بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 2: عہد صحابہ کی تاریخ پر تحقیق

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ باب 1 میں اس سلسلے کے کچھ بنیادی تصورات بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے باب 2 سے پہلے باب 1 کا مطالعہ ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

کچھ اس کتاب کے بارے میں

آپ کی یہ کتاب جانبدارانہ کیوں ہے؟

اس کتاب پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے اس کتاب میں جگہ جگہ  تعصب کی مذمت کی ہے اور قارئین کو غیر متعصبانہ رویہ اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ دوسری جانب آپ نے صحابہ کرام کے حق میں جانب داری کا مظاہرہ کیا ہے اور ان تمام روایات کو مسترد کر دیا ہے جن میں ان کے خلاف کوئی بات جاتی ہو اور ان روایات کو قبول کیا ہے جن میں کوئی بات ان کے حق میں جاتی ہو۔  کیا یہ دوغلی پالیسی اور تعصب نہیں ہے؟

اس کے جواب میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم ہرگز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حق میں بھی متعصب نہیں ہیں۔ ان سے متعلق جو معلومات ہمیں قرآن، حدیث اور تاریخی روایات کی صورت میں ملتی ہیں، اس کے دو حصے ہیں: قرآن مجید اور صحیح احادیث سے تو  ان کی جو تصویر سامنے آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ یہ حضرات انسانی اخلاق کے اعلی ترین مرتبہ پر فائز تھے۔ اسلام دشمن کفار کے مقابلے میں یہ سخت تھے  اور آپس میں ایک دوسرے  کے لیے سراپا رحمت تھے۔ تاریخی روایات کا بڑا حصہ بھی ان کی یہی تصویر پیش کرتا ہے اور اس کی مثالیں ہم اس کتاب کے شروع میں پیش کر چکے ہیں اور مزید مثالیں آگے آ رہی ہیں۔ اس کے برعکس تاریخی روایات کا ایک قلیل حصہ، جس کے راوی ہشام کلبی، ابو مخنف، واقدی اور سیف بن عمر ہیں، اس کے برعکس یہ تصویر پیش کرتا ہے کہ بعض صحابہ آپس میں ایک دوسرے سے بغض رکھتے تھے اور انسانی اخلاق کے پست ترین مرتبہ پر فائز تھے۔ ان چاروں مورخین کے بارے میں یہ بات ائمہ فن نے بیان کر دی ہے کہ یہ مورخین جھوٹ گھڑ کر پھیلایا کرتے تھے۔ تاریخی تحقیق کے مسلمہ اصول جن پر اہل مغرب اور اہل مشرق سبھی کا اتفاق ہے، یہ ہیں:

·       کسی شخص یا گروہ کےبارے میں  ایسی منفی بات جو اس کے تعصب رکھنے والے بیان کرتے ہوں، قابل قبول نہ ہو گی۔

·       کسی شخص یا گروہ کے بارے میں ایسی بات، جو اس کے مجموعی کردار سے مطابقت نہ رکھتی ہو، قابل قبول نہ ہو گی۔

ہم نے اس کے سوا اور کچھ نہیں کیا کہ  ان اصولوں کا بے لاگ اطلاق کرتے ہوئے مذکورہ بالا مورخین کی ان روایات کو، جو ان اصولوں سے مطابقت نہ رکھتی ہوں، مسترد کر دیا ہے۔  کیا اس رویے کو جانبداری اور تعصب کہا جا سکتا ہے؟ اب اگر اسے کوئی بھی شخص صحابہ کرام کے حق میں تعصب کہتا ہے، تو وہ کہہ لے لیکن تاریخ کے غیر جانبدار ماہرین ایسا ہرگز نہ کہیں گے۔ غیر مسلم ماہرین تحقیق سے اس سلسلے میں رائے لی جا سکتی ہے کیونکہ مسلمانوں کے اندرونی اختلافات سے انہیں تو کوئی سرو کار نہ ہو گا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں بعض لوگ یہ رویہ اختیار کرتے ہیں کہ کسی ایک کے حق میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ اس سے دوسرے صحابہ کی تنقیص ہوتی ہے۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ اس رویے سے بچتے ہوئے تمام صحابہ کا یکساں احترام کریں۔ اگر ان کے درجات میں فرق ہے تو وہ اللہ تعالی کے ہاں ہو گا۔ ہمارے لیے یہ سب سروں کے تاج ہیں۔

مثبت روایات کی تحقیق کیوں نہیں کی گئی؟

اس کتاب پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ اس میں جو مثبت روایات دی گئی ہیں، ان کی فن رجال اور جرح و تعدیل کے تحت تحقیق کیوں نہیں کی گئی ہے؟ ان میں سے بہت سی روایتیں ضعیف ہوں گی۔

ہمیں اس بات کا اعتراف ہے کہ اس کتاب میں ہم نے جو مثبت روایات بیان کی ہیں، اگر ان کی فن رجال کے تحت تحقیق کی جائے تو  ان میں سے بہت سی روایتیں ضعیف اور بہت سی روایتیں صحیح ثابت ہوں گی۔ اس کے برعکس اگر منفی روایتوں کو دیکھا جائے تو وہ سب کی سب ضعیف بلکہ موضوع (Fake) کے درجے کی ہیں۔  اس طرح منفی ضعیف روایتوں کے مقابلے پر مثبت ضعیف روایتیں ہی موجود ہیں۔ مثبت روایات کو ہم نے محض اس وجہ سے قبول نہیں کیا کہ یہ فن جرح و تعدیل کے تحت صحت کے درجے  پر پورا اترتی ہیں بلکہ اس وجہ سے قبول کیا ہے کہ یہ قرآن مجید اور صحیح احادیث سے مطابقت رکھتی ہیں۔

اب اگر کوئی صاحب یہ کہیں کہ فن جرح و تعدیل  کے معیار پر جو بھی روایت پوری  نہ اترے، خواہ وہ منفی ہو یا مثبت، تو اسے رد کر دینا چاہیے۔ ہم اس رائے کا احترام کریں گے اور یہ کہیں گے کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ تاہم اس صورت میں انہیں صرف اور صرف قرآن مجید اور صحیح احادیث ہی پر اعتماد کرنا چاہیے اور بحیثیت مجموعی صحابہ کرام کے بارے میں یہ نظریہ رکھنا چاہیے کہ وہ ’’رحماء بینہم‘‘ تھے۔  پھر انہیں کسی بھی منفی روایت پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ موجودہ دور میں مسعود احمد صاحب نے اپنی کتاب ’’تاریخ الاسلام و المسلمین‘‘ میں یہی اسلوب اختیار کیا ہے اور صرف قرآن مجید، صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے یہ تاریخ مرتب کی ہے۔

جب مثبت اور منفی روایات دونوں ہی موجود ہوں اور دونوں ہی ضعیف کے درجے پر ہوں تو پھر عقلاً یہ صورتیں ممکن ہیں:

1.  مثبت اور منفی دونوں قسم کی روایات کو قبول کر لیا جائے۔  یہ عقلاً محال ہے۔

2.  منفی روایات کو قبول اور مثبت کو مسترد کیا جائے۔ بہت سے لوگوں نے ایسا کیا ہے۔ جن لوگوں کو حضرت عثمان و معاویہ رضی اللہ عنہما کے خلاف تعصب ہے، انہوں نے ان سے متعلق ایسا کیا ہے جبکہ جنہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف تعصب ہے، انہوں نے ان کے متعلق ایسا کیا ہے۔ یہ رویہ یقیناً متعصبانہ ہے۔

3.  سبھی صحابہ کے بارے میں مثبت روایات کو قبول اور منفی کو مسترد کیا جائے۔ ہمارے خیال میں یہی کرنا چاہیے کیونکہ قرآن مجید اور صحیح احادیث اسی کی تائید کرتی ہیں۔  اس رویے کو اگر کوئی متعصبانہ اور جانبدارانہ کہے تو بہرحال یہ درست نہیں ہو گا۔

4.  دونوں قسم کی روایات کو مسترد کر دیا جائے۔ یہی غیر جانبداری ہو سکتی ہے لیکن اس صورت میں کسی قسم کی تاریخی بحث کرنا ممکن نہیں ہے۔

اس وجہ سے ہم نے  تیسری صورت کو اختیار کیا ہے لیکن یہ واضح رہے کہ یہ مثبت رویہ ہم نے تمام ہی تاریخی شخصیات کے بارے میں روا رکھا ہے۔

تمام تاریخی شخصیات کے بارے میں آپ نے مثبت رویہ اختیار کیوں کیا ہے؟

اس کتاب پر یہ اعتراض بھی کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے صرف صحابہ کرام ہی نہیں بلکہ تمام تاریخی شخصیات کے بارے میں مثبت رویہ اختیار کیوں کیا ہے۔ حتی کہ جن شخصیات کے بارے میں نہایت منفی باتیں کتب تاریخ میں ملتی ہیں، ان کے بارے میں بھی حسن ظن کی آپ تلقین کیوں کرتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ہم قرآن مجید کی یہ آیت پیش کر سکتے ہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنْ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلا تَجَسَّسُوا وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ.

اے اہل ایمان! آپ لوگوں کو چاہیے کہ بہت زیادہ گمان کرنے سے بچا کریں۔ یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ (کسی کی ذات سے متعلق) تجسس نہ کیا کریں اور نہ ہی آپ میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا آپ میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ آپ لوگ یقیناً اس سے کراہت محسوس کریں گے۔ اللہ سے ڈرتے رہیے کہ یقیناً اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔  (الحجرات 49:12)

جو لوگ ہمارے زمانے سے پہلے گزر گئے، ہمارے پاس کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے کہ ہم ان کے اعمال کی جانچ پڑتال کر کے ان پر حکم لگا سکیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو اپنی حدود سے تجاوز ہو گا۔ تاریخی روایات کے بارے میں یہ بات معلوم و معروف ہے کہ ان میں بہت سا جھوٹ داخل کیا گیا ہے۔ لوگوں نے اپنے قبائلی، گروہی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی بنیاد پر ایک دوسرے پر الزام تراشی کی ہے ، جو کہ تاریخی روایات کا حصہ بن گئی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کس نے کیا جھوٹ ان روایات میں داخل کیا ہے؟ اس وجہ سے ہمیں کسی خاص شخصیت کے بارے میں منفی رائے نہیں رکھنی چاہیے بلکہ اس کے معاملے کو اللہ تعالی کے سپرد کر دینا چاہیے۔ ان شخصیات کے بارے میں دو غلط صورتیں ممکن ہیں:

1۔ یہ واقعی برے ہوں اور ہم ان کے بارے میں اچھی رائے  رکھ بیٹھیں۔

2۔ یہ فی الحقیقت اچھے ہوں اور ہم ان کے بارے میں بری رائے اختیار کر لیں۔

پہلی صورت میں ہمارے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آخرت میں اللہ تعالی ہمیں اس بات پر ہرگز سزا نہ دیں گے کہ ہم نے کسی برے شخص کے بارے میں اچھی رائے کیوں اختیار کر لی تھی لیکن دوسری صورت انتہائی خطرناک ہے۔ ایک شخص فی الحقیقت اچھا تھا، لیکن ہم نے محض تاریخی روایات کے سبب اس کے بارے میں بری رائے اختیار کر لی تو کم از کم ہمیں  اس بات کے لیے تیار ضرور رہنا چاہیے کہ روز قیامت اگر اللہ تعالی نے پوچھ لیا کہ مشکوک معلومات کی بنیاد پر تم نے بدگمانی اور غیبت کا ارتکاب کیوں کیا تو ہم کیا جواب دیں گے؟

ان مخصوص مورخین کے بارے میں حسن ظن کیوں نہ رکھا جائے؟

یہاں یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ پھر ابو مخنف، ہشام کلبی، واقدی اور سیف بن عمر کے بارے میں بھی حسن ظن رکھنا چاہیے کہ انہوں نے سچ ہی لکھا ہو گا۔ ان پر جھوٹ کا الزام لگانا کیا بدگمانی اور غیبت نہیں ہے؟  اس کا جواب یہ ہے کہ حسن ظن اور چیز ہے اور کسی معاملے میں احتیاط اور چیز۔ فرض کیجیے کہ اگر ہمیں کسی شخص سے کروڑوں کی ڈیل کرنا ہو یا اس کے ساتھ اپنی بچی کا رشتہ کرنا ہو اور ہمارا کوئی قابل اعتماد دوست ہمیں آکر یہ بتائے کہ یہ شخص دراصل بہت بڑا فراڈیا اور دھوکے باز ہے تو کیا ہمیں حسن ظن سے کام لیتے ہوئے اس شخص سے معاملہ کر لینا چاہیے؟ یقینی طور پر ہمیں اس شخص سے حسن ظن تو رکھنا چاہیے مگر اس سے ڈیل میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ہم یا تو اس شخص کے بارے میں تحقیقات کریں گے اور اگر تحقیق ممکن نہ ہوئی اور ڈیل کرنے سے اجتناب کریں گے۔

بعینہ یہی معاملہ ان راویوں کے ساتھ بھی کرنا چاہیے کہ ان سے حسن ظن رکھتے ہوئے ان کی روایتوں کو قبول کرنے میں احتیاط برتنا چاہیے۔ یہ احتیاط حسن ظن کے خلاف نہیں ہے۔  سورۃ الحجرات میں جہاں ہمیں حسن ظن کا حکم دیا گیا ہے، وہاں اس بات کا حکم بھی موجود ہے کہ کسی غلط شہرت رکھنے والے کی بات پر قدم اٹھانے سے پہلے اس بات کی تحقیق کر لینا چاہیے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ.

اے اہل ایمان! اگر آپ لوگوں کے پاس کوئی فاسق خبر لے آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کسی گروہ کو جہالت میں نقصان پہنچا بیٹھیں اور پھر اپنے فعل پر نادم ہوں۔  (الحجرات 49:6)

اب چونکہ ان راویوں کے بارے میں ہمیں نہایت ہی قابل اعتماد اہل علم نے بتا دیا ہے کہ یہ متعصب اور جھوٹ گھڑنے والے لوگ ہیں، اس وجہ سے ہمیں چاہیے کہ ان کی بیان کردہ روایات کی چھان بین ضرور کر لیں۔  ہمیں ان راویوں کی ذات سے کوئی دشمنی نہیں رکھنی چاہیے لیکن ان کی بیان کردہ روایات کو قبول کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے۔  پھر ان راویوں کی اپنی روایات میں تضاد موجود ہے۔ ان کی بعض روایات صحابہ کرام کی بڑی مثبت تصویر پیش کرتی ہیں اور بعض منفی۔ دونوں قسم کی روایات میں سے ایک ہی قسم درست ہو سکتی ہے۔ بیک وقت دونوں قسم کی روایات کو قبول کرنا عقلاً ممکن نہیں ہے۔ اب یہ ہر شخص کا اپنا انتخاب ہے کہ وہ مثبت تصویر والی روایتوں کو قبول کرے جو قرآن مجید اور صحیح احادیث کے مطابق ہیں یا پھر منفی تصویر والی روایتوں پر ریجھ جائے۔ بس یہ خیال رکھیے کہ دونوں صورتوں کا آخرت میں کیا انجام ہو سکتا ہے؟

اس کتاب کا مقصد کیا ہے؟

اس کتاب کے لکھنے کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہمارے ہاں جو روایات پائی جاتی ہیں، فرقہ وارانہ تعصبات سے ماوراء ہو کر ان کا تجزیہ کیا جائے اور علم تاریخ کی رو سے  ان کا جائزہ لیا جائے۔ اس کتاب کے لکھنے میں جو محنت صرف ہوئی ہے، اس پر میں اللہ تعالی کے سوا کسی سے بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ جنت میں جب حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، معاویہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھیں گے اور اپنے ان محبین سے ملاقات کریں گے جنہوں نے ان کا ساتھ دیا ہو گا اور ان کی کچھ خدمت کی ہو گی، تو ان محبین اور خدمت گاروں کی فہرست میں اللہ تعالی اس بندہ ناچیز کا نام بھی لکھ دیں اور  ان جلیل القدر صحابہ کی محفل میں کہیں آخری کونے میں جگہ عنایت فرما دیں۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter