بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 2: عہد صحابہ کی تاریخ پر تحقیق

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ باب 1 میں اس سلسلے کے کچھ بنیادی تصورات بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے باب 2 سے پہلے باب 1 کا مطالعہ ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

تاریخی روایات  (Historical Reports)اور ان کے راویوں (Narrators)کی چھان بین

اوپر ہم تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ تاریخی معلومات کی تحقیق اور تجزیہ کیسے کیا جاتا ہے؟ خاص کر ایسی تاریخی روایات جن سے کوئی بڑا سیاسی یا مذہبی اختلاف پیدا ہو، کی تفصیلی چھان بین کی ضرورت ہوتی ہے اور ماخذ کی تحقیق، داخلی تحقیق، خارجی تحقیق اور تاریخی اسباب کا تجزیہ کے تمام طریقوں کو اختیار کرنا وہاں ضروری  ہوجاتا ہے۔  یہ اختلاف عام طور پر انہی روایات میں پایا جاتا ہے جن میں مخصوص صحابہ کرام کی کردار کشی کی گئی ہے۔  اس سیکشن میں ہم دیکھیں گے کہ ان تاریخی روایات کی چھان بین کیسے کی جائے؟

کون سے راویوں نے صحابہ کرام سے جھوٹ منسوب کیا؟

اگر ہم کتب تاریخ کا جائزہ لیں  تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام اور دیگر شخصیات کی کردار کشی پر مبنی روایات کا 99% حصہ صرف چند افراد سے مروی ہے۔ یہ سب وہ ہیں جو دوسری یا تیسری صدی ہجری کے مشہور "اخباری" ہیں۔ ان میں ابو مخنف لوط بن یحیی ، محمد بن سائب الکلبی، ہشام بن محمد الکلبی،  محمد بن عمر الواقدی اور سیف بن عمر التیمی نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی ہیں لیکن ان سے مروی ایسی روایات کی تعداد بہت ہی کم ہے۔

 ان مورخین کے بارے میں اوپر جو تفصیلات جرح و تعدیل کے ماہرین نے بیان کی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام کے تمام راوی شدید ضعیف، متعصب اور ناقابل اعتماد تھے۔ ان میں سے اکثر پر یہ الزام ہے کہ جھوٹ گھڑ کر صحابہ کرام کی طرف منسوب کر دیا کرتے تھے۔ فن تاریخ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ اگر ایک شخص  کسی معاملے میں متعصب ہو، تو اس کی بات کو قبول نہیں کیا جاتا ہے۔ یہ تمام حضرات عہد صحابہ کے ساٹھ ستر سال بعد پیدا ہوئے۔ یہ ان واقعات کے چشم دید گواہ نہ تھے بلکہ انہوں نے ادھر ادھر سے روایتیں جمع کر کے اپنی کتابیں مرتب کر لیں جو بعد کی کتب کا حصہ بن گئیں۔ پھر یہ جن راویوں کی بنیاد پر یہ واقعات بیان کرتے ہیں، ان میں سے اکثر کے حالات زندگی معلوم نہیں ہیں اور اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکتا ہے کہ وہ راوی قابل اعتماد تھے یا نہیں۔  عین ممکن ہے کہ ان متعصب اخباریوں نے اپنی روایتوں کے متن کی طرح سندیں بھی گھڑ کر ان کے ساتھ لگا لی ہوں۔  چونکہ انہوں نے نامعلوم راویوں کے نام نقل کیے ہیں، اس وجہ سے ہمیں معلوم نہیں کہ وہ راوی بھی قابل اعتماد تھے یا نہیں تھے، یا ان کا کوئی وجود بھی تھا یا نہیں تھا۔

کیا راویوں کی چھان بین حسن ظن کے قرآنی حکم  کی خلاف ورزی نہیں ہے؟

یہاں پر ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب ہمیں قرآن مجید نے حسن ظن کا حکم دیا ہے تو پھر ان راویوں سے متعلق بھی حسن ظن ہی کیوں نہ رکھا جائے اور ان کی باتوں کو قبول کیوں نہ کیا جائے۔ اس کے جواب کے لیے ایک مثال پر غور کیجیے۔ اگر ہمیں کسی شخص سے کروڑوں کی ڈیل کرنا ہو یا اس کے ساتھ اپنی بچی کا رشتہ کرنا ہو اور ہمارا کوئی قابل اعتماد دوست ہمیں آکر یہ بتائے کہ یہ شخص دراصل بہت بڑا فراڈیا اور دھوکے باز ہے تو کیا ہمیں حسن ظن سے کام لیتے ہوئے اس شخص سے معاملہ کر لینا چاہیے؟ یقینی طور پر ہمیں اس شخص سے حسن ظن تو رکھنا چاہیے مگر اس سے ڈیل میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ہم یا تو اس شخص کے بارے میں تحقیقات کریں گے اور اگر تحقیق ممکن نہ ہوئی اور ڈیل کرنے سے اجتناب کریں گے۔ بعینہ یہی معاملہ ان راویوں کے ساتھ بھی کرنا چاہیے کہ ان سے حسن ظن رکھتے ہوئے ان کی روایتوں کو قبول کرنے میں احتیاط برتنا چاہیے۔ یہ احتیاط حسن ظن کے خلاف نہیں ہے۔  سورۃ الحجرات میں جہاں ہمیں حسن ظن کا حکم دیا گیا ہے، وہاں اس بات کا حکم بھی موجود ہے کہ کسی غلط شہرت رکھنے والے کی بات پر قدم اٹھانے سے پہلے اس بات کی تحقیق کر لینا چاہیے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ.

اے اہل ایمان! اگر آپ لوگوں کے پاس کوئی فاسق خبر لے آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کسی گروہ کو جہالت میں نقصان پہنچا بیٹھیں اور پھر اپنے فعل پر نادم ہوں۔  (الحجرات 49:6)

اب چونکہ ان راویوں کے بارے میں ہمیں نہایت ہی قابل اعتماد اہل علم  میں سے ایک دو نہیں بلکہ دسیوں افراد نے بتا دیا ہے کہ یہ متعصب اور جھوٹ گھڑنے والے لوگ ہیں، اس وجہ سے ہمیں چاہیے کہ ان کی بیان کردہ روایات کی چھان بین ضرور کر لیں۔  ہمیں ان راویوں کی ذات سے کوئی دشمنی نہیں رکھنی چاہیے لیکن ان کی بیان کردہ روایات کو قبول کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

ان راویوں سے متعلق معلومات کا ماخذ کیا ہے؟

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ  جن ماہرین نے ان مورخین کو غیر مستند قرار دیا ہے، ان کی معلومات کا ماخذ کیا ہے؟انہوں نے کس بنیاد پر ان مورخین کو غیر مستند قرار دیا ہے۔ اس کے لیے ہمیں فن رجال کے ارتقاء کو دیکھنا ہو گا۔

جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ دور جاہلیت ہی سے عربوں میں "فن انساب "کو غیر معمولی حیثیت حاصل تھی اور ان کے ماہرین مختلف قبائل، ان کے خاندانوں اور نمایاں افراد کے حالات کو ریکارڈ کیا کرتے تھے۔ دور جاہلیت میں کتابیں لکھنے کا رجحان نہیں تھا بلکہ ان معلومات کو سینوں میں محفوظ کیا جاتا تھا۔ جو شخص ان معلومات کا بڑا حافظ ہوتا، اسے معاشرے میں نہایت ہی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا کیونکہ یہی قبائلی تاریخ تھی جس کی بنیاد پر اہل عرب اپنے اپنے  قبیلے پر فخر  کیا کرتے تھے۔ اسلام کے بعد کتابیں تحریر کرنے کا رجحان پیدا ہوا جو کہ دوسری صدی ہجری میں بہت نمایاں ہو گیا۔ اس میں دیگر علوم کی طرح انساب اور طبقات کی کتابیں بھی لکھی جانے لگیں جن میں مختلف افراد کے حالات زندگی اکٹھے کیے جاتے۔ جو لوگ یہ کام کرتے تھے، انہیں افراد یا قبائل سے کوئی ذاتی قسم کا تعلق نہ ہوتا تھا بلکہ وہ نہایت ہی غیر جانبداری سے ان افراد کے حالات زندگی (Biography)مرتب کرتے۔ ممکن ہے کہ کوئی ایک ماہر، کسی ایک شخص کے بارے میں متعصب ہو اور اس کے بارے میں کچھ لکھ دے، لیکن تمام کے تمام ماہرین اس شخص سے تو متعصب نہ ہو سکتے تھے۔

حالات زندگی مرتب کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ماہرین  کا ایک اور طبقہ بھی تھا جسے "ماہرین جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے۔ ان میں یہ لوگ نمایاں ہیں:

·       یحیی بن معین (158-233/775-848)

·       ابن المدینی (161-234/777-848)

·       احمد بن حنبل (164-241/780-855)

·       بخاری (194-256/810-870)

·       ابو حاتم الرازی (195-277/811-890)

·       نسائی (214-303/829-915)

·       ابن حبان (270-354/883-965)

·       ابن عدی(277-365/890-976)

·       دار قطنی (306-385/918-995)

اس فن کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے متعلق روایات کی جانچ پڑتال کر کے یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کون سی روایت مستند ہے اور کون سی نہیں۔ ان حضرات نے اس فن میں مہارت حاصل کی کہ ان لوگوں کے حالات کی جانچ پڑتال کر کے یہ فیصلہ کریں کہ کون سا شخص لائق اعتماد ہے  اور کس درجے میں ہے اور کون سا شخص ناقابل اعتماد ہے اور اس کا درجہ کیا ہے؟ ان حضرات نے بارہ درجوں کا ایک اسکیل مرتب کیا جس میں چھ درجات جرح (ناقابل اعتماد ہونا) اور چھ درجات تعدیل (قابل اعتماد ہونا) کے مقرر کیے۔ ان میں سب سے نچلا درجہ "کذاب" کا تھا جس میں انتہائی درجے کا جھوٹا شخص شمار کیا جاتا۔ ابو مخنف، واقدی، سیف بن عمر  اور ہشام کلبی کا شمار اسی آخری طبقے میں کیا گیا ہے۔

جرح و تعدیل کے ماہرین نے عالم اسلام کے مختلف شہروں کے سفر کیے اور ان راویوں سے متعلق معلومات اکٹھا کیں۔ یہ حضرات متعدد بنیادوں پر کسی راوی کو ثقہ یا ضعیف یا کذاب قرار دیتے تھے:

·        ایک تو اس راوی سے ملنے جلنے والوں سے اس کے حالات معلوم کیے جاتے۔ اگر وہ راوی ان کے زمانے میں زندہ ہوتا تو اس سے مل کر اور اس کے حالات کی جانچ پڑتال کرتے ورنہ ان لوگوں سے رائے لیتے، جو اس شخص کو جانتے تھے۔

·        اس راوی کی بیان کردہ روایات کا موازنہ اس کے ہم سبق دیگر راویوں کی بیان کردہ روایات سے کرتےاور اگر یہ دیکھتے کہ اس راوی کی روایات میں فرق ہے تو پھر اس کی مزید چھان بین کر کے اس کے متعلق فیصلہ کرتے۔ مثلاً ایک استاذ کے دس شاگرد ہیں۔ ان میں سے نو تو اپنے استاذ کی روایت کو ایک طرح بیان کرتے ہیں جبکہ دسواں اس سے مختلف بات کرتا ہے۔ اس فرق کی چھان بین کی جاتی اور یہ دیکھا جاتا فرق سنجیدہ نوعیت کا ہے یا معمولی ہے اور کیا یہ شخص کیا ہر روایت میں ایسا کر رہا ہے یا کسی ایک آدھ جگہ اس سے ایسا ہوا ہے۔ جس شخص  کی روایات میں انہیں بہت زیادہ فرق  ملتا، اس کے فرق کے تناسب سے اس کا درجہ متعین کیا جاتا۔

ان حضرات نے اس فن پر کتابیں لکھیں اور یہ فن مرتب ہوتا چلا گیا۔ آٹھویں صدی ہجری میں  اس فن کے ایک بہت بڑے ماہر گزرے جن کا نام ابو الحجاج یوسف المزی (654-742/1256-1341) ہے۔ انہوں نے سابقہ ماہرین کی کتابوں کو ایک انسائیکلو پیڈیا کی شکل میں اکٹھا کر دیا، جس کا نام "تہذیب الکمال" ہے۔ اس انسائیکلو پیڈیا کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی بیروت کے طبع شدہ ایڈیشن کی 35 جلدیں  ہیں جن میں سے ہر ایک 500 صفحات پر مشتمل ہے۔ مزی ہی کے ایک شاگرد شمس الدین ذہبی (673-748/1275-1347) نے  "میزان الاعتدال" کے نام سے اس کا ایک خلاصہ تیار کیا جو اب پانچ پانچ سو صفحات کی آٹھ جلدوں میں چھپتا ہے۔ ہم نے اس کتاب میں اسی کو بنیاد بنایا ہے کیونکہ اس میں علم جرح و تعدیل  کی سابقہ کتابوں کا خلاصہ آ گیا ہے۔ ذہبی نے ایک اور کتاب بھی لکھی جو "سیر الاعلام النبلا" کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں انہوں نے 4300 صفحات میں 6895 مشہور لوگوں کا تذکرہ  کیا ہے۔ یہ کتاب بھی ہمارا ماخذ رہی ہے۔

راویوں سے متعلق معلومات کس حد تک مستند ہیں؟

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ  ان ماہرین نے جو معلومات مرتب کی ہیں، وہ بذات خود کس درجے میں مستند ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان ماہرین نے اپنے کسی تعصب کے سبب کسی راوی کو کذاب کہہ دیا ہو۔

عقلی اعتبار سے ایسا ممکن ہے کہ ایک ماہر کسی شخص سے تعصب کی بنیاد پر اسے کذاب کہہ دے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر ماہر ہی اسے تعصب کی بنیاد پر کذاب کہے۔ اب یہ تو ممکن نہیں ہے کہ مختلف شہروں اور مختلف زمانوں سے تعلق رکھنے والے ان ماہرین  نے مل کر یہ سازش کی ہو کہ چلو فلاں فلاں کو مل کر "کذاب" قرار دے ڈالیں۔ جرح و تعدیل کے ماہرین میں آپس میں اختلاف رائے بھی ہوتا ہے لیکن ہمارے زیر بحث مورخ راویوں کے بارے میں یہ سب کے سب متفق ہیں کہ یہ حضرات قابل اعتماد نہیں ہیں۔

ویسے بھی اگر ہمیں کسی سے رشتہ کرنا ہو یا اس سے کوئی کاروباری ڈیل کرنا ہو اور اس کے بارے میں ہمیں اڑتی اڑتی خبر بھی مل جائے کہ وہ قابل اعتماد نہیں تو ہم یا تو اس سے معاملہ کرنے میں احتیاط کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جب ان مورخین کے بارے میں بہت سے ماہرین نے ہمیں یہ بتا دیا کہ یہ ناقابل اعتماد ہیں تو پھر عقل کا تقاضا یہی ہے کہ ان کی روایات کو قبول کرنے میں احتیاط کی جائے۔

کیا تاریخ پر تحقیق کے لیے علم جرح و تعدیل سے مدد لینا درست ہے؟

اس سوال کا جواب ہاں میں ہے کیونکہ علم رجال ہی سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ روایات بیان کرنے والے لوگ کس درجے میں قابل اعتماد ہیں۔  علم رجال کی تحقیق وہی چیز ہے جسے اہل مغرب Source Criticism کہتے ہیں۔  امت کی اکثریت کا موقف یہی ہے تاہم بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ علم جرح و تعدیل کو تاریخ پر تحقیق میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔  یہاں ہم فریقین کے دلائل پیش کر رہے ہیں۔ قارئین خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ کون سا موقف درست ہے۔

علم جرح و تعدیل سے مدد نہ لینے والوں کے دلائل

علم جرح و تعدیل سے مدد نہ لینے والوں کے دلائل یہ ہیں:

بعض حضرات تاریخی روایات کو جانچنے کے لئے اسماءالرجال کی کتابیں کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں فلاں راویوں کو ائمہ رجال نےمجروح قرار دیا ہے، اور فلاں راوی جس وقت کا واقعہ بیان کرتا ہے اس وقت تو وہ بچہ تھا یا پیدا ہی نہیں ہوا تھا، اور فلاں ایک روایت جس کے حوالے سے بیان کرتا ہے اس سے تو وہ ملا ہی نہیں۔  اسی طرح وہ تاریخی روایات پرتنقید حدیث کے اصول استعمال کرتے ہیں اور اس بنا پر اس کو رد کردیتے ہیں کہ فلاں واقعہ سند کے بغیر نقل کیا گیا ہے، اور فلاں روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ 

یہ باتیں کرتے وقت یہ لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ محدثین نے روایات کی جانچ پڑتال کے یہ طریقے دراصل احکامی احادیث کے لیے اختیار کیے ہیں، کیوں کہ ان پر حرام و حلال، فرض و واجب اور مکروہ و مستحب جیسےاہم شرعی امور کا فیصلہ ہوتا ہے اور یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ دین میں کیاچیز سنت اور کیا چیز سنت نہیں ہے . یہ شرائط اگر تاریخی واقعات کے معاملہ میں لگائی جائیں ، تو اسلامی تاریخ کے ادوار ما بعد کا تو سوال ہی کیا ہے، قرن اول کی تاریخ کا بھی کم از کم 9/10 حصہ غیر معتبر قرار پائے گا،اور ہمارے مخالفین ان ہی شرائط کو سامنے رکھ کر ان تمام کارناموں کو ساقط الاعتبار قرار دے دیں گے جن پر ہم فخر کرتے ہیں، کیوں کہ اصول حدیث اور اسماءالرجال کی تنقید کے معیار پر ان کا بیشتر حصہ پورا نہیں اترتا۔  حد یہ ہے کہ سیرت پاک میں بھی مکمل طور پر اس شرط کے ساتھ مرتب نہیں کی جاسکتی کہ ہر روایت ثقات سے ثقات نے متصل سند کے ساتھ بیان کی ہو۔

خاص طور پر واقدی اور سیف بن عمر اور ان جیسے دوسرے راویوں کے متعلق ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال نقل کر کے بڑے زور کے ساتھ یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ حدیث ہی نہیں، تاریخ میں بھی ان لوگوں کا کوئی بیان قابل قبول نہیں ہے۔ لیکن جن علماء کی کتابوں سے ائمہ جرح و تعدیل کے یہ اقوال نقل کیے جاتے ہیں، انہوں نے صرف حدیث کے معاملہ میں ان لوگوں کی روایات کو رد کیا ہے۔ رہی تاریخ، مغازی اور سیر، تو انہی علماء نے اپنی کتابوں میں جہاں کہیں ان موضوعات  پر کچھ لکھا ہے ، وہاں وہ بکثرت واقعات انہی لوگوں کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حافظ ابن حجر کو دیکھیے، جن کی ’’تہذیب التہذیب‘‘ سے ائمہ رجال کی یہ جرحیں نقل کی جاتی ہیں۔ وہ اپنی تاریخی تصنیفات ہی میں نہیں بلکہ اپنی شرح بخاری (فتح الباری) تک میں جب غزوات اور تاریخی واقعات کی تشریح کرتے ہیں تو اس میں جگہ جگہ واقدی اور سیف بن عمر اور ایسے ہی دوسرے مجروح راویوں کے بیانات بے تکلف نقل کرتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح حافظ ابن کثیر اپنی کتاب ’’البدایہ و النہایہ‘‘ میں خود ابو مخنف کی سخت مذمت کرتے ہیں، اور پھر خود ہی ابن جریر طبری کی تاریخ سے بکثرت وہ واقعات نقل بھی کرتے ہیں، جو انہوں نے اس کے حوالہ سے بیان کیے ہیں۔ اسے صاف معلوم ہوتا ہے کہ علم حدیث کے اکابر علماء نے ہمیشہ تاریخ اور حدیث کے درمیان واضح فرق ملحوظ رکھا ہے اور ان دونوں کو خلط ملط کر کے وہ ایک چیز پر تنقید کے وہ اصول استعمال نہیں کرتے جو درحقیقت دوسری چیز کے لیے وضع کیے گئے تھے۔ یہ طرز عمل صرف محدثین ہی کا نہیں، اکابر فقہاء تک کا ہے جو روایات کو قبول کرنے میں اور بھی زیادہ سختی برتتے ہیں۔ مثال کے طور پر امام شافعی ایک طرف واقدی کو سخت کذاب کہتے ہیں اور دوسری طرف کتاب الام میں غزوات کے متعلق اس کی روایات سے استدلال بھی کرتے ہیں۔

اس کے یہ معنی بھی نہیں ہیں کہ یہ لوگ ان مجروح راویوں کے تمام بیانات کو آنکھیں بند کر کے قبول کرتے چلے گئے ہیں۔ دراصل انہوں نے نہ ان لوگوں کے تمام بیانات کو رد کیا ہے اور نہ سب کو قبول کر لیا ہے۔ وہ ان میں سے چھانٹ چھانٹ کر صرف وہ چیزیں لیتے ہیں، جو ان کے نزدیک نقل کرنے کے قابل ہوتی ہیں، جن کی تائید میں بہت سا دوسرا تاریخی مواد بھی ان کے سامنے ہوتا ہے، اور جن میں سلسلہ واقعات کے ساتھ مناسبت بھی پائی جاتی ہے۔ اس لیے کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ ابن سعد، ابن عبد البر، ابن کثیر، ابن جریر، ابن اثیر، ابن حجر اور ان جیسے دوسرے ثقہ علماء نے اپنی کتابوں میں جو حالات مجروح راویوں سے نقل کیے ہیں، انہیں رد کر دیا جائے۔ یا جو باتیں ضعیف یا منقطع سندوں سے لی ہیں، یا بلا سند بیان کی ہیں، ان کے متعلق یہ رائے قائم کر لی جائے کہ وہ بالکل بے سر وپا ہیں، محض گپ ہیں اور انہیں بس اٹھا کر پھینک ہی دینا چاہیے۔ [1]

علم جرح و تعدیل سے مدد لینے کے قائلین کے دلائل

عام اہل علم کا موقف یہ ہے کہ علم جرح و تعدیل کا استعمال جیسے حدیث کی چھان بین کے لیے ہوتا ہے، ویسے ہی تاریخ پر بھی کیا جانا چاہیے۔ علم تاریخ میں ماخذ کی تحقیق (Source Criticism) ایک  مسلمہ اصول ہے اور سبھی ممالک کے مورخین اس پر عمل کرتے ہیں۔ یہ بات تو مانی جا سکتی ہے ہے کہ  عام سے معاملات میں ماخذ کی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے لیکن جن روایات کی بنیاد پر امت میں فرقے بنے ہوئے ہوں، تاریخ ہی نہیں بلکہ عقائد میں بھی اختلاف پیدا ہوا ہو  اور جن کی بنیاد پر ماضی کے کسی انسان کے کردار پر  انگلی اٹھائی گئی ہو،  ان کے معاملے میں تو ضروری ہے کہ علم رجال کی بنیاد پر پوری طرح چھان بین کے بعد ہی کسی بات کو قبول یا مسترد کیا جائے۔  اس کی وضاحت ہم ایک مثال کے ذریعے کرتے ہیں۔

فرض کیجیے کہ ایک بڑے دینی عالم کے بارے میں یہ بات معلوم  و معروف ہے کہ مالی امور میں وہ  ایک دیانت دار شخص تھے۔ ان کی دیانت داری کے واقعات مشہور و معروف ہیں  اور اس معاملے میں ان کے کردار پر ان کے کسی دشمن نے بھی کبھی اعتراض نہیں کیا ہے۔  یہ عالم 1950 میں وفات پا جاتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو بالفرض 1965 میں پیدا ہوتا ہے اور اس کے بارے میں یہ بات مشہور و معروف ہے کہ وہ کسی مذہب دشمن سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے، دینی شخصیات کے بارے میں  متعصب ہے اور ان کے متعلق جھوٹا پراپیگنڈا کرتا ہے۔ اب یہ شخص کوئی ایسا واقعہ بیان کرے جس کے مطابق وہ عالم اپنے مدرسے کے فنڈ میں کرپشن کرتے تھے تو کیا ہمیں اس شخص  کی بیان کر دہ روایت کو آنکھیں بند کر کے قبول کر لینا چاہیے؟

یقیناً ہمارا جواب نفی میں ہو گا۔  سب سے پہلے تو ہم اس روایت کو اسی بنیاد پر مسترد کر دیں گے کہ اس کو بیان کرنے والا خود قابل اعتماد نہیں ہے اور وہ دینی شخصیات سے متعلق جھوٹا پراپیگنڈا کرتا ہے۔  پھر اس سے یہ پوچھا جائے گا کہ وہ تو ان عالم کی وفات کے 15سال بعد پیدا ہوا،  وہ اس واقعے کا عینی شاہد تو ہو نہیں سکتا۔  اس نے یہ بات کس سے سنی ہے؟ اگر وہ شخص کسی کا نام نہ بتا سکے تو یہی کہا جائے گا کہ اس نے جو روایت بیان کی ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر وہ کسی دوسرے شخص کا نام بتا دے تو اس شخص کے بارے میں بھی لازماً تجزیہ کیا جائے گا کہ  وہ شخص کون ہے؟ اس کے حالات کیا تھے؟ کیا وہ کسی کے بارے میں متعصب تھا یا نہیں؟  کیا وہ کسی سیاسی جماعت کے پراپیگنڈا  ونگ میں شامل تو نہیں تھا؟  یہ سب باتیں دیکھی جائیں گی اور تب ہی یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ واقعہ درست ہو سکتا ہے یا نہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر جرح و تعدیل کو تاریخ میں استعمال نہ کرنے کے قائلین میں سے کسی شخص کے استاذ یا والدین  کے بارے میں کوئی کرپشن یا بدکاری یا اسی نوعیت کا کوئی گھناؤنا الزام عائد کر دے تو یہ حضرات لازماً انہی اصولوں پر عمل کا مشورہ دیں گے۔   اگر موجودہ دور کی کسی شخصیت کا یہ معاملہ ہے تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں متعصب لوگوں اور ان کی مخالف جماعتوں کے پراپیگنڈا ونگ کے لوگوں کے بارے میں اس سے بڑھ کر ہی احتیاط کرنی چاہیے۔

یہ بات کہ "قرن اول کی تاریخ کا بھی کم از کم 9/10حصہ غیر معتبر قرار پائے گا،اور ہمارے مخالفین ان ہی شرائط کو سامنے رکھ کر ان تمام کارناموں کو ساقط الاعتبار قرار دے دیں گے جن پر ہم فخر کرتے ہیں، کیوں کہ اصول حدیث اور اسماءالرجال کی تنقید کے معیار پر ان کا بیشتر حصہ پورا نہیں اترتا۔" بھی درست نہیں ہے۔ قرن اول میں سے عہد رسالت کی تاریخ کا بڑا حصہ قرآن مجید اور صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے ۔ عہد صحابہ کی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات، جن میں ان کے تمام مثبت کارنامے شامل ہیں،  پورے تواتر سے ہم تک منتقل ہوئے ہیں اور ان  کے بارے میں کوئی غیر مسلم مورخ بھی انکار نہیں کر سکتا ہے۔ یہ کوئی ایک دو روایتیں نہیں بلکہ ہزارہا روایتیں ہیں جو مل کر  کم از کم معنوی حد تک حد تواتر تک پہنچتی ہیں۔  اگر کوئی شخص ان کا انکار کرنا چاہے تو وہ دن میں سورج کی موجودگی کا انکار بھی کر سکتا ہے اور یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ زمین پر ہوا اور پانی موجود نہیں ہیں۔

یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ طبری، ابن اثیر، ابن حجر اور ابن کثیر جیسے محقق علماء نے واقدی اور ابو مخنف وغیرہ کی تمام روایتوں کو قبول کیا ہے۔ ان حضرات نے عام سے معاملات میں ان لوگوں کی روایتوں کو قبول کیا ہے لیکن جہاں صحابہ کرام کی کردار کشی جیسا حساس معاملہ ہے، وہاں ان پر تنقید کی ہے۔  اوپر آپ طبری، ابن اثیر اور ابن کثیر کے اقتباسات پڑھ ہی چکے ہیں کہ انہوں نے اپنی کتب کے متعلق خود یہ کہہ دیا ہے کہ ہم نے بات کو محض نقل کیا  ہے ، اس کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کی ذمہ داری اس شخص پر ہے جس کا ہم نے حوالہ دیا ہے۔

کیا ان ناقابل اعتماد راویوں کی تمام روایتوں کو رد کر دیا جائے؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ان ناقابل اعتماد راویوں کی تمام روایتوں کو رد کردیں  کیونکہ  اگر ہم ایسا کریں گے تو پھر عہد صحابہ کی تاریخ کا 90% حصہ ضائع ہو جائے گا اور ہمیں اس ضمن میں کچھ بھی  علم نہ ہو سکے گا۔  اول تو یہ دعوی ہی درست نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہماری تاریخ انہی چند راویوں کی مرہون منت ہے۔ طبری میں ان چار پانچ افراد  یعنی واقدی، سیف بن عمر، ابو مخنف اور ہشام کلبی کی روایتوں کو اکٹھا کر لیا جائے تو یہ 90% نہیں بلکہ کافی کم بنتا ہے۔ ڈاکٹر خالد کبیر علال نے ان راویوں کی کل روایات کی تعداد 1819 گنوائی ہے[2] جو کہ طبری کی روایات کا 90% بہرحال نہیں ہے۔ پھر ان چاروں راویوں کی تمام کی تمام روایتوں کو دریا برد کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف انہی روایتوں پر تنقید کی جائے گی جن میں انہوں نے خاص طور پر حقائق کو مسخ کرتے ہوئے صحابہ کرام کی کردار کشی کی کوشش کی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ عام تاریخی واقعات میں انہیں کوئی گڑبڑ کرنے کی ضرورت نہ تھی، لیکن جن معاملات میں یہ متعصب تھے، ان میں انہوں نے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم اپنی زندگیوں میں یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ عام طور پر جھوٹ  نہیں بولتے  لیکن جہاں معاملہ ان کے مفادات یا تعصبات کا آ جائے، وہاں پھر وہ جھوٹ سے کام لیتے ہیں۔ یہی معاملہ ان متعصب راویوں کا ہے کہ جہاں انہیں تعصب کا مرض لاحق ہوا، وہاں انہوں نے جھوٹی روایت گھڑی یا سچی روایت میں جعلی جملے داخل کر دیے لیکن جہاں تعصب کا معاملہ نہیں تھا، وہاں انہیں بھی جھوٹ بولنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔

تاریخی روایات میں ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے بعض واقعات تو پورے کے پورے خود گھڑے ہیں لیکن اکثر مشہور تاریخی روایات کے ضمن میں ایک آدھ ایسے جملے  یا پیرا گراف کا اضافہ کر دیا ہے کہ جس سے وہ اپنا مقصد حاصل کر سکیں۔ مثلاً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے انتخاب کا واقعہ مشہور ہے۔ اسے بالعموم یہ ٹھیک بیان کرتے ہیں لیکن بیچ بیچ میں کوئی ایک آدھ لفظ یا جملہ ایسا لگا جاتے ہیں، جس سے ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔   اس کے برعکس مثلاً جنگ صفین اور سانحہ کربلا کے واقعات میں پوری پوری جعلی روایتیں موجود ہیں۔ اس وجہ سے لازم ہے کہ ہم ان چاروں راویوں اور ان کے دیگر ساتھیوں کی ان روایات پر قبول نہ کریں جن میں صحابہ کی کردارکشی کی گئی ہو۔ ہاں عام واقعات جن میں ایسا نہ ہو، کو قبول کرنے میں حرج نہیں ہے۔ تاہم اگر کوئی بہت محتاط ہو اور وہ ان راویوں کی کسی روایت کو بھی قبول نہ کرے، تو اس کا طرز عمل بھی ٹھیک ہے اور اس کے طریقہ کار پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا ہے، مگر پھر وہ تفصیلی تاریخ مرتب نہ کر سکے گا۔

ہم اپنے زمانے میں بھی دیکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ روزانہ اخبار میں بے شمار ایسے واقعات کا ذکر ہوتا ہے جو عام نوعیت کے ہوتے ہیں جیسے کہیں کوئی حادثہ پیش آیا، یا کسی نے غرباء  کی مدد کی یا کسی ملک میں جنگ چھڑ گئی یا کہیں سیلاب آ گیا۔ اس معاملے میں کسی راوی کو جھوٹ بولنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے، اس وجہ سے ان کے بارے میں کوئی تردد نہیں کرتا ہے کہ خبر کی جانچ پڑتال کرے۔ انہیں عام طور پر درست تسلیم کر لیا جاتا ہے اور اگر  ان کی تردید اگلے چند روز میں شائع نہ ہو تو  یہ مسلمہ حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر اخبار میں کسی ایسے شخص کے بارے میں خبر چھپے، جس کا اعلی کردار معلوم و معروف ہو۔ مثلاً عبد الستار ایدھی صاحب یا مدر ٹریسا صاحبہ کے بارے میں کوئی شخص بے ہودہ قسم کے الزامات عائد کرے تو ہر شخص چونک اٹھے گا اور یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ اخبار کو یہ خبر کہاں سے ملی ہے۔ پھر اس تحقیق میں یہ معلوم ہو کہ یہ خبر کسی ایسے رپورٹر نے لگوائی ہے، جو ان شخصیات سے کسی وجہ سے تعصب رکھتا ہے، تو پھر ہر معقول شخص کا فیصلہ یہی ہو گا کہ یہ خبر جھوٹ ہے۔  ہاں، جو شخص کسی وجہ سے ان شخصیات کے بارے میں متعصب ہو، وہ ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کرے گا اور اس خبر کے درست ہونے پر اصرار کرے گا۔

اس طریق کار پر ایک سوال مزید وارد ہوتا ہے کہ کیا یہ طرز عمل "میٹھا میٹھا ہپ ہپ ، کڑوا کڑوا تھو تھو" کے مترادف نہیں ہے اور کیا اسے دوغلی پالیسی نہیں کہا جائے گا؟ اس کے جواب کے لیے  ہم ایک اور مثال سے وضاحت کرتے ہیں۔  فرض کیجیے کہ کوئی ایسا شخص ، جس کا اپنا کیریکٹر مشکوک ہو، ہمیں آ کر یہ بتائے کہ ہمارے دادا نے فلاں وقت فلاں شہر کا سفر کیا تھا اور اس وقت انہوں نے اس شخص کو سو روپے دے کر اس کی مدد کی تھی۔ ہمیں معلوم ہو کہ ہمارے دادا نیک آدمی تھے اور ہر ضرورت مند کی مدد کرتے تھے اور سفر بھی کرتے رہتے تھے۔ کیا اس بات پر یقین کرنے  میں ہمیں کوئی تردد ہو گا؟  اس کے برعکس اگر وہ آ کر یہ کہے کہ جناب آپ کے دادا رشوت لیتے تھے، یا انہوں نے کسی طوائف سے ناجائز تعلقات قائم کیے تھے ، یا وہ خود کسی طوائف کی اولاد تھے۔ کیا اس شخص کی بات پر ہم فوراً ایمان لے آئیں گے؟ اول تو ہم فوراً ہی اس کی بات کی تردید کریں گے۔ اگر وہ اپنے دعوی کے حق میں کوئی ثبوت پیش کرے گا تو اس کی  ہر ممکن جانچ پڑتال کی کوشش کریں گے اور جب تک آخری درجے میں ٹھوس ثبوت نہ ملیں گے، اس وقت تک اس کی بات کا اعتبار نہ کریں گے۔

بالکل اسی طرح عام تاریخی روایات جن میں عام سے واقعات ہوں اور کوئی اختلافی بات نہ ہو، ایک ناقابل اعتماد راوی سے بھی قبول کی جا سکتی ہے لیکن اختلافی امور میں، خاص کر جب اس شخص کی روایت دیگر صحیح روایتوں کے خلاف ہو، کو رد کرنا لازم ہے۔ اس کو ایک اور مثال سے سمجھیے۔ ہمارے دور میں اکثر صحافی کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔ جب وہ کچھ لکھتے ہیں تو اپنی پارٹیوں کی حمایت کرتے ہیں اور مخالف پارٹیوں کی کردار کشی کرتے ہیں۔  کچھ صحافی ایسا کھلے عام کرتے ہیں اور کچھ ذرا فنکاری کے ساتھ ڈھکے چھپے انداز میں لکھتے ہیں۔ ایسا کرنے پر انہیں اپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے پیسہ ملتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کی ایسی تحریروں کا کوئی اعتبار نہ کیا جائے گا لیکن اگر یہی صحافی کسی ایسے معاملے میں کچھ بیان کریں جس کا کوئی تعلق اس پارٹی بازی سے نہ ہو، مثلاً سماجی نوعیت کا کوئی آرٹیکل لکھیں، یا  دنیا کے کسی اور ملک کے بارے میں کچھ لکھیں تو اس کا اعتبار کر لیا جاتا ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان متعصب راویوں کی عام باتوں کو بھی کیوں لیا جائے۔ چونکہ یہ معلوم ہے کہ وہ جھوٹ گھڑتے تھے، تو پھر ان کی تمام کی تمام روایات ہی کو دریا برد کیوں نہ کر دیا جائے؟ آئیڈیل تو یہی ہے کہ ایسا ہی ہونا چاہیے لیکن اس میں ایک عملی مسئلہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ان راویوں کی تمام روایتوں کو اٹھا کر پھینک دیا جائے تو پھر تاریخی کتب میں جزوی تفصیلات نہ مل سکیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ  یہی وہ لوگ تھے جنہیں تاریخ میں دلچسپی تھی اور انہوں نے اس سے متعلق ہر قسم کی رطب و یابس روایتیں اکٹھی کیں۔  اس زمانے تو کیا، خود ہمارے دور کے بارے میں بھی یہی حال ہے۔ اگر کوئی شخص ہمارے زمانے کی تاریخ لکھنے بیٹھے اور یہ اصول طے کر لے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والے کسی بھی صحافی  کی بیان کردہ کوئی بھی رپورٹ قبول نہیں کی جائے گی تو وہ تاریخ لکھ ہی نہ سکے گا کیونکہ شاید ہی کوئی ایسا صحافی ہو گا جس کا تعلق کسی بھی پارٹی سے نہ ہو۔  اس وجہ سے درست اصول یہی ہے کہ ان راویوں کی عام روایتیں قبول کر لی جائیں لیکن جس معاملے میں یہ متعصب ہوں، اس معاملے میں ان کی روایات کو قبول نہ کیا جائے۔ اگر کوئی ایسا شخص مل جائے جو بالکل ہی غیر جانبدار ہو تو پھر اس کی بات کو باقی سب پر یقیناً ترجیح دی جائے گی۔  تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مذکورہ چار جھوٹے راویوں کی روایتیں بھی بہت زیادہ نہیں ہیں اور مخصوص واقعات ہی میں ان کی روایات زیادہ ملتی ہیں۔

یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ  اگر کوئی راوی کسی شخص کے بارے میں  متعصب ہے لیکن وہ ایسی روایت پیش کرتا ہے  جو اس کے اپنے تعصبات کے خلاف ہے تو کیا اس روایت کو قبول کیا جائے؟ اس سوال کا جواب ہاں میں ہے۔ ہمارے زمانے میں ایک شخص مثلاً پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتا ہو اور کوئی ایسی بات کہے جو مسلم لیگ کے حق میں ہو، یا پیپلز پارٹی کے خلاف ہو، تو اسے تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ یہ گھر کی گواہی ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ کے لوگوں کی ایسی بات جو ان کے خلاف اور پیپلز پارٹی کے حق میں ہو، تسلیم کرنے میں کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔  بالکل اسی طرح ابو مخنف، سیف بن عمر، ہشام کلبی اور  اس نوعیت کے دیگر راویوں کی  جو روایتیں صحابہ کرام کے حق میں ہوں ، انہیں قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔

مورخین نے ناقابل اعتماد روایتیں اپنی کتب میں درج کیوں کی تھیں؟

ایک عام طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ متعصب راویوں کی یہ روایتیں مورخین نے اپنی کتابوں میں درج ہی کیوں کیں اور انہیں اٹھا کر باہر کیوں نہ پھینک دیا؟  کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ مورخین ، ان متعصب راویوں پر اعتماد کرتے تھے؟  اس سوال کا جواب ہم اوپر دے چکے ہیں تاہم اس کے اہم پہلو یہاں دوبارہ بیان کر رہے ہیں۔

یہ سوال اصل میں اس دور کے علمی مزاج اور ماحول سے لاعلمی کی بنیاد پر پیدا ہوتا ہے۔  اس ماحول کی تفصیل ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ تاریخ کے جو اولین مآخذ ہمیں دستیاب ہیں، یہ بالعموم تیسری صدی ہجری میں لکھے گئے ہیں جب دور صحابہ کی تاریخ کو دو سو برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ دوسری صدی کے نصف تک مسلم دنیا میں کاغذ کمیاب تھا، اس وجہ سے کتابیں لکھنے کر پھیلانے کا رواج نہیں تھا بلکہ جو لوگ لکھتے تھے، اس کی حیثیت ان کی ذاتی ڈائری کی سی ہوا کرتی تھی۔ جب مسلمانوں نے 140/757 کے لگ بھگ چینیوں سے  کاغذ بنانے کا فن سیکھا تو  ان کے ہاں کتابیں لکھنے کے عمل کا آغاز ہوا اور تیسری صدی ہجری کے اوائل اور نصف میں جب کتابیں بڑے پیمانے پر لکھی جانے لگیں تو ان کا اسلوب وہی تھا جو اس سے پہلے زبانی روایت کا چلا آ رہا تھا۔ سب سے پہلے تو ضرورت اس امر کی محسوس ہوئی کہ  جو کچھ علم اب تک زبانی یا ذاتی ڈائریوں کی صورت میں چلا آ رہا ہے، اسے مرتب کر لیا جائے۔  چنانچہ تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، ادب، شاعری، فلسفہ غرض ہر علم میں  جو کچھ دستیاب تھا، اسے لکھا جانے لگا۔ حدیث اور تاریخ کے میدان میں پہلے مرحلے پر ان روایات کو اکٹھا کیا گیا۔ اہل علم کا فوکس یہ تھا کہ علم کو مرتب کیا جائے، صحیح و غلط کو بعد میں اگلے مرحلے پر دیکھ لیا جائے گا۔  یہ مرحلہ دوسری صدی کے آخر سے شروع ہو کر پانچویں صدی کے آخر تک جاری رہا اور اس عمل میں تین سو سال لگے۔ روایات پر تنقید اور چھان بین کے عمل کا آغاز تیسری صدی ہجری کے نصف سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔ اس دور کے ناقدین نے اپنی ترجیحات یہ متعین کیں کہ جن روایات میں کوئی دینی مسئلہ ہو، ان کی چھان بین پہلے کر لی جائے۔  تاریخی روایات کی جانچ پڑتال کا معاملہ کچھ دیر سے شروع ہوا۔

یہ بات ہم جانتے ہیں کہ کوئی مصنف جب کتاب لکھتا ہے تو وہ اپنے زمانے کے لوگوں کی علمی اور ذہنی سطح ہی کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھتا ہے۔  آج ہم جو کتب لکھ رہے ہیں، ہم زیادہ سے زیادہ اگلے پچاس سو برس کے قارئین کی علمی و ذہنی سطح  کو ہی مدنظر رکھ سکتے ہیں۔ ابن سعد، طبری اور بلاذری وغیرہ نے بھی جب کتب لکھیں تو ان کے پیش نظر ہم لوگ نہیں تھے بلکہ ان کے اپنے دور کے قارئین  تھے۔  یہ لوگ پہلی دو صدیوں کے کم از کم مشہور راویوں سے اچھی طرح واقف تھے۔ اگر ان کے سامنے مثلاً واقدی یا ابو مخنف کی کوئی روایت پیش کی جاتی  تو وہ جانتے تھے کہ واقدی اور ابو مخنف کا علمی مقام کیا ہے اور ان کی روایتوں پر کس درجے میں اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح  سے وہ بآسانی یہ معلوم کر لیتے کہ قابل اعتماد روایت کون سی ہے اور ناقابل اعتماد کون سی۔ یہی وجہ ہے کہ مورخین نے ان کی روایتوں کو درج کر دیا کیونکہ ان کے سامنے اپنے دور کے لوگ تھے جو صحیح اور ضعیف روایتوں میں فرق کر سکتے تھے۔ 

اصل میں یہ بعد کے ادوار کے مورخین کی غلطی ہے کہ انہوں نے مکھی پر مکھی مارتے ہوئے سابقہ مورخین کی بیان کردہ روایتوں کو آنکھیں بند کر کے قبول کیا اور پھر سند کے بغیر اپنی کتب میں درج کر لیا۔ ان کا کام یہ تھا کہ قدیم مورخین کی بیان کردہ روایتوں کی چھان بین کر کے اپنی کتب لکھتے لیکن روایت پرستی کی وجہ سے انہوں نے ایسا نہ کیا۔ تاہم محقق مورخین جیسے ابن کثیر (701-774/1301-1372) اور ابن خلدون (732-808/1332-1405) نے روایتوں پر تنقید بھی کی ہے لیکن ان حضرات نے بھی ہر اہم مقام پر ایسا نہیں کیا ہے بلکہ بعض مخصوص مواقع پر ہی ایسا کیا ہے۔ اس کی وجہ بھی شاید یہ رہی ہو گی کہ تاریخ کے جو معاملات ان کے زمانے میں اہمیت اختیار کر گئے، انہوں نے ان پر تاریخی تنقید کے اصول استعمال کیے لیکن جو معاملات ان کے زمانے میں زیادہ اہم نہیں سمجھے گئے، وہاں انہوں نے تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ہمارا بھی معاملہ یہی ہے کہ ہم انہی مسائل پر زیادہ گہرائی میں تحقیق کرتے ہیں جو ہمارے زمانے میں ہاٹ ایشوز بن جاتے ہیں اور دیگر معاملات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

کیا ایک روایت کا متعد دکتب میں پایا جانا اس کے مستند ہونے کی دلیل ہے؟

اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ مورخین نے روایتوں کو ایک دوسرے سے نقل کیا ہے۔ ایک مورخ اگر دوسرے مورخ سے کوئی روایت نقل کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ روایت میں کوئی اضافی مضبوطی پیدا ہو جاتی ہے۔ بعد کی کڑیوں میں جتنے مرضی لوگ روایت کرتے رہیں، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ واقعے کے عینی شاہدین کی تعداد کیا ہے؟ اس کی وضاحت ہم ایک مثال سے کرتے ہیں۔ ہم اپنے دور میں دیکھتے ہیں کہ کوئی مشہور آدمی قتل ہو گیا ہے۔ کوئی شخص یہ بیان کر دیتا ہے کہ اسے فلاں نے قتل کیا ہے۔ اس سے سن کر دس آدمی یہ بیان کرتے ہیں کہ فلاں نے فلاں کو قتل کیا ہے۔ پھر ان دس سے سن کر سو اور سو سے سن کر ہزار آدمی یہی بات بیان کرتے ہیں۔ عدالت میں ان سب کی گواہی صرف ایک ہی شخص کی مانی جائے گی کیونکہ اصل عینی شاہد ایک ہے۔ اگر وہ عینی شاہد قابل اعتماد نہیں ہے تو عدالت اس کی گواہی پر فیصلہ نہیں کر سکتی ہے۔

ڈایا گرام ۱

ڈایا گرام ۲

آپ ڈایا گرام ۱ میں دیکھ سکتے ہیں کہ  راوی  A نے کوئی بات دو افراد A1, A2 سے بیان کی۔ A1 نے وہ بات آگے دو مزید افراد A1.1, A1.2 سے کہی اور پھر A1.2 نے اسے مزید دو افراد A1.2.1 اور A1.2.2 سے کہہ دی۔ اسی طرح دوسرے شخص A2 نے اس بات کو زیادہ پھیلایا  اور چار افراد تک یہی بات پہنچا دی اور انہوں نے آگے اس بات کو پہنچا دیا۔ ڈایا گرام کے اندر اگرچہ  تیرہ افراد اس بات کو کہہ رہے ہیں لیکن درحقیقت یہ بات ایک ہی شخص A کی کہی ہوئی بات ہے۔ اگر یہی شخص A قابل اعتماد نہیں ہے تو بات بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ جعلی تاریخی روایات میں یہ چیز عام ہے کہ کسی واقعے کو  بیان کرنے والا ایک ہی شخص ہوتا ہے جس کا اپنا چال چلن مشکوک ہوتا ہے۔

واقعے سے متعلق ان شہادتوں کی ایک اور شکل ہو سکتی ہے جو ڈایا گرام ۲ میں بیان کی گئی ہے۔ اس میں دیکھیے تو بظاہر اس واقعے کو چار افراد W, X, Y, Z بیان کر رہے ہیں اور دعوی موجود ہے کہ وہ عینی شاہد ہیں۔ لیکن ان چاروں کی بات کو صرف اور صرف ایک شخص A بیان کر کے  آگے پھیلا رہا ہے۔ اس وجہ سے پوری بات کے مستند ہونے کا دار و مدار اسی ایک شخص پر ہے۔ اگر یہ شخص جھوٹ بولتا ہو تو ممکن ہے کہ اپنے سے پہلے دس بیس پچاس عینی شاہد پیدا کر لے۔  جعلی تاریخی روایات میں بالعموم یہی معاملہ ہے۔  عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ایک روایت کو کئی مورخین بیان کرتے ہیں لیکن اس کی سند کسی ایک شخص جیسے ابو مخنف یا واقدی پر پہنچ کر یہی شکل اختیار کر لیتی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔ اس کے بعد یہی شخص اپنے اوپر کے بہت سے راوی پیدا کر لیتا ہے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  سید ابو الاعلی مودودی۔  خلافت و ملوکیت۔ حدیث و تاریخ کا فرق۔ ص 302-304

[2]  خالد کبیر علال۔ مدرسۃ الکذابین فی روایۃ التاریخ الاسلامی و تدوینہ۔ 115۔ الجزائر: دار البلاغ