بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 5: عہد علوی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے باہمی تعلقات

باغی راویوں کی پوری کوشش رہی ہے کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کو معاذ اللہ ایک دوسرے کا دشمن ثابت کیا جائے۔ کبھی وہ ان کی زبان سے ایک دوسرے پر لعنت  کہلواتے ہیں، کبھی ایک دوسرے کو برا بھلا کہلواتے ہیں اور ان کے اسلام میں شک کرواتے ہیں۔  درحقیقت یہ ان کے اپنے جذبات ہیں جنہیں وہ زبردستی حضرت علی یا معاویہ رضی اللہ عنہما کی زبان سے کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی تمام روایات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان کی سند میں کوئی نہ کوئی جھوٹا راوی جیسے ابو مخنف، ہشام کلبی، سیف بن عمر یا واقدی ضرور موجود ہو گا۔ یہاں ہم چند روایات اور کچھ نکات پیش کر رہے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرات کی ایک دوسرے کے بارے میں کیا رائے تھی؟

1۔  حضرت علی کے بھائی  عقیل اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے قریبی ساتھی تھے اور دوسری طرف حضرت معاویہ کے بھائی زیاد بن ابی سفیان ، حضرت علی کے قریبی ساتھی تھے اور آپ نے انہیں ایران و خراسان کا گورنر مقرر کر رکھا تھا۔ ایک بار عقیل، معاویہ کے پاس بیٹھے تھے تو معاویہ نے جی کھول کر علی کی تعریف کی اور انہیں بہادری اور چستی میں شیر ، خوبصورتی میں موسم بہار ، جود و سخا میں دریائے فرات سے تشبیہ دی اور کہا: ’’اے ابو یزید(عقیل)! میں علی بن ابی  طالب کے بارے میں یہ کیسے نہ کہوں۔ علی قریش کے سرداروں میں سے ایک ہیں اور وہ نیزہ ہیں جس پر قریش قائم ہیں۔علی میں بڑائی کی تمام علامات موجود ہیں۔‘‘ عقیل نے یہ سن کر کہا: ’’امیر المومنین! آپ نے فی الواقع صلہ رحمی کی۔‘‘[1]

2۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین کے بعد جو خط شہروں میں بھیجا، اس میں فرمایا: ہمارے معاملہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ ہم میں اور اہل شام میں مقابلہ ہوا۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک، ہمارا اور ان کا نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے متعلق دعوت ایک۔ اس معاملے میں نہ وہ ہم سے زیادہ تھے اور نہ ہم ان سے۔ صرف ایک معاملے میں ہم میں اختلاف ہوا اور وہ تھا خون عثمان کا جبکہ ہم اس سے بری تھے۔ [2]

3۔ ایک شخص نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی دینی سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’اس بارے میں علی بن ابی طالب سے پوچھ لیجیے، وہ مجھ سے زیادہ بڑے عالم ہیں۔‘‘ اس نے کہا: ’’امیر المومنین! آپ کی رائے، میرے نزدیک علی کی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’آپ نے تو بہت ہی بری بات کی اور آپ کی رائے بہت ہی قابل مذمت ہے۔ کیا آپ ان صاحب (علی) کی رائے کو ناپسند کر رہے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم سے عزت بخشی ہے؟ آپ نے انہیں فرمایا تھا:’علی! آپ میرے لیے وہی حیثیت رکھتے ہیں جو کہ موسی کے نزدیک ہارون (علیہما الصلوۃ والسلام) کی تھی۔ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘ ‘‘[3]

4۔ خوارج نے حضرت علی ، معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں شہید کرنے کا منصوبہ بنایا۔ حضرت معاویہ نے اپنے حملہ آور کو پکڑ لیا تو وہ کہنے لگا: "میرے پاس ایسی خبر ہے جسے سن کر آپ خوش ہو جائیں گے۔ اگر میں آپ سے وہ بیان کر دوں تو آپ کو بہت نفع پہنچے گا۔ " آپ نے فرمایا: "بیان کرو۔" کہنے لگا: "آج میرے بھائی نے علی کو قتل کر دیا ہو گا۔" آپ نے فرمایا: "کاش! تمہارا بھائی ان پر قابو نہ پا سکے۔"[4]

5۔ جنگ صفین کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "لوگو! آپ لوگ معاویہ کی گورنری کو ناپسند مت کریں۔ اگر آپ نے انہیں کھو دیا تو آپ دیکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے جیسے حنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتا ہے۔‘‘[5]

6۔ یزید بن اصم کہتے ہیں کہ جب علی اور معاویہ کے درمیان صلح ہو گئی تو علی اپنے مقتولین کی جانب نکلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ جنت میں ہوں گے۔‘‘ پھر معاویہ کے مقتولین کی طرف چلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ بھی جنت میں ہوں گے۔  (روز قیامت) یہ معاملہ میرے اور معاویہ کے درمیان ہو گا۔  فیصلہ میرے حق میں دیا جائے گا اور معاویہ کو معاف کر دیا جائے گا۔ مجھے میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بتایا تھا۔‘‘[6]

ان تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما میں ذاتی نوعیت کا کوئی اختلاف نہ تھا۔ دونوں میں صرف اسٹریٹجی پر اختلاف تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ باغیوں کی قوت کو اچھی طرح کچل دیا جائے جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خیال یہ تھا کہ اگر ان باغیوں سے اس وقت انتقام لیا گیا تو ان کے قبائل اٹھ کھڑے ہوں گے جس سے بہت بڑی خانہ جنگی پیدا ہو گی۔ باغی چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکومتی معاملات پر قبضہ کیے بیٹھے تھے، اس وجہ سے انہوں نے پوری کوشش کی کہ شام پر حملہ کر کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی قوت کو ختم کر دیا جائے ۔ اس کی وجہ سے جنگ صفین ہوئی جسے مخلص مسلمانوں نے بند کروا دیا۔ اس طرح سے باغیوں کا یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]   ابن عساکر۔ 42/416

[2]  سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خط نمبر 58

[3]   ابن عساکر۔ 42/170

[4]  طبری۔ 3/2-357

[5]  ابن ابی شیبہ۔ المصنف۔ 14/38850

[6] ابن عساکر۔ 59/139