بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 5: عہد علوی

 

کتاب کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب میں اصول تاریخ (Historical Criticism) کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حضرت علی کی شہادت

حضرت علی کیسے شہید ہوئے؟

مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت خوارج کے ہاتھوں ہوئی۔ یہ وہی گروہ ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں شامل تھا۔ بعد میں اس پارٹی میں اختلافات پیدا ہو گئے اور خوارج نے اپنی جماعت الگ بنا لی۔ باغی پارٹی کے بقیہ ارکان بدستور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد و پیش میں موجود رہے تاہم ان کی طاقت اب کمزور پڑ چکی تھی۔

تین خارجی ابن ملجم، برک بن عبداللہ اور عمرو بن بکر تیمی اکٹھے ہوئے اور انہوں نے منصوبہ بنایا حضرت علی، معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں قتل کر دیا جائے۔ انہوں نے اپنی طرف سے اپنی جانوں کو اللہ تعالی کے ہاتھ فروخت کیا، خود کش حملے کا ارادہ کیا اور تلواریں زہر میں بجھا لیں۔ ابن ملجم کوفہ آ کر دیگر خوارج سے ملا جو خاموشی سے مسلمانوں کے اندر رہ رہے تھے۔ اس کی ملاقات ایک حسین عورت قطامہ سے ہوئی ، جس کے باپ اور بھائی جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔ ابن ملجم ا س کے حسن پر فریفتہ ہو گیا اور اسے نکاح کا پیغام بھیجا۔ قطامہ نے نکاح کی شرط یہ رکھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا جائے۔ ایک خارجی شبیب نے ابن ملجم کو روکا بھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اسلام کے لیے خدمات کا حوالہ بھی دیا لیکن ابن ملجم نے اسے قائل کر لیا۔

اس نے نہایت ہی سادہ منصوبہ بنایا اور صبح تاریکی میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب فجر کی نماز کے لیے مسجد کی طرف آ رہے تھے تو اس نے آپ پر حملہ کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا۔ اس کے بقیہ دو ساتھی جو حضرت معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہما کو شہید کرنے روانہ ہوئے تھے، ناکام رہے۔ برک بن عبداللہ، جو حضرت معاویہ کو شہید کرنے گیا تھا، انہیں زخمی کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن انہوں نے اسے پکڑ لیا۔ حضرت عمرو اس دن بیمار تھے، اس وجہ سے انہوں نے فجر کی نماز پڑھانے کے لیے خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا۔ خارجی عمرو بن بکر نے عمرو بن عاص کے دھوکے میں خارجہ کو شہید کر دیا۔ اس کے بعد وہ گرفتار ہوا اور مارا گیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وفات سے پہلے کچھ وقت مل گیا جسے آپ نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرنے میں صرف کیا۔ جانکنی کے اس عالم میں بھی آپ نے جوباتیں ارشاد فرمائیں، وہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہیں۔ یہاں ہم طبری سے چند اقتباسات پیش کر رہے ہیں:

آپ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلوایا اور ان سے فرمایا: "میں تم دونوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ دنیا کے پیچھے ہرگز نہ لگنا خواہ دنیا تم سے بغاوت ہی کیوں نہ کر دے۔ جو چیز تمہیں نہ ملے، اس پر رونا نہیں۔ ہمیشہ حق بات کہنا، یتیموں سے شفقت کرنا، پریشان کی مدد کرنا، آخرت کی تیاری میں مصروف رہنا، ہمیشہ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے حامی رہنا اور کتاب اللہ کے احکامات پر عمل کرتے رہنا۔ اللہ کے دین کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت گھبرانا۔

(تیسرے بیٹے) محمد بن حنفیہ سے فرمایا: "میں نے تمہارے بھائیوں کو جو نصیحت کی، تم نے بھی سن کر محفوظ کر لی؟ میں تمہیں بھی وہی نصیحت کرتا ہوں جو تمہارے بھائیوں کو کی ہے۔ اس کے علاوہ یہ وصیت کرتا ہوں کہ اپنے بھائیوں (حسن و حسین) کی عزت و توقیر کرنا اور ان دونوں کے اس اہم حق کو ملحوظ رکھنا جو تمہارے ذمہ ہے۔ ان کی بات ماننا اور ان کے حکم کے بغیر کوئی کام نہ کرنا۔ "

پھر حسن و حسین سے فرمایا: "میں تم دونوں کو بھی محمد کے ساتھ اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہارا بھائی اور تمہارے باپ کا بیٹا ہے۔ تم یہ بھی جانتے ہو کہ تمہارا باپ اس سے محبت کرتا ہے۔"

پھر خاص طور پر حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "میرے بیٹے! تمہارے لیے میری وصیت یہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہنا، نماز وقت پر ادا کرنا، زکوۃ کو اس کے مصرف میں خرچ کرنا، وضو کو اچھی طرح کرنا کہ بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی او ر زکوۃ نہ دینے والے کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی۔ ہر وقت گناہوں کی مغفرت طلب کرنا، غصہ پینا، صلہ رحمی کرنا، جاہلوں سے بردباری سے کام لینا، دین میں تفقہ حاصل کرنا، ہر کام میں ثابت قدمی دکھانا، قرآن پر لازمی عمل کرتے رہنا، پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرنا، نیکی کی تلقین اور برائیوں سے اجتناب کی دعوت دیتے رہنا اور خود بھی برائیوں سے بچتے رہنا۔"

جب وفات کا وقت آیا تو پھر یہ (قرآنی آیات پر مشتمل) وصیت فرمائی: "بسم اللہ الرحمن الرحیم! یہ وہ وصیت ہے جو علی بن ابی طالب نے کی ہے۔ وہ اس بات کی وصیت کرتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں اللہ تعالی نے ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب فرما دیں، خواہ یہ بات مشرکین کو ناگوار گزرے۔ یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبردار لوگوں میں سے ہوں۔

حسن بیٹا! میں تمہیں اور اپنی تمام اولاد اور اپنے تمام گھر والوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا رب ہے۔ اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ صرف اسلام ہی کی حالت میں جان دینا۔ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ایک دوسرے باہمی تعلق رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا نفل نمازوں اور روزوں سے بہتر ہے۔ اپنے رشتے داروں سے اچھا سلوک کرنا، اس سے اللہ تم پر حساب نرم فرما دے گا۔ یتیموں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا، ان پر یہ نوبت نہ آنے دینا کہ وہ اپنی زبان سے تم سے مانگیں اور نہ ہی تمہاری موجودگی میں پریشانی میں مبتلا ہوں۔ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اللہ سے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں بھی ڈرنا کیونکہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت ہے۔ ۔۔۔۔[1]

اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اور بھی بہت سی نصیحتیں فرمائیں جن میں خاص کر نماز، زکوۃ، جہاد، امر بالمعروف کی نصیحت تھی۔ معاشرے کے کمزور طبقات یعنی غرباء و مساکین اور غلاموں کے بارے میں خاص وصیت فرمائی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں فرمایا:

تمہارے موجود ہوتے ہوئے کسی پر ظلم نہ کیا جائے۔ اپنے نبی کے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ ۔۔۔پشت دکھانے، رشتوں کو توڑنے اور تفرقہ سے بچتے رہنا۔ نیکی اور تقوی کے معاملے میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اور نافرمانی اور سرکشی میں کسی کی مدد نہ کرنا۔ اللہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ اللہ تعالی تمہاری ، تمہارے اہل خاندان کی حفاظت کرے جیسے اس نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی تھی۔ میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور تم پر سلام اور اللہ کی رحمت بھیجتا ہوں۔ [2]

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وصیتیں ایسی ہیں کہ پڑھنے والے کا دل بھر آتا ہے۔ ان وصیتوں میں جو خط کشیدہ الفاظ ہیں، ان پر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں آپ کی رائے کیا تھی؟ آپ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خاص کر اس بات کی تلقین فرمائی کہ صحابہ کرام کو ساتھ ملایا جائے، ان سے تفرقہ نہ پیدا کیا جائے اور انہی کے ساتھ رہا جائے خواہ اس کے لیے انہیں کسی بھی قسم کی قربانی دینا پڑے۔ چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت حسن نے یہی کیا اور قربانی کی ایک ایسی تاریخ رقم کی، جس پر ملت اسلامیہ قیامت تک فخر کرتی رہے گی۔

اپنے قاتل کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا وصیت فرمائی، اسے بھی پڑھتے چلیے:

بنو عبدالمطلب! کہیں تم میری وجہ سے مسلمانوں کے خون نہ بہا دینا، اور یہ کہتے نہ پھرنا کہ امیر المومنین قتل کیے گئے ہیں (تو ہم ان کا انتقام لے رہے ہیں۔) سوائے میرے قاتل کے کسی کو قتل نہ کرنا۔ حسن! اگر میں اس کے وار سے مر جاؤں تو قاتل کو بھی ایک ہی وار میں ختم کرنا کیونکہ ایک وار کے بدلے میں ایک وار ہی ہونا چاہیے۔ اس کی لاش کو بگاڑنا نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تم لوگ مثلہ سے بچو خواہ وہ باؤلے کتے ہی کا کیوں نہ ہو۔[3]

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم کو طلب کیا تو اس نے آپ کو ایک آفر کی:

"کیا آپ مجھے ایک اچھا کام کرنے دیں گے؟ وہ یہ ہے کہ میں نے اللہ سے عہد کیا تھا اور میں اسے ضرور پورا کرنا چاہتا ہوں۔ وہ عہد میں نے حطیم (خانہ کعبہ) کے قریب کیا تھا کہ میں علی اور معاویہ دونوں ہی کو ضرور قتل کروں گا یا خود اس کوشش میں مارا جاؤں گا۔ اگر آپ چاہیں تو مجھے چھوڑ دیں تاکہ میں معاویہ کو قتل کر دوں۔ میں آپ سے اللہ کے نام پر وعدہ کرتا ہوں کہ اگر میں انہیں قتل نہ کر سکا یا قتل کر کے زندہ بچ گیا تو آپ کے پاس آ کر آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دوں گا۔"حضرت حسن نے فرمایا: "میں اس کام کے لیے تمہیں ہرگز نہ چھوڑوں گا کہ تم آگ کو اور بھڑکاؤ۔" [4]

اس کے بعد آپ نے اسے قتل کر دیا۔ پھر لوگ اس کی لاش کو چمٹ گئے اور اس کی بوٹیاں کر کے آگ میں ڈال دیں۔افسوس کہ اس معاملے میں وہ اتنے جذباتی تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وصیت پر عمل نہ کر سکے۔

حضرت علی کی شہادت کے وقت صحابہ کرام اور باغیوں کی حالت کیا تھی؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہاد ت کے وقت صحابہ کرام تین حصوں میں تقسیم تھے:

1۔ ایک مختصر گروہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، لیکن معاملات پر بڑی حد تک باغی چھائے ہوئے تھے۔ مخلصین میں حضرت ابن عباس، حسن ، حسین، ابو ایوب انصاری، زیاد بن ابی سفیان اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہم نمایاں تھے۔

2۔ صحابہ کرام کا بڑا گروہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جن میں حضرت علی کے بڑے بھائی عقیل رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے۔

3۔ تیسرا گروہ غیر جانبدار تھا۔ یہ مسلمانوں کے خلاف کسی کاروائی میں شریک نہ ہونا چاہتے تھے اور حضرت علی کے گرد موجود باغیوں کو پسند نہ کرتے تھے۔ ان میں حضرت سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم جیسے لوگ شامل تھے۔

دوسری طرف باغیوں کی قوت اب بڑی حد تک کمزور پڑ چکی تھی کیونکہ خوارج کی صورت میں ان کا ایک حصہ الگ ہو چکا تھا اور بقیہ باغیوں کے بڑے بڑے لیڈر جنگ جمل، صفین اور جنگ مصر میں مارے جا چکے تھے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ صحابہ کرام کے تینوں گروپوں کو اکٹھا کر کے ان باغیوں پر ایک فیصلہ کن ضرب لگائی جاتی، جس سے ان کا زور ٹوٹ جاتا۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کچھ عرصہ مزید رہتے تو یہ کام کر گزرتے لیکن اللہ تعالی نے یہ سعادت آپ کے بیٹے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے لیے لکھ رکھی تھی جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پیش گوئی فرما چکے تھے: "میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالی اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کروائے ۔"[5] آپ نے چھ ماہ کے اندر اندر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اتحاد کر کے اپنے نانا اور والد کے مشن کو پورا کر دیا۔اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

حضرت علی کی شہادت پر صحابہ کے تاثرات کیا تھے؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر عالم اسلام میں کہرام مچ گیا اور سب ہی صحابہ نے نہایت دکھ کا اظہار کیا۔ یہاں ہم خاص طور پر ان صحابہ کے تاثرات پیش کر رہے ہیں، جن پر باغی راویوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کا الزام عائد کیا ہے۔

حضرت معاویہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی خبر خود ان پر حملہ آور ہونے والے خارجی نے دی۔ کہنے لگا:"میرے پاس ایسی خبر ہے جس کے سننے سے آپ خوش ہو جائیں گے اور اگر میں آپ سے وہ خبر بیان کروں گا تو آپ کو بہت فائدہ پہنچے گا۔" آپ نے فرمایا: "بیان کرو۔" وہ بولا: "آج میرے بھائی نے علی کو قتل کر دیا ہو گا۔" آپ نے فرمایا: "کاش! تمہارے بھائی کو ان پر قدرت نہ نصیب ہو۔"[6]

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جو مسائل پیش ہوتے تھے، وہ ان کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر ان کی رائے مانگا کرتے تھے۔ جب ان کے پاس ان کی شہادت کی اطلاع پہنچی تو فرمایا: "فقہ اور علم، ابن ابی طالب کی شہادت کے ساتھ چلا گیا۔"[7]

حضرت معاویہ کو جب حضرت علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی خبر ملی تو رونے لگے۔ ان کی اہلیہ نے ان سے کہا: "آپ اب ان کے متعلق رو رہے ہیں جبکہ زندگی میں ان سے جنگ کر چکے ہیں۔" آپ نے فرمایا: "افسوس! تمہیں علم نہیں کہ آج کتنے لوگ علم و فضل اور دین کی سمجھ سے محروم ہو گئے ہیں۔"[8]

ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بڑے اصرار کے ساتھ ضرار صدائی سے کہا: "میرے سامنے علی کے اوصاف بیان کرو۔" انہوں نے نہایت بلیغ الفاظ میں حضرت علی کی غیر معمولی تعریفیں کیں۔ حضرت معاویہ سنتے رہے اور آخر میں رو پڑے۔ پھر فرمایا: "اللہ ابو الحسن (علی) پر رحم فرمائے، واللہ وہ ایسے ہی تھے۔"[9]

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ایک لڑکے نے دی تو آپ نے ایک شعر پڑھا: "وہ دور تھے، ان کی شہادت کی خبر ایک لڑکا لے کر آیا۔ افسوس! کہ اس کے منہ میں کسی نے مٹی نہ بھر دی۔"[10] سیدہ، حضرت علی کے علم و فضل کی قائل تھیں اور متعدد موقعوں پر آپ سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے اسے حضرت علی کی طرف ریفر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں علی بہتر جانتے ہیں۔ [11]

حضرت علی کے دور میں فرقوں کا ارتقاء کیسے ہوا؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں کے اندر بعض فرقے پیدا ہوئے۔ مناسب رہے گا کہ یہ تفصیلات اسی دور کے جلیل القدر تابعی عالم میمون بن مہران رحمہ اللہ (40-110/660-729)کی زبانی بیان کی جائیں۔ فرماتے ہیں:

(حضرت عثمان کی) شہادت کے بعد لوگ چار فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ پھر ان میں مزید تقسیم کے نتیجے میں ایک اور فرقہ پیدا ہوا اور اس طرح کل پانچ فرقے پیدا ہوئے: (۱) شیعان عثمان۔ (۲) شیعان علی۔ (۳) مرجئہ۔ (۴) مسلمانوں کی اجتماعیت کے ساتھ رہنے والے۔ (۵) پھر جب حکمین مقرر ہوئے تو خوارج علیحدہ ہو گئے۔ اس طرح پانچ فرقے بن گئے۔

جہاں تک شیعان عثمان کا تعلق ہے یہ اہل شام اور اہل بصرہ تھے۔ اہل بصرہ نے کہا: حضرت عثمان کے خون (کے قصاص) کا مطالبہ کرنے میں طلحہ و زبیر سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے کیونکہ وہ اہل شوری تھے۔ اہل شام نے کہا: (حضرت عثمان کے خون کے قصاص) کا مطالبہ ان کے خاندان اور رشتے داروں کا حق ہے جن میں سب سے طاقتور معاویہ ہیں۔ یہ سب لوگ حضرت علی اور ان کے شیعوں سے اعلان برأت کرتے تھے۔

جہاں تک شیعان علی کا تعلق ہے تو یہ اہل کوفہ تھے۔ رہے مرجئہ تو یہ وہ لوگ تھے جو شکوک و شبہات میں مبتلا ہو گئے۔ یہ جنگوں میں شریک رہے، پھر جب شہادت عثمان کے بعد یہ مدینہ آئے اور لوگوں سے ان کی بات چیت ہوئی تو یہ ایک بات پر متفق تھے۔ یہ کہنے لگے: ہم نے آپ لوگوں کو چھوڑ دیا اور آپ کا معاملہ ایک ہی تھا جس میں کوئی اختلا ف نہیں۔ ہم آپ لوگوں کے پاس آئے ہیں اور آپ اختلاف کر رہے ہیں۔ ان میں سے بعض نے کہا: عثمان کو مظلومانہ طور پر شہید کیا گیا جبکہ وہ اپنے ساتھیوں میں سب سے زیادہ عادل تھے۔ بعض نے کہا: علی حق کے زیادہ قریب ہیں اور ان کے ساتھ سب ساتھی قابل اعتماد ہیں۔ہم ان دونوں (عثمان و علی) میں سے کسی سے اعلان برأت نہیں کرتے اور نہ ہی ان دونوں پر لعنت کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں گواہی دیتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے یہاں تک کہ وہ ان میں فیصلہ فرما دے۔

جس گروہ نے مسلمانوں کے اجتماعیت کو پکڑے رکھا، ان میں سعد بن ابی وقاص، ابو ایوب انصاری، عبداللہ بن عمر، اسامہ بن زید، حبیب بن مسلمہ الفہری، صہیب بن سنان، محمد بن مسلمہ اور صحابہ و تابعین میں سے دس ہزار افراد تھے۔ ان سب نے کہا: ہم عثمان اور علی دونوں کے وارث ہیں۔ ہم ان میں سے کسی سے اعلان برأت نہیں کرتے اور یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ دونوں اور ان کے ساتھی صاحب ایمان ہیں۔ ہم ان کے بارے میں پر امید بھی ہیں اور خوف بھی رکھتے ہیں۔

پانچواں گروپ حروریہ (خوارج) کا تھا۔ وہ بولے: ہم نہ تو علی کے وارث ہیں اور نہ عثمان کے کیونکہ ان دونوں نے بعد میں کفر کیا اور اس سے بری نہ ہوئے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسلمانوں کی اجتماعیت کا ساتھ دینے والے بھی کافر ہیں۔

میمون بن مہران کہتے ہیں: یہ اختلاف کا آغاز تھا۔ اس کے بعد یہ لوگ ستر سے زیادہ گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں ایسی ہر ہلاکت اور گمراہی سے بچائے۔ انہی میں سے بعض لوگ حضرت سعد بن وقاص کے پاس آئے اور انہیں بغاوت کی دعوت دی۔ انہوں نے فرمایا: میں اس وقت تک بغاوت نہ کروں گا جب تک کہ تم لوگ مجھے ایسی تلوار نہ دے دو جس کی دو آنکھیں اور زبان ہو۔ یہ تلوار بتائے کہ فلاں کافر ہے تو میں اس سے لڑو ں اور یہ کہے کہ فلاں مومن ہے تو اس سے نہ لڑوں۔

سعد نے ان لوگوں کو ایک مثال دی اور فرمایا: ہماری اور تمہاری مثال ایسے گروپ کی ہے جو ایک ایسے ہدف کی طرف جا رہے تھے جو سفید اور واضح تھا۔ ان میں کچھ لوگوں کو تیز ہوا نے آ لیا اور وہ راستے سے بھٹک گئے اور شک میں پڑ گئے۔ ان میں سے بعض نے کہا: راستہ دائیں جانب ہے اور اس جانب چل پڑے۔ اس طرح انہوں نے راستے کا سراغ کھو دیا اور گمراہ ہوئے۔ دوسرے گروپ نے کہا: راستہ بائیں جانب ہے۔ وہ ادھر چل پڑے اور سراغ کھو کر گمراہ ہو گئے۔ تیسرے گروپ نے کہا: جب ہوا آئی تھی تو ہم راستے ہی پر تھے۔ انہوں نے اپنے اونٹوں کو بٹھا دیا اور پڑاؤ ڈال دیا۔ جب صبح ہوئی اور آندھی ختم ہو گئی تو راستہ واضح ہو گیا۔ یہی لوگ اجتماعیت کے ساتھ رہنے والے ہیں۔

ان لوگوں نے کہا: ہم پر لازم ہے کہ ہم اس راستے سے وابستہ رہیں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھوڑ اتھا یہاں تک کہ ہم آپ سے جا ملیں اور اس وقت تک ہم فتنوں میں سے کسی چیز میں داخل نہ ہوں۔ یہ وہ گروہ تھا کہ جو اسلام کا گروہ تھا۔ سعد بن ابی وقاص اور ان کے ساتھی اس میں شامل تھے اور یہ لوگ فتنہ سے علیحدہ رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے تفرقے کا خاتمہ کر دیا اور باہمی محبت عام ہو گئی۔ یہ سب اجتماعیت اور حکومت کی اطاعت میں داخل ہو گئے۔ جس شخص نے ایسا کیا، اس نے نجات پائی اور جس نے ایسا کیا اور شک میں پڑا تو وہ ہلاکت میں پڑ گیا۔[12]

یہاں ہم یہ واضح کرتے چلیں کہ مین اسٹریم مخلص مسلمان ہی غالب اکثریت میں تھے۔ فرقوں میں تقسیم ہو جانے والے محض چند ہزار تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں سے بہت سے فرقے ختم ہو گئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ گروہ دب گئے تھے اور صرف وہی گروہ نمایاں رہا، جو مسلمانوں کی اجتماعیت سے وابستہ رہا۔ بعد میں فتنوں کا جب دوسرا دور شروع ہوا تو یہ گروہ پھر ابھر کر سامنے آگئے۔ اس کا مطالعہ ہم آگے چل کر کریں گے۔

حضرت علی کی خلافت کس پہلو سے کامیاب رہی؟

بعض ایسے لوگ، جو صحابہ کرام سے بغض رکھتے ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ پر زبان طعن دراز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کی خلافت معاذ اللہ ناکام رہی۔ وہ آپ کے دور کا موازنہ حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ادوار سے کرتے ہیں کہ ان ادوار میں مسلمانوں کو کس قدر فتوحات نصیب ہوئیں اور قیصر و کسری کی سلطنتیں سرنگوں ہوئیں۔ اس کے برعکس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں خانہ جنگی رہی اور مسلمان ایک دوسرے کا گلا کاٹتے رہے۔ بیرونی فتوحات رک گئیں اور عالم اسلام انتشار کا شکار ہو گیا۔ دوسری طرف باغی حکومتی معاملات پر چھائے رہے اور انہوں نے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑانا شروع کر دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی باتیں علم عمرانیات اور تاریخ سے لاعلمی کا نتیجہ ہیں۔ علم عمرانیات اور تاریخ کے ماہرین یہ بات جانتے ہیں کہ فتوحات اور بحران ، سلطنتوں کی تاریخ کا ہمیشہ سے حصہ رہے ہیں۔ کبھی تو حالات مثبت رخ اختیار کرتے ہیں اور ایک سلطنت فتوحات حاصل کر کے پھیلتی چلی جاتی ہے اور کبھی سلطنتوں کو بحران پیش آتے ہیں۔ حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ادوار میں پہلی کیفیت تھی جبکہ حضرت عثمان کے آخری اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے پورے دور میں بحران کی سی کیفیت تھی۔ اس وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور کا موازنہ سابقہ ادوار سے درست نہیں ہے۔ یہ بات کسی حکمران کے بس میں نہیں ہوتی کہ وہ حالات کو مثبت یا منفی بنا سکے بلکہ اس کا کمال اس میں ہوتا ہے کہ وہ مثبت یا منفی حالات میں کس طرح سے پرفارم کرتا ہے اور امکانات کو کس طرح سے استعمال کرتا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فی الحقیقت مرد بحران (Man of Crisis) تھے۔ آپ نے اندرونی و بیرونی خطرات سے جس طرح امت مسلمہ کی حفاظت فرمائی، اس کی تفصیل کو دیکھا جائے تو آپ ایک کامیاب حکمران تھے۔ یہاں ہم کچھ تفصیلات بیان کر رہے ہیں:

داخلی محاذ

باغی تحریک، جو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کے زمانےسے پروان چڑھ رہی تھی، نے پیدا ہونا ہی تھا اور اس کی پیدائش پر کسی خلیفہ کو اختیار نہ تھا۔ اگر مثلاً حضرت علی کی جگہ حضرت عمر یا کوئی اور صحابی بھی خلیفہ ہوتے، تو باغی تحریک نے پھر بھی پیدا ہونا ہی تھا اور ان باغیوں نے وہی کرنا تھا، جو انہوں نے کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جس خوبی کے ساتھ باغی تحریک کو لگام دی، یہ آپ ہی کا خاصہ تھا۔ مناسب ہو گا کہ ہم اس پلان کو دوہرا دیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے باغیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا تھا۔

1۔ باغیوں کو وقتی طور پر کسی کام میں مصروف (Engage)کر دیا جائے تاکہ اہل مدینہ کی جان، مال اور آبرو ان سے محفوظ ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے ان کی کچھ باتیں اگر ماننا بھی پڑیں تو اس میں مضائقہ نہیں۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکومتی امور میں شریک کر لیا تاکہ ان کی توجہ دوسری طرف نہ ہو سکے۔

2۔ باغیوں میں سے ایک طبقہ ان لوگوں پر مشتمل تھا جو اپنی اصل میں مخلص تھے لیکن محض حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب جھوٹے خطوط سے متاثر ہو کر باغیوں کے ساتھ مل گئے تھے۔ انہی لوگوں کی وجہ سے باغی لیڈر حضرت علی سے ایک حد تک دبتے تھے اور ان سے اپنی ہر بات نہ منوا سکتے تھے۔ حضرت علی کی کوشش تھی کہ اس طبقے کو باغیوں سے الگ کر لیا جائے۔

3۔ ایک طرف باغیوں کو مصروف کر دیا جائے اور دوسری طرف حضرت طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہما مدینہ سے خاموشی سے نکل جائیں اور دیگر علاقوں میں موجود منتشر افواج کو منظم کریں تاکہ ان باغیوں پر فیصلہ کن ضرب لگائی جا سکے۔

4۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان باغیوں کو اکٹھا کر کے مخلص مسلمانوں کی افواج کے مقابلے میں لے آئیں۔

5۔ مسلمانوں کی افواج متحد ہو کر خود کو اتحاد کی اس صورت پر لے آئیں جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے قائم تھا۔

6۔ اس کے بعد باغیوں کی بیخ کنی کی جائے۔ قاتلین کو قصاص میں قتل کیا جائے اور بقیہ لوگوں کومناسب سزائیں دی جائیں۔

یہ منصوبہ کامیاب رہتا اگر باغی جنگ جمل میں دونوں جانب حملہ کر کے جنگ نہ کروا دیتے۔ جنگ جمل کے بعد مخلص مسلمانوں کی قوت کسی حد تک کمزور پڑ گئی تھی۔ اس کے بعد جب باغیوں نے شام پر حملہ کیا تو اس وقت بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں کنٹرول کرنے کی آخری حد تک کوشش کی۔ آپ کا ارادہ یہ تھا کہ اہل شام سے اتحاد کر لیا جائے او رپھر باغیوں کی سرکوبی کی جائے لیکن آپ کی شہادت نے آپ کو اس کا موقع نہ دیا۔ آپ نے شہید ہونے سے کچھ پہلے اپنے بیٹے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اس مشن کی تلقین فرمائی، جسے انہوں نے آپ کے بعد پورا کیا۔

خارجی محاذ

اس بڑی اندرونی بغاوت سے ہٹ کر مسلمانوں کو ایک بیرونی خطرہ اہل ایران کی طرف سے درپیش تھا۔ جب مسلمانوں نے ایرانیوں کو شکست دی تو ان کی ہزاروں سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا۔ عام ایرانیوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچا لیکن ان کی وہ اشرافیہ جو ملکی وسائل پر قابض چلی آ رہی تھی اور ایرانی بادشاہت سے ان کے مفاد وابستہ تھے، اسے ہضم نہ کر سکی۔ انہوں نے قوم پرستی کے نام پر بار بار بغاوتیں پیدا کیں ۔ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی اہل ایران اور خراسان نے بغاوتیں اٹھائیں جنہیں آپ نے حضرت معاویہ کے بھائی زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم کے ذریعے فرو کیا۔ زیاد ایک نہایت ہی قابل سیاستدان تھے، انہوں نے آسانی سے ایرانیوں کی ان بغاوتوں کو ختم کیا۔ اس طرح سے اس بیرونی محاذ پر بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کامیاب رہے۔

اخلاقی محاذ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ آپ نے خلافت راشدہ کے اسی کردار کو زندہ رکھا ، جس کے باعث اسے خلافت راشدہ کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے حکومتی معاملات مشورے سے چلائے۔ لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی دی۔ بیت المال کا پوری دیانت داری سے استعمال کیا اور مسلمانوں کی خیر خواہی کی۔ اس معاملے میں آپ کا موازنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف آپ نے امت کو اس بات کی تعلیم دی کہ باغیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ طبری کے متعدد اقتباسات ہم پیش کر چکے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کتنا ناپسند فرماتے تھے۔ جنگ جمل کے بعد فرمایا:

خبردار! نہ تو کسی کی پردہ دری کرو اور نہ ہی کسی کے مکان میں داخل ہو۔ کسی خاتون کو تکلیف نہ پہنچائی جائے اگرچہ وہ تمہاری توہین بھی کرے، تہمارے امراء اور نیک لوگوں کو برا بھی کہے۔ کیونکہ عورت کمزور ہوتی ہے۔ ہمیں تو مشرک عورتوں پر بھی ہاتھ اٹھانے سے روکا گیا تھا اور اگر کوئی شخص کسی عورت پر ہاتھ اٹھاتا یا اسے مارتا تو لوگ اس کی اولاد کو طعنہ دیتے تھے کہ تیرے باپ نے تو فلاں عورت کو مارا تھا۔ خبردار! اگر مجھے یہ معلوم ہوا کہ تم میں سے کسی نے کسی عورت کو اس لیے تکلیف پہنچائی ہے کہ اس نے تمہیں کچھ کہا تھا اور تمہاری عزت اچھالی تھی تو میں تمہیں انتہائی بدترین سزا دوں گا۔[13]

جنگ صفین کے موقع پر ارشاد فرمایا:

آپ لوگ اس وقت تک ہرگز جنگ نہ کیجیے جب تک فریق مخالف پہل نہ کرے۔ اللہ عزوجل کو شکر ہے کہ آپ حق پر ہیں، آپ کی جانب سے جنگ کی ابتداء نہ ہونا آپ کے حق پر ہونے کی اضافی دلیل ہے۔ جب آپ ان سے جنگ کریں تو انہیں شکست دیجیے اور پشت پھیر کر نہ بھاگیے۔ کسی زخمی پر حملہ نہ کیجیے، نہ کسی کو بے لباس کیجیے، نہ کسی مقتول کے ہاتھ پاؤں یا ناک کان کاٹیے۔ اگر آپ لوگوں کے کجاووں تک پہنچ جائیں تو ان کے خیموں کے پردے چاک نہ کیجیے اور نہ بلا اجازت ان کے گھروں میں داخل ہوں۔ نہ ان کے اموال میں سے میدان جنگ کے مال غنیمت کے علاوہ کچھ لیجیے۔ خواتین کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائیے خواہ وہ آپ کی بے عزتی کریں اور آپ کے سرداروں اور نیک لوگوں کو برا بھلا کہیں۔ کیونکہ عورتیں اعضاء اور جذبات کے اعتبار سے کمزور ہوتی ہیں۔ [14]

حضرت علی نے اور تو اور باغی خوارج کے زخمیوں کا علاج کروایا اور ان کا مال و دولت ، سوائے اسلحہ کے ان کے خاندانوں کو واپس کر دیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اتنے بحرانوں کی موجودگی میں اخلاقی محاذ پر کس طرح کامیابی حاصل فرمائی۔

حضرت علی کے دور میں بحران کیوں نمایاں ہوئے؟

بحران کوئی انہونی چیز نہیں ہے بلکہ ایک فطری مظہر (Natural Phenomenon) ہے ۔ جن لوگوں نے قوموں کے عروج و زوال کا تقابلی مطالعہ کیا ہے، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ قوموں کی تشکیل کے مختلف مراحل ہوتے ہیں۔ مینجمنٹ سائنسز کے ماہرین نے کسی بھی ٹیم کی تشکیل کے چار مرحلے بیان کیے ہیں جو کہ ڈایا گرام میں دکھائے گئے ہیں:

1.  فارمنگ (Forming)

2.  اسٹارمنگ (Storming)

3.  نارمنگ (Norming)

4.  پرفارمنگ (Performing)

قوم کی تشکیل کے مراحل

قوم بھی ایک بڑی سی ٹیم ہوتی ہے، اس وجہ سے ان چاروں مراحل کا تعلق قومی تعمیر سے بھی ہے۔ تعمیر کا پہلا مرحلہ "فارمنگ" کہلاتا ہے۔ اس میں قوم یا ٹیم کی بنیادی تشکیل ہوتی ہے۔ اس کے بعد اسٹارمنگ کا مرحلہ آتا ہے جس میں کوئی خارجی یا داخلی بحران اس ٹیم پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر قوم، اس چیلنج کے مقابلے میں کامیاب ہو جائے تو یہ اس کی قوت کا باعث بنتا ہے۔ اس کے بعد نارمنگ کا مرحلہ آتا ہے جس میں حالات بتدریج نارمل ہونا شروع ہوتے ہیں۔ پھر پرفارمنگ کا مرحلہ آتا ہے جس میں وہ قوم یا ٹیم بہترین پرفارمنس دے کر کوئی بڑا کارنامہ انجام دیتی ہے۔ یہ آخری تین مراحل بار بار پیش آتے رہتے ہیں۔ بار بار طوفان اٹھتے ہیں، خارجی اور داخلی بحران اس قوم پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اگر یہ قوم ان سے نبرد آزما ہوتی رہے تو اس کی قوت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ بحران کے بعد پھر حالات نارمل ہوتے ہیں، پھر قوم پرفارم کرتی ہے اور اس کے بعد پھر کوئی نیا بحران سر اٹھا لیتا ہے۔ اس طرح پے در پے بحرانوں سے نمٹنے کا یہ عمل جاری رہتا ہے اور قوم آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ جب قوم زوال پذیر ہوتی ہے تو پھر یہی بحران اسے کمزور کرتے چلے جاتے ہیں اور بالآخر یہ قصہ ماضی بن کر رہ جاتی ہے۔

امت مسلمہ کی تاریخ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کو ہم فارمنگ کا مرحلہ کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد غزوہ خندق تک آپ کی مدنی زندگی دراصل اسٹارمنگ کا مرحلہ ہے جس میں مشرکین عرب، یہود اور روم و ایران کی بیرونی قوتوں نے اس امت کے لیے بحران پیدا کیے۔ غزوہ خندق کے بعد نارمنگ کا مرحلہ آیا جس میں حالات بتدریج مسلمانوں کے حق میں ہوتے چلے گئے اور یہ عمل فتح مکہ کے موقع پر اپنے عروج کو پہنچا۔ اس کے بعد پرفارمنگ کا مرحلہ آیا جس میں صحابہ کرام نے پورے جزیرہ نما عرب کو ایک امت مسلمہ میں تبدیل کر دیا۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دو سالہ دور کا پہلا سال اسٹارمنگ کا دور ہے جب عرب قبائل نے بغاوت کر دی اور روم و ایران نے بھی اس نئی قوت پر حملے کا آغاز کر دیا۔ دوسرا سال نارمنگ کا دور ہے اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پورا دور پرفارمنگ کا زمانہ ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے ابتدائی آٹھ نو سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد فطری طور پر پھر اسٹارمنگ کا دور واپس آنا تھا، جو کہ حضرت عثمان ہی کے آخری زمانے میں آیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں جاری رہا۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس مرتبہ یہ بحران خارج کی بجائے مسلم دنیا کے اندر سے اٹھا۔ یہ ایک فطری عمل تھا اور سوشل سائنسز کی رو سے ایسا ہی ہونا تھا۔ اس میں نہ تو کوئی انہونی بات ہے اور نہ ہی اس معاملے میں کسی خلیفہ راشد کا کوئی قصور ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ابتدائی دور نارمنگ اور بقیہ دور پرفارمنگ کا ہے۔ اس کے بعد یزید اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ادوار ایک بار پھر اسٹارمنگ کے دور ہیں۔ عبد الملک بن مروان کا ابتدائی دور نارمنگ اور اس کے بعد بنو امیہ کا باقی دور پرفارمنگ کا دور ہے۔ تاریخ میں یہی سائیکل بار بار دوہرایا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی قیامت تک یہی ہوتا رہے گا۔

خلاصہ باب

       مہاجرین و انصار نے متفقہ طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا لیا تھا لیکن بعد میں اس خلافت کو باغی تحریک نے ہائی جیک کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے جمل اور صفین کی جنگیں وقوع پذیر ہوئیں۔

       حضرت علی نے نہایت ہی حکمت و دانش سے باغی تحریک کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی اور انہیں لے کر بصرہ آئے۔ یہاں ان باغیوں نے رات کے اندھیرے میں جنگ چھیڑ دی۔ جنگ جمل کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فریقین کے لوگوں سے بہت اچھا سلوک کیا۔

       حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان سفارت جاری رہی جسے باغیوں نے ناکام بنا دیا۔ انہی باغیوں نے جنگ صفین چھیڑی جو حضرت علی، معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کے خلوص نیت سے ختم ہوئی۔

       جنگ صفین کے بعد خوارج پیدا ہوئے، جنہوں نے حضرت علی کے خلاف بغاوت کر دی جسے آپ نے فرو کیا ۔

       روم و ایران نے مسلمانوں کی خانہ جنگی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن مشرقی محاذ پر حضرت علی اور مغربی محاذ پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما نے ان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

       جنگ صفین کے بعد واقعہ تحکیم پیش آیا جس میں فریقین نے عارضی طور پر حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کو اپنے اپنے علاقوں کا حکمران تسلیم کر لیا اور آئندہ کی صورتحال کو مہاجرین و انصار صحابہ پر چھوڑ دیا۔

       باغیوں نے مصر میں ایک زبردست بغاوت برپا کی جسے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ناکام بنا دیا۔

       حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی قاتلین عثمان ہی کے ایک گروہ کے ہاتھوں ہوئی۔

اگلے باب میں ان شاء اللہ ہم، حضرت حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی خلافت سے متعلق سوالات کے جواب تلاش کریں گے۔

اسائن منٹس

۱۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کن حالات میں ہوئی؟ آپ نے باغی تحریک کے مقابلے میں کیا حکمت عملی اختیار کی؟

۲۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد عالم اسلام میں کون کون سے نقطہ ہائے نظر وجود میں آئے؟

۳۔ جنگ جمل اور صفین میں حضرت علی کے کردار پر ایک نوٹ لکھیے۔ ان کی ان جنگوں کے بارے میں رائے کیا تھی؟

۴۔ باغی تحریک کا منصوبہ کیا تھا؟ اس کے جواب میں حضرت علی نے کیا رسپانس پلان تیار کیا؟ حضرت طلحہ، زبیر اور معاویہ رضی اللہ عنہم کا رسپانس پلان کیا تھا؟ ان تمام منصوبوں کا آپس میں موازنہ کیجیے۔

۵۔ جنگ صفین کے کیا اثرات باغی تحریک پر مرتب ہوئے؟

۶۔ تاریخی تحقیق کے اصولوں کے مطابق واقعہ تحکیم کی روایات میں کیا مسائل ہیں؟

۷۔ خوارج کی تحریک کی نفسیات بیان کیجیے۔ کیا آپ کے خیال میں اس نفسیات کی تحریکیں آج کے زمانے میں بھی پائی جاتی ہیں؟

۸۔ جنگ صفین کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقطہ نظر میں کیا تبدیلی واقع ہوئی؟

 

اگلا صفحہ فہرست پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی / مطالعہ قرآن / مطالعہ حدیث / مطالعہ تاریخ / تعمیر شخصیت / تقابلی مطالعہ / دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی / مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی / اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ / قرآن اور بائبل کے دیس میں / علوم الحدیث: ایک تعارف / کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص / اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ / الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات / اسلام اور نسلی و قومی امتیاز / اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟ / مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟ / دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار / اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت / Quranic Concept of Human Life Cycle / Empirical Evidence of Gods Accountability

 

hit counter



[1] ایضاً ۔ 3/2-355

[2] ایضاً ۔ 3/2-356

[3] ایضا

[4] ایضا

[5] بخاری۔ کتاب الفتن۔ حدیث 6692

[6] طبری۔40H/3/2-357

[7] ابن عبدالبر۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔ 2/52

[8] ابن کثیر(701-774/1302-1373)۔ البدایہ و النہایہ۔ 11/129۔ (تحقیق: الدکتور عبداللہ بن محسن الترکی) قاہرہ: دار ہجر۔

[9] ابن عبد البر (d. 463/1071)۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔ 2/53۔ باب علی

[10] طبری۔ 3/2-258

[11] مسلم۔ کتاب الصلوۃ۔ حدیث 276

[12] ابن عساکر۔ 39/495

[13] طبری۔ 3/2-159

[14] ایضاً ۔ 3/2-204