بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 6: عہد حسن و معاویہ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حضرت معاویہ کی کردار کشی کے اسباب

حضرت معاویہ کی کردار کشی کیوں کی گئی؟

باغی تحریک کے تمام کارکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شدید بغض رکھتے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ ان کے عزائم کی راہ میں سب سے بڑی  رکاوٹ بنے اور باغی تحریک کی ابتدا ہی سے آپ نے ایسے اقدامات کیے جن کی بدولت یہ تحریک پنپ نہ سکی۔ اگر حضرت معاویہ اس تحریک کے خلاف بند نہ باندھتے تو عین ممکن ہے کہ بعد کی صدیوں میں مسلمان بے شمار فرقوں میں تقسیم ہو جاتے۔  حضرت عثمان ، علی اور خود اپنے زمانے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے باغیوں کی بھرپور سرکوبی کی اور ان کے عزائم کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ باغیوں نے آپ کے خلاف جی بھر کر جھوٹی روایتوں کا طومار باندھ دیا اور آپ کو نعوذ باللہ ایک مکار سیاستدان کے روپ میں پیش کیا۔

طبری نے انہی باغیوں  کے ساتھی ابو مخنف کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں جس میں اس نے اپنی بات کو کسی "حسن" کی طرف منسوب کیا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ حسن کون ہیں۔

معاویہ کی چار خصلتیں ایسی ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی ہوتی تو مہلک تھی: (1) اس امت پر جاہلوں کو مسلط کر دینا اور امت سے مشورہ کیے بغیر خلافت پر قبضہ کر لینا حالانکہ اس وقت صحابہ میں سے کچھ لوگ بھی باقی تھے اور صاحبان فضل بھی موجود تھے۔ (2) اپنے بیٹے کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دینا جو کہ شراب خور، سیاہ مست تھا اور ریشم پہنتا اور طنبورہ بجاتا تھا۔ (3) زیاد (بن ابی سفیان) سے رشتہ جوڑ لینا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما گئے ہیں کہ لڑکا اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہو اور بدکار کے لیے پتھر ہیں۔ (4) حجر بن عدی کو قتل کرنا۔  لعنت ہو ان پر حجر اور اصحاب حجر کی طرف سے۔ لعنت ہو ان پر حجر اور اصحاب حجر کی طرف سے۔ [1]

ابو مخنف کی اس روایت کے ایک ایک لفظ میں اس کا وہ بغض ٹپک رہا ہے جو وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی اور کاتب وحی کے لیے دل میں رکھتا ہے جن کی خلافت کو حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما نے دل وجان سے قبول کیا تھا۔  اب ہم اس روایت میں بیان کردہ ایک ایک الزام کو لیتے ہیں اور اس کی تحقیق کرتے ہیں۔

کیا حضرت معاویہ نے خلافت پر جبراً قبضہ کیا؟

بعض لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت جائز اور آئینی تھی؟  وہ کہتے ہیں کہ تمام خلفاء راشدین کی خلافت مسلمانوں کے باہمی مشورے سے قائم ہوئی جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ معاملہ نہیں تھا۔ اس وجہ سے ان کی خلافت کو جائز نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت بالکل جائز اور آئینی خلافت تھی۔  حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمان تین گروہوں میں منقسم تھے:

1۔ ایک گروہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو جائز حکمران تسلیم کر لیا تھا۔ یہ اہل شام تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت معاویہ کو "امیر المومنین" کہنے لگے تھے۔

2۔ دوسرا گروہ وہ تھا جس نے  باہمی مشورے سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اس بات پر بیعت کر لی تھی کہ آپ جس سے جنگ کریں گے، وہ بھی  اس سے جنگ کریں گے اور آپ جس سے صلح کریں گے، وہ بھی اس سے صلح کریں گے۔ اس معاہدے کے بعد جب حضرت حسن نے معاویہ رضی اللہ عنہما سے صلح کر لی تو  اس پورے گروہ نے بھی حضرت معاویہ کی بیعت کر لی۔

3۔ تیسرا گروہ اس اختلاف میں غیر جانبدار رہا تھا۔ جب حضرت حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہما کا اتحاد ہوا تو یہ سب بہت خوش ہوئے اور انہوں نے بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔

اس طرح سے مسلمانوں کے تینوں کے تینوں گروہوں کے اتفاق رائے (اجماع) سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے۔ اس کے بعد آپ کی خلافت کے جائز اور آئینی ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔ اس زمانے کے مسلمانوں نے بھی اسے اسی حیثیت سے دیکھا اور اس سال 41/660 کو "عام الجماعۃ" کا نام دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سال تھا جس میں تمام مسلمان ایک بات پر متفق ہو گئے اور انہوں نے مل کر ایک "جماعت" کی شکل اختیار کر لی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت سے اگر کسی کو انکار تھا تو وہ یہی باغی پارٹی تھی جس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا لیکن انہوں نے بھی کم از کم ظاہری طور پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  کی خلافت کو تسلیم کر لیا۔ اس طرح سے آپ کی خلافت ایسے اجماع  کی شکل اختیار کر گئی جو کہ اس سے پہلے صرف حضرات ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو نصیب ہوا تھا۔

اگر بالفرض اس سے پہلے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی غلطی بھی سر زد ہوئی تھی لیکن جب حضرات حسن اور حسین رضی اللہ عنہما اور ان کے علاوہ تمام صحابہ نے آپ کی خلافت پر اتفاق رائے کر لیا تو پھر اس معاملے میں  آپ پر زبان طعن وہی دراز کر سکتا ہے جس کے نزدیک حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی کوئی وقعت نہ ہو۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  طبری۔ 4/1-102