1 میں اس سلسلے کے کچھ بنیادی تصورات بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے باب 2 سے پہلے باب 1 کا مطالعہ ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

قرون وسطی اور دور جدید میں علم تاریخ

قرون وسطی کی مشہور عربی کتب تاریخ کون سی ہیں؟

تیسری صدی ہجری کے بعد کے دور کی تاریخ کی کتب میں ایک رجحان یہ پیدا ہوا کہ سند کو حذف کیا جانے لگا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ روایات کی صورت میں بیان کردہ واقعات میں عبارت کی روانی اور تسلسل برقرار نہیں رہ پاتا تھا۔ مثلاً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعے کو لیجیے۔ روایات کی شکل میں اگر اسے بیان کیا جائے تو ایک راوی اس کا آغاز باغی تحریک کے ارتقاء سے کرتے ہیں اور پھر واقعات بیان کرتے کرتے اپنی روایت کو آپ کی شہادت پر ختم کرتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرے راوی کا بیان شروع ہوتا ہے جو مثلاً باغیوں کی مدینہ آمد سے آغاز کرتے ہیں۔ پھر تیسرے راوی کا بیان شروع ہوتا ہے۔ قارئین کو اس طرز کی کتابوں سے شدید نوعیت کی بوریت محسوس ہوتی ہے کیونکہ ان میں مضامین کی بہت تکرار پیدا ہو جاتی ہے اور بسا اوقات یہ روایات ایک دوسرے کے متضاد تصویر پیش کر رہی ہوتی ہیں۔

چوتھی صدی ہجری سے ایسی کتابوں کا آغاز ہوا جن میں تاریخ کو ایک مسلسل بہاؤ (Stream)کی صورت میں  بیان کیا جائے۔ ان کتابوں کو ادیبانہ اسلوب میں ناول یا کہانی کی طرح لکھا جانے لگا جن سے ان کا مطالعہ آسان ہو گیا لیکن دوسری طرف ان کی استنادی حیثیت (Authenticity) کمزور پڑ گئی۔ جن مصنفین نے یہ اہتمام کیا کہ واقعات کے ساتھ، سابقہ کتب کا حوالہ دے دیا جائے، ان کی کتابیں پھر بھی مستند مانی جاتی ہیں۔

اس دور میں ایک مسئلہ یہ بھی ہوا کہ مورخین نے ماخذ کی چھان بین (Source Criticism) کے عمل کو یا تو بالکل ہی نظر انداز کر دیا یا پھر اس کا استعمال بہت کم کیا۔  اسی طرح متن کی چھان بین (Internal and External Criticism and Historical Reasoning) کا عمل بھی انہوں نے بہت ہی کم کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ واقدی، ابو مخنف، سیف بن عمر اور ہشام کلبی کی سچی جھوٹی روایتیں اس طرح نقل ہونے لگیں کہ گویا وہ سچ ہیں۔ بعد کی صدیوں میں تاریخ پر جو کتابیں لکھی گئیں، ان میں ایک تبدیلی یہ بھی آئی کہ سند کو غیر ضروری سمجھ کر حذف کیا جانے لگا۔ اس طرح ماخذ کی چھان بین کا رواج سرے سے ختم ہو کر رہ گیا۔ مناسب ہو گا کہ ہم بعد کی صدیوں کے مشہور مورخین اور ان کی کتب تاریخ کا تعارف بھی کروا دیں تاکہ قارئین کو ان کتابوں کی صحت (Authenticity) کے بارے میں علم ہو سکے۔

1۔  علی بن حسین مسعودی (d. 346/957): مسعودی ایک بڑے شیعہ عالم اور سیاح تھے۔ انہوں نے ایک نہایت ہی مفصل تاریخ لکھی۔ قمر بخاری صاحب لکھتے ہیں:

يہ كتاب علی بن حسين مسعودی (وفات 346 ہجري) نے لکھی ہے، ممكن ہے كہ وہ شيعہ اثنا عشری ہوں مگر اس بات كا اندازہ "مروج الذہب" ميں موجود مطالب سے نہيں لگايا جاسكتا بلكہ اس سے فقط ان كے مذہب شيعہ كی طرف مائل ہونے كا اندازہ لگايا جاسكتا ہے يہ كتاب مقامات كے سفر كر كے نہايت تحقيق اور جستجو كے بعد لکھے جانے كی وجہ سے كافی اہميت كی حامل ہے، انہوں نے اپنی كتاب ميں ابو مخنف كا بہت ذكر كيا ہے۔[1]

چونکہ اہل تشیع کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ایک خاص موقف ہے، اس وجہ سے تاریخ کے باب میں ان کا بیان معتبر نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔

2۔ ابن عبد البر (368-463/979-1071): یہ پانچویں صدی ہجری کے عالم ہیں۔ انہوں نے "الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب" کے نام سے سیرت صحابہ پر ایک مفصل کتاب لکھی۔ انہوں نے اس کتاب میں بیان کردہ واقعات کی سند بیان نہیں کی، اس وجہ سے ہم نہیں جانتے کہ عہد صحابہ اور ابن عبد البر کے درمیان چار سو سال میں ان روایات میں کیا چیز داخل کر دی گئی ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کتاب مستند نہیں سمجھی گئی۔ ابن عبد البر کی کتاب میں بیان کردہ جو واقعات ان سے پہلے کی کتابوں میں پائے جائیں، ان کی تحقیق کر کے ان کے مستند ہونے کو پرکھا جا سکتا ہے لیکن وہ واقعات، جو ان سے پہلے کی کتابوں میں درج نہیں ہیں، سرے سے ہی غیر مستند ہیں۔ محدثین نے اس کتاب کے بارے میں اس رائے کا اظہار کیا ہے:

ابن عبد البر کی الاستیعاب بڑی جلیل القدر اور کثیر الفوائد کتاب ہوتی اگر اس میں صحابہ کرام کے اختلافات سے متعلق روایات، محدثین کی بجائے اخباری لوگوں سے نہ لی جاتیں۔ اخباری (مورخین) عام طور پر واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور اپنی بیان کردہ چیزوں کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔ [2]

3۔ ابن الاثیر الجزری (555-630/1160-1233): یہ ساتویں صدی ہجری کے مشہور مورخ ہیں اور ان کا تعلق الجزائر سے ہے تاہم ان کا وقت موصل، عراق میں بھی گزرا ہے۔ انہوں نے دو کتابیں لکھیں جو ہمارے موضوع سے متعلق ہیں۔ ایک "الکامل فی التاریخ" اور دوسری "اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ۔" پہلی زمانی ترتیب کے مطابق  لکھی اور دوسری سیرت  صحابہ سے متعلق۔ انہوں نے دونوں کتابوں میں سند کا اہتمام نہیں کیا جس کی وجہ سے ان کی کتب کی حیثیت مشکوک  ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ عہد صحابہ کے چھ سو برس بعد کے مورخ ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ ان روایات کے ساتھ چھ سو برس میں کیا کچھ ہو چکا ہے۔ ان کی بیان کردہ جو روایتیں تیسری صدی کی کتب میں سند کے ساتھ مل جائیں، ان پر تحقیق تو کی جا سکتی ہے لیکن جو روایتیں ان میں بھی نہ ملیں، ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی۔ اپنی کتاب "الکامل" سے متعلق وہ خود بیان کرتے ہیں:

میں یہ تو نہیں کہتا ہوں کہ تاریخ سے متعلق تمام واقعات میں نے جمع کر دیے ہیں ۔ اس لیے کہ موصل شہر میں رہنے والے ایک شخص کو مشرق و مغرب میں ہونے والے تمام واقعات کا علم کیسے ہو سکتا ہے۔  میں یہ دعوی بھی نہیں کرتا کہ میں نے اپنی کتاب میں وہ سب کچھ اکٹھا کر دیا ہے جو پہلے کسی ایک کتاب میں نہیں ہے۔ جس شخص کو (کسی واقعےکی) صحت کے بارے میں شک ہو (تو میں اپنے طریقے کی تفصیل بیان کرتا ہوں۔) میں نے ابو جعفر طبری کی التاریخ الکبیر سے آغاز کیا ہے۔ یہ وہ واحد کتاب ہے جس پر  میں نے اعتماد کیا ہے اور اس کی اکثر روایات کو بیان کر دیا ہے۔ طبری میں (ایک ہی واقعے کی) جو متعدد روایات ہیں، انہیں میں نے کچھ کمی بیشی کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ میرا ارادہ تھا کہ ان روایات میں جو کمی پائی جاتی ہو ، اسے پورا کر دیا جائے اور اس میں ان معلومات کا اضافہ کر دیا جائے جو طبری نے بیان نہیں کی ہیں۔ میں نے ہر واقعے کے بیان کی روایات کے تمام طرق (Versions) کو اکٹھا کر کے اسے ایک مسلسل واقعے کی شکل میں بیان کیا ہے۔

مشہور تاریخی کتب میں جو کچھ بیان ہوا ہے، اسے اکٹھا کرنے کے بعد میں نے اس میں ان روایات کا اضافہ کر دیا ہے جو تاریخ طبری میں نہیں پائی جاتی ہیں اور ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھ دیا ہے سوائے اس کے کہ جو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان واقعات پیش آئے۔ ان کے معاملے میں میں نے ابو جعفر (طبری) کی منقول روایات کے علاوہ کسی اور چیز کا اضافہ نہیں کیا سوائے اس کے کہ کچھ تفصیلات کا اضافہ ہو ، یا کسی انسان کا نام ہو، یا کوئی ایسی بات ہو جس پر کوئی اعتراض نہ کیا گیا ہو۔  میں نے مورخین میں انہی لوگوں پر اعتماد کیا ہے جو کہ ماہر ہوں، سچا عقیدہ رکھتے ہوں  اور علم کو جمع کرتے ہوں۔ میں نے مذکورہ تواریخ اور مشہور کتب کے علاوہ کہیں اور سے کچھ نقل نہیں کیا ہے۔ ان مورخین کے سچائی کے ساتھ نقل کرنے اور صحت کے ساتھ مدون کرنے کا معاملہ معروف ہے۔ میں اس شخص کی طرح نہیں ہوں جو رات کی تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں مارے  اور نہ ہی اس کی طرح ہوں جو کہ  پتھر اور کنکریاں جمع کرے۔ [3]

ابن اثیر کے اپنے بیان سے واضح ہے کہ ان کی حیثیت محض ناقل کی ہے۔ انہوں نے اپنی طرف سے کوشش کی ہے کہ مشہور کتب تاریخ سے مواد اکٹھا کیا جائے اور اس معاملے میں پوری دیانتداری سے کام لیا ہو گا۔ تاہم جیسے کمپیوٹر سائنسز  کی مثل مشہور ہے کہ Garbage in garbage out، بالکل اسی طرح اگر ابن اثیر کے مآخذ میں کوئی الٹی سیدھی اور غیر مستند روایت  تھی تو انہوں نے اسے بھی ٹھیک ٹھیک منتقل کر دیا ہے۔  اس وجہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابن اثیر کی اپنی کتاب کی استنادی حیثیت (Authenticity) کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے جو روایات تاریخ طبری  اور کسی اور مشہور کتاب سے اخذ کی ہیں، ان کی سند کو طبری وغیرہ سے دیکھ کر تحقیق کرنی چاہیے۔ ابن اثیر کی ایسی روایتیں جو طبری یا کسی اور قدیم ماخذ میں نہیں ہیں، کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں ہے۔  ہمارے ہاں جو لوگ واقعہ بیان کر کے فٹ نوٹ میں ابن اثیر کا حوالہ دے دیتے ہیں، ان کا یہ طرز عمل درست نہیں ہے۔ اگر واقعہ کے بارے میں کوئی شک پایا جائے تو اس کی سند اور متن کی پوری تحقیق ضروری ہے۔

4۔ ابن عساکر (499-571/1106-1175): یہ چھٹی صدی کے بڑے عالم ہیں۔ انہوں نے شام کی تاریخ پر  ایک مفصل کتاب لکھی جو کہ 80 جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب "تاریخ مدینہ دمشق" کے نام سے مشہور ہے۔  اس کتاب میں انہوں نے شام میں رہنے والے اور یہاں سفر کر کے آنے والے ہزاروں لوگوں کے حالات زندگی سند کے ساتھ بیان کیے ہیں۔

4۔ ابن کثیر (701-774/1301-1372): ابن کثیر آٹھویں صدی کے مشہور عالم ہیں اور ان کی کتاب "البدایہ و النہایہ" کو بعد کی صدیوں میں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ یہ مشہور عالم ابن تیمیہ (661-728/1263-1327) کے شاگردتھے۔  ابن کثیر  نے تاریخ طبری  ہی کو بنیاد بنایا ہے اور جہاں طبری میں بیان کردہ روایات پیش کی ہیں، وہاں اس سے مختلف تصویر پیش کرنے والی روایات بھی دیگر کتب حدیث اور تاریخ سے اکٹھی کر دی ہیں۔ اس طرح سے انہوں نے نہایت غیر جانبداری کے ساتھ تصویر کے دونوں رخ پیش کیے ہیں۔  بعض حضرات ابن کثیر سے کوئی روایت  پیش کر کے یہ دعوی کر دیتے ہیں کہ یہ روایت بہت ہی مستند ہے کیونکہ ابن کثیر نے اسے نقل کر دیا ہے۔ یہ دعوی اس وجہ سے درست نہیں ہے کیونکہ ابن کثیر خود ان روایات کو درست نہیں سمجھتے ہیں اور اپنی کتاب میں کئی جگہ پر اس نوعیت کا تبصرہ انہوں نے ان روایات پر کیا ہے:

جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے، اس کا بعض حصہ محل نظر ہے۔ اگر ابن جریر (طبری) وغیرہ حفاظ اور ائمہ نے اس کا ذکر نہ کیا ہوتا تو میں اسے بیان نہ کرتا۔  اس کا اکثر حصہ ابو مخنف لوط بن یحیی کی روایت سے ہے جو کہ شیعہ تھا اور ائمہ کے  نزدیک واقعات بیان کرنے میں ضعیف (ناقابل اعتماد) ہے۔ لیکن چونکہ وہ اخباری اور (خبروں کا) محفوظ کرنے والا ہے اور اس کے پاس ایسی چیزیں ہیں جو اس کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں ہیں، اس وجہ سے اس کے بعد کے کثیر مصنفین نے اس پر کڑی تنقید کی ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔ [4]

اس سے ظاہر ہے کہ کسی روایت کو مستند ثابت کرنے کے لیے محض اتنا کہہ دینا کافی نہیں  ہے کہ ابن کثیر نے اسے نقل کیا ہے بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ ابن کثیر نے اس روایت کو کس کتاب سے نقل کیا ہے۔ پھر اس کتاب میں اس روایت کی سند دیکھی جائے گی اور پھر تاریخی تنقید کے اصولوں کے تحت فیصلہ کیا جائے گا۔

5۔ ابن خلدون (732-808/1332-1405): ابن خلدون علوم انسانیات کے بہت بڑے ماہر تھے۔ انہیں علم بشریات (Anthropology) اور عمرانیات (Sociology) کا بانی کہا جاتا ہے۔ مسلم علماء میں سے جن چند شخصیات کو اہل مغرب کے ہاں غیر معمولی اہمیت دی گئی، ان میں سے ایک ابن خلدون ہیں۔ دنیا بھر کی بہت سی یونیورسٹیوں میں ان کے نام پر چیئرز قائم ہیں  اور کئی اداروں کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی تاریخ کا جو شہرہ آفاق  "مقدمہ" لکھا، اس میں تاریخ سے زیادہ بشریات اور عمرانیات سے متعلق مواد موجود ہے۔ ابن خلدون کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تاریخ کو محض نقل  کر دینے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ واقعات کا عمرانی تجزیہ کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ جس دور سے وہ واقعہ منسوب ہے، اس کے مجموعی حالات (Ethos) میں اس واقعے کا ہونا عقلاً ممکن ہے بھی یا نہیں۔ پچھلے باب میں ہم نے تاریخی تنقید کے جو اصول بیان کیے ہیں، اگرچہ وہ ابن خلدون سے پہلے دریافت ہو چکے تھے مگر تاریخ پر ان کا بڑے پیمانے پر اطلاق ابن خلدون ہی نے کیا ہے۔  تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انہوں نے جو تجزیہ کر دیا ہے، وہ حرف آخر ہے اور اس پر نظر ثانی نہیں ہو سکتی ہے۔ اس کتاب میں ہم نے بھی ایک حد تک ابن خلدون کے بیان کردہ انہی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی ہے۔

چوتھی صدی ہجری میں مسلمانوں کے ہاں تاریخ کی بنیاد پر  فرقہ بندی اپنے عروج کو پہنچی اور یہ تقسیم گہری ہوتی چلی گئی۔ اس سے پہلے تمام مسلمان، خواہ ان کے سیاسی اور تاریخی نظریات کچھ بھی ہوں، اکٹھے نماز پڑھتے تھے اور مل جل کر رہتے تھے۔ اگلے دو تین سو برس میں  یہ تقسیم گہری ہوتی چلی گئی اور ان فرقوں میں باہم مناظرے بازی نے جنم لیا۔ ان مناظروں میں یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق روایات پیش کی جائیں۔ چھٹی ساتویں صدی ہجری تک علمی و ذہنی سطح تبدیل ہو چکی تھی اور مختلف علوم میں بہت وسعت پیدا ہو چکی تھی۔ اب عام پڑھے لکھے شخص کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ  سابقہ صدیوں کے ہر بڑے راوی کے بارے میں  معلومات رکھ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں روایات کی تنقید کے عمل نے زور پکڑا۔ چوتھی صدی ہی میں  روایات کی تنقید اور راویوں کے حالات سے متعلق فنون پر کتابیں لکھی جانے لگیں۔ پانچویں ، چھٹی اور ساتویں صدی میں ان کتابوں میں موجود معلومات کو یکجا (Amalgamation) کر کے جامع ترین انسائیکلو پیڈیا  تیار ہوئے۔ اس کے بعد ساتویں اور آٹھویں صدی میں تاریخی روایتوں کی چھان بین بھی کی جانے لگی۔ اس زمانے میں بڑے بڑے تاریخی نقاد پیدا ہوئے جن میں ابن کثیر(701-774/1301-1372)، ابن خلدون (732-808/1332-1405)اور ابن حجر عسقلانی (773-852/1371-1448)نمایاں تھے۔

ہم جانتے ہیں کہ جب کوئی ٹرینڈ کسی معاشرے میں جاری ہو تو نیا ٹرینڈ آ جانے سے پرانا ٹرینڈ یک دم  ختم نہیں ہو جاتا ہے۔ مثلاً ہمارے دور میں کمپیوٹر کی ایجاد سے پرنٹنگ پریس کا دور ختم نہیں ہوا ہے۔ اسی طرح پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بھی پانچ سو سال بعد تک ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابیں  چلتی رہی ہیں۔ بالکل اسی طرح تیسری صدی ہجری کے مورخین نے جو ٹرینڈ شروع کیا تھا کہ  ہر طرح کی روایت کو اکٹھا کر لیا جائے، بہرحال جاری رہا۔ ابن عبد البر (368-463/979-1071) اور ابن اثیر (555-630/1160-1233) کی کتابیں اسی رجحان کے مطابق لکھی گئیں۔ تاہم پانچویں صدی میں آ کر ایک تبدیلی یہ پیدا ہوئی کہ سند کو  غیر ضروری سمجھ کر حذف کیا جانے لگا تاکہ عبارت کا تسلسل برقرار رہے۔یہ ایک نہایت ہی خطرناک رجحان ثابت ہوا اور اس کے نتیجے میں بہت سی روایات بغیر کسی چھان بین  کے مورخین میں عام رواج پا گئیں۔

دسویں صدی سے لے کر چودھویں صدی ہجری تک پانچ سو برس کا زمانہ مسلمانوں کے ہاں علمی جمود ، شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کا دور ہے۔ اگرچہ بڑی علمی شخصیات اس دور میں بھی پیدا ہوتی رہی ہیں جنہوں نے تاریخی روایات کا ناقدانہ جائزہ لیا، لیکن اہل علم کی اکثریت بس اسی کو کافی سمجھتی رہی ہے کہ قرون وسطی میں لکھی ہوئی کتابوں کے مندرجات کو محض  اس وجہ سے قبول کر لیا جائے کہ اسے کسی بڑے عالم نے اپنی کتاب میں درج کیا ہے۔ چنانچہ کسی بات کو مقبول بنانے کے لیے یہ کہنا ہی کافی ہو گیا کہ ابن اثیر، ابن کثیریا ابن خلدون نے اسے اپنی کتب تاریخ میں درج کیا ہے۔

اب پندہرویں صدی ہجری یا اکیسویں صدی عیسوی میں اس رجحان میں تبدیلی آ رہی ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ایجاد نے مسلم نوجوانوں کے ذہنوں کو وسیع کرنے کے عمل کا آغاز کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سابقہ چودہ صدیوں کا علمی ریکارڈ انٹرنیٹ پر بلا معاوضہ دستیاب ہو چکا ہے۔ لوگوں میں دینی علم کو سیکھنے ، آن لائن کتابیں پڑھنے اور اندھی تقلید اور شخصیت پرستی سے ہٹ کر معاملات کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کا رجحان پرورش پا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سابقہ مورخین کے کام کو کافی نہ سمجھیں بلکہ فن تاریخ کے مسلمہ اصولوں کے تحت روایات کا تنقیدی جائزہ لے کر ہی کسی بات کو قبول یا رد کریں۔

اردو کی کتب تاریخ کون سی ہیں؟

اردو زبان میں کتابیں لکھے جانے کی تاریخ بہت قدیم نہیں ہے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کے اواخر میں اردو زبان ، ایک علمی زبان کے طور پر ابھرنا شروع ہوئی اور انیسویں صدی کے وسط میں اس میں کتابیں لکھی جانے لگیں۔ اردو میں تاریخ پر زیادہ تر کام بیسویں صدی میں ندوۃ العلماء اور دار المصنفین اعظم گڑھ کے اداروں میں ہوا۔ ان دونوں اداروں کے بانی مولانا شبلی نعمانی (1857-1915) تھے۔ جن ندوی علماء نے اسلام کے اولین دور کی تاریخ لکھی ان میں شاہ معین الدین ندوی نمایاں تھے۔ اسی دور میں مولانا اکبر شاہ خان نجیب آبادی (1875-1938) نے بھی اپنی کتاب "تاریخ اسلام" لکھی۔ شیعہ عالم جسٹس امیر علی (1849-1928)نے اس موضوع پر انگریزی میں دو کتابیں Short History of Saracens اور Spirit of Islam لکھیں جن کے اردو ترجمے شائع ہوئے۔

ان تمام اہل علم نے اپنی تواریخ لکھتے ہوئے قرون وسطی کی  کتب تاریخ جیسے تاریخ ابن اثیر، ابن کثیر، ابن عبد البر ، ابن خلدون اور اسی نوعیت کے دیگر مآخذ پر انحصار کیا۔ بہت کم ہی ایسا ہوا ہے کہ اردو یا انگریزی کے کسی مورخ نے ابتدائی صدیوں کی کتب تاریخ  میں جا کر واقعات کے اصل مآخذ کی جانچ پڑتال (Source Criticism) سے کام لیا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تاریخی اعتبار سے بالکل ہی گئی گزری روایات کو اس طرح بیان کیا جانے لگا کہ یہ گویا کہ بالکل ہی سچے اور حقیقی واقعات ہیں۔  اکبر شاہ صاحب نے اپنی کتاب میں ایک حد تک درایت (Internal Criticism)کے اصولوں سے کام لیا ہے، تاہم تمام واقعات کے بارے میں انہوں نے یہ روش اختیار نہیں کی ہے اور بہت سے واقعات کی تحقیق کیے بغیر  انہیں سابقہ مورخین پر اعتماد کرتے ہوئے بیان کر دیا ہے۔

بہت سے اہل علم نے جزوی طور پر بعض واقعات جیسے شہادت عثمان، عہد معاویہ  اور شہادت حسین رضی اللہ عنہم کے بارے میں  کتابیں لکھی ہیں اور ان میں تاریخی تنقید کے اصولوں سے کام لیا ہے تاہم ابھی تک کوئی ایسی کتاب ہماری نظر سے نہیں گزر سکی جس میں مصنف نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پورے دور سے متعلق واقعات کی چھان بین کی ہو۔ اردو کے تاریخی لٹریچر میں موجود اس خلا  نے ہمیں یہ کتاب لکھنے پر مجبور کیا ہے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  قمر بخاری، ایضا۔

[2]  ابن صلاح، مقدمہ ۔ النوع 39: معرفۃ الصحابہ۔ 485۔ قاہرہ: دار المعارف۔

[3]  ابن الاثیر(d. 630/1233)۔ الکامل فی التاریخ۔ 1/6-7۔ بیروت: دار الکتب العلمیہ۔ www.waqfeya.com (ac. 11 Dec 2009)

[4]  ابن کثیر 11/577