بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 4: عہد عثمانی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حضرت عثمان پر کیا الزامات لگائے گئے؟

باغی پارٹی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف الزامات کی ایک چارج شیٹ مرتب کی اور اسی کو بنیاد بنا کر پراپیگنڈا شروع کر دیا۔ یہی چارج شیٹ انہوں نے اپنی روایات میں بھی داخل کر دی تاکہ اس کی مدد سے صحابہ کرام کو بدنام کر دیا جائے۔ یہی روایات چونکہ طبری وغیرہ میں موجود ہیں، اس وجہ سے مناسب ہے کہ ان الزامات کا بھی جائزہ لے لیا جائے۔ الزامات یہ تھے:

·       حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  نے عبیداللہ بن عمر سے قصاص نہ لے کر دین کی خلاف ورزی کی ہے۔

·       انہوں نے اپنے رشتے داروں کو اعلی عہدے دیے ہیں۔

·       یہ گورنر ظلم کرتے ہیں، ان کا کردار اچھا نہیں ہے اور یہ گورنر طلقاء میں شامل ہیں۔

·       حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سرکاری خزانے میں سے اپنے اقرباء پر خرچ کرتے ہیں۔

·       حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دین میں نئی نئی بدعات نکالی ہیں جیسے مکہ میں انہوں نے قصر کی بجائے پوری نماز پڑھی اور لوگوں کو قرآن مجید کے ایک سرکاری نسخے پر اکٹھا کر دیا ہے۔ 

·       حضرت عثمان نے چراگاہوں  کو اپنے لیے خاص کر لیا ہے۔

·       اکابر صحابہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔

مناسب رہے گا کہ اس موقع پر ہم وہ پوری روایت نقل کر دیں جس میں باغیوں نے آپ کے خلاف چارج شیٹ مرتب کی تھی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ کے سامنے ان کے ایک ایک اعتراض کو لے کر اس کا جواب دیا تھا:

(جب باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا توحضرت عثمان) نے اہل کوفہ اور اہل بصرہ کو خطوط لکھے اور "صلوۃ جامعہ" کا اعلان کرایا۔  (واضح رہے کہ صلوۃ جامعہ کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ مدینہ کی پوری آبادی مسجد میں حاضر ہو کر مشورے میں شریک ہو۔) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا تو آپ نے حمد و ثنا کے بعد ان لوگوں کے حالات سے انہیں مطلع کیا اور وہ دونوں (حضرات جو باغیوں کا جائزہ لینے گئے تھے) کھڑے ہو گئے۔ سب صحابہ نے متفق ہو کر یہ کہا: "آپ ان سب کو قتل کر دیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص مسلمانوں کا خلیفہ ہوتے ہوئے اپنے یا کسی اور شخص کے لیے پروپیگنڈا کرے، تو اس پر اللہ کی لعنت  ہے، تم اسے قتل کر دو۔" حضرت عمر بن خطاب نے بھی فرمایا ہے: "میں ایسے شخص (جو پروپیگنڈا کر کے اپنی حکومت کا اعلان کرے) کو کوئی رعایت نہیں دیتا ہوں ۔ اسے مار دینا چاہیے اور میں اس کام میں تمہارا شریک ہوں۔"

یہ سن کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم انہیں معاف کرتے ہیں اور درگزر کرتے ہیں اور اپنی کوشش کے مطابق انہیں دیکھتے رہیں گے۔ ہم کسی سے دشمنی نہیں رکھیں گے جب تک وہ کسی حد شرعی کے گناہ کا مرتکب نہ ہو یا کھلے کفر کا اظہار نہ کرے۔  ان لوگوں نے ایسی باتوں کا ذکر کیا ہے جنہیں وہ اسی طرح جانتے ہیں جیسے آپ لوگ جاتے ہیں مگر وہ مجھے اس لیے یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ناواقف لوگوں کے سامنے ان کی اشاعت کر سکیں۔ وہ کہتے ہیں:

1۔ "میں نے سفر میں پوری نماز پڑھی حالانکہ وہ اس صورت میں قصر کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ایسے شہر (مکہ) میں تھا جہاں  میرے اہل و عیال تھے، اس لیے میں نے پوری نماز پڑھائی۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟" لوگوں نے کہا: جی ہاں۔

2۔ "وہ لوگ (باغی) کہتے ہیں کہ میں  نے چراگاہ کو مخصوص کیا۔ میں نے واللہ اپنے لیے کوئی چراگاہ مخصوص نہیں کی ۔ مجھ سے پہلے بھی چراگاہیں مخصوص کی گئیں۔ میں نے چراگاہ کو کسی ایک مخصوص آدمی (کے جانوروں) کے لیے مخصوص نہیں کیا تاکہ اہل مدینہ اس پر غالب نہ آ سکیں۔ پھر انہوں (سرکاری چرواہوں) نے رعایا میں سے کسی کو نہیں روکا بلکہ ان چراگاہوں کو مسلمانوں کے صدقات (بیت المال کے مویشیوں) کے لیے مخصوص کر رکھا ہے تاکہ کسی کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ نہ ہو اور کسی کو ان میں نہیں روکا ہے۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو دو سواریوں کے علاوہ میرے پاس کوئی مویشی نہیں ہے۔ نہ بکریاں ہیں اور نہ بھیڑیں اور نہ کوئی اور جانور۔ جب میں خلیفہ مقرر ہوا تھا تو اس وقت اہل عرب میں سب سے زیادہ بھیڑ بکریاں اور اونٹ میرے پاس تھے مگر اب حج کی سواری کے لیے دو اونٹوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ کیا ایسا ہی ہے؟ " لوگوں نے کہا : جی ہاں۔

3۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کئی کتابوں میں تھا، میں نے اسے ایک کر دیا ہے۔ قرآن کریم ایک ہے جو خدائے واحد کی طرف سے نازل ہوا۔ میں اس معاملے میں ان لوگوں (سابقہ خلفاء) کا تابع ہوں۔  کیا ایسا ہی ہے؟" لوگوں نے کہا: "جی ہاں۔ بے شک۔ " پھر وہ مطالبہ کرنے لگے کہ ان باغیوں کو قتل کیا جائے۔آپ نے مزید فرمایا۔

4۔ "یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے حکم (بن ابی العاص) کو واپس بلا لیا ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جلا وطن کر دیا تھا۔ حکم مکہ کے باشندے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مکہ سے طائف جلا وطن کیا، پھر حضور ہی نے انہیں واپس بلا لیا۔ اس طرح یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی جنہوں نے انہیں جلا وطن کیا اور پھر واپس بلا لیا ۔ کیا ایسا ہی ہے؟ " لوگوں نے کہا: "بے شک۔"

5۔ "یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے نوجوانوں کو حاکم بنا دیا ہے۔ میں نے انہی افراد کو حاکم بنایا ہے جو اہلیت رکھتے ہیں اور لوگ انہیں پسند کرتے ہیں۔  ان کے بارے میں آپ ان لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں جو ان گورنروں کی عمل داری میں رہتے ہیں اور ان کے شہروں کے باشندے ہیں۔ مجھ سے پہلے بھی کم عمر شخص  کو حاکم بنایا گیا تھا۔ (یاد کیجیے جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ (بن زید) کو افسر بنایا تھا تو اس وقت آپ پر اس سے زیادہ اعتراض کیا گیا تھا، جو مجھ پر اعتراض کیے جا رہے ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے؟" لوگوں نے کہا: "جی ہاں۔ بے شک۔ یہ لوگ ایسے اعتراضات کرتے ہیں جنہیں وہ ثابت نہیں کر سکتے ہیں۔"

6۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی سرح کو مال غنیمت میں سے خاص عطیہ دیا۔ میں نے انہیں مال غنیمت کے خمس  کا خمس (1/25) حصہ انعام کے طور پر دیا تھا  (کیونکہ انہوں نے بڑے معرکے میں غیر معمولی فتح حاصل کی تھی۔) یہ ایک لاکھ کی رقم تھی۔ ایسے احکام ابوبکر اور عمر نے بھی جاری کیے تھے۔ جب فوج نے اس بات کو ناپسند کیا تو میں نے یہ رقم واپس لے کر انہی میں تقسیم کر دی تھی حالانکہ یہ ابن ابی سرح کا حق نہیں تھا؟ کیا یہی بات ہے؟" لوگوں نے کہا: "جی ہاں۔"

7۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں سے محبت کرتا ہوں اور انہیں مال دیتا ہوں۔ جہاں تک گھر والوں کی محبت کا تعلق ہے تو ان کی وجہ سے میں نے کسی پر ظلم نہیں کیا بلکہ صرف ان کے حقوق ادا کیے ہیں اور صرف اپنے مال ہی سے انہیں عطیات دیے ہیں۔ کیونکہ میرے نزدیک مسلمانوں کا مال اپنی ذات یا کسی اور کو دینے کے لیے حلال نہیں ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر کے زمانے میں اپنی ذاتی ملکیت میں سے بہت زیادہ خیرات کرتا تھا۔  یہ وہ زمانہ تھا جب میں کفایت شعار اور کنجوس تھا۔ اب جب کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری عمر فنا ہو رہی ہے اور یہ تمام سرمایہ میں گھر والوں کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں۔ اس زمانے میں یہ ملحد ایسی باتیں بنا رہے ہیں۔ واللہ! میں نے کسی شہر میں سے اضافی مال حاصل نہیں کیاجس کی وجہ سے لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع ملا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ میں یہ مال انہی کو لوٹا دیتا تھا اور میرے پاس صرف پانچواں حصہ ہی پہنچتا تھا اور اس میں سے بھی کوئی چیز میں نے اپنے لیے کبھی نہیں رکھی۔  مسلمان اس مال کو وہاں کے لوگوں میں تقسیم کرتے تھے، میرا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا۔ اللہ کے مال میں سے ایک پائی بھی ضائع نہیں کی گئی اور میں صرف اپنے ذاتی مال میں سے گزر اوقات کرتا ہوں۔

8۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو زمینیں دیں۔ ان زمینوں میں مہاجرین و انصار کے وہ لوگ شریک ہیں جنہوں نے انہیں فتح کیا۔ لہذا جو شخص ان فتوحات کے مقام پر رہتا ہے، وہ اس کا مالک ہے اور جو اپنے اہل و عیال کے پاس آ گئے، تو ان کے ساتھ وہ زمینیں منتقل نہیں ہوئیں۔ اس لیے میں نے اس قسم کی زمینوں کے بارے میں غور کیا تو اصل مالکوں کی اجازت اور مرضی سے عرب کی زمنیوں کے ساتھ ان کا تبادلہ کیا گیا۔ اس طرح یہ زمینیں انہی لوگوں کے قبضہ میں ہیں، میرے قبضے میں نہیں۔

(راوی کہتے ہیں کہ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا مال و متاع اور زمینیں بنو امیہ میں تقسیم کر دی تھیں۔ انہوں نے اپنی اولاد کو بھی اس میں عام حصہ دار بنایا تھا۔ اس تقسیم کا آغاز انہوں نے ابو العاص کی اولاد سے کیا تھا۔ چنانچہ  (ابو العاص کے بیٹے) حکم کی اولاد میں سے ہر ایک کو دس دس ہزار دیے، اس طرح ان سب نے کل ایک لاکھ کی رقم حاصل کی۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کو بھی اتنی ہی رقم دی تھی۔ اس کے علاوہ بنو عاص، بنو عیص اور بنو حرب میں اپنے مال کو تقسیم کر دیا تھا۔[1]

نئی باتیں نکالنے والے اعتراض کا شافی جواب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خود ہی دے دیا۔ آپ پر یہ نئی باتیں نکالنے کا اعتراض کیا گیا تھا کہ آپ نے مکہ میں پوری نماز پڑھی تھی اور مدینہ کی بعض چراگاہوں کو بیت المال کے مویشیوں کے لیے خاص کر دیا تھا۔ اس کا جواب تو آپ دے چکے ہیں۔ بقیہ اعتراضات پر مزید تفصیلات ہم یہاں فراہم کر رہے ہیں۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  طبری۔ 35H/3/1/397-398