بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 3: عہد صدیقی و فاروقی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

روم و ایران پر حملہ

ایک  جدید قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور میں روم اور ایران پر حملہ کیوں کیا گیا؟ کیا یہ دوسری قوموں کی آزادی میں مداخلت نہیں تھی؟  اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں دو چیزوں کا جائزہ لینا پڑے گا۔ ایک تو رسولوں کے بارے میں اللہ تعالی  کا ایک خاص قانون اور دوسرے اس زمانے کی عالمی سیاست کے اصول ۔

رسولوں کے بارے میں اللہ تعالی کا خاص قانون کیا ہے؟

رسولوں کے بارے میں اللہ تعالی کے قانون کی وضاحت ہم اپنی دوسری تحریروں میں کر چکے ہیں۔ اس  تفصیل کا مطالعہ وہاں کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ہم اسے مختصراً بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کا قاعدہ یہ ہے کہ اس نے بارہا اس روئے زمین پر کسی قوم کا انتخاب کر کے اس میں اپنے رسول کو بھیجا۔ اس رسول نے ہر ممکن طریقے سے حق کو ان لوگوں کے سامنے واضح کر دیا اور یہ بتا دیا کہ جزا و سزا کا جو معاملہ سب انسانوں کے ساتھ آخرت میں ہونے والا ہے، وہ اس قوم کے ساتھ اسی دنیا میں ہو جائے گا۔ ایک خاص وقت کے بعد اللہ تعالی کا عذاب اس رسول کے منکرین پر آیا اور انہیں نیست و نابود کر دیا گیا۔ دوسری طرف رسول کے ماننے والوں کو ان کی جگہ اس خطے کا اقتدار دے دیا گیا۔ قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا اور ان پر آسمانی آفتوں کی صورت میں اللہ کا عذاب نازل ہوا۔

انسانیت کی معلوم تاریخ میں دو مرتبہ ایسا ہوا ہے  کہ رسول پر اتنی زیادہ تعداد میں لوگ ایمان لائے کہ  اس جزا و سزا کے نفاذ کا کام انہی کے ہاتھوں لیا گیا۔  یہ حضرت موسی اور محمد علیہما الصلوۃ  والسلام تھے۔ جو عذاب دیگر قوموں پر  سیلاب، زلزلے یا کسی اور آسمانی آفت کی صورت میں نازل ہوا، وہ ان دونوں پیغمبروں کے امتیوں کے ہاتھوں ان کے مخاطبین پر نافذ ہوا۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر بنی اسرائیل کے لاکھوں لوگ ایمان لائے۔ جب فرعون کو سمندر میں غرق کر دیا گیا تو یہ اتنا بڑا واقعہ تھا کہ ارد گرد کی اقوام پر واضح ہو گیا کہ حضرت موسی علیہ السلام اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس کے بعد بھی جب انہوں نے آپ پر ایمان لانے سے انکار کر دیا تو بنی اسرائیل کے ہاتھوں انہیں سزا دی گئی۔ حضرت موسی کے خلفائے راشدین یوشع اور کالب علیہم الصلوۃ والسلام کے ہاتھوں دریائے فرات سے لے کر دریائے نیل تک (موجودہ فلسطین، اردن، شام او رمصر) کے پورے  علاقے کو فتح کر کے یہاں بنی اسرائیل کا اقتدار قائم کر دیا گیا۔

بعینہ یہی معاملہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ہاتھوں پیش آیا۔ جس زمانے میں پورے عرب کے قبائل نے مل کر مدینہ پر حملہ کیا اور آپ نے خندق کھود کر ان کا مقابلہ کیا، اسی وقت آپ نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ عنقریب زمین کے خزانے مسلمانوں کے ہاتھ آنے والے ہیں۔ [1]  یہ ایسا وقت تھا جب بظاہر مسلمان صفحہ ہستی سے مٹتے نظر آتے تھے۔  اس موقع پر کی گئی یہ پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔  چند ہی سالوں میں پورا عرب اسلام کے جھنڈے تلے اکٹھا ہوا۔ یہ بات روم اور ایران کے بادشاہوں کے لیے اتمام حجت تھی اور ان پر واضح ہو گیا کہ محمد، اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس کے بعد بھی جب انہوں نے سرتابی کی، تو ان پر اللہ کا عذاب ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی تلواروں کے ذریعے نافذ کر دیا گیا اور قرآن مجید کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی:

قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمْ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ.

ان سے جنگ کرو۔ اللہ تمہارے ہاتھوں ہی سے انہیں عذاب دے گا، انہیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور اس طرح صاحب ایمان قوم کے سینوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا۔  (التوبہ 9:14)

ایک صحابی حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے ایرانی سپہ سالار رستم کے دربار میں اپنی اس کاروائی کا یہ مقصد بیان کیا تھا کہ "ہم انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کرنے کے لیے آئے ہیں۔"[2] اس زمانے میں ریاستیں مذہبی بنیادوں پر قائم ہوا کرتی تھیں اور غالب قوم، اپنے مذہب کو مغلوب قوموں پر مسلط کر دیا کرتی تھی۔ بادشاہ کے مذہب کو نہ ماننا بغاوت کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا یہ حصہ تھا کہ اس وقت کی متمدن دنیا کے مرکزی علاقے میں ایک ایسی ریاست قائم کر دی جائے، جس میں ہر شخص کو مذہبی آزادی ہو۔ جو لوگ  دنیا کے کسی بھی خطے میں ایمان لانا چاہیں ، ان کے لیے یہ موقع موجود ہو کہ وہ ہجرت کر کے اس آزاد خطے میں آباد ہو جائیں اور اپنے ضمیر کے مطابق زندگی بسر کریں۔

اس تفصیل کو پڑھ کر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس سے ایک مسلمان تو مطمئن ہو سکتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر مانتا ہے، غیر مسلم کیسے مطمئن ہو سکتا ہے جو آپ کو رسول نہیں مانتا؟  غیر مسلموں کے لیے بھی اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے سچا ہونے کا ثبوت ہے۔ اگر آپ اللہ کے سچے نبی اور رسول نہ ہوتے تو آپ اور آپ کے صحابہ کو کبھی دنیا پر غلبہ نصیب نہ ہوتا۔ تاریخ میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے یہ خاص اہتمام کیا ہے کہ جھوٹے نبیوں کو کبھی غلبہ نصیب نہیں ہوتا ہے۔ کبھی ایسا ضرور ہوتا ہے کہ انہیں کسی خطے کا اقتدار وقتی طور پر مل جاتا ہے، لیکن اس کے بعد وہ کبھی طویل عرصے تک پھل پھول نہیں پاتے اور اللہ تعالی ان کے جھوٹ کا پردہ چاک کر کے رکھ دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیش گوئی کر کے اپنے وقت کی سپر پاورز پر غلبہ پا لینا آپ کی نبوت کے سچا ہونے کی دلیل ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ آپ اور آپ کے صحابہ نے جو کاروائی کی تھی، وہ اپنے زمانے کے مروجہ بین الاقوامی قانون کے عین مطابق تھی۔  فوجی کاروائی کا آغاز روم اور ایران کی طرف سے ہوا تھا۔ مسلمانوں نے اس میں نہ تو کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی تھی اور نہ ہی کسی اخلاقی ضابطے کی پامالی۔ اس کی تفصیل یہ ہے۔

ساتویں صدی کا بین الاقوامی قانون کیا تھا؟

ساتویں صدی تو کیا، ابھی 1945 سے پہلے تک عالمی سیاست کا اصول "جس کی لاٹھی ، اس کی بھینس" تھا۔ اقوام متحدہ کے قیام کے ساتھ دنیا کے تمام ممالک نے ایک دوسرے سے یہ معاہدہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف جارحیت کا ارتکاب نہیں کریں گے۔ اگر کوئی ملک کسی پر زیادتی کرے گا تو اقوام متحدہ کے تحت اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگرچہ عالمی طاقتوں نے اقوام متحدہ کے قوانین کی کئی مرتبہ خلاف ورزی کی ہے،  مگر پھر بھی ہمارے زمانے میں دور قدیم کی نسبت جنگ و جدل میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔ دور قدیم میں عالمی سطح پر کوئی معاہدہ موجود نہ تھا۔ ہاں ایسا ہوتا تھا کہ دو ممالک آپس میں جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیں۔ ایسے معاہدوں کی پابندی ضروری سمجھی جاتی تھی اور خلاف ورزی کرنے والے کو بری نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ معاہدے بھی عام طور پر متعین مدت کے ہوا کرتے تھے۔ عام اصول یہی  تھا کہ جس حکومت کو طاقت حاصل ہو، وہ دیگر ممالک پر لشکر کشی کر سکتا ہے۔ اس اصول کے تحت جس بادشاہ کو طاقت مل جاتی، وہ دوسری قوموں پر لشکر کشی کر دیتا تھا۔ عہد رسالت میں روم اور ایران بڑی طاقتیں تھیں اور  اسی زمانے میں ان کے درمیان بڑی جنگیں  برپا رہی تھیں۔  اس زمانے میں عرب قبائل میں تقسیم قوم تھے اور آپس ہی میں جنگ و جدل برپا کیے رکھتے تھے۔

روم اور ایران نے اپنے اور عربوں کے درمیان باج گزار  ریاستیں قائم کر رکھی تھیں  تاکہ یہ عرب قبائل کو کنٹرول کریں اور یہ رومی اور ایرانی سلطنت کے لیے درد سر نہ بنیں۔  روم اور عرب کے درمیان "غسان" کی عیسائی سلطنت تھی  جو موجودہ اردن اور شمالی سعودی عرب کے بعض علاقوں پر قائم تھی۔ اسی طرح ایران اور عرب کے درمیان "حیرہ" کی سلطنت تھی جو موجودہ عراق کے جنوبی علاقوں پر قائم تھی۔ دور جاہلیت کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ شمال اور مشرق میں رہنے والے مختلف عرب قبائل غسان  اور حیرہ کی ان سلطنتوں کے حلیف تھے۔ ان دونوں سلطنتوں میں جنگیں بھی ہوا کرتی تھیں جن میں عرب قبائل اپنی اپنی حلیف سلطنت کا ساتھ دیتے تھے۔

روم اور ایران کی سلطنتوں کو جزیرہ نما عرب پر براہ راست قبضے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ اس علاقے پر قبضہ کرنے کے اخراجات (Cost) اس کے فوائد (Benefits) سے کہیں زیادہ تھے کیونکہ عرب اپنے اوپر کوئی براہ راست اقتدار برداشت نہ کرتے تھے اور مسلسل بغاوتیں برپا کیے رکھتے تھے۔ دوسری طرف صحرائے عرب میں زراعت نہ ہوتی تھی جس کی وجہ سے اس پر قبضہ کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ تیل اس وقت دریافت نہ ہوا تھا اور نہ ہی یہ اس وقت کی جیو پالیٹکس کا مرکز و محور تھا۔ ہاں جزیرہ نما عرب کے زرخیز خطوں پر ان دونوں بڑی طاقتوں نے قبضہ جما لیا تھا۔ شام اور اردن کے علاقے سلطنت روم کے ماتحت تھےاور یمن کا زرخیز علاقہ عہد رسالت میں ایران کی قبضے میں تھا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء کی قیادت میں پورا عرب ایک مرکز پر اکٹھا ہو گیا تو روم اور ایران کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔  یہ دونوں سپر پاورز نہیں چاہتی تھیں کہ کوئی تیسری طاقت کھڑی ہو جائے۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف  کاروائی میں پہل کی۔ ایران کے بادشاہ خسرو پرویز (r. 590-628/6H) کے پاس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچا تو اس نے یمن کے گورنر باذان (d. 10/632)کو حکم دیا کہ وہ فوجی کاروائی کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو معاذ اللہ گرفتار کر کے ایران بھجوا دے۔ اس طرح اس نے آپ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ جب باذان نے واقعے کی تحقیق کروائی تو ان پر حق واضح ہو گیا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس طرح یمن، جو کہ ایرانیوں کی ایک کالونی تھی، ایرانی سلطنت سے الگ ہو گئی۔ [3]

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایران کے سرحدی علاقوں پر مسلمانوں کی دعوت کے نتیجے میں جو لوگ مسلمان ہوئے، حکومت ایران نے ان کے خلاف کاروائی کی اور انہیں مرتد ہونے پر مجبور کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مسلم علاقے میں رہنے والے عرب قبائل پر حملہ کر دیا۔ ان میں سے ایک قبیلے بنو شیبان کے سردار  حضرت مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ (d. 14/635) مدینہ آئے اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قائل کیا کہ وہ ان کے تحفظ کے لیے کچھ کریں۔ آپ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ایک لشکر ایران کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ اس کے بعد ایران سے جنگوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔

دوسری طرف روم نے بھی کاروائی میں پہل کی۔ سلطنت غسان کے فرمانروا کے پاس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت شجاع بن وہب اسدی رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے انہیں قتل کروا دیا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت سفیر کا قتل ایک بہت بڑا جرم تھا اور ایک طرح سے اعلان جنگ تھا۔ اس کے خلاف آپ نے کاروائی کے لیے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک لشکر کو بھیجا۔ غسانی سلطنت نے روم سے مدد حاصل کی اور  قیصر روم نے اپنا لشکر ان کی مدد کے لیے بھیجا۔ موتہ کے مقام پر ان میں جنگ ہوئی اور حضرت زید، جعفر اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم یکے بعد دیگرے اسلامی لشکر کی قیادت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کمان سنبھالی اور اپنی جنگی حکمت عملی کے ساتھ اس لشکر  کو بحفاظت نکال لائے۔

صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک ملنے پر قیصر روم، جو اس وقت یروشلم میں موجود تھا، نے تحقیقات کیں۔ اس وقت قریش مکہ کا ایک قافلہ  وہاں تجارت کے لیے آیا ہوا تھا جس کے سربراہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ تھے جو ابھی ایمان نہ لائے تھے۔ قیصر نے ان سے سوال و جواب کیے تو اسے یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے پیغمبر ہیں۔ اہل کتاب ہونے کے سبب وہ اس بات سے واقف تھا کہ  رسولوں کے مقابلے پر دنیا کی کوئی طاقت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اسی وجہ سے اس نے یہ تاریخی جملہ کہا: "اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ان کے پاس حاضر ہوتا۔ یہ لکھ لو کہ اس وقت جو زمین میرے قدموں تلے ہے، وہ ضرور ان کے قبضے میں آئے گی۔"[4] تاہم قیصر کے ساتھیوں نے اسے مجبور کیا کہ وہ مسلمانوں سے جنگ کرے اور اس جنگ میں اسے ناکامی ہوئی۔

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ فوجی کاروائی کا آغاز ایران اور روم کی جانب سے ہوا۔ پھر مسلمانوں نے جوابی کاروائی کی اور متعدد جنگوں میں انہیں پے در پے شکست دے کر موجودہ عراق، ایران، شام، فلسطین، مصر اور شمالی افریقہ کے علاقوں کو فتح کر لیا۔ ایرانی سلطنت اب وسط ایشیا اور رومی سلطنت اناطولیہ (ترکی) تک محدود ہو چکی تھی۔ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ خواہش کی کہ کاش ان کے اور ہمارے درمیان آگ کا دریا حائل ہوتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر آپ جنگوں کے اس سلسلے کو روکنا چاہتے تھے لیکن روم و ایران نے کاروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایرانی بادشاہ یزد گرد  (r. 10-30/631-651) نے مسلمانوں کے علاقے  میں مسلسل بغاوتیں برپا کروانا شروع کر دیں۔  اس پر اس کے خلاف فوجی کاروائی کرنا پڑی جس کے نتیجے میں افغانستان اور ماوراء النہر (Transoxiana) کے علاقے فتح ہوئے اور ایرانی سلطنت کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ رومی بادشاہ ہرقل نے صلح کر لی اور مسلمانوں نے اس کی جانب پیش قدمی روک دی۔ تاہم بعد میں رومیوں نے پھر چھیڑ چھاڑ شروع کر دی جس کے نتیجے میں آرمینیا  کا علاقہ فتح ہوا۔

ان جنگوں کے دوران صحابہ کرام نے صرف اور صرف حکومت اور اس کی مسلح افواج کے خلاف کاروائی کی۔ انہوں نے کسی عام شہری کو نشانہ نہیں بنایا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر یہ ہدایت نامہ (Guidelines) جاری کر دیا تھا :

خبردار! آپ لوگ زمین میں فساد نہ مچایے اور نہ ہی احکامات کی خلاف ورزی کیجیے ۔ کھجور کے درخت نہ کاٹیے اور نہ جلائیے۔ چوپایوں کو ہلاک نہ کیجیے اور نہ ہی پھل دار درختوں کو کاٹیے۔ کسی عبادت گاہ کو مت گرائیے  اور نہ ہی بوڑھوں، بچوں اور خواتین کو قتل کیجیے۔ آپ کو بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جنہوں نے خود کو گرجا گھروں میں بند کر رکھا ہے اور دنیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔ [5]

حضرت موسی، داؤد اور سلیمان  علیہم الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ وہ پہلا گروہ تھے، جنہوں نے  جنگ کو بھی اخلاقیات کے دائرے میں لانے میں کامیابی حاصل کی۔  انہوں نے عام شہری پر لگی ہوئی پابندیوں کو ختم کیا۔ انہیں مکمل مذہبی آزادی عطا کی۔ اسلام کی دعوت کو ان کے سامنے پیش کیا لیکن لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ "دین میں کوئی جبر نہیں" کے اصول کے تحت  کسی پر کوئی پابندی نہ لگائی۔ بعد کے مسلمانوں نے اسے برقرار رکھا اور ایران، افغانستان اور پھر ہندوستان کے غیر مسلموں کو مکمل آزادی دیے رکھی۔ مسلم مفتوحہ علاقوں شام، فلسطین، لبنان، اردن اور عراق میں موجود عیسائی آبادی اور ہندوستان کی ہندو اکثریت اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ انہیں مکمل مذہبی آزادی دی گئی اور ان کے معاملات میں مداخلت نہیں کی گئی۔ اگر کسی پرجوش حکمران نے ایسا کرنے کی کوشش کی، تو خود مسلم علماء نے آگے بڑھ کر ان غیر مسلموں کا تحفظ کیا۔

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کسی قوم سے اس کی آزادی نہیں چھینی بلکہ لوگوں کو قیصر و کسری کی غلامی سے آزاد کیا۔  اس طرح سے دنیا بھر کے حق پرستوں کے لیے یہ موقع پیدا ہوا کہ اگر وہ اپنے ضمیر کے مطابق مذہبی آزادی چاہیں تو اس علاقے میں چلے آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ سے بہت سے یہودی اور ایسے عیسائی ، جو کلیسا سے اختلاف رکھتے تھے، آ آ کر مسلم علاقوں میں آباد ہوتے رہے اور آزادی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتے رہے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  بخاری۔ کتاب التعبیر۔ حدیث 6611

[2]  طبری۔ 14H/2/2-287

[3]  ایضاً ۔ 7H/2/1-272

[4]  بخاری ۔ حدیث  7۔

[5]  بیہقی۔ سنن الکبری۔ حدیث 18125۔ 9/145۔ بیروت: دار الکتب العلمیہ۔ www.waqfeya.com (ac 17 May 2007)