بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 4: عہد عثمانی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اکابر صحابہ کا عدم اطمینان

باغی راویوں نے اپنی روایتوں میں کوشش کی ہے کہ ایسا تاثر پیش کیا جائے جس سے ظاہر ہو کہ اکابر صحابہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پالیسیوں سے خوش نہ تھے۔ ایسا کر کے وہ اپنی بغاوت کو جسٹی فائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  ایسی متعدد روایات تاریخ کی اولین کتب میں بیان ہوئی ہیں۔ ہمیں ایسی 19 روایتیں مل سکی ہیں جن کا تجزیہ جدول میں پیش کیا جا رہا ہے۔

طبری میں ایسی روایات بھری ہوئی ہیں جن کے مطابق جب باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو اکابر صحابہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دفاع کیا۔  انہوں نے باغیوں کے الزامات کے جواب دیے اور حضرت عثمان کی سکیورٹی  کے لیے اپنے جواں سال بیٹوں کی جان خطرے میں ڈالی۔ ان میں سب سے نمایاں حضرت علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم تھے۔  پھر جب آپ کو شہید کر دیا گیا تو انہی صحابہ نے قاتلین کے خلاف زبردست رد عمل ظاہر کیا۔ اگر اکابر صحابہ مطمئن نہ ہوتے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ایسا زبردست رد عمل ظاہر نہ کرتے۔ تمام اکابر صحابہ نہ صرف حضرت عثمان سے مطمئن تھے بلکہ ان کی پالیسی سازی میں خود بھی شریک تھے۔ یہاں ہم چند صحابہ کے ارشادات کو نقل کر رہے ہیں جس سے ان کی رائے کا اندازہ ہوتا ہے۔

تاریخ کی کتاب

ناراضی سے متعلق روایات

ناقابل اعتماد روایات کی تعداد

ناقابل اعتماد راویوں کے  نام اور ان کی بیان کردہ روایات

بقیہ روایات

ابن سعد (168-230/784-845)

1

1

قنافہ عقیلی: 1

-

بلاذری (d. 279/893)

16

16

واقدی: 8۔ ابو مخنف: 4۔ ہشام کلبی: 1۔ بہز بن اسد: 2۔ نامعلوم: 1

-

طبری (224-310/838-922)

2

2

واقدی: 1۔ سیف بن عمر: 1

-

ٹوٹل

19

19

19

-

طبری نے مختلف جلیل القدر صحابہ کے الفاظ نقل کیے ہیں جو انہوں  نے خلیفہ مظلوم کی شہادت کی اطلاع سننے پر کہے۔  حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا:

"اللہ عثمان پر رحم کرے اور ہمیں خیر و عافیت عطا فرمائے۔ " کچھ لوگوں نے عرض کیا: " اب یہ (باغی) لوگ پریشان ہو رہے ہیں۔ " اس پر آپ نے یہ آیت پڑھی: "یہ لوگ شیطان کی طرح ہیں کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر اختیار کر لو۔ پھر جب و ہ کافر بن جاتا ہے تو شیطان کہتا ہے: میں تم سے بری الذمہ ہوں، میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔"[1]

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

"انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ عثمان پر رحم کرے اور ان کا مددگار رہے۔ " لوگوں نے بتایا: "یہ لوگ اب پریشان ہو رہے ہیں۔" فرمایا: "انہوں نے سازش کی اور جو وہ چاہتے تھے، وہ پورا نہیں ہو سکا۔ ان کے لیے ہلاکت ہے۔ " پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔"وہ نہ وصیت کر سکتے ہیں اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔"[2]

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا:

یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوششیں دنیاوی زندگی میں اکارت گئیں۔ حالانکہ وہ سمجھتے تھے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔" پھر فرمایا: "اے اللہ! انہیں اپنے کاموں میں پریشان کر کے رکھ دے اور پھر انہیں اپنی گرفت میں لے لے۔"[3]

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

لوگ عثمان پر تہمتیں لگاتے تھے اور ان کے گورنروں کو مجرم قرار دیتے تھے۔ یہ لوگ مدینہ ہمارے پاس آتے اور عمال  کے حالات بیان کر کے ہم سے مشورہ طلب کرتے۔ ان کی ظاہری گفتگو سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ یہ اصلاح کے طلب گار اور نیک لوگ ہیں۔ لیکن جب ہم حالات کی چھان بین کرتے تو ہمیں عثمان نہایت متقی اور ان الزامات سے بری نظر آتے۔ وہ لوگ، جو ان کی شکایات کرتے تھے، وہ تقوی کے بھیس میں فاجر اور کذاب نظر آتے۔ ان کا ظاہر کچھ ہوتا اور باطن کچھ اور۔ان لوگوں نے جب اس دھوکہ اور فریب سے قوت مہیا کر لی تو مدینہ پہنچ کر عثمان کو ان کے گھر میں محصور کر لیا اور انہیں شہید کر کے ایک حرام خون کو حلال کر لیا۔ پھر انہوں نے اس مال کو لوٹا جس کا لینا حرام تھا اور بغیر کسی جواز کے مدینۃ الرسول کی بے حرمتی کی۔ وہ جس چیز کے طلب گار ہیں، وہ آپ لوگوں کے لیے مناسب نہیں۔ آپ کو چاہیے کہ آپ قاتلین عثمان سے قصاص لیجیے اور  اللہ عزوجل کے حکم کو قائم کیجیے۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: أَلَمْ تَرَى إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنْ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ "کیا آپ ان لوگوں کو، جنہیں کتاب دی گئی تھی، نہیں دیکھتے  کہ جب انہیں کتاب اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ کتاب اللہ کے مطابق ان کا فیصلہ کیا جائے تو ان میں سے ایک گروہ منہ پھیر کر اور اعراض کر کے چل دیتا ہے۔" (آل عمران 3:23) [4]

اب ہم ان چند روایات کو پیش کر رہے ہیں جن سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اکابر صحابہ ، حضرت عثمان کی پالیسیوں سے مطمئن نہ تھے۔ اس کے ساتھ ہی ہم ان روایتوں کا روایت اور درایت کے اصولوں (Source and Internal Criticism) کے تحت جائزہ لیں گے۔

کیا حضرت عمر کو اپنے بعد کوئی خدشہ تھا؟

بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خدشہ تھا کہ آپ کے بعد قبائلی عصبیتیں نہ اٹھ کھڑی ہوں۔ اس وجہ سے آپ خاص کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں محتاط تھے۔ اس ضمن میں وہ ایک من گھڑت روایت پیش کرتے ہیں جسے بلاذری نے نقل کیا ہے اور وہیں سے یہ آگے پھیلی ہے۔  اس کے بعد ابن عبد البر نے "الاستیعاب" میں اسے اس طرح بیان کیا ہے کہ اس میں  کسی راوی نے خاصا مرچ مصالحہ لگا دیا ہے۔ ابن عبد البر کی روایت کچھ یوں ہے:

حدثنا عبد الوارث بن سفيان قراءة منى عليه من كتابى وهو ينظر فى كتابه قال، حدثنا أبو محمد قاسم بن أصبغ، حدثنا أبو عبيد بن عبد الواحد البزار، حدثنا محمد بن أحمد بن ايوب، قال قاسم وحدثنا محمد بن إسماعيل بن سالم الصائغ حدثنا سليمان بن داود قالا حدثنا إبراهيم بن سعد حدثنا محمد بن إسحاق عن الزهرى عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، آپ کہتے ہیں: میں ایک حضرت عمر کے ساتھ چلا جا رہا تھا کہ آپ نے ایک گہری سانس لی اور مجھے ایسا لگا کہ کہیں آپ کی پسلیاں نہ چٹخ گئی ہوں۔ میں نے کہا: "سبحان اللہ! امیر المومنین! بخدا یہ تو کوئی بڑی بات ہے جس کے سبب آپ نے ایسی سانس بھری ہے۔" وہ بولے: "افسوس! ابن عباس! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کروں۔ " میں نے عرض کی: "یہ کیا بات ہوئی؟ آپ کو اختیار حاصل ہے کہ کسی قابل اعتماد شخص کو اس (خلافت) کے لیے نامزد کر دیں۔" فرمایا: "آپ مجھے یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے صاحب یعنی علی رضی اللہ عنہ سب لوگوں سے زیادہ اس کے مستحق ہیں۔" میں نے کہا: "جی ہاں! میں یہ ان کی  اسلام میں سبقت، ان کے علم، ان کی قرابت اور ان کی دامادی کے سبب کہتا ہوں۔" فرمایا: "ہاں، وہ ایسے ہی ہیں لیکن ان میں ظرافت بہت ہے۔"

میں نے عرض کیا: "عثمان کے بارے میں خیال ہے؟" فرمایا: "واللہ! اگر میں نے انہیں نامزد کر دیا تو وہ ابو معیط کی اولاد کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط کر دیں گے کہ وہ ان کے معاملے میں اللہ  کی نافرمانی کریں۔ واللہ! اگر میں نے ایسا کیا تو وہ یہی کام کریں گے۔ پھر لوگ ان پر پل پڑیں گے اور انہیں قتل کر دیں گے۔"

میں نے کہا: "طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟" فرمایا: "ارے وہ خود پرست! اس (خلافت) کا مقام ان سے کہیں ارفع ہے، خدا نہ کرے کہ امت محمدی کے معاملات میں ان جیسے مغرور شخص کے سپرد کروں۔"

میں نے کہا: "زبیر بن عوام ؟" کہنے لگے: "وہ تو لوگوں کو صاع (پیمانوں) سے ناپ ناپ کر دیں گے۔"

میں نے کہا: "سعد بن ابی وقاص کے بارے میں کیا خیال ہے؟" فرمایا: "وہ اس کام کے نہیں، وہ تو بس اس کام کے ہیں کہ سواروں کا دستہ لے کر جنگ کریں۔"

میں نے کہا: "اور عبدالرحمن بن عوف؟" فرمایا: "آدمی اچھے ہیں مگر یہ کام ان کے بس کا نہیں۔ واللہ! ابن عباس! اس کام (خلافت) کے لائق تو بس وہ ہے جو طاقتور ہو مگر تند خو نہ ہو۔ نرم رو ہو مگر کمزور نہ ہو۔ سخی ہو مگر اسراف نہ کرتا ہو۔ کنٹرول کرنا جانتا ہو مگر بخل کے بغیر۔ " ابن عباس کہتے ہیں: "واللہ عمر ایسے ہی تھے۔"[5]

اس روایت کی سند اور متن دونوں ہی میں مسائل ہیں۔  روایت کا لفظ لفظ پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس کا گھڑنے والا سوائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے، شوری کے بقیہ تمام صحابہ سے شدید بغض رکھتا ہے۔  اس وجہ سے اس نے اپنے بغض کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے ادا کروانے کی کوشش کی ہے۔ حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے چونکہ باغی تحریک کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی، اس وجہ سے ان کے بارے میں خاص بغض اس روایت کے الفاظ میں ٹپک رہا ہے۔

متن کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ روایت، ان روایتوں کے بالکل مخالف تصویر پیش کرتی ہے جن کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شوری کو متعین کرتے ہوئے فرمایا تھا:

آپ کے سامنے وہ جماعت ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے۔ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بھی انہی میں سے ہیں مگر میں انہیں اس شوری میں شامل نہیں کروں گا۔ ان لوگوں میں سے علی اور عثمان تو بنو عبد مناف  میں سے ہیں (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں۔) عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں ہیں۔ زبیر بن عوام آپ کے حواری  اور پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ اور انہی میں طلحۃ الخیر بن عبیداللہ بھی ہیں۔ [6]

راوی نے اس روایت کو گھڑتے ہوئے حضرت عثمان کے بارے میں حضرت عمر کے جو الفاظ نقل کیے ہیں، ان سے خود اس کی تردید ہو جاتی ہے۔ الفاظ یہ ہیں: " واللہ! اگر میں نے انہیں نامزد کر دیا تو وہ ابو معیط کی اولاد کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط کر دیں گے کہ وہ ان کے معاملے میں اللہ  کی نافرمانی کریں۔ واللہ! اگر میں نے ایسا کیا تو وہ یہی کام کریں گے۔ پھر لوگ ان پر پل پڑیں گے اور انہیں قتل کر دیں گے۔" اب  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عثمان نے تو ابو معیط کی اولاد میں سے کسی کو کوئی عہدہ نہیں دیا۔ صرف ایک ولید بن عقبہ بن ابی معیط تھے جن کی تقرری خود حضرت عمر نے کی تھی، نہ کہ حضرت عثمان نے۔ ان کے علاوہ حضرت عثمان نے ابو معیط کے کسی بیٹے یا پوتے کو کوئی عہدہ نہیں دیا۔ رضی اللہ عنہم

اب ہم سند کو دیکھتے ہیں۔ ابن عبد البر (368-463/979-1071)نے اس کی یہ سند بیان کی ہے: حدثنا عبد الوارث بن سفيان قراءة منى عليه من كتابى وهو ينظر فى كتابه قال، حدثنا أبو محمد قاسم بن أصبغ، حدثنا أبو عبيد بن عبد الواحد البزار، حدثنا محمد بن أحمد بن ايوب، قال قاسم وحدثنا محمد بن إسماعيل بن سالم الصائغ حدثنا سليمان بن داود قالا حدثنا إبراهيم بن سعد حدثنا محمد بن إسحاق عن الزهرى عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس۔

1۔ عبدالوارث بن سفیان جن سے ابن عبد البر نے روایت کی ہے، کے حالات نامعلوم ہیں اور یہ معلوم نہیں کہ وہ قابل اعتماد ہیں یا نہیں۔

2۔ سلیمان بن داؤد نام کے بہت سے راوی ہیں جن میں سوائے ایک کے سبھی ضعیف ہیں۔  میزان الاعتدال میں اس نام کے آٹھ راویوں کا ذکر ملتا ہے جو کہ نمبر 3451-3458 پر درج کیے گئے ہیں۔ ان میں سے پہلے سلیمان بن داؤد خولانی ہیں جو کہ ضعیف ہیں۔ دوسرے سلیمان بن داؤد الیمامی ہیں اور وہ بھی ضعیف اور متروک ہیں۔ تیسرے ابو داؤد سلیمان بن داؤد طیالسی (d. 204/819) ہیں جو کہ ثقہ ہیں لیکن بکثرت غلطیاں کرتے ہیں۔ چوتھے سلیمان بن داؤد المنقری الشاذکونی (d. 234/848) ہیں جو کہ نہایت ہی ضعیف اور متروک الحدیث ہیں اور ان پر جھوٹ گھڑنے کا الزام بھی ہے۔ پانچویں سلیمان بن داؤد القرشی ہیں جن کے احوال کا علم نہیں ہے۔ چھٹے سلیمان بن داؤد الجزری ہیں جو کہ  متروک ہیں۔ ساتویں سلیمان بن داؤد بن قیس المدنی ہیں جن کے ثقہ ہونے پر تنقید کی گئی ہے۔ آٹھویں سلیمان بن داؤد مولی یحیی بن معمر ہیں جن کے حالات معلوم نہیں ہو سکے۔

اس میں سے سب سے زیادہ چانسز اس بات کے ہیں اس روایت کے اصل راوی الشاذکونی ہیں جو کہ سخت ضعیف ہیں اور ان پر جھوٹ گھڑنے کا الزام ہے۔

3۔روایت کی سند میں محمد بن احمد بن ایوب ہیں۔ اس نام  کے کسی راوی کا ذکر رجال کے انسائیکلو پیڈیاز میں نہیں ملتا۔ میزان الاعتدال میں محمد بن احمد نام کے ساٹھ راویوں کا ذکرملتا ہے جو کہ نمبر 7139-7198 تک ہیں مگر اس میں محمد بن احمد بن ایوب نہیں ہیں۔ ا س وجہ سے ان کے قابل اعتماد ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایک اور صاحب احمد بن محمد بن ایوب  ضرور ہیں جنہیں متروک اور کذاب قرار دیا گیا ہے۔ ان کا ذکر نمبر 535 پر موجود ہے۔  ممکن ہے کہ کسی کاتب نے احمد بن محمد بن ایوب کی جگہ محمد بن احمد بن ایوب لکھ دیا ہو۔

بلاذری نے اس کی سند یوں بیان کی ہے: حدثنا محمد بن سعد، حدثنا الواقدي، عن محمد بن عبيد الله الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس: اس سند میں  پہلے واقدی ہیں جن کا کذاب ہونا مشہور ہے۔ دوسرے راوی محمد بن عبید اللہ الزہری ہیں  جنہیں ابو حاتم نے منکر الحدیث قرار دیا ہے۔ یحیی بن معین کہتے ہیں کہ ان کی حدیث کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ابن عدی کا کہنا ہے کہ وہ کوفہ کی باغی پارٹی کے ممبر تھے۔[7] اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کی کوئی سند بھی قابل اعتماد نہیں ہے۔

کیا حضرت علی، حضرت عثمان کی پالیسیوں سے مطمئن تھے ؟

طبری نے ایسی چند روایتیں نقل کی ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت علی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی پالیسیوں سے مطمئن نہ تھے۔  جب باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو اس موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں:

قال محمد بن عمر: وحدثني عبد الله بن محمد، عن أبيه: "میں بار بار آپ کو مشورہ دیتا رہا ہوں اور ہر موقع پر ہماری گفتگو ہوتی رہی ہے۔ ہر موقع پر آپ مروان بن حکم، سعید بن عاص، ابن عامر اور معاویہ کے مشوروں پر عمل کرتے رہے اور میرے مشورے کی مخالفت کرتے رہے۔" عثمان نے فرمایا: "اب میں آپ کی ہر بات مانوں گا اور ان کی بات کو تسلیم نہیں کروں گا۔"۔۔۔ کیا آپ مروان سے مطمئن ہیں؟ وہ آپ کی عقل اور دین کو خراب کر کے چھوڑے گا۔ اس کے سامنے آپ ایک سواری کے اونٹ کی طرح ہیں ، وہ جس طرف چاہتا ہے، آپ کو ہنکا دیتا ہے۔ بخدا! مروان عقل مند اور دیندار نہیں ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ آپ کو ہلاکت کی طرف لے جائے گا۔ جہاں سے آپ نکل نہیں سکیں گے۔ اب میں اس کے بعد آپ کو مشورہ دینے کے لیے کبھی نہیں آؤں گا کیونکہ آپ مغلوب اور لاچار ہو گئے ہیں۔ [8]

یہ باتیں جن روایتوں میں نقل ہوئی ہیں، وہ سب کی سب محمد بن عمر الواقدی کی روایت کردہ ہیں  اور واقدی کی کی کذب بیانی اور جھوٹ پر محدثین کی آراء ہم نقل کر چکے ہیں۔ واقدی  کا معاملہ یہ تھا کہ یہ صاحب ہر طرح کی رطب و یابس روایات اکٹھی کر کے ان سے ایک کہانی بناتے اور بیان کر دیتے تھے۔ عین ممکن ہے کہ باغی راویوں کی روایتوں کو بھی واقدی نے اسی طرح سے درج کر دیا ہو۔  واقدی اس روایت کو عبداللہ بن محمد سے روایت کر رہے ہیں۔ غالب گمان یہی ہے کہ یہ عبداللہ، حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کے پوتے ہیں اور انہیں ماہرین جرح و تعدیل جیسے ابن المدینی، ابو حاتم اور ابن خزیمہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابن حبان کہتے ہیں کہ ان کا حافظہ کمزور تھا۔ [9]

درایت کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو حضرت علی، اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہما سے مطمئن نہ ہوتے تو ان کی حفاظت کے لیے اس درجے میں بے چین کیسے ہوتے کہ اپنے جواں سال بیٹوں کو انتہائی خطرے کی حالت میں خلیفہ کی حفاظت پر مامور کرتے۔

کیا حضرت طلحہ، حضرت عثمان کی پالیسیوں سے مطمئن تھے ؟

بعض تاریخی روایتوں میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حفاظت نہیں کی بلکہ درپردہ باغیوں کی مدد کی۔ ہمارے نزدیک یہ باتیں اس ڈس انفارمیشن کا حصہ ہیں جو باغی تحریک نے پھیلائیں اور حضرت علی اور طلحہ رضی اللہ عنہما پر الزامات عائد کیے۔ جیسا کہ آپ اوپر پڑھ چکے ہیں کہ باغی چاہتے تھے کہ جب وہ حضرت عثمان کو شہید کریں تو اس کا الزام حضرت علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم پر آ جائے۔ اس طرح مقصد باغیوں کا پورا ہو اور بدنامی ان حضرات کے حصے میں آئے۔

اس الزام کی تردید اس بات سے ہو جاتی ہے کہ حضرت طلحہ نے حضرت عثمان کی حفاظت پر اپنے جواں سال بیٹے محمد بن طلحہ کو مامور کیا جو اپنے ساتھی حسن، حسین اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کے ساتھ خلیفہ کے گھر کا پہرہ دیتے رہے۔ شہادت عثمان کے بعد اس باغی تحریک کے خلاف  حضرت طلحہ نے زبردست تحریک پیدا کی اور جنگ جمل میں انہی باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے انہوں نے اپنی اور اپنے بیٹے کی جان کا نذرانہ  پیش کیا اور اپنی شہادت سے پہلے یہ تاریخی الفاظ کہے: "اے اللہ! میری جان کا بدلہ عثمان کو دے دیجیے تاکہ وہ خوش ہو جائیں۔" [10] حضرت طلحہ کے بیٹے محمد بن طلحہ بھی اسی جنگ میں اپنے والد کے ساتھ شہید ہوئے۔ جو شخص حضرت عثمان کے لیے اپنی اور اپنی اولاد کی جان پیش کر دے ، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ معاذ اللہ باغیوں کے مدد گار تھے، ایک نہایت ہی لایعنی بات ہے۔

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کتب تاریخ میں جو روایات آئی ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے:

1۔ سب سے مشہور روایت وہ ہے جو بلاذری نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل کی ہے اور اسی کو دیگر مورخین نے بھی درج کیا ہے۔ یہ ایک طویل روایت ہے جس میں انہوں نے نہایت تفصیل سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تفصیلات بیان کی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اکابر صحابہ، جن میں حضرت علی، طلحہ ، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم شامل ہیں، کی ان غیر معمولی کاوشوں کا ذکر ہے جو انہوں نے خلیفہ کے دفاع میں کیں۔ اس روایت میں بعض جملے ایسے ہیں  جن سے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلط تاثر  دیا گیا ہے کہ وہ حضرت عثمان کے خلاف تھے اور انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی مجبوراً ہی آپ کی حفاظت پر مامور کیا تھا۔  اس روایت کی سند کو دیکھیے تو وہ یہ ہے: هشام بن عمار الدمشقي، محمد بن عيسى بن سميع، محمد بن أبي ذئب، الزهري، سعيد بن المسيب۔[11] اس روایت کے بارے میں مشہور محدث ابن عدی کا تبصرہ  ہم یہاں درج کر رہے ہیں:

ابن عدی کہتے ہیں: (محمد بن عیسی بن سمیع ) سے روایت کرنے میں حرج نہیں ہے البتہ حضرت عثمان کی شہادت کی روایت میں ان پر تنقید کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ روایت دراصل اسماعیل بن یحیی بن عبید اللہ سے لی ہے جو کہ ضعیف راویوں میں  سے ایک ہیں اور اسے ابن ابی ذئب کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ اس طرح انہوں نے تدلیس (کمزور راوی کا نام چھپانا اور یہ امپریشن دینا کہ روایت قابل اعتماد ہے) سے کام لیتے ہوئے اسماعیل کو حذف کر کے اسے ابن ابی ذئب سے منسوب کر دیا ہے۔

صالح جزرہ کہتے ہیں: ہشام بن عمار نے ابن سمیع اور ابن ابی ذئب کے توسط سے حضرت عثمان کی شہادت کا واقعہ بیان کیا۔ میں نے ہر طریقے سے یہ کوشش کر لی کہ وہ "حدثنا ابن ابی ذئب"  کا لفظ استعمال کریں لیکن انہوں نے انکار کیا اور محض "عن" کا لفظ ہی کہتے رہے۔  [لفظ 'عن' ایک ذو معنی لفظ ہے جس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ایک راوی نے اپنے استاذ سے روایت بذات خود حاصل کی ہے یا کسی کے توسط سے اس تک یہ پہنچی ہے۔ اس کے برعکس لفظ 'حدثنا' ایک متعین لفظ ہے جو صرف اسی صورت میں بولا جاتا ہے جب راوی اپنے استاذ سے براہ راست اس حدیث کو سنے۔]

صالح بن محمد کہتے ہیں: مجھے محمد بن عیسی کے نواسے محمود نے بتایا کہ میرے نانا کی کتاب میں یہ روایت اسماعیل بن یحیی کی وساطت سے ابن ابی ذئب سے مروی ہے۔ صالح کہتے ہیں کہ اسماعیل روایتیں گھڑتے تھے ۔ جب یہ بات میں نے محمد بن یحیی الذہلی کو بتائی تو وہ بولے: "اللہ ہی ہے جو مدد فرمائے۔" [12]

واضح رہے کہ اسماعیل بن یحیی بن عبید اللہ کے بارے میں تمام ماہرین جرح و تعدیل متفق ہیں کہ یہ صاحب جھوٹے ترین راویوں میں سے ایک تھے۔ [13] اس روایت میں انہوں نے یہ کوشش کی ہے کہ دفاع عثمان میں حضرت طلحہ، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم کے کردار کو  کم سے کم سطح پر پیش کیا جائے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کردار کو نمایاں کیا جائے۔

2۔ بلاذری نے دوسری روایت ابو مخنف کے حوالے سے بیان کی ہے جس کے مطابق معاذ اللہ حضرت طلحہ نے تو حضرت عثمان  رضی اللہ عنہما کا پانی بند کر دیا تھا۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت غضب ناک ہوئے اور انہوں نے خود پانی پہنچوایا۔ [14] ایک اور روایت میں حضرت طلحہ کی حضرت عثمان سے معذرت نقل کی گئی ہے  اور جواب میں حضرت عثمان کی شکایت نقل کی گئی ہے کہ جناب آپ نے میرے خلاف بغاوت کی آگ بھڑکائی اور اب خود ہی اس پر معذرت کر رہے ہیں۔ [15] ان دونوں روایتوں کی جو سند بلاذری نے بیان کی ہے وہ یہ ہے: وقال أبو مخنف وغيره۔  ہمارے خیال میں اس سند پر تبصرے کی ضرورت نہیں ہے کہ ابو مخنف کا صحابہ کرام سے بغض معروف ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے قاتلین عثمان سے قصاص کی تحریک چلائی تو ان لوگوں نے خاص طور پر  آپ کو بدنام کرنے کی کوشش کی کہ ان حضرت نے خود ہی بغاوت برپا کی اور اب خود ہی قصاص کے دعوے دار بن گئے ہیں۔

3۔ تیسری روایت ایک طویل قصہ ہے جو ابن شہاب الزہری (58-124/677-741) سے مروی ہے۔ اس میں شہادت عثمان کا پورا قصہ تفصیل سے بیان ہوا ہے اور اس میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پانی بند کر دینے کا ذکر ہے۔ اس روایت کی سند بلاذری نے یوں بیان کی ہے: حدثني أحمد بن إبراهيم الدورقي، حدثنا وهب بن جرير بن حازم، حدثنا أبي، عن يونس بن يزيد الأيلي، عن الزهري۔  یہ سند منقطع ہے کیونکہ زہری 58/677 میں اس وقت پیدا ہوئے جب شہادت عثمان کو 23 برس گزر چکے تھے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے یہ روایت کس سے حاصل کی ہے اور وہ شخص کس درجے میں قابل اعتماد تھا۔ زہری سے اس روایت کو یونس بن یزید الایلی نے روایت کیا ہے جن کا حافظہ کمزور تھا اور انہیں احمد بن حنبل نے ضعیف قرار دیا ہے۔  [16]زہری سے جتنی منفی روایات مروی ہیں، وہ تقریباً سب کی سب ایلی ہی نے روایت کی ہیں۔

4۔ چوتھی روایت طبری نے واقدی کے حوالے سے نقل کی ہے۔  اس کے مطابق حضرت طلحہ نے معاذ اللہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کو محصور کرنے کا حکم جاری کیا اور اس پر حضرت عثمان نے ان کے خلاف بددعا کی۔  روایت کی سند یہ ہے: قال محمد (بن عمر الواقدي): وحدثني إبراهيم بن سالم، عن أبيه، عن بسر بن سعيد، قال: وحدثني عبد الله بن عياش بن أبي ربيعة۔  سند کو دیکھنے پر اس روایت کا جھوٹ واضح ہو جاتا ہے کہ اس کے مرکزی راوی واقدی ہیں۔ انہوں نے اس روایت کو ابراہیم بن سالم سے روایت کیا ہے جو کہ منکر (سخت ضعیف) روایتوں کے لیے مشہور ہیں۔ [17]

غرض یہ کہ جتنی بھی تاریخی روایتوں میں یہ ذکر ملتا ہے کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے باغیوں کا ساتھ دیا، ان سب کی سند میں کوئی نہ کوئی ایسے مشکوک راوی موجود ہیں جو جھوٹ نقل کرنے میں مشہور ہیں یا پھر ان راویوں کے نام نامعلوم ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باغیوں نے اکابر صحابہ کے خلاف ڈس انفارمیشن کی مہم چلائی تھی تاکہ خلیفہ کو شہید کرنے کا الزام ان پر آئے، یہ تاریخی روایتوں میں شامل ہو گئی۔ حضرت طلحہ، خلیفہ مظلوم کے خلاف کسی بھی اقدام سے بری تھے اور انہوں نے اپنی اور اپنے جواں سال بیٹے کی جان دے کر اس  الزام کو اپنے خون سے دھو دیا اور انہی قاتلین عثمان کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔

اگر روایتوں ہی پر اعتماد کرنا ضروری ہو تو ہم یہاں چند اور روایتیں پیش کر رہے ہیں جن میں حضرت عثمان اور حضرت طلحہ کے گہرے تعلقات نمایاں ہوتے ہیں:

وحدثني عمر، قال: حدثنا علي، عن إسحاق بن يحيى، عن موسى ابن طلحة: موسی بن طلحہ کا بیان ہے کہ حضرت طلحہ نے حضرت عثمان کے پچاس ہزار دینے تھے۔ ایک دن حضرت عثمان مسجد میں آئے تو حضرت طلحہ نے کہا: "آپ کا مال حاضر ہے، اسے لے لیجیے۔" انہوں نے جواب دیا: "ابو محمد! یہ تو آپ ہی کا مال ہے اور آپ کی مروت اور شرافت کا صلہ ہے۔ [18]

وأما سيف، فإنه روى فيما كتب به إلي السري، عن شعيب، عنه، عن أبي حارثة وأبي عثمان ومحمد وطلحة: (شہادت عثمان کے بعد ) جب آدھی رات ہوئی تو مروان، زید بن ثابت، طلحہ بن عبید اللہ، علی، حسن، کعب بن مالک اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم ان کے گھر پہنچے۔  جنازے کے مقام پر خواتین اور بچے بھی پہنچے۔ یہ سب حضرات ، عثمان کے جنازے کو لائے اور مروان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ پھر وہاں سے وہ بقیع میں انہیں لے گئے اور دفن کر دیا۔ [19]

کیا حضرت عبد الرحمن، حضرت عثمان کی پالیسیوں سے مطمئن تھے ؟

باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف جوپراپیگنڈا کیا، اس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اکابر صحابہ حضرت عثمان کی پالیسیوں سے مطمئن نہ تھے۔ اس کے لیے انہوں نے  ڈس انفارمیشن پھیلائی اور یہی باتیں روایتوں کا حصہ بن گئیں۔ اکابر محدثین نے تو ان روایتوں کا جھوٹ دیکھ کر ان سے اعتنا نہ کیا مگر محمد بن عمر الواقدی، جو خود بھی کذاب مشہور ہیں اور ہر طرح کی روایتیں بیان کرنے میں ید طولی رکھتے ہیں، نے انہیں اپنی کتابوں میں درج کر لیا اور انہی کی بدولت یہ بعد کی کتب تاریخ کا حصہ بن گئیں۔

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا تھا، کے بارے میں بلاذری نے بعض ایسی روایتیں نقل کی ہیں جن کے مطابق  حضرت عبد الرحمن، حضرت عثمان سے اس وجہ سے سخت ناراض تھے  کہ انہوں نے حضرت ابو ذر غفاری کو ربذہ بھیجا تھا۔ انہوں نے اپنے مرض الموت میں حضرت عثمان کا بھیجا ہوا پانی بھی نہیں پیا اور یہ قسم کھائی کہ وہ حضرت عثمان سے کبھی بات نہ کریں گے۔ بلاذری نے ایسی تین روایتیں نقل کی ہیں اور تینوں کا ماخذ یہی واقدی صاحب ہیں۔ اسناد یہ ہیں:

حدثني محمد بن سعد عن الواقدي عن إبراهيم بن سعد عن أبيه.

حدثني محمد بن سعد عن الواقدي عن محمد بن صالح عن عبيد بن رافع عن عثمان بن الشريد.

حدثني محمد بن سعد عن الواقدي عن محمد بن عبد الله عن أبيه عن عبد الله بن ثعلبة بن صعير.

حدثني مصعب بن عبد الله الزبيرى عن إبراهيم بن سعد عن أبيه.[20]

آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ پہلی تین روایتوں کی سند میں واقدی صاحب موجود ہیں اور یہ انہی کا پھیلایا ہوا افسانہ ہے۔  چوتھی سندمشہور نساب مصعب زبیری کی ہے مگر اس میں صرف اتنی بات ہے کہ حضرت عبد الرحمن کی نماز جنازہ حضرت سعد یا حضرت زبیر رضی اللہ عنہم نے پڑھائی۔  اس  کے علاوہ اور کوئی منفی بات اس روایت میں موجود نہیں ہے۔

عبد الرحمن کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہما سے ناراضی ایسی بات تھی جسے پورے مدینہ میں مشہور ہو جانا چاہیے تھا اور بہت سے لوگوں کو اسے بیان کرنا چاہیے تھا۔ دوسری صدی ہجری تک پہنچتے پہنچتے یہ روایت اتنی مشہور ہو جانی چاہیے تھی کہ ہر شخص کو معلوم ہوتی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے واقدی کے اور کسی کو  یہ بات معلوم نہیں ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بلاذری اس روایت کو محمد بن سعد کے توسط سے واقدی سے روایت کرتے ہیں اور ابن سعد کی اپنی کتاب "الطبقات الکبری" میں ان روایتوں کا سراغ نہیں ملتا ہے۔

اس کے برعکس ہمیں یہ روایت بھی ملتی ہے  کہ حضرت عثمان، جب حج کے لیے جایا کرتے تھے تو وہ اپنے پیچھے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما ہی کو قائم مقام خلیفہ بنا کر جاتے تھے۔ [21] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان اور عبد الرحمن رضی اللہ عنہما میں بہترین تعلقات قائم تھے۔ ممکن ہے کہ ان کے مابین کوئی چھوٹی موٹی بات ہو گئی ہو لیکن پراپیگنڈا کے ماہرین نے ایک کو دس بنا کر پیش کیا  تاکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنی مہم چلائی جائے۔

کیا حضرت عمار ، باغی تحریک میں شامل تھے ؟

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما ایک جلیل القدر صحابی ہیں اور بالکل اوائل میں اسلام لائے۔ ان کے والدین یاسر اور سمیہ رضی اللہ عنہما، اسلام کے اولین شہداء میں شمار ہوتے ہیں۔  حضرت عمار کی پوری زندگی دین اسلام کے لیے وقف رہی اور اس میں ایک بھی منفی بات نہیں ملتی ہے۔  آپ عہد صدیقی و فاروقی میں کوفہ کے گورنر رہے۔ بعض تاریخی روایات میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما پر یہ تہمت لگائی گئی ہے کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف اٹھنے والی باغی تحریک کا حصہ تھے۔ اس تہمت کی وجہ بظاہر یہ معلوم  ہوتی ہے کہ باغیوں کو اپنی تحریک کے قد و کاٹھ میں اضافہ کرنے کے لیے کچھ ایسی شخصیات درکار تھیں جن پر وہ فخر کر سکیں۔ انہیں حضرت عمار رضی اللہ عنہ اس سلسلے میں موزوں شخصیت نظر آئے اور انہوں نے ان سے متعلق روایات وضع کر کے پھیلا دیں۔

ہم نے کوشش کی ہے کہ ان تمام روایات کو جمع کیا جائے جن میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ پر یہ الزام موجود ہو اور ان روایتوں کی سند کا جائزہ لیا جائے کہ ان میں کون سے راوی موجود ہیں۔ کتب تاریخ میں ایسی کل 10روایتیں  ہمیں مل سکی  ہیں۔  ان کا تجزیہ یہ ہے:

تاریخ کی کتاب

کل روایات

ناقابل اعتماد روایات کی تعداد

ناقابل اعتماد راویوں کے  نام اور ان کی بیان کردہ روایات

بقیہ روایات

ابن سعد (168-230/784-845)

1

1

قنافہ عقیلی: 1

-

بلاذری (d. 279/893)

4

4

ابو مخنف و کلبی: 1۔ بہز بن اسد: 1۔ یونس بن یزید الایلی: 1۔ نامعلوم: 1

-

طبری (224-310/838-922)

3

3

واقدی: 1۔ سیف بن عمر: 2

-

ابن عساکر (499-571/1106-1175)

2

2

محمد بن شعیب: 1۔ مجالد: 1

-

ٹوٹل

10

10

10

-

ان میں سے چار بلاذری نے نقل کی ہیں، تین طبری نے،  ایک ابن سعد نے اور دو ابن عساکر نے۔ ان دس کی دس روایتوں کی سندمیں ایسے راوی موجود ہیں جو کہ یا تو کذاب کے درجے میں آتے ہیں، یا سخت ضعیف اور کمزور راوی ہیں اور یا پھر ان کے حالات نامعلوم ہیں۔ یہاں ہم ان تمام اسناد کو پیش کر کے ان پر اپنا تبصرہ کر رہے ہیں:

1۔ حدثنا عباس بن هشام بن محمد عن أبي مخنف في إسناده۔ [22] اس روایت کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بیت المال سے کچھ زیورات لے لیے۔ معاذ اللہ ان کی اس کرپشن پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا تو حضرت عثمان نے انہیں اتنی مار پڑوائی کہ وہ بے ہوش ہو گئے۔ اس روایت کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کی سند میں عباس بن ہشام کلبی اور ابو مخنف موجود ہیں جن کا صحابہ سے بغض معروف ہے۔ ان دونوں کے بیچ میں ایک لنک غائب ہے جو کہ یقیناً عباس کے والد ہشام کلبی ہوں گے۔

2۔ حدثنا روح بن عبد المؤمن المقرئ، وأحمد بن إبراهيم الدورقي، حدثنا بهز بن أسد، حدثنا حصين بن نمير، عن جهيم الفهري۔[23] اس روایت میں بھی حضرت عمار رضی اللہ عنہ پر تشدد کا ذکر ہے۔ اس کے راویوں میں سب سے پہلی کڑی جہیم الفہری ہیں جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ یہ کون صاحب تھے اور کس درجے میں قابل اعتماد تھے؟ آیا یہ بھی باغی تحریک کا حصہ تھے یا نہیں، ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ایک اور راوی بہز بن اسد ہیں جن کے بارے میں معلوم ہے کہ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف تعصب رکھتے تھے۔ [24]

3۔  قد روي أيضا۔[25]  اس روایت میں بلاذری نے سند ہی نہیں دی ہے بلکہ "روایت کیا گیا ہے" کہہ دیا ہے۔  اس کے مطابق حضرت عثمان نے حضرت عمار رضی اللہ عنہما کو جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا تھا۔  ظاہر ہے کہ جب سند ہی نہ ہو تو بات بالکل بے بنیاد ہوتی ہے۔

4۔   أحمد بن إبراهيم الدورقي، وهب بن جرير بن حازم، أبي، يونس بن يزيد الأيلي، الزهري۔[26] یہ وہی روایت ہے جو اوپر عباس کلبی اور ابو مخنف کے حوالے سے بیان ہوئی ہے۔ اس کی سند میں  یونس بن یزید الایلی ہیں  جو کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان کے بارے میں ماہرین جرح و تعدیل میں اختلاف ہے کہ یہ قابل اعتماد ہیں یا نہیں۔ ان کے بارے میں امام احمد بن حنبل کا کہنا یہ ہے کہ یہ زہری سے منکر  (انتہائی عجیب و غریب) قسم کی روایتیں کرتے ہیں۔ [27]  پھر ایلی اس روایت کو ابن شہاب الزہری سے منسوب کرتے ہیں جو کہ اس واقعہ کے کم از کم 24 برس بعد 58/677 میں پیدا ہوئے۔ اگر زہری نے واقعی یہ روایت بیان کی ہے تو عین ممکن ہے کہ انہوں نے یہ روایت کسی ایسے شخص سے سنی ہو جو کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں تعصب رکھتا ہو۔  ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ زہری سے صحابہ کرام سے متعلق جتنی بھی منفی روایتیں مروی ہیں، وہ سب کی سب یونس الایلی کے توسط سے مروی ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے آپ باب 2 دیکھ سکتے ہیں۔

اس طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ بلاذری نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی مخالفت سے متعلق جو چار روایات نقل کی ہیں، وہ سب کی سب ضعیف یا موضوع ہیں۔  اب ہم طبری کی روایتوں کی طرف آتے ہیں۔

5۔  رجع الحديث إلى حديث سيف، عن شيوخه ۔[28] اس روایت کے مطابق حضرت عمار اور عباس بن عتبہ بن ابی لہب کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوئی تھی جس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو سزا دی تھی۔ اس وجہ سے حضرت عمار رضی اللہ عنہ ان کے سخت خلاف ہو گئے تھے۔  حضرت عمار کا جو کردار ہمارے سامنے ہے، اس کی روشنی میں یہ بات بعید از قیاس ہے کہ ایک معمولی واقعے کی بنیاد پر وہ اس انتہا پر چلے گئے ہوں گے کہ انہوں نے باغی تحریک میں شمولیت اختیار کر لی۔ سند میں سیف بن عمر ہیں جو کسی طرح بھی قابل اعتماد نہیں۔

6۔  قال محمد بن عمر: وحدثني عبد الله بن محمد، عن أبيه۔[29] اس روایت کے مطابق جب باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عمار رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ چل کر ان باغیوں سے مذاکرات کریں اور انہیں واپس بھیج دیں۔ حضرت عمار نے اس سے صاف انکار کر دیا۔  یہ روایت، محمد بن عمر الواقدی کی روایت کردہ ہے جن کے ناقابل اعتماد ہونے پر ہم اس کتاب میں جگہ جگہ گفتگو کرتے آ رہے ہیں۔

7۔  حدثني عبد الله بن أحمد بن شبويه، قال: حدثني أبي، قال: حدثني عبد الله، عن إسحاق بن يحيى، عن موسى بن طلحة۔[30] یہ بھی وہی روایت ہے جس میں عباس بن عتبہ کے ساتھ حضرت عمار کی تلخ کلامی کا ذکر ہے۔ اس روایت کی سند کو بھی دیکھیے تو اس کا آغاز ہی عبداللہ بن احمد بن شبویہ اور ان کے والد سے ہوتا ہے۔ ان دونوں حضرات کے حالات نامعلوم ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ یہ کس درجے میں قابل اعتماد ہیں۔ پھر یہ کسی عبداللہ سے روایت کرتے ہیں اور اس نام کے سینکڑوں راوی موجود ہیں اور اس بات کا تعین ممکن نہیں ہے کہ یہاں کون سے عبداللہ مراد ہیں۔

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ طبری میں بھی حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو روایات ملتی ہیں، وہ سند کے اعتبار سے انتہائی کمزور ہیں۔  اب ہم ابن سعد کی واحد روایت پر تبصرہ کرتے ہیں۔

8۔  أخبرنا سليمان بن حرب قال أخبرنا حماد بن زيد عن أيوب عن قنافة العقيلي عن مطرف۔[31] اس روایت کے مطابق مطرف بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ جب ہم لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی دل و جان سے بیعت کی تھی تو آپ نے ان کی مخالفت کیوں کی؟ اس پر حضرت عمار خاموش رہے اور انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس روایت کی سند میں قنافہ العقیلی ہیں جن کے حالات معلوم نہیں ہیں۔  عین ممکن ہے کہ یہ صاحب بھی باغی تحریک کا حصہ رہے ہوں یا پھر ان کے پراپیگنڈے سے متاثر ہوئے ہوں۔   اس طرح سے ابن سعد کی یہ روایت بھی سخت ضعیف ہے۔

اب ہم ابن عساکر (499-571/1106-1175)کی بیان کردہ دو روایتوں کی طرف آتے ہیں۔ ابن عساکر کا زمانہ چونکہ ان واقعات کے 500 سال بعد کا ہے، اس وجہ سے ان کی اسناد بہت طویل ہیں۔

9۔ أخبرنا أبو محمد هبة الله بن أحمد وعبد الله بن أحمد وأبو تراب حيدرة بن أحمد – إجازة – قالوا: نا عبد العزيز بن أحمد – لفظا – أنا عبد الرحمن بن عثمان بن أبي نصرنا أبوبكر أحمد بن محمد بن سعيد، وأبو الميمون البجلي، قالا: نا أبو عبد الملك أحمد بن إبراهيم بن بسر، نا محمد بن عائذ، .... قال: وسمعت غير واحد منهم محمد بن شعيب يخبر عن سعيد بن عبد العزيز۔[32] اس روایت کے مطابق جب حضرت عثمان نے تحقیقات کے لیے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو مصر بھیجا تو وہ وہیں رک گئے اور انہوں نے کہا: "میں عثمان کی بیعت سے اس طرح نکل آیا جیسے میں اپنا یہ عمامہ کھول رہا ہوں۔" اس پر باغی تحریک کے سرکردہ رکن محمد بن ابی حذیفہ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو 40,000 دینار  دیے۔

یہ روایت،  درایت کے ساتھ ساتھ سند کے اعتبار سے سخت ضعیف ہے۔ اس میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں  نے معاذ اللہ 40,000 دینار کی رشوت لے کر خلیفہ کے خلاف بغاوت کر دی۔  ایک ایسا شخص جس نے مکہ کے اندر تپتی ریت پر کفار کا ظلم سہا ہو، کا کردار یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ باغیوں سے مل جائے۔ سند کے اعتبار سے بھی یہ ایک منقطع روایت ہے جس کا آغاز سعید بن عبد العزیز (d. 167/784)سے ہو رہا ہے۔ سعید اگرچہ ایک قابل اعتماد راوی ہیں تاہم ان کا زمانہ شہادت عثمان کے بہت بعد کا ہے۔[33]  اگر ان کی عمر کو سو سال بھی مان لیا جائے تب بھی وہ شہادت عثمان کے بہت بعد پیدا ہوئے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ انہوں نے یہ روایت کسی باغی راوی سے سن کر بیان کی ہو لیکن اس کے نام کا ذکر نہ کیا ہو۔  سعید سے یہ روایت محمد بن شعیب نے حاصل کی ہے جو کہ قابل اعتماد راوی نہیں ہیں۔ [34]

10۔  أخبرنا أبو علي الحداد وغيره في كتبهم، قالوا: أنا أبوبكر بن ريذة، أنا سليمان بن أحمد، نا أبو خليفة، نا أبو عمر حفص بن عمر الحوضي، نا الحسن بن أبي جعفر، نا مجالد، عن الشعبي، قال:۔[35] اس روایت کے مطابق مشہور تابعی مسروق رحمہ اللہ  نے مالک الاشتر سے فرمایا: "آپ لوگوں نے حضرت عثمان کو اس حالت میں قتل کیا جب وہ روزے کی حالت میں عبادت کر رہے تھے۔" اشتر نے یہ بات حضرت عمار رضی اللہ عنہ تک پہنچا دی تو انہوں نے آ کر کہا: "واللہ! عثمان نے عمار کو سزا دی، ابو ذر کو جلا وطن کیا اور چراگاہیں محفوظ کیں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ انہیں روزے کی حالت میں عبادت کرتے قتل کیا گیا۔" مسروق نے کہا: "آپ لوگوں کو دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا چاہیے تھا، یا تو جتنی آپ کو سزا ملی تھی، اتنا ہی بدلہ لے لیتے یا پھر صبر کرتے اور اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے لیے بہت اچھا ہے۔" یہ سن کر حضرت عمار اس طرح خاموش ہو گئے گویا کہ ان کے منہ میں پتھر ڈال دیا گیا ہو۔

اس روایت میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ باغی تحریک کے ساتھ تھے۔ اس کی سند کو دیکھیے تو اس میں مجالد بن سعید موجود ہیں جو قابل اعتماد نہیں ہیں۔ [36]

آپ ان دس کی دس روایات کے تجزیے کو دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی اسناد ضعیف ہیں اور ان میں وہ راوی آتے ہیں جو قابل اعتماد نہیں تھے۔ عام طور پر ایسے راویوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ جھوٹ نہ بھی گھڑتے ہوں تب بھی سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بیان کر دیتے ہیں۔ باغی تحریک کے اندر قد آور شخصیات کی کمی تھی اور یہ ان کی ضرورت تھی کہ وہ کم از کم کچھ صحابہ کو اپنا ساتھی ظاہر کریں تاکہ ان کی ساکھ (Credibility) بہتر ہو اور اس کی مدد سے وہ مزید نوجوانوں کو ورغلا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بعض صحابہ کے بارے میں یہ پراپیگنڈا کیا کہ وہ ان کے ساتھی تھے۔ اس پراپیگنڈا میں سب سے نمایاں نام حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا تھا ۔ اس سے باغیوں کو دو فوائد حاصل ہوئے: ایک تو یہ کہ شہادت عثمان کا الزام ایک جلیل القدر صحابی پر آیا اور دوسرے یہ کہ ان کی تحریک کو تقویت ملی کہ صحابہ بھی ان کے ساتھ شامل تھے۔

ہم نے کوشش کی ہے  کہ سبھی اہم کتب تاریخ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے متعلق ایسی روایتوں کو تلاش کیا جائے اور باوجود بھرپور کوشش کے ہمیں یہی دس روایتیں مل سکی ہیں۔  ہم یہ دعوی تو نہیں کرتے کہ ان کے علاوہ حضرت عمار کے بارے میں کوئی روایت موجود نہیں ہو گی تاہم آپ کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے، وہ ان روایتوں میں آ گیا ہے۔ اگر آپ کو ان کے علاوہ کوئی روایت ملے، تو اس کی سند کو ضرور دیکھ لیجیے۔ ہمیں یقین ہے کہ ایسی تمام روایات کی سند میں کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور ہو گا جو کہ قابل اعتماد نہیں ہو گا۔

کیا حضرت ابو ذر غفاری کو جلا وطن کیا گیا؟

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر یہ تہمت بھی عائد کی گئی ہے کہ انہوں نے جلیل القدر صحابی حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے جلا وطن کر کے ربذہ بھیج دیا تھا جہاں انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ رہائش اختیار کی اور وہیں پر ان کی وفات ہوئی۔ تاریخی روایتوں میں اس کا افسانہ کچھ یوں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ  مدینہ میں دولتمندوں پر کڑی تنقید کرتے تھے۔ حضرت عثمان کے مشورے سے وہ شام چلے گئے۔ جب عبداللہ بن سبا  نے یہاں اپنے قدم جمانے چاہے تو حضرت ابو ذر ہی کے پاس آیا اور انہیں امیر اور غریب کے فرق کی طرف توجہ دلائی۔ اس پر حضرت ابو ذر اس کی باتوں سے متاثر ہوئے اور گورنر شام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے بحث کی کہ مال کو غرباء میں تقسیم کر دینا چاہیے اور دولت مندوں کو دولت اکٹھا کرنے سے روکا جائے۔ حضرت معاویہ نے جواب دیا کہ حکومت امراء سے زکوۃ ہی وصول کر سکتی ہے اور وہ کی جا رہی ہے۔ اس پر حضرت ابو ذر ناراض ہو کر مدینہ آ گئے اور یہاں بھی  امراء کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھی۔ اس تحریک نے  مدینہ میں بھی مسائل پیدا  کیے جن کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں ربذہ کی جانب بھیج دیا۔ اسی افسانے کی بنیاد پر موجودہ دور کے بعض کمیونسٹ حضرات نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو  بھی معاذ اللہ کمیونسٹ قرار دیا ہے۔

مناسب رہے گا کہ ان روایات کا جائزہ بھی لے لیا جائے جن میں یہ واقعات بیان ہوئے ہیں۔ بلاذری نے اس ضمن میں گیارہ روایتیں نقل کی ہیں جو کہ یہ ہیں:

1۔ وقالوا:۔[37] یہ وہی روایت ہے جس میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی امراء پر تنقید اور جلا وطنی کا ذکر ہے۔  بلاذری نے اس کی سند بیان نہیں کی بلکہ محض قالوا (انہوں نے کہا) کہہ کر روایت بیان کر دی ہے۔ ان کے عام طریقے کے مطابق  وہ ایسا اس وقت کہتے ہیں جب وہ سند کو پہلے بیان کر چکے ہوں۔ اس سے پچھلی روایت کی سند  یہ ہے: حدثنا روح بن عبد المؤمن المقرئ، وأحمد بن إبراهيم الدورقي، حدثنا بهز بن أسد، حدثنا حصين بن نمير، عن جهيم الفهري۔  اس سند پر ہم اوپر تبصرہ کر چکے ہیں کہ جہیم الفہری کے حالات نامعلوم ہیں اور بہز بن اسد ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف متعصب تھے۔

2۔  حدثني عباس بن هشام، عن أبيه، عن أبي مخنف، عن فضيل بن خديج، عن كميل بن زياد۔  یہ روایت کمیل بن زیاد کا بیان ہے کہ میں اس وقت مدینہ میں تھا  جب حضرت عثمان نے ابو ذر رضی اللہ عنہما کو پہلے شام اور پھر ربذہ بھیجا۔  اس روایت کے سبھی راوی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بغض کے لیے مشہور ہیں۔ خاص طور پر کمیل بن زیاد کے بارے میں تو یہ بھی بیان ہوا ہے کہ وہ قاتلین عثمان کی پارٹی میں شامل تھے اور ایک موقع پر انہوں نے حضرت عثمان پر خود قاتلانہ  حملے کا منصوبہ بنایا تھا جو ناکام رہا تھا۔ باقی، عباس بن ہشام کلبی، ان کے والد اور ابو مخنف تو اس معاملے میں اتنے مشہور ہیں کہ مزید کسی تبصرے کی ضرورت نہیں ہے۔

3۔  حدثني بكر بن الهيثم، عن عبد الرزاق عن معمر عن قتادة۔  اس روایت میں بھی جلاوطنی کا ذکر ہے  اور یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت ابو ذر کی جلا وطنی  پر حضرت علی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور ان سے تلخ کلامی کی۔ اس کی سند میں موجود بکر بن الہیثم کے بارے میں معلوم نہیں کہ یہ کون صاحب ہیں اور کس درجے میں قابل اعتماد ہیں؟ ممکن ہے کہ یہ بھی باغی تحریک کا حصہ رہے ہوں۔  ممکن ہے کہ یہ مشہور کذاب ہیثم بن عدی (d. 207/823) کے صاحبزادے ہوں جو کہ صحابہ کرام کے ساتھ اپنے بغض کے لیے مشہور ہے۔ [38]

4۔  قد روي أيضا۔  اس روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عثمان، ابو ذر کے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھی جلا وطن کرنا چاہتے تھے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تنقید کے باعث اس سے باز رہے۔ سند کو دیکھیے تو  بلاذری صاحب نے محض قد روی ایضا (یعنی روایت کیا گیا ہے) پر اکتفا کیا ہے اور کسی راوی کا نام نہیں دیا ہے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ راوی کون لوگ ہوں گے؟

5-6۔  حدثني محمد عن الواقدي عن موسى بن عبيدة عن عبد الله بن خراش الكعبي، وحدثني محمد عن الواقدي عن شيبان النحوي عن الأعمش، عن إبراهيم التيمي عن أبيه۔ ان روایتوں کے مطابق ایک صاحب نے حضرت ابو ذر سے پوچھا کہ آپ کو کس چیز نے ربذہ میں لا پھینکا؟ انہوں نے جواب دیا : "عثمان اور  معاویہ کے لیے میری خیر خواہی نے۔" دوسری روایت کے مطابق انہوں نے امر بالمعروف کا ذکر کیا۔ ان روایتوں کے ناقابل اعتماد ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ سند میں محمد بن عمر الواقدی موجود ہیں۔  پھر ابراہیم التیمی بھی ناقابل اعتماد راوی ہیں۔ ابو حاتم نے انہیں "منکر الحدیث" قرار دیا ہے جبکہ امام بخاری کے نزدیک ان کی بیان کردہ روایتیں ثابت نہیں ہیں۔ [39]

7۔  حدثني محمد عن الواقدي عن طلحة بن محمد بن بشر بن حوشب الفزاري عن أبيه۔  یہ روایت بھی واقدی ہی کی ہے تاہم یہ تصویر کا مثبت رخ پیش کرتی ہے۔  اس کے مطابق بشر بن حوشب نے مشہور تابعی حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی جلا وطنی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: "حضرت عثمان نے تو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہما کو اس لیے ربذہ بھیجا تھا کہ وہ خود وہاں رہنا چاہتے تھے۔" ہمارے خیال میں یہی درست بات ہو سکتی ہے کہ حضرت ابو ذر، شہر کے ہنگاموں سے تنگ آ کر گاؤں کی کھلی فضا میں رہنا چاہتے ہوں گے، جس کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہما نے انہیں وہیں بھجوا دیا اور گزارے کے لیے زمین اور مویشی دے دیے۔

8-10۔ قال أبو مخنف: ابو مخنف کی اس روایت میں یہ ذکر ملتا ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ ربذہ میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم تھے اور وہاں ان کی وفات ہوئی۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو وصیت کی کہ جو لوگ ان کے جنازے میں آئیں، ان کی دعوت کی جائے۔ ان کی وفات کے بعد کچھ مسافر وہاں سے گزرے جنہوں نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور حسب وصیت ان کی دعوت کی گئی۔ ابو مخنف کی روایت کے مطابق حضرت جریر بن عبداللہ نے جنازہ پڑھایا جبکہ واقدی کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے نماز جنازہ کی امامت کی۔ ان روایتوں میں کوئی منفی بات نہیں ہے۔ بلاذری نے یہی روایت دو اور اسناد سے بھی نقل کی ہے۔

11۔  حدثني عن هشام عن العوام بن حوشب عن رجل من بني ثعلبة بن سعد، قال:۔ یہ ایک مثبت روایت ہے مگر اس کی سند کمزور ہے۔ اس کے مطابق باغی تحریک کے کچھ لوگوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ربذہ میں ملاقات کی اور انہیں اس بات کی ترغیب دی کہ وہ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ اس پر انہوں نے نہایت ہی خوبصورت جواب دیا: "اگر ابن عفان مجھے کھجور کے تنے پر بھی سولی پر لٹکا دیں، تو میں ان کی بات سنوں گا، ان کی اطاعت کروں گا، اپنا احتساب کروں گا اور صبر کروں گا۔ جس شخص نے بھی حکومت کو ذلیل کیا، اس کی توبہ قبول نہ ہو گی۔" یہ سن کر باغی واپس چلے گئے۔ [40] روایت کی سند اگرچہ کمزور ہے کہ اس میں ایک شخص کا نام نامعلوم ہے تاہم جو بات اس میں بیان ہوئی ہے، وہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے کردار کے عین مطابق ہے۔

طبری نے اس ضمن میں ایک ہی طویل روایت بیان کی ہے جس  سے معاملہ صاف ہو جاتا ہے:

كتب إلي بها السري، يذكر أن شعيبا حدثه عن سيف، عن عطية، عن يزيد الفقعسي۔ کے مطابق عبداللہ بن سبا جب شام آیا تو اس نے حضرت ابو ذر سے کہا: "ابو ذر! آپ کو معاویہ کے اس قول پر تعجب نہیں ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ سب مال اللہ  کا مال ہے۔ حالانکہ ہر چیز اللہ کی ہے۔ مجھے تو خطرہ ہے کہ کہیں وہ مسلمانوں کا سارا مال اپنے قبضے میں نہ لے لیں اور مسلمانوں کا نام تک نہ مٹا ڈالیں۔" ابو ذر یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور ان سے اس کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے فرمایا: "ابو ذر! کیا ہم سب اللہ کے بندے نہیں ہیں اور مال اس کا مال نہیں ہے۔ کیا یہ مخلوق اس کی مخلوق نہیں ہے؟ اصل حکم اس کا حکم نہیں ہے؟" اب حضرت ابو ذر نے شام میں وعظ شروع کر دیا جس میں آپ امراء کو اپنا مال، غرباء کو دینے کی تلقین کرتے۔ اس سے آپ کے گرد غریب اکٹھے ہو گئے اور امراء آپ سے تنگ   آ گئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ   نے حضرت عثمان کو خط لکھ کر مسئلے کا حل دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں عزت و احترام کے ساتھ مدینہ واپس بھیج دیا جائے۔ اب حضرت ابو ذر مدینہ آئے تو یہاں  انہوں نے مختلف نوعیت کی خفیہ مجالس دیکھیں۔ انہوں نے فرمایا: "اہل مدینہ کو سخت غارت گر اور یاد گار جنگ کی پیش گوئی سنا دو۔"

جب حضرت عثمان سے ابو ذر رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان سے معاملہ دریافت کیا۔ ابو ذر نے جواب دیا: "مسلمانوں کے مال کو اللہ کا مال کہنا درست نہیں ہے اور دولت مندوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ مال و دولت جمع کریں۔" اس پر حضرت عثمان نے جواب دیا: "ابو ذر! میرا یہ فرض ہے کہ میں اپنے فرائض ادا کروں اور عوام کے ذمہ جو واجبات ہیں، ان سے وصول کروں۔ میں انہیں زاہد بننے پر مجبور نہیں کر سکتا ، صرف اتنا کر سکتا ہوں کہ وہ محنت کریں اور کفایت شعاری سے کام لیں۔" اس پر ابو ذر نے ان سے مدینہ سے باہر رہنے کی اجازت طلب کی۔  حضرت عثمان نے پوچھا: "کیا آپ مدینہ کی بجائے اس سے کمتر جگہ رہنا پسند کریں گے؟" انہوں نے جواب دیا: "مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ جب مدینہ کی عمارتیں خفیہ اڈے بن جائیں تو میں وہاں سے نکل جاؤں۔" اس پر حضرت عثمان نے فرمایا: "ایسی صورت میں آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، اس کی تعمیل کیجیے۔" اس کے بعد حضرت عثمان نے انہیں اونٹوں کا ایک ریوڑ دیا اور خدمت کے لیے دو ساتھی بھی ان کے حوالے کیے اور ساتھ ہی یہ کہلا بھیجا: "مدینہ آتے رہا کیجیے ، ایسا نہ ہو کہ آپ دیہاتی بن جائیں۔" چنانچہ ابو ذر اس پر  عمل کرتے تھے۔  انہوں نے ربذہ میں ایک مسجد بھی بنائی۔ [41]

اس روایت میں سیف بن عمر یا کسی اور راوی نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ ، ابن سبا کی باتوں سے متاثر ہو کر امراء کے خلاف اور غرباء کے حق میں تقریریں کرنے لگے حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔  حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ ہمیشہ سے یہ تلقین کرتے تھے کہ امراء زکوۃ سے بھی بڑھ کر اپنا مال  غرباء میں تقسیم کر دیں۔ اس معاملے میں عبداللہ بن سبا کا کوئی کردار نہ تھا۔ حضرت ابو ذر ایک حساس انسان تھے   اور سمجھتے تھے کہ کہیں دولت کی کثرت مسلمانوں کے کردار کو خراب نہ کر دے۔  یہ وہ زمانہ تھا جب فتوحات کی کثرت کی وجہ سے قیصر و کسری کے خزانے مسلمانوں کے ہاتھ آ گئے تھے اور انہیں بیت المال میں رکھنے کی بجائے عام آدمی میں تقسیم کیا جا رہا تھا۔  ایسا نہیں تھا کہ اس معاشرے میں غریب، بہت غریب ہوں اور امیر بہت امیر ہوں بلکہ ہر شخص کی بنیادی ضروریات کی ذمہ داری حکومت نے لے رکھی تھی۔ حضرت عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہما کا موقف یہ تھا کہ حکومت عوام سے صرف زکوۃ ہی جبراً وصول کر سکتی ہے۔ غرباء پر مزید خرچ کے لیے دولت مندوں کو ترغیب دلائی جا سکتی ہے ، اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔  ہاں اگر کوئی غیر معمولی صورتحال جیسے قحط پیدا ہو جائے تو پھر حکومت ، زکوۃ کے علاوہ بھی امراء پر مزید ٹیکس لگا سکتی ہے۔ 

نقطہ نظر کے اس اختلاف کے سبب حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے یہ پسند کیا کہ وہ شہر چھوڑ کر کسی گاؤں میں چلے جائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پہلے تو انہیں قائل کرنے کی کوشش کی لیکن جب وہ قائل نہ ہوئے تو انہیں اونٹوں کا ریوڑ، جو کہ اس دور کی سب سے بڑی دولت تھی، دے کر رخصت کر دیا لیکن ساتھ ہی یہ تلقین بھی کی کہ مدینہ آتے جاتے رہیے گا۔  اس سے ان دونوں صحابہ کے باہمی تعلقات کا اندازہ ہوتا ہے۔

اس قسم کا اختلاف رائے پیدا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں اور انسانوں میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اب ہوا کہ اس معمولی بات  کو باغی تحریک نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے پہلے کوشش یہ کی کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو بھڑکا کر اپنے ساتھ ملا لیا جائے اور اس کے لیے انہوں نے انہیں لیڈری کا لالچ بھی دیا۔ حضرت ابو ذر ان کے جھانسے میں نہ آئے اور انہیں جھڑک دیا اور فرمایا: "اگر ابن عفان مجھے کھجور کے تنے پر بھی سولی پر لٹکا دیں، تو میں ان کی بات سنوں گا، ان کی اطاعت کروں گا، اپنا احتساب کروں گا اور صبر کروں گا۔ جس شخص نے بھی حکومت کو ذلیل کیا، اس کی توبہ قبول نہ ہو گی۔" اس کے بعد ان باغیوں نے صورت حال کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو جلا وطن کر رکھا ہے حالانکہ حضرت ابو ذر اپنی مرضی سے ہی ربذہ چلے گئے تھے جو کہ ایک بڑی چراگاہ تھی۔

اس تمام تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ساری بات محض ایک افسانہ ہے جو باغیوں نے محض آپ کو اپنے ساتھ ملوث کرنے کے لیے گھڑا ہے۔

کیا حضرت عبداللہ بن مسعود پر تشدد کیا گیا؟

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں اور ان کا شمار بھی السابقون الاولون میں ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چار صحابہ سے قرآن سیکھنے کا حکم دیا، ان میں ایک حضرت عبداللہ بن مسعود تھے۔ آپ حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ادوار میں کوفہ کے بیت المال کے انچارج رہے اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیم و تبلیغ میں اپنی زندگی بسر کی۔ آپ کو فقہ میں غیر معمولی مقام حاصل تھا اور آپ ہی کی علمی کاوشوں کی بنیاد پر بعد کی صدیوں میں کوفہ کا فقہی مکتب فکر  وجود میں آیا جس کے سرخیل امام ابو حنیفہ بنے۔

حضرت عبداللہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے ۔ جب حضرت عثمان منتخب ہوئے تو حضرت عبداللہ کوفہ آئے اور یہاں آ کر کہا: "ہم نے بقیہ لوگوں میں سے سب سے بہترین شخص کو منتخب کیا ہے اور اس معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے۔"[42] جب باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو اس وقت حضرت عبداللہ، اگرچہ وفات پا چکے تھے لیکن انہی کے جلیل القدر شاگردوں مسروق بن اجدع، اسود بن یزید، شریح بن الحارث اور عبداللہ بن حکم رحمہم اللہ نے اہل کوفہ کو خلیفہ کی مدد کے لیے تیار کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ اور ان کے شاگرد، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم سے بہت محبت کرتے تھے۔[43]

باغیوں نے اپنے پراپیگنڈا کے طور پر یہ روایتیں وضع کیں کہ حضرت عبداللہ، حضرت عثمان کے خلاف ہو گئے تھے کیونکہ انہوں نے عبداللہ کو کوڑوں سے پٹوایا تھا۔ یہی پراپیگنڈا بعض روایتوں کا حصہ  بن کر کتب تاریخ میں آ گیا ہے۔ لازم ہے کہ ہم اس کی حقیقت بھی دیکھ لیں۔  کتب تاریخ میں ہمیں اس ضمن میں دو ہی روایتیں مل سکی ہیں جو بلاذری نے نقل کی ہیں:

1۔  حدثني عباس بن هشام عن أبيه عن أبي مخنف وعوانة في إسنادهما: [44] اس روایت کے مطابق  حضرت عبداللہ بن مسعود نے گورنر کوفہ ولید بن عقبہ پر تنقید کی جس کی پاداش میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہم نے  انہیں مدینہ بلوا کر پٹوایا اور انہیں یہاں قید کر دیا جس کے دو سال کے اندر حضرت عبداللہ وفات پا گئے۔  روایت کی سند کو دیکھیے تو اس میں وہ تمام لوگ موجود ہیں جو کہ بعد میں باغی تحریک کا حصہ بنے اور یہ سب کے سب صحابہ کرام سے شدید بغض رکھتے تھے۔ ان میں عباس بن ہشام، ہشام کلبی اور ابو مخنف شامل ہیں۔

2۔ حدثني اسحاق الفروي أبو موسى، حدثنا عبد الله بن إدريس عن عبد الرحمن بن عبد الله عن رجل نسيه اسحاق:[45] اس روایت  کے مطابق حضرت عثمان، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما کے گھر میں اس وقت گئے جب وہ مرض الموت میں مبتلا تھے۔ اس موقع پر دونوں نے ایک دوسرے کے لیے دعائے مغفرت کی۔ روایت کی سند میں ایک نامعلوم شخص ہے، جس کا نام اسحاق بھول گئے تھے، اور اس کے بارے میں ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس درجے میں قابل اعتماد تھا۔  صحابہ کرام ایک دوسرے کے لیے دعا کرتے تھے لیکن اس پیرائے میں دعا کے بیان کا مقصد بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر  ابو مخنف اور ہشام کلبی کی روایت کی تصدیق کی جا سکے۔

جب مدینہ کا محاصرہ کیا گیا تو کوفہ میں جن لوگوں نے حضرت عثمان کی حمایت کے لیے مہم چلائی، ان میں سب سے نمایاں نام حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگردوں کا ہے۔  اگر خدانخواستہ حضرت عبداللہ بن مسعود پر تشدد کیا گیا ہوتا تو کیا ان کے جلیل القدر شاگرد،  باغی تحریک کے خلاف مہم چلا کر کے لوگوں کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مدد کی ترغیب دیتے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی جھوٹے پراپیگنڈے کا حصہ ہے۔ 

خلاصہ باب

اس باب میں ہم نے  تاریخ کے ابتدائی مآخذ کا ایک تفصیلی سروے کر کے وہ تمام روایتیں جمع کر دی ہیں ، جن میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر تہمتیں موجود ہیں اور ان کی اسناد کا جائزہ لے کر بھی یہ بیان کر دیا ہے کہ یہ کس حد تک قابل اعتماد ہیں۔  آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کم و بیش ایسی ہر روایت کی سند  میں واقدی، ابو مخنف، ہشام کلبی ، سیف بن عمر یا اسی نوعیت کے ناقابل اعتماد راوی موجود ہیں۔  اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص  ان ناقابل اعتماد راویوں کی باتوں کی بنیاد پر خلیفہ مظلوم سے بدگمانی کرنا چاہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ ہاں، جو شخص قرآن مجید کو مانتا ہے اور اس کے حسن ظن کے حکم پر عمل پیرا ہے، وہ یہ اچھی طرح جان سکتا ہے کہ پراپیگنڈے اور حقیقت میں کیا فرق ہے؟

باغی تحریک کے پراپیگنڈا کا جھوٹ اسی سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جس طرح پورا عالم اسلام ان باغیوں کے خلاف اٹھ کھڑا  ہوا، اس کی کوئی مثال ہمیں نہیں ملتی ہے۔ اگر ان کا پراپیگنڈا درست ہوتا تو عالم اسلام میں حضرت عثمان کی شہادت پر اتنی بے چینی نہ پائی جاتی بلکہ نعوذ باللہ لوگ شکر کرتے کہ ایک ظالم اور کرپٹ خلیفہ سے نجات ملی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پراپیگنڈا محض جھوٹ تھا اور اس دور کے لوگ بھی اسے جھوٹ ہی سمجھتے تھے۔  ہمارے دور میں البتہ بعض لوگ اس پراپیگنڈے کو سچ سمجھ بیٹھے اور انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر الزام تراشی شروع کر دی۔ اگر یہ حضرات ان روایتوں کی سند ہی کو دیکھ لیتے تو انہیں ان کی حقیقت معلوم ہو جاتی۔ افسوس کہ اگر ہمارے والدین پر کوئی الزام عائد کیا جائے تو ہم اس کی تحقیق پر زور دیتے ہیں لیکن صحابہ کرام پر الزام عائد کیے گئے تو ان کی تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

ہماری اس عاجزانہ سی کوشش کے باوجود عہد عثمانی سے متعلق تاریخ کے قدیم ترین مآخذ میں اگر کوئی روایت ایسی رہ گئی ہو ، جو آپ کے دور کی منفی تصویر پیش کرتی ہو، تو آپ بلا تکلف اس کی نشاندہی کیجیے، ان شاء اللہ ہم اس روایت کی تحقیق کو بھی اس کتاب میں شامل کر دیں گے۔

اگلے باب میں ان شاء اللہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور کا جائزہ لیں گے۔ جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنے والوں نے ان سے متعلق پراپیگنڈا کیا، بالکل اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخالفین نے ان کے خلاف پراپیگنڈا کیا۔ اس کی تفصیلات کا جائزہ بھی ہم ان شاء اللہ اسی طریقے پر لیں گے۔  اس باب کا خلاصہ ہم ان نکات کی صورت میں بیان کر سکتے ہیں:

·       باغی تحریکوں کا ایک لائف سائیکل ہوتا ہے۔ تحریک کو اپنے عہد جوانی تک پہنچنے کے لیے کم و بیش بیس سال کا وقت درکار ہوتا ہے۔ 

·       خلفاء راشدین کے دور میں باغی تحریک کا پیدا ہونا ایک لازمی امر تھا کیونکہ بہت سے ایسے عناصر موجود تھے جو اسلام کی پھیلتی ہوئی سلطنت کو پسند نہ کرتے تھے۔

·       باغیوں نے پراپیگنڈا کے ہتھیار سے کام لیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف تہمتیں تراشیں۔ یہی الزامات تاریخی روایات کا حصہ بن گئے۔ ایسی تمام روایات کی سند کا جائزہ لیا جائے تو ان میں اسی باغی تحریک کے راوی نظر آتے ہیں۔

·       تمام صحابہ بشمول حضرت علی، طلحہ اور زبیر ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم سے بہت محبت کرتے تھے  اور انہوں نے خلیفہ مظلوم کے دفاع کی ہر ممکن کوشش کی اور اس ضمن میں اپنے جواں سال بیٹوں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگا دیں۔

·       باغیوں نے متعدد صحابہ جیسے حضرت علی، طلحہ، عبد الرحمن، عبداللہ بن مسعود اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم پر مختلف تہمتیں تراشیں۔ ایسی تمام کی تمام روایات جعلی ہیں۔

اسائن منٹس

۱۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں باغی تحریک کیوں اور کیسے پیدا ہوئی؟ اس کے عمرانی (Sociological)اسباب کیا تھے؟ باغی تحریکوں کے لائف سائیکل کی روشنی میں جواب دیجیے۔

۲۔ حضرت عثمان نے باغیوں کے مقابلے میں انتہا درجے کی جس نرمی کا مظاہرہ کیا، اس کے پیچھے کیا عمرانی حقیقتیں  کار فرما تھیں؟ عرب کے قبائلی معاشرے کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جواب دیجیے۔

۳۔ باغیوں نے حضرت عثمان پر جو الزامات عائد کیے، ان کی ایک فہرست تیار کیجیے اور تاریخی روایات کا تجزیہ کر کے بتائیے کہ ان الزامات کی  حقیقت کیا تھی؟

۴۔ قاتلین عثمان کے خلاف حضرت علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کے کردار کو بیان کیجیے۔

۵۔  باغی تحریک کے پیش نظر کیا مقاصد تھے؟ کیا یہ لوگ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکے؟  ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ دونوں صورتوں میں اپنے دلائل بیان کیجیے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  ایضاً ۔ 3/1-448

[2]  ایضا

[3]  ایضا

[4]  ایضاً ۔ 36H/3/2-68

[5]  ابن عبد البر (368-463/979-1071)۔  الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔ 2/59، باب علی۔

[6]  طبری۔ 3/1-254

[7]  ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 7910۔ 6/246

[8]  طبری۔ 3/1-409, 414

[9]  ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی 4541۔ 4/175

[10]  طبری۔ 3/2-146

[11]  بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 6/186

[12]  ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 8039۔ 6/289

[13]  ایضا۔ راوی نمبر 967۔ 1/415

[14]  بلاذری۔ 6/188

[15] ایضاً ۔ 6/196

[16]  ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 9932۔ 7/320

[17]  ایضاً ۔ راوی نمبر 95۔ 1/152

[18]  طبری۔ ۔ 35H/3/1-462

[19]  طبری۔ ۔ 35H/3/1-474

[20]  بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 6/171-172

[21]  ابن عساکر۔ تاریخ دمشق۔ 39/208

[22]  بلاذری۔ 6/161

[23]  ایضاً ۔ 6/165

[24]  ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 1326

[25]  بلاذری۔ 6/169

[26]  ایضاً ۔ 6/208

[27]  ذہبی۔ راوی 9932۔ 7/320

[28]  طبری۔ 3/1-394

[29]  ایضاً ۔ 3/1-411

[30]  ایضاً ۔ 3/1-458

[31]   ابن سعد 3/79

[32]   ابن عساکر۔ 39/423

[33]  ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 3234۔ 3/218

[34]  ایضاً ۔ راوی نمبر 7678۔ 6/185

[35]   ابن عساکر۔ 39/494

[36]  ذہبی۔ راوی نمبر 7076۔ 6/23

[37]    بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 6/166

[38]  ذہبی۔ سیر الاعلام النبلا۔ شخصیت نمبر 6546۔ ص 4113  

[39]  ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 178۔ 1/180

[40]  بلاذری۔ 5/171

[41]  طبری۔ 3/1-321

[42]  ابن عساکر۔ 39/212

[43]  طبری۔ 3/1-401

[44]   بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 6/146

[45]   ایضاً ۔ 6/148