بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 4: عہد عثمانی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اقربا پروری کی تہمت

باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر سب سے بڑا الزام یہ عائد کیا کہ انہوں نے  عہدوں کی تقسیم میں اقرباء پروری سے کام لیا اور میرٹ کو نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے اپنے ان رشتہ داروں کو گورنر بنا دیا، جو اسلام کے ساتھ مخلص نہ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو فتح مکہ کے بعد مجبوراً اسلام لائے تھے اور عہدوں کے اہل نہ تھے۔  بعد کے ادوار میں جو لوگ باغیوں کے اس پراپیگنڈا سے متاثر ہوئے، انہوں نے بھی اسی قسم کی باتیں کہیں۔

عہد جاہلیت ہی سے بنو امیہ سیاسی مناصب پر فائز چلے آ رہے تھے کیونکہ ان میں اس کی صلاحیت تھی۔  مکہ ایک شہری ریاست (City State) تھا بعثت نبوی کے زمانے میں بنو امیہ مکہ کے اہم سیاسی مناصب پر فائز تھے۔  جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت پیش کی تو بنو امیہ کے نیک دل لوگ آگے بڑھ کر ایمان لائے جن میں حضرت عثمان اور خالد بن سعید رضی اللہ عنہما نمایاں تھے۔بنو امیہ کے لوگوں کی تقرری خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد عہدوں پر کی تھی کیونکہ یہ اس کے اہل تھے۔ آپ نے اکیس سالہ اموی نوجوان عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ کا گورنر مقرر فرمایا، مشہور اموی سردار ابو سفیان کو نجران ، ان کے بیٹے یزید بن ابی سفیان کو تیماء ، خالد بن سعید کو صنعاء (یمن)،  عمرو بن سعید کو تبوک، حکم بن سعید کو وادی القری، اور ابان بن سعید  رضی اللہ عنہم کو بحرین کا گورنر مقرر فرمایا۔ اسی طرح حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے بھی بنو امیہ کے لوگوں کو اہم عہدے دیے کیونکہ ان میں اس کی صلاحیت موجود تھی۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اقرباء پروری کے اس الزام کے جواب میں ہم پہلے ایک چارٹ پیش کریں گے جس میں عہد عثمانی کے تمام عہدے داروں کے نام دے رہے ہیں۔ اس کے بعد ہم ایک ایک شخص کا جائزہ لے کر یہ بیان کریں گے کہ اس کی تقرری کیسے ہوئی؟ یہ معلومات ہم تاریخ طبری کے اس مقام سے نقل کر رہے ہیں، جہاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا باب مکمل ہوتا ہے۔ ان میں اکثر لوگ اس وقت گورنر تھے جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔

نمبر شمار

عہدے دار[1]

علاقہ

قبیلہ

تقرری

 

صوبہ حجاز و یمن

 

 

 

1.    

عبداللہ بن حضرمی

مکہ

یمن کا ایک قبیلہ

 

2.    

قاسم بن ربیعہ ثقفی

طائف

بنو ثقیف (طائف)

 

3.    

یعلی بن امیہ تیمی

یمن

بنو تیم (قریش)

 

4.    

عبداللہ بن ربیعہ الغنری

الجند

بنو مخزوم (قریش)

 

5.    

خالد بن عاص مخزومی

مکہ

بنو مخزوم (قریش)

 

6.    

عبداللہ بن حارث بن نوفل

مکہ

بنو ہاشم (قریش)

 

 

صوبہ عراق و ایران

 

 

 

7.    

عبداللہ بن عامر

بصرہ

بنو امیہ

حضرت عثمان

8.    

سعد بن ابی وقاص

کوفہ

بنو زہرہ

حضرت عمر

9.    

ولید بن عقبہ بن ابی معیط

الجزیرہ۔ کوفہ

بنو امیہ

حضرت عمر و عثمان

10.                      

سعید بن عاص

کوفہ

بنو امیہ

حضرت عمر

11.                      

ابو موسی اشعری

کوفہ

بنو اشعر (یمن)

حضرت عمر و عثمان

12.                      

جریر بن عبداللہ بجلی

قرقیسیا

بنو بجیلہ

 

13.                      

اشعث بن قیس الکندی

آذر بائیجان

بنو کندہ

 

14.                      

عتیبہ بن النہاس

حلوان

نامعلوم

 

15.                      

مالک بن حبیب الیربوعی

ماہ

بنو تمیم

 

16.                      

سعید بن قیس

رے (موجودہ تہران)

ایرانی

 

17.                      

سائب بن اقرع

اصفہان

بنو ثقیف

 

18.                      

نسیر

ہمدان

ایرانی

 

19.                      

جیش

ماسبدان

ایرانی

 

20.                      

حکیم بن سلامہ الخرامی

موصل

بنو خرام

 

21.                      

عبداللہ بن مسعود

بیت المال کوفہ

حلیف بنو مخزوم

 

22.                      

عقبہ بن عمرو

بیت المال کوفہ

انصار

 

23.                      

جابر بن فلان المزنی

کلیکٹر عراق

بنو مزینہ

 

24.                      

سماک انصاری

کلیکٹر عراق

انصار

 

25.                      

قعقاع بن عمرو

کمانڈر کوفہ

بنو تمیم

 

 

صوبہ مصر

 

 

 

26.                      

عمرو بن عاص

مصر

بنو مخزوم

حضرت عمر

27.                      

عبداللہ بن سعد بن ابی سرح

مصر

بنو عامر

حضرت عمر

 

صوبہ شام

 

 

 

28.                      

معاویہ بن ابی سفیان

شام

بنو امیہ

حضرت عمر

29.                      

عبدالرحمن بن خالد بن ولید

حمص، الجزیرہ

بنو مخزوم (قریش)

 

30.                      

حبیب بن مسلمہ فہری

قنسرین

بنو فہر (قریش)

 

31.                      

ابو الاعور بن سفیان سلمی ذکوانی

اردن

بنو ذکوان

 

32.                      

علقمہ بن حکیم کنانی

فلسطین

بنو کنانہ

 

33.                      

عبداللہ بن قیس فزاری

ساحلی علاقے

بنو فزارہ

 

34.                      

ابو درداء

قاضی دمشق

بنو خزرج (انصار)

 

 

دار الحکومت

 

 

 

35.                      

علی، طلحہ، زبیر، سعد

مرکزی کابینہ

 

 

36.                      

مروان بن حکم

کاتب خلیفہ

بنو امیہ

حضرت عثمان

37.                      

زید بن ثابت رضی اللہ عنہم

قاضی مدینہ اور بیت المال (وزیر خزانہ)

بنو خزرج (انصار)

 

38.                      

مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب

قاضی

بنو ہاشم

 

39.                      

عبد اللہ بن ارقم

بیت المال (وزیر خزانہ)

بنو زہرہ (قریش)

 

40.                      

عبداللہ بن قنفذ

پولیس چیف

بنو تیم (قریش)

 

اب اس چارٹ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کل چھ افراد بنو امیہ کے نظر آتے ہیں۔  اب ہم ان حضرات کے کارناموں کی تفصیل بیان کرتے ہیں  جس سے اندازہ ہو گا کہ ان کی تقرری کس نے کی اور اس کے اسباب کیا تھے؟ ان میں سے بھی چار کی تقرری حضرت ابوبکر یا عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں ہو چکی تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے سوا اور کچھ  نہیں کیا کہ ان کی پرفارمنس کے اعتبار سے  انہیں پروموشن دی جو کہ کسی بھی سول سروس یافوج کا عام معمول ہے۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان گورنروں کی پرفارمنس کیا تھی، جس کی بنیاد پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے متعلق فیصلے کیے۔

ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ

ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے۔ سول ایڈمنسٹریشن ان کی تقرری حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی تھی جن کی مردم شناسی ضرب المثل ہے۔ حضرت عمر نے انہیں "الجزیرہ" کا حاکم مقرر کیا تھا جو کہ شمالی عراق میں دجلہ و فرات کی زرخیز وادی کو کہا جاتا ہے ۔  انہوں نے اس علاقے کا بہترین انتظام کیا اور اس سے متعلق کوئی شکایت بھی تاریخ کی کتب میں موجود نہیں ہے۔ یہاں سے آگے بڑھ کر انہوں نے شمال میں آرمینیا کے متعدد علاقے فتح کیے۔  طبری کے مطابق وہ جب جہاد کے لیے روانہ ہوتے تھے تو دور دراز مقامات تک پہنچ جاتے تھے ، کسی چیز میں کوتاہی نہ کرتے تھے اور ایسے انتظامات کرتے تھے کہ دشمن ان کے مقابلے پر آنے سے احتراز کرتا تھا۔ [2] حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کا تبادلہ کر کے انہیں کوفہ کا گورنر مقرر کیا۔ طبری کی روایت کے مطابق جب یہ کوفہ آئے تو لوگوں کی مقبول ترین شخصیت بن گئے کیونکہ ان کا سلوک نرم تھا۔ پانچ سال تک ان کا طرز عمل یہ تھا کہ انہوں نے اپنےگھر میں دروازہ نہیں بنایا تاکہ کسی شخص کو بھی گورنر تک اپنی بات پہنچانے میں مشکل نہ ہو۔[3]  اس کردار کے گورنر کے تبادلے پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر یہ اعتراض کیا گیا کہ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کی جگہ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو کیوں مقرر فرمایا؟ اس کا واقعہ یوں تھا کہ حضرت سعد نے بیت المال سے ذاتی ضروریات کے لیے کچھ قرض لیا اور اسے وقت پر ادا نہ کر سکے۔  جب بیت المال کے سربراہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مطالبہ کیا تو حضرت سعد نے مزید مہلت مانگی۔  اس پر ان کے مابین کچھ تلخ کلامی ہو گئی اور لوگ اکٹھے ہو گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی تو انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو مدینہ بلوا لیا۔ واضح رہے کہ اس دور میں "معزولی" کا مطلب یہ نہیں ہوتا تھا کہ ایک شخص کو بالکل ہی تمام معاملات سے الگ کر دیا جائے بلکہ اس کا مطلب تبادلہ (Transfer) ہوتا تھا جو کہ آج بھی فوجی اور سول ایڈمنسٹریشن میں عام معمول ہے۔ حضرت عثمان نے حضرت سعد رضی اللہ عنہما کو کوفہ کی بجائے دار الحکومت میں ذمے داریاں دے دیں اور کوفہ میں ولید بن عقبہ کو مقرر کر دیا۔[4]

بعض لوگوں حضرت عثمان پر زبان طعن دراز کرتےہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے ولید کو الجزیرہ کے غیر اہم علاقے سے ہٹا کر کوفہ جیسے مرکزی مقام کا عہدہ دیا۔  ہم جانتے ہیں کہ سول اور فوجی ایڈمنسٹریشن میں تبادلے ایک عام معمول ہے اور عہدے داروں کو ضرورت کے مطابق تبدیل کیا جاتا ہے۔ ولید بن عقبہ کے بارے میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ وہ کوفہ کی محبوب ترین شخصیت تھے اور ان کے کردار کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پانچ  سال تک گھر کا دروازہ نہیں لگایا تاکہ کسی سائل کو ان تک رسائی میں مشکل نہ ہو۔  جب کوفہ میں باغی تحریک نے قدم جمانے شروع کیے تو ان کے بعض لوگوں نے ایک شخص ابن حیسمان الخزاعی کو قتل کر دیا۔ یہ مقدمہ گورنر کے پاس پیش ہوا اور صحابی ابو شریح رضی اللہ عنہ کی گواہی پر فیصلہ ہوا جو واقعے کے عینی شاہد تھے۔ ولید نے معاملے کو حضرت عثمان کے پاس لکھ بھیجا جنہوں نے قصاص میں قاتلوں کو قتل کر دینے کا حکم دیا اور اس سزا کو نافذ کر دیا گیا۔ اب ان قاتلوں کے باپوں اور دیگر وارثوں نے گورنر کے خلاف محاذ بنا لیا۔ حضرت ولید رضی اللہ عنہ دعوتی ذہن رکھتے تھے اور غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرتے تھے۔ ان کی دعوت سے ایک عیسائی شاعر ابو زبید نے اسلام قبول کیا تھا اور اکثر ان کے ساتھ رہتا تھا۔ باغیوں نے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ  ابو زبید کے ساتھ مل کر شراب پیتے ہیں۔   انہوں نے پورے شہر میں یہ پراپیگنڈا کرنا شروع کر دیا۔

جب یہ بات بیت المال کے سربراہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: "جو ہم سے کوئی عیب چھپائے، ہم اس کی پردہ دری نہیں کرتے اور اس کی ٹوہ نہیں لگاتے۔"[5] ولید نے اس پر انہیں بلا کر سرزنش کی کہ آپ کا جواب مناسب نہ تھا۔ ایسا جواب تو مشتبہ افراد کے بارے میں دیا جاتا ہے، جبکہ میرا معاملہ تو آپ کے سامنے ہے۔ اس پر ان کے مابین کچھ تلخ کلامی بھی ہوئی۔ باغیوں میں سے کچھ لوگوں نے مدینہ منورہ پہنچ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شکایت کی تو آپ نے فرمایا: "تم بدگمانی کرتے ہو اور مسلمانوں میں غلط باتیں پھیلاتے ہو اور بغیر اجازت کے چلے آتے ہو، واپس چلے جاؤ۔" ان لوگوں نے اب سازش تیار کی اور چونکہ ولید کے گھر پر دروازہ نہ تھا، اس وجہ سے رات کے وقت ان کی انگوٹھی چرا لائے اور مدینہ آ کر باقاعدہ مقدمہ پیش کیا کہ ہم نے ولید رضی اللہ عنہ کو شراب نوشی کرتے دیکھا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم ان کی انگوٹھی اتار لائے اور انہیں علم نہیں ہو سکا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ولید کو طلب کیا اور ان سے فرمایا: "جھوٹے گواہ کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اے میرے بھائی! تم صبر کرو۔" اس کے بعد انہوں نے ولید پر شراب کی سزا نافذ کی کیونکہ عدالت میں فیصلہ ظاہری گواہی پر ہوتا ہے۔ [6]

طبری ہی کی ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب نوشی کا یہ واقعہ سر تا سر جھوٹ تھا اور محض حضرت ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کروانے کے لیے گھڑا گیا تھا۔ کوفہ کے یہ شرپسند اسی طرح سے  حضرت عمر کے زمانے میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما پر بدکاری کی تہمت لگوا کر انہیں معزول کروانے کی کوشش کر چکے تھے۔  اس کی وجہ یہ تھی کہ قتل کے واقعے کے بعد باغی تحریک کے لیے کوفہ میں پنپنا مشکل ہو رہا تھا، چنانچہ انہوں نے الزام تراشی کے ذریعے ایک کمزور گورنر لانا چاہا تاکہ وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں لیکن  ان کے لیے مسئلہ یہ پیدا ہو گیا کہ جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جس نئے گورنر کو مقرر کیا، وہ بھی نہایت ہی بیدار مغز تھے۔  ہماری مراد سعید بن عاص رحمہ اللہ سے ہے جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔

ولید بن عقبہ کے بارے میں ایک اور جھوٹی روایت وضع کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو عبد المصطلق کی طرف صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا تو یہ صدقات وصول کیے بغیر واپس آ گئے اور آ کر کہہ دیا کہ یہ لوگ تو جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس پر سورۃ الحجرات کی یہ آیت نازل ہوئی کہ ۔ إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ. "اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تصدیق کر لیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ  تم کسی قوم کو لاعلمی میں نقصان پہنچا دو اور پھر اپنے فعل پر نادم ہو جاؤ۔" [7]

یہ روایت بھی محض ولید کی کردار کشی کے لیے وضع کی گئی ہے۔ اس کی سند میں متعدد مسائل موجود ہیں۔ یہ روایت مسند احمد بن حنبل میں آئی ہے اور اس کی سند یوں بیان ہوئی ہے: حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا محمد بن سابق حدثنا عيسى بن دينار حدثنا أبي أنه سمع الحرث بن ضرار الخزاعي قال۔ ان راویوں کے ناموں پر غور کیجیے تو  اس میں تین راوی نمایاں ہیں:

·       محمد بن سابق ایسے راوی ہیں جن کے قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے پر ائمہ جرح و تعدیل میں اختلاف ہے۔ بعض ماہرین انہیں ثقہ اور بعض ضعیف بلکہ منکر قرار دیتے ہیں۔ ان میں ابن المدینی، ابو حاتم اور یحیی بن معین شامل ہیں۔ [8]

·       دوسرے راوی عیسی بن دینار ہیں  جو کہ اسپین کے قاضی تھے۔ ان کے حالات کی زیادہ تفصیل معلوم نہیں ہے کہ یہ کس درجے میں قابل اعتماد تھے۔

·       تیسرے راوی ان کے والد دینار ہیں جن کا پورا نام معلوم نہیں ہے۔ میزان الاعتدال میں دینار نام سات راویوں کے حالات ملتے ہیں اور وہ سب کے سب ضعیف یا متروک ہیں۔ ان میں سے ایک صاحب ابو عمر دینار تھے جو بنو امیہ کے خلاف اٹھنے والے مختار ثقفی کی پولیس میں شامل تھے۔  اگر یہ دینار یہی صاحب تھے تو پھر واضح ہے کہ یہ روایت انہوں ہی نے گھڑی ہو گی۔ [9]

اس کے برعکس مسند احمد کی روایت کے مطابق ولید بن عقبہ خود فرماتے ہیں کہ وہ فتح مکہ کے موقع پر چند لڑکوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ آپ نے سب کے سر پر دست مبارک پھیرا سوائے ولید کے کیونکہ ان کے سر میں خوشبو دار تیل لگا تھا۔ پھر آپ نے ان سب کے لیے دعا فرمائی۔ اب اگر ولید، فتح مکہ کے موقع پر لڑکے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لڑکے کو کیسے صدقات کی وصولی جیسے ذمہ دارانہ کام کے لیے بھیج سکتے تھے۔ اس کے بعد انہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ قضاعہ سے صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا جو ان پر اعتماد کی علامت ہے۔  اگر یہ روایت درست ہوتی تو حضرت ابوبکر انہیں اسی کام پر نہ بھیجتے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ اہم جنگی خدمات انجام دیتے رہے اور انہوں نے انہیں الجزیرہ کا گورنر بنا دیا۔  باغیوں کو چونکہ حضرت ولید سے خاص بغض تھا، اس وجہ سے انہوں نے یہ روایت وضع کی ہے۔

ابن جریر طبری، جو مورخ کے علاوہ بڑے رجحان ساز مفسر  بھی ہیں، نے اپنی تفسیر  میں اس آیت کریمہ کے تحت یہ واقعہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل ہوا ہے اور وہاں رجلا (ایک شخص) کے الفاظ ہیں اور ولید بن عقبہ کا نام نہیں ہے۔ اس کے بعد طبری نے متعدد اسناد سے نقل کی ہیں لیکن ان اسناد کی حیثیت یہ ہے کہ ان میں راویوں کے نام بس مختصر سے دیے ہوئے ہیں جس کے باعث یہ سراغ لگانا ممکن نہیں ہے کہ ان میں سے کون سا راوی کس درجے میں قابل اعتماد ہے۔[10]

سعید بن عاص رحمہ اللہ

سعید بن عاص رحمہ اللہ  کے جو حالات طبری نے لکھے ہیں، ان کے مطابق یہ یتیم تھے اور ان کی پرورش حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ دمشق میں مقیم تھے اور بیمار تھے۔ حضرت عمر نے ان کے بارے میں پوچھا اور پھر انہیں بلا بھیجا۔ یہ مدینہ آ کر تندرست ہو گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: "میرے بھتیجے! مجھے تمہاری قابلیت اور صلاحیت کی خبر ملی ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو ترقی دو، اللہ تمہیں ترقی دے گا۔" پھر حضرت عمر نے انہیں شادی کا مشورہ دیا۔

سعید بن عاص نے سیدہ ام کلثوم بنت علی کو نکاح کا پیغام بھیجا اور اس وقت ایک لاکھ درہم بطور مہر دیے۔ اس رشتے پر حضرت علی، حسن اور ام کلثوم تیار تھے البتہ حضرت حسین  رضی اللہ عنہم کو کچھ اعتراض تھا۔  حضرت حسن نے اس شادی پر اصرار کیا مگر سعید نے کہا: ’’میں ایسے معاملے میں نہیں پڑنا چاہتا جسے حسین پسند نہ کرتے ہوں۔‘‘ انہوں نے منگنی ختم کر دی اور ایک لاکھ درہم بھی واپس نہ لیے۔  اس سے ان کی شرافت اور اہل بیت کے ساتھ ان کی محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔ [11]

سعید کی ملاقات ایک چشمے پر کچھ بے سہارا خواتین سے ہوئی۔ یہ ان کے حالات سے بہت متاثر ہوئے اور ان میں سے ایک سے انہوں نے شادی کر لی اور دیگر بے سہارا خواتین میں سے ایک سے  حضرت عبدالرحمن بن عوف اور ایک سے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہما نے شادی کر لی۔ سعید کے چچا خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ  (دادا پوتے کا نام ایک ہی تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اولین صحابہ میں سے تھے اور انہوں نے زبردست خدمات انجام دی تھی۔  سعید نے بھی اپنے چچا کے نقش قدم پر بہترین خدمات انجام دیں۔ انہوں نے طبرستان کے جہاد میں قیادت کی اور کامیاب رہے۔ انہوں نے جارجیا اور طبرستان کا وسیع علاقہ فتح کر لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے ان کا شمار بھی مشہور لوگوں میں ہونے لگا تھا۔ [12]

اس تفصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ  سعید بن عاص رحمہ اللہ کی تقرری حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی تھی اور وہ اپنی پرفارمنس سے انہیں متاثر کر چکے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تو ان کا محض تبادلہ کیا تھا اور ان کی صلاحیتوں کے پیش نظر انہیں ایک مشکل صوبے "کوفہ" کی گورنری دی تھی جو کہ اس وقت تک باغی تحریک کا گڑھ بن چکا تھا۔

عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ

یہ بھی ایک جلیل القدر صحابی تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی تھے۔ ان پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ ان لوگوں میں سے تھے جو اسلام لا کر مرتد ہو گئے تھے اور جن کے بارے میں فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کا حکم دیا تھا۔ حضرت عثمان نے انہیں سمجھایا تو یہ ایمان لے آئے اور پھر حضرت عثمان کی کوششوں سے ہی انہیں معافی ملی۔[13] اس کے بعد یہ مخلص مومن رہے اور انہوں نے خلفائے راشدین کے زمانے میں بہترین ایمان کا مظاہرہ کیا۔ ویسے بھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو معاف  فرما دیں تو پھر کسے اعتراض کی گنجائش ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن سعد کو اس فوج کا افسر مقرر کیا تھا ، جو مصر پر حملہ آور ہوئی تھی۔ فتح کے بعد انہیں بالائی مصر (جنوبی مصر) کا گورنر مقرر فرمایا تو انہوں نے آگے بڑھ کر شمالی سوڈان کا علاقہ بھی فتح کر لیا جو ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں زیریں مصر (شمالی مصر) کا گورنر مقرر کیا اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے یہ ثابت کیا کہ وہ اس منصب کے حق دار تھےاور لیبیا تک کا علاقہ فتح کر لیا۔ فسطاط شہر چونکہ باغی تحریک کا مرکز بن چکا تھا اور حضرت عبداللہ نے ان پر کچھ سختی کی تھی، اس وجہ سے ان باغیوں نے آپ کو خاص ہدف بنا کر آپ پر تنقید کی۔

عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ

یہ بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے وہ واحد شخص تھے جنہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے گورنر مقرر کیا اور ایسا ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے ہوا۔ اس وقت ان کی عمر محض 25 سال تیھ۔ ابن عامر نوجوانی ہی میں نہایت ہی سادہ طرز زندگی کے عادی تھے ۔ دن کو روزہ اور رات کو عبادت ان کا معمول تھا۔ ابن عامر ایک صالح نوجوان تھے اور اپنے ساتھ ہمیشہ نیک لوگوں ہی کو رکھا کرتے تھے۔ دوران جہاد آپ کہا کرتے تھے: "مجھے عراق کی کسی چیز پر حسرت نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہاں دوپہر کی گرمی میں موذنوں کی آوازیں اکٹھی گونجتی ہیں اور اسود بن کلثوم (جیسے دیندار) ساتھی۔"[14]

صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ گورنر بننے کے بعد انہوں نے فتوحات کی رفتار تیز کر دی۔ 31/651 میں انہوں نے موجودہ مشرقی ایران اور مغربی افغانستان کا بڑا حصہ انہوں نے فتح کیا جن میں طوس، بیورو، نسا اور سرخس شامل تھے جبکہ مرو شہر کے باشندوں نے صلح کر لی۔ اس کے بعد انہوں نے خراسان بھی فتح کیا۔ سجستان کی فتح بھی ابن عامر ہی کا کارنامہ تھی جس میں موجودہ افغانستان اور پاکستان کے بعض حصے شامل تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا: "کسی اور کے ہاتھوں اتنے علاقے فتح نہیں ہوئے جتنے آپ کے ہاتھوں ہوئے ہیں۔ ان میں فارس، کرمان، سجستان اور تمام خراسان کا علاقہ شامل ہے۔ " ابن عامر نے جواب دیا: "نہایت ضروری ہے کہ میں (ان کامیابیوں پر) اللہ کا شکر اس طرح ادا کروں کہ اسی مقام پر احرام باندھ کر عمرہ ادا کروں۔" اس طرح وہ نیشا پور (شمال مشرقی ایران) سے احرام باندھ کر چلے اور عمرہ ادا کیا۔ اس سے ان کے زہد و تقوی کا اندازہ ہوتا ہے کہ  اتنا طویل  راستہ احرام کی پابندیوں میں بسر کیا۔ اس کے بعد جب وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے اسے پسند نہیں فرمایا کیونکہ یہ حد سے تجاوز تھا اور فرمایا: "کاش! آپ اسی میقات سے احرام باندھتے جہاں سے سبھی مسلمان احرام باندھتے ہیں۔"[15]

اس کے بعد بھی خراسان کے علاقے سے متعدد بغاوتیں اٹھتی رہیں جنہیں ابن عامر ہی فرو کرتے رہے۔ چونکہ انہوں نے حضرت عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اٹھنے والی باغی تحریک کے خلاف زبردست اقدام کیے، اس وجہ سے باغیوں نے انہیں خاص طور پر نشانہ بنایا۔

مروان بن حکم رحمہ اللہ

ان کے بارے میں یہ اختلاف ہے کہ یہ صحابی ہیں یا تابعی۔ ان کے والد حکم بن ابی العاص کو ان کی اسلام دشمنی کے سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں جلا وطن کر دیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو  نہایت نرمی کے ساتھ اپنے قبیلے اور خاندان کے لوگوں کو اسلام میں لانے کا شوق تھا، اس وجہ سے انہوں نے ان کی سفارش کی اور یہ اسلام قبول کر کے مکہ واپس آ گئے۔ مروان ایک بڑے عالم اور عبادت گزار آدمی تھے اور ان کی تربیت براہ راست اکابر صحابہ کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ امام مالک نے موطاء میں مروان کے متعدد عدالتی فیصلوں کو بطور "سنت ثابتہ" درج کیا ہے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مروان کو کوئی سرکاری عہدہ نہیں دیا البتہ ان سے کتابت کی خدمات لیتے رہے۔ سرکاری خطوط اور فرامین وغیرہ ان سے لکھواتے ۔ ظاہرہے کہ یہ کوئی ایسا عہدہ نہیں ہے جس پر اعتراض ہو سکے۔ بعض حضرات نے انہیں حضرت عثمان کا سیکرٹری کہا ہے اور ان پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ حقیقت یہ ہے کہ مروان کو زیادہ سے زیادہ حضرت عثمان کا "پرسنل سیکرٹری" کہا جا سکتا ہے نہ کہ "سیکرٹری آف دی اسٹیٹ۔" ان کی ملازمت کی نوعیت  کلیریکل نوعیت کی تھی کہ حضرت عثمان جو فیصلہ لکھوانا چاہیں، ان سے لکھوا لیں۔ انہیں کوئی انتظامی اختیارات حاصل نہ تھے، جس سے وہ فائدے اٹھا سکتے۔

جب باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو مروان ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پرجوش حامی بن کر ابھرے۔ یہ ان لوگوں میں سے تھے جو تلوار کے ذریعے باغیوں کا فیصلہ کرنا چاہتے تھے۔ باغیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں یہ شدید زخمی بھی ہوئےجو کہ ان کے خلوص کا ثبوت ہے۔ طبری کی روایات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ان پر تنقید موجود ہے۔ یہ تنقید بھی ان کے حد سے بڑھے جوش سے متعلق ہے ورنہ بعد میں خود حضرت علی کی دو بیٹیوں کی شادیاں مروان کے دو بیٹوں سے ہوئیں۔ اس کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے۔ چونکہ بعد میں مروان خود ایک سال کے لیے خلیفہ بنے اور ان کے بعد ان کے بیٹوں اور پوتوں میں خلافت منتقل ہوئی جن کے خلاف باغی مسلسل تحریک چلاتے رہے، اس وجہ سے ان کے خلاف  روایتیں وضع کر کے ان کی کردار کشی کی گئی۔

معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما

باغی راویوں نے جس ہستی کو سب سے زیادہ شدید تنقید اور تہمتوں کا نشانہ بنایا ہے ، وہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ہیں۔ اس کی وجہ واضح ہے  کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بے مثال حکمت و دانش سے باغی تحریک کو کچل کر رکھ دیا تھا۔ اس کی مزید تفصیل ہم آگے حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما سے متعلق ابواب میں بیان کریں گے۔

حضرت معاویہ کے بارے میں یہ الزام تراشی کی جاتی ہے کہ وہ ایک بڑے اسلام دشمن کے بیٹے تھے اور دل میں اسلام سے بغض رکھتے تھے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے والد ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے چند برس اسلام دشمنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگوں کی قیادت کی لیکن فتح مکہ کے موقع پر وہ مسلمان ہوئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نجران کا گورنر مقرر فرمایا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابو سفیان دل سے مسلمان ہو چکے تھے ورنہ انہیں ایک اہم اور حساس علاقے کا گورنر کیوں بنایا جاتا جہاں کی آبادی کی اکثریت عیسائی تھی۔  ویسے بھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاف فرما دیں، اس کے خلاف کسی بدزبانی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ حضرت معاویہ اور ان کے بڑے بھائی یزید رضی اللہ عنہما، عہد نبوی کی جنگوں یعنی بدر، احد اور خندق وغیرہ کے زمانے میں ابھی بچے تھے اور ان کا کسی جنگ میں کسی کردار کے بارے میں کوئی  ذکر نہیں ملتا۔ یہ تذکرہ ضرور ملتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد آپ مدینہ منورہ منتقل ہو گئے تاکہ آپ کی تربیت اسلامی ماحول میں ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا کاتب مقرر فرمایا اور آپ قرآن مجید کی وحی کی کتابت بھی کرتے رہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو شمالی عرب میں "تیماء" کا گورنر مقرر فرمایا جو کہ ایک سرحدی شہر تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قیصر روم سے جو جنگیں ہوئیں، ان میں یزید ایک بڑی فوج کے کمانڈر تھے اور معاویہ ان کے  تحت افسر تھے۔ فتح کے بعد حضرت ابوبکر نے شام کا گورنر یزید کو مقرر کیا اور معاویہ ان کے نائب تھے۔  حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یزید نے وفات پائی تو ان کی جگہ معاویہ کو شام کا گورنر مقرر کیا گیا۔ شام وہ سرحدی علاقہ تھا جو مسلمانوں نے قیصر روم کی افواج سے حاصل کیا تھا۔ قیصر اس علاقے کو واپس لینا چاہتا تھا اور اس پر لشکر کشی کے منصوبے بناتا تھا۔ حضرت معاویہ نے اپنی بے مثال شجاعت اور حکمت سے قیصر کے منصوبوں کو ناکام بنایا اور اس کے متعدد علاقوں میں مزید فتوحات حاصل کر کے موجودہ ترکی کا بھی چالیس فیصد علاقہ فتح کر لیا۔ اس طرح قیصر کی حکومت اب موجودہ ترکی کے ساٹھ فیصد علاقے تک محدود رہ گئی۔

حضرت عمر اپنے کسی گورنر سے کم ہی مطمئن ہوتے تھے اور اکثر ان کا تبادلہ کیے رکھتے تھے لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایسی غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا کہ حضرت عمر اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہما نے انہیں نہ صرف ان کے عہدے پر برقرار رکھا بلکہ ان کے زیر نگیں علاقوں میں بھی اضافہ کرتے چلے گئے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں شام کا صوبہ شمال مشرق میں دریائے فرات سے لے کر مغرب میں دریائے نیل تک پھیلا ہواتھا۔ موجودہ شام، لبنان، فلسطین اور اردن کے پورے پورے ممالک صوبہ شام کا حصہ تھے جبکہ عراق اور ترکی کے بعض حصے بھی اسی صوبے میں شامل تھے۔شام ایک غیر معمولی صوبہ تھا کیونکہ اس کی سرحدیں بازنطینی ایمپائر کے ساتھ لگتی تھیں جس کا سربراہ  قیصر روم  تھا۔ قیصر کی کوشش تھی کہ کسی طرح اپنے مقبوضات واپس لے لے۔  ضرورت اس امر کی تھی کہ شام پر کسی غیر معمولی صلاحیتوں والے گورنر کو مقرر کیا جاتا ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو 20/642 میں یہاں کا گورنر مقرر کیا۔ شام  میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی بھی آباد تھے۔ یہاں کی عیسائی آبادی چونکہ ان کے اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھتی تھی اور رومن چرچ نے انہیں مرتد قرار دے رکھا تھا، اس وجہ سے ان کی حمایت مسلمانوں کے لیے تھی۔ 

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے شام کی مسلم اور غیر مسلم آبادی  کے ساتھ ایسا سلوک کیا  کہ سبھی آپ کے گرویدہ ہو گئے اور آپ سے بے پناہ محبت کرنے لگے۔ ملکی دولت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ ہوا کرتی تھی اور ہر شخص کو اس کا حق ملتا تھا۔حضرت معاویہ نے حضرت عمر سے بارہا ایک مضبوط بحریہ (Navy) تیار کرنے کی اجازت طلب کی لیکن آپ نے بحری جنگ کے خطرات کے سبب یہ اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ حضرت عثمان نے اپنے دور میں اس شرط پر اس کی اجازت دی کہ کسی سپاہی کو بحریہ میں شمولیت پر مجبور نہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے  بحیرہ روم کے ساحلوں پر جہاز رانی کی  ایک بہت بڑی  صنعت قائم کی جس سے بے شمار لوگوں کو روزگار ملا اور ملک خوشحال ہوا۔ مسلم نیوی نے بحیرہ روم پر قیصر روم کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ جلد ہی جزیرہ قبرص (Cyprus) فتح ہو گیا اور ایک مہم قیصر کے دار الحکومت قسطنطنیہ (Constantinople)کے لیے روانہ ہوئی۔  دوسری طرف موجودہ ترکی کے مشرقی علاقے میں جنگ بندی  کی سی کیفیت تھی۔

اس تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے مقرر کیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اقربا پروری کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے صرف اتنا کیا کہ حضرت معاویہ کی ذمہ داریوں میں اس طرح اضافہ کیا کہ انہوں نے جو علاقے فتح کیے، وہ انہی کے تحت رہنے دیے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ علاقے مرکزی دار الحکومت  سے اتنے دور تھے کہ مرکز کے لیے انہیں کنٹرول  کرنا مشکل تھا۔ اس کے برعکس دمشق سے ان علاقوں کو اچھی طرح کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے سبب ان علاقوں میں ایسا حسن انتظام کیا کہ قیصر روم کو یہاں کوئی کامیابی بھی حاصل نہ ہو سکی۔ حضرت عثمان کے زمانے میں باغی تحریک کو بصرہ، کوفہ اور مصر میں قدم جمانے کا موقع ملا لیکن شام میں اسے ذرہ برابر بھی کامیابی حاصل نہ ہو سکی جو کہ حضرت معاویہ کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس پوری تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بنو امیہ کے صرف ایک شخص کو مقرر کیا اور وہ عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ تھے۔  انہوں نے  اپنی فتوحات اور حسن انتظام سے ثابت کیا کہ ان کی تقرری ٹھیک میرٹ پر ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ بقیہ چار گورنر ولید بن عقبہ، عبداللہ بن سعد، سعید بن عاص اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سول سروس میں داخل کر چکے تھے اور یہ حضرات اپنے کارناموں کے سبب پروموشن پا کر گورنر کے عہدوں پر پہنچے۔ گورنر بننے سے پہلے اور اس کے بعد انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ان کی پروموشن بھی ٹھیک میرٹ پر ہوئی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی باغیوں کے اعتراض کے جواب میں یہی بات کی تھی:

"یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے نوجوانوں کو حاکم بنا دیا ہے۔ میں نے انہی افراد کو حاکم بنایا ہے جو اہلیت رکھتے ہیں اور لوگ انہیں پسند کرتے ہیں۔  ان کے بارے میں آپ ان لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں جو ان گورنروں کی عمل داری میں رہتے ہیں اور ان کے شہروں کے باشندے ہیں۔ مجھ سے پہلے بھی کم عمر شخص  کو حاکم بنایا گیا تھا۔ (یاد کیجیے جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ (بن زید) کو افسر بنایا تھا تو اس وقت آپ پر اس سے زیادہ اعتراض کیا گیا تھا، جو مجھ پر اعتراض کیے جا رہے ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے؟" لوگوں نے کہا: "جی ہاں۔ بے شک۔ یہ لوگ ایسے اعتراضات کرتے ہیں جنہیں وہ ثابت نہیں کر سکتے ہیں۔"[16]

ان پانچ افراد کے علاوہ  بقیہ جتنے بھی گورنر تھے، ان کا کوئی تعلق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے رشتے داروں سے نہیں تھا۔ 

کیا اکابر صحابہ کی بجائے طلقاء کو آگے بڑھایا گیا؟

ان پانچ افراد کے علاوہ  بقیہ جتنے بھی گورنر تھے، ان کا کوئی تعلق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے رشتے داروں سے نہیں تھا۔  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اکابر صحابہ کو معزول کر کے ان کی جگہ "طلقاء" کو دی۔ طلقاء وہ لوگ تھے جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے۔  یہ لفظ ان حضرات کے لیے ایک اعزاز کا باعث تھا جسے بعد میں لوگوں نے بطور طعنہ استعمال کیا۔  اعزاز اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی توبہ قبول فرمائی تھی اور انہیں معاف کر دیا تھا۔ اس کے بعد کسی شخص کو ان کے بارے میں زبان طعن دراز کرنے کی گنجائش نہیں رہتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اوپر بیان کردہ تمام افراد کو طلقاء نہیں کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ فتح مکہ کے موقع پر ابھی بچے تھے۔ ان کے والدین اور دیگر اعزا نے جب اسلام قبول کیا تو اس کے بعد ان کی پرورش اسلامی ماحول میں ہوئی اور وہ سچے اور پکے مسلمان بنے۔ بعد میں انہوں نے اپنے طرز عمل سے خود کو سچا مسلمان ثابت کیا۔ مناسب ہو گا کہ ایک ایک کر کے ان کے والدین کا بھی جائزہ لیا جائے۔

·       ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے والد عقبہ طلقاء میں شامل تھے اور فتح مکہ کے موقع پر انہیں امان دی گئی تھی۔ ولید فتح مکہ کے موقع پر ابھی بچے تھے۔

·       سعید بن عاص بن سعید بن عاص بن امیہ کا باپ عاص بن سعید جنگ بدر میں مارا گیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ سعید بن عاص اپنے دادا کے  اور ان کے والد، اپنے دادا کے ہم نام تھے۔ ان کی پرورش حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کی جو یتیموں کی پرورش کا خاص شوق رکھتے تھے۔ سعید کے دو چچا  خالد بن سعید اور عمرو بن سعید رضی اللہ عنہما سابقون الاولون صحابہ میں شامل تھے۔

·       عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ ان کا تعلق بنو امیہ سے نہیں تھا۔  فتح مکہ کے موقع پر یہ بچے تھے۔

·       عبداللہ بن سعد بن ابی سرح  رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو امیہ سے نہیں بلکہ بنو عامر بن لوئی سے تھا۔ فتح مکہ کے موقع پر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کر دیا۔  ہاں یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی ضرور تھے۔

·       مروان بن حکم بن ابی العاص کے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلا وطن کر دیا تاہم اس کے بعد یہ ایمان لائے اور انہیں معاف فرما دیا۔ مروان کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ صحابی ہیں یا تابعی۔ اگر صحابی بھی ہیں تو بھی یہ فتح مکہ کے موقع پر ابھی بچے تھے۔

·       معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے والد فتح مکہ کے دن اسلام لائے اور اس کے بعد مخلص مسلمان ثابت ہوئے۔ حضرت معاویہ اس وقت نوجوان تھے اور مسلمانوں کے خلاف کبھی کسی جنگ میں شریک نہ ہوئے تھے۔  ہم آگے چل کر بیان کریں گے کہ حضرت معاویہ نے صلح حدیبیہ کے وقت اسلام قبول کر لیا تھا تاہم اس کا اظہار فتح مکہ کے موقع پر کیا۔

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ سوائے عبداللہ بن سعد کے، کسی اور شخص کو طلقاء میں شامل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب مخلص مسلمان تھے جن کی پرورش اکابر صحابہ کے ہاتھوں ہوئی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اکابر صحابہ کی بجائے ان نوجوانوں کو  گورنر کیوں مقرر کیا گیا تھا۔ اگر ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور 23-35/643-655 کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں اکابر صحابہ عمر رسیدہ ہو چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ جو صحابی، عہد نبوی میں چالیس برس کا ہو گا، وہ اس زمانے میں لازماً 60-65 برس کا ہو چکا ہو گا۔  اس وقت ضرورت اس امر کی تھی کہ نوجوان نسل کو آگے لایا جائے تاکہ تیزی سے پھیلتی ہوئی سرحدوں کا موثر اور مضبوط انتظام کیا جائے۔ اکابر صحابہ نے اپنا تجربہ اس نسل تک منتقل کیا اور پھر اس  نسل نے ذمہ داریاں سنبھال لیں اور بزرگ صحابہ نے پلاننگ جیسے کام اپنے ذمہ لے لیے۔

ایسا نہیں تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی مرضی سے گورنر مقرر فرما دیتے تھے اور عوام کی رائے کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا تھا۔ آپ کے تمام مقرر کردہ گورنر لوگوں کی رائے کے مطابق ہی مقرر کیے جاتے اور اگر کسی شہر کے لوگ اپنے گورنر کو پسند نہ کرتے تو اسے تبدیل کر دیا جاتا۔  امام بخاری، اپنی کتاب ’’تاریخ الصغیر‘‘ میں روایت کرتے ہیں:

حدثني محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا حصين بن نمير ثنا جبير حدثني جهيم الفهري: جہیم الفہری کہتے ہیں کہ اس معاملے کا میں گواہ ہوں۔ عثمان نے کہا: ’’ہر اس شہر کے لوگ کھڑے ہو جائیں جو اپنے گورنر کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں اسے معزول کر دوں گا اور اس شخص کو گورنر مقرر کروں گا جسے وہ پسند کریں گے۔‘‘ اہل بصرہ نے کہا: ’’ہم عبداللہ بن عامر سے خوش ہیں۔‘‘ انہوں نے انہیں مقرر کیے رکھا۔ اہل کوفہ نے کہا: ’’سعید بن عاص کو ہٹا کر ابو موسی (اشعری) کو مقرر کر دیجیے۔‘‘ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اہل شام نے کہا: ’’ہم معاویہ سے خوش ہیں۔‘‘ انہوں نے انہیں برقرار رکھا۔ اہل مصر نے کہا: ’’ابن ابی سرح کو ہٹا کر عمرو بن عاص کو مقرر کیجیے۔‘‘ حضرت عثمان نے ایسا ہی کیا۔ [17]

یہ غالباً اس زمانے کا واقعہ ہے جب باغی تحریک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کے خلاف اپنی جڑیں مضبوط کر رہی تھی۔ اس تبادلے میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے چارج لینے سے پہلے ہی حضرت عثمان شہید ہو گئے تھے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                    پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  طبری۔ 3/1-480۔ مزید تفصیلات ابن سعد، ابن عبد البر وغیرہ کی کتابوں میں ان عہدے داروں کے ناموں کے تحت دیکھی جا سکتی ہیں۔

[2]  ایضاً ۔ 30H/3/1-309

[3]  ایضاً ۔  35H/3/1-285

[4]  ایضاً ۔ 26H/3/1-285

[5]  ایضاً ۔ 30H/3/1-309

[6] ایضاً ۔ 3/1-314

[7]  الحجرات 49:6

[8]  ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 7574۔ 6/157

[9]  ایضا۔ راوی نمبر 2694۔ 3/48

[10]  ابن جریر طبری۔ تفسیر  الجامع البیان فی تاویل القرآن۔ زیر آیت 49:6۔ مکتبہ مشکاۃ الاسلامیہ۔ www.almeshkat.net/ (ac. 19 Feb 2008)

[11]  ذہبی۔ سیر الاعلام النبلا۔  1809۔ شخصیت نمبر 2274

[12]  طبری۔   3/1-314

[13]  نسائی۔ کتاب تحریم الدم۔ حدیث 4067

[14]  طبری۔ 31H/3/1-341

[15]  ایضاً ۔ 3/1-355

[16]  طبری۔ 35H/3/1/397-398

[17] بخاری۔ التاریخ الصغیر۔ روایت نمبر 334۔ مکتبہ مشکاۃ الاسلامیہ۔