بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 3: عہد صدیقی و فاروقی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حضرت عمر کی نامزدگی

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور پر جو آخری سوال پیدا ہوتا ہے،  وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی وفات سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین نامزد کیا۔ کیا اس طرح سے آپ نے شوری کے مسلمہ قرآنی اصول کی خلاف ورزی نہیں کی؟

کیا حضرت عمر کی نامزدگی شوری کے اصول کی خلاف ورزی نہ تھی؟

اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے ہمیں آپ کی وفات کے زمانے کی صورتحال پر غور کرنا پڑے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت  جو صورتحال تھی، اس میں دو سال میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی۔ وہی عرب قبائل تھے جو کہ قبیلہ قریش کو اپنا سربراہ مانے ہوئے تھے۔ انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہ تھا کہ ایک قریشی خلیفہ کی وفات پر دوسرا قریشی خلیفہ بن جائے۔ یہ بالکل ایسی ہی صورتحال تھی کہ ایک برسر اقتدار پارٹی کا صدر یا وزیر اعظم اگر اپنی حکومت کی مدت کے دوران فوت ہو جائے  تو الیکشن نہیں کروائے جاتے بلکہ اسی پارٹی کے کسی اور شخص کو  صدر یا وزیر اعظم بنا دیا جاتا ہے۔  قریش کا اقتدار ابھی ختم نہ ہوئی تھی بلکہ عرب قبائل بدستور انہی کو اپنا قائد مانتے تھے۔

ان حالات میں صدیق اکبر بیمار پڑے تو ایسا نہیں ہوا کہ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو اپنی مرضی سے خلیفہ بنا کر سب پر مسلط کر دیا ہو۔ بلکہ انہوں نے مناسب یہ سمجھا کہ خلیفہ کے انتخاب کے لیے جو مشورہ ان کی وفات کے بعد ہونا ہے، وہ آپ کی وفات سے پہلے ہو جائے۔ چنانچہ طبری، انساب الاشراف ، طبقات  اور دیگر کتب تاریخ کی روایات کے مطابق آپ نے ایک ایک صحابی کو بلا کر ان سے مشورہ کیا۔ ہر ایک کو اپنی رائے کے اظہار کی مکمل آزادی تھی۔ بعض صحابہ نے حضرت عمر کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا تو حضرت ابوبکر نے انہیں دلائل سے قائل کیا۔ جب سب لوگ متفق ہو گئے تو آپ نے وصیت لکھوا کر  حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے انتخاب کی توثیق کر دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتخاب نامزدگی سے نہیں بلکہ شوری سے ہوا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ یہ مشورہ صدیق اکبر کی وفات کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے مکمل ہو گیا تھا۔ روایات یہ ہیں:

ابوبکر نے اپنی وفات کے وقت عبدالرحمن بن عوف کو بلایا اور ان سے پوچھا: "یہ بتائیے کہ عمر کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟" انہوں نے کہا: "اے خلیفہ رسول! وہ اور لوگوں کی نسبت  اس سے بھی بہتر ہیں جو آپ کی ان کے متعلق رائے ہے مگر ان کے مزاج میں شدت ہے۔" ابوبکر نے کہا: "یہ شدت اس وجہ سے تھی کہ میں نرم تھا۔ جب حکومت خود ان کے حوالے ہو گی تو اس قسم کی اکثر باتوں کو چھوڑ دیں گے۔ اے ابو محمد (عبدالرحمن!) میں نے انہیں قریب سے دیکھا ہے کہ جب میں کسی شخص پر کسی معاملے میں ناراض ہوتا تھا تو عمر مجھے اس سے راضی ہونے کا مشورہ دیتے تھے اور جب میں کسی پر نرم پڑتا تھا وہ وہ مجھے اس پر سختی کا مشورہ دیتے۔ ابو محمد! یہ باتیں جو میں نے آپ سے کہی ہیں، ان کا ذکر اور سے ذکر نہ کیجیے گا۔ " عبدالرحمن نے کہا: "بہت بہتر۔"

اس کے بعد ابوبکر نے عثمان بن عفان کو بلایا اور ان سے کہا: "ابو عبداللہ! یہ بتائیے کہ عمر کیسے ہیں۔ " انہوں نے کہا: "آپ انہیں سب سے زیادہ جانتے ہیں۔" ابوبکر نے کہا: "ہاں ، اے ابو عبداللہ! اس بات کی ذمہ داری مجھ ہی پر ہے۔ " پھر عثمان نے کہا: "یا اللہ! میں عمر کے باطن کو ان کے ظاہر سے بہتر سمجھتا ہوں، ہم میں ان کے جیسا دوسرا شخص نہیں ہے۔" ۔۔۔

ابو السفر کی روایت ہے کہ ابوبکر نے اپنے گھر سے (مسجد میں) جھانکا۔  (آپ کی اہلیہ) اسماء بنت عمیس ، جس کے ہاتھوں پر مہندی لگی تھی، آپ کو پکڑے ہوئے تھیں۔ آپ نے فرمایا: "لوگو! میں جس شخص کو  آپ پر خلیفہ مقرر کرنے لگا ہوں، کیا آپ اسے پسند کرتے ہیں؟ کیونکہ میں نے اس کے متعلق غور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ میں نے اپنے کسی رشتے دار کو منتخب نہیں کیا ہے بلکہ عمر بن خطاب کو آپ کا خلیفہ بنایا ہے۔ آپ ان کا حکم سنیے اور ان کی اطاعت کیجیے۔" یہ سن کر سب نے کہا: "ہم دل و جان سے منظور کرتے ہیں کہ ہم ان کی اطاعت کریں گے۔" (رضی اللہ عنہم اجمعین) [1]

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  طبری۔ حضرت ابوبکر کی وفات کے حالات۔  13H/2/2-204