بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 4: عہد عثمانی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

تیسرے خلیفہ کا انتخاب

جیسا کہ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی  شہادت سے کچھ پہلے چھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی تھی جس کے ذمے خلیفہ کا انتخاب تھا۔ انتخاب کے وقت عشرہ مبشرہ کے تین صحابہ ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم وفات پا چکے تھے جبکہ سات ابھی باقی تھے۔ ان میں سے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ چونکہ حضرت عمر کے بہنوئی اور قریبی رشتہ دار تھے اور خلافت کے امور میں دلچسپی بھی نہ رکھتے تھے، اس وجہ سے آپ نے انہیں اس کمیٹی میں شامل نہ کیا بلکہ بقیہ چھ صحابہ علی، عثمان، عبدالرحمن بن عوف، طلحہ، زبیر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کو اس کمیٹی میں شامل کیا۔ اس میں بطور مبصر  حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو شامل کیا گیا لیکن وہ خلیفہ کے انتخاب میں ووٹ نہیں دے سکتے تھے۔ ہاں انہیں یہ اجازت ضرور تھی کہ اگر دو افراد کے حق میں تین تین ووٹ آ جائیں تو وہ اس جانب ووٹ دیں گے، جس میں عبدالرحمن رضی اللہ عنہ شریک ہوں گے۔ ایسا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عمر جانتے تھے کہ عبدالرحمن خلافت کے امیدوار نہیں ہیں اور اس معاملے میں کسی شخص کے حق میں جانبدار بھی نہیں ہیں۔  اس معاملے میں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں:

خلیفہ کے انتخاب کو چھ افراد کے سپرد کرنا کیا شوری کے اصول کی خلاف ورزی تھی؟

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کے انتخاب کو چھ افراد ہی میں کیوں رکھا؟ کیا یہ شوری  کے اصول کی خلاف ورزی نہ تھی؟ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ہی یہ طے ہو چکا تھا کہ خلیفہ قریش میں سے ہو گا کیونکہ عرب قبائل ان کے سوا کسی اور قبیلے کے شخص کو بطور خلیفہ قبول نہ کریں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت بھی یہی صورتحال باقی تھی۔ اب قریش کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ اپنے اندر سے کس شخص کو خلیفہ کے طور پر منتخب کرتے۔  یہ بالکل ایسا ہی معاملہ تھا جیسے ہمارے دور میں اگر ایک پارٹی کی حکومت ہو اور سربراہ حکومت وفات پا جائے تو دوبارہ انتخابات کی بجائے پارلیمنٹ نئے سربراہ کا انتخاب کر لیتی ہے۔  قریش کی حکومت کو سبھی عرب تسلیم کرتے تھے اور اب مہاجرین ہی نے فیصلہ کرنا تھا کہ وہ اپنے میں سے کسے خلیفہ منتخب کرتے ہیں۔

اس انتخاب کا معیار (Criteria) دینی خدمات تھیں۔ ان خدمات میں وہی صحابی ممتاز تھے ، جنہوں نے بالکل شروع سے اسلام کے لیے قربانیاں دی تھیں اور جو "السابقون الاولون" کہلاتے تھے۔ ان سابقون الاولون میں عشرہ مبشرہ کے صحابہ کو غیر معمولی مقام حاصل تھا جن میں سے سات صحابہ اس وقت زندہ تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے پورے زمانے میں اپنی جانشینی کے معاملے میں متردد رہے تھے۔ ان کی نظر میں دو صحابہ ایسے تھے جو اگر خلیفہ بنتے تو کسی تو اختلاف نہ ہوتا۔ ان میں سے ایک حضرت ابوعبیدہ تھے اور دوسرے  ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہم۔  لیکن یہ دونوں حضرات، حضرت عمر سے بھی پہلے شہید ہو چکے تھے۔ آپ نے طویل عرصے تک غور و خوض کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ خلافت کے معاملے میں اگر لوگوں میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے تو وہ صرف انہی چھ افراد کے بارے میں ہو سکتا ہے۔  ان کے علاوہ کوئی ایسا ساتواں شخص نہیں ہے جسے لوگ خلیفہ بنانا چاہیں۔ [1]  یہی وجہ ہے کہ آپ نے انہی چھ افراد کو  یہ فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا کہ وہ اپنے میں سے کسی ایک کو خلیفہ منتخب کر لیں۔

شوری نے خلیفہ کا انتخاب کیسے کیا؟

چھ صحابہ کی اس کمیٹی نے شورائی انداز میں کام کیا اور ایسے کردار کا مظاہرہ کیا جو ان کے شایان شان تھا۔ حضرت طلحہ اس وقت مدینہ میں موجود نہ تھے۔ ان کا تین دن انتظار کیا گیا مگر وہ نہ آئے اور جب آئے تو انہو ں نے خوشدلی سے حضرت عثمان کو بطور خلیفہ قبول کر لیا۔ بعض روایات کے مطابق وہ آ گئے تھے اور حضرت عثمان کے حق میں دستبردار ہو گئے تھے۔ حضرت زبیر ، سعد اور عبدالرحمن دستبردار ہو گئے۔ ان صحابہ کا کردار اس معاملے میں غیر معمولی تھا کہ چار صحابہ  تو خود ہی دستبردار ہو گئے جس سے ان کی بے غرضی کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت عثمان سے پوچھا گیا کہ آپ خلیفہ نہ بنیں تو کسے بنایا جائے تو انہوں نے حضرت علی کا نام لیا۔ یہی سوال حضرت علی سے کیا گیا تو انہوں نے حضرت عثمان کا نام لیا۔ حضرت عثمان اور علی نے متفقہ طور پر  حضرت عبدالرحمن کو اجازت دی کہ وہ عوام الناس کی رائے معلوم کریں۔ انہوں نے مدینہ کے ہر ہر شخص کے علاوہ حج سے واپس آنے والے دیگر قبائل کے لوگوں کی رائے معلوم کی۔ اکثریت کی رائے حضرت عثمان کے حق میں تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے حضرت عثمان کو خلیفہ بنانے کا اعلان کر دیا۔   یہ تفصیل صحیح بخاری کی روایت میں بیان ہوئی ہے۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ روایت حضرت مسور بن مخرمہ کی بیان کردہ ہے جن کی ذاتی رائے یہ تھی کہ خلیفہ حضرت علی کو ہونا چاہیے۔ رضی اللہ عنہم۔

حدثنا عبد الله بن محمد بن أسماء: حدثنا جويرية، عن مالك، عن  الزُهريِّ: أنَّ حميد بن عبد الرحمن أخبره: أنَّ المسور بن مخرمة أخبره: مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ (چھ) افراد جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے خلافت کا اختیار دیا تھا، جمع ہوئے اور انہوں نے مشورہ کیا۔ عبدالرحمن (بن عوف) نے ان سے کہا: "اس معاملے میں میں آپ سے تنازعہ نہیں کروں گا (یعنی میں خلیفہ نہیں بنوں گا۔) اگر آپ چاہیں تو آپ ہی میں سے کسی کو آپ کا خلیفہ منتخب کر دوں۔ " چنانچہ ان لوگوں نے یہ معاملہ عبدالرحمن پر چھوڑ دیا۔ جب ان لوگوں نے عبد الرحمن کو ذمہ داری دی تو بقیہ لوگوں میں سے کسی کے پاس ایک آدمی بھی نظر نہیں آتا تھا۔ عبدالرحمن لوگوں سے ان راتوں میں مشورہ کرتے رہے حتی کہ وہ رات آ گئی جس کی صبح ہم نے عثمان کی بیعت کی تھی۔

مسور بیان کرتے ہیں کہ تھوڑی رات گزر جانے کے بعد عبدالرحمن نے میرا دروازہ اس زور سے کھٹکھٹایا  کہ میری آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے کہا: "آپ سو رہے ہیں جبکہ واللہ! ان راتوں میں میری آنکھ بھی نہیں لگی۔ آپ جائیے اور زبیر اور سعد کو میرے پاس بلا لائیے۔ " میں ان دونوں کو بلا لایا۔ پھر انہوں نے کہا : "علی کو بلا لائیے۔ " میں انہیں بھی بلا لایا۔ وہ بہت رات گئے تک ان سے مشورہ کرتے رہے۔ پھر علی کے پاس سے اٹھے تو ان کے دل میں خلافت کی خواہش تھی۔ عبدالرحمن کو خدشہ تھا کہ اگر علی خلیفہ بنے تو اس سے امت میں اختلاف پڑ جائے گا (کیونکہ اکثریت عثمان کے حق میں تھی۔) پھر عبدالرحمن نے کہا: "عثمان کو بلا لائیے۔" اس کے بعد وہ ان سے مشورہ کرتے رہے یہاں تک کہ صبح کی اذان ہو گئی۔

جب انہوں نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی تو یہ لوگ منبر کے پاس جمع ہوئے۔ یہاں مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ موجود تھے، آپ نے انہیں بلوایا اور سردار لشکر کو بھی بلوایا۔ یہ سب لوگ وہ تھے جو حضرت عمر کے ساتھ حج میں شریک ہوئے تھے۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو عبدالرحمن نے ایک خطبہ دیا اور کہا: "اما بعد۔ علی! میں نے لوگوں کے حالات پر غور کیا ہے تو دیکھا ہے کہ وہ عثمان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ہیں۔ اس لیے آپ اپنے دل میں میری طرف سے کچھ خیال نہ کیجیے گا۔" علی نے عثمان سے کہا: "میں اللہ اور اس کے رسول اور آپ کے دونوں خلفاء کی سنت پر آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔" عبدالرحمن نے بھی بیعت کی اور پھر تمام لوگوں ، جن میں مہاجرین و انصار، سرداران لشکر اور عام مسلمان تھے، نے بیعت کی۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین )[2]

خلیفہ کے انتخاب میں حضرت علی کا کردار کیا تھا؟

صحیح بخاری کی اوپر بیان کردہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  کے دل میں اگرچہ یہ خواہش موجود تھی کہ وہ خلیفہ بنیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے اکثریت کا احترام کرتے ہوئے برضا و رغبت  سب سے پہلے حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔  اس سے آپ کے کردار کا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ملت اسلامیہ کے مفاد کو ذاتی خواہش پر ہر حال میں ترجیح دینے والے تھے۔ قوم کی خدمت کے لیے خلافت کی خواہش کرنا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن  اس کے لیے فتنہ و فساد برپا کرنا ایک برا عمل ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں ایسی  کسی بات کا شائبہ بھی نہ پایا جاتا تھا بلکہ انہوں نے نہایت ہی بے غرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوشدلی کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔

بخاری کی اس روایت کی روشنی میں دیکھا جائے تو کتب تاریخ میں جو بعض سازشانہ روایات موجود ہیں، ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی ہے۔ اس کے بعد عہد عثمانی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو کردار ادا کیا، اس سے بھی صحیح بخاری کی اسی روایت کی تائید ہوتی ہے۔ آپ مسلسل بارہ برس حضرت عثمان کے دست راست بن کر رہے اور عملاً آپ ہی نائب خلیفہ تھے۔ حضرت عثمان کو شہید کرنے کے لیے جب باغی آئے تو یہ حضرت علی ہی تھے جنہوں نے آگے بڑھ کر ان باغیوں کو واپس کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں ایسا کوئی لالچ نہ تھا، جس کے سبب آپ مسلمانوں میں رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔

کتب تاریخ کی روایات

اگر آپ نے اب تک پہلے دو ابواب کا مطالعہ نہیں کیا تو پہلے ان کا مطالعہ کر لیجیے کیونکہ ان میں تاریخی روایات  کی چھان بین کا پروسیجر تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اس پروسیجر کا اطلاق ہم یہاں کر رہے ہیں۔ شوری کے اس واقعے کی کل 32 روایات ہمیں طبری، بلاذری اور ابن سعد کی کتابوں سے مل سکی ہیں۔  ان میں سے طبری نے 3، بلاذری نے 20 اور ابن سعد نے 9 روایات بیان کی ہیں۔  ان تینوں کی متعدد روایات مشترک ہیں۔ روایات کے تجزیے کو ہم نے جدول میں بیان  کیا ہے:

تاریخ کی کتاب

شوری سے متعلق کل روایات

ناقابل اعتماد روایات کی تعداد

ناقابل اعتماد راویوں کے  نام اور ان کی بیان کردہ روایات

بقیہ روایات

ابن سعد  (168-230/784-845)

9

8

محمد بن عمر الواقدی: 8 روایتیں

1

بلاذری (d. 279/893)

20

16

واقدی: 10روایتیں۔ ابو مخنف: 4۔

عباس بن ہشام کلبی: 1۔ عبیداللہ بن موسی: 1

4

طبری (224-310/838-922)

3

1

ابو مخنف: 1

2

مجموعہ

32

25

25

7

اس طرح سے واقعہ شوری کی 32 تاریخی روایتوں میں سے صرف 7 ایسی ہیں جو ابو مخنف، واقدی اور ہشام کلبی سے ہٹ کر بیان ہوئی ہیں جبکہ بقیہ 25 روایتیں انہی حضرات کے توسط سے ہم تک پہنچی ہیں۔ 

اب ہم ان تینوں کتب میں بیان کردہ روایات کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں اور اس کا آغاز طبری سے کرتے ہیں کیونکہ سب سے زیادہ تفصیل سے انہوں ہی نے اس واقعے کو بیان کیا ہے۔

طبری کی شوری سے متعلق روایات میں کیا بات بیان ہوئی ہے؟

 طبری نے اگرچہ صرف تین روایتیں بیان کی ہیں مگر یہ خاصی طویل اور مفصل ہیں۔ ان کی تفصیل یہ ہے:

1۔ پہلی روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے کا واقعہ ہے اور اس بات کا بیان ہے کہ آپ نے کمیٹی کیسے بنائی اور اپنی شہادت سے پہلے  انہیں کیا نصیحتیں کیں۔ اس روایت میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔  اس کی سند یہ ہے اور اس میں کوئی قابل اعتراض راوی نہیں ہے: حدثني سلم بن جنادة، قال: حدثنا سليمان بن عبد العزيز بن أبي ثابت بن عبد العزيز بن عمر بن عبد الرحمن بن عوف، قال: حدثنا أبي، عن عبد الله بن جعفر، عن أبيه، عن المسور بن مخرمة.۔

2۔  دوسری روایت میں طبری نے خلیفہ کے انتخاب کے پورے واقعے کو تسلسل سے بیان کیا ہے۔  اس میں کمیٹی کے اراکین کے بارے میں  زیادہ تر مثبت نوعیت کی تفصیلات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت ہی بے غرض قسم کے لوگ تھے اور انہوں نے بے غرضی اور غیر جانبداری سے خود میں سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا لیا۔ البتہ پورے بیان میں بعض جملے ایسے ہیں جس میں حضرت عباس اور عمار رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان کے خلاف سازش کی اور حیلے بہانے سے  حضرت علی رضی اللہ عنہما کو مشورہ دیا کہ وہ شوری سے دور رہیں۔ تاہم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی بات نہ مانی۔ جب فیصلہ حضرت عثمان کے حق میں ہو گیا تو حضرت علی کو بڑا افسوس ہوا  اور حضرت عباس نے بھی انہیں بے نقط سنائیں۔

طبری نے اس روایت کی دو اسناد دی ہیں۔ انہوں نے اسناد کو شروع میں دے کر پھر پورے واقعے کو اس طرح بیان کیا ہے  کہ دونوں کے مضمون کو ایک دوسرے میں خلط ملط کر دیا ہے۔ سند کچھ یوں ہے: حدثني عمر بن شبة، قال: حدثنا علي بن محمد، عن وكيع، عن الأعمش، عن إبراهيم ومحمد بن عبد الله الأنصاري، عن ابن أبي عروبة، عن قتادة، عن شهر بن حوشب وأبي مخنف، عن يوسف بن يزيد، عن عباس بن سهل ومبارك بن فضالة، عن عبيد الله بن عمر ويونس بن أبي إسحاق، عن عمرو بن ميمون الأوديَ.

چونکہ طبری نےان دونوں اسناد سے بیان کردہ روایات کو مکس کر دیا ہے، اس وجہ سے اس با ت کا تعین مشکل ہے کہ روایت میں کون سا جملہ کس راوی کا ہے۔ بہرحال آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سند میں ابو مخنف موجود ہیں۔  جس طرح ان صاحب نے دیگر واقعات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق طرح طرح کے جھوٹ منسوب کیے ہیں ، اسی طرح اس روایت میں بھی یہ بات واضح ہے کہ حضرت علی، عباس اور عمار بن یاسر  رضی اللہ عنہم سے بھی انہوں نےجھوٹ منسوب کیا ہے۔  حضرت علی، عباس اور عمار رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر بزرگوں سے ہمیں ہرگز یہ امید نہیں ہے کہ انہوں نے امت کے اکثریتی فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم نہ کیا ہو گا۔ بلاذری  کی انساب الاشراف کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے اس واقعے کی اسناد کو الگ الگ بیان کیا ہےاور وہاں یہ صاف نظر آتا ہے کہ جن جن روایتوں میں حضرت علی، عباس اور عمار رضی اللہ عنہم کی طرف منفی نوعیت کے جملے منسوب ہیں، ان سب کی سند میں ابو مخنف  یا ہشام کلبی موجود ہیں اور ان پر تبصرہ آگے آ رہا ہے۔ طبری کی دوسری  اور نیچے دی گئی تیسری روایت میں موجود مثبت پہلو مشترک ہیں جبکہ منفی پہلو صرف دوسری روایت میں بیان کیے گئے ہیں جس کی سند میں ابو مخنف صاحب موجود ہیں۔ 

 3۔  طبری نے جو تیسری روایت بیان کی ہے، وہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اوپر بیان کردہ صحیح بخاری والی روایت کا تفصیلی ورژن ہے، جس میں انہوں نے گویا ایسا سماں باندھ دیا ہے کہ واقعے کی نہ صرف پوری تصویر سامنے آ گئی ہے بلکہ ارکان شوری کے دل کے حالات بھی گویا کھل کر سامنے آگئے ہیں۔  یہ روایت واقعے کی نہایت ہی دلنواز تصویر پیش کرتی ہے  البتہ ا س کے آخر میں کچھ جملے قابل اعتراض ہیں۔ مناسب ہو گا کہ ہم اس روایت کو نقل کر دیں تاکہ صورت واقعہ پوری طرح سامنے آ جائے۔  آپ سے گزارش ہے کہ شوری کے سبھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے جو بیانات اس روایت میں نقل ہوئے ہیں، ان کا مطالعہ پورے غور سے کیجیے گا:

حدثني سلم بن جنادة أبو السائب، قال: حدثنا سليمان بن عبد العزيز ابن أبي ثابت بن عبد العزيز بن عمر بن عبد الرحمن بن عوف، قال: حدثنا أبي، عن عبد الله بن جعفر، عن أبيه، عن السمور بن مخرمة: مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں  کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی میت کو مجلس شوری کے پانچوں اراکین (عثمان، علی، زبیر، سعد اور عبد الرحمن رضی اللہ عنہم) نے قبر میں اتارا ۔ پھر سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو جانے لگے تو عبد الرحمن نے کہا: "آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں؟ میرے ساتھ آئیے۔" سب ان کے ساتھ ہو گئے اور وہ انہیں فاطمہ بنت قیس فہریہ کے  گھر لے گئے جو ضحاک بن قیس فہری رضی اللہ عنہما کی بہن تھیں۔  بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ان (عبد الرحمن) کی اہلیہ تھیں اور بہت عقل مند خاتون تھیں۔

وہاں پہنچ کر عبد الرحمن نے گفتگو کا آغاز کیا اور فرمایا: "بھائیو! میری ایک رائے ہے، آپ لوگ اسے غور سے سنیے اور پھر جواب دیجیے۔  آپ سمجھ لیجیے کہ ٹھنڈے پانی کا ایک گھونٹ  ناخوشگوار میٹھے شربت سے بہتر ہے۔ آپ حضرات (امت کے) لیڈر ہیں جن سے لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور آپ ایسے اہل علم ہیں جن کی طرف لوگ کھنچے چلے آتے ہیں۔  باہمی اختلاف سے اپنی اس پوزیشن کو خراب نہ کیجیے گا اور نہ ہی دشمن کے مقابلے پر اپنی تلواریں نیام میں رکھیے گا۔ ہر بات کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے، اور ہر قوم کا ایک سربراہ ہوتا ہے جس کے حکم کو سب تسلیم کرتے ہیں اور اس کے منع کرنے سے کسی کام سے باز آ جاتے ہیں۔ آپ اپنی جماعت میں سے کسی ایک کو سربراہ بنا لیجیے تو آپ امن سے رہیں گے اور اندھے فتنے اور پریشان کن گمراہی سے بچے رہیں گے۔ اس طرح آپ بد نظمی اور انارکی سے بچ سکیں گے۔ ذاتی اور نفسانی خواہشات کی پیروی سے بچتے رہیے اور ناانصافی اور تفرقہ بازی کی زبان کبھی استعمال نہ کیجیے کیونکہ زبان کا زخم تلوار کے زخم سے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ رواداری اور کھلے دل سے بات چیت کیجیے اور باہمی رضا مندی سے کوئی فیصلہ کیجیے۔ آپ کسی فتنہ پرداز کی باتوں سے متاثر نہ ہوں اور کسی مخلص آدمی کی مخالفت نہ کیجیے۔ میں اپنی گفتگو کو ختم کرتا ہوں اور اللہ سے اپنے لیے اور آپ کے لیے بخشش کا طلب گار ہوں۔ (کاش ! آج کے مسلمان بھی حضرت عبد  الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اس نصیحت  کو سمجھ سکیں۔)

ان کے بعد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بات کی اور فرمایا: "حمد و ثنا اسی ذات کے لیے ہے جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی اور رسول بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے انہیں قریبی اور دور کے رشتہ داروں  کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا فرمائی۔  اللہ نے ہمیں آپ کا تابع بنایا ہے۔ ہم آپ ہی کے احکام کے ذریعے ہدایت حاصل کرتے ہیں اور آپ ہمارے لیے نور (ہدایت) ہیں۔ آپس کے اختلاف ہوں یا دشمنوں سے بحث، ہر صورت میں ہم آپ ہی کے احکام کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمیں آپ کے طفیل اور آپ کی اطاعت کی بدولت ہی لیڈر اور حکمران بنایا ہے اور ہمارے معاملات ، ہم لوگ ہی طے کرتے ہیں اور سوائے بے وقوفی اور بے اعتدالی کرنے والوں  کے اور کوئی اس میں مداخلت نہیں کرتا ہے۔  عبد الرحمن! آپ نے جو بات کہی ہے، اگر اس کی خلاف ورزی ہوئی اور آپ کی دعوت کو قبول نہ بھی کیا گیا تو  میں سب سے پہلے آپ کی بات کو تسلیم کروں گا اور آپ کی دعوت پر لبیک کہوں گا۔ میں جو بات کہتا ہوں، پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں اور اللہ سے اپنے لیے اور آپ سب کے لیے مغفرت کا طلب گار ہوں۔"

پھر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے بات کی اور فرمایا: "جو شخص اللہ کی طرف دعوت دے، اس سے کوئی ناواقف نہیں رہ سکتا ہے اور جو شخص باہمی اختلاف اور افتراق کے موقع پر اس دعوت کو قبول کر لے، وہ ہرگز ناکام اور رسوا نہیں ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے، اس  میں وہی شخص کوتاہی کر سکتا ہے  جو راہ حق سے بھٹک جائے۔ جو آپ کی  دعوت کو قبول نہ کرے، وہ بدبخت ہے۔ اگر اللہ تعالی کے حدود و فرائض مقرر نہ ہوتے ، جن پر عمل کرنا ضروری ہے تو موت، حکومت سے نجات حاصل کرنے کا ذریعہ تھی۔ اس طرح حکومت سے گریز کر کے ہی ایک شخص گناہوں سے بچ سکتا تھا (کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔) لیکن اللہ کی دعوت کو قبول کرنا اور سنت پر عمل کرنا ہمارے لیے ضروری ہے تاکہ ہم (انارکی کا شکار ہو کر) اندھی موت نہ مریں اور  عہد جاہلیت کی طرح اندھا دھند نہ بھٹکتے پھریں۔  (عبد الرحمن!) میں آپ کی دعوت پر لبیک کہتا ہوں اور اس معاملے میں آپ کا مددگار ہوں۔ اصل قدرت و اختیار تو اللہ تعالی ہی کو حاصل ہے۔ میں بھی اپنے لیے اور آپ سب کے لیے مغفرت کا طالب ہوں۔"

پھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بات شروع کی: "اول و آخر حمد و ثنا کا مستحق اللہ تعالی ہی ہے۔  میں اس کی حمد و ثنا اس لیے کرتا ہوں کہ اس نے مجھے گمراہی سے نجات دی اور راستہ بھٹکنے سے محفوظ رکھا۔ اللہ کے راستے پر چل کر نجات حاصل کرنے والا کامیاب ہوتا ہے اور اس کی رحمت سے پاکیزہ انسان فلاح و کامرانی حاصل کر سکتا ہے۔ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ نے راہ (ہدایت) روشن کی اور آپ ہی کی بدولت راہیں ہموار ہو گئیں، حق و صداقت کا بول بالا ہوا اور باطل مٹ گیا۔  میرے ساتھیو! دھوکے  میں مبتلا لوگوں کی خواہش پرستی اور جھوٹ سے بچتے رہیے کیونکہ اسی قسم کی تمناؤں کی وجہ سے آپ سے پہلے لوگ (بنی اسرائیل) زوال کا شکار ہوئے   جو انہی علاقوں  (فلسطین و شام) کے وارث تھے، جن پر اب آپ کو اقتدار حاصل ہے۔  جو کچھ آپ حاصل کر چکے ہیں، وہ سب انہیں بھی حاصل تھا مگر (ان کی بد اعمالی اور سرکشی کے سبب) اللہ تعالی نے انہیں اپنا دشمن قرار دیا اور ان پر سخت لعنت فرمائی۔ چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ، كَانُوا لا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ. 'داؤد  اور عیسی کی زبان سے بنی اسرائیل کے کفار پر لعنت بھیجی گئی کیونکہ وہ نافرمان اور سرکش ہو گئے تھے اور انہوں نے حدود کو پار کر لیا تھا۔ وہ برے کاموں سے نہیں بچتے تھے اور جو کرتے تھے، وہ نہایت ہی برا ہوتا تھا۔ '[3] میں اپنے ہتھیار ڈال رہا ہوں اور اس معاملہ (حکومت کی امید واری) سے دست بردار ہو رہا ہوں۔ جو کچھ میں نے اپنے لیے پسند کیا ہے، وہی طلحہ بن عبید اللہ (جو اس وقت موجود نہ تھے) کے لیے بھی پسند کر رہا ہوں۔ ان کا ذمہ میں لیتا ہوں اور جو بات کہی ہے، اس کا پابند ہوں۔ عبد الرحمن! یہ معاملہ آپ کے سپرد کر دیا گیا ہے لہذا آپ خیر خواہی کی نیت سے حسب استطاعت اپنی کوشش کیجیے۔ صحیح راستہ دکھانا اللہ تعالی کا کام ہے اور اسی کی طرف ہر معاملے میں رجوع کرنا چاہیے۔ میں بھی اپنے لیے اور آپ سب کے لیے اللہ تعالی سے مغفرت کا طلب گار ہوں اور آپ لوگوں کی مخالفت سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔"

اس کے بعد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بات کی اور فرمایا: "اللہ تعالی ہی حمد وثنا کا مستحق ہے، جس نے ہمارے اندر سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو  ہماری جانب رسول اور نبی بنا کر بھیجا۔  ہم لوگ (یعنی تمام صحابہ) نبوت کا مرکز ہیں اور اس حکمت (نبوت) کا خزانہ ہیں۔ اہل زمین ہم سے ہی امان حاصل کرتے ہیں اور جو لوگ  نجات کے طالب ہوں، ان کے لیے ہم نجات کا سبب بنتے ہیں۔ یہ خلافت ہمارا حق ہے۔ اگر آپ دیں گے تو ہم اسے قبول کر لیں گے اور نہیں دیں گے تو اونٹوں کی پشت پر سوار ہو کر چلے جائیں گے خواہ ہمیں اس کے لیے کتنا ہی انتظار کیوں نہ کرنا پڑے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے کوئی معاہدہ فرما دیتے تو ہم اس کو نافذ کرواتے اور اگر ہم سے کوئی بات کہتے تو ہم مرتے دم تک اس بات پر ڈٹے رہتے۔ لیکن دعوت حق اور (آپ لوگوں کے ساتھ) صلہ رحمی میں  کوئی مجھ سے آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ قدرت اور اختیار اللہ تعالی ہی کو حاصل ہے۔  آپ لوگ میری بات سن لیجیے اور ذہن نشین کر لیجیے۔ خطرہ ہے کہ اس میٹنگ کے بعد  آپ یہ دیکھیں کہ تلواریں بے نیام ہو گئی ہیں اور امانت میں خیانت ہونے لگی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ  گمراہ لوگ لیڈر بن جائیں اور جاہل لوگ ان کی پیروی کرنے لگیں۔  (پھر یہ شعر پڑھے کہ) اگر  تباہی بڑی ہو جائے تو میں وہی کروں گا جو بنو عبد بن ضخم نے کیا۔ ہر طوفان کی صورت میں میں فرمانبردار بن کر رہوں گا اور ہر ستارے  کے مرکز کو دیکھتا رہوں گا۔"

عبد الرحمن بن عوف بولے: "آپ میں سے کون برضا ور غبت اس معاملے (خلافت) سے دست بردار ہو کر دوسرے کو خلیفہ بنانے پر تیار ہے؟" لوگ کچھ دیر خاموش رہے تو عبد الرحمن نے کہا: "میں اس معاملے سے اپنے آپ اور اپنے پھوپھی زاد (سعد بن ابی وقاص) کو نکال رہا ہوں۔  " اس پر تمام لوگوں نے (خلیفہ کے انتخاب کے) معاملے کو ان  کے سپرد کر دیا۔ اس وقت عبد الرحمن نے ان سب (ارکان شوری) سے منبر کے قریب حلف اٹھوایا۔  سب نے یہ حلف اٹھایا کہ وہ اس شخص کی بیعت کریں گے جس کے ہاتھ پر عبد الرحمن بیعت کریں گے۔ اب عبد الرحمن رضی اللہ عنہ تین دن تک مسجد نبوی کے قریب اپنے گھر میں  مقیم رہے جو آج کل (راوی کے زمانے میں) رحبۃ القضاء کے نام سے مشہور ہے اور اس کا یہ نام، اسی فیصلہ کی وجہ سے مشہور ہوا۔ ان تین دنوں میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ (وصیت فاروقی کے مطابق) نماز کی امامت کرتے رہے۔

عبد الرحمن نے علی رضی اللہ عنہما کو بلوا کو پوچھا: "اگر میں آپ کے ہاتھ پر بیعت نہ کروں، تو مشورہ دیجیے (کہ کسے خلیفہ بنایا جائے؟)" علی نے جواب دیا: "عثمان کو۔" پھر انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوا کر پوچھا: "اگر میں آپ کی بیعت نہ کروں تو بتائیے کہ کسے  خلیفہ بنایا جائے؟" انہوں نے جواب دیا : "علی کو۔" اس کے بعد انہوں نے زبیر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور پوچھا: "اگر میں آپ کی بیعت نہ کروں تو آپ مجھے کس کے حق میں مشورہ دیں گے؟" انہوں نے کہا: "عثمان کے۔" پھر انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور پوچھا: "ہم دونوں تو خلیفہ بننا نہیں چاہتے ہیں، اب آپ کا ووٹ کس کے حق میں ہے؟" وہ بولے: "عثمان کے۔" (اس طرح چار میں سے تین ووٹ حضرت عثمان کے حق میں آ گئے جبکہ حضرت عثمان کا ووٹ حضرت علی کے حق میں تھا۔ )

مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں: جب تیسری رات آئی تو عبد الرحمن نے آواز دی: "مسور!" میں نے کہا: "جی ابھی آیا۔" وہ بولے: "آپ سو رہے ہیں، واللہ ! تین راتوں سے مجھے نیند نہیں آئی۔" آپ جائیے اور علی اور عثمان کو بلا لائیے۔" میں نے کہا: "ماموں! پہلے کسے بلاؤں؟" وہ بولے: "جسے آپ چاہیں۔" میں نکل کر علی کے پاس گیا کیونکہ میرا میلان طبع انہی کی طرف تھا اور ان سے کہا: "میرے ماموں آپ کو بلا رہے ہیں۔" انہوں نے پوچھا: "کیا انہوں نے آپ کو کسی اور کو بھی بلانے بھیجا ہے؟" میں نے جواب دیا: "جی ہاں، عثمان کو۔" انہوں نے پوچھا: "پہلے کسے بلانے کا انہوں نے کہا ہے؟" میں نے کہا: "میں نے اس بارے میں ان سے پوچھا تھا تو انہوں نے یہ کہا کہ جسے آپ چاہیں۔ اس وجہ سے میں پہلے آپ کے پاس آیا ہوں کیونکہ میں آپ کی حمایت کرتا ہوں۔" پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے ساتھ چلے اور اپنی جگہ آ پہنچے اور حضرت علی وہاں بیٹھ گئے۔

اب میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کے پاس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ  وہ فجر کی (سنت) نماز کے ساتھ وتر کی نماز ملا کر پڑھ رہے ہیں۔   (فارغ ہوئے تو) میں نے عرض کیا: "میرے ماموں آپ کو بلا رہے ہیں۔" انہوں نے پوچھا: "کیا انہوں نے آپ کو کسی اور کو بھی بلانے کا کہا ہے؟" میں نے جواب دیا: "جی ہاں، علی کو۔" انہوں نے پوچھا: " انہوں نے  پہلے کسے بلانے کا کہا ہے؟" میں نے کہا: "میں نے اس بارے میں ان سے پوچھا تھا تو انہوں نے یہ کہا کہ جسے آپ چاہیں۔ علی وہیں بیٹھے ہیں۔" پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی میرے ساتھ چلے اور ہم وہاں اکٹھے پہنچے۔  میرے ماموں (عبد الرحمن) قبلہ رو کھڑے (سنت) نماز پڑھ رہے تھے۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو نماز (مختصر کر کے) ختم کی اور حضرات علی و عثمان رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے: "میں نے آپ دونوں  کے علاوہ دیگر لوگوں (طلحہ، زبیر رضی اللہ عنہما) کے بارے میں بہت سے لوگوں سے پوچھا ہے تو ان کی حمایت آپ سے زیادہ نہیں ہے۔ علی! کیا آپ میرے ساتھ، اللہ تعالی کی کتاب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی پالیسی پر چلنے کا وعدہ کرتے ہیں؟ " انہوں نے کہا: "نہیں، بلکہ میں اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق عمل کروں گا۔" پھر انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: "کیا آپ میرے ساتھ کتاب اللہ، سنت نبوی اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے طریقہ پر عمل کا وعدہ کرتے ہیں؟" انہوں نے فرمایا: "ہاں۔"

اس پر انہوں نے ہاتھ سے اٹھنے کا  اشارہ کیا اور ہم لوگ کھڑے ہو کر مسجد نبوی میں داخل ہوئے۔  اعلان کرنے والے نے "الصلوۃ جامعۃ" کا اعلان کیا۔ (یہ اعلان تب ہوتا تھا جب مدینہ کی پوری آبادی کو اکٹھا کرنا مقصود ہوتا تھا۔) عثمان  کہتے ہیں کہ میں اپنی شرم کے باعث پیچھے رہ گیا جبکہ علی تیز رفتاری سے مسجد میں چلے گئے جبکہ میں مسجد کے آخری حصے میں آن پہنچا۔  اتنے میں عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی آن پہنچے۔ انہوں نے وہ عمامہ باندھ رکھا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر باندھا تھا اور اپنی تلوار کو انہوں نے گلے میں لٹکا رکھا تھا۔  وہ منبر پر چڑھے اور کافی دیر کھڑے رہے۔ پھر وہ دعا کی جس کے الفاظ لوگ سن نہ سکے۔  (اس سے ان کے احساس ذمہ داری کا اندازہ ہوتا ہے۔)

"لوگو! میں نے خفیہ اور اعلانیہ آپ کے خلیفہ کے بارے میں آپ لوگوں سے مشورہ کیا تو معلوم ہوا کہ آپ صرف ان دونوں (عثمان یا علی) میں سے کسی ایک کے حامی ہیں۔ اب یا تو آپ علی کے طرف دار ہیں یا عثمان کے۔ علی! اٹھیے اور ادھر آئیے۔" اس پر حضرت علی منبر کے نیچے کھڑے ہو گئے۔ عبد  الرحمن نے ان کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا: " کیا آپ میرے ساتھ، اللہ تعالی کی کتاب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی پالیسی پر چلنے کا وعدہ کرتے ہیں؟ " انہوں نے کہا: "نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق۔" اس کے بعد انہوں نے ان کا ہاتھ چھوڑ دیا اور پکار کر کہا: "عثمان! ادھر آئیے۔" پھر انہیں حضرت علی کے مقام پر کھڑا کر کے پوچھا: "کیا آپ میرے ساتھ، اللہ تعالی کی کتاب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی پالیسی پر چلنے کا وعدہ کرتے ہیں؟ " انہوں نے کہا: "جی ہاں۔" اس پر انہوں نے اپنا سر مسجد نبوی کی چھت کی طرف بلند کیا۔ اس وقت ان کا ہاتھ حضرت عثمان کے ہاتھ میں تھا اور وہ یہ کہہ رہے تھے: "اے اللہ! گواہ رہنا۔ میں نے وہ (ذمہ داری) جو میری گردن میں تھی، عثمان کی گردن میں ڈال دی ہے۔"

اس کے بعد لوگ ٹوٹ پڑے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے لگے، یہاں  تک کہ  ہر طرف وہ چھا گئے۔ اس وقت عبد الرحمن منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیٹ پر بیٹھے تھے اور عثمان کو انہوں نےد وسری سیڑھی پر بٹھا رکھا تھا۔  [4]

اس روایت کو دیکھیے تو واقعہ کی کیا خوبصورت  تصویر کشی حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے  کی ہے اور پانچوں صحابہ حضرت عبد  الرحمن، سعد، علی ، زبیر اور عثمان  رضی اللہ  عنہم کے احساس ذمہ داری اور بے نفسی کو تو گویا اس طرح کھول کر سامنے رکھ دیا ہے کہ کوئی غیر مسلم بھی کھلے ذہن سے اس کا مطالعہ کرے تو  وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔  تاہم روایت کے آخری حصے میں ایک ٹکڑا ایسا ہے ، جو اصل روایت سے بالکل ہی بے جوڑ محسوس ہوتا ہے۔ وہ  یہ ہے:

لوگ بیعت  کر رہے تھے اور علی پیچھے تھے۔ عبد الرحمن نے کہا: "جو عہد شکنی کرے گا، اس کی عہد شکنی اس کی اپنی ذات کے لیے نقصان دہ ہو گی اور جس نے اللہ سے کیا ہوا عہد پورا کیا، وہ عنقریب اسے بڑا اجر دے گا۔"  حضرت علی لوگوں کی صفیں چیرتے ہوئے  آگے آئے اور بیعت کر لی۔حضرت علی لوگوں کی صفیں چیرتے ہوئے آئے اور بیعت کر لی لیکن یہ کہا: "دھوکہ، کیسا بڑا دھوکہ۔"

عبد العزیز بن ابی ثابت کہتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دھوکہ اور فریب کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ  مجلس شوری کی راتوں میں حضرت علی سے ملے اور کہا: "عبد الرحمن بن عوف محنت و مشقت کرنے والے انسان ہیں۔ اگر آپ ان کے سامنے مصمم ارادہ ظاہر کریں گے تو وہ آپ کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے۔ اس لیے آپ حسب استطاعت کا لفظ استعمال کیجیے، اس سے وہ آپ کی طرف متوجہ ہوں گے۔" اس کے بعد وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان سے کہا: "عبد الرحمن بن عوف محنت و مشقت کرنے والے انسان ہیں۔ واللہ! وہ آپ کی اس وقت تک بیعت نہیں کریں گے جب تک آپ عزم مصمم کا اظہار نہ کریں۔" ان دونوں نے ان کی یہ بات مان لی۔ اس وجہ سے حضرت علی نے دھوکہ کا جو لفظ کہا تھا، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے۔

یہ اضافہ راوی عبد العزیز بن ابی ثابت کا ہے جو کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پوتے کے پوتے ہیں۔  یہ ایک کمزور راوی تھے ۔ امام بخاری کہتے ہیں کہ ان کی احادیث کو نہیں لکھنا چاہیے۔ نسائی نے انہیں متروک قرار دیا ہے اور یحیی بن معین کہتے ہیں کہ وہ ثقہ نہیں تھے۔ [5] یہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ عبد العزیز اگر قابل اعتماد نہیں تھے تو پھر پوری روایت کو قبول کیوں کیا جائے؟  روایت کے آخری ٹکڑے کے علاوہ بقیہ پوری روایت کو قبول کرنے کی  وجہ یہ ہے کہ یہ صحیح بخاری کی روایت کے عین مطابق ہے۔

بخاری میں یہ واقعہ بھی حضرت مسور رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے  اور وہاں اس کی سند دوسری ہے : حدثنا عبد الله بن محمد بن أسماء: حدثنا جويرية، عن مالك، عن الزُهريِّ: أنَّ حميد بن عبد الرحمن أخبره: أنَّ المسور بن مخرمة أخبره۔ اس روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کوئی ایسے الفاظ نہیں ہیں جن میں آپ نے دھوکہ یا فریب کہا ہو اور نہ ہی آپ کے پیچھے رہ جانے کا ذکر ہے۔ وہاں یہ بیان ہوا ہے کہ "اما بعد۔ علی! میں نے لوگوں کے حالات پر غور کیا ہے تو دیکھا ہے کہ وہ عثمان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ہیں۔ اس لیے آپ اپنے دل میں میری سے کچھ خیال نہ کیجیے گا۔" علی نے عثمان سے کہا: "میں اللہ اور اس کے رسول اور آپ کے دونوں خلفاء کی سنت پر آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔" عبدالرحمن نے بھی بیعت کی اور پھر تمام لوگوں ، جن میں مہاجرین و انصار، سرداران لشکر اور عام مسلمان تھے، نے بیعت کی۔

روایت کے دونوں ورژنز دیکھیے تو بخاری والے ورژن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سب سے پہلے بیعت کرنے کا ذکر ہے جبکہ طبری والے ورژن میں  بعد میں اور وہ بھی "دھوکہ"  کے الفاظ کہہ کر۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے تعصب رکھنے والے کسی شخص نے یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کر دی ہے۔ عبد العزیز چونکہ ایک کمزور راوی ہیں اور زیادہ محتاط نہیں ہیں، اس وجہ سے انہوں نے سوچے سمجھے بغیر یہ بات قبول کر کے اسے بیان کرنا شروع کر دیا۔  اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کے فوراً بعد حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ پر بھی ایک منفی تبصرہ موجود ہے۔ اس سے یہ کسی ایسے شخص کی کارستانی لگتی ہے جو حضرات عمرو اور مغیرہ رضی اللہ عنہما دونوں ہی کے بارے میں شدید بغض کا شکار ہے۔

درایت کے اعتبار سے بھی روایت کے اس حصے پر یہ اعتراضات وارد ہوتے ہیں:

1۔ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بدگمانی کی جا سکتی ہے کہ ان کے دل میں خلافت کی طلب ایسی شدید تھی کہ  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کا سن کر ہی وہ دل گرفتہ ہو گئے؟ عہد عثمانی میں ان کا جو کردار سامنے  آیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف باغی تحریک کا انہوں نے جس طرح مقابلہ کیا، اس سے تو ان کی بالکل ہی مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔

2۔  روایت میں تاثر یہ دیا گیا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا  کہ ان کے سوال "کیا آپ میرے ساتھ، اللہ تعالی کی کتاب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی پالیسی پر چلنے کا وعدہ کرتے ہیں؟" کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے "حسب استطاعت" کا لفظ استعمال کیا جبکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ لفظ استعمال نہیں کیا۔  قرآن مجید کے حکم کے مطابق ہر مسلمان پر دینی ذمہ داریاں اس کی طاقت اور استطاعت کے تحت ہی عائد کی گئی ہیں اور یہ لفظ استعمال کرنا کوئی برائی نہیں ہے۔ اس بات سے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ یقیناً ناواقف تو نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس بخاری کی روایت سے واضح ہے کہ  حضرت عثمان کا انتخاب اس وجہ سے ہوا تھا کہ صحابہ کرام کی غالب اکثریت انہیں خلیفہ دیکھنا چاہتی تھی۔  خود حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں خلیفہ بنانے کے حق میں تھے۔

اس آخری حصے سے ہٹ کر روایت کا پہلا حصہ یقیناً نہایت ہی پاکیزہ بیان ہے جس میں شوری کے پانچوں صحابہ کے جو بیان نقل کیے گئے ہیں، ان پر اگر مسلمان آج عمل کر لیں تو ان کی کھوئی ہوئی سیاسی قوت بحال ہو جائے۔

بلاذری کی روایات میں کیا بات بیان ہوئی ہے؟

جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ بلاذری نے شوری سے متعلق 20 روایات بیان کی ہیں جن میں سے 10 واقدی اور 5 ہشام کلبی اور ابو مخنف سے مروی ہیں۔ بقیہ پانچ میں سے بھی ایک روایت مشکوک ہے۔ اس طرح باقی چار روایات رہ جاتی ہیں جن میں کوئی منفی بات نہیں ہے۔ یہاں ہم ان روایات کو درج کر رہے ہیں، تفصیل کو آپ متعلقہ کتاب میں دیکھ سکتے ہیں:

1۔ حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري، حدثنا أبي، أنبأنا شعبة، أنبأنا قتادة، عن سالم بن أبي الجعد، عن معدان اليعمري: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا  اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور پھر کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک مرغ مجھے کھود رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ میری موت کا وقت قریب آ رہا ہے۔ قوم مجھے یہ مشورہ دے رہی ہے کہ میں کسی کو خلیفہ بنا جاؤں۔ یقیناً اللہ اپنے دین اور اپنی خلافت کو ضائع نہ ہونے دے گا کیونکہ وہ وہی ہے جس نے اپنے نبی کو بھیجا۔ اگر میری موت جلد واقع ہو جائے تو خلافت کا معاملہ ان چھ افراد کے مشورے سے طے ہو گا۔ یہ وہی ہیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت تک راضی تھے۔ میں جانتا ہوں کہ اس معاملے میں وہ قومیں  طعنہ زنی کریں گی جن پر میں نے اسلام کی ضرب لگائی ہے۔ اگر وہ ایسا کریں تو یہی اللہ کے گمراہ دشمن ہیں۔

2۔ حدثني محمد بن سعد، حدثني شهاب بن عبادة، حدثنا إبراهيم بن حميد، عن ابن خالد، عن جبير بن محمد بن جبير بن مطعم: ہمیں خبر پہنچائی گئی ہے کہ حضرت عمر نے حضرت علی سے کہا: "اگر آپ کو لوگوں کے اس معاملے (خلافت) کی ذمہ داری دی جائے تو بنو عبد المطلب کو ان کی گردنوں پر سوار نہ کیجیے گا۔" اور حضرت عثمان (رضی اللہ عنہم) سے کہا: "اگر آپ کو لوگوں کے اس معاملے (خلافت) کی ذمہ داری دی جائے تو بنو ابو معیط کو ان کی گردنوں پر سوار نہ کیجیے گا۔"

3۔  المدائني، عن عبد الله بن سلم الفهري وابن جعدبة: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ کو اس شرط پر شوری میں شامل کیا کہ وہ خلیفہ نہ بن سکیں گے۔ انہیں صرف (ووٹ دینے)  کا اختیار تھا (اور وہ بھی اس صورت میں کہ بقیہ چھ حضرات کے تین تین ووٹ برابر ہوں۔)

4۔  جدثنا عفان بن مسلم، جدثنا حماد بن سلمة، أنبأنا عاصم بن بهدلة، عن أبي وائل أن عبد الله بن مسعود: جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے کوفہ کا سفر آٹھ دن میں طے کیا۔ (پھر وہاں خطبہ دیا) اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کہا: "امیر المومنین عمر بن خطاب شہید ہو گئے۔  میں نے اس دن سے زیادہ کوئی رلا دینے والا دن نہیں دیکھا۔  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس بات پر متفق ہیں کہ اس سے بڑھ کر کوئی خیر ہم تک نہیں پہنچ سکتی۔ ہم نے عثمان بن عفان کی بیعت کر لی ہے ، آپ لوگ بھی انہی کی بیعت کر لیجیے۔ (بلاذری  او رابن سعد نے اس روایت کی تین اسناد بیان کی ہیں۔) [6]

ان چار روایتوں میں دیکھیے تو کوئی منفی بات نہیں ہے بلکہ  آخری روایت سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر تمام صحابہ متفق تھے۔ جن چھ افراد کو شوری میں شامل کیا گیا، ان کا مقام یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت ان سے راضی تھے۔  جس روایت کو ہم نے مشکوک کہا ہے، وہ یہ ہے:

حدثني حسين بن علي بن الأسود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أنبأنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون: عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ جس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر خنجر سے وار کیا گیا، اس دن میں موجود تھا۔ پھر انہوں نے اس واقعے کو پوری تفصیل سے بیان کیا اور پھر بتایا کہ حضرت عمر نے کہا: "علی، عثمان، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص کو بلا لائیے۔" انہوں نے سوائے علی اور عثمان کے کسی اور سے بات نہیں کی اور فرمایا: "علی! امید ہے کہ یہ سب لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے رشتے اور دامادی سے واقف ہوں گے اور اس بات سے بھی کہ   اللہ نے  آپ کو دین کی سمجھ اور علم عطا کیا ہے۔ اگر آپ اس معاملے  (خلافت) کے ذمہ دار بنائے جائیں  تو اس معاملے میں اللہ تعالی سے ڈرتے رہیے گا۔" پھر عثمان کو بلا کر کہا: "عثمان! امید ہے کہ  یہ قوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے دامادی کے رشتے اور آپ کی عمر (اور تجربہ) کے معاملے میں واقف ہوگی۔ اگر آپ کو اس معاملے کی ذمہ داری سونپی جائے تو اللہ سے ڈرتے رہیے اور آل ابی معیط کو لوگوں کی گردنوں پر سوار نہ ہونے دیجیے۔"

پھر فرمایا: "صہیب کو بلائیے۔" انہیں بلایا گیا تو فرمایا: "آپ لوگوں کو تین دن تک نماز پڑھائیے اور ان (چھ) افراد کو گھر میں تنہا چھوڑ دیجیے۔ اگر وہ اپنے میں سے کسی ایک پر متفق ہو جائیں تو پھر جو بھی اس کی مخالفت کرے، اس کی گردن اڑا دیجیے۔" جب یہ لوگ حضرت عمر کے پاس سے نکلے تو انہوں نے کہا: "اگر یہ  لوگ ان گنجے صاحب (حضرت علی) کو خلیفہ بنا لیں تو یہ اپنی راہ پر گامزن رہیں گے۔" ابن عمر نے کہا: "امیر المومنین! پھر آپ کو کس سے روکا ہے (کہ انہیں خلیفہ نامزد نہ کریں؟)" فرمایا: "میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ زندگی میں بھی اس (خلافت ) کا بوجھ اٹھائے پھروں اور مرنے کے بعد بھی۔"

اس روایت کی سند کو دیکھیے تو اس میں  عبید اللہ بن موسی ہیں۔ اگرچہ انہیں ماہرین جرح و تعدیل نے ثقہ قرار دیا ہے  لیکن ساتھ یہ بھی لکھ دیا ہے کہ وہ "شیعی محترق" یعنی دل جلے شیعہ تھے۔ [7] اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ محدثین کسی شخص کی جرح و تعدیل کے وقت  کسی مسلکی تعصب کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ اگر کسی دوسرے مسلک کا شخص سچا محسوس ہوتا تو اسے ثقہ ہی کہتے تھے، ہاں اس کے مخصوص تعصبات پر مبنی روایتوں کو قبول نہیں کیا کرتے تھے۔ اوپر بیان کردہ دوسری روایت سے واضح ہے کہ حضرت عمر نے حضرت علی اور عثمان  رضی اللہ عنہم دونوں ہی کو نصیحت کی تھی کہ وہ آل عبد المطلب اور آل ابو معیط کو لوگوں کی گردنوں پر سوار نہ کریں۔ اس کے برعکس عبید اللہ کی روایت میں حضرت علی کو کی گئی نصیحت کو حذف کر دیا گیا ہے جس سے راوی کا تعصب ظاہر ہوتا ہے۔

اس نصیحت کی وجہ شاید یہ رہی ہو گی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان خاندانوں کے لوگوں میں عہدوں کی طلب دیکھی ہو گی تو حضرت عثمان اور علی رضی اللہ عنہما دونوں ہی کو نصیحت کر دی کہ ان خاندانوں کے لوگوں کو عہدے نہ دیے جائیں۔

بلاذری کی بقیہ 15 روایتوں میں سے 10تو ابن سعد اور واقدی سے مروی ہیں۔ ان کا ذکر ہم آگے ابن سعد کے عنوان کے تحت کریں گے۔  چار روایتیں ایسی ہیں جو ابو مخنف اور ہشام کلبی سے مروی ہیں۔ ان دونوں حضرات کا صحابہ کرام سے بغض ہم اس کتاب میں بار بار بیان کر چکے ہیں  کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  سے متعلق منفی روایات کا غالب حصہ انہی حضرات سے مروی ہے۔ انہی چار روایتوں میں شوری کے واقعے سے متعلق منفی نوعیت کی معلومات پائی جاتی ہیں کہ حضرت عباس نے حضرت علی رضی اللہ عنہما کو شوری میں شریک ہونےسے منع کیا۔ حضرت علی نے اس مشورے کو تو نہ مانا مگر شوری کے دوسرے رکن حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی منت سماجت کر کے انہیں اپنی حمایت پر تیار کیا۔ یہی روایتیں طبری میں بھی موجود ہیں مگر طبری نے ان کی اسناد کو مکس کر دیا ہے۔  ان روایات کو ایجاد کر کے ہشام کلبی اور ابو مخنف  نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ الٹا ان کی ایک منفی تصویر پیش کی ہے۔

بلاذری نے ایک دلچسپ روایت ہشام کلبی  سے نقل کی ہے جس کی سند میں ابو مخنف  نہیں ہیں۔ روایت یہ ہے:

حدثني عباس بن هشام الكلبي، عن أبيه، عن أبو صالح، عن ابن عباس: ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شوری کے اراکین میں سے عبد الرحمن بن عوف کے بعد جس شخص نے عثمان کی سب سے پہلے بیعت کی، وہ علی تھے اور اس معاملے میں انہوں نے ذرا سی ہچکچاہٹ بھی ظاہر نہیں کی۔[8]

ہمارے خیال میں یہی بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شایان شان ہے کہ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ امت کی غالب اکثریت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کو خلیفہ دیکھنا چاہتی ہے تو انہوں نے اپنی ذاتی خواہش کی پرواہ نہ کرتے ہوئے امت کے مفاد کو ترجیح دی اور اس معاملے میں ایسی کشادہ دلی اور ٹیم اسپرٹ کا مظاہرہ کیا جو انہی کا خاصہ تھی۔ اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں وہ ان کے دست راست بن کر رہے اور ہر مشکل میں ان کا ساتھ نبھایا۔

ابن سعد کی روایات میں کیا بات بیان ہوئی ہے؟

ابن سعد نے واقعہ شوری سے متعلق نو روایتیں بیان کی ہیں جن میں آٹھ ان کے استاذ محمد بن عمر الواقدی کی روایتیں ہیں۔ ان میں کوئی منفی بات سامنے نہیں آتی ہے بلکہ واقعے کی مثبت تصویر ہی بیان ہوئی ہے۔  ان میں سے اکثر امور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی اوپر بیان کردہ روایت  کے مطابق ہیں البتہ واقدی نے بعض نئے پہلو  بیان کیے ہیں جن میں ووٹنگ کا پروسیجر  شامل ہے۔ ان روایات کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ اگر چار آدمیوں کی رائے ایک جانب ہو اور دو کی ایک تو پھر فیصلہ اکثریت پر ہو گا۔ چونکہ اراکین شوری چھ تھے، اس وجہ سے یہ خدشہ تھا کہ اگر تین تین کی رائے دو جانب ہوئی تو پھر کیا جائے ؟ اس صورت میں حضرت عمر نے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہما کی رائے کو فیصلہ کن قرار دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عبد الرحمن نے ان کی زندگی ہی میں خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔

ایک روایت کے مطابق حضرت عمر  نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا تھا کہ وہ انصار کے 50 آدمیوں کو لے کر اس مکان پر پہرہ دیں جس  کے اندر اصحاب شوری مشورہ کر رہے ہیں اور کسی کو اندر نہ جانے دیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ باہر کا کوئی شخص  اس مشورے پر اثر انداز نہ ہو سکے۔  ایک اور روایت کے مطابق سب سے پہلے حضرت عثمان کی بیعت حضرت عبد الرحمن نے کی اور ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہم نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے  بیعت کر لی۔

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے  کہ شوری کی پوری کاروائی نہایت ہی کشادہ دلی اور باہمی محبت سے ہوئی۔ جن روایات میں کچھ منفی جملے ہیں، ان کی سند دیکھیے تو ان میں ابو مخنف یا ہشام کلبی نظر آتے ہیں جن کا صحابہ کرام سے بغض اظہر من الشمس ہے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  طبری۔ 23H/3/1-254

[2]  بخاری۔ کتاب الاحکام۔ حدیث 6781

[3]  المائدہ 5:78-79

[4]  طبری  23H/3/1-265 to 271

[5]  ذہبی۔ میزان الاعتدال ۔ راوی نمبر 5124۔ 4/369

[6]  بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 6/119-129۔ ابن سعد۔ الطبقات الکبری۔ 3/57-59

[7]  ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 5405۔ 5/21

[8]  بلاذری 6/128۔ باب عثمان بن عفان۔