بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 4: عہد عثمانی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

عبیداللہ بن عمر سے قصاص

جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے ہرمزان اور ابو لؤلؤ فیروز کو کھسر پھسر کرتے دیکھا تھا۔ عبدالرحمن کو دیکھ کر فیروز تیزی سے چلا تو اس کے لباس میں سے ایک دو شاخہ خنجر گر گیا۔ اس وقت انہوں نے خیال نہ کیا لیکن اگلے روز جب اسی خنجر سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر وار کیا گیا تو انہیں یہ واقعہ یاد آیا اور انہوں نے سب کے سامنے بیان کر دیا۔ یہ سن کر حضرت عمر کے جواں سال بیٹے عبیداللہ کو جوش آیا اور انہوں نے جا کر ہرمزان اور اس کے ایک ساتھی جفینہ کو قتل کر دیا۔  لپیٹ میں فیروز کی ایک بیٹی بھی آ گئی اور وہ بھی قتل ہو گئی۔ عبیداللہ، عبداللہ بن عمر کے چھوٹے بھائی تھے۔

ہونا تو یہ  چاہیے تھا کہ اگر ہرمزان اور جفینہ اس سازش میں شریک بھی تھے، تو اس کی باقاعدہ تحقیقات کی جاتیں۔ تفتیش کر کے اگر ہرمزان پر جرم ثابت ہوتا تو انہیں سزا دی جاتی، ورنہ بری کر دیا جاتا لیکن عبیداللہ یہ سن کر اپنے ہوش و حواس میں نہ رہے اور انہوں نے جا کر ان تینوں کو قتل کر دیا۔ وہ تو یہاں تک کہہ رہے تھے کہ مدینہ کی آبادی کے  تمام غیر عرب باشندوں کو قتل کر دیں گے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص اور صہیب رضی اللہ عنہما نے انہیں بمشکل قابو کیا اور لا کر گھر میں قید کر دیا۔ اس وقت تک خلیفہ کا انتخاب نہیں ہوا تھا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے بعد یہ مقدمہ ان کے سامنے پیش ہوا۔ انہوں نے بجائے خود فیصلہ کر نے کے ایک جیوری کے سامنے یہ مقدمہ پیش کیا جس میں تمام جلیل القدر صحابہ، مہاجرین اور انصار شامل تھے۔  قانون کو ہاتھ میں لینے کا جرم بہرحال ثابت تھا۔ بعض صحابہ، جن میں حضرت عثمان اور علی رضی اللہ عنہما شامل تھے، کی رائے یہ تھی کہ عبیداللہ کو قصاص  میں قتل کیا جائے۔ دیگر لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ ان کی نفسیاتی حالت کے پیش نظر ان پر قصاص کی سزا نافذ نہ کی جائے۔ جرم کرتے وقت وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھے اور جب آدمی جنون کی سی  کیفیت میں ہو، تو اس پر شرعی احکام کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ان کا موقف یہ تھا کہ ابھی کل ہی حضرت عمر شہید ہوئے ہیں اور آج ان کے جواں سال بیٹے کو قتل کر دینا مناسب نہ ہو گا۔  حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ واقعہ اس وقت ہوا ہے جب کوئی خلیفہ  موجود نہ تھا۔ اس جیوری کی اکثریت کا موقف  مانا گیا اور عبید اللہ پر قصاص کی بجائے دیت کی سزا نافذ کی گئی۔ ان کے پاس اتنی رقم نہ تھی کہ وہ دیت ادا کر سکتے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جائیداد کا بڑا حصہ قرض چکانے میں نکل چکا تھا۔ حضرت عثمان نے اس مسئلے کا حل یہ کیا کہ اپنی ذاتی جیب سے ان کی دیت ادا کر دی۔[1]

اس مقدمے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ انہوں نے قصاص کی سزا نافذ نہ کر کے  ایک غلط کام کیا۔ یہ اعتراض خاص کر ان باغیوں نے اٹھایا تھا جنہوں نے آپ کو شہید کیا تھا۔  یہ اعتراض کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ حضرت عثمان کی اپنی رائے قصاص لینے ہی کی تھی۔ پھر جو فیصلہ ہوا جو جیوری کی اکثریت نے کیا جن میں تمام مہاجرین و انصار شامل تھے۔ طبری ہی کی ایک اور روایت کے مطابق ، جیوری کے اس فیصلے سے قبل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ہرمزان کے بیٹے قماذبان  کو قصاص لینے کی اجازت دے دی تھی۔

قماذبان اپنے والد (ہرمزان) کے قتل کا حال اس طرح بیان کرتے ہیں: اہل عجم مدینہ میں ایک دوسرے سے ملتے رہتے تھے۔ ایک دن فیروز میرے والد کے پاس سے گزرا، اس کے ہاتھ میں دو شاخہ خنجر تھا۔ (میرے والد) نے اسے پکڑا اور پوچھا: "تم اس ملک میں اس کا کیا کرو گے؟" وہ بولا: "میں اسے استعمال کروں گا۔" ایک آدمی (عبدالرحمن بن ابی بکر) نے اسے اس حالت  میں دیکھا تھا۔جب حضرت عمر پر حملہ ہوا تو اس شخص نے کہا: "میں نے اس (قاتل) کو ہرمزان کے ساتھ دیکھا تھا۔ اس نے یہ خنجر فیروز  کو دیا تھا۔ " لہذا عبیداللہ نے آ کر انہیں (میرے والد کو) قتل کر دیا۔

جب حضرت عثمان خلیفہ بنے تو انہوں نے مجھے (قماذبان کو) بلایا اور مجھے اس کا اختیار دیتے ہوئے کہا: "میرے بیٹے! یہ تمہارے والد کا قاتل ہے اور تم ہم سے زیادہ اس پر حق رکھتے ہو۔ جاؤ اور اسے قتل کر دو۔" میں  اسے (عبیداللہ) کو ساتھ لے گیا۔ اس وقت اس مقام کا ہر شخص میرے ساتھ تھا مگر وہ سب مجھ سے اس کے بارے میں کچھ مطالبہ کر رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: "کیا میں اسے قتل کر دوں؟" وہ بولے: "ہاں۔" انہوں نے عبید اللہ کو برا بھلا کہا۔ پھر میں نے ان سے پوچھا: "کیا آپ لوگ اسے قتل کرنے سے منع کرتے ہیں؟" وہ بولے: "نہیں۔" انہوں نے پھر عبیداللہ کو برا بھلا کہا۔

میں نے اللہ کی رضا کے لیے انہیں چھوڑ دیا اور ان لوگوں (مسلمانوں) کی خاطر انہیں رہا کر دیا۔ اس کے بعد لوگوں نے مجھے اوپر اٹھا لیا۔ واللہ! میں لوگوں کے سروں اور ہاتھوں (کندھوں) پر سوار ہو کر گھر پہنچا۔[2]

اس روایت سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قصاص ہی کا حکم جاری کیا تھا لیکن جب قماذبان  نے عبیداللہ کو معاف کر دیا تو حکومت نے بھی انہیں معاف کر دیا۔  قماذبان نے عبیداللہ کو معاف کر کے جس اعلی کردار کا ثبوت دیا کہ وہ ایک مخلص مسلمان تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے والد ہرمزان کسی سازش میں شریک نہ تھے بلکہ اتفاقاً ہی فیروز سے ان کی ملاقات ہو گئی جس میں اس کے ہاتھ سے خنجر گر پڑا۔  ہمیں بھی ہرمزان کے بارے میں حسن ظن ہی رکھنا چاہیے۔ ہاں یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ بارہ برس بعد باغیوں نے اس انتقام کو از سر نو لینے کی کوشش کیوں کی۔ ممکن ہے کہ وہ فتنہ برائے فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہوں تاکہ مسلمانوں میں پھوٹ پڑے اور ان کے مقاصد پورے ہوں یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے وہ اپنے ایرانی ساتھیوں  کو خوش کرنا چاہتے ہوں جن کے نزدیک حضرت عمر کا قاتل فیروز ایک ہیرو کی حیثیت رکھتا تھا۔

یہاں ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ جب مقتول کے وارث نے قاتل کو معاف کر دیا تھا تو پھر جیوری بٹھانے کی ضرورت کیا تھی؟ اصل میں مسئلہ یہ تھا کہ عبیداللہ نے ایک مرکب جرم (Compound Crime) کا ارتکاب کیا تھا جس میں دو جرائم تھے: ایک تو قتل اور دوسرے قانون کو ہاتھ میں لینا۔ قتل کا قصاص مقتول کے وارثوں کا حق تھا جسے انہوں نے معاف کر دیا۔ قانون کو ہاتھ میں لینا ایسا جرم تھا جس کی سزا ابھی باقی تھی۔ مہاجرین و انصار کی جیوری کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا اور ان کی اکثریت نے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ یہ جرم حالت جنون میں ہوا ہے، اس وجہ سے قصاص کی بجائے دیت کی سزا نافذ کی جائے۔ چونکہ عبیداللہ کے پاس مال نہ تھا، اس وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے  یہ دیت اپنی جیب سے ادا کر کے معاملے کو نہایت ہی خوش اسلوبی سے سلجھا دیا۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  ایضاً ۔ 23H/3/1-272

[2] ایضاً ۔ 3/1-276