بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 5: عہد علوی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مصر کی باغی پارٹی

ہم جانتے ہیں کہ شہادت عثمان کے وقت مصر باغی پارٹی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس سیکشن میں ہم ان کی اس مصری شاخ کے احوال کا مطالعہ کریں گے۔

شہادت عثمان کے بعد  مصر میں کیا ہوا؟

جیسا کہ ہم اوپر واضح کر چکے ہیں کہ یہاں مصر سے مراد فسطاط شہر ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کوفہ اور بصرہ کی طرز پر آباد کیا گیا۔  یہ اس وقت مصر کے صوبے کا دار الحکومت تھا اور اب یہ شہر،  موجودہ قاہرہ کا ایک حصہ بن چکا ہے اور یہاں  حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی بنائی ہوئی مسجد اب تک موجود ہے۔  قدیم مصر کے اور بھی شہر تھے جن میں اسکندریہ مصر کا قدیم دار الحکومت تھا مگر مسلمانوں کے زمانے میں  یہ تمام شہر فسطاط کی چھاؤنی ہی سے کنٹرول کیے جاتے تھے۔

آپ پڑھ چکے ہیں کہ کوفہ اور بصرہ کی طرح، فسطاط کو بھی باغیوں نے اپنا مرکز بنا لیا تھا اور ان کے جو گروہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے لیے مدینہ آئے تھے، ان میں سب سے بڑا گروہ مصر ہی سے آیا تھا۔  مصر کے گورنر حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے لیبیا سمیت تیونس تک کا علاقہ فتح کر  لیا تھا۔ جب انہیں باغیوں کے مدینہ پر حملے کی اطلاع ملی تو یہ اپنی فوج کے ساتھ مصر سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے نکلے لیکن ابھی راستے ہی میں تھے کہ خلیفہ کی شہادت کی اطلاع ملی۔

اوپر ہم محمد بن ابی حذیفہ کا ذکر کر چکے ہیں۔ اس شخص کی پرورش حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کی تھی اور اب یہ بڑا ہو کر بغیر کسی اہلیت کے کسی بڑے عہدے کا طالب تھا۔ حضرت عثمان نے اسے مصر بھیج دیا تاکہ یہ یہاں رہ کر ایڈمنسٹریشن میں مہارت حاصل کرے لیکن اس نے ابن ابی سرح کے ساتھ سرکشی کا رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے اس کی شکایت حضرت عثمان کو کی لیکن اسے کوئی سزا نہ دی۔ جب ابن ابی سرح مصر سے فوج لے کر نکلے تو ابن ابی حذیفہ نے مصر کی گورنری پر قبضہ کر لیا۔ یہ ایک کھلی بغاوت تھی جس کے نتیجے میں مصر پر باغیوں کا اقتدار قائم ہو گیا تھا۔  ابن ابی سرح نے باغیوں کے  علاقے میں واپس جانا مناسب نہ سمجھا اور شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا پہنچے۔ وہاں سے حضرت معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے مصر کی جانب فوج بھیجی اور ابن ابی حذیفہ کو قتل کر دیا۔

جنگ جمل سےپہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کو مصر کا گورنر مقرر فرمایا۔ یہ خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے اور اب قبیلہ خزرج کے سردار تھے۔  نہایت ہی اعلی درجے کے منتظم اور مخلص مسلمان تھے۔ انہوں نے مصر جا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت لی۔ صرف ایک علاقے "خربتا" کے دس ہزار لوگوں نے ان سے قصاص عثمان کا مطالبہ کیا اور بیعت کا فیصلہ موخر کیا۔  ان میں مسلمہ بن مخلد انصاری اور معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہما جیسے بزرگ انصاری صحابہ موجود تھے۔ قیس رضی اللہ عنہ نے ان سے نرمی کی اور حسن سلوک سے کام لیا، اس طرح سے مصر کا معاملہ بڑی حد تک سلجھ گیا۔

طبری نے یہاں ہشام کلبی اور ابو مخنف کی روایت  نقل کی ہے  اور ان دونوں راویوں کا  صحابہ سے بغض معلوم و معروف ہے۔ اس روایت میں انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک خط نقل کیا ہے جس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر تنقید ہے اور لکھا ہے کہ انہوں نے بدعتیں نکالیں۔[1] اس کے بعد انہی راویوں نے حضرت معاویہ اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہم کے درمیان خط و کتابت نقل کی ہے جس میں حضرت معاویہ، قیس بن سعد اور حضرت علی پر قتل عثمان کا الزام عائد کرتے ہیں اور حضرت قیس ان کی کردار کشی کرتے ہیں۔  اس کے بعد انہوں نے ایک سازش حضرت معاویہ کی طرف منسوب کی ہے جس کے مطابق انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قیس سے بدظن کرنے کے لیے ان کے جانب سے اپنے نام ایک جھوٹا خط لکھوا  کر حضرت  علی کو بھجوایا۔  اس خط میں حضرت قیس نے  معاویہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ اس خط کی وجہ سے حضرت علی نے قیس بن سعد کو مصر کی گورنری سے معزول کر دیا۔

ان روایات کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کے راوی ہشام کلبی اور ابو مخنف جیسے لوگ ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اصحاب رسول کی کردار کشی کی ہے۔ اوپر جو تفصیل دی گئی ہے، اس کی روشنی میں واضح ہے کہ یہ روایت جعلی  ہے اور اس کا موجود ہشام کلبی یا ابو مخنف میں سے کوئی ایک ہے کیونکہ حضرت علی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے دست راست اور سب سے بڑے حمایتی تھے۔ 

حقیقت یہ تھی کہ باغی لیڈر مصر پر خود قبضہ کرنا چاہتے تھے  جو کہ ان کی تحریک کا مرکز رہا تھا مگر یہاں قیس بن سعد رضی اللہ عنہما جیسے دانش مند اور ہوشیار گورنر کی وجہ سے انہیں اپنی دال گلتی نظر نہیں آ رہی تھی۔ چنانچہ عین ممکن ہے کہ انہوں نے خود یہ سازش کی ہو اور قیس کی جانب خط لکھ دیا  ہو ۔ جعلی خطوط کے اس فن میں وہ پہلے سے ید طولی رکھتے تھے۔ اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہما کی جگہ ان باغیوں کے ساتھی محمد بن ابی بکر کو مصر کا گورنر لگوایا جا سکے اور پھر مصر میں جی بھر کر من مانی کی جا سکے۔ اس کے لیے انہوں نے بہانہ یہ بنایا کہ  اگر قیس، معاویہ کے حامی نہیں ہیں تو پھر انہیں کہیے کہ خربتا کے ان دس ہزار لوگوں سے جنگ کریں جنہوں نے بیعت نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ مصر میں باغیوں  کے اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ  یہی خربتا کے دس ہزار لوگ تھے۔  انہی کلبی اور ابو مخنف کی روایت کے مطابق جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قیس کو ان لوگوں سے جنگ کا حکم دیا تو قیس نے جواب میں لکھا:

امیر المومنین! مجھے آپ کے حکم سے بہت تعجب ہوا ہے۔ کیا آپ مجھے ایسے گروہ سے جنگ کا حکم دے رہے ہیں، جو آپ کی حفاظت کر رہے ہیں اور آپ کے دشمنوں کو روکے ہوئے ہیں۔ اگر آپ ان سے جنگ کریں گے تو آپ کے دشمن ان کی حمایت کریں گے اور ان پر چڑھ دوڑیں گے۔ امیر المومنین! آپ میری بات تسلیم کیجیے، ان سے جنگ نہ کیجیے کیونکہ ان سے جنگ نہ کرنا بہتر ہے۔ والسلام۔ [2]

ہمیں یقین ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  جیسا صاحب حکمت اور صاحب دانش ایسا اقدام نہ کر سکتا تھا کہ جب کئی محاذ کھلے ہوں، وہاں ایک اور محاذ کھول لیتا۔ خربتا کے لوگوں نے بغاوت نہ کی تھی ، وہ صرف غیر جانبدار رہ کر باغیوں کو سزا دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کے خلاف لشکر کشی کا کوئی جواز نہ تھا۔  قیس بن سعد جیسے صائب الرائے شخص کی رائے بالکل درست تھی لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود باغیوں کو چین کیسے آتا۔ انہیں سب سے بڑھ کر تکلیف یہ ہو گی کہ جس مصر میں انہوں نے اپنی تحریک کو پروان چڑھایا، وہ قیس کے ذریعے ان کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔ چنانچہ انہوں نے کسی نہ کسی مجبور کر کے قیس بن سعد کو معزول کروایا اور ان کی جگہ محمد بن ابی بکر مصر کا گورنر لگوا دیا اور قیس کو ان کا ماتحت بنا دیا۔ قیس یہ بات برداشت نہ کر سکے اور مصر چھوڑ کر مدینہ چلے آئے۔

طبری نے ایک اور بے سر وپا روایت یہاں نقل کی ہے کہ جب قیس مدینہ پہنچے تو مروان اور اسود بن ابی البختری نے انہیں ڈرایا دھمکایا، جس کی وجہ  سے وہ مدینہ چھوڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے۔ اس پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھا جس میں بہت ڈانٹا کہ یہ تم نے کیا کیا۔ اگر تم علی کی مدد ایک لاکھ سواروں سے کرتے تو مجھے اتنا ناگوار نہ گزرتا جتنا کہ قیس جیسے ہوشیار شخص کو مدینہ سے نکال کر تم نے کیا ہے۔ [3]  اس روایت کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ مروان تو اس وقت مدینہ میں موجود نہ تھے بلکہ اسی وقت مدینہ سے نکل گئے تھے جب شہادت عثمانی کے فوراً بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد باغیوں نے گھیرا ڈال رکھا تھا۔  اس روایت کی سند یہ ہے: حدثني عبد الله، عن يونس، عن الزهري۔  اس کی سند میں وہی یونس بن یزید الایلی ہیں جو کہ سخت ناقابل اعتماد ہیں اور انہوں نے زہری سے عجیب و غریب روایتیں نقل کی ہیں۔محدثین نے ان کے بارے میں جو تفصیلات بیان کی ہیں، باب 2 میں آپ ان کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

مصر میں باغی پارٹی کا خاتمہ کیسے ہوا؟

ہشام کلبی اور ابو مخنف کی روایت کے مطابق محمد بن ابی بکر نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے خط و کتابت کی اور یہ سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا۔ طبری کہتے ہیں کہ چونکہ عام لوگ ان خطوط کا سننا برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے ہم انہیں نظر انداز کرتے ہیں۔[4] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان خطوط میں ان غالی راویوں نے جی کھول کر حضرت معاویہ اور علی رضی اللہ عنہما کی کردار کشی کی ہو گی، تبھی طبری جیسے انسان، جو ہر طرح کی روایت نقل کر دیتے ہیں،  نے بھی ان خطوط کو نقل کرنے سے احتراز کیا ہے۔

ہشام اور ابو مخنف کی اپنی روایت کے مطابق محمد بن ابی بکر نے جاتے ہی خربتا کے ان غیر جانبدار لوگوں کے خلاف  جنگ چھیڑ دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورا مصر اس کے خلاف ہو گیا۔ باغیوں نے اس کی مدد کے لیے مالک الاشتر کو مصر روانہ کیا۔ اگر آپ نقشے کو دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ عراق سے مصر جانے کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے علاقے سے گزرنا لازم تھا۔ اشتر اسی علاقے سے گزرا اور ایک غیر مسلم کے گھر قیام کیا۔ اس نے اشتر کو زہر دے کر ہلاک کر دیا اور اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ قاتل اپنے انجام کو پہنچا۔ [5]  اس کے سامان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک جعلی خط ملا جس میں اسے اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار قرار دیا گیا تھا۔ اس طرح باغیوں نے اپنی جعل سازی کے طفیل اس شخص کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا درجہ دے رکھا تھا۔

سامی بن عبد اللہ الملغوث: اطلس الخلیفہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

حضرت معاویہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی سرکردگی میں باغیوں کی سرکوبی کے لیے مصر ایک فوج بھیجی ۔ حضرت عمرو بن عاص ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مصر فتح کیا تھا۔ اس کے بعد طویل عرصے تک یہاں کے گورنر رہے اور  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اسکندریہ میں دو مرتبہ بغاوت اٹھی تو آپ ہی نے اسے فرو کیا۔ اب آپ ایک مرتبہ پھر مصر فتح کرنے کے لیے نکلے لیکن اس مرتبہ آپ کے مقابلے پر وہی باغی پارٹی تھی۔ جلد ہی انہیں شکست ہوئی اور اس طرح چوتھی مرتبہ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے مصر فتح کیا۔ محمد بن ابی بکر چھپتا پھرا لیکن بالآخر پکڑا گیا۔ اس کی موت کے بارے میں اختلاف ہے:  ابو مخنف کی روایت کے مطابق اسے مار کر گدھے کی کھال میں بھر کر جلا دیا گیا جبکہ واقدی کی روایت کے مطابق یہ آخر دم تک لڑتا ہوا مارا گیا۔ [6] افسوس اس شخص پر کہ یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر پیدا ہوا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر اس نے پرورش پائی۔ اس کے بعد یہ باغیوں سے مل گیا اور اسے  وہ گورنری بھی راس نہ آئی، جس کے لیے اس نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا۔  بہرحال اب چونکہ وہ اس جہان سے جا چکا ہے، اس وجہ سے اس کا معاملہ  اللہ تعالی کے سپرد کر دینا چاہیے۔ ہمارے پاس سوائے ان روایات کے، کسی کے جرم کو جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور روایات کی حیثیت آپ کے سامنے ہے۔

ابو مخنف نے یہاں بھی ایک جھوٹی روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کر دی ہے  کہ جب آپ کو محمد بن ابی بکر کی موت کی اطلاع ملی تو آپ حضرت عمرو بن عاص اور معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہما کے خلاف بددعا کرتی رہیں۔  اگر آپ کو اپنے بھائی سے اتنی ہی ہمدردی ہوتی تو پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے لیے آپ کیوں نکلتیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے البتہ یہ ضرور کیا کہ محمد بن ابی بکر کی اولاد کو اپنی کفالت میں لے لیا اور ان کے بیٹے قاسم بن محمد بن ابی بکر (d. 107/726)ایک بہت جلیل القدر عالم دین بنے۔  یہ سیدہ عائشہ، ابن عباس، ابن زبیر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے شاگردوں میں نمایاں تھے اور ان کا شمار مدینہ کے سات جلیل القدر فقہاء میں ہوتا ہے۔ یہ بہت عبادت گزار تھے اور راتوں کو رو رو کر اپنے والد کے گناہ کی معافی کی دعا کیا کرتے تھے۔

مصر کی باغی پارٹی اس جنگ میں ماری گئی اور اس طرح سے باغیوں کے مصر چیپٹر کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ چونکہ ایسا کرنے میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے غیر معمولی کردار ادا کیا، اس وجہ سے باغیوں کی اگلی نسلوں نے آپ کو خاص نشانہ بنایا اور آپ کی کردار کشی کے لیے روایتیں گھڑیں جو طبری میں موجود ہیں۔ ان روایات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں یہی ہشام کلبی، ابو مخنف، سیف بن عمر یا واقدی جیسے راوی نظر آتے ہیں۔  یہ روایات محض ان باغیوں کا انتقام ہے کہ انہوں  نے اپنی ناکامی سے جھنجلا کر حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کردار کشی کی روایتیں گھڑی ہیں۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  ایضاً ۔ 3/2-167

[2]  ایضاً ۔ 3/2-173

[3]  ایضاً ۔ 3/2-294

[4]  ایضاً ۔ 3/2-176

[5]  ایضاً ۔ 3/2-296

[6]  ایضاً ۔ 3/2-306