بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 4: عہد عثمانی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

بیت المال میں کرپشن کی تہمت

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر باغیوں نے یہ الزام عائد کیا کہ آپ نے سرکاری  اموال کی تقسیم میں اقرباء پروری سے کام لیا اور اپنے رشتہ داروں کو دولت دی۔  یہی الزام  بعض تاریخی روایات میں بھی نقل ہو گیا ہے۔  اس بات میں تو شبہ نہیں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر باغیوں نے یہ الزام لگایا لیکن اس کی حقیقت کیا ہے، اس پر بھی ہم یہاں گفتگو کریں گے۔

حضرت عثمان نے اس الزام کا جواب کیا دیا؟

یہ الزام سراسر جھوٹ تھا اور اس کا جواب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خود دیا۔

حدثني عبد الله بن أحمد بن شبوبه، قال: حدثني أبي، قال: حدثني عبد الله، عن إسحاق بن يحيى، عن موسى بن طلحة: (حضرت عثمان نے اہل مدینہ کے سامنے ایک خطبہ دیاجس میں فرمایا:) ان لوگوں  (باغیوں ) نے ایسی باتیں کی ہیں جنہیں وہ بھی اسی طرح جانتے ہیں جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیں۔ مگر وہ اس وجہ سے ان کا تذکرہ  کر رہے ہیں تاکہ ناواقف لوگوں کے سامنے پراپیگنڈ ا کر سکیں۔ ۔۔۔

یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی سرح کو مال غنیمت میں سے خاص عطیہ دیا۔ میں نے انہیں مال غنیمت کے خمس  کا خمس (1/25) حصہ انعام کے طور پر دیا تھا جو کہ ایک لاکھ کی رقم تھی۔ ایسے احکام ابوبکر اور عمر نے بھی جاری کیے تھے۔ جب فوج نے اس بات کو ناپسند کیا تو میں نے یہ رقم واپس لے کر انہی میں تقسیم کر دی تھی حالانکہ یہ ابن ابی سرح کا حق نہیں تھا؟ کیا یہی بات ہے؟" لوگوں نے کہا: "جی ہاں۔"

یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں سے محبت کرتا ہوں اور انہیں مال دیتا ہوں۔ جہاں تک گھر والوں کی محبت کا تعلق ہے تو ان کی وجہ سے میں نے کسی پر ظلم نہیں کیا بلکہ صرف ان کے حقوق ادا کیے ہیں اور صرف اپنے مال ہی سے انہیں عطیات دیے ہیں۔ کیونکہ میرے نزدیک مسلمانوں کا مال اپنی ذات یا کسی اور کو دینے کے لیے حلال نہیں ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر کے زمانے میں اپنی ذاتی ملکیت میں سے بہت زیادہ خیرات کرتا تھا۔  یہ وہ زمانہ تھا جب میں کفایت شعار اور کنجوس تھا۔ اب جب کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری عمر فنا ہو رہی ہے اور یہ تمام سرمایہ میں گھر والوں کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں۔ اس زمانے میں یہ ملحد ایسی باتیں بنا رہے ہیں۔ واللہ! میں نے کسی شہر میں سے اضافی مال حاصل نہیں کیاجس کی وجہ سے لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع ملا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ میں یہ مال انہی کو لوٹا دیتا تھا اور میرے پاس صرف پانچواں حصہ ہی پہنچتا تھا اور اس میں سے بھی کوئی چیز میں نے اپنے لیے کبھی نہیں رکھی۔  مسلمان اس مال کو وہاں کے لوگوں میں تقسیم کرتے تھے، میرا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا۔ اللہ کے مال میں سے ایک پائی بھی ضائع نہیں کی گئی اور میں صرف اپنے ذاتی مال میں سے گزر اوقات کرتا ہوں۔

 یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو زمینیں دیں۔ ان زمینوں میں مہاجرین و انصار کے وہ لوگ شریک ہیں جنہوں نے انہیں فتح کیا۔ لہذا جو شخص ان فتوحات کے مقام پر رہتا ہے، وہ اس کا مالک ہے اور جو اپنے اہل و عیال کے پاس آ گئے، تو ان کے ساتھ وہ زمینیں منتقل نہیں ہوئیں۔ اس لیے میں نے اس قسم کی زمینوں کے بارے میں غور کیا تو اصل مالکوں کی اجازت اور مرضی سے عرب کی زمنیوں کے ساتھ ان کا تبادلہ کیا گیا۔ اس طرح یہ زمینیں انہی لوگوں کے قبضہ میں ہیں، میرے قبضے میں نہیں۔

(راوی کہتے ہیں کہ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا مال و متاع اور زمینیں بنو امیہ میں تقسیم کر دی تھیں۔ انہوں نے اپنی اولاد کو بھی اس میں عام حصہ دار بنایا تھا۔ اس تقسیم کا آغاز انہوں نے ابو العاص کی اولاد سے کیا تھا۔ چنانچہ  (ابو العاص کے بیٹے) حکم کی اولاد میں سے ہر ایک کو دس دس ہزار دیے، اس طرح ان سب نے کل ایک لاکھ کی رقم حاصل کی۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کو بھی اتنی ہی رقم دی تھی۔ اس کے علاوہ بنو عاص، بنو عیص اور بنو حرب میں اپنے مال کو تقسیم کر دیا تھا۔[1]

اس روایت سے واضح ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سرکاری مال کی ایک پائی بھی اپنے کسی رشتے دار کو نہیں دی بلکہ ان کی کفالت ہمیشہ اپنے مال سے کی۔ انہوں نے تو بیت المال سے اپنی خدمات کے عوض تنخواہ بھی کبھی وصول نہیں کی۔ آپ کو صلہ رحمی کا شوق تھا، اس وجہ سے آپ اپنا ذاتی مال اپنے غریب رشتے داروں کو دیا کرتے تھے اور متعدد یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کیا کرتے تھے۔ باغیوں نے اس بات کو پکڑ کر یہ پراپیگنڈا کیا  کہ آپ سرکاری مال کو اپنے رشتے داروں پر لٹا رہے ہیں۔ اس کے جواب میں آپ نے مذکورہ تقریر فرمائی اور اس میں اس اعتراض کا نہ صرف جواب دیا بلکہ اہل مدینہ سے اس کی تصدیق بھی کروائی۔   اگر حضرت عثمان، بیت المال میں سے اپنے رشتے داروں کو کچھ دیتے تو یہ بات اہل مدینہ سے ہرگز چھپی نہ رہتی کیونکہ بیت المال کی ذمہ داری حضرت زید بن ثابت اور عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہما  کے سپرد تھی اور عطیات کی تقسیم کا کام رات کی تاریکی میں نہیں ہوتا تھا بلکہ مسجد نبوی میں یہ کام سب کے سامنے ہوا کرتا تھا۔   پھر بیت المال سے کسی کو کوئی رقم دے دینا محض خلیفہ کی صوابدید پر نہ ہوتا تھا بلکہ یہ سب مسلمانوں کے باہمی مشورے سے ہوتا تھا۔ ہر سال بیت المال کے اکاؤنٹس کی کلوزنگ ہوتی اور سارا حساب لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا۔ اس وجہ سے اگر اس میں کوئی  بدعنوانی ہوتی تو اہل مدینہ فوراً اعتراض کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت المال میں خرد برد کا یہ الزام سراسر جھوٹ تھا۔

بیت المال میں کرپشن سے متعلق روایات کی پوزیشن کیا ہے؟

اس موضوع پر ہم نے تاریخ کی تینوں قدیم ترین کتب میں ایسی روایتیں تلاش کی ہیں جن میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر یہ الزام لگایا گیا ہو اور ہمیں کل 16 روایتیں ایسی مل سکی ہیں جن میں یہ الزام موجود ہے۔  ان روایتوں کا تجزیہ اس جدول میں دیا گیا ہے:

تاریخ کی کتاب

بیت المال سے متعلق روایات

ناقابل اعتماد روایات کی تعداد

ناقابل اعتماد راویوں کے  نام اور ان کی بیان کردہ روایات

بقیہ روایات

ابن سعد (168-230/784-845)

2

2

محمد بن عمر الواقدی: 2روایتیں

-

بلاذری (d. 279/893)

13

13

واقدی: 9۔ ابو مخنف: 3۔ محمد بن حاتم بن میمون اور حجاج اعور: 1

-

طبری (224-310/838-922)

1

1

واقدی: 1

-

ٹوٹل

16

16

16

-

مناسب رہے گا کہ اگر آپ تنقید تاریخ کے اصولوں پر پہلے دو ابواب میں ایک بار پھر نظر ڈال لیجیے اور پھر ان روایتوں پر غور کیجیے۔ آپ کے سامنے ایک عجیب بات آئے گی ۔ بلاذری نے جو 13روایتیں  نقل کی ہیں، وہ تقریباً سب کی سب ابن سعد سے نقل کی ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ابن سعد کی "الطبقات الکبری" میں ان میں سے صرف دو روایتیں ہی موجود ہیں، بقیہ روایتیں ابن سعد کی اپنی کتاب میں غائب ہیں لیکن بلاذری انہیں ابن سعد ہی کے حوالے سے لکھ رہے ہیں۔   مناسب رہے گا کہ یہاں ہم ان روایتوں کی سند  اور روایت کا خلاصہ ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ ان روایات کا ماخذ کیا ہے۔ روایتوں کی سند میں خط کشیدہ ناموں کو غور سے دیکھیے:

1.          حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن عبد الله بن جعفر، عن أم بكر بنت المسور بن مخرمة، عن أبيها:  حضرت عثمان نے کہا: ابوبکر اور عمر اس مال کے معاملے میں خود پر اور اپنے رشتے داروں پر سختی کرتے تھے جبکہ میرا خیال ہے کہ اس میں صلہ رحمی سے کام لینا چاہیے۔

2.          حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن عبد الله بن جعفر، حدثني محمد بن عبد الله عن الزهري:  حضرت عثمان چھ سال تک محبوب ترین شخصیت رہے۔ پھر انہوں نے اپنے رشتے داروں کو عہدے دیے، مروان کو افریقہ کا خمس دیا اور اپنے رشتے داروں کو مال دیا اور اسے صلہ رحمی قرار دیا۔  انہوں نے انہیں بیت المال سے قرضے دیے، اس پر لوگوں نے ان پر تنقید کی۔

3.          حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن محمد بن عبد الله الزهري:  حضرت عثمان گھوڑوں کی زکوۃ میں سے کچھ لے لیا کرتے تھے۔

4.          حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن أسامة بن زيد بن أسلم، عن نافع مولى الزبير، عن عبد الله بن الزبير:  حضرت عثمان نے مروان بن حکم کو غنیمت کا پانچواں حصہ دیا۔

5.          حدثني عباس بن هشام الكلبي، عن أبيه، عن لوط بن يحيي أبي مخنف عمن حدثه:  ابو مخنف نے کسی شخص سے یہ روایت کیا ہے کہ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح ، حضرت عثمان کے رضاعی بھائی اور مغرب کے گورنر تھے۔ انہوں نے 27 ہجری میں افریقہ میں جہاد کیا اور مروان بن حکم ان کے ساتھ تھے۔ مروان نے ایک لاکھ یا دو لاکھ دینار میں غنیمت کا پانچواں حصہ خرید لیا۔ انہوں نے حضرت عثمان سے بات کی تو انہوں نے یہ انہیں تحفے میں دے دیا۔ اس پر لوگوں نے آپ پر تنقید کی۔

6.          حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن عبد الله بن جعفر، عن أم بكر بنت المسور بن مخرمة:  مروان نے مدینہ میں گھر بنایا اور لوگوں کی دعوت کی اور کہا: "واللہ اس گھر کی تعمیر میں میں نے مسلمانوں کے مال میں سے ایک درہم بھی خرچ نہیں کیا۔ " اس پر مسور نے کہا: اگر آپ کھانا کھائیں اور چپ رہیں تو یہ آپ کے لیے بہتر ہو گا۔ آپ نے ہمارے ساتھ افریقہ میں جہاد کیا اور آپ کے پاس مال، لونڈی غلام اور ساتھی سب  سے کم تھے۔ پھر ابن عفان نے آپ کو افریقہ کا خمس دیا اور آپ کو صدقات پر مقرر کیا تو آپ نے مسلمانوں کے مال سے لے لیا۔ "

7.          حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن عبد الله بن جعفر، عن أم بكر بنت المسور بن مخرمة، عن أبيها:  حضرت عثمان کے پاس اونٹوں کے صدقات آئے تو انہوں نے اسے حارث بن حکم بن ابی العاص کو تحفے میں دے دیا۔

8.          حدثني محمد بن حاتم بن ميمون، حدثنا الحجاج الأعور، عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس:  حضرت عثمان نے حکم بن ابی العاص کو قضاعہ سے صدقات وصول کرنے بھیجا جو کہ تین لاکھ درہم کی رقم دی۔ جب وہ لے کر آئے تو حضرت عثمان نے یہ رقم انہی کو دے دی۔

9.          قال أبو مخنف والواقدي في روايتهما:  حضرت عثمان نے سعید بن عاص کو کو ایک لاکھ درہم دیے تو علی، زبیر، طلحہ، سعد اور عبد الرحمن بن عوف نے ان پر تنقید کی۔

10.   حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن ابن أبي سبرة، عن أشياخه، قالوا:  ابن ابی سبرہ نے اپنے استادوں سے روایت کی اور انہوں نے کہا: جب بارش ہوئی تو حضرت عثمان نے  کچھ لوگوں کو صدقات وصول کرنے بھیجا۔ انہوں نے ذمہ داری ان لوگوں کو تفویض کی اور انہوں نے اپنی حدود سے تجاوز کیا۔ اس پر نہ تو آپ نے انہیں تبدیل کیا اور نہ ہی ان سے باز پرس کی۔ اس پر لوگوں کو آپ کے خلاف جرأت ہوئی اور انہوں نے ان عہدے داروں کے کام کو آپ سے منسوب کیا۔

11.   حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن زيد بن السائب، عن خالد مولى أبان بن عثمان:  مروان نے تیس اونٹ مدینہ میں بیچے تو اعلان کروایا کہ امیر المومنین انہیں خریدنا چاہتے ہیں جبکہ حضرت عثمان انہیں خریدنا نہیں چاہتے تھے۔

12.   حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن عيسى بن عبد الرحمن، عن أبي إسحاق الهمداني:  حضرت علی نے حضرت عثمان سے شکایت کی کہ آپ کو حضرت عمر نے کہا تھا کہ بنو امیہ اور بنو ابو معیط کو لوگوں کی گردنوں پر سوار نہ کیجیے گا۔

13.   قال أبو مخنف في إسنادة:  حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت کو ایک لاکھ درہم دیے تو اسلم بن اوس ، جس نے حضرت عثمان کو بقیع میں دفن ہونے سے روکا تھا، نے یہ اشعار پڑھے: "۔۔۔ انہوں نے مروان کو ظالمانہ طور پر خمس دیا۔"[2]

14.   ذكر محمد بن عمر (الواقدي) أن عبد الله بن جعفر حدثه عن أم بكر بنت المسور بن مخرمة، عن أبيها: حضرت عثمان نے حکم بن ابی العاص کو صدقات کے اونٹ دیے۔ جب یہ بات حضرت عبد الرحمن بن عوف تک پہنچی تو انہوں نے یہ واپس لے کر لوگوں میں تقسیم  کر دیے۔ [3]

آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ 14میں سے 13روایتیں  یا تو محمد بن عمر الواقدی کی روایت کردہ ہیں یا پھر ابو مخنف کی۔ ان دونوں حضرات کے بارے میں ہم اس کتاب میں جگہ جگہ بیان کر چکے ہیں کہ یہ کسی درجے میں قابل اعتماد راوی نہیں ہیں۔  روایت نمبر 8 میں البتہ سند میں نہ تو واقدی ہیں اور نہ ابو مخنف۔ اس کی سند میں محمد بن حاتم بن میمون (d. 235/850)ہیں جن کے قابل اعتماد ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔  یحیی بن معین اور ابن المدینی نے انہیں کذاب قرار دیا ہے۔ [4]دوسرے راوی حجاج الاعور ہیں جن کا پورا نام حجاج بن علی ہے۔ ان صاحب کے حالات نامعلوم ہیں البتہ یہ معلوم ہے کہ یہ ابو مخنف کے استاذ تھے۔ [5]

ابن سعد کی طبقات میں ان میں سے صرف دو روایتیں نقل ہوئی ہیں اور دونوں کی دونوں واقدی سے مروی ہیں۔ طبری میں اس سلسلے میں صرف ایک ہی روایت ہے  جو کہ واقدی سے مروی ہے۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے کی تمام روایات کا کُھرا (Trail) واقدی یا ابو مخنف ہی پر جا کر ختم ہوتا ہے۔

کیا افریقہ کے خمس میں سے ابن ابی سرح اور مروان کو کچھ دیا گیا؟

اس ضمن میں دو روایتیں  ایسی ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔ ایک تو وہی روایت جس کا ذکر اوپر ہوا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو افریقہ کے مال غنیمت کے خمس کا خمس عطا کیا تھا۔ دوسری روایت کے مطابق یہ خمس مروان بن حکم کو دے دیا تھا۔

ان روایات کی وضاحت سے پہلے مناسب یہ ہوگا کہ خمس کا قاعدہ بیان کر دیا جائے۔ قرآن مجید کا اس معاملے میں حکم یہ ہے:

وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِنْ كُنتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ.

اگر آپ اللہ پر ایمان رکھتے ہوں تو جان لیجیے کہ جو کوئی چیز آپ کو مال غنیمت میں ملے، اس کا پانچواں حصہ (1/5) اللہ، اس کے رسول، آپ کے رشتے داروں، یتیموں، مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔(الانفال 8:41)

چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت اور حکومت کی ذمہ داریوں سے اتنا وقت نہیں ملتا تھا کہ آپ اپنے معاش کا انتظام کر لیں، اس وجہ سے یہ قانون بن گیا کہ جنگوں کےد وران مسلمانوں کو دشمن افواج سے جو مال غنیمت ملے، اس کا 4/5 فوج میں تقسیم کر دیا جائے اور اس کا خمس یعنی 1/5 مرکزی حکومت کو بھیجا جائے۔ اس  خمس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل و عیال ،یتیموں، مساکین اور مسافروں پر خرچ فرماتے۔ آپ کے اہل و عیال کو بھی اس میں سے جو کچھ ملتا، وہ بھی اس کا بیشتر حصہ  اپنی ضروریات کی بجائے انہی یتیموں اور مساکین پر خرچ کرتے۔  اس خمس کا خمس یعنی 1/25 حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا  ذاتی فنڈ قرار پایا جسے آپ اللہ تعالی کی ہدایت کے مطابق خرچ کرتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہی خمس مرکزی حکومت کو ملنے لگا جس کی حیثیت ایک Benevolent Fund کی ہو گئی۔ چونکہ اب قیصر و کسری کے خزانے فتح ہو رہے تھے، اس وجہ سے خمس کی مقدار بھی بہت زیادہ ہونے لگی اور اسے مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جانے لگا۔امام شافعی نے کتاب الام میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خمس کے خرچ کا طریقہ یہ طے فرمایا کہ اس خمس کا خمس  یعنی 1/25 حصہ حکمران کا صوابدیدی  فنڈ ہو گا۔[6] خمس کے بقیہ چار حصے یتیموں، مساکین اور دیگر کمزور طبقات پر خرچ ہونے لگے۔  اس طرح سے مال غنیمت میں دشمن افواج سے جو بھی اموال ملتے، ان کا 24/25 مسلمانوں پر تقسیم ہو جاتا اور 1/25 خلیفہ کے حصے میں آتا۔ اس رقم کو بھی خلفاء بالعموم امت کے مفاد میں خرچ کرتے تھے اور کبھی اس ضمن میں بعض کمانڈروں کو بطور incentive انعام دے دیا کرتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ incentive دیا تھا کہ اگر وہ لیبیا  اور تیونس کے علاقے کو فتح کر لیں تو مال غنیمت کا 1/25 حصہ انہیں ملے گا۔ انہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ مہم سر کر لی جس میں بے پناہ مال غنیمت ملا۔ کمانڈر عبداللہ اس 1/25 کے حقدار ٹھہرے جو کہ ایک لاکھ درہم کےقریب بنتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ رقم دی تو ان کی فوج  کو یہ بات پسند نہ آئی۔ فوج کے مورال کو بچانے کے لیے حضرت عثمان نے انہیں وہ رقم واپس کرنے کا حکم دیا اور پھر یہ رقم ان کی فوج پر تقسیم کر دی گئی۔ [7] حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کسی تنگ دلی کا مظاہرہ نہ کیا اور رقم واپس کرنے کے بعد بھی اسی طرح تن دہی سے اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔  اس سے ان کے خلوص نیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر دوسرا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے افریقہ کی فتوحات کا پورا خمس مروان بن حکم کو دے دیا تھا۔ یہ بھی محض ایک تہمت ہے۔  علامہ ابن خلدون (732-808/1332-1405)بیان کرتے ہیں:

ابن زبیر نے فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ مدینہ بھیجا جسے مروان نے پانچ لاکھ دینار میں خرید لیا۔ بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے مروان کو عطا کیا تھا، یہ بات درست نہیں ہے۔[8]

باغیوں کو پراپیگنڈا کے لیے بہانہ چاہیے تھا، انہوں نے مروان کی اس خریداری کو عطیہ بنا دیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کرنا شروع کر دیے۔ اگر انہیں اس کا موقع نہ بھی ملتا تب بھی انہوں نے کوئی اور اعتراض کر دینا تھا۔  اوپر بیان کردہ روایات میں آپ دیکھ ہی چکے ہیں کہ مروان کو افریقہ کا خمس دیے جانے کی روایت ابو مخنف ہی سے مروی ہے۔ یہ وہی صاحب ہیں جن کا صحابہ کرام سے بغض مشہور ہے اور یہ اسی باغی تحریک کی چوتھی نسل سے تعلق رکھتے تھے جو آپ کے خلاف اٹھی تھی۔

کیا حضرت عثمان  کا لائف اسٹائل شاہانہ تھا؟

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ وہ نرم اور عمدہ غذا کھاتے تھے جبکہ ان کے پیشرو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کھانا نہایت  سادہ ہوتا تھا۔ اس کا جواب آپ نے کیا دیا:

عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قریش کے جو لوگ بوڑھے ہو جاتے تھے، وہ نرم کھانا پسند کرتے تھے۔ ایک رات میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہایت عمدہ پکا ہوا کھانا کھایا ۔ اس سے پہلے میں نے اس سے زیادہ عمدہ کھانا نہیں کھایا تھا۔ اس میں بکری کے پیٹ کا گوشت بھی تھا اور اس کے علاوہ دودھ اور گھی بھی تھا۔ عثمان نے پوچھا: "آپ کے خیال میں یہ کھانا کیسا ہے؟" میں نے کہا: "یہ سب سے عمدہ کھانا ہے جو میں نے کھایا ہے۔" اس پر عثمان نے فرمایا: "اللہ تعالی عمر بن خطاب پر رحم کرے ، کیا آپ نے ان کے ساتھ بھی اس قسم کا کھانا کھایا تھا؟" میں نے کہا: "ہاں! مگر جب میں اپنا لقمہ منہ کی طرف لے جاتا تھا تو وہ لقمہ میرے ہاتھ سے نکل پڑتا تھا۔ اس میں نہ تو گوشت تھا اور نہ دودھ۔ سالن میں البتہ کچھ گھی ہو تا تھا۔ "

عثمان نے فرمایا: "آپ سچ کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمر نے اپنے جانشینوں کے کام کو مشکل کر دیا ہے۔ وہ اشیائے خور ونوش میں سے معمولی چیز استعمال کرتے تھے۔ مگر میں جو کھانا کھاتا ہوں، وہ مسلمانوں کے مال کو خرچ کر کے نہیں کھاتا ہوں بلکہ اپنے ذاتی مال سے کھاتا ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ میں قریش میں سب سے زیادہ مال دار تھا اور تجارت میں سب سے زیادہ محنت کرتا تھا۔ میں ہمیشہ سے اچھا کھانا کھاتا رہا ہوں اور اب تو ایسی عمر کو پہنچ گیا ہوں کہ سب سے عمدہ کھانا مجھے مرغوب ہے۔ اس معاملے میں کسی کی حق تلفی نہیں کرتا ہوں۔[9]

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  طبری۔ 3/1-396

[2]  بلاذری۔ 6/138-149

[3] طبری۔ 3/1-418

[4]  ذہبی۔ میزان الاعتدال ۔ راوی نمبر 7336۔ 6/94

[5]  ایضا۔ راوی 1475۔ 2/203

[6]  محمد بن ادریس الشافعی۔ کتاب الام۔ قسم الفئي والغنيمة، الوجه الثالث۔ نمبر 1843۔ ص 5/315۔ المنصورۃ : دار الوفا۔ www.waqfeya.com (ac. 6 Jan 2010)

[7]  طبری۔ 3/1-396

[8]  ابن خلدون۔  تاریخ۔ فتح افریقہ کا باب۔ 2/574۔ بیروت: دار الفکر 2000۔

[9]  طبری۔ 3/1-459