بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 2: عہد صحابہ کی تاریخ پر تحقیق

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ باب 1 میں اس سلسلے کے کچھ بنیادی تصورات بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے باب 2 سے پہلے باب 1 کا مطالعہ ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ایک عام آدمی تاریخی روایات کی چھان بین کیسے کر سکتا ہے؟

یہ کہا جا سکتا ہے کہ جناب ان تاریخی روایات کی چھان بین تو وہی کر سکتا ہے جسے عربی زبان اور فن تاریخ میں مہارت حاصل ہو۔ ایک عام آدمی یہ کیسے جانچ سکتا ہے کہ کس کی بات درست ہے اور کس کی غلط۔ اس کے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ ایک عام آدمی بھی اگر اپنی عقل کو استعمال کرے تو وہ بآسانی یہ جانچ پڑتال کر سکتا ہے کہ کیا بات درست ہے۔ اس کتاب میں ہم نے ایک عام آدمی کے نقطہ نظر سے یہی کوشش کی ہے۔ آپ اگر ان نکات پر عمل کریں تو اس کتاب میں ہم نے جو کچھ پیش کیا ہے، اس کی تصدیق آپ خود کر سکتے ہیں:

1۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ اردو کی کتب تاریخ میں جو مواد ملتا ہے، وہ بالعموم پوری تحقیق اور چھان بین کے بعد نہیں لکھا گیا ہے۔ اردو کی کوئی کتاب پڑھتے وقت جس واقعے سے متعلق کوئی سوال آپ کے ذہن میں پیدا ہو، اس کے بارے میں دیکھیے کہ مصنف نے ماضی کی کس کتاب کا حوالہ دیا ہے۔ اگر انہوں نے یہ حوالہ قرون وسطی (جیسے ابن اثیر، ابن کثیر، ابن خلدون وغیرہ) کی کسی کتاب کا دیا ہے تو ان کتب میں جا کر دیکھیے کہ قرون وسطی کے ان مصنفین نے تیسری صدی ہجری کی کون سی کتاب سے وہ بات بیان کی ہے۔  جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ  عہد صحابہ کی تاریخ کے قدیم ترین ماخذ جو اس وقت دستیاب ہیں، وہ تیسری صدی میں لکھے گئے اور عام تاریخی روایات کا 95% حصہ تین کتابوں میں ملتا ہے جو ابن سعد، بلاذری اور طبری نے لکھی ہیں۔ اگر قرون وسطی کے کسی مورخ نے کوئی حوالہ نہیں دیا ہے تو پھر یہ بات لائق اعتماد نہیں ہے۔ اگر حوالہ دیا ہے تو پھر تیسری صدی ہجری کی متعلقہ کتب میں دیکھیے کہ اس واقعے کی سند کیا ہے؟

2۔ سند میں جند راویوں  کے نام بیان ہوئے ہیں، ان پر غور کیجیے۔ اگر یہ ابو مخنف لوط بن یحیی، ہشام  بن محمد کلبی، واقدی یا سیف بن عمر  التیمی میں سے کوئی ایک ہے، تو روایت کو بلا تامل مسترد کر دیجیے۔  عام طور پر جن روایات میں مسئلہ پیدا ہوتا ہے، وہ انہی چاروں میں سے کسی کی روایت کردہ ہوتی ہیں۔ اگر ان چاروں کے علاوہ کوئی اور شخص ہے تو آپ  علم جرح و تعدیل کے کسی انسائیکلو پیڈیا میں اس راوی کے حالات کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔  راویوں کے نام ہجائی ترتیب (Alphabetical order) میں ہوتے ہیں اور انہیں ڈھونڈنا بہت آسان ہے۔ چونکہ یہ کتب عربی میں ہیں، اس وجہ سے اگر آپ عربی نہیں جانتے تو مشکل ہو سکتی ہے۔ لیکن اس مسئلے کا حل یہ ہے  کہ آپ کسی بھی عربی جاننے والے سے پڑھوا کر دیکھ لیجیے۔  ویسے علم جرح و تعدیل کی کتب  کی  زبان بہت سادہ ہوتی ہے اور آپ اگر چند الفاظ کے معانی سیکھ لیں تو یہ جان سکتے ہیں کہ اس راوی کی حیثیت کیا ہے۔  الفاظ یہ ہیں:

·       ثقہ: قابل اعتماد

·       حجۃ: بہت ہی زیادہ قابل اعتماد

·       مجروح: جس پر جرح کی گئی ہو، یعنی ایک حد تک ناقابل اعتماد

·       صدوق :سچا آدمی ہے۔ یہ لفظ ایسے راوی کے بارے میں کہا جاتا ہے جو جھوٹ تو نہ بولتا ہو لیکن روایت کو محفوظ رکھ کر منتقل کرنے میں  کمزور ہو۔

·       لا باس بہ: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ جملہ ایسے راوی کے متعلق کہا جاتا ہے جو ناقابل اعتماد نہ ہو مگر بہت زیادہ قابل اعتماد بھی نہ ہو۔

·       غیر ثقہ / ضعیف: ناقابل اعتماد

·       متروک: بہت زیادہ ناقابل اعتماد

·       کذاب: جھوٹا آدمی جو روایتیں گھڑتا ہو۔ انتہائی ناقابل اعتماد۔

·       دجال: انتہا درجے کا جھوٹا آدمی جو جھوٹ کے علاوہ مکرو فریب سے بھی کام لیتا ہو۔

·       مدلس: وہ شخص جو روایتوں کی سند میں ایک خاص قسم کی گڑ بڑ کرتا ہو یعنی کمزور راویوں کو چھپا لیتا ہو۔

3۔ تاریخ طبری، انساب الاشراف، طبقات ابن سعد وغیرہ انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر لیجیے۔ ان کتب کے اوریجنل عربی ورژن اور اس کے ساتھ اردو ترجمے ڈاؤن لوڈ کر لیجیے۔ ان کے لنک یہاں دیے جا رہے ہیں۔ یہ 2012 میں ہماری اس تحریر کے وقت کو کام کر رہے تھے۔ اگر یہ لنک بعد میں تبدیل ہو جائیں تو آپ کسی سرچ انجن سے ان کتابوں کو تلاش کر سکتے ہیں۔  مکتبہ وقفیہ پر آپ مینو میں سے متعلقہ سیکشن تلاش کر سکتے ہیں اور اس سیکشن کے مختلف ویب پیج پلٹتے جائیے۔ آپ کو یہ کتب مل جائیں گی۔ اسی طرح مکتبہ مشکاۃ الاسلامیہ پر بھی آپ سیکشن کے ذریعے یہ کتب تلاش کر سکتے ہیں۔ کتاب و سنت ڈاٹ کام پر ہم نے کتاب کی بجائے مصنف کا مین پیج دے دیا ہے، جو امید ہے کہ جلد تبدیل نہیں ہو گا۔

·       تاریخ الرسل و الملوک از طبری ۔۔۔ عربی پی ڈی ایف ورژن: (مکتبہ وقفیہ، سیکشن: التاریخ)

http://www.waqfeya.com/category.php?cid=7&st=135

·       تاریخ الرسل و الملوک از طبری ۔۔۔ عربی ورڈ ورژن: (مکتبہ مشکاۃ الاسلامیہ، سیکشن: "التاریخ الاسلامی")

http://www.almeshkat.net/books/open.php?cat=13&book=620

·       تاریخ الرسل و الملوک از طبری ۔۔۔ اردو ترجمہ پی ڈی ایف ورژن: (کتاب و سنت ڈاٹ کام، مصنف: محمد بن جریر الطبری)

http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/musannifeen/article/190-authors/1749-allama-abi-jafar-mohammad-bin-jurair-al-tabri.html

·       طبقات ابن سعد۔۔۔ عربی پی ڈی ایف ورژن (مکتبہ وقفیہ، سیکشن: التراجم و الاعلام)

http://www.waqfeya.com/category.php?cid=25&st=225

·       طبقات ابن سعد ۔۔۔۔ اردو پی ڈی ایف ورژن: (کتاب و سنت ڈاٹ کام، مصنف: محمد بن سعد کاتب الواقدی)

http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/musannifeen/article/190-authors/1726-muhammad-bin-sad-katib-alwaqdi.html

·       انساب الاشراف ۔۔۔۔ عربی پی ڈی ایف ورژن

http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=115007

·       میزان الاعتدال ۔۔۔۔ عربی پی ڈی ایف ورژن (مکتبہ وقفیہ، سیکشن: الجرح و التعدیل)

http://www.waqfeya.com/category.php?cid=14&st=120

·       میزان الاعتدال ۔۔۔۔ عربی ورڈ ورژن (مکتبہ مشکاۃ الاسلامیہ ، سیکشن: علم رجال الحدیث)

http://www.almeshkat.net/books/open.php?cat=23&book=651

·       سیرت الاعلام النبلا ۔۔۔ ۔ عربی آن لائن انسائیکلو پیڈیاجس میں تمام راویوں کے حالات آن لائن موجود ہیں اور آپ ان کے نام کے کسی حصے سے انہیں سرچ بھی کر سکتے ہیں۔ بس آپ کو عربی میں ٹائپ کرنا آتا ہو۔  عربی کا کی بورڈ اردو سے تھوڑا سا مختلف ہے اور بعض حروف جیسے أ، ئ، ؤ، ي، ی میں کچھ فرق پایا جاتا ہے۔ اگر آپ ٹائپ نہ کر سکتے  ہوں تو ان ناموں کو کاپی پیسٹ کر کے بھی کام چلا سکتے ہیں۔

http://www.islamweb.net/hadith/RawyList.php

4۔ اس کتاب میں آپ جو حوالہ پڑھیں، اس کا مکمل ریفرنس فٹ نوٹس میں دیا گیا ہے۔  عام طور پر 4/200 کا مطلب ہے کہ متعلقہ کتاب کی جلد نمبر 4 کا صفحہ نمبر 200۔ تاریخ طبری  کو تاریخ وار مرتب کیا گیا ہے اور اس کی جلدیں جس طرح شائع ہوئی ہیں،  ان میں سے ہر جلد کے اندر دو دو حصے بنا دیے گئے ہیں۔ اس وجہ سے اس کا حوالہ ہم نے اس طرح دیا ہے 25H/4/2-200 ۔ اس کا مطلب ہے 25 ہجری کے باب میں جلد 4 کے حصہ 2 کا صفحہ 200۔  سال کا ریفرنس دینے کا فائدہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس طبری کا کوئی اور ورژن ہو تو آپ اس سال کے باب میں جا کر متعلقہ اقتباس کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔ اس طرح ریفرنس کے مطابق متعلقہ کتاب میں جا کر  دیکھ لیجیے اور اس کی تصدیق کر لیجیے۔ ورڈ ورژن کو آپ سرچ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جبکہ پی ڈی ایف ورژن کو آپ  مطالعہ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔  ہم نے کوشش کی ہے کہ دیگر کتب میں بھی حوالہ ایسے طریقے سے دیا جائے کہ اگر آپ کے پاس کتاب کا کوئی اور ورژن بھی ہو، تو آپ اس حوالے کو متعلقہ کتاب سے نکال کر اس کی تصدیق کر سکیں۔

طبری کے حوالے ہم نے اردو ورژن کے دیے ہیں تاکہ عام قارئین اس سے فائدہ اٹھا سکیں لیکن اردو ورژن میں مسئلہ یہ ہے کہ اکثر اوقات روایتوں کی سند کو حذف کر دیا جاتا ہے۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ روایت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اصل عربی ورژن سے اس روایت کی سند بھی بیان کر  دی جائے۔ اگر آپ  سند کی تصدیق کرنا چاہیں تو عربی ورژن میں متعلقہ سال کے باب میں دیکھ سکتے ہیں۔

5۔ جن روایات پر ہم نے تنقید کی ہے، ان کی مکمل سندیں اس کتاب کے اندر ہم نے فراہم کی ہیں۔ ان اسناد کو چیک کر لیجیے اور جن راویوں کی بنیاد پر ہم نے روایات کو غیر مستند قرار دیا ہے، ان کے حالات آپ شمس الدین ذہبی (673-748/1275-1347)کی کتابوں میزان الاعتدال اور سیر الاعلام النبلا میں پڑھ سکتے ہیں جو کہ فن رجال کے جامع انسائیکلو پیڈیا ہیں۔  ان کتب کا اوریجنل عربی ورژن ہی دستیاب ہے، اردو ترجمہ نہیں ہوا۔ لیکن اس کی زبان بالکل آسان اور سادہ ہے اور آپ متعلقہ راوی کو تلاش کر کے اس کے متعلق محدثین کی آراء پڑھ سکتے ہیں۔  جیسے لفظ کذاب، یا ثقہ، یا صدوق وغیرہ تو آپ سمجھ ہی سکتے ہیں۔  جہاں جہاں ہم نے راویوں پر جرح و تعدیل نقل کی ہے، وہاں ان کتب سے ہم نے متعلقہ راوی کا نمبر دے دیا ہے۔  اگر یہ نمبر کچھ آگے پیچھے ہو جائے تو ان کے نام ان کتب میں حروف تہجی کی ترتیب میں ہیں۔

اس طریقے سے ہم نے جو کچھ لکھا ہے، اس کی تصدیق آپ خود کر سکتے ہیں۔ جہاں پر ہم نے روایات کا تجزیہ کیا ہے اور اپنے دلائل پیش کیے ہیں، اس تجزیے کو آپ اپنی عقل سے پرکھ سکتے ہیں۔ اگر یہ درست محسوس ہو تو مان لیجیے ورنہ آپ خود ان روایات کا اپنا تجزیہ کر سکتے ہیں۔  اللہ تعالی نے ہمیں عقل اسی لیے دی ہے کہ ہم اسے تجزیہ کرنے کے لیے استعمال میں لائیں۔  کسی بات کو محض اس وجہ سے ہرگز نہ مانیے کہ اسے ماضی کی کسی عظیم شخصیت نے درج کیا ہے بلکہ اپنے ذہن کو استعمال کیجیے۔ مسلمہ تاریخی اصولوں کو مدنظر رکھیے اور ان کی خلاف ورزی نہ کیجیے۔ ہم نے اس کتاب میں جو باتیں بیان کی ہیں، انہیں ہرگز اس وقت تک تسلیم نہ کیجیے جب تک کہ آپ ان کی خود تصدیق نہ کر لیں۔

6۔ ان تفصیلات کو پڑھنے کے بعد بھی جو سوالات آپ کے ذہن میں رہ جائیں، وہ آپ بلا تکلف ہمیں نیچے دیے ہوئے ایڈریس پر ای میل کر دیجیے۔ ہم کوشش کریں گے کہ جلد از جلد آپ کی خدمت میں اس کا جواب پیش کر دیا  جائے۔  ایڈریس یہ ہے:

mubashirnazir100@gmail.com

خلاصہ باب

یہاں ہم اوپر کی بحث کا  خلاصہ چند اصولوں کی صورت میں بیان کر رہے ہیں:

·       اصول نمبر 1: ایسی روایت، جس  میں کسی خاص شخصیت کی کردار کشی ہو اور اسے بیان کرنے والا کوئی راوی  اس شخصیت کے خلاف تعصب رکھتا ہو،  ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ ہاں اس راوی کی دیگر عام باتوں کو قبول کیا جا سکتا ہے۔

·       اصول نمبر 2: روایت میں جو بات بیان ہوئی ہے، اسے اس زمانے کے مجموعی مزاج اور کیفیت سے مطابقت رکھنی چاہیے۔  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہمیں قرآن مجید سے معلوم ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔  ہزاروں روایتیں بھی اسی بات کی تائید کرتی ہیں اور یہ بات تواتر سے ثابت ہے۔ اس وجہ سے کوئی بھی ایسی روایت ، جو صحابہ کرام کے درمیان باہمی بغض اور نفرت کو ظاہر کرتی ہو، جھوٹی اور جعلی روایت ہے۔ اس بات کی مزید تصدیق اصول نمبر 1 سے کی جا سکتی ہے۔

·       اصول نمبر 3: حسن ظن سے کام لیجیے کہ اللہ تعالی نے ہمیں حسن ظن کا حکم دیا ہے۔ تاریخی روایات اگر حد تواتر کو نہ پہنچیں تو ان سے محض "ظن" اور "گمان" ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی تاریخی شخصیت کے کسی عمل کے بارے میں اس وقت تک منفی رائے قائم نہ کیجیے جب تک کہ تواتر سے ا س کے بارے میں منفی بات معلوم نہ ہو جائے۔  اس کے بعد بھی اپنی رائے کو اس کے عمل تک ہی محدود رکھیے۔ اس کی شخصیت پر کفر، فسق وغیرہ کا حکم نہ لگائیے  کہ یہ صرف اللہ تعالی کا کام ہے۔ وہی فیصلہ کرے گا کہ کون کافر ہے اور کون فاسق۔ ہماری رائے زیادہ سے زیادہ یہ ہونی چاہیے کہ کیا عمل درست تھا اور کیا غلط؟

اس کے علاوہ ہم نے اس باب میں مختلف ادوار میں مرتب کی جانے والی تاریخ کی تاریخ بیان کی ہے اور اہم مورخین کے نام اور ان کے قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے پر بحث کی ہے۔

اگلے باب سے ہم خلفاء راشدین میں سے ایک ایک کے دور کو لے کر اس زمانے سے متعلق اہم سوالات پر بحث کریں گے۔

 

اسائن منٹس

۱۔ مسلم امت کی چودہ سو سالہ تاریخ کے اہم مورخین کون کون سے ہیں؟ ان کے نام اور زمانے کا تعین کیجیے۔

۲۔ عہد صحابہ سے متعلق تاریخی روایات کے سب سے قدیم مآخذ کون سے ہیں؟ ان کی ایک فہرست تیار کیجیے۔

۳۔  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کردار کشی جن مورخین اور راویوں نے کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے اسباب کیا تھے؟

۴۔ علم جرح و تعدیل کیا ہے؟ کیا تاریخی روایات کی جانچ پڑتال کے لیے علم جرح و تعدیل کو استعمال کرنا چاہیے؟ اس ضمن میں کون سے دو نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں؟ دونوں نقطہ ہائے نظر کے دلائل بیان کر کے اس پر اپنی رائے بیان کیجیے کہ کون سا نظریہ درست ہے؟

۵۔’’ایک عام آدمی تاریخی روایات کی چھان بین کیسے کر سکتا ہے؟‘‘ کے عنوان کے تحت جو کچھ بیان ہوا ہے، اس کی پریکٹس کیجیے۔ کوئی سی تین تاریخی روایت لے کر اس عنوان کے تحت بیان کردہ طریقہ کار کا اس پر اطلاق کیجیے۔ 

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter