بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 3: عہد صدیقی و فاروقی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

خلافت راشدہ کا سیاسی نظام

یہ سوال خلافت راشدہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی کی بنیاد پر اگلے بہت سے سوالوں کے جواب ملتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ خلافت راشدہ کا سیاسی نظام کیا تھا اور اس کے خدو خال کیا تھے؟ دنیا میں انسانوں نے حکومت کے بہت سے نظام تیار کیے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی خصوصیات دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان میں بادشاہت، آمریت، تھیو کریسی، سیکولر ازم، ارسٹو کریسی،  فیوڈل ازم، قبائلی نظام، جمہوریت وغیرہ شامل ہیں۔ پھر جمہوریت میں پارلیمانی اور صدارتی نظام رائج ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں اور مختلف زمانوں میں یہ سب کے سب نظام رائج رہے ہیں۔ اس بات کا تعین کرنے سے پہلے کہ خلافت راشدہ کا نظام کیا تھا، مناسب ہو گا کہ ہم ان نظاموں کی بنیادی خصوصیات بیان کرتے چلیں۔  پھر اس کی مدد سے ہم  اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کریں گے کہ خلافت راشدہ کے دور میں کون سا سیاسی نظام  رائج ہوا؟ واضح رہے کہ یہاں کسی نظام کی تائید یا تردید مطلوب نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ مختلف سیاسی نظاموں کا تقابلی مطالعہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ عہد خلافت راشدہ اور پھر بعد کے ادوار میں کون سا نظام حکومت رائج ہوا۔

بادشاہت یا ملوکیت (Monarchy)

بادشاہت  یا ملوکیت وہ نظام ہے جس میں حکومت کو ایک خاص خاندان (Bloodline)کا حق مان لیا جاتا ہے۔  اس خاندان کے ایک شخص کو بادشاہ بنا دیا جاتا ہے جو اپنے کارندوں کی مدد سے حکومت کرتا ہے۔ یہ بادشاہ بالعموم قوانین سے ماوراء ہوتا ہے اور اسے استثنا حاصل ہوتا ہے۔ بادشاہ کا کہا ہوا ایک ایک لفظ قانون ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کے دوران کوئی شخص یا گروہ اسے حکومت سے اتار نہیں سکتا  اور ایسا کرنے والے کو باغی سمجھا جاتا ہے۔ بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے یا خاندان کے کسی اور شخص کو بادشاہ بنایا جاتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بادشاہ مرنے سے پہلے اپنے کسی بیٹے یا بھائی کو ولی عہد نامزد کر دیتا ہے۔  ملکی خزانے کو بادشاہ کی ذاتی ملکیت سمجھا جاتا ہے اور وہ اسے جیسے چاہے خرچ کرے، کوئی اس کا احتساب نہیں کر سکتا ہے۔ لوگوں کی ذہنی تربیت کچھ اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ خود کو بادشاہ کا غلام سمجھیں۔  حکومت پر تنقید کی اجازت نہیں ہوتی ہے اور بالعموم آزادی اظہار رائے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔

اس وقت دنیا کے صرف چند ہی ممالک میں بادشاہت  موجود ہے جن میں برونائی، خلیجی ریاستیں، مراکش وغیرہ شامل ہیں لیکن ان ممالک میں بھی یہ خالص بادشاہت نہیں ہے بلکہ ان کا نظام حکومت ملوکیت، تھیو کریسی اور جمہوریت کا  ملغوبہ ہے جس میں ملوکیت کا عنصر زیادہ ہے۔ اسی طرح برطانیہ، ہالینڈ اور جاپان میں بھی ملوکیت اور جمہوریت کا ملغوبہ ہی رائج ہے لیکن وہاں جمہوریت کا عنصر زیادہ ہے۔

آمریت (Autocracy)

یہ بھی بادشاہت سے ملتا جلتا نظام ہے جس میں ایک شخص کو تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور وہ خود ہر قسم کے قانون سے ماوراء ہوتا ہے۔ اسے آمر یا ڈکٹیٹر کہا جاتا ہے۔ بادشاہت اور آمریت میں فرق یہ ہے کہ بادشاہت میں حکومت کو ایک خاندان کا حق مان لیا جاتا ہے جبکہ آمریت میں اسے اس شخص تک محدود رکھا جاتا ہے۔  ڈکٹیٹر کے مرنے یا اس کے زوال کے بعد اس کی جگہ دوسرا ڈکٹیٹر لے لیتا ہے۔ عام طور پر آمریت ، فوجی طاقت کی بنیاد پر حاصل کی جاتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں فوجی آمریت قائم رہی ہے جن میں حافظ الاسد کا شام،  صدام حسین کا عراق، قذافی کا لیبیا، شمالی کوریا  اور کافی حد تک پاکستان بھی شامل ہے۔  چین میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت کو بھی آمریت کہا جا سکتا ہے۔

تھیو کریسی  (Theocracy)

اس نظام میں اختیارات کا منبع کوئی بادشاہ نہیں بلکہ خدا ہوتا ہے اور اسی خدا کا قانون چلتا ہے۔ حکمران سمیت حکومت کے تمام کارندوں کو  اسی قانون پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ اس قانون کی تشریح و توضیح مذہبی علماء کے پاس ہوتی ہے۔ عملاً اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ  حکومت مذہبی علماء کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے اور وہ بادشاہ کو بھی مجبور کر سکتے ہیں۔ یہ مذہبی علماء عام طور پر ایک خاص تنظیم کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اس تنظیم کا سربراہ  ہی اصل حکمران ہوتا ہے۔ سلطنت کا حکمران بالعموم علماء کی اس تنظیم کے ماتحت ہوتا ہے اور اس کے احکام سے سرتابی نہیں کر سکتا ہے۔ قرون وسطی میں یورپ میں تھیو کریسی کا نظام رائج تھا اور کیتھولک پوپ کی طاقت  کا یہ عالم تھا کہ بادشاہوں کو اس سے ملنے کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا۔ موجودہ دور میں ایران کا نظام حکومت تھیو کریسی کے قریب ہے۔  اسی طرح خلیجی ریاستوں کے نظام میں بھی  تھیوکریسی کا عنصر نمایاں ہے۔

سیکولر ازم (Secularism)

یہ نظام تھیو کریسی کا متضاد ہے۔  اس میں یہ مان لیا جاتا ہے کہ مذہب ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور حکومتی اور اجتماعی معاملات میں مذہب کو دخل حاصل نہ ہو گا۔ اس طرح سے مذہبی علماء کا اقتدار ختم کر دیا جاتا ہے۔ سیکولر ازم کے فلسفے کے تحت بننے والا نظام بادشاہت، آمریت، جمہوریت، ارسٹو کریسی کسی بھی عنصر پر مشتمل ہو سکتا ہے۔

ارسٹو کریسی (Aristocracy / Oligarchy)

اس نظام میں اختیارات کا منبع  ایک خاص طبقہ ہوتا ہے جو کہ اشرافیہ (Aristocrat) کہلاتا ہے۔ یہ ملک کے امیر لوگوں کا طبقہ ہوتا ہے جو مل کر نظام حکومت چلاتے ہیں۔ ان میں سیاستدان، جاگیردار، بڑے تاجر، بیور کریٹ، فوجی جرنیل، مذہبی علماء، میڈیا ٹائی کون  وغیرہ سبھی شامل  ہوتے ہیں۔ اس وقت دنیا کے تقریباً سبھی ممالک میں یہی نظام رائج ہے۔ قرون وسطی میں ارسٹو کریسی بھی بادشاہت کی طرح خاندانی ہوتی تھی اور جو شخص کسی غریب گھرانے میں پیدا ہو گیا، وہ کبھی ارسٹو کریٹس میں شامل نہیں ہو سکتا تھا۔ موجودہ دور میں ترقی یافتہ ممالک میں یہ پابندی بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے تاہم پس ماندہ ممالک میں اب بھی یہ پابندی برقرار ہے۔  معاشی نظام کے اعتبار سے ارسٹو کریسی کی کئی شکلیں ہیں جن میں جاگیرداریت (Feudalism)، سرمایہ داریت (Capitalism) اور اشتراکیت (Socialism) دنیا میں رائج رہے ہیں۔

جاگیر داریت (Feudalism) ارسٹو کریسی کی ایسی شکل ہے جو بالعموم زرعی معاشروں میں رائج رہی ہے۔ زرعی معاشرے میں چونکہ تمام معاشی سرگرمیوں کا محور زمین ہی ہوتی ہے، اس وجہ سے  جاگیردار ہی اشرافیہ میں  اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حکمران طبقہ اپنے وفادار افراد کو زمین کا بڑا سا ٹکڑا دے دیتا ہے۔ اس زمین پر کام کرنے والے مزارع عملاً جاگیردار کے غلام ہوتے ہیں  جو اس کے زرعی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ اسے فوجی طاقت بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ حالت امن میں زمین کو کاشت کرتے ہیں اور حالت جنگ میں اپنے جاگیردار کے شانہ بشانہ لڑتے ہیں۔  اس کے بدلے جاگیردار انہیں فصل اور مال غنیمت میں سے کچھ حصہ دے دیتا ہے۔  کسی شخص کو یہ اجازت نہیں ہوتی ہے کہ وہ اپنے جاگیردار کو چھوڑ کر دوسرے کے پاس چلا جائے۔ ہاں جن علاقوں میں جاگیردارانہ نظام کی گرفت ڈھیلی  پڑ جاتی ہے، وہاں مزارع اسے  چھوڑ بھی جاتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) میں معاشی سرگرمی کا اصل محور صنعتیں اور کاروبار ہوتے ہیں۔ اس طرح سے دولت کا بڑا حصہ ان صنعتی  اور تجارتی  ایمپائرز کے مالکوں کے پاس ہوتا ہے۔ یہی لوگ مل کر ارسٹو کریسی تشکیل دیتے ہیں جو حکومت چلاتی ہے۔ جاگیردارانہ نظام کی نسبت، اس میں کارکنوں میں اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ ایک کمپنی کو چھوڑ کر دوسری کے پاس ملازمت کر لیں۔

اشتراکیت (Socialism) میں تمام زمینوں، صنعتوں اور کاروباری کمپنیوں کو حکومتی تحویل میں لے لیا جاتا ہے۔ ملک کو ایک پارٹی چلاتی ہے۔ کہنے کو تو یہ نظام فیوڈل ازم اور کیپیٹل ازم کو ختم کرنے کے لیے وجود میں آیا لیکن اس کے نتیجے میں عملاً کمیونسٹ پارٹی کے لیڈروں کی حکومت قائم ہو گئی جو بذات خود ایک ارسٹو کریسی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا شمار ہم نے ارسٹو کریسی میں کیا ہے۔

قبائلی نظام (Tribalism)

اس نظام میں سیاسی سرگرمی کا محور و مرکز قبیلہ ہوتا ہے۔ قبیلہ دراصل ایک بہت بڑا خاندان ہوتا ہے جس میں ہر شخص دوسرے کا رشتے دار ہوتا ہے۔  ہر قبیلے کا ایک سردار ہوتا ہے۔ قبیلوں کے اندر آمریت، جمہوریت یا ارسٹو کریسی کا نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر کسی جگہ بہت سے قبائل رہتے ہوں تو وہ مل جل کر رہنے کے لیے ایک وفاق یا پنچایت مقرر کرتے ہیں جس میں قبائلی سردار مل کر  اجتماعی فیصلے کر لیتے ہیں۔ اپنے اندرونی معاملات میں ہر قبیلے کو آزادی حاصل ہوتی ہے۔ قدیم عرب میں یہ رواج تھا کہ خاندان سے باہر کے لوگوں کو بھی قبیلے کا حصہ بنا لیا جاتا تھا۔ یہ لوگ اس قبیلے کے "حلیف" یا "موالی" کہلاتے تھے۔

جمہوریت (Democracy)

اس نظام میں طاقت کا سرچشمہ عوام کو تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ ہر شخص کو معاشرے میں برابر سمجھا جاتا ہے اور اسے یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے پارٹی بنائے۔ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کرے ، حکومت پر تنقید کرے اور اپنی رائے کا اظہار کرے۔ حکمران کا انتخاب عام لوگوں کے ووٹوں کے ذریعے ہوتا ہے ۔  حکمران قانون سے بالاتر نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کا احتساب بھی کیا جا سکتا ہے۔ عدلیہ اور میڈیا حکومت کی پابندیوں سے  آزاد ہوتے ہیں اور حکومت کا احتساب کرتے ہیں۔ ہر اہم معاملہ پارلیمنٹ کے مشورے سے طے کیا جاتا ہے۔ قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری ضروری ہوتی ہے۔

جمہوریت میں دو طرح کے نظام رائج ہیں، ایک پارلیمانی جمہوریت کہلاتا ہے اور دوسرا صدارتی۔ پارلیمانی جمہوریت میں عوام اپنے ووٹوں کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں اور یہ نمائندے اپنے میں سے ایک وزیر اعظم کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ وزیر اعظم پارلیمنٹ کو جوابدہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس صدارتی نظام میں عوام، ملک کے سربراہ کو براہ راست منتخب کرتے ہیں جسے بالعموم "صدر" کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ عوام پارلیمنٹ کا انتخاب بھی کرتے ہیں۔ ان دونوں کے اختیارات میں توازن رکھا جاتا ہے اور یہ دونوں مل کر حکومت چلاتے ہیں۔ پارلیمانی جمہوریت کی مثال برطانیہ ہے اور صدارتی جمہوریت کی مثال امریکہ کا نظام حکومت ہے۔

اس وقت جمہوریت کو آئیڈیل نظام حکومت سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں جمہوریت رائج ہے تاہم عملی اعتبار سے یہ ارسٹو کریسی ہی کی ایک نسبتاً بہتر شکل ہے۔ پارلیمنٹ کا ممبر بننے کے لیے دولت اور  خاندانی بیک گراؤنڈ کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ تاہم ترقی یافتہ جمہوریتوں میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقات جیسے مزدور، کسان، خواتین اور اقلیتوں کے لیے پارلیمنٹ میں نشستیں مخصوص کی جائیں تاکہ حکومت میں ان کی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

خلافت راشدہ کا نظام

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے کسی ایک نظام حکومت کو اپنانے کا حکم نہیں دیا کیونکہ مختلف حالات میں مختلف نظام حکومت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم قرآن میں ایک بنیادی اصول بیان کر دیا ہے  اور وہ یہ ہے کہ مسلمان جو بھی نظام حکومت اپنائیں، اس کی بنیاد "مشورے" پر ہونی چاہیے اور حکومت کے تمام امور لوگوں کو مل جل کر باہمی مشورے سے چلانے چاہییں۔

وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ.

وہ لوگ جو اپنے رب کی بات کا جواب دیتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، ان کے معاملات باہمی مشورے سے چلتے ہیں اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے، وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (الشوری 42:38)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، اگرچہ کسی سے مشورہ کرنے کے محتاج نہ تھے، مگر آپ  کو بھی یہی حکم دیا گیا تھا:

فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ.

ان سے درگزر کیجیے، ان کے لیے مغفرت کی دعا کیجیے، معاملات میں ان سے مشورہ کیجیے۔ پھر جب آپ فیصلہ کر لیں تو اللہ پر توکل کیجیے، یقیناً اللہ توکل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔  (آل عمران 3:159)

ان آیات سے واضح ہے کہ مسلمانوں کا کوئی بھی اجتماعی نظام مشورے سے چلنا چاہیے۔ حکمران کسے بنایا جائے؟ حکومتی فیصلے کیسے کیے جائیں؟  حکمران کو معزول کیسے کیا جائے؟ ان سب کا فیصلہ مسلمانوں کے باہمی مشورے سے ہو گا۔ ایسا نہیں کہ حکمران مشورے تو سب کے سن لے اور پھر اپنی من مانی کرے بلکہ معاملات کا فیصلہ لوگوں کے مشورے ہی سے ہو گا۔  جو مشورہ لوگوں کی اکثریت دے ، حکمران کو اسے قبول کرنا ہو گا۔

خلفائے راشدین نے اپنے دور کے لحاظ سے جو نظام حکومت اختیار کیا، اسے ہم قبائلی وفاق کا نظام کہہ سکتے ہیں۔ اس نظام میں مشورے کی روح پوری طرح کار فرما  تھی۔ عرب میں دور جاہلیت سے بہت سے قبائل آباد تھے۔ ان قبائل کو اپنی خود مختاری بہت عزیز تھی اور یہی وجہ تھی کہ یہ صدیوں سے کسی ایک حکومت پر متفق نہ ہو سکے تھے اور آپس میں جنگیں کرتے رہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں اپنی حکومت قائم فرمائی تو معاہدوں کے ذریعے ان قبائل کو اسلامی مملکت کا حصہ بنا لیا۔ ان معاہدوں میں یہ شرط ہوتی تھی کہ اپنے اندرونی معاملات میں قبیلہ خود مختار رہے گا اور ان پر ان کی مرضی کے خلا ف کسی کو حکمران مقرر نہ کیا جائے گا۔ بین القبائلی معاملات میں فیصلہ کن حیثیت مدینہ کی مرکزی حکومت کو حاصل ہو گی۔ خلفائے راشدین نے بھی یہی نظام حکومت جاری رکھا۔

ہر قبیلے سے متعلق معاملات اس قبیلے کے ساتھ مشورے ہی سے طے پاتے۔ مرکزی حکومت کے لیے طریقہ کار یہ اختیار کیا گیا کہ تمام قبائل نے متفقہ طور پر یہ تسلیم کر لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قبیلہ قریش کی حکومت کو تسلیم کریں گے۔ چنانچہ خلیفہ کے انتخاب کا معاملہ قبیلہ قریش کے سپرد کیا گیا کہ وہ اپنے میں سے کسی شخص کو خلیفہ منتخب کر لیں۔ اب کس شخص کو خلیفہ منتخب کیا جائے؟ اس کے لیے مدینہ کے سبھی باشندوں سے رائے لی جاتی۔ ان میں خاص کر ان صحابہ کی رائے کو اہمیت دی جاتی جنہوں نے نہایت تکالیف کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا۔ اس میں وہ صحابہ شامل تھے جو جنگ بدر سے پہلے ایمان لائے۔ ان کے بعد صلح حدیبیہ میں شامل بقیہ صحابہ  کا درجہ تھا اور ان کے بعد باقی سب صحابہ کا۔ اعلی حکومتی عہدوں پر وہ دس صحابہ فائز تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں بالکل ابتدائی سالوں میں شریک ہوئے تھے اور انہوں نے دین کی خاطر بڑی قربانیاں دی تھیں۔  انہیں "عشرہ مبشرہ" کہا جاتا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں:

1.          ابوبکر صدیق (573-634CE/13H): آپ پہلے  خلیفہ تھے اور آپ کو دور حکومت 11-13/632-634 تھا۔

2.           عمر فاروق (586-645/23H): آپ دوسرے خلیفہ تھے اور آپ نے 13-23/634-644کے دوران حکومت کی۔  پہلے خلیفہ کے دور میں آپ ان کے دست راست رہے اور محکمہ قضاء کی ذمہ داری آپ ہی کے سپرد تھی۔

3.          عثمان غنی (579-656/35H): آپ تیسرے خلیفہ تھے اور آپ کا  دور حکومت 23-35/644-656 پر محیط ہے۔ آپ پہلے دو خلفاء کے دور میں مرکزی کابینہ کے رکن تھے اور متعدد ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔

4.          علی المرتضی (598-661/40H): چوتھے خلیفہ۔ آپ کا دور حکومت 35-40/656-661 ہے۔  پہلے تین خلفاء کے دور میں آپ وفاقی کابینہ میں شامل رہے اور عدلیہ کے سربراہ بھی رہے۔

5.          طلحہ بن عبیداللہ (595-656/36H): سب سے پہلے ایمان لانے والے دس افراد میں شامل ہیں۔  دین کی خاطر زبردست قربانیاں دیں، جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر برسنے والی تلواروں کو اپنے ہاتھ پر روکا۔  آپ پہلے تین خلفاء کے دور میں مرکزی کابینہ میں شامل تھے۔

6.          زبیر بن عوام (594-656/36H) جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے "حواری " کا خطاب دیا۔ آپ بھی پہلے تین خلفاء کے دور میں مرکزی کابینہ میں شامل تھے۔

7.          ابو عبیدہ بن الجراح (580-652/31H) جو "امین الامت" کے لقب سے مشہور ہیں اور شام کو فتح کرنے والی فوج کے سپریم کمانڈر تھے۔ اس کے علاوہ آپ محکمہ مالیات  کے سربراہ بھی رہے۔

8.          سعد بن ابی وقاص(595-664/43H): آپ ایران کو فتح کرنے والی فوج کے سربراہ تھے۔ عراق کے گورنر بھی رہے اور مرکزی کابینہ کے رکن بھی تھے۔

9.          عبدالرحمن بن عوف (580-652/32H): آپ بھی مرکزی کابینہ کے رکن رہے۔ آپ کو مالی امور پر غیر معمولی دسترس حاصل تھی۔

10.   سعید بن زید (593-673/51H): آپ حکومتی اور سیاسی معاملات میں زیادہ شریک نہیں رہے۔ رضی اللہ عنہم 

عام حکومتی معاملات کو ان ہی دس صحابہ کی ایک کابینہ مل کر چلایا کرتی تھی جس کا سربراہ خلیفہ وقت ہوتا تھا۔  بڑے اور اہم مسائل کے حل کا طریقہ کار یہ تھا کہ جب فیصلہ کرنا مقصود ہوتا تو "صلوۃ الجامعہ" کا اعلان کر دیا جاتا جس سے دار الحکومت کے تمام افراد مسجد نبوی میں جمع ہو جاتے جن میں خواتین بھی شامل ہوا کرتی تھیں۔ مسئلے کو ان کے سامنے رکھا جاتا اور ہر شخص کو اپنی رائے بیان کرنے کی مکمل آزادی ہوتی۔ اس کے بعد اجتماعی طور پر لوگ جس رائے پر متفق ہوتے ، اسے اختیار کر لیا جاتا۔ بہت بڑے مسائل کی صورت میں قبائل اور صوبوں کے نمائندوں کو بھی طلب کیا جاتا اور ان کے ساتھ مل کر فیصلے کیے جاتے۔  ایران پر بڑے حملے کا فیصلہ اسی طرح ہوا تھا۔  ان میں آفیشل نمائندوں کے علاوہ کسی بھی عام شخص کو مشورے میں شریک ہونے کا حق حاصل ہوتا تھا اور وہ جب چاہے ، دربار خلافت میں آ کر اپنا مشورہ پیش کر سکتے تھے۔ دربار خلافت کسی عالی شان   محل میں نہیں بلکہ مسجد کے فرش پر لگتا تھا جس میں کوئی کسی کو داخل ہونے سے نہ روک سکتا تھا۔

 اگر خلیفہ وقت کی رائے ، عام لوگوں کی رائے سے مختلف ہوتی تو وہ اس وقت تک اپنی رائے کو نافذ نہ کر سکتے تھے جب تک کہ وہ انہیں قائل نہ کر لیتے۔ مشہور واقعہ ہے کہ جب عراق کی زمینوں کے انتظام کا مسئلہ درپیش ہوا تو اکثر صحابہ کی رائے یہ تھی کہ انہیں فاتحین میں تقسیم کر دیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ انہیں حکومتی ملکیت میں رکھا جائے اور کسانوں کے ساتھ پارٹنر شپ پر معاملہ کر لیا جائے۔ اس مسئلے پر کئی دن بحث ہوئی اور بالآخر جب صحابہ حضرت عمر کی رائے  سے متفق ہوئے تو اسے نافذ کیا گیا۔ ہاں اگر کسی معاملے میں قرآن و سنت کا کوئی واضح حکم موجود ہوتا، تو پھر اسے بلا تامل نافذ کر دیا جاتا۔

حکومتی معاملات سے لوگوں کو آگاہ رکھا جاتا اور اس کے لیے جمعہ کی نماز کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا۔ جمعہ کی نماز کے لیے نہ صرف اہل مدینہ بلکہ گرد و نواح کے دیہات سے بھی لوگ آیا کرتے تھے۔ خلیفہ وقت جمعہ کا خطبہ دیتے اور اس میں اہم حکومتی امور بھی زیر بحث لاتے اور حکومت کی پالیسی کو بیان کرتے۔  اگر کسی کو اختلاف ہوتا تو اسے اجازت تھی کہ وہ بر سر منبر ہی خلیفہ کو ٹوک کر اپنی رائے بیان کرے۔  مالی معاملات میں شفافیت (Transparency) کا یہ عالم تھا کہ مال کی تقسیم کھلے عام مسجد میں ہوتی تھی اور ہر شخص کو اعتراض کرنے اور اپنی رائے بیان کرنے کا حق حاصل تھا۔ سال میں ایک مرتبہ بیت المال کے اکاؤنٹس کلوز کیے جاتے اور اس میں موجود تمام مال لوگوں میں ان کی خدمات کے مطابق تقسیم کیا جاتا۔ بیت المال کو صاف کر کے اس میں جھاڑو دے دی جاتی۔

جب خلافت راشدہ کے صوبے قائم ہونا شروع ہوئے تو وہاں بھی یہی ماڈل اختیار کیا گیا۔  ہر شہر کے گورنر کا تعین اس شہر کے لوگوں کی رائے کے مطابق ہوتا۔ مشہور ہے کہ اہل کوفہ اور اہل بصرہ نے حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ادوار میں کئی مرتبہ اپنے گورنر کو ہٹا کر کسی دوسرے کو گورنر بنانے کا  مطالبہ کیا تو اسے مان لیا گیا۔  گورنروں کو حکم تھا کہ وہ اپنے تمام فیصلے اہل شہر کے مشورے سے ہی انجام دیں۔ اگر کسی بھی شخص کو گورنر کے خلاف کوئی شکایت ہوتی تو اسے براہ راست خلیفہ تک رسائی حاصل تھی۔ حج کے موقع پر خلفاء راشدین ایسی مجالس لگایا کرتے تھے جن میں کوئی بھی شخص گورنروں کے خلاف اپنی درخواست  پیش کر سکتا تھا اور اسے کسی قسم کا کوئی خطرہ درپیش نہ ہوتا تھا۔

اس طرح سے خلفائے راشدین نے ایک ایسا شورائی (Participative) نظام حکومت قائم کیا جس کی مثال دور جدید کی امریکی اور یورپی جمہوریتوں میں بھی ملنا مشکل ہے۔ ان جدید جمہوری ریاستوں میں بھی بہت سے امور عوام سے پوشیدہ رکھے جاتے ہیں اور عام آدمی حکومتی معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتا ہے۔ لیکن خلافت راشدہ میں ایک عام آدمی کو بھی حق حاصل تھا کہ وہ خلیفہ کا احتساب کر سکے اور یہ احتساب بھی کسی منفی جذبے سے نہیں بلکہ خلیفہ اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہی کے جذبے کے تحت ہوا کرتا تھا۔ 

خلیفہ کا انتخاب قبیلہ قریش ہی  سے کیوں کیا گیا؟

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف تو اسلام مساوات کا قائل ہے اور ہر مسلمان کو برابر قرار دیتا ہے لیکن دوسری طرف اس زمانے میں خلیفہ کے انتخاب کے لیے اس کے قریشی ہونے  کی شرط کیوں لگائی گئی؟

اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں اس دور کے تمدنی حالات کو دیکھنا ہو گا۔  علم عمرانیات (Sociology)کے بانی ابن خلدون (732-808/1332-1405) کے مطابق ، کسی بھی قوم کی بنیاد "عصبیت " پر ہوتی ہے۔  عصبیت اس جذبے کو کہتے ہیں جس کے تحت انسان خود کو کسی گروپ سے وابستہ سمجھتا ہے اور اس کی بدولت اپنی شناخت قائم کرتا ہے۔  اسی عصبیت کی بدولت انسان کے ذہن میں "ہم" اور "وہ" کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں یہ عصبیت ملک، صوبے، علاقے، زبان، مذہب، رنگ، نسل کسی بھی بنیاد پر پیدا ہو سکتی ہے۔ جیسے ہمارے ہاں اہل پاکستان، خود کو ہندوستانیوں سے ایک الگ قوم سمجھتے ہیں۔ اسی طرح پنجابی، سندھی، بلوچ ، پٹھان ، کشمیری، بلتی وغیرہ خود کو الگ الگ  قومیں تصور کرتے ہیں۔ ان سب کے پیچھے عصبیت کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔ اگر عصبیت کمزور ہو جائے تو قوم بکھر جاتی ہے لیکن اگر یہ مضبوط ہو تو قوم کی تشکیل اسی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

عربوں کے ہاں یہ کیفیت تھی کہ ان کا بنیادی معاشرتی یونٹ "قبیلہ" تھا اور عصبیت کی بنیاد اسی پر تھی۔ قبائلی عصبیت کو مذہب کی سی حیثیت حاصل تھی۔ عرب اپنے قبیلے پر کسی بیرونی قوت کی بالا دستی کو برداشت نہ کر سکتے تھے۔ جب اسلام نے مساوات کا درس دیا تو اس کے نتیجے میں یہ ممکن نہ تھا کہ عرب اپنی صدیوں کی روایت کو ایک دن میں چھوڑ دیں۔ جو لوگ علم عمرانیات  سے واقف ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ معاشرتی تبدیلی کبھی ایک دن میں نہیں آتی۔ خاص کر جو تعصبات اور عصبیتیں لوگوں میں قائم ہو جائیں انہیں ختم ہونے کے لیے صدیاں درکار ہوتی ہیں۔ مثلاً ہمارے قبائلی علاقوں میں اگر آج کوئی ایسی مہم شروع کر دی جائے جس میں انہیں قبائلی عصبیتوں کو ترک کر دینے کی ترغیب ہو، تو یہ عمل کئی صدیوں میں مکمل ہو گا۔ اب سے پانچ سو برس پہلے تک پنجاب بھی ایک قبائلی علاقہ تھا۔ یہاں صدیوں کے عمل کے نتیجے میں قبائل ختم ہو گئے لیکن اب بھی ان کی باقیات برادریوں (جیسے جٹ، ارائیں، راجپوت وغیرہ) کی صورت میں موجود ہیں اور ووٹ دیتے وقت یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ  اپنی برادری کے نمائندے ہی کو ووٹ دیا جائے۔

دور جاہلیت کے عرب میں ہزاروں سال کے پراسیس کے نتیجے میں جو قبائل بنے تھے، انہیں چند دن میں ختم کرنا ممکن نہ تھا۔  ان قبائل کی عصبیتوں کو ختم کر کے انہیں اسلام کی عصبیت میں یکجا (Integration) کے لیے سینکڑوں برس درکار تھے۔ فی الحقیقت تین چار سو برس کے بعد ہی یہ عصبیتیں ختم ہوئیں مگر ان میں سے بعض قبائل نے اپنی شناخت آج تک برقرار رکھی ہوئی ہے۔

دور جاہلیت ہی سے ایک ایسی روایت قائم ہو گئی جس کے نتیجے میں قبیلہ قریش کو عرب میں سردار قبیلے کی حیثیت حاصل ہو گئی۔  قریش حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد تھے اور یہ خانہ کعبہ کی دیکھ بھال کرنے کے ساتھ ساتھ حج کا انتظام کرتے تھے۔ اہل عرب چونکہ حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما الصلوۃ والسلام کی امت تھے اور آپ کے  تعلق کی بنا پر خانہ کعبہ کو ان کے ہاں مرکزی حیثیت حاصل تھی، اس وجہ سے وہ قریش کا بہت احترام کرتے تھے۔  دور جاہلیت میں حج متحدہ عرب قومیت کا مظہر بن چکا تھا اور اس کے علاوہ ان میں کسی قسم کی کوئی اجتماعیت نہ تھی۔  کسی عرب قبیلے کا تجارتی قافلہ اگر دوسرے قبیلے کے علاقے میں داخل ہوتا تو اسے لوٹ لیا جاتا تھا لیکن قریشیوں کے تجارتی قافلے یمن سے لے کر شام تک بلا روک ٹوک سفر کرتے اور انہیں ہر قبیلے کی جانب سے امن (Amnesty) حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر قبائل کے لوگوں نے بھی قریشی قافلوں میں انوسٹمنٹ کرنا شروع کر دی۔ اس طرح سے قریش عرب میں ایک زبردست معاشی قوت بن گئے۔

ان حالات میں اگر سوائے قریش کے کسی بھی قبیلے کے کسی بھی شخص کو خلیفہ بنایا  جاتا تو بقیہ تمام عرب قبائل اس کے خلاف بغاوت کر دیتے کیونکہ ان میں قبائلی عصبیت موجود تھی۔ وہ کسی اور قبیلے کے شخص کو اپنی ناک کٹ جانے کے مترادف سمجھتے اور فضول اور لامتناہی جنگوں کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا۔  قریش کے معاملے میں ایسا نہ تھا کیونکہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما الصلوۃ والسلام اور خانہ کعبہ سے تعلق کی بنا پر  سوائے چند ایک کے سبھی عرب ان کا احترام  کیا کرتے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا دعوی صرف دو قبائل کر سکتے تھے۔ ان میں سے ایک قریش تھے اور دوسرے انصار۔ قریشی صحابہ نے مکی زندگی میں بے پناہ قربانیاں دی تھیں ، ظلم سہے تھے اور اپنا گھر بار اور مال و دولت اللہ تعالی کے دین پر نثار کر دیا تھا۔ دوسری طرف انصار مدینہ تھے جنہوں نے پورے عرب کی مخالفت لے کر مہاجرین قریش کو اپنے ہاں پناہ دی تھی۔ ان کی خدمات سے کسی کو انکار نہ تھا لیکن جمہوری اصول پر دیکھا جائے تو یہ مہاجرین قریش ہی تھے جنہیں عرب کے کم و بیش سبھی قبائل کی حمایت تھی۔ اس کے برعکس انصار مدینہ کو اپنے سوا کسی اور قبیلے کی حمایت حاصل نہ تھی۔ پھر انصار دو مزید قبائل میں منقسم  تھے جو اوس اور خزرج کہلاتے تھے۔ ان قبائل میں دور جاہلیت سے دشمنی چلی آ رہی تھی جسے اسلام نے ختم کر کے انہیں بھائی بھائی بنا دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ  میں اس قضیے کا فیصلہ فرما دیا تھا کہ آپ کی وفات کے فوراً بعد خلافت کس قبیلے کو ملے گی۔

فتح مکہ سے پہلے مدینہ کی ریاست میں انصار کو اکثریت حاصل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن، خیبر وغیرہ کے علاقوں جو گورنر مقرر فرمائے، ان کا تعلق انصار ہی سے تھا۔ اگر  بالفرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات فتح مکہ سے پہلے  ہو جاتی تو عین ممکن ہے کہ پہلا خلیفہ راشد بھی انصار ہی سے ہوتا۔ لیکن فتح مکہ کے بعد صورتحال بدل گئی اور نہ صرف پورے قبیلہ قریش بلکہ عرب کے تمام قبائل نے اسلام قبول کر لیا۔ اب قریش کے حمایتیوں کو اکثریت حاصل ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قضیے کا فیصلہ فرما دیا۔

وحدثنا محمد بن رافع. حدثنا عبدالرزاق. حدثنا معمر عن همام بن منبه. قال: هذا ما حدثنا أبو هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. فذكر أحاديث منها: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم (الناس تبع لقريش في هذا الشأن. مسلمهم تبع لمسلمهم. وكافرهم تبع لكافرهم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لوگ اس معاملے میں قریش کے تابع ہیں۔ ان کے مسلمان قریش کے مسلمانوں کے اور ان کے کفار قریش کے کفار کی پیروی کرتے ہیں۔"[1]

اسی بات کو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سقیفہ بنو ساعدہ میں ان الفاظ میں بیان کیا:

فأما العرب فلن تعرف هذا الأمر الا لهذا الحي من القريش. جہاں تک عربوں کا تعلق ہے تو وہ اس معاملے [سرداری] میں قریش کے سوا کسی اور قبیلے کو جانتے ہی نہیں ہیں۔۔۔ عربوں کے نیک، قریش کے نیک لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اور ان کے برے، قریش کے بروں کی۔[2]

واضح رہے کہ یہ دائمی نوعیت کا حکم نہیں تھا بلکہ اس وقت تک کے لیے تھا جب تک قریش کے لیے یہ حمایت برقرار رہے۔ یہ صورتحال چوتھی صدی ہجری میں اس وقت تک رہی جب  تک بنو عباس کو اقتدار حاصل رہا۔ اس کے بعد خلافت برائے نام ہی قائم رہی۔ جب غیر عرب قوموں کی طاقت عربوں سے بڑھ گئی تو ترکی کے سلطان سلیم اول (918-926/1512-1520)نے 922/1517 میں خلافت کو عربوں سے ترکوں کی طرف منتقل کر دیا اور عالم اسلام نے اس فیصلے کو تسلیم کر لیا۔ جب ترکوں کی طاقت ختم ہوئی تو خلافت عثمانیہ کا بھی 1343/1924 میں خاتمہ ہو گیا۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1] مسلم ، کتاب الامارہ، حدیث 1818

[2]  طبری۔ 11H/2/1-408۔ حدیث  سقیفہ۔