بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 5: عہد علوی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

واقعہ تحکیم

واقعہ تحکیم تاریخ صحابہ کا نہایت ہی مبارک واقعہ ہے جس کی بدولت مسلمانوں میں خونریزی رک گئی اور وہ ایک نتیجے پر پہنچ گئے لیکن اس واقعے کو باغیوں کو سخت نقصان پہنچا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں میں اتفاق رائے کا پیدا ہو جانا ان کی موت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان باغیوں نے واقعہ تحکیم کی ایسی مکروہ تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس سے ظاہر ہو کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں باہم دشمنی تھی اور ان کا کردار ہمارے دور کے دنیا دار سیاستدانوں سے مختلف نہ تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ تاریخ طبری میں جنگ صفین کی طرح واقعہ تحکیم کی بھی کل روایات  بھی ابو مخنف ہی کی روایت کردہ ہیں۔ ان صاحب کے بارے میں یہ بات معلوم و معروف ہے کہ وہ انہی باغیوں کے ساتھی ہیں۔

فیصلہ کرنے والے کون تھے اور ان کا تعین کیسے ہوا؟

فیصلہ کرنے کے لیے جن دو حضرات کے نام پر مسلمانوں کا اتفاق ہوا،  وہ حضرت ابو موسی اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما ہیں۔ ان دونوں حضرات کی جلالت شان کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان دونوں حضرات کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتظامی عہدے دیے تھے۔  حضرت ابو موسی اشعری پہلے تینوں خلفائے راشدین  کے دور میں مختلف علاقوں کے گورنر رہے اور حضرت عثمان کی شہادت کے وقت آپ کوفہ کے گورنر تھے۔ آپ ایسے صائب الرائے تھے کہ طویل عرصہ حکومتی امور چلاتے رہے۔ آپ کی روایت کردہ احادیث سے آپ کے فہم دین و دنیا کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تحکیم کی روایات میں انہیں معاذ اللہ ایک بے وقوف شخص کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

دوسری طرف  حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ایسی ہستی ہیں جن پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتماد فرمایا۔ آپ نے حضرت عمرو کو کئی لشکروں کا امیر بنایا  اور انہیں عمان کا گورنر مقرر فرمایا۔ اسی طرح آپ نے حضرت ابو موسی کو یمن کے علاقے عدن کا گورنر مقرر فرمایا۔  حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد موجود ہے: ’’اے عمرو! آپ صاحب رائے ہیں اور اسلام کے معاملے میں ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘[1] اور فرمایا: ’’عمرو بن عاص قریش کے صالح لوگوں میں سے ہیں۔‘‘[2]

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ابو مخنف اور ان کی کی قبیل کے راویوں نے دنیا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے برعکس آپ کی دنیا سے بے رغبتی کا عالم یہ تھا کہ  ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مہم کا سربراہ بنا کر بھیجا  اور فرمایا:

’’عمرو! میں آپ کو ایک سمت میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔اللہ تعالی آپ کو سلامت رکھیں گے اور آپ کو  مال غنیمت عطا فرمائیں گے اور اس مال سے  ہم بھی آپ کو دیں گے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! میں نے مال کے لالچ میں اسلام قبول نہیں کیا ۔ میں تو جہاد کی رغبت اور آپ کی صحبت میں رہنے کے لیے مسلمان ہوا ہوں۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’اے عمرو! صالح مال، صالح شخص کے لیے اچھا ہوتا ہے۔‘‘[3]

عہد فاروقی میں حضرت عمرو ایک اعلی پایہ کے منتظم اور جرنیل بن کر ابھرے۔ فلسطین اور مصر آپ کے ہاتھوں فتح ہوئے۔ حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانے میں آپ مصر کے گورنر رہے۔  حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں  آپ حضرت معاویہ سے جا ملے اور ان کی حکمت عملی نے باغی تحریک کو ناکوں چنے چبوائے۔

حضرت علی کی جانب سے بطور حکم (جج) حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا  گیا جو نہایت ہی جلیل القدر صحابی تھے اور جنگ صفین میں غیر جانبداررہے تھے۔ ابو مخنف نے اپنی روایتوں میں یہ زور لگانے کی کوشش کی ہے کہ  یہ ثابت کیا جائے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، ابو موسی سے خوش نہیں تھے اور  مالک الاشتر کو حَکَم (فیصلہ کرنے والا) بنانا چاہتے تھے مگر آپ کے ساتھیوں نے آپ کو مجبور کر کے انہی کو مقرر کروا دیا۔   یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ  حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے بھی  حکم بننے پر خوش نہ تھے۔

سوال یہ ہے کہ اوپر بیان کردہ روایت میں یہ شرط طے کی گئی تھی: ’’آپ اپنے میں سے ایک ایسا شخص فیصلے کے لیے متعین کیجیے جس پر ہم راضی ہوں اور ہم بھی اپنے میں سے ایک شخص کو متعین کر دیتے ہیں (جس پر آپ راضی ہوں۔) ‘‘مالک الاشتر کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کس طرح قبول کر سکتے تھے جبکہ یہی قاتلین عثمان کا سربراہ تھا۔  دوسری طرف اگر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ  ویسے ہی تھے، جیسا کہ روایات میں بیان کیا گیا ہے، تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں قبول کیوں کر لیا؟ حکم کے لیے یہ شرط طے کی گئی تھی کہ وہ غیر جانبدار ہوں۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ غیر جانبدار نہیں تھے بلکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فوج کے سربراہ تھے۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی امانت و دیانت پر اعتماد نہ ہوتا، تو انہیں کیسے بطور حکم کے قبول کر لیتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تو ان دونوں جلیل القدر صحابہ پر کوئی اعتراض نہ تھا مگر یہ باغی چاہتے تھے کہ ان کا لیڈر مالک الاشتر حکم بنے تاکہ ان کے مفادات پورے ہوں۔ جب ایسا نہ ہو سکا تو انہوں نے حضرت ابو موسی اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی کردار کشی کی بھرپور کوشش کی۔  اس کے برعکس بلاذری کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے  کہ حضرت علی اور معاویہ دونوں ہی ان دونوں حضرات سے راضی تھے۔

معاویہ نے کہا: ’’میں عمرو کو نامزد کرتا ہوں۔‘‘ علی نے کہا: ’’میں ابو موسی اشعری کو نامزد کرتا ہوں۔‘‘ وہ دونوں ان کے ناموں پر راضی ہو گئے۔ اس بات پر ایک معاہدہ تحریر کیا گیا جس پر دونوں لشکروں کے دس دس افراد نے بطور گواہ دستخط کیے۔ ‘‘[4]

صلح کا معاہدہ کیا تھا ؟

ابو مخنف نے صلح کا معاہدہ بھی نقل کیا ہے اور ہمارا خیال ہے کہ یہ کام انہوں نے ٹھیک کیا ہے کیونکہ بلاذری نے دیگر اسناد سے اس معاہدے کا متن دیا ہے۔ معاہدے کے الفاظ یہ تھے:

یہ وہ معاہدہ ہے جو علی بن ابی طالب اور معاویہ بن ابی سفیان نے باہم کیا ہے۔ علی کا فیصلہ اہل عراق اور ان لوگوں پر نافذ ہو گا جو لوگ ان کی جماعت میں سے ہیں یا عام مومنین میں سے ان کے ساتھ ہیں۔ معاویہ کا فیصلہ اہل شام اور ان صاحب ایمان لوگوں پر نافذ ہو گا جو معاویہ کے ساتھ ہیں۔ ہم اللہ عزوجل کے حکم اور اس کی کتاب کو قبول کرتے ہیں اور کتاب اللہ کے علاوہ ہمیں کوئی فیصلہ قبول نہ ہو گا۔ اللہ عزوجل کی کتاب میں اول تا آخر جو کچھ بھی موجود ہے، ہم اس پر عمل کریں گے۔ جس چیز کے احیاء کا یہ کتاب حکم دیتی ہے، اسے رائج کریں گے اور جس چیز  کے ختم کرنے کا حکم دیتی ہے، اسے ختم کر دیں گے۔ دونوں حکم یعنی ابو موسی اشعری یعنی عبداللہ بن قیس اور عمرو بن عاص القرشی کتاب اللہ میں جو حکم پائیں گے، اس پر عمل پیرا ہوں گے۔ اگر اس معاملہ میں کتاب اللہ میں یہ دونوں کوئی حکم نہ پائیں تو اس سنت پر عمل پیرا ہوں گے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گی اور جس پر سب کا اتفاق ہو گا اور کسی کو اس سے اختلاف نہ ہو گا۔

دونوں حَکم ، علی اور معاویہ اور ان کے لشکروں سے عہد و پیمان لیں گے، اسی طرح دیگر معتبر لوگوں سے بھی وعدہ لیں گے کہ ان دونوں کی جان و مال محفوظ رہیں گی۔ جو فیصلہ یہ دونوں کریں گے، اس پر تمام امت ان کی معاون و مددگار ہو گی۔ دونوں فریقوں کے مسلمانوں پر اللہ کے نام پر یہ عہد لازم ہو گا کہ جو کچھ اس معاہدہ میں تحریر ہے، وہ ہمیں قبول ہے اور ہم نے ان دونوں ثالثوں  کا فیصلہ تمام مسلمانوں پر لازم کر دیا ہے۔ یہ سب لوگ ہتھیار اتار کر رکھ دیں گے اور سب لوگوں کو امن حاصل ہو گا۔ جہاں چاہیں، وہ چلے جائیں، ان کی جان و مال او راہل و عیال محفوظ رہیں گے۔ وہ تمام لوگ جو یہاں موجود ہیں اور جو غائب ہیں، سب لوگوں کو  یہ امن حاصل ہو گا۔ عبداللہ بن قیس اور عمرو بن عاص پر اللہ کا یہ عہد و میثاق ہو گا کہ وہ اس امت کا فیصلہ کر دیں اور انہیں دوبارہ جنگ اور اختلاف میں مبتلا نہ کریں۔ یہ دوسری چیز ہے کہ کوئی ان کا فیصلہ قبول نہ کرے۔

اس معاہدے کی مدت رمضان تک ہو گی، اگر یہ دونوں حکم اس مدت کو بڑھانا چاہیں تو باہمی رضامندی سے بڑھا سکتے ہیں۔ اگر دونوں حکموں میں سے کسی ایک حکم کا انتقال ہو جائے تو اس کی پارٹی کا امیر اس کی جگہ دوسرا حکم مقرر کرے گا اور وہ شخص اہل عدل و انصاف میں سے منتخب کیا جائے گا۔ ان دونوں کے فیصلے کا مقام، جس میں وہ فیصلہ کریں گے، وہ جگہ ہو گی جو اہل کوفہ اور اہل شام کے درمیان واقع ہے۔ یہ دونوں حکم فیصلہ پر جن لوگوں کی گواہی لینا چاہیں، لے سکتے ہیں اور ان کی گواہی وہ اس فیصلہ پر تحریر کر دیں گے۔ یہ گواہ اس فیصلے کی ان لوگوں کے مقابلے میں حمایت کریں گے، جو اسے مٹانا چاہے یا اس کی مخالفت کرے۔ اے اللہ! ہم آپ سے اس شخص کے مقابلے میں امداد طلب کرتے ہیں، جو اس فیصلہ کو چھوڑ دے۔[5]

اہل تشیع کی کتاب اخبار الطوال کی روایت کے مطابق اس میں یہ الفاظ بھی موجود تھے:

عبداللہ بن قیس (ابو موسی) اور عمرو بن عاص نے علی اور معاویہ سے اللہ کے نام پر میثاق لیا ہے کہ یہ دونوں ثالثوں کے فیصلے پر راضی ہوں گے جو کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت کی بنیاد پر کیا جائے۔ ان دونوں (علی اور معاویہ) کو اجازت نہ ہو گی کہ وہ ثالثوں کے فیصلے کو توڑ دیں اور اس کی خلاف ورزی کر کے کسی اور چیز کی طرف مائل ہوں۔ [6]

معاہدے کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنا مبارک معاہدہ تھا کہ اس کی بدولت مسلمانوں کی طاقت اکٹھی ہو رہی تھی۔ معاہدے کے الفاظ سے ہی ظاہر ہے کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں ہی کے دل میں اسلام کے بارے میں کس درجے کا خلوص پایا جاتا تھا۔  معاہدے کے آغاز میں  هذا ما تقاضى عليه علي بن أبي طالب ومعاوية بن أبي سفيان، قاضى علي على أهل الكوفة ومن معهم من شيعتهم من المؤمنين والمسلمين، وقاضى معاوية على أهل الشأم ومن كان معهم من المؤمنين والمسلمين کے  الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما ایک دوسرے کے ساتھیوں کو صاحب ایمان اور مسلمان سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد صحابہ نے بطور گواہ اس پر دستخط کیے اور اس معاہدے پر عالم اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔  ابو مخنف ہی کے بیان کے مطابق معاہدے کے بعد دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے جنگی قیدیوں کو آزاد کر دیا۔

باغیوں نے صلح کے اس معاہدے کے سلسلے میں کس رد عمل کا اظہار کیا؟

جہاں اہل اسلام کے لیے یہ معاہدہ نہایت مبارک ثابت ہوا وہاں باغیوں کے لیے یہ معاہدہ موت کے مترادف تھا۔ ان کے ہاں صف ماتم بچھ گئی۔ خود ابو مخنف نے باغی تحریک کے لیڈر مالک الاشتر کی حالت کچھ یوں نقل کی ہے:

جب یہ معاہدہ تحریر کیا گیا تو اس کی گواہی کے لیے اشتر کو بھی طلب کیا گیا۔ اس نے کہا: ’’اللہ کرے، یہ دایاں ہاتھ میرے پاس نہ رہے اور نہ میں اس بائیں ہاتھ سے کوئی نفع حاصل کر سکوں، اگر میں اس معاہدے پر دستخط کروں جو صلح کے نام پر تحریر کیا گیا ہے۔ کیا میں اپنے رب کی جانب سے ہدایت پر نہیں ہوں اور میں اپنے دشمن کی گمراہی پر یقین رکھتا ہوں۔‘‘ اشعث بن قیس، (جنہوں نے اس معاہدے کی تکمیل میں  بنیادی کردار ادا کیا) بولے: "واللہ! تم نے نہ کوئی کامیابی دیکھی اور نہ کوئی ظلم دیکھا۔ ہمارے ساتھ آؤ، ہمیں تم سے کوئی دشمنی نہیں۔ " اشتر بولا: "کیوں نہیں ہے؟ واللہ! میں تم سے دنیا میں دنیا کی خاطر اور آخرت میں آخرت کی خاطر نفرت کرتا ہوں۔ اللہ عزوجل نے میری اس تلوار کے ذریعے بہت سے افراد کا خون بہایا ہے اور تم میرے نزدیک ان سے بہتر نہیں ہو اور نہ ہی میں تمہارا خون حرام سمجھتا ہوں۔" عمارہ (راوی) کہتا ہے کہ میں نے اس شخص (اشعث) کو دیکھا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی ناک پر کوئلے رکھ دیے گئے ہوں، یعنی وہ (غصے سے) اتنی سیاہ تھی۔ [7]

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باغیوں کی اس معاہدے کے بارے میں کیا رائے تھی؟ اشعث بن قیس رحمہ اللہ نے چونکہ صلح کے اس معاہدے  میں بنیادی کردار ادا کیا، اس وجہ سے وہ ان باغی راویوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنے۔  انہی ابو مخنف نے اپنے ساتھیوں سے نقل کیا ہے انہی اشعث نے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کر کے خارجی جماعت بنائی۔   ظاہر ہے کہ  ان پر یہ تہمت اسی وجہ سے لگائی گئی ہے کہ وہ صلح میں پیش پیش تھے اور اس صلح کے ذریعے انہوں نے باغیوں کی لٹیا ڈبو دی تھی۔  خود ابو مخنف ہی کی روایت میں یہ بات موجود ہے کہ اشعث بن قیس خوارج کے مقابلے میں پیش پیش تھے۔ [8]

اشعث کے باغی ہونے کو طبری نے اس سند سے بیان کیا ہے۔  فحدثني عبد الله بن أحمد، قال: حدثني أبي، قال: حدثني سليمان بن يونس بن يزيد، عن الزهري. اس سند کے بارے میں ہم کئی جگہ بیان کر چکے ہیں کہ یہ سند کمزور ہے۔ یونس بن یزید الایلی کے بارے میں امام احمد بن حنبل کا کہنا یہ ہے کہ یہ زہری سے منکر  (انتہائی عجیب و غریب) قسم کی روایتیں کرتے ہیں۔ [9]  پھر ایلی اس روایت کو ابن شہاب الزہری سے منسوب کرتے ہیں جو کہ اس واقعہ کے 21 برس بعد 58/677 میں پیدا ہوئے۔ اگر زہری نے واقعی یہ روایت بیان کی ہے تو عین ممکن ہے کہ انہوں نے یہ روایت کسی ایسے شخص سے سنی ہو جو کہ باغی تحریک کا حصہ ہو۔

صلح کے معاہدے کے بعد دونوں افواج واپس چلی گئیں۔ ابو مخنف کی روایت کے مطابق اس کے بعد باغیوں میں پھوٹ پڑ گئی ۔ جو کچھ ہوا، وہ ان کے اپنے الفاظ میں پڑھیے:

ابو مخنف نے ابو خباب الکلبی کے واسطے عمارہ بن ربیعہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: جب شیعان علی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ  میدان صفین میں گئے تھے تو باہم ایک دوسرے کے دوست تھے اور ہر ایک دوسرے سے محبت کرتا تھا۔ جب یہ میدان صفین سے واپس لوٹ کر آئے تو یہ سب ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ ہر ایک، دوسرے سے کینہ رکھتا تھا۔ یہ لوگ میدان صفین میں جب تک علی رضی اللہ عنہ کے  لشکر میں رہے، خوش رہے لیکن جب تحکیم کا واقعہ پیش آیا تو یہ سب ایک دوسرے کی راہ روکنے لگے۔ آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں دیتے اور ایک دوسرے کو کوڑے مارتے۔ [10]

ابو مخنف کی اس گھر کی گواہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ صفین کے بعد  اللہ تعالی کے عذاب کا کوڑا حرکت میں آیا اور باغیوں کی پیٹھ پر بری طرح برسا۔ اب اس تحریک میں پھوٹ پڑ گئی اور ان میں باہمی دشمنی عروج کو پہنچ گئی۔ ابو مخنف (d. 157/774)کی ان روایات کے مطالعے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان صاحب کا مقصد اپنے زمانے کی باغی تحریک کو تاریخی دلائل کی بنیاد پر منظم کرنا تھا۔  انہوں نے جنگ صفین، تحکیم اور پھر کربلا کے واقعات پر کتابیں لکھیں اور ان میں اپنی تحریک کی غلطیاں بھی بیان کر دیں تاکہ اس کے ساتھی آئندہ ان غلطیوں سے محفوظ رہ سکیں۔ 

ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ باغی تحریک میں بہت سے عناصر شامل تھے جن کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف تھے۔  یقینی طور پر اب ان کے مابین مفادات کا ٹکراؤ ہوا  ہو گا جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔  حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو مخلص مسلمان تھے، وہ پہلے ہی ان باغیوں سے نفرت کرتے تھے۔ دوسری جانب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو لوگ تھے، وہ نہایت ہی مخلص اور یکجان تھے اور ان کے اندر کسی قسم کا کوئی اختلاف موجود نہ تھا۔ اسی موقع پر باغی تحریک دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور ان کے الگ ہو جانے والے گروہ کو "خوارج" کا نام دیا گیا۔ اس کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے۔

واقعہ تحکیم کی روایات کس حد تک درست ہیں؟

طبری میں واقعہ تحکیم کی بھی تمام تر روایات ابو مخنف ہی کی روایت کردہ ہیں  اور ان صاحب نے صحابہ کرام سے متعلق اپنے بغض کو حسب عادت ان روایات میں داخل کر دیا ہے۔ ان صاحب نے حضرت ابو موسی اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما دونوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اور حضرت ابو موسی کو معاذ اللہ بے وقوف اور حضرت عمرو کو مکار اور دھوکے باز ظاہر کیا ہے۔  اس تاثر کا جھوٹ اسی سے واضح ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات کو ذمے دار اور حساس عہدوں پر فائز کیا تھا۔

ابو مخنف کے بیان کے مطابق رمضان 37/657 میں  دومۃ الجندل کے مقام پر دونوں حکم اکٹھے ہوئے۔ دونوں کے ساتھ چار چار سو ساتھی تھے۔[11]  راوی کا کہنا یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں زبردست پھوٹ پڑی ہوئی تھی کیونکہ ان کی بڑی تعداد آپ سے مخلص نہیں تھی۔ تفصیل ان صاحب کے اپنے الفاظ میں پڑھیے:

ابو مخنف نے مجالد بن سعید اور  شعبی کے واسطے زیاد بن النضر الحارثی کا بیان نقل کیا ہے : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چار سو افراد روانہ فرمائے اور ان کا امیر شریح بن ہانی الحارثی کو مقرر کیا۔ ان کے ساتھ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی تھے، جو لوگوں کو نماز پڑھاتے اور ان آدمیوں کے کاموں کا انتظام کرتے۔ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ انہی کے ساتھ تھے۔  معاویہ نے عمرو بن عاص (رضی اللہ عنہما) کے ساتھ چار سو افراد روانہ کیے تھے۔ یہ دونوں گروہ اذرح میں دومۃ الجندل کے مقام پر جمع ہوئے۔

معاویہ جب بھی کسی قاصد کو عمرو بن عاص کے پاس بھیجتے تو وہ آتا اور واپس چلا جاتا۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی کہ وہ کیا پیغام لایا ہے اور کیا پیغام لے کر واپس چلا گیا ہے؟ اہل شام اس سے کوئی سوال نہ کرتے۔ اس کے برعکس  جب حضرت علی کا کوئی قاصد ابن عباس کے پاس آتا تو اہل عراق فوراً ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے کہ امیر المومنین نے کیا لکھا ہے؟ اگر ابن عباس کچھ چھپاتے تو یہ لوگ ان پر مختلف قسم کی بدگمانیاں کرتے اور کہتے، ہمارا خیال ہے کہ انہوں نے ایسا ایسا لکھا ہو گا؟ ابن عباس نے مجبور ہو کر فرمایا: "کیا تم لوگوں میں ذرا سی بھی عقل نہیں ہے؟ کیا تم معاویہ کے قاصد کو نہیں دیکھتے  کہ وہ پیغام لے کر آتا ہے اور کسی کو خبر نہیں ہوتے۔ یہاں سے پیغام لے کر جاتا ہے تو کسی کو علم نہیں ہوتا کہ کیا پیغام لے کر گیا ہے۔ نہ اس پر شامی چیختے چلاتے ہیں اور نہ زبان سے کوئی لفظ نکالتے ہیں۔ ایک تم ہو کہ ہر وقت نئی نئی بدگمانیاں کرتے  ہو۔ [12]

ابو مخنف اور دیگر باغی راویوں نے واقعہ تحکیم سے متعلق لکھا ہے کہ اس میں حضرت ابو موسی اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے مابین  تنہائی میں گفتگو ہوئی۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ وہ پوری ہی گفتگو مکالمے کی صورت میں اس طرح نقل کرتے ہیں کہ گویا خود ان حضرات کے ساتھ  موجود تھے اور یا تو ٹیپ ریکارڈر ان کے پاس تھا یا پھر شارٹ ہینڈ میں نوٹس لے رہے تھے۔  اس ضمن میں وہ ان کا پورا مکالمہ نقل کرتے ہیں  جس کی دو روایتیں ہیں جو ایک دوسرے کے متضا دہیں:

پہلی روایت

روایت یہ ہے:

فحدثني عبد الله بن أحمد، قال: حدثني أبي، قال: حدثني سليمان بن يونس بن يزيد، عن الزهري۔ اس روایت کے مطابق حضرت عمرو نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کو خلیفہ بنانے کی تجویز پیش کی تو حضرت ابو موسی نے اس کی تردید کی اور پھر یہ دونوں ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہوئے باہر آئے۔ حضرت ابو موسی نے حضرت عمرو کے متعلق یہ آیت پڑھی : وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا  یعنی"انہیں اس شخص کا قصہ سنائیے جسے ہم نے اپنی آیات دیں تو وہ ان سے نکل گیا۔" اس پر حضرت عمرو نے ان کے بارے میں یہ آیت پڑھی: مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَاراً  یعنی "جنہیں تورات دی گئی، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس نے کتابوں کا بوجھ اٹھایا ہو۔"[13]

دوسری روایت 

دوسری روایت کے مطابق حضرت عمرو اور ابو موسی رضی اللہ عنہما نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں ہی کو معزول کر دیا جائے اور فیصلہ عام مسلمانوں پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ جسے چاہیں اپنا خلیفہ بنا لیں۔ اس کے بعد یہ حضرت باہر آئے۔ حضرت عمرو نے حضرت ابو موسی کو کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور مجھ سے عمر میں بڑے ہیں، اس وجہ سے آپ اعلان پہلے کیجیے۔ ابن عباس نے حضرت ابو موسی کو کہا بھی کہ انہیں ہی پہلے اعلان کرنے دیجیے، آپ پہلے اعلان نہ کریں مگر انہوں نے بات نہ مانی۔ آگے کی روایت یہ ہے:

قال أبو مخنف: حدثني أبو جناب الكلبي: حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے پہلے اعلان کیا: لوگو! ہم نے اس امت کی خلافت کے معاملے پر غور کیا تو اس سے بہتر کوئی صورت نہیں دیکھی جس پر میرا اور عمرو کا اتفاق ہوا ہے۔ وہ یہ کہ علی اور معاویہ دونوں کو ہم معزول کر دیں اور اس خلافت کو امت پر چھوڑ دیں کہ وہ جسے پسند کریں، اپنا خلیفہ منتخب کر لیں۔ اس لیے میں نے علی اور معاویہ دونوں کو معزول کیا ۔ آپ لوگ اس کام میں خود غور کر لیجیے اور جسے آپ اس خلافت کا اہل سمجھیے، اسے یہ خلافت سونپ دیجیے۔"اس کے بعد آپ پیچھے ہٹ گئے اور  حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا :

"انہوں (ابو موسی) نے جو کہا، وہ آپ نے سن لیا۔ انہوں نے اپنے امیر کو معزول کر دیا ہے، میں بھی انہیں معزول کرتا ہوں جنہیں انہوں نے معزول کیا لیکن میں اپنے امیر معاویہ کو برقرار رکھتا ہوں کیونکہ وہ عثمان بن عفان کے وارث اور ان کے قصاص کے طلب گار ہیں اور لوگوں میں سب سے زیادہ اس مقام کے حق دار ہیں۔ "

اس پر ابو موسی نے فرمایا: "عمرو! تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ اللہ تعالی تمہیں نیک کام کی توفیق  دے، تم نے وعدہ خلافی  کی اور دھوکہ  دیا۔ تمہاری مثال ایسی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ "اس کی مثال اس کتے کی سی ہے اگر اسے کچھ ڈالو، تب بھی زبان نکالے رہتا ہے اور اگر چھوڑ دو، تب بھی زبان نکالے رہتا ہے۔ " اس پر عمرو نے جواب دیا کہ تمہاری مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوں۔

اس کے بعد شریح بن ہانی نے عمرو پر کوڑے کے ذریعے حملہ کر دیا۔ اس پر عمرو کے بیٹے نے شریح کو کوڑے مارنے شروع کر دیے اور مار کٹائی شروع ہو گئی۔ شامیوں نے ابو موسی کو تلاش کیا تو وہ مکہ کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔  اس فیصلے کی اطلاع جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے نمازوں میں حضرت معاویہ، عمرو بن عاص، ابو الاعور اسلمی، حبیب بن مسلمہ، عبدالرحمن بن خالد، ضحاک بن قیس اور ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہم پر لعنت بھیجنا شروع کر دی۔ جب حضرت معاویہ کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے نمازوں میں حضرت علی، ابن عباس، اشتر، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم پر لعنت بھیجنا شروع کر دی۔[14] انا للہ و انا الیہ راجعون۔

افسوس کہ بعد کے مورخین نے اسی دوسری روایت کو سوچے سمجھے بغیر بیان کرنا شروع کر دیا، جس سے یہ مشہور ہو گئی۔  نہ تو ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایسی بدگمانی کر سکتے ہیں کہ جن صحابہ کور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن قرار دیا، ان کے لیے دوران نماز لعنت کا اہتمام فرمائیں اور نہ ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  کے بارے میں یہ بدگمانی رکھتے ہیں کہ وہ  حضرت علی اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر لوگوں کے خلاف ایسی جوابی کاروائی کریں۔

اب ہم ان دونوں روایات کا موازنہ اور تجزیہ کرتے ہیں۔  اگر آپ نے اب تک پہلے دو ابواب کا مطالعہ نہیں کیا تو روایت کے تجزیہ و تنقید کے اصولوں کا وہاں مطالعہ ضرور کر لیجیے۔ ان روایات کی سند اور متن میں غور کیا جائے تو یہ امور سامنے آتے ہیں:

1۔ پہلی روایت کی سند طبری نے یہ بیان کی ہے: فحدثني عبد الله بن أحمد، قال: حدثني أبي، قال: حدثني سليمان بن يونس بن يزيد، عن الزهري۔ باغیوں نے اس سند کو ابن شہاب الزہری (58-124/677-741)سے منسوب کیا ہے جو واقعہ تحکیم کے 21  سال بعد پیدا ہوئے۔  وہ واقعے کے عینی شاہد نہیں تھے اور معلوم نہیں کہ انہوں نے کس سے سن کر یہ روایت بیان کی ہے۔   اگر بیس برس کی عمر میں بھی انہوں نے اس روایت کو سنا ہو، تو کم از کم ایک ایسا شخص ہے جو اس سند میں نامعلوم ہے۔  ممکن ہے کہ یہ نامعلوم شخص باغی تحریک کا کوئی کارکن ہو۔ پھر زہری سے اس روایت کو سلیمان بن یونس بن یزید ایلی روایت کر رہے ہیں۔ سلیمان براہ راست زہری کے شاگرد نہیں ہیں بلکہ ان کے والد یونس بن یزید الایلی زہری کے شاگرد ہیں اور ان کا ناقابل اعتماد ہونا ہم اس کتاب میں بار بار بیان کر چکے ہیں۔

2۔ دوسری روایت کی سند طبری نے یوں بیان کی ہے: قال أبو مخنف: حدثني أبو جناب الكلبي۔  اس سند میں سب سے پہلے تو یہی ابو مخنف (d. 157/774)ہیں جو صحابہ کرام سے متعلق دل میں نہایت بغض رکھتے ہیں اور ان کے جھوٹ گھڑنے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ دوسرے صاحب ابو جناب الکلبی (d. 150/766) ہے جن کا اصلی نام یحیی بن ابی الحیہ الکلبی الکوفی ہے۔ ان کے بارے میں جرح  و تعدیل کے مختلف ماہرین کے ارشادات یہ ہیں: یحیی القطان کہتے ہیں: میں جائز نہیں سمجھتا کہ اس کی روایتیں نقل کروں۔ نسائی اور دار قطنی کا قول ہے کہ یہ  ضعیف راوی ہے۔ ابو زرعہ اور یحیی بن معین  کہتے ہیں کہ  یہ صدوق ہے مگر تدلیس کرتا ہے۔ ابن الدورقی عن یحیی: ابو جناب میں ویسے تو حرج نہیں مگر یہ تدلیس کرتا ہے۔فلاس کا کہنا ہے کہ  متروک راوی ہے۔ [15] ابن عدی بیان کرتے ہیں کہ یہ  کوفہ کے شیعہ گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔[16] ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ   اس سے کوئی بات نہ لکھو، وہ قوی نہیں ہے۔ [17]

اس روایت کو ابو مخنف اور ابو جناب الکلبی کے سوا اور کوئی روایت نہیں کرتا ہے اور ابو جناب سے لے کر واقعہ تحکیم کے عینی شاہدوں تک کسی کا نام بیان نہیں ہوا۔ ابو جناب الکلبی 150/766 میں فوت ہوئے اور انہوں نے یہ روایت واقعہ تحکیم کے سو برس بعد بیان کی ہو گی لیکن  درمیان کے تمام راوی غائب ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کس قسم اور کس درجے کے لوگ ہیں؟

3۔ دونوں روایات میں شدید تضاد پایا جاتا ہے۔ پہلی روایت کے مطابق حضرت ابو موسی اور عمرو رضی اللہ عنہما میں اختلاف تنہائی ہی میں ہو گیا تھا اور وہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے باہر نکلے اور پھر باہر نکل کر ایک دوسرے کی قصیدہ گوئی فرمائی۔  دوسری روایت کے مطابق دونوں اتفاق رائے کر کے بڑے اچھے انداز میں نکلے۔ پھر اپنے اپنے اعلانات کیے اور اس کے بعد ان میں تلخ کلامی ہوئی جس میں انہوں نے آیات پڑھیں۔  اب ان دونوں متضاد روایتوں میں سے کس روایت کو مانا جائے؟

4۔ حضرت ابو موسی نے جو آیت پڑھی، اس کےبارے میں یہ روایتیں متضاد تصاویر پیش کرتی ہیں۔ پہلی روایت کے مطابق آیت  7:175 کا ایک ٹکڑا آپ نے تلاوت کیا جبکہ دوسری روایت کے مطابق آیت 7:176 کا ایک حصہ پڑھا۔  اگر یہ دونوں جلیل القدر حضرات  ایک دوسرے کے خلاف ایسی بدزبانی کرتے تو معاملہ پھر یہیں تک محدود نہ رہتا۔ فریقین کے چار چار سو آدمی موجود تھے، ان میں جنگ بھی چھڑ سکتی تھی۔ پھر معاملہ صرف کوڑوں سے پیٹنے تک محدود نہ رہتا بلکہ تلواریں نکل آتیں۔

5۔ دلچسپ امر یہ ہے  کہ واقعہ تحکیم کے وقت دونوں جانب سے چار چار سو افراد وہاں موجود تھے لیکن  کسی نے یہ تفصیلات بیان نہیں کی ہیں۔  صرف  زہری اور ابو جناب الکلبی اسے بیان کرتے ہیں جن میں سے ایک اس واقعے کے اکیس برس بعد پیدا ہوئے  اور دوسرے کا زمانہ بھی اس واقعے کے سو برس بعد کا ہے۔

6۔ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی حالت نماز میں ایک دوسرے پر لعنت کی بات ایسی ہے جو عقل میں نہیں آتی۔ کہاں تو یہ حضرات ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے ہیں  اور کہاں ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اوپر بیان کردہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خط ہی دیکھ لیجیے، اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا ارشادات ہیں۔ اسی طرح حضرت معاویہ کی حضرت علی سے متعلق رائے ہم آگے بیان کریں گے۔  یہ محض ان راویوں کا بغض ہے جسے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبان سے کہلوانے کی ناکام کوشش کی ہے۔

7۔ اگر حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے دھوکہ دہی کی ہوتی، جیسا کہ ان روایات میں بیان کیا گیا ہے، تو مخلص مسلمانوں کی کثیر تعداد ، جو ابھی غیر جانبدار تھی، اس صورت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جا ملتی۔ اسی طرح آپ کے کیمپ میں جو لوگ ابھی تردد کا شکار تھے، ان کا تردد بھی دور ہو جاتا۔  بعد کے واقعات سے یہ بات ثابت ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔

8۔  ابو جناب کلبی اور ابو مخنف نے یہ روایت گھڑتے وقت یہ بھی نہ سوچا کہ حضرت عمرو اور ابو موسی رضی اللہ عنہما میں سے عمر میں کون بڑا ہے۔ چنانچہ انہوں نے بڑے دھڑلے سے حضرت عمرو کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ’’آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور مجھ سے عمر میں بڑے ہیں۔ اس لیے آپ پہلے اعلان کریں تو میں بھی اعلان کروں۔‘‘ عمرو ہر معاملہ میں اسی طرح ابو موسی کو آگے کر دیتے تھے اور اسی طرح ہر معاملہ میں انہیں کہہ دیا کرتے تھے اور چاہتے یہ تھے کہ ان سے علی کی خلافت ختم کرنے کا اعلان کرا دیں۔[18]

حضرت ابو موسی اشعری نے 63 برس کی عمر میں 50/673 میں وفات پائی۔[19] اس حساب سے ان کی تاریخ پیدائش  سن ہجری کی ابتدا سے تیرہ برس پہلے 609ء میں ہوئی۔ اس کے برعکس حضرت عمرو نے 43/664 میں  80 برس سے زائد عمر میں وفات پائی۔[20] اگر وفات کے وقت ان کی عمر کو بالفرض 81سال بھی مان لیں تو اس حساب سے ان کا سن پیدائش سن ہجری کی ابتدا سے 38 سال پہلے 585ء بنتا ہے۔  اس طرح، حضرت عمرو، حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہما سے عمر میں کم از کم 24-25 سال بڑے ضرور تھے۔ پھر اس بات کا کیا مطلب ہے کہ ’’آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور مجھ سے عمر میں بڑے ہیں۔ اس لیے آپ پہلے اعلان کریں تو میں بھی اعلان کروں۔‘‘ حضرت عمرو بن عاص کی طویل العمری کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ وہ سن ہجری کی ابتدا سے آٹھ برس پہلے 614ء میں ہجرت حبشہ کے موقع پر نجاشی کے دربار میں قریش کے سفیر  کے طور پر گئے تھے۔[21] اس وقت حضرت ابو موسی اشعری پانچ سال کے ہوں گے۔ اگر حضرت عمرو ان سے چھوٹے تھے تو کیا قریش نے کسی دو تین سال کے بچے کو سفیر بنا کر بھیج دیا تھا؟ سچ کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ 

محدثین نے اگرچہ واضح کر دیا تھا کہ ابو مخنف ایک جھوٹے آدمی ہیں اور ان کی بیان کردہ روایات کا کوئی اعتبار نہیں۔ افسوس کہ طبری اور بلاذری جیسے محقق علماء نے ابو مخنف کی ان روایات کو جوں کا توں اپنی کتاب میں درج کر لیا  اور محض سند میں اس کا نام دے کر یہ فرض کر لیا کہ بعد کی نسلوں کے لوگ اس کا نام دیکھ کر ان روایات کو پرکھ لیں گے۔ یقیناً محققین تو ایسا کر سکتے تھے لیکن عام مورخین نے ایسا نہ کیا کیونکہ انہیں ابو مخنف سے ہٹ کر کسی اور کی روایات نہ ملیں۔  اس طرح سے یہ روایات ایک کتاب سے دوسری کتاب میں نقل ہوتی چلی گئیں اور کچھ ہی عرصہ میں اس جھوٹے پراپیگنڈے کو "مستند تاریخ " کی حیثیت مل گئی۔ ابن کثیر نے البتہ ان روایات کا جعلی ہونا بیان کر دیا ہے۔ [22]

واقعہ تحکیم کی صحیح تفصیلات کیا ہیں؟

اوپر کی تفصیل سے واضح ہو چکا ہے کہ واقعہ تحکیم کی جو روایات طبری میں بیان ہوئی ہیں، ان کا کوئی سر پاؤں نہیں ہے اور وہ انہی باغی راویوں کا گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر صحیح روایات سے اس واقعے  کی کیا تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب نے ہمیں اس مجبور کر دیا ہے کہ ہم احادیث و آثار  اور تاریخ کے پورے ذخیرے کا جائزہ لیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ تحکیم جیسا اہم واقعہ، جس کے عینی شاہدین 800 کے قریب تھے، کے بارے میں کتب  تاریخ میں بہت کم مواد موجود ہے۔ جو روایتیں ملتی ہیں، وہ یہی یونس بن یزید ایلی اور ابو مخنف کی بیان کردہ ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس واقعے کی تفصیلات کو جان بوجھ کر  یا تو چھپایا گیا ہے، یا اس درجے میں مسخ کر دیا گیا ہے کہ حقیقت تک رسائی ممکن نہیں۔ البتہ بعد میں جو واقعات پیش آئے، ان سے ہم یہ نتائج اخذ کر سکتے ہیں کہ  حضرت ابو موسی اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما  کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے اور انہوں نے معاملے کو مہاجرین و انصار کے سپرد کر دیا تھا۔ ہاں یہ دونوں اس بات پر متفق ہو گئے تھے کہ  جب تک اتفاق رائے نہیں ہو جاتا، اس وقت تک حضرت علی عراق پر، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما شام پر حکومت کرتے رہیں یہاں تک کہ اللہ تعالی ان میں اتفاق کی کوئی صورت پیدا کر دے۔

واقعہ تحکیم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہلے خوارج اور پھر ایرانیوں کی جانب سے بغاوت کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے اہل شام کے ساتھ اتفاق کی کوئی صورت نہ نکل سکی۔ خوارج کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں حضرت علی شہید ہوئے اور پھر  حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس معاملے کو  اتفاق رائے تک پہنچا دیا۔

واقعہ تحکیم کے بعد کے واقعات

جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ واقعہ تحکیم کے بعد باغی تحریک میں پھوٹ پڑ گئی اور ان کا ایک بڑا حصہ خوارج کی شکل میں الگ ہو گیا۔ تین برس تک صورتحال یہ رہی کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما اپنے اپنے علاقوں پر حکومت کرتے رہے۔  طبری کا بیان ہے کہ 40/660 میں حضرت علی اور معاویہ کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ ہوا اور یہ طے پایا کہ دونوں اپنے اپنے علاقوں پر حکومت کرتے رہیں:

اسی سال حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان جنگ بندی کا فیصلہ ہوا۔ باہمی طویل خط و کتابت رہی۔ کتاب کی طوالت کے خوف سے ہم اس خط و کتابت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ فیصلہ یہ قرار پایا کہ باہمی جنگ بندی کر دی جائے۔ عراق علی  کی حکومت میں شمار ہو گا اور شام معاویہ کی حکومت میں۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے علاقے پر نہ لشکر کشی کریں گے اور نہ کسی قسم کی غارت گری مچائیں گے۔[23]

یہ معاہدہ یقیناً ہوا ہو گا اور ان دونوں جلیل القدر صحابہ سے اسی کی امید کی جا سکتی ہے۔ تاہم طبری نے اس سال 40/660کے بعض ایسے واقعات نقل کر دیے ہیں، جن پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ ان کی تفصیل یہ ہے:

·       حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بسر بن ابی ارطاۃ کی سرکردگی میں ایک فوج حجاز اور یمن پر حملہ کے لیے بھیجی جس نے وہاں ان کی فوج نے ظلم ڈھائے، اس کا کیا جواز تھا؟ جواباً حضرت علی رضی اللہ عنہ نے  جاریہ بن قدامہ اور وہب بن مسعود کو فوج دے کر بھیجا جنہوں نے نجران اور مکہ کے لوگوں پر ظلم و ستم کیا۔ اس کا جواز کیا تھا؟

·       حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا، اس کی وجہ کیا تھی؟

یہاں ہم ان دونوں سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

کیا حضرت معاویہ و علی نے حجاز و یمن میں فوج کشی کی؟

طبری کی روایت میں بیان  ہوا ہے کہ 40/660 میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بسر بن ابی ارطاۃ  کی قیادت میں تین ہزار جنگجوؤں کا ایک لشکر حجاز بھیجا۔ اس لشکر نے مدینہ پر قبضہ کر لیا اور شہر کا کوئی شخص بھی مقابلے پر نہ نکلا۔ اہل مدینہ نے حضرت معاویہ کی بیعت کر لی۔ اس کے بعد یہ لشکر مکہ کی طرف بڑھا  اور اس پر قبضہ کر لیا۔ وہاں ابو موسی اشعری حضرت علی رضی اللہ عنہما  کی جانب سے گورنر تھے۔  بسر نے ان سے اچھا سلوک کیا۔ اس کے بعد یہ لشکر یمن کی طرف بڑھا جہاں عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما گورنر تھے۔ عبیداللہ  خوف سے فرار ہو کر کوفہ چلے آئے مگر اپنے گھر والوں کو یمن ہی چھوڑ آئے۔ بسر نے  یمن میں شیعان علی کی ایک بڑی جماعت کو قتل کیا اور اس کے ساتھ عبیداللہ کے دو بچوں عبدالرحمن اور قثم کو بھی قتل کیا ۔اس کی اطلاع ملتے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جاریہ بن قدامہ اور وہب بن مسعود کو دو ہزار کا لشکر دے کر بھیجا۔ جاریہ نے نجران شہر کو آگ لگا دی اور پورے شہر کو جلا کر راکھ کر دیا۔ اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بہت سے حامیوں کو قتل کیا۔ بسر اور اس کے ساتھی شام بھاگ گئے۔  [24]

اس روایت میں سند اور متن کے اعتبار بہت سے مسائل ہیں۔ پہلے ہم اس روایت کا سند کے اعتبار سے تجزیہ کرتے ہیں اور پھر متن کے۔ طبری میں اس روایت کی یہ سند بیان ہوئی ہے، اس کی سند یہ ہے: فذكر عن زياد بن عبد الله البكائي، عن عوانة۔  اب ان دونوں حضرات کے بارے میں ماہرین جرح و تعدیل کی آراء پڑھیے۔

زیاد بن عبداللہ البکائی (d. 183/799)کے بارے میں ماہرین کی آراء یہ ہیں: ابو حاتم کہتے ہیں کہ بکائی سے روایت کرنا درست نہیں۔ ابن المدینی کے مطابق یہ ضعیف راوی ہیں، میں نے ان سے روایتیں لکھی بھی ہیں اور ترک بھی کی ہیں۔ ابن معین کے مطابق  جنگوں کی تاریخ کے بارے میں  ان کی روایتوں میں حرج نہیں لیکن دیگر امور میں ان کی روایتیں قبول نہ کی جائیں گی۔ نسائی کے نزدیک  یہ صاحب ضعیف ہیں۔ ابن سعدکا کہنا ہے کہ  وہ محدثین کے نزدیک ضعیف تھے لیکن ان کی روایتیں نقل کی جاتی تھیں۔ احمدبن حنبل البتہ یہ کہتے ہیں کہ  ان کی حدیث ، سچے لوگوں کی حدیث ہے۔[25]

ان آراء کا خلاصہ یہ ہے کہ سوائے احمد بن حنبل کے، اکثر ماہرین کے نزدیک زیاد البکائی ضعیف ہے۔  دوسرے راوی عوانہ ہیں، جو غالباً عوانہ بن حکم الکلبی ہے۔ ان صاحب کی زیادہ تفصیلات ہمیں فن رجال کی  کتب میں نہیں مل سکیں۔ صرف اتنا لکھا ہے:

عوانہ بن الحکم بن عیاض بن وزر الکلبی جن کی کنیت ابو الحکم کوفی تھی، بڑے اخباری (ماہر تاریخ) تھے اور فصیح لوگوں میں سے ایک تھے۔ ان کی کتابوں میں "التاریخ" اور "سیر معاویہ و بنی امیہ" اور دیگر کتب شامل ہیں۔ ان سے ہشام کلبی وغیرہ روایتیں کرتے تھے۔  وہ نقل کرنے کے معاملے میں "صدوق" یعنی سچے آدمی تھے (یعنی جو سچ یا جھوٹ ان کے سامنے بیان ہوتا، اسے ٹھیک ٹھیک نقل کر دیتے تھے۔) محمد بن اسحاق الندیم کا قول ہے کہ وہ 147/764 میں فوت ہوئے۔ [26]

واضح ہے کہ عوانہ جب 147/764 میں فوت ہوئے تو انہوں نے یہ روایت اس واقعے کے تقریباً سو برس بعد بیان کی ہو گی۔ عوانہ ہرگز اس واقعے کے عینی شاہد نہیں ہو سکتے۔ درمیان میں نجانے کتنی کڑیاں غائب ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ یہ نامعلوم راوی کس قسم کے لوگ ہیں، قابل اعتماد ہیں بھی یا نہیں۔ جتنی نامکمل سند اس روایت کی موجود ہے، وہ تو قابل اعتماد نہیں ہے۔  یہ بھی ممکن ہے کہ عوانہ کے شاگرد ہشام کلبی، جو انہی کے ہم قبیلہ ہیں، نے ان سے یہ باتیں منسوب کر دی ہوں۔

درایت کے اعتبار سے دیکھیے تو اس روایت کا سر پاؤں ہی سمجھ میں نہیں آتا۔ اس پر یہ سوال وارد ہوتے ہیں:

1۔ کیا تین ہزار کا لشکر اتنا بڑا ہو سکتا ہے جسے دیکھ کر مدینہ، مکہ اور یمن کے لوگ ذرا سی بھی مزاحمت نہ کریں اور عبیداللہ بن عباس اس کے خوف سے فرار ہو کر کوفہ چلے آئیں؟ یمن آج بھی ہمارے سامنے ہے جہاں لڑائی جھگڑے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ کیا اس دور کے اہل یمن نے چوڑیاں پہن رکھی تھیں کہ تین ہزار کے لشکر کو دیکھتے ہیں اپنی گردنیں جھکا دیں کہ آؤ اور ہمیں قتل کر دو۔ 

2۔ جب انسان کسی خطرے کے سبب اپنا وطن چھوڑتا ہے تو سب سے پہلے اپنے بیوی بچوں کو وہاں سے نکالتا ہے۔ عبیداللہ بن عباس نے اپنی جان تو بچا لی لیکن اپنے بچوں کو وہیں چھوڑ آئے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟

3۔ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ایسے نامعقول لوگوں کو بھیجیں گے جو پورے شہر نجران کو جلا کر راکھ کر دیں۔

4۔ عبداللہ اور عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم ، دونوں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کزن ہیں۔ یہ دونوں حضرات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں موجود تھے اور ان کے وفادار رہے۔  انہوں نے کبھی ان بچوں کے قتل کا گلہ تک نہ کیا۔ کیا کوئی شخص اپنے بچوں کے قاتل کے ساتھ وفادار رہ سکتا ہے؟ دلچسپ امر یہ ہے کہ عبیداللہ بن عباس کی بیٹی لبابہ کی شادی، حضرت معاویہ کے بھتیجے ولید بن عتبہ بن ابی سفیان سے ہوئی۔ [27] اگر حضرت معاویہ نے ان کے بچوں کو قتل کروایا ہوتا تو یہ رشتہ کیسے طے پاتا؟

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت کسی نامعلوم شخص نے اس لیے وضع کی ہے کہ اس کی مدد سے حضرت معاویہ اور علی رضی اللہ عنہما کو بدنام کیا جا سکے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

کیا حضرت عبداللہ بن عباس نے حضرت علی کا ساتھ چھوڑ دیا؟

راویوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پر یہ تہمت  باندھی ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا۔  یہ روایت تاریخ طبری میں موجود ہے مگر طبری نے اس ضمن میں خود ہی بیان کر دیا ہے کہ اس معاملے میں ان تک دو مختلف روایتیں پہنچی ہیں۔ لکھتے ہیں:

عام تاریخ نگار کہتے ہیں کہ اس سال یعنی 40/660 میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بصرہ چھوڑ کر مکہ چلے گئے تھے لیکن بعض اہل تاریخ نے اس کا انکار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس برابر بصرہ کے گورنر رہے یہاں تک کہ حضرت علی کی شہادت کے بعد حضرت حسن نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم سے صلح کر لی۔ اس (صلح) کے بعد عبدللہ بن عباس بصرہ چھوڑ کر مکہ چلے گئے تھے۔ [28]

اس کے بعد طبری نے ابو مخنف کی وہ روایت بیان کی ہے جس کے مطابق ایک باغی ابو الاسود وائلی نے حضرت علی کو ابن عباس کے بارے میں شکایتی خط لکھا جس میں ان پر مال میں کرپشن کا الزام لگایا۔  یہ باغی پارٹی کا ساتھی تھا اور اقتدار پر کنٹرول کے لیے بصرہ کا قاضی بنا ہوا تھا۔ خط کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے تعریفی سرٹیفکیٹ  جاری کیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مال  کا حساب طلب کیا۔ ابن عباس اس پر غصے ہو کر بصرہ چھوڑ گئے اور یہاں کے بیت المال کا سار امال لے گئے۔ اس موقع پر لوگوں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ [29]

واقعے کی سند طبری میں یہ بیان ہوئی ہے: حدثني عمر بن شبة، قال: حدثني جماعة عن أبي مخنف، عن سليمان ابن أبي راشد، عن عبد الرحمن بن عبيد أبي الكنود۔ اس روایت کے جھوٹ ہونے سے متعلق اتنا ہی کافی ہے کہ اس کی سند میں ابو مخنف موجود ہے۔ پھر ابو مخنف سے بھی ایک جماعت نے یہ روایت سنی ہے جس کے بارے میں معلوم نہیں کہ یہ کون لوگ تھے اور کس درجے میں قابل اعتماد تھے۔ 

یہ بات البتہ تسلیم کی جا سکتی ہے کہ باغیوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر کرپشن کا الزام عائد کیا ہو کیونکہ ان کی یہ عادت رہی تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخلص ساتھیوں کو ان سے دور کیا جائے اور ان کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے۔  ابن عباس ان مخلصین میں تھے جو شروع سے لے کر اب تک حضرت علی کے ساتھ تھے اور باغی انہیں علیحدہ نہیں کر سکتے تھے۔ حضرت علی سے البتہ یہ امید نہیں کی جا سکتی ہے کہ وہ ایسے کسی الزام کے سبب اپنے چچا زاد بھائی ، جسے وہ بچپن سے جانتے ہیں، پر شک کریں اور باغیوں کو تعریفی سرٹیفکیٹ جاری کریں۔ عین ممکن ہے کہ ان باغیوں نے وہ خط خود ہی آپ کی جانب سے لکھ مارا ہو۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1] ابن عساکر۔ 46/134۔ باب عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ

[2]  ایضا۔ 46/137

[3]  ایضا۔ 46/143

[4]  بلاذری۔ 3/107

[5]  طبری۔ 3/2-248

[6]  نامعلوم مصنف (منسوب بہ ابو حنیفہ الدینوری)۔ الاخبار الطوال۔ 208۔ لندن: مطبع بریل (1888)۔ www.al-mostafa.com (ac. 6 Apr 2012)

[7]  طبری۔ 3/2-249

[8]  ایضاً ۔ 3/2-281

[9]  ذہبی۔ راوی 9932۔ 7/320

[10]  طبری۔ 3/2-258

[11]  ایضاً ۔ 3/2-263

[12]  ایضا

[13]  ایضاً ۔ 3/2-252

[14]  ایضاً ۔ 3/2-267

[15]  میزان الاعتدال ، راوی نمبر 9499

[16]  ابن عدی، الکامل فی الضعفاء۔ ص 2669

[17]  ابن ابی حاتم الرازی۔  الجرح و التعدیل ۔ 9/138۔ راوی نمبر 587۔ www.waqfeya.com (ac. 8 Aug 2012)

[18]  طبری۔ 3/2-266

[19]  ابن عبد البر۔ الاستیعاب۔ صحابی نمبر 1650۔ 1/588۔

[20]  ایضا۔ صحابی نمبر 1941۔ 2/100۔

[21]  طبری۔ 2/1-79

[22]  ابن کثیر۔

[23]  طبری۔ 3/2-346

[24]  ایضاً ۔ 3/2-345

[25]  ذہبی۔ میزان الاعتدال ، راوی نمبر 2952

[26] http://www.islamweb.net/newlibrary/showalam.php?id=1080 (ac. 29 Mar 2012)

[27]  مصعب الزبیری (156-236/773-851)۔ نسب قریش۔ 133۔ www.waqfeya.com (ac. 14 Aug 2012)

[28] طبری۔ 3/2-347

[29]  ایضاً ۔ 3/2-348