بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 3: عہد صدیقی و فاروقی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

عہد فاروقی

  حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور، اسلام کی پوری تاریخ کا سنہرا دور ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب مسلمان پوری طرح متحد تھے اور ان کی افواج روم اور ایران کے خلاف فتح پر فتح حاصل کیے جا رہی تھیں۔ بلوچستان سے لے کر مصر تک علاقہ اسی دور میں فتح ہوا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان علاقوں کے عام لوگوں کو قیصر و کسری کی غلامی سے نکال کر انہیں مذہبی اور دنیاوی امور میں آزادی عطا کی اور ایک نیا نظام معاشرت ترتیب دیا۔ اس دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان کوئی قابل ذکر اختلافات نہیں ہوئے، اس وجہ سے اس دور سے متعلق تاریخی سوالات بھی  بہت کم ہیں۔ یہاں ہم ان چند سوالات کا جائزہ پیش کر رہے ہیں۔

حضرت عمر نے حضرت خالد بن ولید کو معزول کیوں کیا؟

حضرت عمر نے منصب خلافت سنبھالتے ہی پہلا اہم کام یہ کیا کہ  حضرت خالد بن ولید کو سپہ سالاری کے عہدے سے معزول کر کے ان کی جگہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہم کو سپہ سالار مقرر فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں "سیف من سیوف اللہ" یعنی اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار قرار دیا تھا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کےد ور میں انہوں نے عراق کا بیشتر حصہ فتح کر لیا تھا اور اب شام میں اپنی غیر معمولی جنگی حکمت عملی کے جوہر دکھا رہے تھے۔ مسلم تاریخ میں اگر فوجی جرنیلوں کی رینکنگ کی جائے تو بلاشبہ حضرت خالد اس میں پہلے نمبر پر ہوں گے۔ تاریخ کے ایک طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے انہیں معزول کیوں کیا جبکہ حضرت خالد کی کارکردگی غیر معمولی تھی؟

یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ حضرت عمر نے حضرت خالد کو معزول ہرگز نہیں کیا بلکہ انہیں سپہ سالار اعظم کی بجائے سیکنڈ ان کمانڈ بنا دیا۔ اس کی متعدد وجوہات تھیں جن میں سب سے نمایاں یہ تھی کہ حضرت خالد جنگو ں میں اپنی غیر معمولی شجاعت کی وجہ سے بہت زیادہ خطرات مول لے لیا کرتے تھے۔ آپ فی الحقیقت ایک بہت بڑے risk-taker تھے اور بسا اوقات تھوڑی سی فوج کے ساتھ دشمن پر جھپٹ پڑتے اور اسے شکست دے ڈالتے۔  حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی احتیاط کے باوجود اس معاملے میں حضرت خالد کو ڈھیل دیتے تھے۔ اس کے برعکس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طبیعت محتاط تھی اور آپ مسلمانوں کو خطرے میں ڈالنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے حضرت خالد  کو امین الامت  ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما کے تحت کر دیا تاکہ وہ اپنی غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں کے سبب ، حضرت خالد کو ضرورت سے زیادہ خطرات مول لینے  سے روکیں اور ان کی جنگی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کریں۔ یہ بات طبری کی روایت سے واضح ہو جاتی ہے جس میں حضرت ابوعبیدہ کے نام حضرت عمر کا خط نقل کیا گیا ہے۔

میں آپ کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں جو کہ باقی رہنے والا ہے اور جس کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ اسی نے ہمیں گمراہی سے نکال کر راہ راست پر لگایا اور اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل فرمایا۔ میں آپ کو خالد کے لشکر کا امیر مقرر کرتا ہوں۔ آپ مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے تیار ہو جائیے۔ مال غنیمت کے لیے مسلمانوں کی جان خطرے میں نہ ڈالیے اور نہ ہی کسی اجنبی مقام  کے حالات اور نتائج کو معلوم کیے بغیر انہیں وہاں ٹھہرائیے۔ جب آپ کسی لشکر کو جنگ  کے لیے بھیجیں تو معقول تعداد کے بغیر نہ بھیجیے۔ مسلمانوں کو ہلاکت (کے خطرے) میں ہرگز مبتلا نہ کیجیے۔ اللہ نے آپ کا معاملہ میرے ہاتھ میں اور میرا معاملہ آپ کے ہاتھ میں دیا ہے۔ دنیا کی محبت سے اپنی آنکھیں بند کر لیجیے اور اپنے دل کو اس سے بے نیاز کر لیجیے۔ خبردار! گزرے ہوئے لوگوں کی طرح انہیں ہلاکت میں نہ ڈالیے۔ ان کے بچھڑنے  کے میدان آپ کی نگاہوں کے سامنے ہیں۔ [1]

حضرت خالد کافی عرصہ تک حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما کی کمان میں لڑتے رہے۔ حضرت ابوعبیدہ تمام پلاننگ انہی کے مشورے سے کرتے تھے اور یہ دونوں کمانڈر مل کر جنگی تیاری کرتے تھے۔ تاہم اس پلان پر عمل درآمد حضرت خالد کروایا کرتے تھے۔ چار سال بعد 17/638میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تمام جنگی خدمات کو چھوڑ کر مدینہ آنے کا حکم دیا۔ طبری نے اس سلسلے میں سیف بن عمر کی روایت نقل کی ہے جو کہ نہایت ہی ضعیف راوی ہے اور جھوٹی روایات کے لیے مشہور ہے۔ اس روایت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ معاذ اللہ حضرت عمر، خالد رضی اللہ عنہما سے متعلق دل میں کینہ رکھتے تھے۔ خلافت سنبھالتے ہی انہوں نے حضرت خالد کو معزول کر کے مدینہ واپس بلا لیا، ان کی تذلیل کی اور ان کا آدھا مال لے کر بیت المال میں داخل فرما دیا۔  ان کا خیال تھا کہ حضرت خالد نے معاذ اللہ مال غنیمت میں کرپشن کی ہے۔ یہ ایک نہایت ہی ناقابل  اعتماد اور ضعیف روایت ہے اور ان دونوں بزرگوں پر بہتان ہے۔

ہاں ایسا ضرور ممکن ہے کہ  حضرت خالد سے مال غنیمت کے حصوں کی تقسیم میں کوئی غلطی  ہو گئی ہو۔ حضرت عمر نے حساب کیا تو ان کی طرف کچھ رقم زائد نکلی جو حضرت عمر نے ان سے لے کر بیت المال میں داخل کر دی اور شام کے لوگوں کو تحریر لکھ کر بھیجی جس میں حضرت خالد کی معزولی کی وجوہات بیان کیں۔  روایت یہ ہے:

جب خالد، عمر کے پاس پہنچے تو ان سے شکایت کی اور کہا: "میں نے آپ کی یہ شکایت مسلمانوں کے سامنے بھی بیان کی تھی۔ واللہ! آپ نے مجھ سے اچھا سلوک نہیں کیا۔" حضرت عمر نے فرمایا: "یہ بتائیے کہ آپ کے پاس یہ دولت کہاں سے آئی؟" انہوں نے جواب دیا: "مال غنیمت اور میرے مقرر حصوں سے۔ ساٹھ ہزار سے زائد جو رقم ہو ، وہ آپ (بیت المال) کی ہے۔" اس پر حضرت عمر نے ان کے ساز و سامان کی قیمت لگائی تو ان کی طرف بیس ہزار نکلے۔ اس رقم کو انہوں نے بیت المال میں داخل کر دیا تو حضرت عمر نے فرمایا: "خالد! واللہ! آپ میرے نزدیک نہایت ہی معزز شخصیت ہیں۔ میں آپ کو بہت پسند کرتا ہوں اور آج کے بعد آپ کو مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہو گی۔"

عدی بن سہیل کی روایت ہے کہ حضرت عمر نے تمام شہر والوں کو لکھ کر بھیجا: "میں نے خالد کو ناراضگی یا بددیانتی کی وجہ سے معزول نہیں کیا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان ان سے محبت کرنے لگے ہیں۔ اس لیے مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ ان پر بے حد بھروسہ اور اعتماد نہ کریں اور کسی دھوکے میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اس  لیے میں نے چاہا کہ انہیں حقیقت معلوم ہو جائے کہ درحقیقت اللہ تعالی ہی کارساز ہے ، اس لیے انہیں کسی فتنے میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔"[2]

دلچسپ بات ہے کہ یہ روایت بھی سیف بن عمر ہی نے روایت کی ہے اور ان صاحب کی دونوں روایتوں میں تضاد موجود ہے۔ ہمارے نزدیک یہ دوسری روایت ہی درست ہے۔  اس روایت سے حضرت  خالد کی معزولی کی ایک اور وجہ سامنے آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض مسلمانوں کے اندر یہ تصور پیدا ہو گیا تھا ک جو فتوحات ہو رہی ہیں، وہ حضرت خالد کی موجودگی کی وجہ سے ہیں۔ اس طرح سے ان میں شخصیت پرستی پیدا ہو رہی تھی جسے ختم کرنے کے لیے حضرت عمر نے یہ اقدام کیا۔ مسلمان تو مسلمان، دشمن افواج کو بھی جب علم ہوتا کہ کسی فوج میں حضرت خالد موجود ہیں، تو وہ جم کر مقابلہ نہ کرتے اور میدان چھوڑ کر بھاگ جاتے۔  ایسے میں یہ خدشہ تھا کہ لوگ کہیں شخصیت پرستی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔

بہرحال حضرت خالد رضی اللہ عنہ میں ایسی کوئی اخلاقی خرابی نہ تھی  جس کی وجہ سے انہیں معزول کرنا پڑا۔ یہ محض ان کی خطرات مول لینے کی عادت اور مسلمانوں میں پیدا ہونے والی شخصیت پرستی تھی، جس کے باعث  انہیں فوجی ذمہ داریوں سے الگ کر کے دیگر ذمہ داریاں سونپی گئیں۔  حضرت خالد اور عمر رضی اللہ عنہما کے باہمی تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 21/643 میں اپنی وفات کے وقت حضرت خالد نے حضرت عمر کو اپنی مال و دولت کا نگران مقرر کیا کہ وہ اسے مناسب انداز میں تقسیم کریں۔ [3]

حضرت عمر سختی کیوں کرتے تھے؟

راویوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایسا امپریشن بنانے کی کوشش کی ہے کہ آپ بہت سخت مزاج تھے۔ ذرا سی بات پر آپے سے باہر ہو جاتے اور  سامنے والی کی بے عزتی کر کے رکھ دیتے یا اسے کوڑوں سے پیٹ ڈالتے۔ یہ ایک بالکل ہی غلط امپریشن ہے۔ ایسا تو ضرور ہے کہ آپ اللہ تعالی کے احکام کو نافذ کرنے میں حد درجہ احتیاط سے کام لیتے تھے اور اس معاملے میں کسی شخص کے ساتھ کوئی رعایت نہ کرتے تھے۔ آپ اس معاملے میں بہت سختی کرتے تھے کہ کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔  لیکن آپ نہایت نرم دل انسان تھے۔ اس کا اندازہ ان مثالوں سے ہو سکتا ہے جو تاریخ کی متعدد کتب میں بیان ہوئی ہیں۔

1۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ خواتین کا حق مہر بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ اس کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کی جائے۔ اس خیال کا اظہار انہوں نے جمعہ کے خطبہ میں کیا تو ایک خاتون نے اس پر کڑی تنقید کی کہ جس چیز کی حد اللہ تعالی نے مقرر کی ہے، آپ اس کی حد مقرر کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ حضرت عمر نے فرمایا: عمر نے غلطی کی اور خاتون نے صحیح بات کی۔

2۔ مشہور واقعہ ہے کہ مال غنیمت میں سے سب کو ایک ایک چادر ملی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ طویل القامت تھے اور آپ کا لباس دو چادروں سے بنا۔ بھرے مجمع میں ایک شخص نے حساب طلب کیا کہ یہ دو چادریں آپ کے پاس کہاں سے آئیں؟ آپ نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اشارہ کیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ میں نے اپنے حصے کی چادر والد صاحب کو دے دی ہے۔

3۔ قحط کے دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مزیدار کھانوں کا استعمال بالکل ترک کر دیا اور پیٹ بھر کر کھانا چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ عوام بھوکے مریں اور عمر پیٹ بھر کر کھانا کھائے۔

4۔ ایک دفعہ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت سلمان فارسی سے پوچھا: میں بادشاہ ہوں یا خلیفہ؟ انھوں نے جواب دیا: اگر آپ نے مسلمانوں کے محصولات میں سے ایک درہم بھی نا حق استعمال کر لیاتو خلیفہ نہیں بادشاہ سمجھے جائیں گے۔ یہ سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔انھوں نے یہی سوال پھراور لوگوں کے سامنے رکھاتو جواب آیا کہ خلیفہ صرف حق سے لیتا ہے اورحق ہی سے دیتا ہے، آپ کی مثال بھی یہی ہے۔بادشاہوں کی مثال اس کے برعکس ہے ،وہ ظلم و جور کر کے مال حاصل کرتے ہیں اور اسی طرح خرچ کر دیتے ہیں۔

ان مثالوں سے واضح ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سختی عام آدمی کے لیے نہ تھی بلکہ اپنے قریبی ساتھیوں اور بالخصوص گورنروں کے لیے تھی۔ آپ یہ ہرگز برداشت نہ کرتے تھے کہ کوئی سرکاری اہل کار کسی عام آدمی پر ظلم کرے۔

حضرت عمر کے دور میں کوئی بغاوت یا فتنہ کیوں پیدا نہیں ہوا؟

یہ بات درست نہیں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں کوئی فتنہ پیدا نہیں ہوا کیونکہ انسانی تاریخ کا کوئی دور بھی  بغاوتوں اور فتنوں سے خالی نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایرانیوں کو شکست ہوئی تھی اور عراق و ایران کے ملک ان کے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔ آخری ساسانی بادشاہ یزد گرد(r. 10-30/631-651) ابھی زندہ تھا اور وہ ایران کے مختلف علاقوں میں بغاوتوں کو شہ دیتا رہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایران میں کئی بغاوتیں اٹھیں جنہیں مقامی گورنروں نے بآسانی فرو کر دیا۔ یہ درست ہے کہ  حضرت عمر کے دور میں عرب میں کوئی فتنہ یا بغاوت نہیں اٹھی۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں:

1۔  حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی نے حسن انتظام کی بہترین صلاحیت عطا کی تھی۔ آپ ہر شخص کو اس کی صلاحیت کے مطابق کام دیا کرتے تھے۔ آپ نے مختلف عرب قبائل کے بہترین لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق کسی نہ کسی کام میں مشغول کر دیا۔ ایران اور شام کی فتح اور اس کے بعد ان ملکوں کا انتظام پہاڑ جیسا کام تھا۔ جب لوگوں کو کسی مثبت کام میں مشغول کر دیا جائے تو  وہ منفی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے دور میں عرب ان کاموں میں مصروف رہے۔

2۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی نے ایسے ساتھی دیے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ تھے۔ یہ حضرات نہایت خلوص اور محبت کے ساتھ آپ کے شانہ بشانہ کام کرتے۔ کسی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ پہلے خلفاء کی نسبت آپ کے دور میں فتنے زیادہ کیوں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ ہم جیسوں پر حکومت کرتے تھے اور میں تم جیسوں پر حکومت کرتا ہوں۔  حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی مثال سب کے سامنے ہے کہ ان کے درجے کے سپہ سالار کو جب معزول کیا گیا تو انہوں نے کسی بغاوت کا عزم نہیں کیا۔

3۔  باغی تحریکوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی جنگ میں شکست کھا کر یہ عموماً ختم نہیں ہوتیں بلکہ کچھ عرصے کے لیے زیر زمین چلی جاتی ہیں ۔ کچھ عرصے میں یہ دوبارہ تیاری کر کے پھر نمو دار ہوتی ہیں۔ یہ باغی اور مفسد عناصر ہر دور میں موجود رہتے ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوتے۔ عربوں کے مفسد عناصر ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک بڑی بغاوت  پیدا کر چکے تھے۔ اب اگلی بغاوت کی تیاری  کے لیے انہیں وقت درکار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حضرت عمر کے دس سالہ دور اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے دور کے پہلے دس برس تک تیاری کرتے رہے۔ بیس سال کی تیاری کے بعد وہ یکایک دور عثمانی کے آخر میں نمودار ہوئے اور پھر انہوں نے پانچ سال تک فتنہ و فساد برپا کیے رکھا۔

کیا حضرت عمر کی شہادت کسی عجمی سازش کا نتیجہ تھی؟

حضرت عمر کی شہادت کا واقعہ یوں ہے کہ ابو لؤلؤ فیروز حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا۔  یہ کاریگر آدمی تھا اور بہت سے ہنر جانتا تھا۔ بڑھئی اور  لوہار کے کام کے علاوہ یہ چکیاں بنانے کا ماہر بھی تھا۔  حضرت مغیرہ نے اسے کام کے لیے آزاد چھوڑ رکھا تھا۔ اپنا کام کر کے ایک طے شدہ رقم یہ حضرت مغیرہ کو دے دیتا تھا ۔ اس نے ایک مرتبہ  حضرت عمر سے شکایت کی کہ اس پر خراج زیادہ ہے۔  آپ نے خراج کی رقم پوچھی تو یہ نہایت معمولی رقم تھی جو کہ دو یا چار درہم روزانہ تھی جو کہ فیروز کی کاریگری کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھی۔ اگلے روز اس نے آپ پر حملہ کر کے آپ کو شہید کر دیا۔ اس کے بعد اس نے کئی صحابہ کو زخمی کیا اور بالآخر خود کشی کر کے مر گیا۔ اس وجہ سے صحیح طور پر یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس نے قتل اپنی مرضی سے کیا ہے یا اس کے پیچھے کوئی سازش تھی۔

اس واقعے کی توجیہ میں دو تھیوریز پیش کی گئی ہیں۔ پہلی تھیوری یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت فیروز کے وقتی اشتعال کا نتیجہ تھی اور اس کے پیچھے کوئی گہری سازش نہیں تھی۔ دوسری تھیوری یہ ہے کہ آپ کی شہادت ایک گہری ایرانی سازش کا نتیجہ تھی۔ مشہور ایرانی سپہ سالار ہرمزان (d. 23/645) اس وقت اسلام قبول کر کے مدینہ منورہ میں مقیم تھا اور  حضرت عمر رضی اللہ عنہ جنگی منصوبوں میں اس سے رائے بھی لیا کرتے تھے۔ ہرمزان کی فوج کو مسلمانوں نے پے در پے شکست  دی تھی جس کی وجہ سے اسے شدید رنج تھا۔ اس نے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مدینہ میں رہائش اختیار کر لی۔ پھر جب موقع ملا تو فیروز کو ساتھ ملا کراسے آپ کے قتل پر آمادہ کر دیا۔

یہ دونوں توجیہات محض تھیوریز ہی ہیں کیونکہ ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس کے ذریعے کسی ایک کی تصدیق کی جا سکے۔ ہرمزان کے بارے میں اتنا معلوم ہوتا ہے کہ شہادت کے واقعہ سے ایک آدھ دن پہلے اس کے اور فیروز کے درمیان خفیہ بات انداز میں بات چیت ہوئی تھی اور اس میں آلہ قتل، یہ ایک دو منہ والا خنجر تھا، فیروز کے ہاتھ سے پھسل کر گر گیا تھا۔ ایسا کرتے ہوئے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے ان دونوں کو دیکھا تھا۔ انہوں نے یہ بات حضرت عمر کی شہادت کے بعد  سب کو بتائی۔ یہ سن کر عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو شدید غصہ آیا اور انہوں نے جا کر ہرمزان کو قتل کر دیا۔

اس طرح سے اس واقعے کی تحقیقات کے تمام دروازے بند ہو گئے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فیروز نے ہرمزان سے اتفاقاً ہی ملاقات کی تھی۔ ہرمزان ایک سچا  مسلمان تھا اور اس نے ایسے ہی یہ خنجر فیروز کو دے دیا تھا۔ بعض لوگ نظریہ سازش پر یقین رکھتے ہیں۔ اس واقعے میں کعب الاحبار کا نام بھی لیا جاتا ہے جو کہ ایک سابقہ یہودی عالم تھے اور اسلام قبول کر کے مدینہ میں مقیم تھے۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے تین دن پہلے انہیں آپ کی شہادت سے خبردار کیا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کم از کم اس سازش سے باخبر ضرور تھے۔ بعد میں کسی نے ان سے تفتیش نہیں کی۔  نظریہ سازش کے بعض علمبردار کعب الاحبار پر بھی  اس سازش میں شرکت کا الزام لگاتے ہیں  لیکن یہ محض بدگمانی ہے۔ روایات سے زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ فیروز کے منصوبے سے واقف تھے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہلے سے خبردار کر دیا تھا تاکہ آپ اپنا بچاؤ کر لیں۔  ہمیں کعب الاحبار اور ہرمزان دونوں کے بارے میں ہرگز بدگمانی نہیں کرنی چاہیے کہ دلوں کا حال ہم نہیں جان سکتے ہیں۔

عبیداللہ بن عمر نے ہرمزان کو شدید اشتعال میں قتل کیا تھا اور وہ ایسا کرتے وقت اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھے۔   حضرت عثمان رضی اللہ  عنہ نے خلیفہ مقرر ہونے کے بعد نے عبیداللہ کو ہرمزان کے بیٹے فحاذبان  کے حوالے کر دیا کہ وہ اپنے والد کا قصاص لے لیں لیکن انہوں نے عبیداللہ کو معاف کر دیا۔  اس کے بعد حکومت کی جانب سے ایک جیوری مقرر ہوئی جس نے عبیداللہ پر قصاص کی بجائے دیت کی سزا عائد کی۔ حضرت عثمان نے اپنی جیب خاص سے ہرمزان کی دیت ادا کر دی۔

بارہ سال بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب باغیوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو انہوں نے اس مقدمے کو  دوبارہ کھولا اور عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو قتل کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان باغیوں کو ہرمزان سے خاص ہمدردی تھی۔ عین ممکن ہے کہ  انہوں نے ایسا کر کے اپنے ایرانی ساتھیوں کے جذبات کی تسکین کرنا چاہی ہو۔ تاہم  یہ سب قیاس آرائیاں ہی ہیں، فحاذبان کی روایت سے اس بات کا پورا امکان موجود ہے کہ ہرمزان بے گناہ تھے اور یہ محض اتفاق ہی تھا کہ قتل سے ایک دن پہلے فیروز ان سے گپ شپ لگا رہا تھا۔  ہمیں بھی ان کے بارے میں حسن ظن سے کام لینا چاہیے۔

ایک عجیب بات یہ ہے کہ موجودہ دور کے بعض قوم پرست ایرانی اس نظریہ سازش کو قبول کرتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ چونکہ عربوں نے ایرانیوں کو شکست دے کر ان کی  قومی توہین کی تھی، اس وجہ سے ایرانی اس بات میں حق بجانب تھے کہ وہ اپنا انتقام لیتے۔ فیروز نے حضرت عمر کو شہید کر کے ایرانیوں کی طرف سے  یہ فریضہ انجام دے دیا۔ جب  سولہویں صدی عیسوی میں ایران میں صفوی خاندان  کو غلبہ نصیب ہوا تو یہاں کے شہر کاشان میں فیروز کا ایک شاندار مزار تعمیر کیا گیا اور اسے قومی ہیرو کو درجہ دے دیا گیا۔ موجودہ دور میں دیگر مسلم حکومتوں نے  اس مقبرے کو گرانے کا مطالبہ کیا تو ایران میں اس کے خلاف شدید مظاہرے ہوئے۔ محمد علی ای، جو کہ ایرانی ورثے کی حفاظت میں شامل تحریک کا حصہ ہیں، نے اس موضوع پر ایک مضمون لکھا، جس کے چند اقتباسات یہ ہیں:

فیروزان کا مقبرہ جو کہ امام ابو لؤلؤ  کہلاتے ہیں،صوبہ اصفہان کے شہر کاشان میں ہے اور اس وقت زائرین کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ اس مقبرے کو اسلامی حکومت توڑنے کا حکم دے رہی ہے۔

ایرانیوں کا ایک بڑا مجمع منگل، 26 جون (2007) کو گورنر کے دفتر  کے باہر اکٹھا ہوا او راس نے ایرانی ورثے  اور ایک ایسے مزارکی ممکنہ تباہی اور بندش کے خلاف آواز اٹھائی جو کہ ساتویں صدی عیسوی میں عرب حملہ آوروں کے خلاف ایرانی جدوجہد کی علامت ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ [فیروز] ایک قابل احترام صوفی اور شیعہ تھے۔ عمر بن خطاب، مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ 645 میں فیروز  کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ " فیروزان کا یہ عمل اس ظلم کے خلاف رد عمل تھا جو عرب مسلمان حملہ آوروں  نے ایران  میں کیے تھے اور جس کے نتیجے میں ہمارے ملک میں قتل عام، ریپ اور لوٹ مار کے واقعات ہوئے۔  ہم ایرانی اپنے خلاف ہونے والے جرائم کو نہ تو کبھی معاف کریں گے اور نہ ہی بھولیں گے۔" ایک احتجاج کرنے والے نے کہا۔

بعض عرب اور مسلمان تاریخ دان، فیروزان کی بہادری اور ہیرو ازم پر پردہ ڈالنے کے لیے دعوی کرتے ہیں (جو کہ ابن شہاب کی بیان کردہ روایت ہے کہ) فیروزان نے عمر کو جزیہ پر بحث کرنے کی وجہ سے قتل کیا تھا۔  صفوی دور حکومت میں جب شیعہ مسلمان اقتدار میں آئے ، تو اس خاندان نے انہیں [فیروزان کو] بابا شجاع الدین (مذہب کے لیے بہادری کا مظاہرہ کرنے والا) کا لقب دیا اور یہ دعوی کیا کہ وہ ایک پکے شیعہ اور شہید تھے۔

ایک اور احتجاج کرنے والے نے غصے میں کہا: "وہ کہتے ہیں کہ وہ یہاں دفن نہیں ہے۔۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہی نہیں تھے۔۔۔ تو پھر کیا ہوا؟ کچھ بھی ہے، یہ مقبرہ ان کی علامت ہے، یہ ہمارے مذہب اور غیر مہذب حملہ آوروں کے خلاف جدوجہد کی علامت ہے۔ " ایک اور احتجاج کرنے والے نے اضافہ کیا: "اگر ابو لؤلؤ کوئی عرب ہوتا تو وہ اسے گرانے کی بجائے اس کے مزار پر سونے کا گنبد بنواتے۔ لیکن نہیں ، نہیں۔۔۔ وہ اس مقبرے کو گرانا چاہتے ہیں، محض اس وجہ سے کہ وہ ایک ایرانی تھا۔ ایک معزز ایرانی۔ یہ ایرانی قوم کی توہین  ہے۔"۔۔۔

فیروزان کا مقبرہ کاشان نے فنس جانے والی سڑک پر ہے۔ اسے گیارہویں صدی میں تعمیر کیا گیا اور اس کا آرکی ٹیکچر ایرانی اور خوارزمی شاہی خاندانوں کے طرز تعمیر کا ہے۔ اس میں ایک صحن، ایک پورچ اور مخروطی گنبد ہے جس پر ہلکے نیلے رنگ کی ٹائلیں لگی ہیں اور اس کی چھت پر پینٹ کیا گیا ہے۔ اس کی تعمیر کی اصل تاریخ نامعلوم ہے لیکن چودھویں صدی کے نصف آخر میں اسے بھرپور انداز میں بنایا گیا اور اس کی قبر کے اوپر ایک نیا پتھر نصب کیا گیا۔ [4]

حضرات ابوبکر و عمر کے دورمیں حضرت علی کا کردار کیا تھا؟

حضرت علی، حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے دور میں مرکزی کابینہ کے رکن تھے۔  اس کابینہ میں ان کے علاوہ حضرت عثمان، عبدالرحمن بن عوف، طلحہ، زبیر، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔[5] تمام معاملات مشورے سے طے کیے جاتے تھے جس میں حضرت علی پوری دیانتداری سے شریک ہوتے اور ان کے مشورے کو بے پناہ اہمیت دی جاتی۔ یہاں ہم چند مثالیں پیش کر رہے ہیں:

1۔ مرتدین کے خلاف جنگ کے لیے صدیق اکبر بذات خود نکلے تو حضرت علی رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ کہہ کر روکا: ’’اے خلیفہ رسول اللہ! آپ  کہاں تشریف لے جا رہے  ہیں؟ اب میں آپ کو وہی بات کہوں گا جو احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو فرمائی تھی۔ اپنی تلوار نیام میں رکھیے اور اپنی ذات کے متعلق ہمیں پریشانی میں مبتلا نہ کیجیے۔ اللہ کی قسم! اگر آپ کے ذات کے سبب ہمیں کوئی مصیبت پہنچی تو آپ کے بعد اسلام کا یہ نظام درست نہ رہ سکے گا۔‘‘[6]

2۔ غزوہ روم کے موقع پر حضرت علی مشورہ میں شریک ہوئے اور بہترین رائے دی جسے حضرت ابوبکر نے پسند کیا۔

3۔ مرتدین کی جانب سے مدینہ پر حملے کا خظرہ ہوا تو حضرت ابوبکر نے مدینہ آنے والے راستوں پر لشکر مقرر کیے جن کے سربراہ حضرت علی، زبیر، طلحہ اور عبداللہ بن مسعود تھے۔ رضی اللہ عنہم۔[7]

4۔ حضرت علی، عہد فاروقی میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔[8]

6۔ حضرت عمرنے ارادہ کیا کہ ایران کی جنگوں میں وہ خود قیادت کریں۔ حضرت علی  نے انہیں منع کیا اور کہا: ’’ ملک میں نگران کی منزل مہروں کے اجتماع [تسبیح] میں دھاگے کی ہوتی ہے کہ وہی سب کو جمع کیے رہتا ہے اور وہ اگر ٹوٹ جائے تو سارا سلسلہ بکھر جاتا ہے اور پھر کبھی جمع نہیں ہو سکتا ہے۔ آج عرب اگرچہ قلیل ہیں لیکن اسلام کی بنا پر کثیر ہیں اور اپنے اتحاد و اتفاق کی بنا پر غالب آنے والے ہیں۔ لہذا آپ مرکز میں رہیں اور اس چکی کو انہی کے ذریعہ گردش دیں اور جنگ کی آگ کا مقابلہ انہی کو کرنے دیں۔ آپ زحمت نہ کریں کہ اگر آپ نے اس سرزمین کو چھوڑ دیا تو عرب چاروں طرف سے ٹوٹ پڑیں گے اورسب اس طرح شریک جنگ ہو جائیں گے کہ جن محفوظ مقامات کو آپ چھوڑ کر گئے ہیں ، ان کا مسئلہ جنگ سے زیادہ اہم ہو جائے گا۔ان عجمیوں نے اگر آپ کو میدان جنگ میں دیکھ لیا تو کہیں گے کہ عربیت کی جان یہی ہے۔ اس جڑ کو کاٹ دیا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راحت مل جائے گی اور اس طرح ان کے حملے شدید تر ہو جائیں گے اور وہ آپ میں زیادہ ہی طمع کریں گے۔۔‘‘[9]

7۔ حضرت عمر نے دو مرتبہ شام کا سفر کیا تو دونوں مرتبہ قائم مقام خلیفہ حضرت علی کو بنا کر گئے۔ [10]

کتب حدیث و آثار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بے شما رمواقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق فیصلہ ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے پہلے دونوں خلفاء کے دور میں پوری طرح ان کا ساتھ دیا اور حکومتی معاملات میں شریک رہے۔ اگلے باب میں ہم بیان کریں گے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں تو آپ نائب خلیفہ تھے۔

خلاصہ باب

·       حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر تمام مہاجرین و انصار بشمول حضرت علی، زبیر اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہم کا اتفاق تھا۔

·       قبائلی چپقلش کے باعث فتنہ ارتداد پیدا ہوا لیکن صحابہ کرام نے یکجہتی کے ساتھ اسے ختم کر دیا۔

·       حضرت عمر کو باہمی مشورے کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے نامزد کیا۔

·       حضرت عمر نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو ان کی خطرات مول لینے کی عادت اور مسلمانوں میں پیدا ہونے والی شخصیت پرستی کے سبب معزول کیا۔  ان دونوں بزرگوں میں بہترین تعلقات رہے اور خالد نے اپنی جائیداد بھی حضرت عمر کے ذریعے ہی تقسیم کروائی۔

·       حضرت عمر کی شہادت ایک ایرانی کے جوش انتقام کا نتیجہ تھی تاہم اس سلسلے میں کسی نظریہ سازش کے لیے کچھ زیادہ ثبوت موجود نہیں ہیں۔

اسائن منٹس

۱۔  دنیا کے مختلف سیاسی نظاموں کا ایک چارٹ تیار کیجیے اور یہ بتائیے کہ کس نظام کی کون سی خصوصیت خلافت راشدہ سے مطابقت رکھتی ہے اور کون سی خصوصیت اس کے خلاف ہے؟

۲۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں بعض عرب قبائل نے بغاوت کیوں کی؟ اس کے قبائلی، مذہبی، سیاسی، عمرانی اور معاشی اسباب کی ایک فہرست تیار کیجیے۔

۳۔ حضرت علی اور ابوبکر رضی اللہ عنہما کی بیعت کے معاملے میں روایات کے تین گروپ کون سے ہیں؟ آپ کے خیال میں ان میں سے کون سا گروپ حقیقت کی صحیح تصویر پیش کرتا ہے؟

۴۔ عہد رسالت اور عہد خلافت راشدہ میں انصار مدینہ کے کردار پر ایک نوٹ لکھیے اور یہ بتائیے کہ ان کا جو کردار سقیفہ بنو ساعدہ کی روایات میں بیان کیا گیا ہے، کیا وہ ان کے مجموعی کردار سے مطابقت رکھتا ہے؟

۵۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں فتنہ و فساد کیوں پیدا نہیں ہوا؟ اس کے عمرانی (Sociological)اسباب  کو نکات کی صورت میں بیان کیجیے۔

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  ایضاً ۔ 13H/2/2-208

[2]  ایضاً ۔17H/3/1-79

[3]   ابن حجر عسقلانی۔ الاصابہ فی تمییز الصحابہ۔  باب خالد بن ولید، صحابی نمبر 2210۔ 3/178۔ قاہرہ: مرکز ہجر للبحوث و الدراسات العربیہ و الاسلامیہ۔

www.waqfeya.com (7 Jan 2012)

[4]  The Circle of Ancient Iranian Studies (CAIS), http://www.cais-soas.com/News/2007/June2007/28-06.htm, accessed 12 Sep 2011

[5]  ابن سعد۔ 2/302۔ باب اہل العلم و الفتوی من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

[6]  ابن کثیر ۔ 11H/9/446۔  بحوالہ دار قطنی۔  ابن عساکر 30/316۔  بیروت: دار الفکر۔

[7]  طبری۔ 11H/2/2-54

[8]  ابن سعد۔ 2/93۔ باب علی بن ابی طالب۔  ابن کثیر۔ 13H/9/602۔

[9]  سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خطبہ نمبر 146۔ طبری۔ 21H/3/1-139

[10]  ابن کثیر۔ 9/656۔ طبری۔ 17H/3/1-75