بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 3: عہد صدیقی و فاروقی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

فتنہ ارتداد

خلافت راشدہ کی اولین تاریخ سے ہمیں معلوم  ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام میں نجد میں مسیلمہ اور یمن میں اسود عنسی سے نبوت کا دعوی کر دیا تھا۔ اس کے بعد  اور کئی لوگوں نے نبوت کا دعوی کیا اور ان کے بہت سے پیروکار بھی اکٹھے ہو گئے۔ بعض لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت مسلمانوں کو ان تمام مرتدین سے  جنگ کی اور ایک سال کی جنگ کے بعد  ان سب پر قابو پایا۔ عام طور پر تواریخ میں چونکہ محض یہ واقعا ت بیان کر دیے جاتے ہیں اور ان کے عمرانی اسباب پر بات نہیں کی جاتی ہے، اس وجہ سے  بہت سے طالب علموں کے ذہن میں یہ سوال برقرار رہتا ہے کہ یکایک ایسا کیا واقعہ پیش آ گیا تھا کہ عرب کے بہت سے قبائل نے  اس طریقے سے بغاوت کر دی تھی۔ مناسب رہے گا کہ ہم ان وجوہات  کو تفصیل سے بیان کر دیں۔

فتنہ ارتداد کے اسباب کیا تھے؟

اس تفصیل کو سمجھنے کے لیے ہمیں عربوں کے قبائلی نظام کی ساخت اور باہمی سیاست کو سمجھنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس زمانے میں قوم یا قبیلے کا تشخص کسی بڑی شخصیت سے قائم ہوتا تھا۔ ایسا ضروری نہیں تھا کہ ایک شخص کے دو بیٹے ہیں تو وہ دونوں ہی الگ الگ قبیلے کے بانی بن جائیں  بلکہ ان میں سے جس نے غیر معمولی کارنامے سر انجام دیے ہوتے اور اپنے خاندان کو اکٹھا رکھا ہوتا اور پھر یہ عمل سو دو سو سال تک جاری رہتا، اسی کی اولاد ایک قبیلے کی شکل اختیار کرتی تھی۔ کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ ایک باپ کے دو بیٹوں میں مخاصمت پیدا ہوجاتی اور دونوں ہی باصلاحیت ہوتے، جس کے باعث دونوں ہی الگ الگ قبیلے کی بنیادرکھتے۔ بسا اوقات ان میں طویل دشمنیاں چلتیں لیکن اپنے جد اعلی کے نام پر وہ کبھی اکٹھے بھی ہو جایا کرتے تھے۔

جیسا کہ آپ ڈایا گرام میں دیکھ سکتے ہیں کہ جزیرہ نما عرب میں دو قسم کے قبائل آباد تھے۔ ایک تو یمن کے حمیری قبائل تھے اور دوسرے حجاز کے وہ قبائل جو حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں سے تھے۔ دور جاہلیت میں ان کے مابین کشمکش برپا رہتی تھی۔ حمیریوں نے ایک زمانے میں یمن میں ایک بڑی تہذیب کی بنیاد رکھی تھی اور وہ پورے عرب میں ایک علاقائی سپر پاور کی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔ چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی (عہد رسالت سے ڈیڑھ دو سو برس پہلے) میں ان کا مشہور ڈیم  "سد مآرب" ٹوٹ گیا اور حمیری تہذیب پر زوال آیا ۔  اس واقعے کو قرآن مجید میں سورۃ سبا میں بیان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب حجازی قبائل نے قوت پکڑی اور اب عرب میں انہیں غلبہ حاصل ہو گیا۔  ہم انسانی نفسیات کے بارے میں یہ جانتے ہی ہیں کہ غلبہ پا لینے والوں کے بارے میں مغلوبین کے دلوں میں بغض کی سی کیفیت ہمیشہ برقرار رہتی ہے، خاص کر اس وقت جب غالب آنے والوں نے مغلوبین کو شکست دے کر ان پر غلبہ حاصل کیا ہو۔  مثلاً موجودہ دور کے مسلمانوں  میں برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے خلاف اسی قسم کی نفرت پائی جاتی ہے اور اس سے پہلے قرون وسطی کے یورپ میں مسلمانوں کے خلاف ایسی ہی نفرت پائی جاتی تھی۔

دوسری طرف حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں جس شخص کی نسل تیزی سے پھیلی، ان کا نام عدنان تھا۔ عدنان کی اولاد کچھ عرصہ بعد متعدد قبائل میں تقسیم ہو گئی جن میں ربیعہ اور مضر کے قبائل کو غیر معمولی طاقت حاصل ہو گئی اور نتیجتاً ان کے درمیان ایک دوسرے پر غلبے کی جدوجہد شروع ہوئی۔ مضر قبائل زیادہ طاقتور تھے اور ان کی ایک شاخ "قریش" تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی جس کے نتیجے میں قریش کا اسٹیٹس تمام قبائل  میں مزید بلند ہو گیا۔ آپ کی حیات طیبہ ہی میں اسلام پورے جزیرہ نما عرب میں پھیل گیا ، جس سے عدنانی قبائل کی مضری شاخ اور مضری قبائل کی قریشی شاخ کو ایک خاص اسٹیٹس حاصل ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک جانب ربیعہ قبائل (جو کہ زیادہ تر نجد میں آباد تھے)، دوسری جانب حمیری قبائل (جو کہ یمن میں آباد تھے) اور تیسری طرف غیر قریشی مضر قبائل میں  ان کے خلاف بغض او رحسد پیدا ہوا۔ ایسا نہیں تھا کہ ان قبائل کے سبھی لوگوں میں یہ بغض موجود تھا۔ ان میں بھی بہت سے لوگ پورے خلوص نیت کے ساتھ مسلمان ہوئے تھے اور وہ اپنے دین پر عمل پیرا تھے لیکن ایک طبقہ ایسا تھا  جس نے محض اسلام کی ظاہری شان و شوکت کو دیکھ کر اطاعت قبول کی تھی، مگر ان کے دلوں میں اسلام ابھی پوری طرح داخل نہ ہوا تھا۔

ہر قوم میں کچھ ایڈونچر پسند لوگ ہوتے ہیں جو کسی بڑے فائدے کے لیے بڑا خطرہ مول لے لیتے ہیں۔  اس کائنات کا ایک اصول ہے کہ بڑے فائدے کے لیے بڑا خطرہ مول لینا پڑتا ہے اور چھوٹے فائدے کے لیے چھوٹا۔ High risk, high return and …. low risk, low return۔ درمیانے فائدے کے لیے درمیانے درجے کے خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رسک مینجمنٹ میں ایک تصور موجود ہے جسے "خطرات مول لینے کا ذوق (Risk Appetite)" کہا جاتا ہے۔  یہ ہر شخص اور گروہ میں دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ بعض حضرات کا ذوق یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے بڑے خطرات مول لے لیتے ہیں۔ کامیاب ہو جائیں تو انہیں بڑی کامیابی ملتی ہے اور ناکام ہو جائیں تو اپنی اور اپنے خاندان کی مکمل تباہی کا باعث بنتے ہیں۔  انہی کو ایڈونچر پسند لوگ کہا جاتا ہے۔ حمیری اور ربیعہ قبائل میں جو بغض موجود تھا، اسے بعض ایسے ہی ایڈونچر پسند لوگوں نے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس طرح حمیریوں کو اسود عنسی اور ربیعہ قبائل کو مسیلمہ کی شکل میں  قومی راہنما مل گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی نبوت کے اور بھی دعوے دار پیدا ہو گئے۔

قبائلی تعصب کا یہ عالم تھا کہ مسیلمہ کے ایک پیروکار سے بعض صحابہ نے مکالمہ کیا اور مسیلمہ کے جھوٹ کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ اس کا جواب یہ تھا: "میں مضر قبائل کے سچے نبی  کی بجائے ربیعہ قبائل کے جھوٹے نبی کا ساتھ دینا پسند کروں گا۔" تاہم ایسا نہیں تھا کہ عربوں کا بہت بڑا حصہ  ان جھوٹے نبیوں کا پیروکار بن گیا تھا۔ ان قبائل میں بھی کم ہی تعداد ان لوگوں کی تھی جو ان نبیوں کے لیے کٹ مرنے کو تیار تھی اور ان کی تعداد پورے عرب کا شاید دس فیصد بھی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف کاروائی کی تو محض ایک سال کے عرصے میں پورے عرب میں امن قائم ہو گیا اور یہ جھوٹے نبی محض  تاریخی قصہ بن کر رہ گئے۔  انہی میں سے بعض حوصلہ مند افراد جیسے طلیحہ بن خویلد اسدی نے دوبارہ ایمان لا کر ایران کے خلاف معرکوں میں داد شجاعت دی۔

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter