بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 2: عہد صحابہ کی تاریخ پر تحقیق

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ باب 1 میں اس سلسلے کے کچھ بنیادی تصورات بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے باب 2 سے پہلے باب 1 کا مطالعہ ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

صحابہ کرام کی کردار کشی

اس سیکشن میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کون سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کردار کشی کی گئی اور اس کے اسباب کیا تھے؟اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ دیکھیں گے کہ یہ کردار کشی کن لوگوں نے کی اور یہ روایتیں تاریخ کی کتابوں میں منتقل کیسے ہوئیں؟ 

کردار کشی کی مہم کے اسباب بنیادی طور پر تین قسم کے تھے: سیاسی، مذہبی اور قبائلی۔ ہم ان کی تفصیل بیان کرتے ہیں:

1 ۔سیاسی اسباب

تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی اور دوسری صدی ہجری میں حکومت وقت کے خلاف متعدد باغیانہ تحریکیں اٹھیں۔  ان تحریکوں کی یہ ضرورت تھی کہ عوامی حمایت حاصل کی جائے۔ اس کے علاوہ انہیں اپنے کارکنان  کے جذبات کو مشتعل کرنے  کی ضرورت تھی۔  ان باغیانہ تحریکوں کے قائدین کو یہ کام آسان لگا کہ ماضی کی شخصیتوں کا نام استعمال کر کے لوگوں کی حمایت حاصل کی جائے اور ان کے جذبات کو مشتعل کیا جائے۔

اس مقصد کے لیے جس ہستی کے نام کو سب سے زیادہ استعمال کیا گیا، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ذات تھی۔ ایک پارٹی نے آپ سے غیر معمولی عقیدت کا اظہار کیا اور آپ کی شخصیت کو ایک دیوتا کی سی حیثیت  دینے (Idolization)کی کوشش کی۔ بعض لوگوں نے آپ کو صحابہ کرام میں سب سے افضل قرار دیا تو بعض نے آپ کا درجہ نبی بلکہ اس سے بھی بلند کرنے کی کوشش کی۔ بعض افراد نے آپ کو خدا کا اوتار قرار دیا اور بعض نے یہ کہا کہ آپ کے اندر خدا حلول کر گیا تھا۔   اس کے برعکس مخالف  پارٹیوں نے آپ کی کردار کشی (Demonization) کی کوشش کی اور آپ کو جلیل القدر صحابی کے درجے  سے اتار کر آپ پر معاذ اللہ  کفر کا فتوی عائد کیا یا پھر آپ کو قاتل  عثمان بنانے کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ جن صحابہ کرام کا اختلاف رائے حضرت علی کے ساتھ ہوا، انہیں بھی مختلف پارٹیوں نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق ہیرو یا ولن بنانے کی کوشش کی۔ ان میں خاص طور پر حضرت طلحہ، زبیر، عائشہ، معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ ان کے علاوہ خلفائے ثلاثہ حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی کردار کشی کی گئی۔ 

بعینہ یہی معاملہ سانحہ کربلا کے ساتھ ہوا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کے واقعات سنا کر چونکہ لوگوں کے جذبات مشتعل کر کے تحریک اٹھانا آسان تھا، اس وجہ سے اس پورے واقعے کو رومانوی رنگ (Romanticizing) دے دیا گیا۔ اس کے برعکس حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی حکومت کی قربانی دے کر مسلمانوں میں جو اتحاد پیدا کیا، اسے بالکل نظر انداز کر دیا گیا کیونکہ باغیانہ تحریکوں کے لیے اس میں کوئی ایسی مثال  موجود نہ تھی جس سے وہ لوگوں کے جذبات کو ابھار سکتے۔ جن لوگوں کو حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے کسی وجہ سے بغض تھا، انہوں نے ان حضرات کی کردار کشی بھی کی۔

ہم یہ دیکھتے ہیں کہ  خاص کر ان حضرات کی کردار کشی کی گئی ہے جو کسی نہ کسی درجے میں سیاسی امور میں شریک رہے۔ ایسے صحابہ جو سیاست سے دور رہے، کے بارے میں ہمیں بہت ہی کم کردار کشی پر مبنی روایات ملتی ہیں۔ مثلاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں تنقیدی روایات مل جاتی ہیں لیکن ان کے صاحبزادے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں ایسی کوئی روایت نہیں ملتی۔ اسی طرح  حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی کردار کشی کی گئی ہے لیکن انہی کے عابد و زاہد فرزند عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا سبھی احترام کرتے ہیں۔

انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ  اپنے مفادات کی عینک سے دنیا کو دیکھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر جھوٹ سے بھی کام چلا لیتا ہے۔ دنیاوی اور دینی معاملات سبھی  میں ایسا ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے دور کا جائزہ لیں تو ایسا ہی نظر آتا ہے۔ جو لوگ بھی سیاست کے میدان میں اترتے ہیں، ان کی اخبارات بھی جی کھول کر کردار کشی کرتے ہیں لیکن ایسے لوگ جو خاموشی سے علمی مشاغل یا عبادت میں مشغول رہتے ہیں ، ان کے بارے میں ایسا نہیں ہوتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ  چھوٹی موٹی مساجد کے امام صاحبان محفوظ رہتے ہیں جبکہ بڑی بڑی مساجد کے ائمہ کے خلاف سازشیں کر کے انہیں معزول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکومت اور  کاروباری اداروں کے چھوٹے موٹے ملازمین کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتا مگر بڑے بڑے عہدوں پر فائز  لوگوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

2۔ مذہبی اسباب

صحابہ کرام کی کردار کشی کے مذہبی محرکات بھی انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ جن لوگوں کو اسلام سے نفرت تھی اور انہوں نے مجبوراً اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، نے اسلام کو بدنام کرنے کا ایک طریقہ یہ نکالا کہ جلیل القدر صحابہ کی کردار کشی کی جائے تاکہ اسلام کو بدنام کیا جا سکے۔ اس میں خاص کر عبداللہ بن سبا  اور اس کی پارٹی کے لوگ نمایاں تھے۔  نویں صدی کے مشہور محدث ابن حجر عسقلانی (773-852/1371-1448) ، ابو زرعۃ الرازی کا یہ قول نقل کرتے ہیں:

جب آپ کسی ایسے شخص کو دیکھیں  جو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی کی کردار کشی کرتا ہے تو جان لیجیے کہ وہ شخص زندیق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں، قرآن برحق ہے اور جو کچھ حضور لائے ہیں ، حق ہے۔ یہ سب کچھ ہم تک صحابہ کرام ہی کے واسطے سے پہنچا ہے تو ان صحابہ پر اعتراض کرنے کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے گواہوں کو مجروح کریں تاکہ اس طرح قرآن اور حدیث ہی کو بے کار بنا کر رکھ دیں۔ اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ خود ایسے لوگوں کو قابل اعتراض اور مجروح قرار دیا جائے۔ [1]

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کردار کشی کا یہ مذہبی محرک ابتدائی صدیوں میں نمایاں رہا ہے۔ اسلام نے جزیرہ نما عرب اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں پر غلبہ پا لیا تھا، اس وجہ سے یہاں پر  پہلے سے موجود مذاہب کے لوگوں میں ایک بے چینی پائی جاتی تھی کیونکہ وہ اسلام کو اپنے مذاہب کے لیے خطرہ محسوس کر رہے تھے۔  ان میں خاص کر عرب کے قدیم مشرکانہ دین، یہودیت، مجوسیت اور مانی ازم کے لوگ نمایاں تھے۔ ان لوگوں نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنے تئیں یہ کوشش کی کہ  وہ بظاہر مسلمانوں کے لبادے میں سامنے آئیں اور  اسلام سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کریں۔  عربوں میں یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ارتداد کی تحریک پیدا کی اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت برپا کی۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں انہی لوگوں نے فتنہ و فساد برپا کیے رکھا۔

پہلی صدی ہجری میں ان میں صرف ایک شخصیت ایسی ہے جو غیر معمولی طور پر نمایاں ہے اور اس کا نام ہے عبداللہ بن سبا۔ اس کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ایک یہودی خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور اس نے خاص کر اسی مقصد کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اسلام قبول کیا اور عبادت و ریاضت سے اپنا سکہ مسلمانوں پر جمانے کی کوشش کی۔ اس نے مختلف شہروں میں ڈیرہ ڈال  کر  یہ کوشش کی کہ حکومت وقت کے خلاف ایک باغیانہ تحریک پیدا کر دی جائے اور اس کے لیے اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام کو خوب استعمال کیا۔ موجودہ دور کے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ابن سبا  کوئی حقیقی نہیں بلکہ محض ایک افسانوی شخصیت تھی۔ اس موضوع پر ہم تفصیل سے آگے گفتگو کریں گے۔

دوسری صدی ہجری میں جب بنو عباس برسر اقتدار آئے تو ان کے ساتھ ایران اور خراسان کے باشندوں کو خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان میں قدیم ایرانی  مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے۔ انہوں نے پہلی صدی ہجری کی باغی تحریک  کے ساتھ تعلق قائم کیے اور  ان کے ساتھ مل کر ایسی روایتیں وضع کیں جن کا مقصد ہی یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کردار کو مجروح کر کے ان پر سے امت کا اعتماد اٹھایا جائے۔  چونکہ صحابہ کرام ہی کے ذریعے قرآن اور حدیث امت تک پہنچی ہے، اس وجہ سے ان پر اعتماد اٹھ جانے کا نتیجہ یہ ہوتا کہ لوگوں کا قرآن و حدیث پر ہی اعتماد اٹھ جاتا۔ چنانچہ کثیر تعداد میں روایتیں گھڑی گئیں اور انہیں مسلمانوں میں پھیلایا گیا۔ دوسری صدی کے مورخین  کے بارے میں ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ ان کی غالب اکثریت ایسی تھی جو ہر قسم کے رطب و یابس کو قبول کر لیتی تھی۔ انہوں نے ان روایتوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اپنی کتب تاریخ کا حصہ بنا لیا۔ ان سے یہ روایتیں تیسری صدی ہجری کی کتب تاریخ میں آئیں اور وہاں سے بعد کی صدیوں کی کتب تاریخ کا حصہ بن گئیں۔

ایسا نہیں ہے کہ ان لوگوں کا یہ داؤ کامیاب ہو گیا ہو۔ اللہ تعالی نے چونکہ اپنے دین کی حفاظت کرنا تھی، اس وجہ سے اس نے محدثین کی صورت میں اس فتنہ کا سدباب کر دیا۔ انشاء اللہ مسلمانوں کی علمی تاریخ کے ضمن میں ہم تفصیل سے بیان کریں گے کہ اس موقع پر محدثین میں ایک عجیب تحریک پیدا ہوئی اور وہ یہ تھی کہ حدیث کو بیان کرنے والے راویوں کے حالات کا سراغ لگایا جائے اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ یہ لوگ کس درجے میں قابل اعتماد تھے۔ اس کے لیے جو غیر معمولی محنت ان محدثین نے کی، اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اب جانتے ہیں کہ عہد رسالت اور عہد صحابہ سے متعلق معلومات کے قابل اعتماد مآخذ کون سے ہیں اور ناقابل اعتماد کون سے۔  اگرچہ محدثین کا فوکس احادیث کے راویوں پر تھا لیکن انہوں نے  اسی کے ضمن میں تاریخی روایات کے راویوں سے متعلق بھی اہم معلومات ہم تک پہنچا دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کی روایتیں گھڑنے کے باوجود امت نے بحیثیت مجموعی صحابہ کرام کے بارے میں ان روایات کو قبول نہیں کیا اور آج بھی امت کی غالب اکثریت سبھی صحابہ سے دل و جان سے محبت کرتی ہے۔

3۔ قبائلی اسباب

اس کے علاوہ ایک اور فیکٹر بھی ایسا ہے جس کی وجہ سے بعض مخصوص لوگوں کی کردار کشی کی گئی جن میں سے بعض صحابہ ہیں اور بعض تابعین۔ ہم جانتے ہیں کہ مختلف عرب قبائل میں ایک دوسرے دشمنیاں پائی جاتی تھیں۔ ان میں بنو کلاب، بنو طے، بنو ازد، بنو نخع، بنو کندہ وغیرہ وہ قبائل تھے جو عراق کی فتح کے بعد بصرہ اور کوفہ میں جا کر آباد ہو گئے تھے۔ ان کی باہمی چپقلش اسلام کے بعد بھی جاری رہی۔ جب راویوں نے تاریخی روایات بیان کرنا شروع کیں تو انہوں نے قبائلی دشمنی میں اپنے مخالف افراد کے نام مختلف جرائم کے ضمن میں بیان کر دیے۔  حضرت عثمان کی شہادت ہو یا حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی، جنگ جمل ہو یا جنگ صفین، سانحہ حرہ ہو یا کوئی اور واقعہ۔۔۔ راویوں نے اپنے مخالف قبائل اور ذیلی قبائل  کو بدنام کرنے کے لیے  ان کے نام جھوٹ منسوب کیا۔ اس وجہ سے تاریخی روایات  کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے  یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ جس شخص کی کردار کشی کی جا رہی ہے، اس کے قبیلے اور راوی کے قبیلے میں کوئی دشمنی تو نہیں تھی؟  اس کے لیے عرب قبائل کے باہمی تعلقات اور تاریخی شخصیات اور راویوں کے شجرہ نسب کا مطالعہ نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس کے لیے انساب کی کتب سے بہت مدد مل سکتی ہے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ۔ مقدمہ۔ 1/24۔ قاہرہ: مرکز ہجر للبحوث والدراسات العربیہ و اسلامیہ۔